80 واں یوم آزادی واہگہ سے گوادر تک ہر شہر ۔ہر گاؤں۔ ہر زباں بولنے والے۔ ہر نسل سے تعلق رکھنے والے کو مبارک ہو۔
ان شہیدوں کو سلام جو غلام ملک سے آزاد وطن کی طرف آتے ہوئے سکھ اور ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ ان بیٹیوں بہنوں ماؤں کے لیے دل کی گہرائی سے دعائیں جو اپنی عفت بچانے کے لیے کنووں اور دریاؤں میں کود گئیں ۔
آج کے دن وہ سب بزرگ نوجوان مائیں بہنیں یاد اتی ہیں جنہوں نے واہگہ بارڈر سے کھوکھرا پار سرحد سے لٹے پٹے آنے والوں کے لیے دل اور گھروں کے دروازے کھول دیے تھے ۔
آج کے دن وہ سب جرات مند اور عظیم پاکستانی بھی ذہن کے پردے پر لہراتے ہیں جو قائد اعظم کا پاکستان بنانے کے لیے۔ اکثریت کی حکمرانی کے لیے۔ قانون اور آئین پر عمل درآمد کے لیے ۔اپنے حقوق کے حصول کے لئےجدوجہد کرتے دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے۔ جن کے گھر بار آزادی کے 79 سالوں میں اجاڑے گئے۔جو لاپتہ کیے گئے ۔
آج کے دن وہ سب جانباز یاد آتے ہیں جو مشرقی اور مغربی پاکستان میں سرحدوں کی حرمت پر قربان ہو گئے۔ جوپاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی جارحیت کی مزاحمت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہے۔ ہم ان سب جوانوں کو بھی نہیں بھولتے جو 1979 سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے ہی وطن کے گلی کوچوں میں پہاڑوں میدانوں میں جام شہادت نوش کر رہے ہیں ۔
۔۔۔
پاکستان صدی 2047 میں صرف دو دہائیاں رہ گئی ہیں ۔گزشتہ 79 سالوں کی کشاکش۔ اشرافیہ کی اجارہ داری ۔جاگیرداروں سرداروں ٹھیکے داروں اور امریکی سامراج کے گماشتوں کی من مانیوں کا دور سب نے برداشت کیا ۔کوئی باپ۔ ماں۔ بہن۔ بیٹا یہ نہیں چاہے گا ۔کہ پاکستان کا سواں سال بھی ایسی ہی گھٹنائیں ساتھ لے کر آئے ۔عوام اور ریاست کے اداروں میں اسی طرح دوریاں رہیں۔ملک کے مالک اپنے حکمرانوں سے اسی طرح بدظن اور برہم رہیں۔ کارکن اپنی جماعتوں کےلیڈروں پر اعتماد نہ کرتے ہوں۔ زراعت۔ عدلیہ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی۔ پینے کا صاف پانی۔ روزگار کی دستیابی۔ بارشوں سے سیلابی تباہی۔ فی ایکڑ بہت کم پیداوار۔ ٹریفک اسی طرح بے ہنگم۔ ٹرانسپورٹ اسی طرح قلیل۔ امراء اسی طرح بے حس۔ پولیس اسٹیشنوں میں مائیں بہنیں بیٹیاں نوجوان دم توڑتے رہیں۔ تھانوں میں صاف نظر آتے قتل کو خودکشی ٹھہرایا جاتا رہے۔ عام شہری تھانوں عدالتوں میں جانےسے اسی طرح گریزاں ہوں۔ آبادی کا بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے جاتا رہے۔ بلوچستان میں اضطراب کی فصلیں اسی طرح پکتی اور کٹتی رہیں۔ آزاد جموں و کشمیر میں آزادی کی آرزو کا گلا اسی طرح گھونٹا جاتا رہے۔ ملک میں معدنیات کے خزانے اسی طرح مقفل رہیں۔ وطن عظیم کی حسین وادیاں۔ تاریخی عمارات۔ قلعے ۔باغات ۔مرغزار اسی طرح غیر ملکی اور ملکی سیاحوں کی راہ تکتے رہیں۔ ملک سیاحت کے شعبے سے کروڑوں ڈالر کما سکتا ہے لیکن اسے ترجیح نہ دی جائے اور ہماری ترجیحات ملک کی ضرورت کے مطابق نہ ہوں ۔
تاریخ اور قدرت ہمیں للکار رہی ہے ۔ایک سنہری موقع دے رہی ہے کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے معدنی۔ قدرتی اور افرادی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے مگر پاکستانیوں کی اکثریت پھر بھی غریب ہے۔ اگرچہ بہت جفا کش ہے۔ محنت سے جی نہیں چراتی۔ اپنے دست و بازو سے ملک کو خوشحال اپنی روشن خیالی سے ریاست کو مہذب۔ اپنے جذبہ تحقیق سے ملکی وسائل کی بدولت قوم کو خود کفیل بنانا چاہتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ حکمران بھی خود کفالت خود مختاری اور خودداری سے سرشار ہو کر واشنگٹن لندن اور بیجنگ کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں۔دوسروں کی جنگوں کا ایندھن نہ بنیں۔
