سوشل میڈیا اکاؤنٹس

محمود شام

محمود شام

پاکستان کے ممتاز صحافی، شاعر، ادیب اور تجزیہ کار جناب محمود شام 5 فروری 1940

مصنوعی ذہانت۔ حقیقی کدورتیں

۔۔۔۔۔۔
اخبار کا زمانہ جب اپنے عروج پر ہوگا اس وقت بھی پاکستان کی نصف آباری کے ہاتھوں میں اخبار نہیں ہوتا ہوگا ۔اب 25 کروڑ پاکستانیوں میں سے 12 کروڑ کے پاس اسمارٹ فون ہے۔ بن چاہے بھی انہیں اپنے محترم لیڈروں پسندیدہ شخصیتوں اعلی عہدے داروں کی مصنوعی ذہانت کے ذریعے جو تصویریں دیکھنے کو مل رہی ہیں ان سے ذہن مکدر ہو رہے ہیں اپنے رہبروں عہدے داروں پر اعتبار متزلزل ہو رہا ہے۔ ان کی نظروں میں ان کا کردار روزانہ مشکوک ہو رہا ہے۔ ایک 86 سالہ اخباری بوڑھے شاعر مصنف اور اپنے ملک کو بلندیوں پر دیکھنے کے تمنائی کے دل پر جو ضرب لگتی ہے وہ میرے ہم عصر اور درد مند پاکستانی یقینا محسوس کرسکتے ہوں گے۔


آج اتوار ہے ۔اپنے بیٹے بیٹیوں پوتے پوتیوں نواسے نواسیوں بہوؤں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر بیٹھنے اور تبادلہ خیال کا دن اور نماز عصر کے بعد محلے والوں سے ملنے اور حال احوال کی گزارش ۔ان ۔ملاقاتوں میں اسمارٹ فون کے کارٹون مصنوعی تصویریں من گھڑت وڈیوز ضرور زیر بحث آتی ہوں گی۔ پھر ہم سب بہت ہتھ چھٹ ہیں۔ فورا بغیر سوچے سمجھے یہ پوسٹیں فارورڈ بھی کر دیتے ہیں۔ ہر عمر کے پاکستانی ان تصویروں کو دیکھ کر پہلے زیر لب مسکراتے ضرور ہیں یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ مصنوعی ذہانت کا جادو ہے مگر یہ ادراک نہیں رکھتے کہ آپ خود بھی اس جادو کا شکار ہو رہے ہیں۔ تحقیقی ادارے میڈیا ہاؤس اس دام ہم رنگ زمین کے گرفتار ہونے والوں کا ذہنی تجزیہ نہیں کر رہے ہیں۔ اس سے پیدا ہونے والے خطرناک اخلاقی سیاسی سماجی اعصابی اثرات کا جائزہ نہیں لے رہے ہیں ۔عوام پہلے ہی میر و سلطان سے بیزار ہیں اور جب وہ میر و سلطان کو ان مصنوعی ویڈیوز میں دیکھتے ہیں تو نادانستہ بھی ان شخصیتوں کے بارے میں ان کے ذہن بے اعتباری سے معمور ہوتے رہتے ہیں۔


تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں موبائل فون کنکشن 194 ملین سے 207 ملین تک بتائے جا رہے ہیں۔ موبائل کمپنیوں کی کمائی میڈیا ہاؤسوں سے کہیں زیادہ ہے۔ گلی گلی موبائل مارکیٹیں ہر شہر میں بنی ہوئی ہیں۔ انٹرنیٹ سے مربوط اسمارٹ فونوں کے حاملوں کی تعداد 120 ملین بتائی جا رہی ہے۔ آپ تصور کریں کہ 12 کروڑ پاکستانی ایسی ویڈیوز دیکھ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو منتقل کر رہے ہیں۔ شوہر بیویوں کو دکھاتے ہیں۔ نوجوان اپنے دوست احباب کو لڑکیاں اپنی سہیلیوں کو ۔مجھے نہیں اندازہ کہ ہر صبح کبھی 12 کروڑ پاکستانیوں کے ہاتھوں میں اخبار ہوتا ہوگا ۔ پھر اس اخبار میں ایسی تصویریں بے بنیاد خبریں مادر پدر ازاد تبصرے ہوتے ہوں گے ۔

یہ تو طے ہے کہ عوام کو جب بھی موقع ملا اور انتخابات منصفانہ ازادانہ ہوئے تو انہوں نے اپنے دل اور ضمیر کے مطابق ووٹ دیا۔ یہ بھی طے ہے کہ کبھی سرکار نے ایسے فیصلوں کو تسلیم نہیں کیا۔ 1951 کے پنجاب میں انتخابات سے آٹھ فروری 2026 کے انتخابات تک یہی منظر نامہ نظر آیا ہے۔ 1970 کے انتخابات کے لیے پورے ایک سال کی انتخابی مہم ملی۔ لیڈروں نے دل کھول کر تقریریں کیں۔ مشرقی پاکستان والے مغربی پاکستان نہیں ائے مغربی پاکستان والے مشرقی پاکستان نہیں گئے ۔صرف جماعت اسلامی تھی جو دونوں بازوؤں میں شوکت اسلام کے جلوس نکالتی رہی۔ یہ بھی طے کہ عوام نے عدالتوں سے ہمیشہ انصاف کی توقع میں زنجیر عدل ہلائی اور یہ بھی مشاہدہ ہے کہ عدالتوں نے اکثر ائین اور قانون کے مطابق فیصلے نہیں کیے۔ 1970 کے الیکشن کے نتائج کے مطابق حکومت سازی نہیں کی گئی ۔اس وقت بھی اکثریت کے فیصلے پر سخت ریاست کا فارمولا آزمایا گیا ۔اس کا نتیجہ کیا ہوا۔ ہلاکتیں اپنی جگہ عالمی رسوائی بھی۔ مگر دیرپا نقصان اداروں اور سیاسی جماعتوں کا ہوا ۔آج بھی 16 دسمبر راتوں کی نیند اڑائے رکھتا ہے۔ اس کے بعد الیکشن تواتر سے ہوئے لیکن ہر الیکشن الزامات کی زد میں آیا ۔1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد ہر دو ڈھائی سال حکومتی باریاں لگتی رہیں۔ ذہنوں سے سیاسی اور انتخابی عمل پر اعتبار محو ہوتا رہا ۔


اج ستمبر 2026 میں ہم جس سیاسی سماجی اخلاقی بحران سے دوچار ہیں۔ آباری بھی بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ قرضے بے تحاشا بڑھ چکے ہیں۔ بے بسی بھی ۔لسانی صوبائی نسلی مسلکی اختلافات بھی شباب پر ہیں۔ عدلیہ کبھی اتنی بے دست و پا نہیں تھی۔ اب آگے جو منظر نظر آ رہا ہے وہ بھی بہت الجھا ہوا ہے۔ ہر ایک کے لیے۔ ہر سیاسی جماعت کے لیے۔ ہر ادارے کے لیے۔ سب سے المناک صورتحال معیشت کی ہے پھر اخلاقیات کی ۔ سب سے حساس نکتہ یہ ہے کہ سب سے زیادہ تنقید مقتدرہ پر ہو رہی ہے۔ اس میں سوشل میڈیا سب سے اگے ہے ۔مصنوعی ذہانت دل کی بھڑاس نکالنے میں پوری مدد کر رہا ہے ۔پہلے میڈیا پر قابو پانا آسان ہوتا تھا اور جو گپ شپ ڈرائنگ روموں چوپالوں دفتروں چائے خانوں میں لگتی تھی۔ وہ ریکارڈ پر نہیں اتی تھی۔ اب جو کچھ موبائل فونوں کی اسکرین پر دکھایا جا رہا ہے سب دیکھتے ہیں ۔ایک دوسرے کو فارورڈ بھی کرتے ہیں۔ چند سیکنڈوں میں اخلاقیات کی دھجیاں بکھر رہی ہوتی ہیں اور اداروں کے پرخچے۔ غالب کے پرزے ہر منٹ پر اڑ رہے ہیں۔ محترم شخصیتیں بے وقار ہو رہی ہیں۔


میں سوچتا ہوں کہ شخصیتیں تو انی جانی ہوتی ہیں۔ رخصت بھی ہو رہی ہیں اور جب پردے سے غائب ہو جاتی ہیں تو ان کا ذکر بھی کم ہو جاتا ہے مگر اداروں کو تو رہنا ہے سیاسی جماعتوں کو بھی ۔ اج باپ ہے کل بیٹا یا بیٹی ہوگی۔ جن جماعتوں میں انتخابات ہوتے ہیں وہاں ان کے کارکن نئے سربراہ منتخب کریں گے لیکن یہ جو ادارے ہیں سیاسی جماعتیں بیوروکریسی سیکورٹی سرکاری محکمے وفاقی سرکار صوبائی سرکار بلدیاتی حکومتیں ان کے بارے میں ذہنوں میں جو گرد بٹھائی جا رہی ہے وہ کیسے ہٹائی جائے گی ۔ہر روز ٹک ٹاک ریلز باقاعدہ مختصر ڈرامے بہت مربوط تبصرے ۔پرنٹ میں تو مالک بھی ہوتے ہیں ایڈیٹر بھی سوشل میڈیا پر ایسا کوئی میکنزم نہیں ہے۔


یہ بھی طے ہے کہ ویڈیوز گفتگو سے زیادہ اثر انگیز ہوتی ہیں۔ اس لیے یوٹیوب ایکس انسٹاگرام ویب سائٹ ذہن سازی کر رہے ہیں۔ لوگ سڑکوں پر نکلیں یا نہ نکلیں۔ نیپال بنگلہ دیش یا سری لنکا کی تاریخ پاکستان میں دہرائی جائے یا نہیں ۔دفعہ 144 نئے ارڈیننس طاقت کے ذریعے عدالتوں کے فیصلوں کے تحت بھی اجتماع روک لیں مگر جو ذہن بن رہے ہیں اور نسل در نسل محسوسات منتقل ہو رہے ہیں پھر اس کے ساتھ مہنگائی بے روزگاری ٹرانسپورٹ کی بدتر صورتیں اعصابی تناؤ سرکاری دفاتر میں عوام سے بےاعتنائی ۔خاص طور پر پولیس کے رویے جو ذہن بنا رہے ہیں۔ دلوں کو کدورتوں سے بھر رہے ہیں۔ یہ بڑا المیہ ہے اور میرے خیال میں سقوط اعتبار بہت خطرناک ہے۔ اقبال سے ہی رہنمائی حاصل کر لیں کہ انہیں ہم مفکر پاکستان کہتے ہیں۔


۔۔۔۔
زمیں میر و سلطاں سے بیزار ہے
پرانی سیاست گری خوار ہے
۔۔۔
خدا نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے۔

روزمرہ جنگ کے تمام ایڈیشنوں میں اتوار 20ستمبر کو شائع ہونے والا کالم

ماہ نامہ اطراف
Latest posts by ماہ نامہ اطراف (see all)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *