سوشل میڈیا اکاؤنٹس

محمود شام

محمود شام

پاکستان کے ممتاز صحافی، شاعر، ادیب اور تجزیہ کار جناب محمود شام 5 فروری 1940

سفاک دنوں میں غزل میری محبوبہ

۔۔۔۔۔۔۔
غزل کہنے کے لیے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ کوئی محبوب ضرور ہونا چاہیے مگر ہمارے ساتھ یہ ہوا کہ چھ دہائیوں سے غزل ہی ہماری محبوبہ ہو کر رہ گئی ہے۔ محبوبہ بھی ایسی کہ دن رات ہمارا ساتھ دے رہی ہے۔ بہت سے بحرانوں سے نکالتی رہی ہے آج کل کے سفاک دنوں میں بھی مجھے بلڈ پریشر ہائی ہونے سے بچا رہی ہے کیونکہ اپنے کالموں میں جو اظہار خیال نہیں کر پاتا وہ ہر دوسرے تیسرے دن غزل میں ادا ہو جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
لڑکھڑاتے ہیں شہر میں پنجر
روح غائب ہوئی ہے جسموں سے
۔۔۔
تازہ ترین
۔۔۔۔
فصل رسوائی ہے پکنے والی
کچھ چٹانیں ہیں سرکنے والی
۔۔۔
غزل میں امکانیت بہت بھرپور ہے۔ اردو غزل فارسی غزل سے ہی آئی ہے ۔فارسی غزل میں بھی مزاحمت روز اول سے ہے
۔۔۔۔۔

گریزدازصف ما ہر کہ مرد غوغا نیست
کسے کہ کشتہ نہ شد از قبیلہ ما نیست
نظیری نیشاپوری
۔۔۔۔۔
اردو غزل میں ولی دکنی سے حبیب جالب تک یہ مزاحمت ملتی ہے۔ غزل محبوبہ بھی ہے سرکش بھی۔ دربار میں جچتی ہی نہیں۔ لیکن بڑی غزلیں دربار میں بھی کہی گئی ہیں۔
غزل میری ساتھی ہے 1960 سے میٹرک کرنے کے فورا بعد شروع ہو گئی تھی جھنگ کے ریت کے ٹیلے شیشم کے پتے پگڈنڈیاں میری ردیفیں قافئے استعارے بنتی رہیں۔
غزلیں اتی رہیں مطلعے ہوتے رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
آائی تو جیسے ہونے لگا مطلع غزل
بیٹھی تو جیسے نظم کی تکمیل ہو گئی
۔۔۔۔
آج سے ہم سلسلہ وار کہانی شروع کریں گے۔ اس محبوبہ نے کہاں کہاں ہمارا ہاتھ تھاما
۔۔۔۔
ہم تو اک جان غزل ڈھونڈتے تھے
صورتیں ذہن میں آتی تھیں بہت
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔چہرہ چہرہ میری کہانی۔۔ ہمارا پہلا مجموعہ ہے ۔1975 میں شائع ہوا رونمائی کراچی پریس کلب میں ہوئی ۔مولانا کوثر نیازی صدر مجلس تھے۔ ابن انشاء۔ ابراہیم جلیس۔ شوکت صدیقی۔ جمیل الدین عالی نےشرف بخشا۔ کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ چند سطور اس کے پیش لفظ میں سے کوشش کریں گے کہ اس کے بعد چھپنے والے مجموعوں میں سے بھی اسی طرح کے اقتباسات پیش کریں۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
لاہور آیا میرے ہم جماعت ایم اے میں داخلے کے لیے کوشش کر رہے تھے۔ میرے حالات ایسے نہ تھے کہ داخلہ لے سکتا کیونکہ 30 روپے مارکس شیٹ حاصل کرنے کے لیے بھی نہیں تھے روز نامہ امروز میں شائع ہونے والی ایک غزل کے نو روپے 14 انے وصول ہوئے تھے دو آنے منی آ رڈر فیس۔اس میں سے لاہور تک کا پانچ روپے کا ٹکٹ لیا تھا ہمارے ایک ساتھی ضیاء الحق بی اے میں میتھمیٹکس میں اول رہے تھے۔ ان کے داخلے کے سلسلے میں ہم گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد سے ملنے گئے۔ ڈاکٹر نذیر احمد ادب ثقافت فنون لطیفہ کے بڑے دلدادہ تھے ۔اگرچہ ان کا اپنا سبجیکٹ باٹنی تھا ڈاکٹر صاحب ایک زمانے میں گورنمنٹ کالج جھنگ کے پرنسپل بھی رہے۔ ایک برس پہلے جلسہ تقسیم اسناد و انعامات میں وہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے بھی آئے تھے ۔انہیں جھنگ سے ایک تعلق خاص تھا ہم ان کے کمرے میں گئے تو ہم نے بتایا کہ جھنگ سے آئے ہیں۔ میری طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ تم محمود شام ہو۔ جی ۔میں نے کہا تمہاری غزل چھپی ہے ماہ نو میں جی۔ پھر تھوڑی دیر بعد انہوں نے میرے ساتھیوں سے کہا آپ لوگ جائیں۔ مجھے ان سے کچھ بات کرنا ہے۔ وہ لوگ وہ چلے گئے ڈاکٹر نذیر احمد نے گاون پہنا اور مجھے ساتھ لے کر چل پڑے۔ عظیم گورنمنٹ کالج جس کی محرابوں میں سے گزرتے ہوئے مجھے اپنے پست قامت ہونے کا کچھ زیادہ ہی احساس ہو رہا تھا۔ ان محرابوں میں سے کتنے عظیم لوگ گزرتے رہے ہیں۔ مفکر شاعر علامہ اقبال پطرس بخاری ۔صوفی تبسم ۔ن میم راشد ۔جیلانی کامران۔
ڈاکٹر صاحب مجھے ذکریا خواجہ سے ملواتے ہیں پروفیسر صدیق کلیم سے پھر کالج ٹک شاپ میں جناب قیوم نظر سے ملواتے ہیں ۔میری اس غزل کا ذکر کرتے ہیں جو۔ ماہ نو۔ میں چھپی۔ سنتے بھی ہیں ۔۔
مطلع عرض ہے
۔۔۔۔۔۔
عمر گزری کہ تری دھن میں چلا تھا دریا
جا بجا گھومتا ہے آج بھی پگلا دریا
۔۔۔۔
پھر ڈاکٹر نذیر احمد مجھے وہ سب رعایتیں دے دیتے ہیں جن کے نہ ہونے سے میں نے مزید پڑھائی کا ارادہ ہی ترک کر دیا تھا۔ ایک غزل کے معاوضے کی وجہ سے میں لاہور تک پہنچ سکا اور ایک غزل کی وجہ سے ڈاکٹر نذیر احمد نے مجھے تمام رعایتیں دے کر اس عظیم درسگاہ کے دروازے مجھ پر کھول دیے ۔غزل نے میری زندگی میں اتنا اہم کردار ادا کیا ہے تو مجھے غزل سے انتہائی جذباتی وابستگی کیوں نہ ہو ۔ ایک بار پھر فخر سے دہراتا ہوں کہ سفاک دنوں میں بھی غزل ہی ہماری محبوبہ ہے۔

ماہ نامہ اطراف
Latest posts by ماہ نامہ اطراف (see all)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *