ربنا، یا ربنا، یا ربنا، ابر کرم
کھول دے رحمت کے در، سیراب کر دے ہر قدم
تیری ہر مخلوق تیرے رحم کی ہے منتظر
یہ پرندے، یہ مویشی، یہ زمینیں، یہ شجر
پیاس سے بد حال انسان، یہ اجڑتے بام و در
یہ سسکتے زرد چہرے، ہر نگر تصویر غم
کھول دے رحمت کے در، سیراب کر دے ہر قدم
ربنا، یا ربنا، یا ربنا، ابر کرم
بوند پانی کو ترستی ہیں یہ سوکھی ندیاں
مانگتی ہیں زندگی کے رنگ سونی بستیاں
قہر برساتا ہے سورج، بخش دے اپنی اماں
دھوپ بھی تیری عطا ہے، چھاؤں بھی تیرا کرم
کھول دے رحمت کے در، سیراب کر دے ہر قدم
ربنا، یا ربنا، یا ربنا، ابر کرم
(جون 2000ء)
- عالمی علاقائی انتشار۔ مقابلہ کیسے؟ - January 20, 2026
- اکیسویں صدی میں بیسویں صدی کے چہرے - January 16, 2026
- جنوبی امریکہ سے جنوبی ایشیا تک - January 11, 2026
