سوشل میڈیا اکاؤنٹس

محمود شام

محمود شام

پاکستان کے ممتاز صحافی، شاعر، ادیب اور تجزیہ کار جناب محمود شام 5 فروری 1940

آپ کی انکھوں کی روشنی کہہ رہی ہے کہ آپ کی سماعتوں نے آج بہت سے آسمان سر کیے ہیں بہت سی زمینیں اپنے نام کی ہیں۔

بزم شعر و سخن کا ممنون ہم سب کو ہونا چاہیے کہ انہوں نے مشاعرے کو خاص تہذیبی عمل بنایا ورنہ اج کل تو تہذیب کمرشلزم مسلکوں پابندیوں تلے روندی جا رہی ہے۔ آج کی بزم شعر و سخن میں ہڑبونگ نہیں تھا ۔بے ہنگم تالیاں نہیں تھی۔ نظامت کاروں کا شور و غوغا نہیں تھا۔ آج کی شاعری میں ماضی حال مستقبل سب کی جھلکیاں تھیں۔ کیسے کیسے مضامین باندھے گئے نئی تلمیحات نئی تراکیب اور نئے خیالات ۔سہل ممتنع۔صنعت تضاد۔


میں اکثر حیرت زدہ رہ جاتا ہوں کہ یہ شاعری آخر کیا ہے کچھ حروف تہجی ہیں ۔چند ہزار الفاظ ہیں۔ لیکن صدیوں سے شاعر شاعرات اپنے اپنے انداز سے برتتے آرہے ہیں۔ کیسے کیسے نئے مفاہیم تراشے جا رہے ہیں۔ کیسے کیسے نئے جہان معنی وجود میں آ رہے ہیں ان کی خوشبو ہے کہ کبھی ختم ہی نہیں ہوتی۔
آپ خوش قسمت ہیں کہ جب آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کی ناکہ بندی نے پوری دنیا کو توانائی کے ہجر میں مبتلا کر رکھا ہے۔ دنیا عشق فراموش کر چکی ہے
۔۔۔۔
چناں قحط سالے شد اندر دمشق
کہ یاراں فراموش کردند عشق ۔
۔۔۔۔


مگر آپ عشق بھی کر رہے ہیں اپنے ذوق کی آبیاری بھی ۔ آپ کو چاندنی بھی میسر ہے ۔دھوپ بھی۔ اور دھوپ بھی اتنی کہ سرکار اس پر ٹیکس لگانے کی سوچ رہی ہے ۔
اردوغزل ولی دکنی سے آغاز ہوتی ہے۔

وہ نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا
خوبی میں گل رخاں سو ممتاز ہے سراپا۔
۔۔۔۔۔
1667 سے آج دو مئی 2026کی بزم میں پڑھے گئے کلام

تک ساڑھے تین سو سال کا ایک طویل سفر ہے غزل کی بنت کا زبان کے ارتقا کا ۔حسن تغزل کے نکھرنے کا ۔راستے میں دور آتے ہیں ۔میر درد ۔میر تقی میر۔ ذوق ۔مومن۔ مصحفی۔ سودا۔ غالب۔ حالی ۔داغ۔ حسرت موہانی۔ اختر شیرانی۔ قتیل شفائی ۔احمد ندیم قاسمی فیض ۔جمیل الدین عالی۔ ناصر کاظمی۔ مجید امجد۔ احمد فراز سے آج سحر انصاری تک۔ آپ اگر غزل کا سرور حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان سب کے میکدوں میں ضرور جائیں۔ ایک دو جام پییں۔ شاعری کے ارتقا میں اپناحصہ ڈالیں ۔
شاعری وقت مانگتی ہے۔ صدیوں کی لگن چاہتی ہے ۔یہ نہیں کہ اپنا ایک حلقہ بنایا وہیں ایک دوسرے سے داد پائی مشاعرے میں آئے ۔اپنی سنائی دوسروں کی سننے کے بجائے باہر باری باری سگریٹ پینے چلے گئے . سب کو سنیں اس اعتماد کے ساتھ کہ شاعری تہذیبوں کو جنم دیتی رہی ہے اور جنم دے رہی ہے .


اقبال نے کہا تھا
Nations are born in the minds of poets. But they collapse in the hands of leaders.
ہم تو بدحواس ٹرمپ کو دیکھ دیکھ کر سن سن کر سمجھتے ہیں کہ سارے امریکی صدر اتنے ہی بے ادب ہوتے ہوں گے۔ جان ایف کینیڈی کو سنیے۔ امریکی شاعر رابرٹ فراسٹ کو انہوں نے اپنی حلف برداری میں بلایا۔ نظم سنانے کی درخواست کی ۔پھر رابرٹ فراسٹ کے انتقال کے بعد امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے 26 اکتوبر 1963 کو ایمل ہرسٹ کالج میسچوسٹس میں رابرٹ فراسٹ لائبریری کے افتتاح میں اپنا یادگار خطبہ
Power and poetry


دیا. جس میں اقتدار اور شاعری کا لازوال موازنہ کیا
When power leads man towards arrogance poetry reminds him of his limitations. When power narrows the areas of man s concern poetry reminds him of the richness and diversity of his existence. When power corrupts poetry cleanses. For art establishes the basic human truth which must serve as the touch stone of our judgement.


صاحبو بیبیو شاعری اقتدار کی سب سے بڑی اپوزیشن ہے۔ ہمیں فخر ہے اردو غزل تو ہے ہی مزاحمت کا مسلسل سفر بہت کچھ کہنے کو ہے مگر وقت کم ہے۔ میں اج مشاعرے کی صدارت کو ایک خالی رسم نہیں ایک بامعنی مقام دینا چاہتا ہوں۔ اس لیے شاعری کی معنویت افادیت اور اہمیت پر بات کرنا ضروری ہے۔ الطاف حسین حالی ۔ مقدمہ شعرو شاعری ۔ میں کہتے ہیں شاعری نا شائستگی کے زمانے میں زیادہ پروان چڑھتی ہے سنیے ۔۔


۔۔۔۔
سولائزیشن کا اثر شعر پر برا ہوتا ہے جس قدر کہ علم زیادہ محقق ہوتا ہے اس قدر تخیل جس پر شاعری کی بنیاد ہے گھٹتا جاتا ہے اور کرید کی عادت جو ترقی علم کے ساتھ ساتھ چلتی ہے وہ شعر کے حق میں سم قاتل ہے جب تک سوسائٹی نیم شائستہ اور اس کا علم اور واقفیت محدود رہتی ہے اور علل و اسباب پر اطلاع کم ہوتی ہے اس وقت تک زندگی خود ایک کہانی معلوم ہوتی ہے زندگی کی سرگزشت جو کہ بالکل ایک واقعات کا سلسلہ ہوتا ہے اگر ایک نیم شائستہ سوسائٹی میں سیدھے سادھے طور پر بیان کی جائے تو اس سے کہیں خوف اور کہیں تعجب اور کہیں جوش خود بخود پیدا ہو جاتا ہے انہی چیزوں پر شاعری کی بنیاد ہے لیکن جب شائستگی زیادہ پھیلتی ہے تو یہ چشمے بند ہو جاتے ہیں اور اگر کہیں بند نہیں

ہوتے تو ان کو نہایت احتیاط کے ساتھ روکا جاتا ہے تاکہ ان کا مضحکہ نہ اڑے۔۔۔۔۔
تو کیا ہم کو ایسی ہی ناشائستگی اور غیر مہذبانہ رویے نصیب نہیں ہو رہے ۔

میرے ہم ذوق نوجوانو اج پاکستان میں ناشائستگی بہت فراواں ہے ۔اس لیے شاعری کے چشمے ابل ابل رہے ہیں ۔بلوچستان سندھ پنجاب ازاد جموں کشمیر گلگت بلتستان خیبر پختون خوا میں بہت اعلی شاعری ہو رہی ہے۔ اردو میں بھی اور ان علاقوں کی زبانوں میں بھی ۔ شاعری چنگیزوں قزاقوں کو للکار رہی ہے۔ تخیل کی طاقت بڑھ رہی ہے ۔پاکستانی زبانوں کی نظموں غزلوں کو قومی زبان اردو میں منتقل کریں پڑھیں اور شاعری کے یورینیم کو افزودہ کریں اسی سے ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسے حکمران خوفزدہ رہتے ہیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔


سندھ کے جام پیو کھل کے جیو
رات کو رات کہو کھل کے جیو
قرب شہباز قلندر میں رہو
غالب و میر پڑھو کھل کے جیو
روح تہذیب وفا ہے اردو
شاہ کے سربھی سنو کھل کے جیو


بزم شعر و سخن کے تمام عہدے داروں کو دل سے مبارک باد کہ اج مشاعرے کی روایت ایک وقار تمکنت اور شان کے ساتھ اگے بڑھی ہے۔ سب سے زیادہ ممنونیت آپ سامعین کے لیے اپنے اہل خانہ سمیت اس تہذیبی عمل میں شریک کار بلکہ سہولت کار رہے ہیں ۔
مئی 2026 کراچی بزم شعرو سخن کے سالانہ مشاعرے میں صدارتی خطبہ

ماہ نامہ اطراف
Latest posts by ماہ نامہ اطراف (see all)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *