اک چیخ اور بعد میں صدیوں کی خامشی
جسموں کی بے وفائی پہ روحوں کی خامشی
قدرت مصوری میں ہے مصروف رات دن
شکلیں شدید کرب میں، رنگوں کی خامشی
دھرتی کی دھڑکنوں کو فقط ہم نہ سن سکے
کہتی تھی ورنہ کچھ تو پرندوں کی خامشی
روئی ہیں سن کے یہ بھی ہواؤں کی سسکیاں
ٹوٹی ہے پہلی بار چٹانوں کی خامشی
اک نسل درس گاہوں کے ملبے میں کھو گئی
دل چیرتی ہے ماؤں کے بستوں کی خامشی
بڑھتا رہا زمین کی ہر تہہ میں اضطراب
دیکھی گئی نہ اس سے درختوں کی خامشی
محمود شام
- آپ کی انکھوں کی روشنی کہہ رہی ہے کہ آپ کی سماعتوں نے آج بہت سے آسمان سر کیے ہیں بہت سی زمینیں اپنے نام کی ہیں۔ - September 21, 2026
- مصنوعی ذہانت۔ حقیقی کدورتیں - September 21, 2026
- سفاک دنوں میں غزل میری محبوبہ - September 21, 2026
