محمود شام
ہر نیا سال میرے لیے غریبی پر تشویش لیے آتا ہے۔ میں گہری سوچ میں ڈوب جاتا ہوں کہ جس ملک میں قریباً آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہو وہ حرف و دانش جمہوریت، آمریت ،آئینی ترامیم، انسانی حقوق اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کیلئے کہاں فکر مند ہو سکتی ہے۔ وہ تو بریانی کی ایک پلیٹ پر ووٹ ڈالنے پر بھی آمادہ ہو سکتی ہے۔ جلسے جلوسوں ریلیوں میں بھی اپنے بھائیوں بہنوں سمیت شرکت کر سکتی ہے کہ کم از کم ایک وقت کی روٹی کی فکر تو ختم ہو جائیگی۔ آپ ذرا غور کیجئے کہ 45 فیصد ایسے ہیں۔جنہیں ہر وقت روٹی کی تشویش ہے ۔ دس فیصد ایسے ہیں جنہیں آئندہ 10/ 15 سال تک کسی وقت کی روٹی کی بھی فکر نہیں ہے ۔ 25 فیصد ایسے ہیں جنہیں پانچ سال تک روٹی کی کچھ امید ہے۔ 20 فیصد کو مڈل کلاس جان لیں کہ وہ محنت کر رہے ہیں اور ایک ہفتے کی روٹی کیلئے مطمئن ہو جاتے ہیں ۔
آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسوں نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر بیٹھنے،اپنے ملک کے حالات پر تبادلہ خیال کا دن۔ سوشل میڈیا پر ایک نوجوان کے انگریزی مضمون کا بہت چرچا ہے ۔ میں اسی لیے آپ سے ہر اتوار فرمائش کرتا ہوں کہ اپنی اولادوں کے ذہن میں جھانکیں کہ وہاں کیا تجسس ہے۔ کیا پیاس ہے۔ اور پھر میری یہ گزارش بھی ہوتی ہے کہ اپنے محلے والوں سے ملیں ،ان کے دکھ درد جانیں۔ اپنی گلی محلے کی سطح پر آپ جو الجھنیں سلجھا سکتے ہیں وہ مل جل کر سلجھائیں۔ آج ذرا کھل کر باتیں ہوں گی کیونکہ ہر نیا سال بہت سے امکانات لے کر ہمارے دل اور ذہن پر دستکیں دیتا ہے ۔جیسے پاکستان کی تاریخ میں پہلے 10 سال بہت زیادہ عزم اور عمل سے مزین تھے ۔جنوری میں حالات بہتر کرنے کی حرارت بہت ہوتی ہے ۔فروری کے وسط سے یہ سرد ہونا شروع ہو جاتی ہے کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ وہ طاقتور پاکستانی جو حالات بدلنے کی استطاعت رکھتے ہیں اور جنکی یہ ذمہ داری بھی ہے ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ ہمارے حکمران اونچی ہواؤں میں اڑتے ہیں۔ اس زمین پر اتر کے زمینی حقائق کا اعتراف نہیں کرتے ۔حکمرانوں کی ترجیحات منطق اور تاریخ سے بہت دور رہتی ہیں ۔منطق اور تاریخ کے فیصلے نہ تو کسی پرچی پر ہوتے ہیں نہ کسی چائے پانی سے اور نہ ہی کسی آئینی ترمیم سے۔ صدیوں سے ان کا اپنا ایک راستہ ہے ۔اپنا ایک معیار ہے۔ اب کئی سال سے سوشل میڈیا کی جو یلغار ہے۔ اس میں بھی منطق اور تاریخ کی کسوٹی وہی ہے۔ وہ حالات و واقعات، پالیسیوں، اقدامات کو اپنے اسی معیار سے دیکھتے ہیں۔ اسی لیے منطقی اور تاریخی نتیجے اسی طرح برآمد ہو رہے ہیں ۔جیسے صدیوں سے ہو رہے تھے۔ یہ جو عالمی بینک پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے 47 فیصد کی بھیڑ دکھا رہا ہے۔ یہ اس کے اپنے طے شدہ پیمانوں کی بنیاد پر ہے۔ سوشل میڈیا کا کوئی شوشہ نہیں ۔ اپنے سامنے غربت کی ایسی ایسی حقیقی کہانیاں دیکھتا ہوں تو لرزنے لگتا ہوں کہ خلق خدا کن حالات میں زندگی گزار رہی ہے۔ غربت انسان سے، قوموں سے کیسے کیسے احساسات چھین لیتی ہے ۔غربت تعلیم، صحت، زراعت، ٹیکنالوجی، تجارت، اخلاقیات سب پر اثر انداز ہوتی ہے۔ عالمی بینک 2026 کیلئے پاکستان کے 45 فیصد کو غربت کی لکیر سے نیچے دیکھ رہا ہے اور پورا سال 40 فیصد اوسط رہنے کی توقع ظاہر کر رہا ہے۔ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ غربت کو اچھی تعلیمی پالیسیوں اور بہتر صحت کے اقدامات سے کم کیا جا سکتا ہے۔ یونیسکو کہتا ہے کہ پاکستان کو4 اعشاریہ 6فیصد تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے مگرہم 1.87فیصد خرچ کر رہے ہیں؟ اڑھائی کروڑ سے زیادہ پاکستانی بچے اسکول نہیں جا پا رہے ۔انسانی وسائل کی بہبود میں 189 ممالک میں ہم 150 ویں نمبر پر ہیں ۔صحت میں 193 ملکوں میں 168 ویں نمبر پر ہیں۔ عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت کیلئے صحت کا نظام بدترین ہے۔ آبادی میں سے صرف نصف کی رسائی علاج کے کسی قدر عالمی معیار تک ہے۔ زراعت میں بھی حکومت کا ہدف تو 4 اعشاریہ 2فیصد ہے مگر عالمی بینک کے نزدیک 2026 ء میں بھی ہم تین فیصد کر پائیں گے۔ کپاس کی پیداوار میں بہت کمی ہوئی ہے جو کبھی ہماری برآمدات میں سر فہرست رہتی تھی۔ البتہ مال مویشی کی پرورش میں بہت ترقی ہوئی ہے ۔ زراعت میں پیشرفت پانی کی قلت اور زرعی سامان کی مہنگائی کے سبب رک گئی ہے۔ برآمدات کم ہو رہی ہیں درآمدات بڑھ رہی ہیں۔ اس لیے تجارتی خسارہ زیادہ ہو رہا ہے۔ مینوفیکچرنگ میں بھی کمی آئی ہے۔
غربت کے خاتمے کیلئے سب سے زیادہ ضروری اقدام افرادی قوت کی بہبود ہے ۔مشورہ یہی ہے کہ چین کی مثال سامنے رکھی جائے اس پر آئندہ کسی وقت تفصیل سے بھی بات کریں گے ۔ایک ہلکی سی جھلک ملاحظہ کریں 1947میں پاکستان کو دو کروڑ غریب ملے تھے اور چین کو 1949 میں 50 کروڑ۔ چین نے مسلسل کوششوں سے 2020 میں یہ ہدف حاصل کیا کہ 5 ہزار سال بعد غربت کی لکیر سے نیچے کوئی نہیں تھا۔ وہ 80 کروڑ کو غربت کی لکیر سے اوپر لے کر آئے جبکہ 2026 میں بھی سو میں سے 45 پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔
عالمی اداروں کے مطابق بلوچستان جہاں معدنی دولت سب سے زیادہ ہے ۔وہ پاکستان کا سب سے غریب صوبہ ہے 70 فیصد قریب غربت کی لکیر سے نیچے ہیں اور یہ زیادہ تر دیہی علاقوں میں۔ سندھ میں 40 فیصد غربت ہے اور بعض اضلاع میں 70 فیصد تک۔ پنجاب میں جنوبی اضلاع میں 48 فیصد غربت ہے۔ شمالی اضلاع میں حالات بہتر ہیں اور غربت صرف سات فیصد۔ کے پی کے میں غربت 48 فیصد آزاد جموں کشمیر میں 25 فیصد گلگت بلتستان میں 34 فیصد۔ غربت وفاق اور صوبوں کوللکار رہی ہے۔ اس کے خاتمےکیلئے قدرتی وسائل موجود ہیں لیکن ہم غیر ممالک سے قرضوں پر قرضے لیے جا رہے ہیں ۔غربت کا خاتمہ امیرحکمرانوں کی ترجیحات میں کیوں نہیں ہے؟ہے کوئی اس سوال کا جواب دینے والا؟
- بڑھتی غربت: حکمرانوں کو تشویش کیوں نہیں؟ - January 4, 2026
- لمبی اننگز کھیلنے کا ارادہ - January 4, 2026
- 2026: 2025 سے زیادہ مختلف نہیں ہوگا - January 4, 2026
