سوشل میڈیا اکاؤنٹس

محمود شام

محمود شام

پاکستان کے ممتاز صحافی، شاعر، ادیب اور تجزیہ کار جناب محمود شام 5 فروری 1940

سب کی زمیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اب یہ ہے سب کی زمیں
سب ہیں زمیں کے بیٹے
سب کی سانسوں میں گھلی ایک سی بھینی خوشبو
سب کی آنکھوں میں سجے
ایک سے رنگین سپنے
عزت و فخر کا سرچشمہ بلوچی لہجہ
کب سے نا قابل تسخیر بلوچوں کی انا
آن اور شان سے پشتو کے ورق کھلتے ہیں
اتنی صدیوں سے جواں حوصلے پختونوں کے
دامن سندھ میں آباد محبت کے نگر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عشق و ایماں سے عبارت ہے زبان سندھی
جام پنجاب مئے زندہ دلی سے لبریز
نئی دنیاؤں کی تخلیق ہے پنجابی سے
ایک لہجے میں ملے جاتے ہیں سارے لہجے
ایک سر بن کے ابھرتی ہیں یہ ساری تانیں
سندھی پنجابی بلوچی ہو کہ پشتو خوشبو
سب کو آپس میں ملاتی ہے مہکتی اردو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


خوش ہوں خوشحال ہوں مختار ہوں سب اپنی جگہ
پھر کہیں جا کے نکل سکتی ہے مرکز کی جگہ
سندھ سرسبز ہو شاداب ہو اللہ سائیں
مہرباں وادی پنجاب ہو اللہ سائیں
خواہشیں پوری ہوں پختون کی ہر دم مولا
سب بلوچوں کو ملے شرف مقدم مولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سب سے پہلے تو میں دار الصحت کا ممنون اور شکر گزار ہوں کہ ایک عمر رسیدہ اور ملک کے نظام کی طرح فرسودہ شخص کو مسیحاؤں سے گفتگو کی دعوت دی ۔ورنہ تو ہم نام نہاد مسیحاؤں کا فلسفہ سننے پر ہی مجبور رہتے ہیں۔ امید تھی کہ برق رفتار سوشل میڈیا کی آمد کے بعد ہمیں ان فرسودہ حکمرانوں کے بوسیدہ فرامین سے نجات مل جائے گی۔ مگر وہاں بھی انہی ازکار رفتہ کٹھ پتلیوں کا رقص دیکھنے کو ملتا ہے ۔


یہی بہت ہمت کی بات ہے کہ حکمرانی کے نئے نئے تجربات کی ماری اس قوم نے 79 سال گزار لئے ۔ مورخ بجا طور پر انہیں آزادی کے 79 سال کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ قانون ائین تمدن وضع داری اخلاقیات سے آزادی کے سال تھے۔ ہم 70 کی دہائی سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ کبھی کبھی جمہوریت کی شاہراہ پر نکل آتے ہیں مگر زیادہ تر ہمیں اف روڈ ہی سفر کرنا پڑتا ہے جہاں خود رو جھاڑیاں ہیں تعصبات کے جنگل ہیں۔ آف روڈ ضروری نہیں کہ دیہات اور ویرانوں میں ہی ہو کراچی جیسے ملک کے بڑے تجارتی اور صنعتی مرکز میں بھی شہری زیادہ تر آف روڈ رہتے ہیں ۔


ہماری منزلیں ہمیں کہتی ہیں
انہی پتھروں پہ چل کر اگر ا سکو تو اؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے


1977 سے 1985 تک ہمارے دلوں سے خود مختار خوددار خود کفیل پاکستانی کی آرزو نکال دی گئی۔ ایک فرد ایک ووٹ کی حکمت محو کر دی گئی ۔دوسروں کی جنگوں میں ہم اپنے قیمتی نوجوانوں کو جھونکتے رہے۔ پھر ہمیں 1985 کے غیر جماعتی انتخابات نے سرمایہ داروں ٹھیکے داروں جاگیرداروں کے آگے ڈال دیا۔ اس دور میں باریاں پی پی پی مسلم لیگ ن اور ان کے سرپرستوں کو ملی اور خواریاں اکثریت کو۔ جس کی ازادی کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح اور قائد ملت لیاقت علی خان کی قیادت میں تحریک پاکستان چلی تھی۔ پھر تحریک پاکستان میں پیش پیش خاندان پنجاب سندھ سرحد اور بلوچستان میں لاپتہ ہوتے رہے ۔نئے نئے خاندانوں کی اجارہ داری کی فصلیں پکتی رہیں۔


ہمارے یہاں باقاعدہ ریاستی ارتقا نہیں ہوا۔ والدین بڑے خشوع و خضوع سے آبادی میں اضافہ کرتے رہے اور یہ بھیڑ بکریاں آج کی اصطلاح میں کاکروچ ریوڑ در ریوڑ پلتے رہے جنہیں مختلف گڈریوں کی غلہ بانی کے سپرد کیا جاتا تھا ۔اپنی بھیڑ بکریوں کی زندگی اسان کرنے کی باقاعدہ فکر کرنے والے گڈریے اچانک گم کر دیے جاتے تھے۔ نئے گڈریے بلکہ واشنگٹن سے تربیت یافتہ گڈریوں کی پوسٹنگ کر دی جاتی تھی سرسبز چراگاہیں سامنے لہراتی تھیں مگر ملکی بھیڑوں کے لیے نو اینٹری کے بورڈ لگے تھے پھر وقت ایا یہ سارے ریوڑ ٹھیکے داروں کے سپرد کر دیے گئے۔ اب حکومت کے اکثرکاموں کی اؤٹ سورسنگ کی جا چکی ہے


اج جب یہ مریض گلستان جوہر کے ایک شفا خانے میں اپ سے مخاطب ہے ویسے تو ہم جوہری طاقت بن چکے ہیں امیر ملکوں کے دفاع کی ذمہ داری لے چکے ہیں مگر ہر سو پاکستانیوں میں سے 45 غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں ان میں سے اوپر کوئی نہیں لایا جاتا اور نہ کسی ذمہ دار کو اس کی فکر ہے جب کہ ہمارے عظیم دوست ہمالہ سے بلند سمندروں سے گہری دوستی والے چین نے 80 فیصد سے زیادہ کو غربت کی لکیر سے اوپر لا کر باعزت روزگار سے نواز دیا ہے


خواتین و حضرات
کوئی مسئلہ بھی انسان سے بڑا نہیں ہے
میں یہ تشخیص اس لیے اپ کے سامنے رکھ رہا ہوں انہیں اپ ٹیسٹ رپورٹیں سمجھ لیں اور پھر علاج کی تیاری کریں ہماری عظیم سرزمین کو قدرت نے معدنی قدرتی اور افرادی وسائل سے فراخ دلی سے نوازا ہے وہ پاک دھرتی زراعت عدلیہ قانون کی حکمرانی تعلیم اخلاقیات ازادی اظہار پینے کے صاف پانی علاج معالجے زندگی کی عمدگی ہر شعبے میں عالمی رینکنگ یعنی درجہ بندی میں بہت نیچے چلی گئی ہے یہ اعداد و شمار اسمارٹ فون کی سکرین پر دستیاب ہیں۔
اب ہمیں ان بیماریوں کا علاج شروع کرنا ہے دار الصحت سے آغاز ہو سکتا ہے مگر ہم نے اس کشور حسین کو دارالحرب بنایا ہوا ہے ڈائیلاگ کے دور میں ویگو اور ڈالے ہمارا بلڈ پریشر شوگر لیول اور سافٹ ویئر درست کر رہے ہیں ۔
مگر میں ہرگز مایوس نہیں ہوں غالب یاد اتے ہیں۔
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا ۔


وقت اگیا ہے تحریک پاکستان کے بعد اب تحریک احیائے علوم نشات ثانیہ کا چیلنج ہے۔
اقبال کہتے ہیں
نہیں نومیداقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی


نم آپ ہیں ہمارا نوجوان ہے اللہ تعالی نے پاکستان کو 60 فیصد نوجوان ابادی دی ہے اج کے دور میں یہ افرادی طاقت میزائلوں ڈرونوں ایئر ڈیفنس سسٹموں سے بڑا سسٹم ہے ۔یہ نوجوان پاکستانی بہت جفا کش ہیں ذہین ہیں پرعزم ہیں انہیں ایسے زرگر چاہیے جنہیں ہیرے تراشنے اتے ہوں
ہمارے سامنے ایک واضح منزل ہے 2047 پاکستان صدی


مولانا محمد علی جوہر مولانا حسرت موہانی عبداللہ ہارون حسین امام قائد اعظم قائد ملت بہادر یار جنگ مولانا عبدالمجید سندھی سب کی روحیں بے تاب ہیں کہ پاکستان کو اپنی صدی کے نقطہ اغاز پر جہاں ہونا چاہیے وہاں ہے یا نہیں۔ کیا ہماری رینکنگ اپنے ہمسایوں اپنے ہم عصر ملکوں کے برابر ہوگی۔ کیا ہماری عدالتیں انصاف دے رہی ہوں گی ہماری یونیورسٹیوں میں تعلیم کا معیار عالمی یونیورسٹیوں جیسا ہوگا۔ کیا ہمارے کھیت فی ایکڑ پیداوار بڑھا چکے ہوں گے۔ کیا ہمارے دریاؤں کا پانی ضائع تو نہیں ہو رہا ہوگا اور کیا 2047 میں بھی جاگیردار سرمایہ دار ٹھیکیدار اسی طرح قانون سے بالاتر ہوں گے کیا تھانوں میں اسی طرح خواتین کی بے حرمتی ہو رہی ہوگی کیا اسی طرح فارم 45 پر 47 غالب ہوگا1947 کے 79سال بعد فارم 47 کا ظہور. 2047 میں کون سا فارم کی ایجاد ہوا ہوگا
جارج ارویل کا اینیمل فارم جہاں کچھ جانور زیادہ ایکول ہیں اور جارج ویل کا1984
Big brother is watching


نہیں ہماری نئی نسلیں ہماری طرح مصلحت کوش نہیں ہوں گی ہماری طرح منافقت اختیار نہیں کریں گی وہ اپنے ضمیر سنبھال کر رکھیں گے۔
2047 میں اور ہم عصر تو نہیں ہوں گے مگر اج کے پاکستانیوں میں سے تقریبا 90 فیصد موجود ہوں گے

بقول فیض
بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے
فروغ گلشن و صوت ہزار کا موسم


ہمارے جو اکابرین لاہور ملتان کوئٹہ پشاور دہلی لکھنؤ پٹنہ کلکتہ ڈھاکہ حیدراباد دکن ٹوںک اور جونا گڑھ میں بیسویں صدی کے وسط میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے لیے جدوجہد کر رہے تھے انہیں بھی یقین تھا کہ جب گلشن میں بہار ائے گی تو ہم نہیں ہوں گے ۔انہوں نے جدوجہد کی۔ انگریزوں کی جیلیں دیکھیں ۔پھر اپنوں کے زندان بھی اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ صدقہ جاریہ ہے ایک ریلے ریس ہے شمع ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتی رہتی ہیں پرچم ایک سے دوسرا ہاتھ سنبھالتا رہتا ہے
میں نہیں ہوں گا اج کے 65 سال سے86 سال والے جو اس وقت ابادی کا تقریبا پانچ فیصد ہیں یہ نہیں ہوں گے مگر باقی 95 فیصد تو ہوں گے تو یہ 95 فیصد اج سے 21 سال بعد کی ازادی کامل کے لیے جدوجہد کر سکتے ہیں اج 79 سال بعد یقینا ہم وہاں نہیں ہیں جہاں ہونے چاہیے اس کے ذمہ دار کون ہیں نامعلوم نہیں ہے یہ اپ کے دل کی دنیا اور سمارٹ فونوں کی اسکرین واضح طور پر بتا رہی ہے


