سلام صبح
گڈ مارننگ
معذرت۔ معذرت۔ معذرت
آپ سب سے اور آپ کے احباب سے بھی اور سب سے زیادہ بے چاری ویب سائٹ سے جو لاوارث پڑی رہی۔ ہم کتنے نااہل ہیں کتنے بدقسمت ہیں کہ ہمارے پاس ایک چمن موجود ہے مگر ایک عرصے سے سیر چمن کے لیے وقت نہیں نکال پائے ایک انجمن ہم نے ہی سجائی ہے مگر ہم ہی اس میں شرکت نہیں کر پاتے انجمن بھی ہماری نقصان بھی ہمارا اصل میں ہم ہیں اگلے وقتوں کے لوگ ہم سمجھتے ہیں کہ آپ سب مضمون پڑھتے ہیں۔ اخبار کے لیے ناشتے پر بے چین رہتے ہیں۔ ہم کئی دہائیوں سے ورق سے منسلک ہیں اس لیے برق سے دور دور رہتے ہیں۔ اب جب ورق کے عشاق کم ہوتے جا رہے ہیں تو ہمیں تنہائی کا احساس ہو رہا ہے۔ ہمارے حرف الفاظ سطریں آپ کی نگاہوں سے محروم رہتی ہیں۔ اخبار پہلے لاکھوں میں چھپتے تھے اب ہزاروں میں رہ گئے ہیں۔ رسالے جو ہزاروں میں شائع ہوتے تھے سینکڑوں میں رہ گئے ہیں۔ مگر نوجوانوں کی معلومات کے لیے پیاس فکر و نظر کے لیے بھوک اسی طرح موجود ہے۔ سوشل میڈیا اصل مسائل سے توجہ ہٹاتا ہے۔ ہم اب محفل میں واپس آگئے ہیں۔ عبدالحمید عدم بڑے رومانٹک شاعر تھے ان کے اشعار اور قطعات کبھی خوبصورت دوشیزاؤں اور عاشق مزاج لڑکوں میں بہت وائرل ہوتے تھے۔ ان کا مشہور شعر تھا
۔۔۔۔۔۔۔
شاید مجھے نکال کے پچھتا رہے ہوں آپ
محفل میں اس خیال سے پھر آگیا ہوں میں
۔۔۔۔۔۔۔
مجھے بھی یہی محسوس ہوا۔ شاید غلط فہمی ہو کہ میرے بغیر انجمن جَچ نہیں رہی۔ اس لیے واپسی ہو رہی ہے۔ اگر چہ زیادہ دھوم دھام سے نہیں بس آپ کی خدمت کے جذبے کے ساتھ میں 1963 سے لوح و قلم سے اور ورق سے منسلک ہوں جب کتاب اخبار رسالوں کا عہد شباب تھا چورا ہوں میں اخبار رسالے بکتے تھے اسٹیشنوں پر آواز لگتی تھی ریل گاڑیوں میں بیٹھے مسافر بسوں میں ہم سفر دوران سفر کے لیے رسالے کتابیں خریدتے تھے۔ ورق زاد راہ میں شامل تھا۔ اب سب کچھ اسمارٹ فون میں سمودیا گیا ہے
کتابیں رسالے خبریں ناول سب آپ کی ہتھیلی میں ہیں۔ کبھی ہتھیلی پر سرسوں جمائی جاتی تھی۔ مگر جین زی کو محاوروں سے کیا غرض کہاوتیں ضرب الامثال سب آپ کی دھن میں نہیں ہیں آپ تو واٹس ایپ کے دلدادہ ہیں۔ انسٹاگرام آپ کا مرکز نگاہ۔ یوٹیوب آپ کی سہیلی ٹک ٹاک آپ کے ٹھمکے۔ ریلز عشوہ غمزہ کی جگہ ہم بھی اپنے دامن سے حرف و دانش کو جھاڑ کر اس موج میلے میں شریک ہو رہے ہیں۔ دیکھیں مستیاں کر پاتے ہیں یا نہیں۔ ویڈیو ویڈیو بھی کھیلیں گے۔ لیکن خبر دار رہے گا۔ ہم اس کھیل کود میں ہی آپ کو بہت کچھ سکھا دیں گے۔ ورق کے نزدیک لے آئیں گے۔ زمانہ بہت تیز رفتار ہے۔ ہر روز بہت کچھ بدل رہا ہے
۔۔۔۔۔
اٹھو وگر نہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی۔۔
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
- ویب سائٹ پر بیٹھے بے چین مہربانو - August 24, 2026
- 100ویں یوم ازادی کے لیے ترجیحات - August 18, 2026
- عالمی علاقائی انتشار۔ مقابلہ کیسے؟ - January 20, 2026
