ہر اک ستم پہ فقط مائلِ دعا ہونا
لکھا گیا ہے اب اس شہر کا فنا ہونا
کھڑے ہیں اب تو وجود و عدم کی سرحد پر
بس ایک لغزشِ پا پر ہے فیصلہ ہونا
جو آدمی بھی مکمل نہ بن سکے تھے ابھی
انہیں بھی اب تو میسر ہوا خدا ہونا
تمام شہر کی آنکھیں ہیں انتظار زدہ
انہیں دنوں میں ہے پھر کوئی حادثہ ہونا
کسی منڈیر پہ نظریں نہ چلمنوں پہ نگاہ
کہ دل ہی بھول گیا اب تو مبتلا ہونا
کبھی انا کی فصیلیں کبھی ضمیر کا طوق
یہ عمر قید ہے، اس سے کہاں رہا ہونا
ہزار سانس کی ڈوری الجھ ہی جائے شام
کبھی نہ اپنی تمنا کی انتہا ہونا
یہ غزل یوٹیوب چینل Mahmood Shaam Official پر محمود شام کی آواز میں سنی جا سکتی ہے۔
- عالمی علاقائی انتشار۔ مقابلہ کیسے؟ - January 20, 2026
- اکیسویں صدی میں بیسویں صدی کے چہرے - January 16, 2026
- جنوبی امریکہ سے جنوبی ایشیا تک - January 11, 2026