قدرت ہمیں اگست 2026 سے اگست 2047 تک کے پورے 21 سال دے رہی ہے۔ 21 سال میں ہی ایک نسل پرائمری سے اعلی تعلیم تک پہنچتی ہے۔ عام طور پر پرائمری سکول میں پاکستانی بچہ یا بچی پانچ سال کی عمر میں داخل ہوتی ہے ۔پھر میٹرک گریجویشن اور ایم اے تک پہنچتے 21 سال کی ہو جاتی ہے۔ اب اس سال جو بچے بچیاں دالبندین سے قصور تک پرائمری میں داخل ہوئے ہیں ۔کیا ہمارے وزرائے تعلیم ماہرین تعلیم اور سکولوں کے ملک گیر سلسلے ڈاکٹر امجد ثاقب کی اخوت۔ جماعت اسلامی کی الخدمت اور ایسی ہی قومی سطح کی تنظیمیں اس پرائمری نسل کو گود میں لے کر اپنی ذمہ داری سمجھ کر پورے 21سال ایسا نصاب پڑھائے جس سے ان جوان ہوتےبچے بچیوں کی توجہ صرف 14 اگست 2047 پر مرکوز ہو۔ ان کی منزل 100ویں یوم آزادی پر ایک مستحکم خوددار پاکستان ہو۔جن کی نظر آسمانوں پر جن کی لگن کہکشانوں سے منسلک ہو۔ یہ نسل کی پیڈ والی ہے۔ سمارٹ فون سکرین پر نگاہیں رکھنے والی ہے۔ یہ جانتی ہے کہ کون سے ملکوں میں ایک مثالی نظام ہے۔ کامیاب معاشرے ہیں ۔جہاں وقت کے تقاضے تسلیم کیے جاتے ہیں ۔جہاں اپنے وطن کے امکانات کا ادراک ہوتا ہے۔جہاں حکمران اپنے ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر اپنی ترجیحات متعین کرتے ہیں اور ان کے حصول میں دن رات گزارتے ہیں ۔ اس نسل کے ذہنوں میں موجود دنیاؤں کو سمجھا جائے۔ تو امجد ثاقب الخدمت اور دوسری تنظیمیں ان کو ایک حقیقی جمہوری مہذب آزاد مملکت سنبھالنے کے لیے تربیت دے سکتے ہیں۔
پنجاب۔ سندھ۔ خیبر پختون خوا۔ بلوچستان۔ آزاد جموں و کشمیر۔ گلگت بلتستان سب ہی اپنی اپنی ثقافت۔ ادب۔ تصوف۔ تہذیب اور تمدن کی کئی کئی چمکتی دمکتی صدیاں رکھتے ہیں۔ ان ساری صدیوں کی میراث ایک ایسی پاکستان صدی کو جنم دے سکتی ہے جہاں ایک سسٹم ہوگا ۔جہاں قانون کی نظر میں سب ایک ہوں گے۔ جہاں عدالتیں بے خوف فیصلے کریں گی۔ جہاں لوگوں کے حقیقی نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ سب سے بالا دست ادارہ ہوگی۔جہاں ایک فردایک ووٹ کا تصور ایک حقیقت ہوگا۔ جہاں ادارے آئین کے مطابق کام کریں گے نہ کہ وہ آئین کو اپنے مطابق کرنے میں مصروف رہیں ۔ہم نے ماضی کو گنوا دیا ہے ۔اب اپنے آئندہ کو ضائع نہیں کرنا ہےبلکہ ایک ایک لمحے کا بھرپور استعمال کرنا ہے۔اس 21 سالہ منصوبے سے ہم ایسے لاکھوں نوجوان ہر صوبے اور ہر علاقے میں تیار کر سکتے ہیں ۔جن میں یکجہتی ہوگی جو ہم خیال ہوں گے اور ان کی ایک ڈائریکشن ہوگی۔ جو ہزاروں سال کی ذہانتوں اور جدید شعور کا امتزاج ہوں گے ۔جو کسی استحصالی سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ جو غیر ملکی طاقتوں کی ذہنی اور
معاشی غلامی قبول نہیں کریں گے۔جو اپنے ملک میں ہی وہ تہذیب اور معاشرہ قائم کریں گے۔ جس کا حصہ بننے کے لیے وہ بحیرہ روم کی قاتل لہروں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ہم میں سے 70/80سال ے زیادہ عمر والے تویہ سنہرا دن نہیں دیکھ سکیں گے مگر اس وقت 60سال سے نیچے والی نسلیں تو اس دن کی پہلی کرن دیکھ سکیں گے۔دعا یہی ہے کہ 100واں یوم آزادی مفکر پاکستان علامہ اقبال کی بصیرت اور بانی پاکستان قائد اعظم کے فرمودات کے عین مطابق ہو۔
80 واں یوم آزادی مبارک ہو اور 100ویں یوم آزادی کے لیے نیک تمنائیں اور پختہ عزائم۔
- 100ویں یوم ازادی کے لیے ترجیحات - August 18, 2026
- عالمی علاقائی انتشار۔ مقابلہ کیسے؟ - January 20, 2026
- اکیسویں صدی میں بیسویں صدی کے چہرے - January 16, 2026
