سوشل میڈیا اکاؤنٹس

محمود شام

محمود شام

پاکستان کے ممتاز صحافی، شاعر، ادیب اور تجزیہ کار جناب محمود شام 5 فروری 1940

دردمند پاکستانی

ڈاکٹر طارق سہیل

۔۔۔۔۔۔ ہاں جاں کے زیاں کی ہم کو بھی تشویش ہے۔ لیکن کیا کیجے
جو راہ ادھر کو جاتی ہے مقتل سے گزر کر جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اج کسی کو وجدان ملنے کا دن ہے۔کتنےگیانی بیٹھے ہیں جو اس چشمے سے فیض یاب ہوتے رہے ہیں ۔موسم اگرچہ رائیگانیوں کا ہے ہم سب اپنے اپنے نظریات کے کھنڈرات سے , کےخلاسےگزررہی ہےNothingnessہستی کے ناہموار مرحلوں سے گزر کر اب نتھنگنس Being تک پہنچے ہیں یہ سرزمین Rendezous۔ ہوتے ہوئے اس ر یندے زو

۔ پیکر کروڑوں کی تعداد میں گھوم رہے ہیں لیکن ان کی روحیں چھین لی گئی ہیں۔ ضمیر ائ ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیے گئے ہیں پالیسیاں بنانے پر مامور کھلے ذہن کھوکھلے کر دیے گئے ہیں۔ ایسے میں ہم ایک ایسے جوان رعنا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جمع ہیں جس نے وہی راہیں چنی ہیں جو مقتل سے گزر کر جاتی ہیں اور جو اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور اب سفر کے دوران ہی سستاتے ہوئے اپنے لیلہاتی فصلوں کو یاد کر رہا ہے ۔ خواتین و حضرات۔ مقتل ایسے لوگوں کی نشست و برخاست سے قابل دید مقامات میں شامل ہو جاتے ہیں ۔جہاں خود کو تلاش کرنے والے بلوچ سندھی پنجابی پشتون کشمیری گلگتی مہاجر اپنی حسرتیں اور مچلتے خواب لے کر پہنچتے ہیں۔ کچھ خود کو پا لیتے ہیں مگر دنیا کی نظر میں لاپتا ہو جاتے ہیں۔

میں اج مبارک باد دینا چاہوں گا اج کے دولہا کواس قریہ سفاک میں ریاست ناپرساں میں آٹھ دہائیاں بہت اعتماد سے خلوص سے اور جہد مسلسل میں گزارنے پر
سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک دل درد مند رکھنے پر اور اس کی تواتر سے حفاظت کرنے پر ۔

۔ حالانکہ اس نو ازاد ملک میں اور بھی بہت سے آپشن تھے۔ کمانے کے بھی اور اگے بڑھنے کے بھی۔ جنرل بھی بن سکتے تھے ۔سی ایس ایس کر سکتے تھے۔ دل کی جگہ سینے میں پتھر رکھتے۔ انکھیں دیکھنے کے بجائے دکھانے کے لیے استعمال کرتے۔ لیکن اس وقت اپنے کئی خوابوں کی تعبیر میڈیکئر ہسپتال۔ سہیل یونیورسٹی ۔انسٹیٹیوٹ اف ہسٹوریکل اینڈ سوشل ریسرچ کی صورت میں ہر روز اپنے سامنے دیکھ کر جو طمانیت انہیں اپنی آغوش میں لیتی ہے وہ کسی دوسرے آپشن سے نہیں مل سکتی تھی۔

میں انہیں مبارک باد دوں گا کہ وہ ملک میں دوسرے بڑے خاندانوں آسودہ حالوں کی طرح اندھیرے بھی پھیلا سکتے تھے۔ جس کے عوض میں انہیں جاگیریں ملتیں ٹیکسٹائل ملوں کے پرمٹ دستیاب ہوتے لیکن انہوں نے چراغ طور جلایا اندھیروں کو رخصت کیا ۔ولایت گئے تو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے ۔اب سقوط مشرقی پاکستان کے بعد قوم کو ضرورت کو کو آیڈیل بنایا کیونکہ بیسویں صدی کے نصف میں قوم کو حکیم الامت درکار تھے اور اب ساتویں دہائی میں ماہرین نفسیات۔Psychiatryتھی نفسیاتی علاج کی۔ اس لیے انہوں
پھر جیسے جیسے ضمیر اور روحیں زخم زخم ہو رہی تھیں۔ ذہن الجھائے جا رہے تھے۔ تذبذب ۔تشکیک۔ تضادات دام ہم رنگ زمین کی طرح پھیلائے گئے۔ پڑھے لکھے موسیقی رقص جمہوریت اور خیال کے شیدائی بنگالی ہم سے الگ ہو گئے۔ تو ہمیں واقعی نفسیاتی ماہر کی ضرورت تھی۔ اس لیے تاریخ بھی انہیں علاج کا یہ شعبہ اختیار کرنے پر یاد رکھے گی ۔یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے کروڑوں کی نفسیات خراب کرنے والوں کی تحلیل نفسی کی یا نہیں۔ حکایت دل درد اشنا میں کہیں کہیں جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ میں تو ممنون ہوں ان کا P.

میں انہیں مبارک باد دوں گا کہ وہ ملک میں دوسرے بڑے خاندانوں آسودہ حالوں کی طرح اندھیرے بھی پھیلا سکتے تھے۔ جس کے عوض میں انہیں جاگیریں ملتیں ٹیکسٹائل ملوں کے پرمٹ دستیاب ہوتے لیکن انہوں نے چراغ طور جلایا اندھیروں کو رخصت کیا ۔ولایت گئے تو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے ۔اب سقوط مشرقی پاکستان کے بعد قوم کو ضرورت کو کو آیڈیل بنایا کیونکہ بیسویں صدی کے نصف میں قوم کو حکیم الامت درکار تھے اور اب ساتویں دہائی میں ماہرین نفسیات۔Psychiatryتھی نفسیاتی علاج کی۔ اس لیے انہوں
پھر جیسے جیسے ضمیر اور روحیں زخم زخم ہو رہی تھیں۔ ذہن الجھائے جا رہے تھے۔ تذبذب ۔تشکیک۔ تضادات دام ہم رنگ زمین کی طرح پھیلائے گئے۔ پڑھے لکھے موسیقی رقص جمہوریت اور خیال کے شیدائی بنگالی ہم سے الگ ہو گئے۔ تو ہمیں واقعی نفسیاتی ماہر کی ضرورت تھی۔ اس لیے تاریخ بھی انہیں علاج کا یہ شعبہ اختیار کرنے پر یاد رکھے گی ۔یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے کروڑوں کی نفسیات خراب کرنے والوں کی تحلیل نفسی کی یا نہیں۔ حکایت دل درد اشنا میں کہیں کہیں جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ میں تو ممنون ہوں ان کا کی سبسکرپشن کیPolitical psychology کےساتھ ساتھ Psychology today کہ انہوں نے مجھے
کی سبسکرپشن کا مشورہ دیا ۔۔
حیرت ہوتی ہے کہ اپنے عنفوان شباب میں ہونے کے باوجود لندن برمنگم مانچسٹر پیرس جا کر بھی یہ میڈونا سے ملے نہ برجت بار دو سے اور نہ ہی جینا لولو برجیڈا سے۔ وہاں بھی روشن خیال روشن علی بھیم جی اور پاکستان میں ذہنوں کو بیدار کرنے والے سید سبط حسن سے ہہ ملتے رہے۔ کال مارکس ۔سیگمنڈ۔ فرائیڈ فریڈرک نشطے کی تعلیمات میں ہی کھوئے رہے۔ ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی تھا
میں بہرحال انہیں مبارک باد کا ہی مستحق سمجھتا ہوں کہ برطانیہ میں جتنے اعلی جدید علوم کی تحصیل کی تربیت پائی اس کا کامیاب استعمال انہوں نے پاکستان میں غربت بیماریاں دور کرنے کے لیے کیا۔ اور اس کے لیے پھر باقاعدہ میڈی کیر ہسپتال جنا ح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اور سہیل یونیورسٹی قائم کی۔ ان کے بہت سے ہمعصر موجود ہیں جو اکسفورڈ کیمبرج پڑھ کر پاکستان واپس آئے ۔لیکن عملا انہوں نے ایچسن کالج اور کیڈٹ کالج کی پڑھائی کو ہی استعمال کیا۔
ایک مبارک باد یہ بھی کہ ہر چند یہ بڑے بڑے جاگیرداروں سرمایہ داروں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے رہے لیکن انہیں فکر مندی خاک نشینوں ہی کی رہی۔ یہ الگ بات ہے کہ احمد فراز کی طرح انہیں یہ کہنا پڑا ۔
۔۔۔۔۔
کیا قیامت ہے کہ جن کے لیے رک رک کے چلے
اب وہی لوگ ہمیں آبلہ پاک کہتے ہیں
۔۔۔۔۔
خاک نشینوں سے ان کی درد مندی میڈی کیر ہاسپٹل میں نظر اتی رہی
جب پاکستان پیپلز پارٹی قومی محاذ آزادی بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی نیشنل پارٹی اور دوسرے سیاسی کارکنوں کے یہاں مفت علاج بھی میسر ہے۔ مجھے یاد ہے محترمہ بے نظیر بھٹو یہاں منور سہروردی کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لائیں تھیں۔
ایک ہدیہ تبریک یہ بھی کہ انہوں نے ہسپتال میں یونیورسٹی میں اپنے لیے کروڑوں روپے خرچ کر کے اپنے پرتعیش ذاتی دفتر کی خواہش نہیں رکھی ۔جہاں افرنگی صوفے ہوں ایرانی قالین چینی پارٹیشن بڑی ساری میز ۔کئی لاکھ کی کرسی ۔یہ اپنے دوسرے رفقائے کار کے ساتھ ایک ہال میں چھوٹی سی میز اور کرسی پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
اخر میں مبارک باد انسٹیٹیوٹ آف ہسٹوریکل اینڈ ریسرچ کا تحقیقی ادارہ قائم کرنے پر ۔ڈاکٹر سید جعفر احمد کے تجربات مشاہدات مطالعات اور انقلابی انتظامی فکر کو گود لینے پر جہاں پاکستانی سماج کی تحقیق ہوتی ہے۔ حالات کی نبض پر انگلیاں رکھی جاتی ہیں۔ جہاں تاریخ عوام مرتب کی جا رہی ہے ۔غیر جانبداری سے معروضی تجزیے کیے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر طارق سہیل ماضی کو یاد رکھتے ہیں حال ایک شان سے گزارتے ہیں۔ مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ میڈی کیر کی بنیاد اس وقت رکھی جب شہر قائد کے لاکھوں بیماروں کے لیے صرف سرکاری ہسپتال تھے۔ اب کووڈ کی عالمگیر وبا کے بعد تو بڑے بڑے سیٹھ میڈیا مالکان یونیورسٹیوں والے ہسپتال خرید رہے ہیں کیونکہ بیماریاں منافع بخش ہو گئی ہیں۔ ایک ایک بیمار میں لاکھوں کروڑوں کی اسامی دکھائی دیتی ہے۔ اج کے دور میں سب سے اچھی ٹیکنالوجی لوگوں کی مجبوریوں کو اپنے لیے کیش میں تبدیل کرنا ہے ۔۔
میں ڈاکٹر طارق سہیل ان کی رفیقہ حیات ان کے وابستگان کو ڈاکٹر سید جعفر احمد ان کے ریسرچرز کو مبارکباد دوں گا کہ انہوں نے ایک کامیاب پاکستانی عملی زندگی کو “حکایت دل درد آشنا کی دستاویزی شکل میں محفوظ کر لیا ہے۔ آج کی تقریب میں اس انقلابی ہوا کے جھونکے محسوس ہو رہے ہیں۔ جو بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں چل رہی تھی۔ جب غلامی کی زنجیریں ٹوٹ رہی تھیں جب ابراہیم جلیس۔ مخدوم محی الدین۔ احمد ندیم قاسمی احمد راہی۔ سجاد ظہیر۔ ساحر لدھیانوی۔ ملک راج انند۔ عصمت چغتائی۔ قرۃ العین حیدر ۔شیخ ایاز
گل خان نصیر۔ ںلراج ساہنی۔ کامریڈ جمال الدین بخاری ولولہ تازہ دے رہے تھے افریقہ ایشیا آزاد ہو رہے تھے
ڈاکٹر طارق سہیل ان دہائیوں کی روشن خیالیوں انقلابی جذبوں کا ایک مجسم پیکر ہیں
۔۔۔۔۔
“بیابہ مجلس اقبال یک دو ساغر کش
اگرچہ سر نہ تراشد قلندری داند”
۔۔۔۔۔
یہ الگ بات کہ آج کل تو کارپوریٹ ایگزیکٹیو بھی سر تراشے پھرتے ہیں۔ آخر میں سب سے زیادہ مسرت اور انبساط کی بات یہ کہ آج رائگانی کے دور میں ڈاکٹر طارق سہیل ایسے پاکستانی ہیں ۔جن کی جدوجہد بے ثمر نہیں رہی۔ انہوں نے ایک منزل کا تعین کیا اور اسے پا لیا آج بھی وہ آگے بڑھ رہے ہیں

کےPsychology today کہ انہوں نے مجھے
کے ساتھ ساتھ
Political psychology
کی سبسکرپشن کا مشورہ دیا ۔
حیرت ہوتی ہے کہ اپنے عنفوان شباب میں ہونے کے باوجود لندن برمنگم مانچسٹر پیرس جا کر بھی یہ میڈونا سے ملے نہ برجت بار دو سے اور نہ ہی جینا لولو برجیڈا سے۔ وہاں بھی روشن خیال روشن علی بھیم جی اور پاکستان میں ذہنوں کو بیدار کرنے والے سید سبط حسن سے ہہ ملتے رہے۔ کال مارکس ۔سیگمنڈ۔ فرائیڈ فریڈرک نشطے کی تعلیمات میں ہی کھوئے رہے۔ ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی تھا
میں بہرحال انہیں مبارک باد کا ہی مستحق سمجھتا ہوں کہ برطانیہ میں جتنے اعلی جدید علوم کی تحصیل کی تربیت پائی اس کا کامیاب استعمال انہوں نے پاکستان میں غربت بیماریاں دور کرنے کے لیے کیا۔ اور اس کے لیے پھر باقاعدہ میڈی کیر ہسپتال جنا ح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اور سہیل یونیورسٹی قائم کی۔ ان کے بہت سے ہمعصر موجود ہیں جو اکسفورڈ کیمبرج پڑھ کر پاکستان واپس آئے ۔لیکن عملا انہوں نے ایچسن کالج اور کیڈٹ کالج کی پڑھائی کو ہی استعمال کیا۔
ایک مبارک باد یہ بھی کہ ہر چند یہ بڑے بڑے جاگیرداروں سرمایہ داروں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے رہے لیکن انہیں فکر مندی خاک نشینوں ہی کی رہی۔ یہ الگ بات ہے کہ احمد فراز کی طرح انہیں یہ کہنا پڑا ۔
۔۔۔۔۔
کیا قیامت ہے کہ جن کے لیے رک رک کے چلے
اب وہی لوگ ہمیں آبلہ پاک کہتے ہیں
۔۔۔۔۔
خاک نشینوں سے ان کی درد مندی میڈی کیر ہاسپٹل میں نظر اتی رہی
جب پاکستان پیپلز پارٹی قومی محاذ آزادی بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی نیشنل پارٹی اور دوسرے سیاسی کارکنوں کے یہاں مفت علاج بھی میسر ہے۔ مجھے یاد ہے محترمہ بے نظیر بھٹو یہاں منور سہروردی کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لائیں تھیں۔
ایک ہدیہ تبریک یہ بھی کہ انہوں نے ہسپتال میں یونیورسٹی میں اپنے لیے کروڑوں روپے خرچ کر کے اپنے پرتعیش ذاتی دفتر کی خواہش نہیں رکھی ۔جہاں افرنگی صوفے ہوں ایرانی قالین چینی پارٹیشن بڑی ساری میز ۔کئی لاکھ کی کرسی ۔یہ اپنے دوسرے رفقائے کار کے ساتھ ایک ہال میں چھوٹی سی میز اور کرسی پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
اخر میں مبارک باد انسٹیٹیوٹ آف ہسٹوریکل اینڈ ریسرچ کا تحقیقی ادارہ قائم کرنے پر ۔ڈاکٹر سید جعفر احمد کے تجربات مشاہدات مطالعات اور انقلابی انتظامی فکر کو گود لینے پر جہاں پاکستانی سماج کی تحقیق ہوتی ہے۔ حالات کی نبض پر انگلیاں رکھی جاتی ہیں۔ جہاں تاریخ عوام مرتب کی جا رہی ہے ۔غیر جانبداری سے معروضی تجزیے کیے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر طارق سہیل ماضی کو یاد رکھتے ہیں حال ایک شان سے گزارتے ہیں۔ مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ میڈی کیر کی بنیاد اس وقت رکھی جب شہر قائد کے لاکھوں بیماروں کے لیے صرف سرکاری ہسپتال تھے۔ اب کووڈ کی عالمگیر وبا کے بعد تو بڑے بڑے سیٹھ میڈیا مالکان یونیورسٹیوں والے ہسپتال خرید رہے ہیں کیونکہ بیماریاں منافع بخش ہو گئی ہیں۔ ایک ایک بیمار میں لاکھوں کروڑوں کی اسامی دکھائی دیتی ہے۔ اج کے دور میں سب سے اچھی ٹیکنالوجی لوگوں کی مجبوریوں کو اپنے لیے کیش میں تبدیل کرنا ہے ۔۔
میں ڈاکٹر طارق سہیل ان کی رفیقہ حیات ان کے وابستگان کو ڈاکٹر سید جعفر احمد ان کے ریسرچرز کو مبارکباد دوں گا کہ انہوں نے ایک کامیاب پاکستانی عملی زندگی کو “حکایت دل درد آشنا کی دستاویزی شکل میں محفوظ کر لیا ہے۔ آج کی تقریب میں اس انقلابی ہوا کے جھونکے محسوس ہو رہے ہیں۔ جو بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں چل رہی تھی۔ جب غلامی کی زنجیریں ٹوٹ رہی تھیں جب ابراہیم جلیس۔ مخدوم محی الدین۔ احمد ندیم قاسمی احمد راہی۔ سجاد ظہیر۔ ساحر لدھیانوی۔ ملک راج انند۔ عصمت چغتائی۔ قرۃ العین حیدر ۔شیخ ایاز
گل خان نصیر۔ ںلراج ساہنی۔ کامریڈ جمال الدین بخاری ولولہ تازہ دے رہے تھے افریقہ ایشیا آزاد ہو رہے تھے
ڈاکٹر طارق سہیل ان دہائیوں کی روشن خیالیوں انقلابی جذبوں کا ایک مجسم پیکر ہیں
۔۔۔۔۔
“بیابہ مجلس اقبال یک دو ساغر کش
اگرچہ سر نہ تراشد قلندری داند”
۔۔۔۔۔
یہ الگ بات کہ آج کل تو کارپوریٹ ایگزیکٹیو بھی سر تراشے پھرتے ہیں۔ آخر میں سب سے زیادہ مسرت اور انبساط کی بات یہ کہ آج رائگانی کے دور میں ڈاکٹر طارق سہیل ایسے پاکستانی ہیں ۔جن کی جدوجہد بے ثمر نہیں رہی۔ انہوں نے ایک منزل کا تعین کیا اور اسے پا لیا آج بھی وہ آگے بڑھ رہے ہیں

ماہ نامہ اطراف
Latest posts by ماہ نامہ اطراف (see all)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *