ضامن گروپ۔ شمولیت تنوع میں پہل

’اطراف‘ کو اپنے اس نئے مشن یعنی سب شامل معاشرے کی تعمیل اور تشکیل میں ضامن گروپ کی رفاقت حاصل ہے۔ ضامن گروپ کی منیجنگ ڈائریکٹر ثروت شاہ۔نسیم شا ہ بہت ہی متنوع خیالات رکھتی ہیں۔ پاکستان کے لیے ترقی یافتہ ملک کے خواب دیکھتی ہیں۔ ضامن گروپ نابیناؤں اور دوسرے محروم افراد کے لیے اور سب شامل معاشرے Inclusive Souls کی تشکیل کے لیے جو خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس رپورٹ میں مختصراً ان کا احاطہ کیا گیا ہے۔ پڑھئے۔ اور اپنی رائے سے آگاہ کیجئے۔


ضامن گروپ۔ ایک شاندار جامع خاندان کی تعمیر

نابیناؤں کے لیے املاک میں تربیت کا تصور

بینائی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے 14 افراد کی تربیت

معذور افراد کی برادری کو مالی آزادی کا موقع

بصارت کی خرابی والے افراد میں بے پنا صلاحیتیں

بینائی سے محروم تربیت یافتہ افراد کو ملازمت کے مساوی مواقع

٭ اطراف رپورٹ


ضامن گروپ پہلے ہی صنف، عمر، نسل، ثقافت، مذہب، فرقوں اور پیشہ ورانہ پس منظر کے تنوع سے لطف اندوز ہورہا ہے۔ مارکیٹ میں کووڈ۔19 کے پس منظر میں روزگار کی کساد بازاری کے بعد، ضامن نے اپنی بھرتی کی پالیسی کو وسیع کیا تاکہ ہر اس شخص کا خیرمقدم کیا جائے جو ایمانداری، لگن اور ”کووڈ ۔ 19 کی وبا کے بحران میں سیکھنے، اپنی زندگی کو بہتر بنانے اور ترقی کرنے کے عزم کے ساتھ کام کے مواقع تلاش کر رہے ہوں۔

کمپنی نے اپنے آپ کو مختلف پس منظر اور مہارتوں کے حامل نئے بھرتی ہونے والوں کو تربیت دینے کا عزم کیا جس کا نتیجہ ایک شاندار جامع خاندان کی تعمیر میں ظاہر ہوا۔ اس خاندان کے افراد ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور عزت کے ساتھ ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں۔

ایک نئے پروجیکٹ کے آغاز سے مزید امکانات پیدا ہوئے ۔ نوری آباد جم خانہ کلب کے لیے مارکیٹنگ، تشہیراور سیلز کی تربیت کے دوران انتظامیہ کے علم میں پاکستان کی نابینا کرکٹ ٹیم کی کہانی آئی اور انہوں نے نابینا برادری کے ساتھ سرگرمیوں میں شراکت کا فیصلہ کیا۔اس کے نتیجے میں جو NGC کے تمام موضوعات پر مثلاً سیکھنے، مہم جوئی، کھیل اور کاروبار کے تجرباتی سفر کا آغاز ہوا۔

نابیناؤں کے کھیلوں اور مسٹر سلمان الٰہی اور پاکستان بلائنڈ اسپورٹس فیڈریشن کی جانب سے این جی سی، سی ایس آر کی سرگرمیوں کے فروغ کا احاطہ کرتے ہوئے نابیناؤں کے لیے انتظامیہ نے رئیل اسٹیٹ سیلزاور سرمایہ کاری میں تربیت کا تصور پیش کیا۔ چنانچہ ضامن خاندان کے ساتھ روٹری کلب کراچی کے تعاون سے استعداد کاری میں اضافے اور رسائی پر ایک حساس سیمینار کا منصوبہ بنایا گیا۔اس کا مقصد شراکت کار اور تنوع کی کمپنی کی پالیسی کے تحت مختلف اہلیتوں کے حامل لوگوں کے ساتھ تنوع کی توسیع کی جانب پہلا قدم اٹھانا تھا۔اس کا مقصد یہ بھی تھا کہ ڈائرکٹروں کی بصیرت میں اضافہ ہوسکے۔

نصف روزہ تربیتی سیمینار سے خطاب میں مسٹرسلمان الٰہی نے لاشعوری تعصبات اور دقیانوسی تصور کی نشاندہی کی جس سے اندھے پن کے بارے میں عجیب تصورات کو جنم دیتے ہیں۔ ضامن خاندان کی طرف سے اس کا خیرمقدم کیا گیا۔ ضامن گروپ کے زیر اہتمام 2 روزہ سرٹیفکیٹ کورس کے لیے مختلف اہلیتوں کے حامل افراد کی تربیت کے پروگرام پر آمادگی ظاہر کی گئی۔اس مقصد کے لیے اگلے ہفتوں میں بینائی ویلفیئر ایسوسی ایشن نے 14 افرا تربیت کے لیے بھیجے۔یہ 2 روزہ تربیتی پروگرام ٹرینرز؍تربیت دہندگان کے لیے بھی زندگی بدلنے والا تجربہ تھا۔ کھیلوں کے ساتھ شروع ہونے والا سفر اب زندگی کی مہارتیں حاصل کرنے، ایک کارپوریٹ ایڈونچر اور معذور کمیونٹی کے مختلف افراد کو مالی آزادی کا موقع فراہم کر رہا تھا۔

اس تربیت میں کلاس روم طرز کی ورکشاپ شامل تھی جس کا اہتمام چیئرمین کاشف شاہ، ریجنل منیجر ماہنور سید اور سینئر منیجر عبدالکریم نے کیا اور جس کے بعد تربیت حاصل کرنے والوں کو بی ڈی اوز کے مختلف گروپوں کے ساتھ میدانی تربیت کے لیے بھیجا گیا۔ اس میدانی تربیت کے ٹیم منیجر سربراہ تھے ۔ شرکاء نے ٹریننگ کے دوران رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کی ڈائنامکس؍ حرکیات، سیلز پچ یعنی فروخت کی بول چال، اور کارپوریٹ زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں سیکھا۔ اس کے علاوہ تمام شرکاء نے منیجنگ ڈائریکٹر، ضامن گروپ، ثروت نسیم شاہ کے سامنے اپنی کارکردگی اور تربیت کا ایک شاندار مظاہرہ پیش کیا۔ ایم ڈی ضامن گروپ ثروت نسیم شاہ اور صدر بینائی ایونیو ویلفیئر ایسوسی ایشن سلمان الٰہی کی طرف سے تمام شرکاء کو تکمیل کے سرٹیفکیٹ دیے گئے۔

معاشرے میں نابینا پن کو معذوری تصور کیا جاتا ہے لیکن اس تربیت کے دوران تمام اسٹیک ہولڈرز کو یہ تجربہ ہوا کہ نابینا پن بینائی کی خرابی کی وجہ سے نہیں بلکہ مناسب ساخت اور رسائی کی کمی کی وجہ سے ہے اور اگر ہم تھوڑی سی ہوش مندی سے کام لیں تو یہ معذوری نہیں ہے۔ ہماری برادری کے ان ممبران کی متنوع ضرورتیں پوری ہوسکتی ہیں اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ معاشرے کے کا رآمد رکن کی حیثیت سے ایک مکمل اور بھرپور زندگی نہ گزار سکیں۔ وہ لوگ جو کسی بھی سطح کی بصارت کی خرابی کا شکار ہوتے ہیں ان میں بے پناہ صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ مثال کے طورپر وہ دوسروں سے زیادہ بہتر سن سکتے ہیں ان کی سیکھنے کی صلاحیت دوسروں سے بہتر ہوتی ہے، ان کا آئی کیو (ذہانت کی سطح)اور مشاہدہ کی طاقت دوسروں سے بہتر ہوتی ہے۔ وہ اپنے عزم اور ارادے کی طاقت سے معاشرے کے نتیجہ خیز اور کامیاب رکن بننے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں، اگر انہیں کام کرنے کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم اپنے سماجی اور کارپوریٹ ڈھانچے میں زیادہ ترقی یافتہ معاشروں کی طرح تنوع کو پہچانیں اور ان کو مساوی درجے پرقبول کریں۔ ضامن گروپ بینائی سے محروم تربیت یافتہ افراد کو ملازمت کے مساوی مواقع فراہم کرنے اور انہیں مساوی بنیادوں پرروزگار دینے کے لیے پرعزم ہے۔

درحقیقت، جب ہم دوسروں میں بہترین فرد کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہم کسی نہ کسی طرح خود اپنے اندر بہترین شخصیت کو دریافت کرتے ہیں۔(انگریزی سے اردو میں ترجمہ: سید عرفان علی یوسف)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

four − three =