سوشل میڈیا اکاؤنٹس

محمود شام

محمود شام

پاکستان کے ممتاز صحافی، شاعر، ادیب اور تجزیہ کار جناب محمود شام 5 فروری 1940

نجم السحر

12 اکتوبر 1999 سے ہی ایک تاریخی دن تھا اب 27 سال بعد ایک دن پہلے 11 اکتوبر 2026 کو صدر مملکت نے خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی نافذ کر کے اسے مزید تاریخی بنا دیا۔ یہ وہی صدر ہیں جو سرحد کا نام خیبر پختون خوا رکھنے کا سہرا اپنے سر باندھتے رہے ہیں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو خود مختاری دینے پر فخر کرنے والے صدر مملکت نے اب ایک دستخط کے ذریعے ایک حساس صوبے کی دو تہائی اکثریت سے منتخب وزیراعلی کابینہ اور اسمبلی کو غیر فعال کرنے کا کریڈٹ بھی اپنے نام کر لیا ہے۔

خواتین و حضرات۔۔۔ نجم السحر ناول 70 برس کی مسافت طے کر کے لکھنؤ سے کراچی پہنچ گیا ہے۔ میں اس کے مطالعے کے بعد بلا تردید کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ کو پاکستان کی تاریخ کے اسرار و رموز جاننا ہوں ۔المیوں اور سازشوں کے پس منظر میں پردہ نشینوں سے آگاہی حاصل کرنا ہو تو نجم السحر ضرور پڑھیے۔ہر واقعےمیں پیش منظر کچھ ہے پس منظر کچھ اور ۔ایک حسن بے پروا ایک پری وش جین زی اور جین الفا کو اپنے عشروں غمزوں اور اداؤں سے گھائل کر کے خاندانوں کی نیندیں حرام کر رہی ہے۔ بالاخر سازشیں بے نقاب ہوتی ہیں سرمایہ پرستی کا سفینہ ڈوبتا ہے اور روز مکافات آجاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تری منتظر روز مکافات

۔۔۔۔۔۔۔
لیکن آخرمیں سازشیں بے نقاب ایک سجیلا جوان ایک فوجی افسر ہی کرواتا ہے مگر کسی تشدد کے ذریعے نہیں ۔برجیس کو اپنی محبت کے فریب میں الجھا کر اس سے سارے راز اگلواتا ہے۔
آئے گا پاکستان میں بھی روز مکافات آئے گا۔ برسوں سے ہم کہتے آرہے ہیں کہ ہم تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتے یہ تو درست ہے لیکن اصل حقیقت تو یہ ہے کہ ہم وہ ہیں جو تاریخ کو بھی سبق سکھا دیتے ہیں۔ اور تاریخ بیچاری جغرافیے کا کمبل اوڑھے کانپتی رہتی ہے۔۔ ہم سب ایک لق و دق صحرا میں کھڑے ہیں۔ چہرے اڑتی ریت نے ناقابل شناخت بنا دیے ہیں۔ پھر بھی ہم ایک دوسرے کو پہچان رہے ہیں۔ مگر ظاہر یہی کر رہے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کون کیا ہے
۔۔۔۔۔۔
فغاں کہ مجھ غریب کو حیات کا یہ حکم ہے
سمجھ ہر ایک راز کو مگر فریب کھائے جا
۔۔۔۔۔
پاکستان میں عافیت سے رہنے کے لیے اس شعر پر عمل درآمد سے بہتوں کا بھلا ہوسکتا ہے۔ ہمیں ہنستے بستے شہروں سے اس دشت میں کس نے پہنچایا یہ جانتے سب ہیں ۔لیکن کہتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ہم فریب کھائے جا رہے ہیں۔
سب سے پہلے تو ممنونیت ایس ایم مسعود صاحب کے لیے پھر محترمہ نجم السحر کے لیے کہ ان کی مسلسل لگن نے اس کتاب کو 70 سال ملبے تلے دبے رہنے کے بعد باہر نکلنے اور ہندوستان سے پاکستان ہجرت کرنے پر آمادہ کیا۔ یہ ناول مجھے بیسویں صدی کی اولیں دہائیوں میں لے گیا ۔میں نے اپنے آپ کو لکھنو کے کلبوں میں دوشیزاؤں اور حسیناؤں کے درمیان پایا۔ انگریز راج پورے شباب پر ہے۔ لکھنو کی اشرافیہ دو طبقوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ایک تو تن من دھن سے انگریز کے تمدن میں خود کو رنگ دینے پر آمادہ ہے ستر سے درجہ بدرجہ نجات حاصل کر رہا ہے۔ دوسرا اپنی مشرقی اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے
ولادی میر لینن نے کہا تھا there are decades when nothing happens and there are days when decaded happen
یہ وہ زمانہ ہے جب لکھنو میں صدیاں برپا ہو رہی تھیں۔

نجم سیٹھی السحر بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں لکھا گیا اور آج اس کی رونمائی 21ویں صدی کی تیسری دہائی میں ہو رہی ہے ایک صدی گزر چکی ہے۔ ہندوستان بٹ کے رہا ہے۔ لکھنو سے زبان تہذیب تمدن آنگن کراچی کی گلیوں محلوں میں ہجرت کر کے اگئے ہیں۔ مگر اس ناول نے 70 سال لگائے۔ جنوبی ایشیا میں ہجرتیں جاری رہتی ہیں۔ کبھی شمال سے قافلے آتے ہیں۔ قلعے محلات سنبھال لیتے ہیں۔ کبھی اپنی آباد رونق بھری حویلیاں چھوڑ کر پاک سرزمین میں آنے والے یہاں کلیم بھرتے پھرتے ہیں۔ اس ناول میں غلبہ انگریزی کپڑوں انگریزی سکولوں کلبوں پارٹیوں میکشیوں کا ہے۔ آج کی اشرافیہ میں بھی یہی انگریزی کلچر غالب ہے۔ مگر اب مغرب سے آنے والے سوشل میڈیا ٹک ٹاک اور ریلز کا سیل بھی رواں ہے۔ اس وقت نسیم انہونوی نے اس کلچرل کشمکش کا تانا بانا بہت مہارت سے اس ناول کے لیے بنا تھا۔ اس ناول کی ہیروئن نجم السحر ہیں ۔مشرقی روایات کی مجسم پیکر۔ مگر اج ہم جس ماحول سے گزر رہے ہیں۔ اس میں برجیس جیسی کافر ادا قتالہ عالم ہیروئنں بن چکی ہیں۔ کہیں منشیات کے کاروبار میں الزام پہنے عدالتوں میں محو خرام نظر آتی ہیں۔ کہیں ایئرپورٹوں پر ڈالر بیگ میں ڈال کر بدیس جا رہی ہوتی ہیں لیکن ان کا اصل سازشی منصب وہی ہے جس کے ساتھ بر نجس اس ناول میں جلوہ فگن ہے۔ ہر دور میں ایک برجیس ضرور ہوتی ہے کبھی جنرل رانی کبھی گوگی کبھی کوئی اور۔ رضی اختر شوق یاد آتے ہیں
۔۔۔۔
ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
کل اور کسی نام سے ا جائیں گے ہم لوگ
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
نجم السحر ۔صبح کا ستارہ ہم تو دیکھنے کو ترس گئے ہیں۔ فیض نے لکھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔
کہاں گئے شب فرقت کے جاگنے والے
ستارہ سحری ہم کلام کب سے ہے ۔
۔۔۔۔۔
اقبال بھی سحر خیزی پر اور زور دیتے رہے۔ ہمیں جگانے والے تھک چکے ہیں۔ تہ خاک جا چکے ہیں یا پس دیوار زنداں ہیں۔ اس لیے ہم تو سوتے رہتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ سرحدوں پر ہمارے محافظ جاگ رہے ہیں۔ اس لیے ہم غفلت کی نیند میں مست ہیں ۔

میں کتاب کی رونمائی میں کتاب پڑھ کر اور اس پر کچھ لکھ کر شرکت کرتا ہوں۔ 400 سے زیادہ صفحات کے اس ناول کا میں نے نجم السحر کی پیدائش سے اس کی الفتیں اذیتیں برداشت کرنے اور پھر اس کی حقیقی شادی تک کا مطالعہ پورے خشوع و خضوع سے کیا ہے ۔زبان گنگا جمنا دھلی ہے ۔بہت بامحاورہ ۔کمال کی تراکیب۔ دل میں اتر جانے والی اضافتیں ۔ہر باب میں تجسس اور سسپنس جو ایک ناول کا بنیادی عنصر ہوتا ہے۔ ہمارے ہر ڈرامے میں کہا جاتا ہے کہ صبر کرو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ہمارے محلات سے بھی قلعوں کی فصیلوں سے بھی کہا جاتا ہے فکر نہ کریں سب ٹھیک ہو جائے گا ۔

ملک میں تو سب ٹھیک کبھی نہیں ہوا ۔مگر نجم السحر میں سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بعد از خرابی بسیار۔ خاندانوں کی بنیادیں لرزنے۔ سخت کشیدگی۔ اعصابی تناؤ کے بعد۔
آخر کے اوراق میں سب اچھی خبریں اتی ہیں

نسیم انہونوی بیسویں صدی کے تیسری دہائی کے بہت بڑے ناول نگار تھے ان کے ناول بہت پڑھے جاتے تھے ۔خریدے جاتے تھے 27 ناول لکھ ڈالے ۔1904 سے 1983 تک جیے۔ اپنا بک ڈبو بھی ان کے نام سے ہی تھا 25 لاٹوش روڈ لکھنؤ ۔ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ ناول اچھا لکھنا بھی جانتے تھے اچھا بیچنا بھی۔ ہماری طرح رسالے نکالنے کا شوق بھی رکھتے تھے۔ ایک ماہنامہ انکشاف۔ پھر ماہنامہ حریم ۔ماہنامہ سرپنچ۔ پھر جیسے ہم نے بچوں کے لیے۔ ٹوٹ بٹوٹ ۔نکالا ان کا بچوں کا رسالہ کلیاں ۔کے نام سے بچوں کے دلوں میں گھر کرتا رہا۔ ان دنوں مغربی کلچر کی یورپی اقدار مشرقی روایتوں پر غالب آ رہی تھیں۔ اس لیے اصلاحی ناول لکھے جا رہے تھے۔ ضرورت تو اپنی اصلاح کی سب بھی ہے۔ تہذیبوں اور ثقافتوں میں کشمکش اب بھی جاری ہے۔ موجودہ پاکستان میں شامل علاقوں کی صدیاں پاکستان کے 80 سال سے ٹکرائی جا رہی ہیں قافلے بے سمت ہو گئے ہیں۔ اس لیے آج کے ہرناول میں ایک خلا اور ایک ویرانہ دکھائی ضرور دیتا ہے۔ کچھ ناول خدا کی بستیاں دکھاتے ہیں ۔اداس نسلوں کی تصویریں کھینچتے ہیں۔ اگ کے دریا سے گزرنا پڑتا ہے مستنصر تارڑ کا بہاؤ قاری کو بہا کر لے جاتا ہےلیکن ناول پڑھنے لکھنے کا وقت بہت کم لوگوں کے پاس ہے۔ ٹک ٹاک اور ریلز پر گزارا کر لیا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔
ٹک دیکھ لیا دلشاد کیا اور چل نکلے
۔۔
نسیم انہونوی کے دور سے کچھ عرصہ پہلے ڈپٹی نذیر احمد کے اصلاحی ناولوں مرات العروس۔ بنات النعش ۔توبہ النصوح۔ ابن الوقت نے دھوم مچائی ہوئی تھی۔ پھر عبدالحلیم شرر رتناک سرشار کے ناولوں نے بھی اردو کا دامن وسیع کیا ۔امراو جان ادا کو یاد کریں اس بازار کی کہانی۔ ناول آپ نے پڑھا ہو یا نہیں فلم ضرور دیکھی ہوگی۔
ناول ہر زبان کے ادب کی سب سے موثر صنف ہے۔ انگریزی ادب میں بھی عظیم ناول قدیم دور سے لکھے جا رہے ہیں ۔رومانی دور کے بھی تحریک احیائے علوم کے حوالے سے اصلاحی ناول بھی۔ پھر کمیونزم اور سرمایہ داری کی گرم اور سرد جنگ میں بھی ناول کا کردار بہت نتیجہ خیز رہا ہے ۔میکسم گورکی کی ماں سب نے پڑھی ہوگی۔ دوسرے روسی مصنفین کے تہلکہ خیز ناول ۔پھر کمیونزم کے رد میں اینیمل فارم تو سب کو یاد ہے اسی جارج اورو ل کا دوسرا ناول 1984 ہے جو کمیونزم کے خلاف لکھا گیا
Big brother is watching

کمیونسٹ ریاستوں کے خلاف لکھے گئے اس ناول پر عمل درآمد اب ہائی بریڈ جمہوریتیں کر رہی ہیں ۔نگرانی سخت ہو گئی ہے۔ جدید کمیونیکیشن آلات اس نگرانی میں انتہائی موثر معاونت کر رہے ہیں۔۔ ہمارے ہاں اردو زبان کے علاوہ سندھی سرائیکی پشتو بلوچی میں بھی پاکستان میں جبری گمشدگی۔ کشیدگی ۔تناؤ ۔عقوبت خانوں کی کہانیاں بیان کی جا رہی ہیں۔ انگریزی میں ہمیں چارلس ڈیکنز تھامس ہارڈی براؤنٹے سسٹر ز یادآتی ہیں۔
ہمارے یہاں تو انٹرنیٹ اور سمارٹ فون کا بہانہ بنا کر کتاب نہ پڑھنے کا جواز دلیل بنا لیا جاتا ہے۔ مگر جہاں ٹی وی ریڈیو انٹرنیٹ وائی فائی اور تمام جدید حالات ایجاد ہوئے ہیں وہاں ناول اج بھی ٹرینوں بسوں ریلوے اسٹیشنوں ایئرپورٹوں بس سٹاپوں پر اسی طرح پڑھا جاتا ہے ا۔ن ملکوں کے ذہن حرف سے آج بھی مانوس ہیں۔ ایسی قوموں کو زندگی کی اسانیاں بھی اس مطالعے کی بدولت میسر آتی ہیں۔ پڑھنے لکھنے سے دور ریاستوں میں ایمرجنسی لگتی ہے اور انتخابی نتائج چرائے جاتے ہیں۔

ہر کہانی کے پیچھے کئی کہانیاں ہوتی ہیں۔ نجم السحر صرف ایک ناول نہیں ہے۔ ایک محبت کی حقیقی داستان ہے ایک تہذیب کا مرقع۔ ایک کامیاب ازدواجی زندگی کی قابل تقلید سرگزشت۔ ایک نوجوان نے اس ناول کا تحفہ اپنی دلہن کو دیا اور اس کے حاشیوں پر اپنے دل کی دھڑکنیں بھی اتار دیں۔ ناول کا نام اور خاتون کا نام ایک تھا۔ ایک عرصے بعد دو نسلیں اثپس میں مل رہی تھیں۔ جس ناول نے محبت کو زبان دی اج یہ محبت اورتحریر اس تقریب سے تاریخ بن رہی ہے۔ ملک تقسیم ہو گیا۔ رشتوں میں دوریاں ہو گئیں لیکن محبت تقسیم نہیں ہوئی۔ نجم السحر کا مسودہ سرحدیں پار کر کے کراچی پہنچ گیا۔ محترمہ نجم السحر اج اس داستان کی رونمائی کی میزبان ہے۔۔۔۔ ناول لکھے گئے ہیں مگر ناول سے جڑی یہ ہجرتیں یہ حیرتیں بہت کم کتابوں کو نصیب ہوتی ہیں۔

نجم السحر صرف ایک ہیرو ہیروئن کی کہانی نہیں ہے ایک کہانی تو ان 400 صفحات میں سموئی گئی ہے جس کا مرکز صرف لکھنو ہے لیکن اس کے بعد کے 70 برس کی ان کہی کہانی بھی ہے جو ما ہ ؤ سال کی گرد جھاڑ کر اپنا راستہ بناتی ہوئی ایک آزاد وطن میں بالاخر پہنچ گئی۔ اس لازوال ناول کی دوبارہ اشاعت کے لیے ہمیں نجم السحر صاحبہ کا ممنون ہونا چاہیے اور ایس ایم مسعود صاحب کا بھی

اج کل تو قیمتی کتابیں مسودے مصنف کی اولادوں کو بوجھ لگتے ہیں۔ وہ کباڑیوں کو تلاش کر کے ان کی ریڑھیوں پر یہ کتابیں لاد دیتے ہیں۔ پرانی کتابوں کا کاروبار کرنے والے جب کسی صاحب مطالعہ کی وفات کی خبر پڑھتے ہیں تو اس کے سوئم میں ضرور شریک ہوتے ہیں تاکہ انہیں سن گن ہو جائے کہ ۔مرحوم کی اولاد کتابوں کے بارے میں کیا فیصلہ کر رہی ہے


مجھے اس ناول کے مطالعے سے بر صغیر کے اس اہم عبوری دور کا ڈیٹا بھی نصیب ہوا کہ اس وقت جب ایک تہذیب حملہ اور تھی ایک تہذیب اپنا دفاع کر رہی تھی اس وقت رسم و رواج کیسے تبدیل ہو رہے تھے کرنسی کی قیمت کیا تھی تنخواہیں کتنی تھیں دولت مند کس کو کہا جاتا تھا اج تو 100 روپے ایک گداگر بھی لے کر کچھ نہیں ہوتا اس وقت کے نواب بہت زیادہ خوش ہوتے تھے تو کئی کئی نوکروں میں ایک سو کا نوٹ دے کر کہتے تھے آپس میں بانٹ لیں۔ اج کے روساء اور نوابوں کا اس وقت کے فریدون راشد اور دوسروں سے کرتا ہوں تو وہ بہت مہذب متمدن مشفق اور کتابوں کے دلدادہ انسانیت کے قدردان دکھائی دیتے ہیں۔ آج کل کے روسا اور نو دولتئے ڈالوں پر مسلح گارڈز کے ساتھ دندناتے پھرتے ہیں۔ ان سے کسی ادب احترام حرف شناسی کی توقع ہی نہیں کی جا سکتی ۔


فلم کا دور تو ختم ہو گیا اب پروڈکشن ہاؤسز ہیں اس میں اگر کوئی پروڈکشن ہاؤس کا مالک دانشمند اور سنجیدہ ہو تو نجم السحر پر ایک اچھی سیریز بن سکتی ہے اج کے ڈراموں میں تو ہر شادی شدہ مرد پرویز ہے اور ہر شادی شدہ عورت اسٹیلا اور برجیس ہے۔ نجم السحر تو ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ ان دنوں کے ڈرامے شادی شدہ شوہروں کو شادی شدہ عورتوں سے پینگیں بڑھانے کے فارمولے بتاتے ہیں۔

لائق تحسین ہے یہ لگن کہ اس کتاب کی اشاعت میں اس زمانے کی کتابت کو ہی محفوظ کیا گیا۔ نئی برقی کتابت نہیں کروائی گئی جس سے کتاب کی کلاسکیت مستند ہو گئیی ہے۔ میرا خیال ہے کہ سرورق کچھ نیا ہے۔ بعض احباب اس میں بھی عریانی تلاش کر لیں گے اگرچہ یہ اس دور کی مغرب زدہ خواتین کے لباس کی بھی عکاسی ہے۔ آج کے دور کی نیم عریاں تہذیب کی تصویر بھی ہے اس طرح ٹائٹل دو صدیوں کا ملاپ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔

تھیں بنات النعش گردوں دن کو پردے میں نہا ں
شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے ہاں تو شب بہت طویل ہوتی جا رہی ہے مگر اطمینان ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ عریانی بھی جلوہ گر ہے جس کی بدولت بڑے بڑوں کے دل لگے ہوئے ہیں

ناول نجم السحر کی تقریب رونمائی منعقدہ آرٹس کونسل کراچی میں صدارتی خطبہ

ماہ نامہ اطراف
Latest posts by ماہ نامہ اطراف (see all)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *