نشان نہیں چھوڑنا – ایک نجی فوجی کنٹریکٹر کی سچی سنسنی خیز کہانی

کتاب ’زیرو فٹ پرنٹ‘ کا ایک باب
ایک نجی فوجی کنٹریکٹر کی سچی سنسنی خیز کہانی
ایک پاکستانی برطانوی بچی کا اغوا
تحریر: سائمن چیز اوررالف پیزولو
ترجمہ: سید عرفان علی یوسف
(یہ ایک سچی کہانی ہے جس میں کرداروں کے نام تبدیل کردئے گئے ہیں اس لئے
حالات و واقعات سے مطابقت اتفاقی ہوگی۔ اس کتاب کے مصنفین کے نام بھی
قلمی ہیں۔
سائمن چیز رائل میرین کمانڈوز کا سابق ممبر ہے۔اس کے بعد اس نے برٹش
اسپیشل فورسز میں شمولیت اختیار کی اور اسپیشل بوٹ اسکوئڈرن میں خدمات
انجام دیتا رہا جو بدنام زمانہ اسپیشل ائر سروس کا نیول پارٹنر ہے۔ جب
برطانوی ایس بی ایس دنیا کے مختلف حصوں میں انتہائی خفیہ آپریشنز کرتی
تھی تو اس کی شریک کار ایجنسیاں سی آئی اے اور ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی ہوا
کرتی تھیں۔برطانوی فوج کی ملازمت چھوڑنے کے بعد وہ اسپیشل فورسز کی ٹیم
میں شامل ہوگیا جو برطانیہ اور امریکہ میں اعلی شخصیات، کارپوریشنوں، اور
حکومت کے اعلی افسران کی حفاظتی ذمہ داریاں بھی انجام دیتی تھیں۔ وہ اپنا
فاضل وقت فیچر فلموں اور ٹی وی شوز کے تدبیری مشیر کے طور پر کام کرکے
گزارتا تھا اور انسداد دہشت گردی پر اخبارات کے لئے مضامین لکھتا تھا۔
رالف پیزولو نیوریارک ٹائمز کا مصنف ہے جس کی کتابوں کی فروخت آسمان سے
باتیں کرتی ہے۔ وہ اپنے ڈراموں اور کہانیوں پر کئی ایوارڈ لے چکا ہے۔اس
کی کتابیں دنیا کی 20 زبانوں میں شائع ہوتی ہیں۔)
تورا بورا، افغانستان کی دہشت ناکی کے بعد یہ آرام کرنے اور تازہ دم ہونے
کا اچھا موقع تھا۔ میں اور پیٹ فرصت کے ان لمحات سے پورا لطف لے رہے تھے۔
ہم ایک یونانی بحری جہاز ایم ایس سی نوریا کے عرشہ پر تھے اور ہمارے ساتھ
ہمارا سابق اسکاٹش میرین ساتھی ڈیو بھی تھا۔ یہ جہاز صومالیہ کے ساحل سے
آگے خلیج عدن کی جانب جارہا تھا جہاں سے آگے اسے نہر سوئز میں داخل ہونا
تھا۔گزشتہ کئی دنوں سے ہم اس جہاز کے عرشہ پر لیٹے بیٹھے مطالعہ یا گپ شپ
میں مصروف رہتے تھے اور جنگ کے زمانے کے زخموں کو مندمل کرنے کی کوشش
کررہے تھے۔ کوئی تین بجے اچانک جہاز کے الارم بج اٹھے جو کسی خطرے کی
نشاندہی کررہے تھے۔
”یہ سب کیا ہورہا ہے؟“ ڈیو نے پوچھا۔
”اس بارے میں کپتان ہی کچھ بتاسکے گا“، میں نے جواب دیا۔
”کہیں جانے کی ضرورت نہیں“، پیٹ نے سمندر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے
کہا۔کچھ کشتیاں تیزی سے جہاز کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ ”یہ صومالی بحری قزاق
ہیں“۔پیٹ بولا۔
ہم تیزی سے اپنی اپنی جگہ چلے گئے اوراپنے فائر ہوزز کو چارج کرلیا اور
نصف درجن فلیئرز کو ہاتھوں میں تھام لیا جو پہلے سے عرشہ پر موجود تھے ۔
اب ہم اپنے فرائض ادا کرنے کے لئے تیار ہوگئے جو ہمارے خیال میں ایک
معمولی سا کام تھا۔ جہاز پر حملہ ہورہا تھا اور ہمیں اس کی حفاظت کرنی
تھی۔یہ بین الاقوامی قانون میں ترمیم سے پہلے کی بات تھی جس کے تحت بعد
میں محافظوں کو ہتھیار رکھنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ لیکن ہم غیر مسلح
تھے۔ ڈیو اپنی دوربین کی مدد سے بحری قزاقوں کو دو جانب سے اپنی ڈونگیوں
میں جہاز کی طرف بڑھتے دیکھ رہا تھا۔ ہر ڈونگی میں چھ مسلح قبائیلی سوار
تھے۔ ڈونگیوں میں انجن لگے ہوئے تھے۔ میں نے یونانی جہاز کے کپتان کو
ہدایت کی کہ اس کی رفتار میں پانچ بحری میل فی گھنٹہ کا اضافہ کردے اور
اپنا
راستہ تبدیل کرتا رہے۔ لیکن 300 میٹر لمبا یہ مال بردار جہاز مشینوں اور
فاضل پرزہ جات سے لدا ہوا تھا اور رفتار کے اعتبار سے کسی اسپیڈ بوٹ کا
مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔ بحری قزاقوں کی کشتیاں اس سے تین گنا زیادہ تیز
رفتار تھیں اور تیزی سے اپنا رخ بھی بدل سکتی تھیں۔ ان پر سوار افراد
ممکنہ طور پر بندوقوں، خنجروں اور پستولوں سے مسلح تھے۔اگر وہ ایک مرتبہ
اوپر آنے میں کامیاب ہوجاتے تو ہماری ایسی تیسی کردیتے۔
1991 کی خانہ جنگی کا ایک نتیجہ یہ نکلا تھا کہ صومالیہ کی حکومت کے پاس
کوسٹ گارڈز نہیں تھے۔ جزیرہ سقوطرہ اور خلیج عدن میں جہاں سے ہم گزر رہے
تھے حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ یہ علاقہ کسی زمانے میں قیمتی ٹیونا
مچھلی، لابسٹرز، گہرے سمندری جھینگوں، سفید مچھلی، اور شارکوں سے مالامال
تھا۔تائیوان، جنوبی کوریا، فرانس،سعودی عربیہ، اور جاپان کے ماہی گیری کے
ٹرالرز جن کو پہلے یہاں داخلے کی اجازت نہیں تھی اب آزادی سے یہاں مچھلی
پکڑتے تھے۔ انہوں نے اتنے بڑے پیمانے پر مچھلی پکڑی کہ یہ سمندر خالی
ہوگئے۔ مزید صورت حال اس طرح خراب ہوئی کہ بڑی شپنگ کمپنیاں اور غیر ملکی
مجرموں نے صومالیہ کے سمندروں میں زہریلا کچرا ڈالنا شروع کردیا۔ بڑے بڑے
غیر ملکی ماہی گیری ٹرالرز نے ان سمندروں پر قبضہ کرلیا اور مقامی ماہی
گیروں کو ایک دن کی روٹی کمانے سے بھی محروم کردیا ۔ جب ان کے گھروں میں
فاقے ہونے لگے تو انہوں نے غیر ملکی جہازوں پر حملے شروع کردئے اور ان سے
تاوان وصول کرنے لگے۔ کیونکہ ان کے پاس اب پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے کوئی
دوسرا ذریعہ نہیں تھا۔
ہمارے پاس اس وقت بحری قزاقوں سے اس یونانی جہاز کو بچانے کے لئے کوئی
خاص ہتھیار نہیں تھے۔ ہم تین دن پہلے سری لنکا سے روانہ ہوئے تھے۔ ہم نے
جہاز کے بیرونی پہلوو ¿ں پر گریس لگادی تھی اور تیز دھار تار باندھ دئے
تھے۔ہمارے پھینکے ہوئے فلیئرز کا قزاقوں پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ
مسلسل ہماری طرف بڑھتے رہے۔ پیٹ مسلسل اعلان کررہا تھا،”تین سو میٹر دور،
دوسو میٹر دور، ایک سو میٹر دور“۔
”ہوزز کو دوبارہ چارج کرو“، میں نے کہا۔
”اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا“، پیٹ بولا۔”ان کے پاس بندوقیں ہیں“۔
ڈیو میری طرف مڑا اور بولا۔”سائمن میرے ساتھ آو ¿،میرے پاس ایک بہتر منصوبہ ہے“۔
میں اس کے پیچھے پیچھے عملے کے میس ایریا میں داخل ہوا۔ اس نے ایک جی ای
ریفریجریٹر کا پلگ نکالا۔ ”تم یہ کیا کرنے جا رہے ہو“، میں نے پوچھا۔
”اسے اٹھانے میں میری مدد کرو“ وہ بولا۔
ہم دونوں اسے اٹھا کر باہر لائے ۔جہاز کا کپتان بھاگا بھاگا ہمارے پاس
پہنچا اور بولا۔”یہ تم لوگ میرے فرج کے ساتھ کیا کرنے جا رہے ہو“۔
”ہمارے راستے سے ہٹ جاو ¿“۔ میں نے چلا کر کہا۔ ہم فرج کو جہاز کے ”برج
ونگ“ پر لے گئے جہاں پیٹ کھڑاہوا قزاقوں کی کشتیوں پر نظر رکھے ہوئے تھا۔
ہم نے ریفریجریٹر کو جہاز کی ریلنگ کے کنارے پر رکھا ہی تھا کہ پیٹ
چلایا،”ٹہرو“۔ پھر اس نے فرج کا دروازہ کھولا اور اس میں سے فوسٹر کے
پیکس نکال لئے پھر بولا،” چلو اپنا کام کرو“۔ ہم نے فرج کو جہاز کے کنارے
پر کھڑا کردیا۔ جونہی قزاقوں کی ایک کشتی جہاز کے پہلو کے قریب پہنچی ہم
نے فرج کو نیچے دھکیل دیا۔فرج فائبر گلاس کی بنی ہوئی کشتی کے بالکل وسط
میں گرا اور اس نے اسے دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ جب دوسری کشتی میں سوار
قزاق پانی میں ہاتھ پیر مارنے والے قزاقوں کو ڈوبنے سے بچانے کی کوشش
کررہے تھے۔ ہم تیز رفتاری سے اپنی منزل کی جانب سفر کررہے تھے۔ اور صحیح
معنوں میں آرام کرسکتے تھے۔
اس ایڈونچر کے ایک ہفتے کے بعد میں لندن میں تھا کہ مجھے اپنے ایک اور
پرانے ساتھی ڈیوڈ اے کی فون کال آئی۔ڈیوڈ اے رائل میرین میں میجر تھا اور
وھائیٹ ہال کے کیبنٹ آفس بریفنگ روم میں تعینات رہا تھا۔(اس تاریخی عمارت
میں برطانوی وزارت دفاع کے دفاتر ہیں) اس دوران اس کے برطانوی وزیروں اور
سفارتکاروں سے بہت اچھے تعلقات قائم ہوگئے تھے۔ اس نے نہایت چالاکی کے
ساتھ ایسے بہت سے افسروں اور سیاستدانوں کو اپنی فرم میں ملازمت دی تاکہ
ان کی مدد سے مشکل سرکاری ٹھیکے حاصل کرسکے۔ میں نے اس کے لئے پہلے بھی
کچھ چھوٹے چھوٹے کام کئے تھے۔ ان میں ہیرے جواہرات کی منتقلی کے دوران ان
کی حفاظت کی ذمہ داری بھی شامل تھی۔ اب وہ مجھے ساو ¿تھ کیننگسٹن میں
بلیکس ہوٹل میں چائے کی دعوت دے رہا تھا۔ یہ ہوٹل لندن کے ایک پوش علاقے
میں واقع تھا جہاں فلمی ستارے، فنکار، موسیقار، برطانوی وزرا اور دیگر
اہم شخصیات آیا کرتی تھیں۔دوپہر کی یہ چائے چائنیز روم میں پیش کی
گئی۔میں وقت مقررہ پر وہاں پہنچ گیا۔ ڈیوڈ نے فوراً ہی کاروباری گفتگو
شروع کردی۔ اس نے بتایا کہ اس کا ایک دوست جو سابق وزیر دفاع ہے اور جس
کا ٹوری پارٹی سے تعلق ہے، اس کی دوست خاتون کو مدد کی ضرورت ہے۔ اس
خاتون کا نام میری ہے اور وہ ایک دولت مند خاندان سے تعلق رکھتی ہے جو
سڑکوں کی تعمیر کے آلات بنانے والے کارخانوں کا مالک ہے۔ اس خاتون کی عمر
45 سال کے لگ بھگ ہے۔ اس نے ایک پاکستانی تاجر سے شادی کی اوراب اس سے
علیحدگی ہوچکی ہے۔ ان کی ایک چھوٹی بیٹی ہے اور وہ اپنی ماں کے ساتھ
مغربی لندن میں ایک گھر میں رہتی تھی۔ دونوں کے درمیان طے پایا تھا کہ
ایما اتوار کی رات سے بدھ تک اپنی ماں کے گھر میں رہے گی۔ اس کے بعد وہ
جمعرات سے اتوار تک باپ کے پاس رہے گی۔ باپ کا نام محمد ہے۔ تمام معاملات
طے شدہ پروگرام کے مطابق چل رہے تھے۔ پروگرام کے مطابق وہ ایک دن ایما کو
لینے جب محمد کے گھر پہنچی تو گھر پر کوئی نہیں ملا۔ اس کے بعد اس نے
محمد کے تمام ٹیلی فونز پر پیغامات بھیجے، پھر ایما کی دوستوں کے والدین
سے رابطہ کیا کہ ان سے ایما کے بارے میں کچھ پتہ لگ سکے۔لیکن اس کو کہیں
سے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا۔ میری نے اب اپنے اور محمد کے عزیزوں سے
رابطہ کرنا شروع کیا لیکن کچھ پتہ نہ چل سکا۔ اس نے اب اپنے وکیل سے
رابطہ کیا کہ وہ محمد کے وکیل سے
دریافت کرے۔ اس نے بتایا کہ اسے اس بارے میں کچھ علم نہیں، نہ ہی اسے
ایسی کوئی خبر ہے کہ محمد کا اپنی بیٹی سمیت ملک سے باہر جانے کا کوئی
پروگرام تھا۔ اب میری ساو ¿تھ کیننگسٹن پولیس اسٹیشن پہنچی اور رپورٹ درج
کرادی۔ پولیس افسر نے اس سے پوچھا کہ کیا اس کے سابق شوہر نے کبھی ایما
یا اس پر تشدد کیا یا وہ کسی قسم کے تشدد میں کبھی ملوث رہا تو میری نے
بتایا کہ اس نے محمد کو ایسا نہیں پایا۔ محمد نے ہمیشہ خود کو ایک اچھا
باپ ثابت کیا۔قانون کے مطابق ان کے درمیان مشترکہ تحویل کا معاہدہ تھا
اور ان میں سے کوئی تنہا بچی کو ملک سے باہر نہیں لے جا سکتا تھا۔ سخت
مایوس ہوکر میری نے حکومت میں اپنے دوستوں سے رابطہ کرنا شروع کیا۔ ان
میں اس کا دوست سابق ٹوری وزیر دفاع بھی شامل تھا جس نے تجویز دی کہ وہ
ڈیوڈ سے رابطہ کرے۔
ڈیوڈ نے مجھ سے پوچھا کہ ”میری نہایت نفیس خاتون ہے۔ مشکل کے اس وقت
میںکیا تم اس کی کوئی مدد کرسکتے ہو؟“۔
میں نے اولونگ چائے کی ایک چسکی لی پھر بولا،” ہوسکتا ہے کہ میں اس کی
مدد کرسکوں لیکن حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے میں اس سے بات کرنا پسند کروں
گا“۔
اگلی صبح میں ساو ¿تھ کیننگسٹن میںکوبل اسٹون اسٹریٹ پر ایک پرانے ایو
کاٹیج میں میری سے ملا جو ڈیوڈ کا دفتر تھا۔ میں نے اس سے درخواست کی کہ
وہ یہ پورا ڈراما خود اپنے لفظوں میں بیان کرے۔ اس نے پورا واقعہ قطعی
غیر جذباتی انداز میں بیان کیا۔ اس دوران میں نوٹس لیتا رہا۔ اس کی کہانی
اور ڈیوڈ کے بیان میں سر مو فرق نہیں تھا۔ مجھے اس کی شخصیت بہت پسند آئی
اور میں نے کہا کہ ”مجھے سوچنے کے لئے کچھ وقت چاہیئے لیکن میں دو تین دن
سے زیادہ نہیں لوں گا۔
تورا بورا کے مشن نے میرے اندر بہت سی تبدیلیاں کی تھیں۔ اب میں پہلے
زیادہ نرم مزاج اور انسان دوست بن گیا تھا۔ اس جنگ میں زندگی کو جو رخ
میں نے دیکھا اس نے مجھے زندگی کے حسن اور خوب صورتی کی قدر و قیمت کرنا
سکھایا۔ میں اب مصیبت میں مبتلا لوگوں کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ میں ایک دو
دن میں فیصلے پر پہنچ گیا اور میں نے ڈیوڈ سے کہا کہ میں یہ کام کرنے کو
تیار ہوں لیکن مجھے میری سے ایک ملاقات اور کرنا ضروری ہے۔ اس ملاقات میں
وہ محمد اور ایما کی تصویریں بھی لائی۔ وہ نظم و ضبط کی پابند خاتون
تھی۔میں نے اس سے کہا کہ وہ دونوں کی شخصیت اور شناخت کے حوالے پوری
تفصیل بتائے جس میں بالوں کا رنگ، قد، طبی حالت، معذوری اگر کوئی ہے، بھی
شامل ہو۔ ایما کو گم ہوئے دو ہفتے گزر چکے تھے۔ اس کی عمر صرف سات سال
تھی۔اس کے بالوں کا رنگ اپنے باپ کے جیسا یعنی بالکل سیاہ تھا جبکہ رنگ
روپ میں ماں اور باپ کا امتزاج تھا۔ میں اس سے پوچھا کہ اس کے خیال میں
وہ کہاں گئے ہوں گے؟ اس نے جواب میں کہا کہ ”اسے یقین کی حد تک یہ شبہ ہے
کہ وہ اسے پاکستان لے گیا ہوگا“۔
میں نے پوچھا کہ ”کیا اس کے خیال میں محمد کا خاندان اس کی مدد کررہا ہوگا؟“۔
”ممکن ہے“۔ وہ بولی”میں اس کے والدین سے ملی ہوں اور وہ محبت کرنے والے لوگ ہیں“۔
”کیا ایما نے کبھی بتایا کہ اس کا کبھی اپنے باپ کے ساتھ چھٹیوں پر جانے
کا کوئی پروگرام تھا“۔ میں نے پوچھا۔
”نہیں، قطعی نہیں“، اس نے کہا۔
میرا اندازہ تھا کہ مجھے نگرانی کے کام کے لئے کم از کم چار افراد کی
ضرورت تھی۔پیٹ حال میں ایک اور ملازمت کے لئے دبئی گیا تھا۔ اس لئے میں
نے اپنے پرانے باکسر دوست جسٹن کو بلایا۔ وہ ایسے لوگوں کو تلاش کرنے میں
مہارت رکھتا تھا جو دوسروں سے خود کو پوشیدہ رکھنا چاہتے ہوں۔ وہ اس وقت
”کلوز آبزرویشن پلاٹون“ میں شمالی آئرلینڈ میں خدمات انجام دے رہا تھا۔
ہم نے ہائی اسٹریٹ پر اسٹار بکس میں ملنے کا فیصلہ کیا۔
جب ہماری ملاقات ہوئی تو جسٹن کا پہلا سوال یہ تھا،”دوست، ان خدمات کا
معاوضہ کیا ہوگا“۔
”دوہزار پونڈ یومیہ، فی کس“۔ میں نے کہا۔
اس کا دوسرا سوال تھا،”یہ کتنے عرصے کا منصوبہ ہے“۔
”اس بارے میں کوئی بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی، جب تک ہم لڑکی کو نکالنے
میں کامیاب نہیں ہوجاتے“۔ میں بولا۔
مجھے میری سے جو معلومات ہوئی تھیں ان کا کچھ حصہ میں نے جسٹن کو بتایا۔
وہ بولا،”اگر سابق شوہر پاکستان میں ہے تو وہ کسی ایسی جگہ گیا ہوگا جو
اسے محفوظ ترین لگے گی۔ ایسی صورت حال میں لوگ عام طور پر اپنے گاو ¿ں کا
رخ کرتے ہیں۔ تمہیں میری سے پوچھنا ہوگا کہ اس کا تعلق کس جگہ سے ہے؟“۔
”اس نے مجھے بتایا کہ محمد کراچی کی ایک نواحی بستی میں پلا بڑھا ہے جس
کا نام سرجانی ٹاو ¿ن ہے۔ اس کے والدین ابھی تک وہیں رہتے ہیں۔ میری نے
مجھے ان کے گھر کا پتہ بھی دیا ہے“۔
”کیا وہاں اس کے پاس مکان ہے؟“۔
”اس بارے میں میں نہیں جانتا“۔
پھر میں نے میری سے ایک اور ملاقات کی اور اس سے مزید سوالات کئے۔
”کیا تمہارے خیال میں ایما کی زندگی خطرے میں ہے“۔
”نہیں، محمد اسے کبھی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن میںبھی ایما کے بغیر
زندگی نہیں گزار سکتی“۔
”میں یہ بات جانتا ہوں“۔ میں نے کہا،”میں نے اس سلسلے میں اپنا منصوبہ
بنالیا ہے۔ مجھے مجموعی طور پر چار مددگاروں کی ضرورت ہوگی۔ ہم کراچی
پرواز کریں گے۔ہمارا پہلا کام ایما کو تلاش کرنا ہوگا۔ جب ہم اسے دریافت
کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے تو دو ہفتے تک اس کی نگرانی کریں گے تاکہ ہم
اس کی نقل و حرکت میں کوئی کمزور پہلو تلاش کرسکیں“۔
”اوکے“ وہ بولی۔
”جب اسے اٹھانے کا وقت آئے گا تو تم کو کراچی میں موجود ہونا ہوگا کیونکہ
میں یہ نہیں چاہتا کہ وہ چار اجنبی جب اس کو
اٹھانے کی کوشش کریں تو وہ چیخ و پکار شروع کردے۔ جب وہ تم کو دیکھ لے
گی تو مطمئن ہوجائے گی کہ اس کی ممی موجود ہے۔ پھر وہ آسانی سے بلا
مزاحمت ہمارے ساتھ چلنے کو تیار ہوجائے گی۔ ہم تمہارے ساتھ اسے لے کر
سیدھے برطانوی قونصل خانے پہنچیں گے۔ جب تم قونصل خانے کی حدود میں داخل
ہوجاو ¿گی تو قطعی محفوظ ہوگی“۔
”مجھے یہ سب بے حد معقول دکھائی دیتا ہے“ میری بولی۔
”اب ہم اخرجات کی بات کرتے ہیں۔ یہ آپریشن بے حد مہنگا ہوگا۔افرادی طاقت
پر اخراجات 2000 پونڈ روزانہ فی کس ہوں گے۔ہمیں ہوائی سفر کے ٹکٹ، ہوٹل
کے کمرے،کھانا، اور آلات کی خریداری کے لئے بھی رقم کی ضرورت ہوگی۔کیونکہ
ہمیں پاکستان میں اس طرح نقل و حرکت کرنی ہے کہ کسی کو شبہ تک نہ ہوسکے“۔
”اخراجات کوئی مسئلہ نہیں ہیں“ اس نے کہا۔
”ہمیں سنگاپور سے ایک نجی ہوائی جہاز کی ضرورت بھی ہوگی جو کراچی سے
باہرکسی نجی ہوائی اڈے پر کھڑا ہوگا تاکہ کچھ گڑبڑ ہوجائے تو ہم فوراً
پاکستان سے باہرجا سکیں“۔
”یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں“ اس نے کہا۔
نظریاتی طور پر مجھے اپنی ٹیم میں ایک عورت کی ضرورت بھی تھی کیونکہ
کراچی میں کسی کار میں دو سفید فاموں کا تنہا کسی کار میں گھومنا مشتبہ
ہوسکتا تھا۔ مجھے اس وقت اماندا کا خیال آیا۔ لیکن وہ لندن میں ’کنٹرول
رسک‘ نامی ادارے کے لئے کام کررہی تھی۔ جسٹن نے اپنے دو دیگر ساتھیوں کے
لئے سفارش کی جو سی او پی کے لئے کام کرتے تھے۔ان میں ایک کا نام جوناہ
تھا جبکہ دوسرا ایک آئرش تھا جس کا نام جم تھا۔
ایک ہفتے کے بعد ہم چاروں کراچی میں اترے۔ ہم نے سیاحوں کا بھیس بدلا ہوا
تھا اور ہمارے ہاتھوں میں کیمرے تھے۔ہمارا قیام پرل کانٹی ننٹل ہوٹل میں
تھا۔ہم نے کرائے پر دو کاریں بھی حاصل کیں۔ ان میں ایک فورڈ فیئسٹا اور
دوسری ٹویوٹا کورولا تھی۔ ا س کے بعد ہم محمد کے والدین کا گھر اور آس
پاس کا علاقہ دیکھنے گئے۔سرجانی ٹاو ¿ن کراچی میں متوسط طبقے کی آبادی
تھی۔ یہ ایک دو منزلہ عمارت تھی جس کے چاروں طرف اونچی دیوار بھی تھی۔
جبکہ سامنے کی جانب عمارت کا لوہے کا بڑا گیٹ تھا۔ عمارت کے پیچھے کی
جانب ایک چھوٹا گیٹ بھی تھا جو گلی میں کھلتا تھا۔ اب ہم نے اپنا نقشہ
پھیلایا اور ایسا راستہ تلاش کرنے میں مصروف ہوگئے جس سے کم سے کم وقت
میں برطانوی قونصل خانے، کراچی ائر پورٹ، قریبی پولیس اسٹیشن،ہسپتال یا
ائر پورٹ تک پہنچا جاسکے۔ اس کے بعد ہم نے بھیڑ بھاڑ کے وقت اور کم سے کم
ٹریفک کے وقت اس جگہ کا سفر کرکے دیکھا۔ دونوں میں فرق ڈرامائی تھا۔ عام
حالت میں قریبی پولیس اسٹیشن جانے میں صرف دس منٹ لگتے تھے لیکن رش کے
اوقات میں آدھا گھنٹہ لگ جاتا تھا۔

چوتھے دن میں نے جسٹن کو ایک مقامی الیکٹرانکس شاپ پر بھیجا تاکہ وہ
موٹرولا 500 کے چار موبائل اور چارجر خرید سکے۔ اس کے بعد ہم دوبارہ اس
گھر کی جانب روانہ ہوگئے۔ ہماری واپسی رات کے وقت ہوئی۔ ہم نے پرل کانٹی
نینٹل میں کھانا کھایا اور خود کو چھپائے رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ہم
میں سے کوئی شخص بار کی جانب نہیں گیا جہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے
اور یہ خطرہ تھا کہ کوئی ہمارے بارے میں کچھ نہ کچھ واقفیت حاصل کرسکے۔
ہم سرجانی ٹا ¶ن میں ایک ہفتے تک تصویریں بناتے رہے جس میں عمارت اور
سڑکوں اور گلیوں کی تصویریں شامل تھیں۔ اس کے بعد ہم نے اپنی کرائے کی
کاریں سنبھالیں۔ ایک کار بچی کے دادا کے گھر کے مین گیٹ سے 20 میٹر کے
فاصلے پر پارک کی گئی تاکہ گھر میں آنے جانے والوں کی نگرانی کی جاسکے۔
دوسری پیچھے کی جانب اتنے ہی فاصلے پر کھڑی کی گئی۔ ہماری کوشش تھی کہ
کسی طرح ہم محمد اور اس کے والدین میں سے کسی ایک کو دروازے پر دیکھنے
میں کامیاب ہو جائیں۔ ہم اپنے مقامات ہر گھنٹے بعد تبدیل کرتے رہے۔ میں
اور جسٹن ایک کار میں تھے اور جوناہ اور جم دوسری کار میں تھے۔ یہ
انتہائی بور کام تھا۔ یعنی کراچی کی سخت گرم اور مرطوب ہوا میں ایک کار
میں بیٹھے رہنا، بوتل سے نکال کر کچھ پیتے رہنا اور کچھ ہونے کا انتظار
کرنا۔ ہم نے اپنا وقت ایک دوسرے سے لطیفے کہتے اور گزرنے والے راہ گیروں
پر تبصرے کرتے گزارا۔ پہلے چار دن میں نہ تو کوئی شخص اس گھر میں داخل
ہوا اور نہ کوئی باہر نکلا۔ ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کیا ہم صحیح
گھر کی نگرانی کررہے ہیں؟ میں نے جب اس بارے میں لندن ٹیلیفون کرکے ڈیوڈ
سے بات کی تو اس نے کہا کہ” یہ بچی کے دادا کے گھر کا پتہ ہے۔ میں ایک
مرتبہ میری سے گفتگو کر کے اس کی تصدیق کرچکا ہوں اور اس نے اس کے درست
ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے“۔
میں نے اگلے دن ناغہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ ہم مسلسل
وہاں بیٹھے رہے تو کوئی نہ کوئی پڑوسی ہمیں مشتبہ تصور کر کے پولیس کو
اطلاع دیدیگا۔ وقفے کے بعد ہم دوبارہ وہاں آئے لیکن اس دن بھی کوئی شخص
دکھائی نہیں دیا۔ اس سے اگلے دن جم اور جوناہ نے ایک ضعیف جوڑے کو اس گھر
کے بیرونی دروازے سے نکلتے ہوئے دیکھا جن کی شکل و صورت محمد کے والدین
کے حلیہ سے مطابقت رکھتی تھی۔ وہ کوئی آدھے میل دور بازار تک گئے اس
دوران جوناہ نے ان کی تصویریں بنالیں جو رات کے وقت ڈیوڈ کو بھیج دی
گئیں۔ اس نے یہ تصویریں میری کو دکھائیں جس نے اس کی تصدیق کر دی کہ یہ
تصویریں محمد کے والدین کے تھیں۔ اب ہم جانتے تھے کہ ہم بالکل درست گھر
کی نگرانی کررہے تھے۔ اس رات میں نے ایک شیڈول مرتب کیا۔ ہم ایسے علاقے
میں تھے جہاں ہر طرف خاموشی رہتی تھی اس لیے میری کوشش تھی کہ ہمارے
پہچان لیے جانے کا خطرہ کم سے کم ہو۔ اس لیے صبح سات بجے سے رات کے آٹھ
بجے تک ہم چاروں نے اس گھر کی نگرانی کرنے کے بجائے فیصلہ کیا۔ ایک وقت
میں صرف ایک کار وہاں موجود رہے گی اور اس کے بعد دوسری کار صبح 11 بجے
سے نگرانی کا کام کرے گی۔ نئے شیڈول کے پہلے دن جم اور جوناہ مکان کے
پچھلے گیٹ کے قریب تعینات تھے۔ کوئی تین بجے انہوں نے ایک شخص کو دیکھا
جس کا حلیہ محمد سے ملتا جلتا تھا اور وہ گھر سے نکل کر شمال میں مارکیٹ
کی جانب گیا جہاں کئی
دکانیں تھیں۔ جم نے اس کا تعاقب کیا۔ جبکہ جوناہ اس کے پیچھے کچھ فاصلے
سے پیدل چل رہا تھا۔ اس علاقے میں سیاح نہیں آتے تھے اس لیے ہمارے لوگوں
کی نظروں میں آنے کا خطرہ تھا۔ محمد ایک دکان میں داخل ہوا۔ اس نے پانی
کی بوتلیں، کھانا پکانے کا سامان اور سگریٹس وغیرہ خریدے اور اس کے بعد
اپنے گھر کی جانب واپس روانہ ہوگیا۔ جوناہ اور جم نے اس کا تعاقب نہیں
کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ کہاں جارہا ہے؟ اگلے دن جسٹن اور میں نے
صبح کے وقت نگرانی کا کام سنبھالا۔ آٹھ بجے صبح گھر کا مین گیٹ کھلا اور
محمد ایک پرانی نیلی پاکستانی کار میں باہر نکلا۔ ہم اس وقت اپنی کار میں
بیٹھے ہوئے تھے۔ جب وہ روانہ ہوا تو ہماری کار کا رخ جنوب کی طرف تھا اور
جبکہ وہ شمال کی جانب جارہا تھا۔ ہم نے اس کا تعاقب کرنے کے لیے صرف اس
بنا پر یوٹرن نہیں لیا کہ اس کو یہ احساس ہوسکتا تھا کہ یہ کار اس کے
پیچھے روانہ ہوئی ہے۔ چھ بجے شام جب ہم واپس روانہ ہونے والے تھے تو وہ
واپس لوٹا۔ اس نے کار سے ایک بریف کیس نکالا اور گھر میں داخل ہوگیا۔ ہم
نے اگلے دن پھر چھٹی کی۔ میں نے رینٹ اے کار والی فرم سے کاریں تبدیل
کیں۔ کاروں کا رنگ اور ماڈل بھی تبدیل کیا گیا۔ اگلے دن ہفتہ تھا۔ ہم نے
ایک نئے شخص کو گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں سیاہ رنگ
کا بریف کیس تھا وہ اس گھر میں ایک گھنٹے ٹھہرا رہا۔ جب وہ واپس روانہ
ہوا تو جم اور جوناہ نے اس کا تعاقب کیا۔ وہ ایک جدید دفتر کی عمارت میں
داخل ہوا۔ وہاں جاکر پتہ چلا کہ وہ ایک ڈاکٹر تھا۔ جم نے اس کی تصویریں
کھینچیں۔ اس کی نیم پلیٹ کی تصویر بھی کھینچی اور یہ سب تصویریں ہم نے
اسی رات ڈیوڈ اور میری کو بذریعہ ای۔میل بھیج دیں۔ میری کو اندازہ نہیں
تھا کہ یہ کون شخص تھا؟ ہمیں اس گھر کی نگرانی کرتے ہوئے 15 دن گزر گئے
تھے جس کے معنی یہ تھے کہ ہم دو لاکھ ڈالر خرچ کرچکے تھے۔ لیکن ہم نے
ابھی تک اس کی بیٹی ایما کی کوئی جھلک نہیں دیکھی تھی۔ دو دن کے بعد جم
اور جوناہ صبح نو بجے گھر کے مین گیٹ کی نگرانی کررہے تھے تو محمد گھر سے
باہر آیا۔ اس نے ایک چھوٹی سی بچی کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جس کا حلیہ ایما
سے مطابقت رکھتا تھا۔ اس نے اپنی کمر کی پشت پر بستہ پہنا ہوا تھا۔ وہ
پیدل چلتے ہوئے کوئی دس منٹ دور تک گئے لیکن وہیں سے واپس لوٹ آئے اور
گھر میں داخل ہوگئے۔ دس منٹ کے بعد وہ دوبارہ گھر سے باہر نکلے۔ اس مرتبہ
بچی نے ایک اور بیگ اٹھایا ہوا تھا۔ محمد نے اسے اپنی کار کی پچھلی نشست
پر بٹھا دیا اور مشرق کی جانب لیاری بستی روڈ(غالباً لیاری ایکسپریس وے)
کی جانب روانہ ہوا۔ سرجانی سے روانہ ہوکر کار گودھرا روڈ(غالباً گودھرا
کیمپ جانے والی سڑک) کی طرف مڑ گئی۔ اس کے بعد کار ایک بڑی سڑک پر آئی جس
کا نام راشد منہاس روڈ تھا۔ صبح کا وقت تھا اور سڑک پر انتہائی گنجان
ٹریفک تھا۔ جم اور جوناہ نے اپنی کار میں ان کی کار کا تعاقب کیا۔ وہ ایم
نائن(سپر ہائی وے) سے گزرنے کے بعد یونیورسٹی روڈ پر آیا جہاں بہت سارے
اسکول ہیں۔ ایک اسکول کے سامنے محمد نے کار پارک کی۔ بچی کو کار سے اتارا
اور اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک دو منزلہ سفید عمارت میں لے گیا۔ کوئی دس منٹ
کے بعد وہ واپس آیا اور اپنی کار میں بیٹھ کر شمال کی جانب روانہ ہوگیا۔
