نشنان نہیں چھوڑنا – ایک نجی فوجی کنٹریکٹر کی سچی سنسنی خیز کہانی – پارٹ 2

’زیرو فٹ پرنٹ‘ نجّی فوجی کنٹریکٹر کی چونکا دینے والی خود نوشت ہے۔ اس
میں سے ایک کہانی ہم نے فروری میں شائع کی تھی۔ جس میں کراچی کے ایک
اسکول میں زیرِ تعلیم 7سالہ لڑکی کو برطانوی ماں کے کرایے کے کنٹریکٹر
اغوا کرکے لے جاتے ہیں۔ کراچی کی پولیس کو پتہ چلتا ہے نہ ایف بی آئی کو۔
اس بار کہانی قطر سے تعلق رکھتی ہے۔ جہاں کے دو شہزادوں نے اپنے باپ کو
تخت سے معزول کرنے میں ان کنٹریکٹرز کی خدمات خطیر معاوضے پر حاصل کیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مختلف شخصیتوں کے لیے کام کرنے والے یہ کنٹریکٹر ایک
دوسرے کے خلاف کام کررہے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا آپس میں رابطہ رہتا ہے۔
عرب شیوخ کی دولت امریکیوںبرطانویوں کے کس طرح کام آتی ہے۔ یہ ملاحظہ
کیجئے۔ اور ماتم کیجئے ۔ امت مسلمہ کی دانش پر۔

سرخیاں
قطر کے بادشاہ کو معزول کرنے کیلئے اسکے بیٹوں نے ہماری مدد حاصل کی
جس رات لیبیا میں امریکی سفیر مارا گیا مجھے بن غازی جانا پڑا
دونوں مخالف ٹیموں کے افراد ایک ساتھ بیٹھ کر بیئر پی رہے تھے
لندن میں ہمارے لیے 5اسٹار ہوٹلوں کی پوری منزلیں بک کروائی جاتیں
خبر ملی کہ ہمارے باس کا باپ سابق شاہ پھر اقتدار چھیننے کی کوشش کررہا ہے
شہزادہ عبداللہ کا باپ ہر وقت نشے میں دُھت رہتا تھا
شہزادہ عبداللہ کی ایک بیوی اپنے حُلیے سے فلمی اداکارہ لگتی تھی
صفائی کرنے والی عورت آتی تو ہم کمرے کی الماریوں میں چھُپے رہتے
قطر کا وزیر خارجہ وزیر اعظم کا تختہ اُلٹنے کی سازش کررہا ہے
قطری ایلیٹ فورس کے پاس یونیفارم نہیں تھی
ایک کے پاس یونیفارم تھی۔ فوجی بوٹ نہیں تھے۔ جو اسکے بھائی نے لے لیے تھے

اگر آپ کا واسطہ ایسے ملکوں مثلاً عراق، افغانستان، صومالیہ، پاکستان یا
شام سے نہیں پڑا تو آپ ان ملکوں میں جاری صورتحال کا تھوڑاسا صحیح تصور
بھی نہیں کرسکتے ۔ جس طرح کے حالات کا ہمیں قطر میں سامنا ہوا وہ بے حد
عجیب لیکن دلچسپ تھے۔ہمیں بعض اوقات ایسے مشنوں کی انجام دہی کے لیے طلب
کیا جاتا تھا جو ڈیلٹا فورس یا سیل ٹیم۔6 سے بھی زیادہ خفیہ تھے۔ ہمارے
ساتھ ان مہمات میں کبھی کبھار ہی خواتین شامل ہوتی تھیں ورنہ زیادہ تر یہ
ٹیمیں مردوں پر مشتمل ہوتی تھیں جو انتہائی تیز رفتاری سے کاریں چلاتے،
گھوڑوں کی طرح کام میں جتے رہتے اور انہیں طویل عرصوں تک اپنے گھروں کو
واپس جانے کا موقع نہ ملتا۔ ہمیں اپنے پڑوسیوں سے گھلنے ملنے سے اجتناب
کرنے کی ہدایت تھی۔ آپ میں سے کچھ لوگ شبہ کرسکتے ہیں کہ شاید ہم کوئی
جاسوس ہیں، سابق مجرم یا منشیات فروش ہیں۔ ہم حقیقت میں نجی فوجی
کنٹریکٹرز ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہم بہت سارے ایسے خفیہ مشن انجام دیتے
ہیں جن کے دوران ہمیں فوج کی کوئی مدد حاصل نہیں ہوتی لیکن ہم فوج ہی کے
لیے خدمات انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ خدمات فوج کے بجائے کچھ
دولتمند افراد کے لیے بھی ہوسکتی ہیں جو ہمیں ہماری خدمات کا خطیر معاوضہ
ادا کرتے ہیں۔ ہم جیسے کارندے لاکھوں کی تعداد میں امریکہ میں مختلف
کمپنیوں کے لیے کام کررہے ہیں۔ ان کمپنیوںکے نام جی فور ایس، ڈائن کور،
یونٹی ریسورسز گروپ، ایرینس، ٹریپل کینوپی اور ایجس ڈیفنس سروسز ہیں۔ یہ
کمپنیاں بعض ایسے گندے اور خطرناک کاموں کے لیے ہماری خدمات حاصل کرتی
ہیں جو ملٹری یا انٹلی جینس سروسز بھی انجام نہیں دے سکتیں یا وہ انجام
دینا نہیں چاہتیں۔ ہم میں سے کچھ کا تعلق سیلز، ڈیلٹا فورس، میرینز یا
آرمی رینجرز کے سابق ٹیئر ون آپریٹرز سے ہے جن کا وسیع جنگی تجربہ ہوتا
ہے۔ خود میں نے برٹش رائل میرینز، برٹش اسپیشل فورسز اور اسپیشل بوٹ سروس
(ایس ڈی ایس) میں 15 سال خدمات انجام دیں۔ ہمارا کام دہشت گردوں کے لگائے
ہوئے بموں کو غیر موثر بنانا، معزز شخصیات کی حفاظت کرنا، خطرناک علاقوں
میں سفر کرنے والے قافلوں کی حفاظت کرنا، منشیات فروشوں سے جنگ لڑنا، تیل
کی تنصیبات کی حفاظت کرنا، جاسوسی کرنے والے طیارے اڑانا، فوجی جنگی
تیاروں اور آلات کی دیکھ بھال کرنا ہوتا ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں
افغان اور شامی باغیوں کے ساتھ لڑتا رہا ہوں۔ میں نے پاکستان میں بہت سے
مغویوں کو چھڑانے کی کارروائی میں حصہ لیا۔ صومالی قزاقوں سے جنگ لڑی،
بغداد کی سڑکوں پر جنگ و جدال میں شریک رہا اور القاعدہ کے انتہائی اہم
اہداف کو تلاش کرنے کی مہم میں شریک رہا جن میں اُسامہ بن لادن بھی شامل
تھا۔ اس کے علاوہ میں نے امریکی حکومت کے لیے کئی زیرو فٹ پرنٹ مشن انجام
دیے۔ زیرو فٹ پرنٹ سے مراد ایسے مشن ہیں کہ جن کو اس طرح انجام دیا جائے
کہ آپ اپنے پیچھے اپنا کوئی نام و نشان باقی نہ چھوڑیں۔ ایسے ہی ایک زیرو
فٹ پرنٹ مشن کے لیے مجھے 11 ستمبر 2012 کو اس رات بن غازی جانا پڑا جس
رات سفیر کرسٹوفر اسٹیونز اور تین دیگر امریکی مارے گئے تھے۔ یہ ایک
انتہائی خطرناک مشن تھا جو فوج سے لے کر ہمارے حوالے کیا گیا اور اس مشن
میں آخرکار ہم لوگ ہیرو قرار دیے گئے۔ نجی آپریٹر کے طور پر ہمیں عجیب و
