اک چیخ اور بعد میں صدیوں کی خامشی
جسموں کی بے وفائی پہ روحوں کی خامشی
قدرت مصوری میں ہے مصروف رات دن
شکلیں شدید کرب میں، رنگوں کی خامشی
دھرتی کی دھڑکنوں کو فقط ہم نہ سن سکے
کہتی تھی ورنہ کچھ تو پرندوں کی خامشی
روئی ہیں سن کے یہ بھی ہواؤں کی سسکیاں
ٹوٹی ہے پہلی بار چٹانوں کی خامشی
اک نسل درس گاہوں کے ملبے میں کھو گئی
دل چیرتی ہے ماؤں کے بستوں کی خامشی
بڑھتا رہا زمین کی ہر تہہ میں اضطراب
دیکھی گئی نہ اس سے درختوں کی خامشی
محمود شام
- عالمی علاقائی انتشار۔ مقابلہ کیسے؟ - January 20, 2026
- اکیسویں صدی میں بیسویں صدی کے چہرے - January 16, 2026
- جنوبی امریکہ سے جنوبی ایشیا تک - January 11, 2026