جم اور جوناہ نے اس کا تعاقب نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ کار سے اترے اور
انہوں نے اسکول کی عمارت اور آس پاس کے علاقے کی تصویریں
بنائیں۔ انہوں نے دیکھا کہ اس کنڈر گارٹن کے اسکول کے دائیں جانب ایک فٹ
پاتھ تھا جو اس کمپلیکس میں شامل دوسرے اسکولوں تک گیا ہوا تھا۔ یہ راستہ
کنڈر گارٹن کے پچھلے صحن سے گزرتا تھا جس میں بچوں کے کھیلنے کا علاقہ
بنا ہوا تھا۔ یہاں جھولے، پھسل منڈے اور دوسرے کھیل بچوں کے لیے دستیاب
تھے۔ اس راستے کو ایک کمر تک اونچی باڑ الگ کرتی تھی۔ اس باڑ میں ایک
چھوٹا سا گیٹ لگا ہوا تھا۔ جب جسٹن اور میں سرجانی میں دادا جان کے گھر
پر پہنچے تو جم اور جوناہ وہاں نہیں تھے۔ ہم نے محمد کو اپنی کار میں
یہاں آتے دیکھا۔ وہ تقریباً ایک بجے یہاں پہنچا۔ اس نے کار پارک کی اور
گھر میں چلا گیا۔ وہ تقریباً دو بجے گھر سے باہر نکلا اور اپنی کار میں
بیٹھ کر روانہ ہوا۔ ہم نے اس کا تعاقب کیا۔ وہ ابوالحسن روڈ (ابولحسن
اصفہانی روڈ)پہنچا۔ ہم نے اس علاقے کا بھی اچھی طرح جائزہ لیا۔ اس کے بعد
ہماری ملاقات جم اور جوناہ سے ہوئی۔ انہوں نے دن بھر کے واقعات سے ہمیں
آگاہ کیا۔ اس رات میں نے ڈیوڈ سے ٹیلیفون پر بات کی اور اسے دن بھر کے
واقعات کے بارے میں بتایا۔ اس نے یہ تمام باتیں میری کو بتائیں۔ اس نے
تصدیق کی کہ ہم ایما تک پہنچ گئے ہیں۔ ہماری اب تک کی کارکردگی پر ڈیوڈ
اور میری بہت زیادہ جوش میں تھے۔ ظاہر ہے وہ اب جاننا چاہتے تھے کہ ہمارا
اگلا قدم کیا ہوگا؟ میں نے کہا ”ڈیوڈ! اب ہمیں اس کا اندازہ لگانا ہے کہ
ایما دن میں کیا کرتی ہے؟ تاکہ ہم اسے اٹھانے کے لیے موزوں ترین وقت اور
جگہ کا انتخاب کرسکیں“۔ ڈیوڈ نے پوچھا ”یہ کارروائی کب تک ممکن ہے؟“ میں
نے جواب میں کہا ”میں یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ ہوسکتا ہے اس میں دو ہفتے
لگ جائیں“۔ ڈیوڈ بولا ”دو ہفتے تو بہت زیادہ وقت ہے۔ مجھے یہ بات میری کو
بتانی پڑے گی“۔ میں نے کہا ”اس کو بتادیں کہ ہم بچی کو آج بھی اٹھا سکتے
ہیں۔ کیونکہ ہمیں اس کا صرف ایک ہی موقع ملے گا ۔اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل
گیا تو پھر دوبارہ ایسا نہیں ہو پائے گا“۔ میری نے میری بات اچھی طرح
سمجھ لی۔ ہم نے ایک مرتبہ پھر اپنا نگرانی کا طریقہ اور طرز تبدیل کیا۔
بجائے اس کے کہ دو کاریں اس گھر کی نگرانی کریں صرف ایک کار اس گھر کی
نگرانی کے لیے رکھی گئی جبکہ دوسری کاراسکول کی نگرانی کے لیے بھیج دی
گئی۔ باپ اور بیٹی دو ہفتے تک اسی معمول پر عمل کرتے رہے۔ پیر سے جمعہ تک
ہر صبح آٹھ بج کر بیس منٹ پر وہ ایما کو اسکول پہنچانے کے لیے گھر سے
نکلتا اور اس کے بعد وہ دو بجے دوپہر اسے اسکول سے گھر لاتا۔ دو چیزیں
میرے سامنے آشکارا ہوئیں۔ محمد کو اپنے تعاقب کیے جانے کی کوئی پرواہ
نہیں تھی اور نہ اس نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کوئی اس کے پیچھے تو نہیں
ہے۔ اس کے معنی یہ تھے کہ وہ خود کو اپنے ملک میں قطعی محفوظ تصور کررہا
تھا اور دوسری بات یہ تھی کہ ایما اپنے باپ کے ساتھ انتہا سے زیادہ خوش
نظر آتی تھی۔ ہوسکتا ہے کہ محمد ایک اچھا شوہر نہ ہو لیکن وہ ایک اچھا
باپ ضرور تھا اور یہ بات میری مجھے پہلے ہی بتاچکی تھی۔ اب ہم نے بچی کو
اٹھانے کے لیے بہترین طریقوں کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ ظاہر ہے ہم لوگ
کسی اے ٹیم سے تعلق نہیں رکھتے تھے اور بچی کو اس کے باپ کی کار سے
اٹھانا بہت بڑی حماقت ہوتی۔ ظاہر بات تھی کہ سب سے بہترین جگہ اس کا
اسکول تھا۔ چنانچہ ہم نے اس سلسلے میں ایک منصوبہ بنانا شروع کیا۔ کنڈر
گارٹن کی کلاسوں کے درمیان مختلف وقفے ہوتے تھے۔ یہ وقفے ساڑھے نو
ساڑھے گیارہ اور سوا بجے ہوتے۔ پہلے اور تیسرے وقفوں کے لئے کوئی پندرہ
منٹ دیے جاتے۔ لیکن ساڑھے گیارہ بجے کا درمیانی وقفہ زیادہ طویل ہوتا۔
کھیل کا میدان جس میں 20 کے لگ بھگ بچے ان وقفوں میں کھیل رہے ہوتے ایک
بیرونی راستے سے ایک چھوٹے گیٹ کے ذریعہ ملا ہوا تھا۔ اس دوران دو یا تین
ٹیچرز بچوں کو دیکھ رہی ہوتیں۔ وقفے کے دوران دروازے کھلے چھوڑ دیے جاتے
تاکہ بچے آزادی سے اندر اور باہر آجا سکیں۔ کھیل کے دوران کم از کم ایک
ٹیچر صحن میں بچوں کی نگرانی کرتی۔ بعض اوقات تمام ٹیچرز اندر ہوتیں اور
وہ اندر ہی سے بچوں کو دیکھ رہی ہوتیں۔ ایما دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل کود
میں پورا لطف لیتی دکھائی دیتی تھی اور زیادہ تر وقت کھیل کے میدان ہی
میں رہتی۔ میں نے ٹیلیفون پر ڈیوڈ اور میری سے دو ممکنہ مناظر پر تبادلہ
خیال کیا۔ ہم یا تو ایما کو اس وقت اٹھانے کی کوشش کرتے جب وہ کھیل کے
میدان میں کھیل رہی ہوتی یا پھر میری اسکول کے سامنے سے اسکول میں داخل
ہوتی اور وہ ٹیچر سے کہتی کہ وہ اپنی بیٹی کو ڈاکٹر کو دکھانا چاہتی ہے
اور اسے ساتھ جانے کی اجازت دی جائے۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ ہمیں یہ قطعی
معلوم نہیں تھا کہ محمد نے اسکول کے حکام اور ٹیچرز کو اپنی سابق بیوی
میری کے ساتھ معاملات سے آگاہ کیا ہے یا نہیں۔ چنانچہ ایسی صورت میں پہلا
ہی طریقہ موزوں دکھائی دیتا تھا۔ یعنی بچی کو کھیل کے میدان سے لے جانا۔
میری نے مجھ سے دریافت کیا کہ تم کیا کرنا چاہتے ہو؟ میں نے جواب میں کہا
”تم کو کراچی جانا چاہیئے اور ہمارے ساتھ ہوٹل پرل کانٹی نینٹل میں
ٹھہرنا چاہیئے۔ ہم تم کو روزانہ اسکول لے کر جائیں گے اور کسی بہتر موقع
کا انتظار کریں گے۔ میری نے میری تجویز قبول کرلی۔ میری جب کراچی پہنچی
تو میں نے اسے نقشوں اور تصویروں کی مدد سے اپنے کام کی تفصیلات بتائیں۔
میں نے اسے بچی کے دادا کے گھر کی تصویریں دکھائیں۔ نقشے میں اس روڈ کے
بارے میں بتایا جو محمد اسکول آنے جانے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ اس کے
علاوہ کنڈر گارٹن کے اسکول کا پاتھ اور بچوں کے کھیل کا علاقہ بھی
دکھایا۔ اس کے علاوہ میں نے اسے بتایا کہ بچی کو اٹھانے کے بعد ہم کس
راستے سے برطانوی قونصل خانے تک جائیں گے۔ وہ یہ منصوبہ بندی سن کر خوش
ہوگئی۔ اس وقت مجھے اچانک یاد آیا کہ میں نے ابھی تک ایما کے پاسپورٹ کے
معاملے کو نظر انداز کیا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا کہ کیا بچی کا پاسپورٹ اس
کے پاس ہے؟ اس نے جواب میں کہا کہ نہیں۔ پاسپورٹ تو محمد کے پاس ہے۔ یہ
سن کر میں نے خود کو دنیا کا احمق ترین شخص تصور کیا۔ میں نے اس سے کہا
کہ پھر یہ کام کس طرح ہوگا؟ برطانوی قونصل خانے میں داخل ہونے کے لیے
ایما کے پاس پاسپورٹ ہونا ضروری ہے۔ اندر داخل ہونے کے لیے یہ ثابت کرنا
پڑے گا کہ وہ برطانوی شہری ہے۔ اسی طرح ہوائی جہاز پر سفر کرنے کے لیے
بھی ضروری تھا کہ بچی کا پاسپورٹ موجود ہو“۔
”آپ پریشان نہ ہوں“ میری نے کہا”میں نے اس کا انتظام کرلیا ہے“۔
”کیسے؟“۔ میرا گلا سوال تھا۔
میرے دوستوں نے قونصل خانے کے افسران کو تیار کرلیا ہے کہ جب ضرورت ہو وہ
قونصل خانے کے گیٹ پر موجود ہوں۔
جب ہم اندر داخل ہوجائیں گے۔ وہ ایما کو ایک عارضی پاسپورٹ جاری کردیں
گے اور ا سکے بعد اپنی سفارتی نگرانی میں ائر پورٹ تک لے جائیں گے“۔
”کیا آپ کو یقین ہے، اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی“۔ میں نے کہا،”اگر
قونصل خانے کا کوئی افسر ہمیں لینے گیٹ پر موجود نہ ہوا تو ہم سب پکڑے
جائیں گے“۔
”آپ فکر نہ کریں“وہ بولی”ہماری تیاری مکمل ہے“۔
اگلی صبح میری نے ہوٹل کا کمرہ خالی کیا۔ ہم نے اس کا سوٹ کیس اپنی کاروں
میں سے ایک میں ڈالا اور اسکول کی جانب روانہ ہو گئے۔ میں نے میری سے کہا
کہ جب وہ ایما کو دیکھے تو خود کو مکمل طور پر پرسکون رکھے اور کسی
جذباتی ردعمل کا مظاہرہ نہ کرے۔ اس نے مجھے اس کی یقین دہانی کرائی۔
جب محمد ایما کے ساتھ اسکول پہنچا تو ہم اسکول کے قریب ایک گلی میں پارک
کی ہوئی کار کے اندر بیٹھے تھے۔میری اپنے وعدے کے مطابق بالکل پرسکون
تھی۔ جب9.30 پر کھیل کا پہلا وقفہ ہوا تو میں میری کو کھیل کے میدان کی
جانب لے گیا۔ ایما ایک چھوٹی پلاسٹک سلائڈ کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی اور
دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل میں اپنی باری کی منتظر تھی۔ اس وقت ایک ٹیچر
بچوں کی نگرانی کررہی تھی۔ ٹیچر کو دیکھتے ہی میں نے میری سے کہا،”ابھی
نہیں“۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ایما اپنی ماں کو دیکھ کر فرط جذبات میں بے
قابو ہوجائے اور چلانے لگے۔اس لئے میں میری کو واپس کار تک لے گیا۔ اب
ہمیں کھیل کے دوسرے وقفے تک انتظار کرنا تھا جو 11.30 بجے ہوتا۔ ہم نے
ساڑھے گیارہ بجے ایک مرتبہ پھر ایک ٹیچر کو نگرانی کرتے دیکھا۔ آخری وقفہ
سوا بجے ہوا اور ہمیں اس وقت بھی موقع نہ مل سکا ´۔ اس لئے ہم واپس ہوٹل
پرل کانٹی ننٹل آگئے۔ میری نے ایک مرتبہ پھر کمرہ لے لیا۔اگلا دن ہفتہ
تھا۔ اسکول کی چھٹی تھی۔ ہم نے پورا دن ہوٹل میں گزارنے کا فیصلہ کیا
بجائے اس کے کہ ہم شہر میں گھومتے یا کہیں تفریح کرتے۔ایسی صورت میں
ہمارے کھل جانے کا خطرہ موجود تھا اس لئے ہم خود کو ہوٹل کے کمروں میں
چھپائے رہے۔پیر کے دن بھی ہمیں بچی کو اٹھانے کا موقع نہ مل سکا کیونکہ
ٹیچرز کھیل کے میدان میں نگرانی کررہی تھیں۔ منگل کا دن بھی اسی طرح گزر
گیا۔
میری اب بے چین ہو رہی تھی۔ اسے روزانہ ہوٹل سے صبح کے وقت چیک آو ¿ٹ
ہونا پڑتا اور شام کو دوبارہ چیک ان ہوتی۔ سب سے زیادہ صبر آزما مرحلہ یہ
تھا کہ وہ روزانہ اپنی بیٹی کو دیکھتی تھی لیکن نہ اس سے بات کرسکتی تھی
اور نہ اسے گلے سے لگا سکتی تھی۔ میں نے اس کے سامنے وضاحت کی کہ ان
کاموں میں کتنے صبر اور تحمل کی ضرورت ہوتی تھی۔ ہمیں ایما کو اٹھانے کا
صرف ایک موقع ملنا تھا اور وہ کسی بھی وقت ہوسکتا تھا۔
بدھ کی صبح 9.30 بجے جسٹن کھیل کا میدان دیکھنے گیا۔ چند منٹ کے بعد اس
نے بتایا کہ دو ٹیچرز کلاس روم میں اپنی ڈیسکوں پر بیٹھی ہیں اور کاپیاں
چیک کررہی ہیں اور کھیل کے میدان میں کوئی ٹیچر موجود نہیں ہے۔ میری
فوراً جسٹن کے ساتھ کار سے
باہر نکلی اور پاتھ وے کی جانب روانہ ہوئی۔ میں کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر
بیٹھا رہا۔ انہوں نے ایما کو ریت کے ایک مصنوعی ٹیلے کے قریب کھڑے ہوئے
پایا۔ جسٹن نے ایما کی جانب دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا اور باڑ میں لگا
ہواچھوٹا گیٹ کھول دیا۔میری ایک قدم آگے بڑھی اور ایما کا نام پکارا۔
ایما نے ادھر ادھر دیکھا۔ اس کو اپنا نام پکارنے والا کوئی شخص دکھائی
نہیں دے رہا تھا۔چنانچہ میری ایک قدم اور آگے بڑھی اور اس نے ایما کو
دوبارہ پکارا۔ اس مرتبہ ایما نے اسے دیکھ لیا۔ وہ اپنی جگہ سے بھاگی اور
اپنی ماں کی بانہوں میں جھول گئی۔ میری نے اس سے کہا،”میں صرف تم کو
دیکھنے آئی ہوں“۔ میری اور ایما باہر نکلے اور کار کی جانب بڑھے ۔ اس
دوران جسٹن انہیں تحفط دینے کے لئے پیچھے موجود رہا۔ انہیں آتے دیکھ کر
میں جلدی سے کار سے اترا اور پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول دیا۔ایما اور میری
کار میں بیٹھ گئے۔ جسٹن دوسری سیٹ پر بیٹھا۔ میں نے یو ٹرن لیا اور کار
چلا دی۔ ہمارے پیچھے دوسری کار میںجوناہ اور جم تھے اور ہمیںکور دے رہے
تھے تاکہ کوئی ہمیں روکنے کی کوشش نہ کرسکے۔ہم لیاری بستی روڈ(غالباً
لیاری ایکسپریس وے) پر پہنچے اور تیزی سے برطانوی قونصل خانے کی طرف
روانہ ہو گئے۔ اس دوران میری نے ایما کو بتایا کہ ہم لندن جارہے ہیں تاکہ
تمہاری نانا نانی سے ملاقات ہوسکے۔نا سمجھ بچی بہت خوش نظر آرہی تھی۔کچھ
دیر کے بعد اسے اپنے باپ کا خیال آیا۔ وہ بولی،”اور پھر ڈیڈی کب آئیں گے؟
۔
میری نے پرسکوں لہجے میں کہا۔”ڈیڈی بعد میں لندن پہنچیں گے“۔ ایما یہ سن
کر خوش ہوگئی۔
میں نے کار قونصل خانے کے مین گیٹ سے کوئی ایک سو میٹر دور روک دی۔جسٹن
میری کے سوٹ کیسز نکالنے پیچھے ڈکی کی جانب گیا جبکہ میں میری اور ایما
کے ساتھ آگے بڑھا۔ ہم آہستہ آہستہ چل رہے تھے تاکہ کوئی ہماری طرف توجہ
نہ دے۔ میری سیکیورٹی گیٹ پر بنے ہوئے بلٹ پروف شیشے کے دروازے پر رک گئی
جہاں محافظ کھڑے تھے پھر میری طرف مڑ کر بولی،”آپ کا بہت بہت شکریہ“۔
”آپ کو یقین ہے کہ یہاں کوئی افسر آپ کے استقبال کے لئے موجود ہوگا“۔ میں نے پوچھا۔
ابھی میری زبان سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ ایک شخص سیکیورٹی گیٹ سے باہر
آیا۔ اس نے میری کا خیر مقدم کیا اور پاسپورٹ چیک کیا پھر دونوں کو ساتھ
اندر لے گیا۔ میں نے میری کو اپنا سیل فون نمبر دیا ہوا تھا اور اسے
ہدایت کی تھی کہ وہ واپسی کے وقت ائر پورٹ ایمیگریشن سے گزرنے کے بعد
مجھے اطلاع دے۔ اس کے بعد میں جسٹن، جوناہ، اور جم ہوٹل واپس آگئے۔وہاں
ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا اور انتظار کرنے لگے۔ دوپہر کے بعد شام 4.30
پر میری کا فون آیا اور اس نے کہا،”سائمن! ہم ائر پورٹ پر ہیں۔ ہم تمام
کارروائی مکمل ہونے کے بعد جہاز میں بیٹھے ہیں اور جہاز پرواز کرنے والا
ہے“۔
”زبردست“ میں نے جواب میں کہا۔ اس کے بعد میں نے ڈیوڈ کو فون کیا اور
بتایا کہ میری اور ایما بہت جلد فضا میں ہوں گے۔میں نے اس کو یہ بھی
بتایا کہ ہم رات کراچی میں گزاریں گے اور صبح کراچی سے روانہ ہوں گے۔ اس
کے بعد میں نے
برٹش ائر ویز کو فون کیا اور اگلے دن 1300 پرواز کے لئے بزنس کلاس کے
چار ٹکٹ بک کرالئے۔
ایک ہفتے کے بعد میں لندن میں ڈیوڈ کے دفتر میں میری سے ملا۔ وہ اس وقت
مایوس نظر آئی جب اس نے دیکھا کہ میرے دیگر ساتھی موجود نہیں تھے۔ وہ ہم
سب کا ایک ساتھ شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی۔ اس آپریشن کو مکمل ہونے میں
ایک ماہ لگا اور یہ کافی مہنگا تھا۔لیکن میری کا کہنا تھا کہ یہ بے حد
قیمتی تھا۔
اس آپریشن سے مجھے سبق ملا کہ دولت مند ہونے اور اہم مقامات پر دوستوں کی
موجودگی کے ہمیشہ فائدے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد میری سے کبھی ملاقات نہیں
ہوئی اور میں یہ سوچ کر حیران ہوتا رہا کہ ایما کے اسکول سے غائب ہونے کے
بعد وہاں کیا ہوا ہوگا؟ کیا محمد نے اس کی اطلاع پولیس کو دی ہوگی؟ یا اس
نے دوبارہ میری سے رابطہ کیا ہوگا؟ اور اس سے درخواست کی ہوگی کہ وہ اسے
ایما سے ملنے دے۔ میری جس طرح کی شخصیت تھی اس لئے مجھے امید تھی کہ اس
نے محمد کو اپنی بیٹی سے ملنے کی اجازت دے دی ہوگی۔لیکن میں کوئی بات
یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ اس نوعیت کے ذاتی آپریشنوں میں بہت سے سوالات کے
جوابات نہیں مل پاتے۔ مجھے اگلا سبق یہ ملا کہ ایک کرائے کے کنٹریکٹرز کے
طور پر معقول رقم کے بدلے جو کچھ میں نے کیا درست تھا حالانکہ میرے پاس
اس کا کوئی اخلاقی جواز نہیں تھا۔(ختم شد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

eight + one =