غریب اور پراسرار سایوں کی طرح رہنے والی شخصیت یا کرائے کا سپاہی تصور
کیا جاتا ہے کہ جو ڈالر یا پونڈ کمانے کے لیے کوئی بھی کام کرسکتے ہیں
خواہ یہ کام اخلاق سے عاری ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن ہم زیادہ تر اسی قسم کے
کام حکومتوں کے لیے بھی اچھی تنخواہ پر انجام دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے لیے
ترغیب کا سبب مثالی معاوضہ یا سہولتیں ہوتی ہیں۔ بطور نجی فوجی کنٹریکٹر
ہم کسی قسم کی سرکاری مدد یا فضائی تحفظ یا عوامی شاباش کے بغیر مشکل
ترین اور جان لیوا خدمات انجام دیتے ہیں۔ بلکہ یوں سمجھ لیں کہ بعض اوقات
ہم جو کارنامہ انجام دیتے ہیں اس کے لیے شاباش ہم کو نہیں ملتی لیکن فوج
کی نیک نامی بڑھتی ہے اور اگر ہم ایسے مشنوں میں مارے جائیں تو فوج عزت
کے ساتھ یا پورے اعزاز کے ساتھ ہماری تدفین کرتی ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق
امریکہ اور برطانیہ میں ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا گمنام سپاہی یا
گمنام ہیرو تصور کیا جاتا ہے۔
بطور نجی ملٹری کنٹریکٹر میرے کیریئر کا آغاز 1999 میں لندن میں ایک بلیک
کیب (ٹیکسی) کے سفر کے دوران ہوا۔ میرے ساتھ میرا ساتھی پیٹ بھی تھا۔ اس
دوران میرا سب سے پہلا اسائنمنٹ سڑکوں پر کیٹ واک کرنا تھا۔ یہ میرے لیے
بطور کنٹریکٹر ایک ابتدائی مشن تھا جب میں ایک اعتبار سے رسی کودنا سیکھ
رہا تھا۔ ہمیں اپنے اندر اپنے مشن کے دوران آئندہ پیدا ہونے والے اخلاقی
مسائل سے نمٹنے کی حس پیدا کرنا تھا۔ ہم میں سے کسی کا قد پانچ فٹ نو انچ
سے کم نہیں تھا۔ میں پیدل چلنے میں مہارت رکھتا تھا اور پیٹ میرا ساتھی
ایسا شخص تھا جس سے زیادہ سخت جان میں نے کسی کو نہیں پایا۔ اس نے بطور
یو ایف سی فائٹر تربیت حاصل کی تھی۔ ہم دونوں کا تعلق برطانیہ کے علاقے
جووی سے تھا۔ یہاں سے ہم رائل میرینز میں بھرتی ہوئے۔ برطانوی فوج میں 15
سال خدمات انجام دینے کے بعد اب ہم پورٹ سمتھ سے ایک ٹیکسی میں لندن
جارہے تھے لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ہمیں آئندہ کیا کرنا ہے؟ اچانک
میرا بدصورت این ای سی۔100 سیل فون بج اٹھا۔ دوسری جانب مروین تھا جو
ہمارا سابق فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹر تھا۔ اس نے ایس بی ایس میں شمولیت
اختیار کرلی تھی۔ ایس بی ایس درحقیقت برطانوی اسپیشل ایئر سروس (ایس اے
ایس) کی بحری شریک کار فورس تھی۔ میں خود بھی یہاں خدمات انجام دیتا رہا
تھا۔ مروین نے پوچھا ”سائمن تم آجکل کیا کررہے ہو؟ کیا تم اب بھی آر ڈی
پی میں ہو؟“ آر ڈی پی کے معنی فوج سے علیحدگی کے بعد وہ چار ماہ کی مدت
کہلاتی تھی جو برطانوی فوج شہری زندگی گزارنے کے لیے اپنے ملازمین کو
دیتی تھی۔ میں نے اسے بتایا کہ ہم بس یوں ہی ادھر ادھر مٹر گشت کررہے ہیں
اور ہمیں مستقبل میں کیا کرنا ہے اس کا کوئی تصور نہیں ہے؟ اُس نے بتایا
کہ وہ قطر میں ہے اور نائیجل آر کے لیے کام کررہا ہے۔ نائیجل آر سابق
ایلیٹ رائل میرینز میں میرا سابق کمانڈنگ آفیسر تھا۔ وہ کرشماتی شخصیت کا
مالک تھا اور اس کی عمر 50 تا 60 سال کے درمیان تھی۔ وہ 42 کمانڈو کا
کمانڈر رہ چکا تھا جس نے 1982 میں فاک لینڈ کی جنگ میں اہم کردار ادا کیا
تھا۔ مروین نے مجھے بتایا کہ نائیجل اس وقت ایک کمپنی چلا رہا ہے جس کا
نام ایس ای آر اے سی لمیٹڈ ہے۔ میں نے اس کمپنی کا نام اس سے پہلے کبھی
نہ سنا تھا۔ نائیجل اور بعض دیگر کمانڈوز جن میں گولی گرے، ٹاپ سی ٹرنر
اور باب مرلی شامل تھے اب قطر میں تھے۔ یہ سب برطانوی فوج میں رہ چکے تھے
اور انہوں نے اپنی 20 تا 30 سال کی عمروں کے دوران ایک ساتھ کام کیا تھا۔
مروین نے بتایا کہ ان لوگوں کی مدد سے 1995 میں انہوں نے قطر کے سابق
بادشاہ کو تخت سے معزول کرنے میں مدد دی تھی۔ یہ ایک ایسا انقلاب تھاجس
میں خون کا ایک قطرہ بھی نہ بہا ۔ سابق بادشاہ کو معزول کردیا گیا اور اس
کی جگہ اس کے دو شہزادے اقتدار میں آگئے۔ ان میں سے ایک وزیراعظم اور
دوسرا وزیر خارجہ بن گیا۔ مروین نے بتایا کہ ”ہم شیخ عبداﷲ بن خلیفہ
الثانی کے لیے کام کررہے ہیں جو وزیراعظم ہے۔ ہم نے اسے اقتدار میں آنے
میں مدد کی اور وہ اب چاہتا ہے کہ جب وہ دنیا بھر کے سفر پر نکلے تو ہم
اس کی حفاظت کریں۔ اس کے علاوہ قطر کی مقامی فوج کی تربیت میں ہم اس کی
مدد کریں“۔
جب میں برطانوی فوج میں تھا تو میں نے بہت سارے پرسنل پروٹیکشن کورسز کیے
تھے۔ میں اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں رہا تھا لیکن میں نے
اس سے پہلے قطر میں کبھی قدم نہیں رکھا تھا۔ مروین نے بتایا کہ اگر ہم اس
کے لیے کام کرنے کو تیار ہیں تو اس کا بہترین مشاہرہ ملے گا اور ہماری
تعداد دس کے لگ بھگ ہوگی۔ہم نے یہ پیش کش قبول کرلی۔ کچھ دنوں کے بعد ہم
مشرق کی جانب پرواز کررہے تھے۔ قطر عرب دنیا کے انتہائی قدامت پسند اور
چھوٹے ملکوں میں سے ایک تھا۔ قطر کا قومی کھیل عقاب پالنا اور اونٹوں کی
ریس تھی۔ قطر دنیا کے انتہائی دولتمند ملکوں میں سے ایک تھا کیونکہ یہاں
تیل اور گیس کے بڑے ذخائر تھے۔ دوہا قطر کا دارالحکومت تھا جہاں مئی سے
اکتوبر تک درجہ حرارت 100 درجے تک رہتا تھا۔ ہم مغربی کمپا ¶نڈ میں ایک
ولا میں رہتے تھے جس میں سوئمنگ پول، جمنازیم اور ٹینس کورٹ بھی تھے۔
ہمیں حکومت کی جانب سے ہر چیز فراہم کی گئی تھی جس میں خوراک، مشروبات
اور کاریں شامل تھیں۔ ہمارے پڑوس میں ایک اور ولا تھا جس میں شمیٹر
سیکورٹی لندن کی ٹیم مقیم تھی۔ قطر کے وزیر خارجہ کے لیے حفاظتی خدمات
انجام دینا اس ٹیم کی ذمہ داری تھی۔ ایس ای آر اے سی (سیرک) اور شمیٹر کی
ٹیموں کے تمام ممبران ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ قطر ایک اسلامی ملک تھا
جہاں شراب نوشی پر سخت پابندی تھی۔ لیکن بعض غیرملکی اداروں کے کمپا ¶نڈز
میں بار قائم تھے اور ہم چوری چھپے وہاں جایا کرتے تھے۔ ایک دوپہر کو جب
ہم ایسے ہی ایک خفیہ بار میں شراب اور کباب سے لطف اندوز ہورہے تھے تو
شمیٹر کی ٹیم کے ایک ممبر ڈیو نے ہمیں بتایا کہ ”قطر کا وزیرخارجہ
وزیراعظم کا تختہ الٹنے کی سازش کررہا ہے“۔ یہ سن کر مجھے اپنے کانوں تک
حرارت محسوس ہونے لگی۔ میں نے اس سے پوچھا ”کیا تم یہ بات یقین سے کہہ
سکتے ہو؟“ ”یقینا، ہم آئندہ ہفتے تمہارے باس کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی
کوشش کریں گے“۔وہ بولا۔
میں نے ڈولی کی جانب دیکھا جو ہماری ٹیم کا لیڈر تھا۔ ڈولی نے اس کے
جواب میں ڈیو سے کہا کہ ”ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے“۔ کتنی دلچسپ بات تھی
کہ دونوں ٹیموں کے افراد ایک ساتھ بیٹھ کر بیئر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے
گپ شپ کررہے تھے اور دونوں بھائی یعنی الثانی برادران ہم لوگوں کو ایک
دوسرے کے خلاف جدید خودکار ہتھیاروں سے لڑنے پر مجبور کرنا چاہتے تھے۔
ظاہر سی بات ہے کہ ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیتے۔ میرے جیسے ایک نئے شخص
کے لیے یہ سب بے حد عجیب تھا۔ ایک نئے نجی فوجی کنٹریکٹر کے لیے یہ پہلا
سبق تھا۔ درحقیقت اس سبق میں مجھے بتایا گیا کہ اپنے ساتھیوں کے انتہائی
قریب رہو اور باہمی اعتماد حاصل کرو۔ کیونکہ صرف تمہارے ساتھی ہی تمہاری
مضبوطی کا سبب ہوں گے۔
ہمارا سب سے پہلا کام مقامی سپاہیوں پر مشتمل ایک فوجی یونٹ کو تربیت
دینا تھا جو قطر کے وزیراعظم لیے حفاظتی فرائض انجام دے سکے۔ مشرق وسطیٰ
میں کسی بھی لیڈر کے لیے اسے کمزوری تصور کیا جاتا تھا کہ وہ اپنی حفاظت
کے لیے غیرملکیوں کی خدمات حاصل کرے۔ ہمیں مقامی قطری یونٹ کی تشکیل کا
کام ایک قطری کمانڈر کی مدد سے کرنا تھا۔ اس کا نام مصرف تھا جو براہ
راست وزیراعظم سے ملاقات کرسکتا تھا۔ ہم نے آٹھ ہفتے کا ایک تربیتی
پروگرام تیار کیا۔ اس نوعیت کا پروگرام برطانوی رجمنٹ میں بھی ہوا کرتا
تھا۔ اس دوران چھوٹے فوجی یونٹوں کی ٹیکٹس، انسداد بغاوت، مخالفین کی
سازشوں کو ناکام بنانا اور دشمنوں کی جاسوسی و نگرانی کی تربیت شامل تھی۔
قطر کی ایلیٹ اسپیشل فورسز سے قطری فوجیوں کا انتخاب کیا گیا۔ میں اگرچہ
عربی زبان جانتا تھا لیکن میں نے ایک مقامی مترجم کی خدمات حاصل کیں تاکہ
ان قطری فوجیوں کو پڑھانے میں آسانی ہو۔ پہلی صبح میں ٹریننگ روم کے باہر
کھڑا تھا۔ میرے ہاتھ میں کافی کا کپ تھا۔ میرے سامنے ریت، کیڑے مکوڑوں
اور جھاڑ جھنکاڑ کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس وقت جن 20 قطری فوجیوں کی تربیت
کا آغاز ہونا تھا ان میں سے ایک بھی حاضر نہیں تھا۔ میں نے مصرف سے پوچھا
کہ تمہارے آدمی کہاں ہیں؟ اس نے بتایا کہ وہ سب مقامی مسجد میں نماز پڑھ
رہے ہیں اور بہت جلد یہاں آجائیں گے۔ ظاہر ہے برطانیہ میں ایسانہیں ہوتا۔
قطری فوجی نماز کے بعد جمع ہونا شروع ہوئے۔ ان میں سے کوئی فوجی یونیفارم
میں نہیں تھا۔ شاید ان کو یونیفارم فراہم ہی نہیں کئے گئے تھے۔ ان میں سے
ایک پرانی مانچسٹر یونائیٹڈ ٹی شرٹ پہنے تھا۔ دوسرا فوجی دانتوں سے محروم
تھا۔ چوتھا فوجی اپنی بکریوں کے ساتھ تربیت کے لئے یہاں آیا تھا۔ بہت سے
فوجی پلاسٹک کی تھیلیاں اٹھائے تھے جن میں ان کا کچھ نہ کچھ سامان تھا۔
ان میں سے کسی کے پاس بھی فوجی یونیفارم نہیں تھا۔ میں نے مصرف سے پوچھا
”کیا یہ لوگ آپ کی ایلیٹ ملٹری سے تعلق رکھتے ہیں؟“ اُس نے اثبات میں سر
ہلایا اور کہا ”جی ہاں“۔
میں اس کی بات پر حیران رہ گیا۔ میں نے پھر ایک مرتبہ دریافت کیا ”کیا
انہوں نے فوجی ملازمت کی ہے؟ اور کیا ان کی کوئی جنگی تربیت ہوئی ہے؟“
مصرف نے جواب میں کہا ”جی ہاں“۔ یہ بات واضح تھی کہ اب سب سے پہلے ہمیں
ان کو یونیفارم فراہم کرنے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں سکھانا تھا کہ وہ
اپنے فوجی یونیفارم کی کیا دیکھ بھال کریں؟ ان کی دھلائی کس طرح کریں اور
انہیں استری کر کے کس طرح تہہ کریں؟ تربیت کے دوسرے دن ان 20 قطری فوجیوں
میں سے پانچ غیر حاضر تھے۔ جب ان کو تلاش کیا گیا تو انہوں نے جواب میں
کہا کہ ”انہیں نہیں معلوم تھا کہ انہیں آج بھی آنا ہے“۔ جو فوجی یہاں آئے
تھے انہوں نے بھی یونیفارم نہیں پہنے تھے۔
ایک دفعہ پریڈ کے گرا ¶نڈ میں میں نے ایک قطری فوجی کو دیکھا جو
یونیفارم پہنے تھا لیکن ننگے پیر تھا۔ میں نے اس سے پوچھا ”تمہارے بوٹ
کہاں ہیں؟“ اس نے جواب میں کہا کہ ”وہ میرے بھائی نے لے لیے ہیں۔“ میں نے
جواب میں پوچھا ”اس کے بھائی نے بوٹ کیوں لے لیے؟“ اس نے بتایا ”اس کے
پاس پہننے کو جوتے نہیں ہیں“۔ اس کے بعد ہم نے ہدایت جاری کی کہ ہر
زیرتربیت قطری فوجی کو مکمل ملٹری کٹ میں رہنا ہوگا۔ اُسے اپنے سر پر جی
آئی ریسپی ریٹر پہننا ہوگا۔ یہ اُس قسم کا خود ہوتا ہے جس میں سر اور منہ
اندر چھپ جاتا ہے اور مختلف گیسیں اور فضائی ذرات اندر داخل نہیں ہوسکتے۔
اُس وقت تک ہم نے انہیں یہ نہیں بتایا تھا کہ اس جی آئی کو کس طرح
استعمال کرنا ہے؟ اگلی صبح ہم نے دیکھا کہ ان میں سے ایک شخص اپنا ریسپی
ریٹر پہنے کھڑا ہے۔ حالانکہ اسے پہننے کی ہدایت نہیں دی گئی۔ دوسرے شخص
نے اسے اُلٹا پہن رکھا تھا۔ جسمانی تربیت کا پروگرام زیادہ سخت نہیں تھا۔
ہمیں ان فوجیوں کی ایک حد تک چستی کی ضرورت تھی تاکہ قطری فوجیوں کے یہ
یونٹ کسی کار یا بس سے لوگوں کو نکالنے یا کسی وی آئی پی کی حفاظت کی
خدمات انجام دینے کے قابل ہوسکیں۔ ہم ان زیر تربیت فوجیوں کو ایک چھوٹی
سی دوڑ کے لیے لے گئے۔ 100 میٹر کے اندر اندر ان میں سے ہر ایک اس سختی
کو برداشت نہ کرسکا اور نیچے گر گیا۔ کوئی دو ہفتے کی تربیت کے بعد ہم نے
20 میں سے دس بہترین افراد کا انتخاب کیا۔ جن کو ہتھیاروں کے استعمال کی
تربیت دی جانی تھی۔ انہیں ہتھیار چلانا سکھایا گیا۔ انہیں یہ سکھانا آسان
نہیں تھا کہ کس طرح بغیر گولی کا نشانہ بنے کسی مقام پر کیسے حملہ کیا
جائے؟ ان میں سے کوئی بھی اچھا ڈرائیور نہیں تھا اور سب ہی نے اپنی فوجی
گاڑیاں دیواروں سے ٹکرادیں۔ جب انہیں شوٹنگ رینج میں لے جایا گیا تو ان
کا حال یہ تھا کہ ان کی رائفلوں سے میگزین نکل کر باہر گرنے لگے کیونکہ
انہیں ٹھیک طرح سے پیک نہیں کیا گیا تھا۔
کورس ابھی جاری تھا کہ ہمیں درمیان میں رکنا پڑا کیونکہ شہزادہ عبداﷲ بن
خلیفہ الثانی کو ملک سے باہر سفر کرنا تھا جو اس وقت ملک کا وزیراعظم تھا
اور برطانوی فوجی کنٹریکٹرز کی مدد سے اقتدار میں آیا تھا۔ قطر ایک بہت
بڑے ریگستان کا حصہ تھا اور سال کا زیادہ بڑا حصہ اتنا شدید گرم ہوتا تھا
کہ بیشتر علاقوں میں رہائش بہت مشکل ہوجاتی تھی۔ اسی وجہ سے شہزادہ اپنے
وقت کا زیادہ حصہ بطور سربراہ مملکت ملک سے باہر گزارتا تھا اور لندن،
پیرس، سینٹ ٹروپیز اور بارسلونا میں رہتا تھا۔ چنانچہ ہماری ٹیم کوشہزادہ
کی حفاظتی ذمہ داریاں سنبھالنی پڑیں۔ چنانچہ ہم نے قطری فوجیوں کی تربیت
کا کام وہیں چھوڑا اور اسے قطری فوجی افسروں کے سپرد کردیا گیا۔ اگرچہ
فوجی تربیت کے پروگرام کے لیے یہ کوئی اچھا طریقہ نہیں تھا لیکن اس کے
سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس سے ہمیں دوسرا سبق ملا کہ اپنے پروگرام میں
ہمیشہ لچک رکھیں اور ہر طرح کے حالات کے لیے تیار رہیں۔ کیونکہ مشن کے
دوران کسی بھی وقت کوئی بھی تبدیلی ہوسکتی ہے۔
اب ہم اپنے باس کے ساتھ حفاظتی ذمہ داریاں ادا کرنے جارہے تھے جو قد میں
چھوٹا اور جسمانی طور پر بے حد کمزور تھا لیکن وہ بہترین انگریزی اور
فرانسیسی زبانیں بولتا تھا اور اس نے رائل ملٹری اکیڈمی سینٹ ہرسٹ میں
تعلیم حاصل کی تھی۔ اس جگہ بھی نائیجل آر کے انسٹرکٹر موجود تھے۔ چنانچہ
ہماری ان کے ساتھ دوستی ہوگئی۔ عبداﷲ نے انہی کی مدد اپنے باپ کو تخت سے
اتارا تھا۔ شہزادہ عبداﷲ کا باپ ہر وقت شراب کے نشے میں دھت رہتا تھا اور
کسی طرح بھی قطر جیسی ریاست کی حکمرانی کی اہلیت نہیں رکھتا تھا۔
شہزادہ عبداللہ کے ساتھ حفاظتی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے برطانوی
فوجی کنٹریکٹرز پرمشتمل ایک سیکورٹی ٹیم تشکیل دی گئی جو 11 مردوں اور دو
عورتوں پر مشتمل تھی۔ عورتوں کی ذمہ داری شہزادے کی دو بیویوں کی حفاظت
کرنا تھا۔ ان بیویوں میں سے ایک کا نام لیلیٰ تھا جس کی عمر 19 سال تھی
لیکن وہ اپنے حلیہ سے کوئی فلمی اداکارہ لگتی تھی۔ دوسری ایک بھاری بھرکم
خاتون تھی جس کی عمر 40 سے 50 سال کے درمیان تھی اور اس کا نام فاطمہ
تھا۔ قطری بنیاد پرست مسلمان ہونے کی وجہ سے یہ پسند نہیں کرتے کہ عورتیں
جن سے ان کا خونی رشتہ نہ ہو مردوں کے ساتھ رہیں۔ ہم نے قطری ائرویز کے
بوئنگ 737 میں پہلے درجے میں سفر کیا۔ ہم اپنی تمام کٹس، ہتھیاروں،
ریڈیو، سرویلنس کیمروں اور لیپ ٹاپ سے لیس تھے۔ ہمارے ہتھیاروں میں گلوک
19 بھی شامل تھا جو ہالسٹروں میں پوشیدہ تھا۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس ایچ
کے ایم پی 5 سب مشین گنیں اور شاٹ گنیں بھی تھیں جو ہمارے سامان کے
ٹرنکوں میں رکھی گئی تھیں۔ لندن میں ہمارے لیے 5 اسٹار ہوٹلوں کی پوری
پوری منزلیں بک کرائی جاتی تھیں جبکہ پیرس میں ہمیں ہوٹل جارج 5 میں
ٹھہرایا گیا ۔ہمارا باس ایک وزیراعظم تھا اس لیے وہ اکثر مذہبی و سیاسی
شخصیتوں اور دوسرے معززین سے ملاقات کرتا رہتا تھا۔ بکنگھم پیلس، وہائٹ
ہا ¶س اور 10 ڈا ¶ننگ اسٹریٹ کے دورے معمول کی بات تھی۔ میرے نقطہ نظر سے
یہ کام بہت سہل اور ہلکا پھلکا تھا۔ اگر ہمارا باس کشتی رانی کے لیے کینز
جاتا تو اس دوران اس کے بچے لندن میں باس کی دو بیویوں کے ساتھ رہتے اور
ہماری ٹیم دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی۔ روزانہ ہمارا کام صبح 6 بجے اُٹھنا
اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے جمع ہونا، دن بھر کا شیڈول دیکھنا،
ڈرائیوروں کو چیک کرنا اور اپنے ریڈیو اور دیگر آلات کی دیکھ بھال کرنا
تھا۔ اُس وقت یہ فیصلہ ہوتا تھا کہ ہم میں سے کسے اپنے باس، اُس کی
بیویوں اور اُس کے بیٹوں کے ساتھ رہنا ہے۔ جو ٹیم شہزادے کی حفاظت کے لیے
ہوتی اُس کے لیے ضروری تھا کہ وہ سوٹ زیب تن کرے۔ بیویوں کے ساتھ رہنے
والی ٹیم کاروباری نوعیت کے لباس میں ہوتی جبکہ بچوں کے ساتھ رہنے والے
جینز وغیرہ میں ملبوس ہوتے۔ ہم قطری سفارت خانے کی گاڑیوں میں سفر کرتے
جن میں مرسیڈیز، ایس کلاس سیڈان اور جی ویگنز شامل تھیں۔ یہ تمام گاڑیاں
مکمل طور پر بلٹ پروف تھیں اور ان پر سفارتی پرچم لہرا رہے ہوتے۔ جب ہم
لندن میں ہوتے تو ہمارے ساتھ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ڈپلومیٹک پروٹیکشن گروپ
کے دو افسر اور ایک موٹر سائیکل سوار اسکارٹ بھی ہوتا۔ میرے ساتھ ہمیشہ
میرا ایک دوست نک رہا کرتا تھا جو ہر طرح کے حالات کے لیے تیار رہتا۔ ہم
ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کرتے رہتے۔ ہم صبح بہت جلدی اٹھتے، ٹریننگ کرتے،
گھر واپس آتے، نہاتے، کپڑے تبدیل کرتے اور بستروں میں جاتے۔ ہر صبح آٹھ
بجے ایک عورت ہمارے کمروں کی صفائی کے لیے آتی۔ ہم اس کے لیے دروازہ نہیں
کھولتے تھے۔اس کے بجائے ہم کمرے کی وسیع الماریوں میں چھپ جاتے۔ وہ اپنی
چابی سے خود دروازہ کھولتی، کمروں کی صفائی کرتی اور واپس چلی جاتی۔ اکثر
یہ ہوتا کہ اس دوران ہم الماریوں میں چھپے رہتے اور جب وہ صفائی کررہی
ہوتی تو اچانک الماریوں سے باہر نکل آتے۔ وہ ہم کو اچانک دیکھ کر حیران
رہ جاتی اور سخت نظروں سے ہم کوگھورتی لیکن کچھ نہیں بولتی کیونکہ ہم
شہزادے کے محافظ تھے۔ وہ جلدی جلدی صفائی کر کے واپس چلی جاتی۔
ہماری ٹیم میں ایک شخص شامل تھا جس کا نام فل تھا۔ وہ لمبا تڑنگا تھا
اور نسلاً اسکاٹ لینڈ کا رہنے والا تھا۔ ایک دفعہ کی بات ہے جب ہم ہانگ
کانگ میں شہزادے کے ساتھ تھے اور اُسے ایک سرکاری تقریب میں شرکت کرنی
تھی۔ فل کو ایک نئے سوٹ کی ضرورت تھی۔ اُس نے ٹمپل اسٹریٹ مارکیٹ میں ایک
سستا درزی تلاش کیا جس نے وعدہ کیا کہ وہ صرف 40 ڈالر میں اُس کے لیے ایک
ریشمی سوٹ تیار کردے گا اور اس میں صرف چار گھنٹے لگیں گے۔ میںنے فل سے
کہا ”فل! کوئی اچھا درزی صرف چار گھنٹے میں ایک اچھا سوٹ تیار نہیں
کرسکتا“۔ فل نے پورے اعتماد کے ساتھ جواب میں کہا ”تم دیکھنا! میں نے ایک
ایسا درزی تلاش کرلیا ہے“۔ ہم لوگ ہانگ کانگ کے مندارن ہوٹل میں 52 ویں
منزل پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ شام کو چار بجے ٹیلر ماسٹر فل کے سوٹ کے ساتھ
ظاہر ہوا۔ یہ سوٹ دیکھنے میں تو بہت اچھا سلا ہوا دکھائی دیتا تھا لیکن
جب فل نے اسے پہنا تو پتہ چلا کہ اس کی پینٹ چار انچ چھوٹی تھی۔ فل کے
ناراض ہونے پر ٹیلر ماسٹر نے کہا ”کوئی مسئلہ نہیں سر! میں نے اندر بہت
سارا کپڑا چھوڑدیا ہے اور میں اسے دوبارہ سی کر فٹ کر دوں گا“۔ فل اور
جسٹن ایچ ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ جسٹن انگلستان کے مشرقی علاقے
کا رہنے والا لڑکا تھا۔ اُس کا چہرہ ایسا تھا جیسے وہ قیمہ بنانے کے کسی
گرائنڈر سے گزرا ہو یا وہ کسی جنگ میں مار کھا کر آیا ہو۔ اُن کے درمیان
ہر وقت نوک جھونک ہوتی رہتی تھی۔ ہمیں وقت کے مطابق شام سات بجے تقریب
میں شرکت کے لیے روانہ ہونا تھا۔ اس سے ایک گھنٹہ پہلے میرے کمرے میں
چینی پارلیمان کا اجلاس ہوا جس میں ہمارے درمیان ذمہ داریاں تقسیم ہوئیں۔
ز (جاری ہے)

میں نے محسوس کیا کہ جسٹن کے چہرے پر غصہ کے آثار ہیں۔ میں نے اس سے
دریافت کیا ”جسٹن! کیا ہوا ہے؟“ اس نے کہا ”تم خود دیکھ لوگے“۔ ساڑھے چھ
بجے ٹیلر ماسٹر آیا اور فل اُس کا لایا ہوا سوٹ ٹرائی کرنے کے لیے کمرے
کے اندر چلا گیا۔ اس دوران جسٹن ہمیں فل کے دروازے کے باہر کوریڈور میں
لے گیا۔ میں نے کمرے کے باہر جسٹن سے دریافت کیا کہ وہ کیا کرنا چاہتا
ہے؟ اس نے سرگوشیوں میں جواب دیا ”ٹھہرو! ذرا انتظار کرو“۔ تھوڑی دیر کے
بعد فل کے کمرے سے ایک زوردار چیخ کی آواز سنائی دی اور اس کے ساتھ ہی
جسٹن کا زوردار قہقہہ بلند ہوا۔ ایک لمحے کے بعد فل کے کمرے کا دروازہ
کھلا اور وہ اپنی نئی پینٹ کے ساتھ باہر نکلا۔ اس کی پینٹ گھٹنوں کے اوپر
سے کٹی ہوئی تھی۔ بالکل خواتین کے کیپرس کی طرح۔ فل غصے میں لال پیلا
ہورہا تھا اور جسٹن کے قہقہے نہیں رکتے تھے۔ بعد میں جسٹن نے اقرار کیا
کہ اس نے ٹیلر ماسٹر کو بہکا دیا تھا کہ وہ اس کی پینٹ کئی انچ چھوٹی
کردے اور تمام فاضل کپڑا کاٹ دے۔ اب فل کے لیے پریشانی یہ تھی کہ وہ کیا
پہن کر سرکاری تقریب میں شریک ہو؟ میں نے اس سے کہا کہ کسی سے کوئی پینٹ
اُدھار لے لو۔ ٹھیک سات بجے ہماری ٹیم اپنے اپنے سوٹ پہنے ہوئے کاروں کے
قریب جمع تھی۔ میں باس کے ساتھ ایلیویٹر سے نیچے اُترا۔ اس دوران میں نے
اپنی کلائی پر لگے ہوئے خفیہ مائیک میں اپنی ٹیم کو ہدایت جاری کی،
”اسٹینڈ بائی“۔ جب ہم لفٹ سے باہر نکلے اور فل کے سامنے سے گزرے تو میں
نے اُس کے کپڑوں پر ایک نظر ڈالی جو بظاہر ٹھیک ٹھاک نظر آتے تھے۔ میں
اپنے باس کو لیموزین تک لے گیا۔ اس دوران میں نے اپنی ٹیم کو کاروں میں
سوار ہونے کا اشارہ دیا۔ تھوڑی دیر میں ہم کانفرنس سینٹر کی جانب جارہے
تھے۔ جب ہم اپنی کاروں سے باہر نکلے تو میں نے فل کو دیکھا جو اپنی کار
سے نکل کر اس طرح چل رہا تھا جیسے کہیں سے مار کھا کر آیا ہو۔ میںباس کو
آڈیٹوریم میں اس کی نشست تک لے گیا اور جب وہ اپنی نشست پر بیٹھ گیا تو
میں وہاں سے دور ہٹ گیا کیونکہ یہ پوری تقریب ٹیلی ویژن پر دکھائی جارہی
تھی جبکہ ہم اپنی حفاظتی ذمہ داریاں ادا کرچکے تھے۔ لابی میں مجھے فل
دکھائی دیا۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ اس کے کپڑوں کے ساتھ کیا واقعہ
ہوا ہے؟ اُس نے ایک خشمگیں نظر مجھ پر ڈالی اور بولا ”اس وقت مجھ سے مت
پوچھو“۔ میں نے اس سے دوبارہ پوچھا کہ اس نے کپڑوں کے ساتھ کیا کیا ہے؟
میرے اصرار پر اُس نے اپنی جیکٹ اوپر کی۔ میں نے دیکھا کہ اُس نے اپنے
ہولسٹر کی بیلٹ کو اپنے ٹرا ¶ز کے ساتھ باندھا ہوا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ
اُسے چلنے میں دقت ہورہی تھی۔ اُس پوری رات وہ شکایت کرتا رہا کہ اُس کی
کمر کی تکلیف اُسے مارے ڈال رہی ہے۔ میں اس کی بات سن کر ہنستا رہا۔
مسئلہ یہ تھا کہ فل نے اپنے کپڑوں کی اس حالت سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔
کوئی دو دن کے بعد وہ میرے پاس آیا اور بولاکہ ”اسے جوتوں کے ایک جوڑے کی
ضرورت ہے اور اس نے سنا ہے کہ ہانگ کانگ میں ہاتھ سے بنے ہوئے بہت اچھے
جوتے ملتے ہیں“۔ میں نے جواب میں کہا ”یہ بات درست ہے، کوئی بھی شخص
تمہیں اُس جگہ کا پتہ بتادے گا“۔ فل نے جواب میں کہا ”نہیں میں خود ٹیمپل
اسٹریٹ مارکیٹ جارہا ہوں وہاں مجھے آکسفورڈ براگ مل جائیں گے جن کی قیمت
لندن میں سو پونڈ ہے لیکن یہاں یہ صرف 20 ڈالر کے ہیں“۔ میں نے اس کو
وارننگ دی کہ یہ یاد رکھو کہ تم جیسی رقم خرچ کرو گے ویسی ہی چیز تمہیں
ملے گی۔ فل میرے مشورے پر عمل کرنے والانہ تھا۔ وہ سیدھا ٹیمپل اسٹریٹ
مارکیٹ گیا اور جوتوں کا آرڈر دیا۔ جب اسے یہ جوتے ملے تو دیکھنے میں
اچھے معلوم ہوتے تھے اور میں نے سوچا ممکن ہے اس مرتبہ میں غلط ثابت ہو
جا ¶ں۔ اگلے دن ہم باس کی شاپنگ کے لیے اس کے ساتھ باہر نکلے اُس وقت
بارش ہورہی تھی۔ جب ہم ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور کے باہر کھڑے ہوئے تھے تو میں
نے فل کے جوتوں پر ایک نظر ڈالی جس کا سول کھل چکا تھا اور اُس کا موزہ
باہر جھانک رہا تھا۔ میں نے فل سے پوچھا ”فل! یہ تمہارے جوتوں کو کیا ہوا
ہے؟“ اُس نے جواب میں کہا ”کیا تم میری بات پر یقین کرو گے؟ میرے اس جوتے
کا سول گتے کا بنا ہوا تھا“۔
جس زمانے میں ہم ہانگ کانگ میں تھے، ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے باس کا باپ
سابق شاہ اپنے بیٹوں سے اقتدار واپس چھیننے کی سازش کررہا ہے۔ اُس نے کچھ
سابق فرانسیسی اور جرمن ایجنٹوں کی خدمات حاصل کی تھیں۔ یہ ایجنٹ شہزادوں
کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لیے تیار تھے۔ اتفاق سے قطر میں میرے پرانے
دوست پیٹ کی ان لوگوں سے دوستی تھی جن کی خدمات باپ نے اپنا تاج و تخت
واپس حاصل کرنے کے لیے حاصل کی تھیں۔ ایک رات وہ ٹیلی فون پر گپ شپ کررہے
تھے تو کارسیکن نے اسے بتایا کہ وہ شیخ کے ایک پروجیکٹ کے لیے قطر جارہا
ہے۔ پیٹ نے کہا کہ ” یہ حیرت انگیز خبر ہے کیونکہ میرا ساتھی سائمن اس
وقت شیخ کے لیے کام کررہا ہے۔ تم کون سے شیخ کی بات کررہے ہو؟“۔ کارسیکن
نے جواب میں کہا کہ وہ شہزادوں کے باپ کے ساتھ کام کررہا ہے۔ پیٹ نے پھر
دریافت کیا کہ شہزادوں کا باپ اس وقت کہاں ہے؟ اُس نے بتایا کہ وہ اس وقت
سوئزرلینڈ میں ہے اور اپنے بیٹوں کو اقتدار سے بیدخل کر کے خود واپس
اقتدار میں آنا چاہتا ہے۔ پیٹ نے فوری طور پر یہ خبر ڈولی کو دی جو ہمارا
انچارج تھا۔ ڈولی نے یہ بات ٹوپسی کو بتائی جو اسی وقت شہزادے سے ملنے کے
لیے چلا گیا۔ شہزادے نے وہیں بیٹھے بیٹھے یہ احکامات جاری کرنے کا فیصلہ
کیا کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران جو بھی شخص کسی فرانسیسی، جرمن یا جنوبی
افریقی پاسپورٹ پر قطر میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا اُس کو روک لیا جائے
گا اور اُس سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ اس کے بعد ہم سوئٹزرلینڈ کے لئے
روانہ ہوئے جہاں شہزادے کا باپ ٹہرا ہوا تھا۔ ہم جنیوا ائر پورٹ پر جہاز
سے اترتے ہی لی رچمنڈ ہوٹل گئے جہاں شہزادے نے اپنے باپ سے بات کی۔
شہزادے نے اپنے باپ کی کلائی سختی سے پکڑی اور اسے یاد دلایا کہ اس کے
پاس بے شمار دولت ہے اور وہ اپنے خلاف ہونے والی ہر طرح کی سازشوں کو
ناکام بناسکتا ہے۔ اس کے بعد باپ اور بیٹے کے درمیان یہ مسئلہ ہمیشہ کے
لئے حل ہوگیا۔شہزادے نے اپنے باپ کے لئے وظائف اور سہولتوں میں اضافے کا
وعدہ کیا اور باپ نے وعدہ کیا کہ وہ شہزادوں کے خلاف سازشیں نہیں کرے گا۔
اس واقعہ سے مجھے تیسرا سبق ملا کہ پرائیویٹ ملٹری کنٹریکٹرز کو ہر وقت
الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ اس کا بہت زیادہ امکان رہتا ہے کہ اپنی خدمات کی
انجام دہی کے دوران آپ کا اپنے ہی دوستوں سے مقابلہ ہو جائے جو کسی اور
کے لیے خدمات انجام دے رہے ہوں۔ تاہم آپس کی دوستیاں اس موقع پر کام آتی
ہیں اور آپ کے لیے بین الاقوامی سیاست کے گدلے پانیوں میں کام کرنا آسان
ہوجاتا ہے۔
مجھے قطریوں کے ساتھ ایک شہر سے دوسرے شہر مسلسل آنا جانا ہوتا تھا۔ یہاں
تک کہ میں تھکن محسوس کرنے لگا۔ میں یہ ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
چنانچہ میں مشرقی لندن واپس آیا اور دو ہفتے تک کوئی دوسری جاب کی تلاش
میں رہا۔ ایک دن نائیجل کا ٹیلیفون میرے پاس آیا۔ اس نے کہا ”سائمن
تمہارے لیے میرے پاس ایک خوشی کی خبر ہے۔ اگر تم اس میں دلچسپی لینا پسند
کرو۔ ملائیشیا میں ایک مائننگ کمپنی کو سیکورٹی منیجر کی ضرورت ہے۔ پہلی
تقرری ایک سال کے لیے ہوگی لیکن یہ ممکن ہے کہ اس میں مزید اضافہ
ہوجائے“۔ میں نے اس ملازمت میں دلچسپی ظاہر کردی۔ نائیجل نے بتایا کہ”
تمہیں ایک اور شخص کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوگی“۔ میں نے جواب میں کہا
کہ ”میں اپنے ساتھ پیٹ کو لے جانا پسند کروں گا جو میرا بچپن کا دوست ہے
اور بہترین نشانچی ہے۔ وہ ایسی شخصیت ہے کہ کسی بھی لڑائی میں آپ اسے
اپنے ساتھ رکھنا پسند کریں“۔ نائیجل نے رضامندی ظاہر کردی اور کہا ”کنگز
روڈ پر کیننگسٹن میں چیلسیا پوٹر پر آجا ¶۔ جب تم وہاں پہنچ جا ¶ تو مجھے
میرے سیل پر کال کرلینا۔ میں تمہیں بتا ¶ں گا کہ کہاں جانا ہے؟“ چیلسیا
پوٹر ایک شراب خانہ تھا اور ہم اس علاقے سے اچھی طرح واقف تھے۔ میں اور
پیٹ وہاں پہنچے اور کچھ کھانے پینے کی چیزیں منگائیں۔ اس کے بعد میں نے
نائیجل کو اس کے سیل فون پر کال کی۔ نائیجل نے ہمیں ہدایت کی کہ جب ہم
کارنر پر پہنچ جائیں تو بائیںجانب ہائی اسٹریٹ پر مڑ جائیں۔ یہاں بائیں
جانب سب سے پہلا مکان ہے۔ نائیجل کی ہدایات پر پیٹ نے تبصرہ کیا کہ یہ
شخص انتہائی پراسرار دکھائی دیتا ہے۔ باہر انتہائی خوبصورت موسم بہار کا
دن تھا۔ ہر جانب پھول کھلے ہوئے تھے جن پر تتلیاں اُڑ رہی تھیں اور
لڑکیاں موسم گرما کے لباسوں میں نظر آتی تھیں۔ ہم لندن کے ایک پوش علاقے
میں گھوم رہے تھے۔ ہم اپنے بہترین سوٹس میں ملبوس تھے اور ہمارے بالوں کی
تراش خراش ہمیں فوجی ظاہر کررہی تھی۔ ہم نے اُس گھر کے دروازے پر دستک دی
جس کا پتہ نائیجل نے دیا تھا۔ ایک بھاری بھرکم مضبوط جسم کے مالک شخص نے
دروازہ کھولا۔ اُس نے ایک میٹل ڈٹیکٹر ہمارے جسم پر پھیرا اور اس کے بعد
ہمیں مزاحیہ انداز میں تکنے لگا۔ پھر ہمیں ساتھ لے کر گھر کے اندر داخل
ہو گیا۔ ”یہ سب کیا تھا؟“، پیٹ نے سیکنڈ فلور کی وسیع و عریض سیڑھیوں پر
چڑھتے ہوئے سرگوشی کی۔ میں نے جوابی طور پر سرگوشی کرتے ہوئے اُس سے کہا
کہ ملازمت کے کسی انٹرویو کے دوران یہ سب کچھ عجیب لگتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟
ہم سیکنڈ فلور کے لونگ روم میں داخل ہوئے جو انتہائی قیمتی سامان آرائش
سے سجا ہوا تھا۔ یہاں چمڑے کے انتہائی قیمتی صوفے پڑے ہوئے تھے ۔ زمین پر
بچھے ہوئے قالین کسی مشرقی ملک سے تعلق رکھتے تھے جبکہ دیواروں کے ساتھ
فلیٹ اسکرین کے ٹی وی لگے ہوئے تھے۔ نائیجل آر اپنے سیوائل سوٹ میں ملبوس
تھا۔ اُس کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ خاتون نے اُٹھ کر
ہمارا استقبال کیا اور اپنا تعارف کراتے ہوئے اپنے نام سوسن بتایا۔ ”آپ
کی آمد کا بہت شکریہ“، اس نے کاروباری لہجے میں کہا” برائے مہربانی تشریف
رکھیں“۔ اس نے ہمیں کافی یا چائے کے لیے نہیں پوچھا۔ پھر بولی ”جنرل
نائیجل آر آپ کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ آپ یقینی طور پر اس ملازمت کی اہلیت
رکھتے ہیں۔ کیا آپ کچھ پوچھنا چاہیں گے؟“ میں تھوڑاسا آگے جھکا اور بولا
”جنرل نے ہمیں اس کے سوا کچھ نہیں بتایا کہ یہ کسی مائننگ کمپنی میں
سیکورٹی کی جاب ہے“۔
اس نے پوچھا ”کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کان کہاں واقع ہے؟“
میں نے جواب میںکہا کہ ”جنرل نے ہمیں بتایا تھا کہ یہ کان ملائیشیا میں
ہے“۔ خاتون نے پھر پوچھا،” کیا آپ کبھی ملائیشیا گئے ہیں؟“ میں نے جواب
میں کہا کہ ”میں ملائیشیا کبھی نہیں گیا لیکن پورے مشرق بعید میں کافی
سفر کرتا رہا ہوں“۔
اس نے کہا کہ ”آپ کا کام سونے کی ایک کان کی حفاظت کرنا ہوگا جو میری
کمپنی وہاں کھول رہی ہے۔ آپ کو ایک سیکورٹی ٹیم اور محافظوں کی فورس کی
تربیت بھی کرنی ہوگی۔ کیا آپ اس قسم کا کام کرنا پسند کریں گے؟“۔ میں نے
اثبات کا اظہار کیا۔
سوسن نے پھر دریافت کیا،” کیا آپ اس سے پہلے بھی غیرملکیوں کے ساتھ کام
کرچکے ہیں؟“۔ میں نے اثبات میں جواب دیا۔
”ایک گارڈ فورس کی تربیت کے لیے آپ کو کن چیزوں کی ضرورت ہوگی؟“ اس نے پوچھا؟
میں نے بتایا کہ ”محافظوں کی تربیت کے لیے ایک چار ہفتے کا کورس ہوگا جس
میں حفاظت کی تکنیک، حفاظتی اقدامات اور دیگر فوجی تربیت کی چیزیں شامل
ہوں گی۔ سونے کی منتقلی کی حفاظت کے لیے موبائل سیکورٹی کا ایک الگ کورس
کرانا پڑے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو دو ٹیموں کی ضرورت ہوگی۔ ایک
ٹیم کان کے اندر کام کرے گی اور دوسری ٹیم ہر وقت حرکت کرتی رہے گی“۔
سوسن نے میری بات سن کر اپنے دونوں ہاتھ باندھ لیے اور اثبات میں سر
ہلایا اور کچھ سوچنے لگی۔ پھر بولی،” یہ سب بہت اچھا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن
یہ ملازمت کے دوسرے حصے سے تعلق رکھتا ہے“۔اس کی بات پر میرا ماتھا
ٹھنکا۔ میں نے دریافت کیا کہ”کام کا پہلا حصہ کیا ہے؟“۔
سوسن نے بتایا کہ ”اس زمین پر اس وقت ایک چھوٹا سا قبیلہ آباد ہے۔ ہمیں
اس قبیلے کو ان زمینوں سے بیدخل کرنا ہوگا تاکہ ہم کھدائی اور جنگلات کی
صفائی کا کام کرسکیں۔ یہ قبیلہ اپنی زمینوں سے ہٹنے کو تیار نہیں“۔ میں
نے نائیجل آر اور پیٹ پر ایک نظر ڈالی جو حیرت سے ہم کو تک رہے تھے۔
خاتون نے اپنی بات جاری رکھی اور کہا کہ ”ہم نے اس قبیلے کو ایک بہتر جگہ
پر آباد کرنے کی پیشکش کی جہاں ہم انہیں اسکول اور اسپتال بنا کر دیں گے۔
ہم نے ان کو سونے کی اس کان میں ملازمت کی پیشکش بھی کی۔ لیکن وہ اس جگہ
کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ اس کام کا پہلا حصہ ان لوگوں کو وہاں
سے نکالنا ہے“۔ میں اپنی طبیعت میں بے چینی محسوس کررہا تھا۔ میں نے کہا
کہ” آپ نے جو کچھ مجھ سے کہا ہے وہ کام قانونی انداز میں بھی کیا جاسکتا
ہے۔ اس سلسلے میں آپ کی تجویز کیا ہے؟“۔ سوسن نے اپنا منہ سختی سے بھینچ
لیا۔ جب وہ بولی تو اس کا لہجہ ذرا تیز تھا۔ اُس نے کہا ”مجھے اس کی
پرواہ نہیں کہ آپ لوگوں کو کس طرح نکالتے ہیں۔ بس ہم چاہتے ہیں کہ کسی
طرح بھی ان قبائلیوں کو اس علاقے سے نکال دیا جائے“۔ خوف کی سرد لہر میرے
جسم میں دوڑ گئی۔ میں نے جواب میں کہا،” اوکے! میں آپ کی بات پوری طرح
سمجھ چکا ہوں۔ ممکنہ طور پر زیادہ بہتر یہ ہے کہ میں اور میرا دوست پیٹ
اس پر غور کریں کہ ہم یہ کام کس طرح کرسکیں گے؟
” فائن“، اس نے جواباً کہا۔ اس کے بعد ہم سب اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور ہاتھ
ملائے۔ سوسن نے ایک مرتبہ پھر کہاکہ” تمام معاملات کے لیے آپ کو جنرل سے
رابطہ کرنا ہوگا۔ ممکنہ طور پر اب آپ سے میری کوئی ملاقات نہیں ہوگی“۔
میں نائیجل کی جانب مڑا اور بولا ،”جنرل! ہم اس پورے معاملے پر غور و خوض
کرنے کے بعد آپ کو بہت جلد بتائیں گے کہ یہ کام کس طرح کیا جاسکتا ہے؟“۔
اس کے بعد میں اور پیٹ واپس چیلسیا پوٹر پہنچے اور ایک میز پر بیٹھ کر اس
مسئلہ پر تبادلہ خیال کرنے لگے۔ پیٹ نے مشروب کا آرڈر دیا اور پھر مجھ سے
پوچھا کہ” تم جانتے ہو کہ ہمیں اس وقت ایک ملازمت کی سخت ضرورت ہے“۔ میں
نے کہا کہ ”یہ بات درست ہے اور ہمیں بہت سارے ہتھیار بھی چاہیئں“۔
” اس بات کو چھوڑو“۔ پیٹ ناراض ہو کر بولا۔ میںنے کہا ”میں ایسا کوئی کام
محض ایک ڈنڈے کے ساتھ انجام نہیں دے سکتا“۔ پیٹ بولا ،”میں بھی نہیں“۔
اگر ہم لوگ پرائیویٹ ملٹری کنٹریکٹر کے طور پر قطریوں کے ساتھ کام کررہے
تھے تو اس میں کوئی پریشانی والی بات نہیں تھی جبکہ سوسن نے ہمیں اس کے
مقابلے میں ایک انتہائی مشکل جاب کی پیشکش کی تھی۔ میں نے نائیجل آر کو
اس کے سیل فون پر کال کی۔ ”جنرل! یہ سب کیا بکواس ہے؟“ اس نے جواب میں
کہا کہ اسے وہاں کے قبائلی مسئلوں کا کوئی علم نہیں ہے۔ اُس سے ایک
کانکنی کی جگہ کے لیے حفاظتی انتظامات کی درخواست کی گئی تھی۔ میں نے
جواب میں کہا ”تم جانتے ہو ہم یہ کام نہیں کریں گے“۔
” یقینا“ نائیجل بولا۔” اس کے بارے میں پریشان مت ہو۔ میں کسی اور جگہ
کام کے لیے تمہیں دوبارہ بلا ¶ں گا“۔ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ کچھ دوسرے
فوجی کنٹریکٹرز نے اُس جگہ سے اُس قبیلے کو ہٹانے کی ذمہ داری لے لی تھی
اور اس قبیلے کا صفایا بھی کردیا تھا۔ یہ آنکھیں کھول دینے والی بات تھی۔
اس قسم کے کام اکثر ملتے رہتے ہیں اور بہت سے فوجی کنٹریکٹرز ڈالر یا
پونڈ کے بدلے یہ خدمات انجام دیتے رہتے ہیں لیکن میں ایسا کوئی کام کرنے
کو تیار نہیں تھا۔ میری پوری تربیت لوگوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ہوئی
تھی اور میں اپنے اصولوں سے ہٹ نہیں سکتا تھا۔ میں عام لوگوں کے مقابلے
میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کے لیے استعمال ہونے کو بھی تیار نہیں
تھا لیکن جیساکہ میں جانتا ہوں کہ پرائیویٹ ملٹری کنٹریکٹر کا کام اپنی
نوعیت کے لحاظ سے کافی وسیع ہے اور ہم ہی میں سے بہت سارے لوگ اس قسم کے
کام کرتے ہیں۔ اس پورے واقعہ سے مجھ کو یہ سبق ملا کہ آپ اپنی اخلاقیات
کے پابند رہتے ہوئے کچھ ذمہ داریاں لیتے ہیں لیکن آپ سے کہا جاتا ہے کہ
آپ انتہائی خطرناک جگہوں پر کام کریں اور ان میں سے بہت سارے کام ”دل
خراب کرنے والے ہوتے ہیں“۔لیکن اگر آپ اپنے ضمیر کو سلادیں تو یہ کام
کرنے کی ذمہ داری لے سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

four × 5 =