میں 2047 میں ایک خوددار خود مختار خود کفیل پاکستان کے لیے اس لیے پر امید اور پرجوش ہوں کہ 14 اگست 2026 سے 14 اگست 47 تک پورے 21 سال ہمارے پاس ہیں عام طور پر 21 سال میں ہی ایک نسل تیار ہوتی ہے پاکستان میں پرائمری میں بچے بچیاں پانچ سال کی عمر میں داخل ہوتے ہیں پرائمری سیکنڈری گریجویشن پوسٹ گریجویشن کی منزل حاصل کرتے بچے بچیاں 21 سال کے ہو جاتے ہیں اج کے پانچ سالہ پاکستانی میں 26 سال کے ہوں گے اور ابادی کا 38 فیصد
اسی طرح اج کے 12 سال سے 33 سال والے اس وقت 36 سال سے 66 سال تک کے ہوں گے ابادی کا تقریبا 85 فیصد اج کے نوجوان 35 سے 58 سال والے 60 سے 80 سال تک کے 2026 کی موجودہ ابادی میں سے ایک بڑی تعداد 20047 میں مختلف گروپوں میں موجود ہوگی

قومی سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ سے صوبائی اسمبلیوں سے تو یہ توقع بے سود ہے کہ وہ ان 21 سال کی امانت کی حفاظت کر سکیں جاوید جبار صاحب کا حلقہ ارادت بہت وسیع ہے وہ پاکستانیت کے لیے سالہا سال سے تحریری تقریری جدوجہد کر رہے ہیں بیونڈ دا لاسٹ ماؤنٹین بھی دیکھتے ہیں قاسم بھی زیادہ صاحب کے شاگردوں اور مداحوں کا ایک بہت بڑا حلقہ پاکستان اور بیرون پاکستان موجود ہے سمندر پر پاکستانی جہاں جہاں رہتے ہیں ویسا مہذب جمہوری معاشرہ وہ اپنے ابائی حلقوں میں بھی دیکھنا چاہتے ہیں یہ سب مل کر ان 21 سال کے لیے ایک پاکستان صدی پروجیکٹ بنائیں تحقیق کریں کہ اس وقت پاکستان کی 35 کروڑ کی ابادی کو کیا کیا چیلنج کس کے شعبے میں درپیش ہوں گے


ہمارے ہمسائے میں کیا اسی طرح عداوتیں پل رہی ہوں گی چین ایک پٹی ایک سڑک سے کہاں پہنچ گیا ہوگا امریکہ واپس امید کی سرزمین بن چکا ہوگا وہاں کی نسلیں ٹرمپ ازم کو دفن کر چکی ہوں گی مشرق وسطی میں بادشاہتیں بہت کمزور ہو چکی ہوں گی کسی نہ کسی کے مشاورتی ادارے قائم ہو چکے ہوں گے تیل کی جگہ متبادل توانائی کی نئی نئی اقسام لے چکی ہوں گی مستقبل کی انرجی پاکستان کے پاس ہوگی بلوچستان جنوبی پنجاب اور کے پی کے میں قیمتی دھاتوں سونا تانبہ کرومائیٹ یورین یورینیم دریافت ہو چکے ہیں اس وقت تک برامد بھی ہو رہے ہوں


پاکستان کی دھرتی زرخیز ہے معدنی دولت بے حساب افرادی طاقت بے کراں
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ اخر شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے

ماہ نامہ اطراف
Latest posts by ماہ نامہ اطراف (see all)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *