شاہد میمن۔ طویل جدوجہد

یوم معذوروں کے حوالے سے ’اطراف‘ کی اشاعت خاص کے لیے نصف صدی سے زیادہ عرصے سے نابیناؤں اور دوسرے معذوروں کے لیے جدو جہد کرتے 77سالہ شاہد احمد میمن سے ہماری ملاقات فیڈرل بی ایریا میں پاکستان ڈس ایبلڈ فاؤنڈیشن کے دفتر میں ہوئی۔ جہاں ویرانی کا راج تھا۔ دیکھ بھال نہیں ہورہی ہے۔ شاید حکومت کی طرف سے بجٹ میں کمی ہے۔ مگر فرائض کی انجام دہی بہتر انداز سے ہورہی ہے۔ اس وقت 3 دسمبر کو ہونے والے یوم معذوراں کی تقریب کی تیاریاں جاری ہیں۔ چند لمحوں بعد وہ گورنر ہاؤس جانے والے تھے۔ ان کے چہرے پر ایک طمانیت ہے۔ لہجے میں اعتماد۔ مختلف ادوار سے گزرے ہیں۔ مختلف سربراہوں سے سامنا ہوا ہے۔ وہ معذوروں کے حقوق کے حصول کے لیے جدو جہد کی چلتی پھرتی تاریخ ہیں۔


بصارت سے محرومی۔ مگر بصیرت سے بھرپور

شاہد میمن۔ نصف صدی کی جدو جہد

میں نے مایوسی یا غم کو قریب پھٹکنے نہیں دیا

ڈاکٹر فاطمہ شاہ نے کہا: شاہد اب بھول جاؤکہ تم آنکھ والے ہو

1974 سے ملکوں ملکوں کانفرنسوں۔ میٹنگوں میں شرکت

ہم نے ہڑتال کرکے اپنے مطالبات تسلیم کروائے

بیگم اختر سلیمان نے کہا: آپ کمیونسٹوں کے چکر میں آگئے

ہم معذوروں کی نئی نسل کو با اختیار بننا چاہتے ہیں

نابینا۔ بینا افراد کی نسبت ڈیٹا تیزی سے نکالتے ہیں

وہ 9سال تک ایسوسی ایشن آف بلائنڈ کے صدر منتخب ہوتے رہے

پرنس کریم آغا خان۔ صدر سوہارتو۔ صدر فلپائن۔ بند رانا نیکے ڈیسائی سے ملاقاتیں

شناختی کارڈ پر محرومی کی نوعیت کے اندراج کے لیے جدو جہد

پاکستان ڈس ایبلڈ فاؤنڈیشن کے چیئرمین شاہد احمد میمن سے محمود شام کا تبادلۂ خیال


بلند قامت۔ خوش کلام۔ چہرہ ہر لمحہ مسکراتا ہوا۔ بات کرتے وقت الفاظ کا چناؤ ان کے مطالعے کی گواہی دیتا ہوا۔ سلیقے سے تیار کردہ سفاری میں ملبوس پروفیسر شاہد احمد میمن۔ پاکستان ڈس ایبلڈ فاؤنڈیشن کے چیئرمین کی جسمانی محروموں کی لیے جدو جہد کا سفر 1968 سے۔ پہلے ایم اے کی سند کے حصول کے ساتھ ہی شروع ہوگیا تھا۔ ان کی بینائی 1961 سے متاثر ہونا شروع ہوئی۔ مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ گزشتہ صدی سے شروع ہونے والی کوششیں اس نئی صدی کی تیسری دہائی تک جاری ہیں۔

14فروری 1944 کو ویلنٹائن ڈے پر پونا( متحدہ ہندوستان) میں آنکھ کھولنے والے شاہد میمن کا خاندان 1950 کے آخر میں پونا سے ہجرت کرکے۔ یمنی پڑودہ سے ٹرین سے کھوکھرا پار پہنچتا ہے۔ وہاں سے بس سے حیدر آباد۔ پھر کراچی۔ ان کے تایا پہلے سے آگئے تھے۔ یہ تین مہینے بعد آتے ہیں۔ پرائمری تعلیم عبدالرحیم صالح محمد گورنمنٹ اسکول کلری لیاری میں حاصل کی۔ اس وقت سب کچھ دیکھ سکتے تھے۔ چھٹی جماعت میں ٹائیفائڈ لاحق ہوا۔ اسی کے ساتھ بھی بینائی کم ہونا شروع ہوگئی۔ ان کا تعلق پونا کے ایک سیاسی علمی گھرانے سے ہے۔ دادا بڑے تاجر تھے۔ پونا کے رئیس عظم چیئرمین سٹی کونسل۔ اور خلافت کمیٹی کے چیئرمین بھی۔ وہ فخر سے بتارہے ہیں کہ ہندوستان کی نامور ہستیاں حکیم اجمل خان۔ اور شاہ عبدالعلیم صدیقی( مولانا شاہ احمد نورانی کے والد محترم) پونا میں ان کے ہاں ہی ٹھہرتے تھے۔ دادا کا انتقال جلدی ہوگیا تھا۔ ان کی جگہ احمد ای ایچ صغیر صاحب نے سنبھالی تھی۔

’’پوری بینائی کب گئی۔‘‘

ظاہر ہے کہ یہ تجسس تھا۔ شاہد احمد میمن کی یادداشت غصب کی ہے بتارہے ہیں کہ ’’ 15 اکتوبر 1971 میں اسپنر آئی اسپتال سے لی مارکیٹ آرہے تھے کہ ایک کھمبے سے ٹکراگئے۔ مجھے تو لگ رہا تھا کہ کوئی سایا ہے۔ لیکن حقیقت میں وہ پول تھا۔ پھر کسی انتخابی مہم کے سلسلے میں اسی روز لائنز ایریا میں تھے کہ بندو خان ریسٹورینٹ کے سامنے فٹ پاتھ پر ایک درخت سے ٹکراگئے۔ 17 جنوری 1972 میں ڈاکٹر فاطمہ شاہ کے ہاں میٹنگ تھی۔ ہم نے کہا کہ ہم نے آپ سے یکجہتی کرتے ہوئے دو چوٹیں لگوائی ہیں۔ وہ بذلہ سنج تھیں کہنے لگیں کہ یہ بیوقوفی ہے یا دیوانگی۔ پھر اعتماد سے کہا کہ شاہد اب بھول جاؤ کہ تم آنکھ والے ہو۔ اب جان لو کہ تم نابینا ہو۔ اور سفید چھڑی تھام لو۔

ہم پوچھ رہے ہیں کہ ’’آپ مایوس ہوئے یا غم زدہ۔‘‘

کہنے لگے کہ ’’ مایوسی یا غم کو میں نے کبھی پھٹکنے نہیں دیا۔ والدین پر ذہنی دباؤ تھا۔ لیکن وہ بھی یہی سوچتے تھے کہ الہ کی منشا یہی ہے۔ آہستہ آہستہ ہمیں سڑک پر۔ پڑھنے میں گھر میں مشکل ہونے لگی۔ ناظم آباد میں ہم ریلیکیس سینما کے قریب رہتے تھے۔ آڈلٹ بلائنڈ سینٹر گارڈن میں تھا۔ میں 7A اور 7C بس سے وہاں جانے لگا۔

شاہد احمد میمن اپنی اس دُشوار زندگی کے واقعات بڑے لطیف پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔ ایک دفعہ کا ذکر کررہے ہیں کہ میں اسی بس سے اترا۔ پیٹرول پمپ کے نزدیک سے سڑک عبور کرنا ہوتی تھی۔ میں نے بس اسٹاپ پر قریب کھڑے شخص کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا کہ اس سے سڑک پار کروانے کی درخواست کروں۔ وہاں سے نسوانی آواز آئی آپ کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ میں شکل سے اندھا نظر نہیں آتا۔‘‘

میں اپنے ہیئر ڈریسر کے پاس جاتا تھا۔ مجھے دھوپ میں کچھ کچھ نظر آتا تھا۔ بس پر آسانی سے چڑھ بھی جاتا تھا۔ ایک بار میں اترا تو نائی کی دکان سے ٹکرانے گلا تو اس نے کہا کہ بننے کی کوشش مت کرو بس میں تو ٹھیک چڑھ رہے تھے۔

بس میں کنڈکٹر کرائے کے لیے ہاتھ پھیلاتا تو مجھے نظر نہ آتا۔ کنڈکٹر طنزاً کہتا کہ بڑے میاں مفت میں سفر کرنا ہے کیا۔

میں اسلامیہ گرلز کالج میں پڑھانے جاتا تھا۔ بلیو ربن بیکری کے قریب۔ میں نے ایک شخص سے کہا کہ مجھے سڑک پار کروا دو۔ پہلے تو انہیں یقین نہیں آیا۔ لہجہ پٹھانوں والا تھا۔ کہنے لگے کہ اللہ اللہ کرو۔ ایک طرف بیٹھ کر مانگو۔ لوگ کچھ نہ کچھ دے ہی دیں گے۔ میں نے کہا کہ میں تو کالج میں پڑھاتا ہوں۔ ٹھیک ٹھاک کما لیتا ہوں۔ خان صاحب کہنے لگے کہ اچھا۔ اندھا صاحب معاف کرو۔ انہوں نے مجھے سڑک پار کروانا شروع کردی۔ آواز آئی رک جاؤ۔ اندھا صاحب بلڈنگ آگیا۔ چڑھو۔ صبر کرو۔ ابھی اترنا ہے۔ ابھی چلنا ہے۔

مجھے وہ پٹھان اب بھی یاد ہے۔

بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کے لیے انہیں 1974 کی انٹرنیشنل فیڈریشن آف بلائنڈ کے زیر اہتمام برلن کی میٹنگ یاد ہے۔ پہلی بار ترقی پذیر ممالک سے نمائندگی ہوئی۔ ڈاکٹر فاطمہ شاہ کی سرکردگی میں جانا ہوا۔ واپسی میں ایران اور ترکی میں بھی گئے۔ فرح پہلوی ایرانی نابیناؤں کی انجمن کی سربراہ تھیں۔

شاہد احمد میمن فخر سے بتا رہے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ اس نے انہیں ہمت اور جرأت دی کہ کبھی اپنے حقوق اور اصولوں پر سودے بازی نہیں کی۔ جنرل ضیاء الحق معذوروں کے لیے بہت ہمدرد تھے۔ انہوں نے بہت اہم قوانین منظور کیے۔ لیکن میری ان سے ضد رہی کہ یہ اہم اقدامات شاہی فرمانوں کے ذریعے طے نہیں ہوسکتے۔ اس کو سسٹم میں لائیں۔ میں نے انہیں خط لکھا۔ انہوں نے اس وقت کے وزیر قانون اے کے بروہی کو بھیجا۔ میری ان سے بھی ملاقات ہوئی۔ آفیسرز ان قوانین پر عملدرآمد کے لیے تیار نہیں۔ انہیں ان کی تربیت بھی نہیں تھی۔ پھر وہ ان کو نظر انداز بھی کرنا چاہتے تھے۔

’’آپ نے معذوروں کے لیے فاؤنڈیشن کب بنائی۔ اور ان کے لیے مسلسل کوششوں کا آغاز کب کیا۔‘‘

وہ یاد کرکے بتانے لگے کہ ’’ یہ 1980 کی دہائی کی بات ہے۔ سماجی بہبود کے کام میں اوّل اوّل بیگم طیب جی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نرگس جیون جی۔ حسین شہید سہر وردی سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی بیگم اختر سلمان کے ساتھ بہت کام کیا۔ ان کی صاحبزادی شاہدہ جمیل بھی اپنی امی کے ساتھ آتی تھیں۔ اب بھی ان سے رابطہ ہے۔ سماجی بہبود میں ان کی بہت خدمات ہیں۔

Adult Blind Centre میں بھی میرا جھگڑا رہتا تھا۔ میں کہتا تھا کہ خیراتی حوالے سے بہت سہولتیں ہیں۔ لیکن نابیناؤں کو اخلاقی طور پر بلند اور آزاد ہونا چاہئے۔ میں نے وہاں دو سال کا کورس چار مہینے میں پورا کردیا تھا۔ یہاں ہمیں سلائی بھی سکھائی جاتی تھی۔ بڑھئی کا کام بھی۔ اور بریل سے پڑھائی بھی۔ 1985 میں ہم نے اُردو بریل گائیڈ بھی وفاقی حکومت کے تعاون سے شائع کی۔ جنرل ضیا نے 1981 میں اسپیشل ایجوکیشن کی نگرانی کے لیے چار کرنلوں کی ڈیوٹی لگائی۔

یہ اس سے پہلے کی بات ہے۔ہم نے کہا کہ یہاں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ جو لڑکے ہوسٹل میں تھے انہیں ہوسٹل سے باہر آنے جانے کے لیے چوکیدار سے پاس لینا پڑتا تھا۔ وہ بہت تنگ کرتا تھا۔ مل مالکان بہت مدد کرتے تھے۔ ہم نے یونین بنائی۔ اور اپنی باتیں نہ مانے پر ہم ہڑتال پر مجبور ہوگئے۔ ہم فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے۔ ہمارا ہوسٹل گارڈن تھانے میں تھا۔ اور فٹ پاتھ سولجر بازار تھانے میں۔ اس طرح دونوں تھانوں کی پولیس ہمارے پیچھے لگ گئی۔ ہم نے اس وقت کے طالب علم لیڈرں کی مدد حاصل کرنا چاہی۔ ہم انٹر کالیجیٹ باڈی کے رانا اظہر علی۔ شہنشاہ حسین سے ملے۔ ان دنوں ان دونوں میں تنازع تھا۔ بیگم اختر سلیمان نے ہمیں سمجھانا چاہا کہ آپ لوگ ہڑتال بند کریں۔ آپ کمیونسٹوں کے چکر میں آگئے ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہمارے مطالبات مان لیے جائیں تو ہم ہڑتال ختم کردیں گے۔ بہت تکرار ہوئی۔ پولیس سے بھی جھگڑے ہوئے۔ لیکن بالآخر مطالبات مانے گئے۔ تو ہم نے ہڑتال ختم کردی۔مجھے یاد ہے کہ نابیناؤں پر لاٹھی چارج بھی ہوا۔ہم اخبارات میں گئے۔ ’جنگ‘ میں سید محمد تقی نے ہمارے مسئلے پر اداریہ لکھا۔ ابراہیم جلیس نے اپنے مقبول عام کالم وغیرہ وغیرہ میں ہمارے مطالبات کا ذکر کیا۔ اور انہیں جائز قرار دیا۔

شاہد میمن صاحب کو اے بی سی یعنی آڈلٹ بلائنڈ سینٹر یاد آرہاتھا کہ جب باہر سے کوئی اعلیٰ حکمران شخصیت آتی تو بیگم طیب انہیں سینٹر میں لے کر آتیں۔ انکے صاحبزادے ملک کے پروٹوکول چیف تھے۔ اس لیے انہیں آسانی تھی۔ مہمان شخصیت کی پروگرام میں یہ دورہ بھی شامل کروادیا جاتا تھا۔ نابینا طالب علموں کو اس دن کے لیے نیا لباس دیا جاتا۔ یہ کپڑے سائز کے نہیں ہوتے تھے۔ ہم زور دیتے کہ آپ ان طالب علموں کے سائز کے جوڑے بنائیں۔ اچھا نہیں لگتا کہ الٹے سیدھے ڈھیلے ڈھالی کپڑے پہن کر ان کے سامنے آئیں۔

مجھے یاد آرہا ہے کہ ناظم آباد میں گارمنٹس کی فیکٹری تھی۔ جواد صاحب اس کے مالک تھے۔ وہ نابیناؤں کو ملازمت دینا چاہتے تھے۔ لیکن عام کارکنوں کی نسبت کم تنخواہ دے رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ نابیناؤں کے اخراجات عام لوگوں سے کم ہوتے ہیں۔ انہیں ٹرانسپورٹ کی سہولت ہے۔ فیس کم ہے۔ یہ سن کر ہمیں دُکھ ہوا ہم نے کہا کہ ہم ایسی ملازمت نہیں لیں گے۔

ہماری جدو جہد کی نتیجے میں نابیناؤں کو سی ایس ایس کی امتحان میں حصّہ لینے کی اجازت مل گئی۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف بلائنڈ۔ جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے میں نے 5مارچ 1972 میں حلف اٹھایا تھا۔ ان دنوں کی مجھے انیتا غلام علی۔ جاوید جبار اور آمنہ مجید ملک یاد آرہے ہیں۔

شاہد میمن صاحب کی جدو جہد کی داستان بڑی دلچسپ ہے۔ وہ ہماری درخواست پر آمادہ ہوگئے ہیں کہ وہ اپنی یادیں’اطراف‘ کے لیے بیان کریں گے۔

بھٹو صاحب کے زمانے میں ڈاکٹر فاطمہ شاہ بہت سرگرم تھیں۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے چیئرمین یونس سعید کو ہدایت کی گئی کہ وہ بریل پرسن قائم کریں۔ اس کی منیجنگ کمیٹی کی چیئرمین بیگم مجیب النساء اکرم کو بنایا گیا۔ ہم اس وقت کے سیکرٹری تعلیم عبدالعلی خان سے ملے۔ جو خان عبدالولی خان کے بھائی تھے۔ ہم نے ان سے کہا کہ کمیتی کی ہیئت نہ بدلیں۔ کیونکہ نئی چیئرمین کا تو اپنا بریک پریس ہے۔ وہ سرکاری بریل پریس کو کیسے چلنے دیں گی۔

ہم آج کی بہت فعال نابینا سلمان الٰہی کی کوششوں کی باری میں ان کی رائے دریافت کرنے لگے۔ وہ کہنے لگے کہ :

’’ ہم نے 2015 میں کراچی یونیورسٹی سے آئی ٹی پر کامیاب قومی کانفرنس منعقد کروائی خاص طور پر نوجوانوں کو شامل کیا۔ میرپور خاص میں اس سلسلے کا 10واں سیمینار منعقد ہوا تھا۔ سلمان الٰہی ان ہی نوجوانوں میں سامنے آئے۔ ہم نے 8 یونیورسٹیوں میں بڑے بڑے کورس کروائے۔ اب ہماری تازہ ترین کوشش نئی ٹیکنالوجی سے نابیناؤں کو طاقت ور اور با اختیار بنانے کے لیے ہیں۔ ہم نے وزیراعظم اور وزیر خزانہ کو خطوط تحریر کیے ہیں۔ کہ اسمارٹ فون میں ایسا سافٹ ویئر ڈال دیا جائے۔ ہماری نابینا نوجوان اپنے طور پر یہ کام کررہے ہیں۔ شوکت ترین نے اپنی بجٹ تقریر میں اعلان کردیا تھا۔ لیکن یہ معاملہ قانون سازی میں اٹکا ہوا ہے۔ ہم سیکرٹری خزانہ سے بھی ملے۔ ایف بی آر کے چیئرمین سے بھی۔ امید ہے کہ اس کے لیے ہماری کوششیں 3دسمبر سے پہلے بار آور ہوجائیں گی۔ پاکستان ڈس ایبلڈ فاؤنڈیشن کے مسلسل اصرار پر اب نابیناؤں کو تمام یونیورسٹیوں میں عام طالب علموں کے ساتھ کلاسز میں داخلے بھی مل رہے ہیں۔ اور روزگار بھی۔ بینکوں کے کال سینٹرز میں نابینا عام افراد کی نسبت زیادہ تیزی سے ڈیٹا نکالتے ہیں۔ اور کال کرنے والوں کو قائل کرلیتے ہیں۔ این ای ڈی کے پروفیسرز نے بھی اس بات وک تسلیم کیا ہے۔‘‘

ہم پوچھ رہے ہیں کہ ’’آپ کو اپنی اس طویل جدو جہد پر کتنا اطمینان ہے۔‘‘

وہ کہہ رہے ہیں کہ ’’ جدو جہد بہت طویل تھی۔ مجھے فخر ہے کہ میں معذوروں خاص طور پر نابیناوں کی بہبود اور روزگار کے حصول میں ابتدا سے شریک ہوں اور اب جب نابینا پہلے سے بہتر سہولتیں حاصل کررہے ہیں تو بڑی تسکین ہوتی ہے۔ معذوری کو بہت سے حقوق مل گئے ہیں لیکن ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ایک Inclusive Society شمولیتی معاشرہ قائم کیا جائے۔ جہاں سب انسان ایک سے ہوں۔‘‘

آخر میں ہم دریافت کررہے ہیں کہ ’’ نابیناؤں کی ایسوسی ایشن کے عہدیدار کی حیثیت سے انہیں کہاں کہاں جانے اور کس کس شخضیت سے ملنے کا اتفاق ہوا۔‘‘

1984 میں وہ پاکستان ایسوسی ایشن آف دی بلائنڈ کے صدر منتخب ہوئے۔ تین بار انہیں یہ عہدہ نصیب ہوا۔ مسلسل 9سال انہوں نے خدمات انجام دیں۔ اس سے پہلے 1974 میں پاکستانی وفد کے ڈپٹی لیڈر کی حیثیت سے برلن میں بین الاقوامی فیڈریشن برائے نابینا کے کنونشن میں شرکت کی 1978 میں نئی دہلی اور ہانگ کانگ میں اس فیڈریشن کے انتظامی اجلاسوں میں شامل ہوئے۔ اپنے مقالات بھی پڑھے۔ 1979 میں بیلجیم میں نابیناؤں کی پانچویں جنرل اسمبلی میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ اس سفر میں انہوں نے لندن میں نابیناؤں کے لیے رائل انسٹی ٹیوت کا دورہ بھی کیا۔ فروری 1981 میں مغربی جرمنی میں پانچ ہفتے قیام کیا۔ اس سال کے آخر میں سری لنکا۔ 1983 میں سنگا پور۔ 1984 میں ریاض سعودی عرب۔ 1985 میں بہاماز جزیرے۔ 1986 میں نئی دہلی میں کانفرنس اور اسی سال نیویارک میں بھی۔

لوئیس بریل میموریل کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے پریس میں ایک میٹنگ میں شریک ہوئے۔ 1987 میں نابیناؤں کی بین الاقوامی کانفرنس میں جرمنی گئے۔ وہیں سے نیویارک۔ لندن میں بھی میٹنگوں میں شامل ہوئے۔ 1988 میں ایشین کانفرنس بینکاک میں پاکستسان کی نمائندگی کی۔ میڈرڈ اسپین میں اسی سال ورلڈ بلائنڈ یونین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔ اسی سال ناروے بھی گئے۔ 1989 میں احمد آباد انڈیا۔ 1990کوپن ہیگن۔ وارسا پولینڈ۔1991 بوسٹن۔ شکاگو واشنگٹن۔ 1992 میں بارسلونا اسپین۔ میں چیف ڈی مشن کے طور پر۔ نومبر 1992۔ مصر میں وہ ایشین بلائنڈ یونین کے چار سال کے لیے متفقہ طور پر منتخب ہوئے۔ اکتوبر 1993 میں نیروبی کینیا۔ جنوری 1994 ملبورن آسٹریلیا۔ بنکاک۔ جولائی 1994 میں منیلا۔ ستمبر1994۔ اوسلو ناروے۔ دسمبر 1994 ٹوکیو۔ ناگریا۔ بیجنگ۔ ہانگ کانگ۔ اپریل 1995وینزویلا۔ اگست 1996 ٹورنٹو کینیڈا۔ اسی سال کے آخر میں آک لینڈ نیوزی لینڈ۔آک لینڈ نیوزی لینڈ۔ اکتوبر 1997 میں یونیسکو کی میٹنگوں کے لیے پیرس۔ اور مراکش میں کاسا بلانکا۔ 2000 میں اٹلانٹا امریکہ۔ 2003 میں بنگلا دیش۔ 2004 میں جنوبی افریقہ۔ جولائی 2006 میں ملائشیا۔ دسمبر 2006 میں ہالینڈ۔ 2008 میں ڈھاکا۔ سیٹل بالٹی مور۔ واشنگٹن۔ اکتوبر 2011میں ڈربن۔ جنوبی افریقہ۔ مارچ 2012سان ڈیاگو۔ فرینکفرٹ۔ جنوری 2014 کوالالمپور، ملائشیا۔ اپریل 2014بوسٹن، امریکہ۔جولائی 2015میں بریل قرآن تعلیم کے لیے استنبول۔ 2016میں امریکہ آزاد جموں و کشمیر میں معذوروں کی بہبود کے لیے۔

شاہد میمن صاحب کو ان کانفرنسوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ اہم عالمی شخصیتوں پرنس کریم آغا خان۔ جنرل سوہارتو صدر انڈونیشیا۔ جنرل راموس صدر فلپائن۔ مسر بندرانائیکے وزیراعظم سری لنکا۔ مادام کمارا تنگا صدر سری لنکا۔ مرار جی ڈیسائی وزیرا عظم انڈیا۔ شیر بہادر وزیرا عظم نیپال۔ شہزادی اشرف ایرن سے بھی ملنے کا موقع ملا۔

ملکوں ملکوں گھومنے اور ایک اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے مسلسل مساعی کرنے والے شاہد میمن میرے سامنے ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اتنے جہاندیدہ۔ اتنی کانفرنسوں میں علم اور دانش حاصل کرنے والی یہ شخصیت کتنی سادہ اور منکسر مزاج ہے۔ ان کے ذہن میں کتنی وسعتیں ہوں گی۔ کیا کیا بلند خیالات ہوں گے۔

’’اگر آپ بینا ہوتے تو کیا آپ کو اتنی دنیا گھومنے کا موقع ملتا۔‘‘

کہہ رہے ہیں۔’’ یہی سوال مجھے وائس آف امریکہ کے انٹرویو میں بھی کیا گیا تھا۔ میں تو اسے اللہ کا کرم اور فضل سمجھتا ہوں۔‘‘

ان دنوں ان کی کوششیں یہ ہیں کہ نابینائں اور دوسرے معذوروں کے لیے شناختی کارڈ پر یہ اندراج ہو۔ کہ ان کی نوعیت کیاہے۔ بصارت سے محروم ہیں۔ سماست سے یا کوئی اور نوعیت تاکہ ان کے لیے جن سہولتوں کا اعلان کیا گیا ہے وہ ان سے مستفید ہوسکیں۔ اس سلسلے میں وہ 2اگست کو چیئرمین نادرا طارق ملک سے ملے تھے۔ ماشاء اللہ بڑی نمازی اور حسن سلوک والے۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ جلد ہی کارڈ پر یہ نوعیت درج کی جائے گی۔ مگر اب وہ ہمارے خطوط کا پیغامات کا جواب بھی نہیں دے رہے ہیں۔


ضیغم محمود رضوی

مصنف/مرتب

ضیغم محمود رضوی

چیئرمین: سر سیّد ڈیف ایسوسی ایشن(SDA)، اسلام آباد

پیٹرن: پاکستان ایسوسی ایشن آف دی ڈیف(PAD)

پیٹرن: ڈیف ویلفیئر سوسائٹی سرگودھا

ضیغم محمود رضوی ڈویلپمنٹ فنانس بینکر ہیں۔ ان کا تعلق بینکنگ کے ایک ایسے شعبے سے ہے جو ترقیاتی کاموں میں براہ راست دلچسپی لیتا ہے۔ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران وہ بہت سے مشہور اور صف اوّل کے بین الاقوامی ڈیولپمنٹ فنانسنگ اداروں سے وابستہ رہے ہیں۔

ان کی کاوشوں اور بہت سے فیصلوں کے نتیجوں میں پاکستان کے کئی ڈیولپمنٹ فنانسنگ اداروں میں جہاں آپ کو Chairman MD کے طور پر مقرر کیا گیا، کی مالی اور انتظامی کارکردگی پر سوالہ نشان تک پسماندگی کا شکار تھی، بدرجہ بہتر ہوئی۔ ان میں پاک کویت، پاک لیبیا، سعودی پاک Joint Ventures اور مکانات بنانے کی مالی معاونت کرنے والی ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی HBFC شامل ہیں۔

انہوں نے مندرجہ ذیل اداروں کی بورڈ پر بھی خدمات انجام دی ہیں’

1۔ میزان بینک کے Founding Director کی حیثیت سے

2۔ المیزان ایسٹ مینجمنٹ کمپنی جو کہ ایک پورٹ فولیو مینجمنٹ کمپنی ہے۔

3۔ دبئی اسلامی بینک

4۔ تکافل پاکستان، جو کہ ایک اسلامک انشورنس کمپنی ہے، وغیرہ شامل ہیں۔

بیس سال تک ایسوسی ایشن آف ڈیولپمنٹ فنانسنگ انسٹی ٹیوشن آف ایشیا اینڈ پیسیفیک ADFIAP کے وائس چیئرمین بھی رہے ہیں۔

پاکستان اور گلف کے بہت سے ممالک میں اسلامک بینکنگ متعارف کرانے میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے۔

میوچل فنڈ ایسوسی ایشن آف پاکستان MUFAP کے بانی تھے اور دس برس تک اس کے چیئرمین رہے اس کے علاوہ وہ کئی کارپوریٹ اداروں کے بورڈ میں خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ گورننس PICG کے بانی تھے اور بس برس تک اس کے چیئرمین رہے اس کے علاوہ کئی کارپوریٹ اداروں کے بورڈ میں خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ گورننس PICG کے بانی ڈائریکٹر رہے۔

کئی سالوں پر محیط اپنے تجربات کی روشنی میں ضیغم صاحب نے اس جذبے کے تحت کہ دنیا میں معاشی طور پر کمزور طبقے کے لوگوں کے لیَے کم قیمت رہائشی مکانات کی سہولت پیدا کی جائیں، کافی کام کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کا یہ تجربہ قابل تقلید ہے۔ جو کہ انہوں نے دنیا کے 25 سے زیادہ مختلف ممالک میں حاصل کیا ہے۔ جن میں افریقہ، مشرق وسطیٰ، مشرقی ایشیا، شمالی ایشیا اور پیسیفک کے ممالک شامل ہیں۔

ضیغم صاحب UNESCP اور world Bank کے کنسلٹنٹ کے طور پر ان کی اس مطالعاتی کاوش کا بھی حصّہ رہے ہیں جو جنوبی ایشیا اور افریقہ کے نادار اور غریبوں کی بھلائی اور ان کے لیے رہائشی مکانات کی فراہمی کے لیے مالی معاونت کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

بحیثیت ایک ماہر مشیر برائے رہائشی مکانات و مالی معاونت برائے رہائشی مکانات کے CMHC-Canada ‘UN ESCAP‘UN Habitat ‘World Bank ‘IFC ‘Shore Bank International USA اور دوسرے بین الاقوامی اداروں میں خدمات انجام دیں۔

انہوں نے ایک مجلہ ’’ایشیا اور بحرالکاہل سے متعلق مالی معاونت برائے رہائشی مکانات Asia-Pacific Journal of Housing Finance کو جاری کرنے کے سلسلے میں کلیدی کردار ادا کیا اور اس کے مشاورتی بورڈ کے رکن اور جنرل سیکرٹری ہیں۔

ضیغم محمود صاحب نے پاکستان سے کیمیکل انجینئرنگ اور اکنامکس میں ماسٹر کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے 1975 میں فل برائٹ اسکالر شپ پر امریکہ سے MBA کی ڈگری حاصل کی۔ دوسری اسناد میں ADFIAP کا ایگزیکٹو ڈیولپمنٹ پروگرام، PICGکا ڈائریکٹر ایجوکیشن پروگرام Institute of Bankers in Pakistan کا بینکنگ ڈپلوما اور Chartered Secretaries of Pakistan کا ڈپلوماشامل ہے۔

آج بھی ضیغم صاحب روز اوّل کی طرح تقریباً 30 برس سے ڈیف افراد کی خدمت میں اسی طرح فعال ہیں۔

ای میل: [email protected]


مفتاح احمد

مفتاح احمد، پیدائشی ڈیف ہیں، تین بہنیں اور دو بھائی ہیں جس میں سے ایک بھائی ڈیف ہے۔ اور چھوٹی بہن سلولرنرز ہے۔

مفتاح نے پہلے ابسا اسکول سے میٹرک کای اس وقت ڈیف افراد کے لیے میٹرک تک ہی تعلیم کی سہولت تھی۔ پھر پی اے ڈی سے کچھ ہنر اور کپڑے سینا سیکھا۔ پھر جب ڈیف کے لیے کالج کی تعلیم شروع ہوئی تو انہوں نے ایف اے ابسا کالج سے کیا۔

اپنی تعلیم کے بارے میں بتاتے ہوئے مفتاح کہتی ہیں کہ والدین نے گھر میں بہت مدد کی۔ گھر میں بولنا سیکھنے پر زور دیا جاتا تھا۔ گھر میں اشاروں کی زبان استعمال کرنا منع تھی۔ اور میں اپنے ڈیف بھائی کے ساتھ چھپ کر اشاروں کی زبان میں بات کرلیا کرتی تھی۔ اس وقت سمجھ میں نہیں آتی تھی مگر اب اپنے والدین کے شکر گزار ہیں کہ ہمارے بولنے کی صلاحیت کافی بہتر ہے جس کی وجہ سے دوسرے لوگوں سے بات کرنے میں کچھ سہولت رہتی ہے۔

2007 میں جب ضیغم محمود صاحب ایچ ڈی ایف میں HBFC کے چیئرمین تھے تو ان سے ملاقات ہوئی اور ان کو صورت حال بتائی تو انہوں نے انٹرویو کے لیے بلایا۔ انٹرویو کے بعد ایچ بی ایف سی میں جاب مل گئی۔ کام کے بارے میں بتاتے ہوئے مفتاح کا کہنا تھا کہ شروع میں تھوڑا خوف تھا کہ میں کیسے کروں گی مگر یہاں سب نے تعاون کیا اور کام سمجھا دیا۔ یہاں ماحول بہت اچھا ہے تنخواہ بھی مناسب ہے۔ اس لیے میں یہاں خوش ہوں۔

شروع میں آفس آنے جانے کے لیے بس استعمال کرتی تھی، پاکستان خصوصاً کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام اچھا نہیں ہے خصوصاً خواتین کو زیادہ مشکل ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے مفتاح کو صبح شام رش کی وجہ سے آنے جانے میں مشکل پیش آتی تھی۔ مگر مفتاح نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور ٹائم پر آفس آتی ہیں۔ اب وین لگوالی ہے تو آرام رہتا ہے۔

جب جاب شروع کی تھی تو مفتاح شادی شدہ نہیں تھیں۔ چند برس پہلے ان کی شادی ہوگئی اور ان کے شوہر بھی ڈیف ہیں۔ حال ہی میں ان کے یہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی۔ جس کی وجہ سے اخرجاات بڑھ گئے ہیں مگر تنخواہ وہی ہے تو کبھی مشکل ہوتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اچھی گزر بسر ہوجاتی ہے۔ شوہر بھی نوکری کرتے ہیں اور سب والدین کے گھر میں رہتے ہیں چنانچہ زیادہ مسئلہ نہیں ہوتا۔

ایک شادی شدہ ورکنگ ویمن کے طور پر زندگی کیسے گزارتی ہیں؟ جوابہ میں مفتاح کا کہنا تھا کہ مجھے تین کام سنبھالنے پڑتے ہیں۔ صبح سے شام تک آفس میں کام، پھر گھر کے کام کھانا پکانا وغیرہ، اور بچے کی دیکھ بھال، چونکہ بچہ ابھی چھوٹا ہے تو رات کو سونے کا ٹائم بھی کم ہوتا ہے صبح اٹھ کر اپنے اور شوہر کے لیے کپڑے اور ناشتہ تیار کرنا پھر وقت پر آفس پہنچنا سارا دن آفس میں کام کرکے شام کو گھر جاکر رات کا کھانا تیار کرنا اور بچے کی دیکھ بھال۔ یہ سب مشکل تو ہے مگر میں ہمت نہیں ہارتی اور سب ذمہ داریاں اچھی طرح نباہتی ہوں۔ جب آفس میں ہوتی ہوں تو بچے کی دیکھ بھال دادی کرتی ہیں جس سے ایک اطمینان رہتا ہے مشترکہ فیملی سسٹم میں یہ ایک اچھی چیز ہے کہ ایک دوسرے کی مدد سے زندگی اچھی گزرتی ہے۔

دینی تعلیم اسکول سے زیادہ گھر پر والدین سے حاصل کی۔ مگر بہت زیادہ علم نہیں ہے۔ چونکہ اشاروں کی زبان میں دینی تعلیم کا مواد کم ہے تو زیادہ علم حاصل نہیں کرپاتیں۔ اُردو، انگلش کی طرح اشاروں کی زبان میں بھی زیادہ تعلیمی مواد ہو تو اس سے شیف افراد فائدہ اتھا سکتے ہیں۔

مفتاح کو نیشنل جیوگرافک کے پروگرام پسند ہیں۔ لیکن انٹر پریٹنگ نہیں ہوتی تو کبھی پوری بات سمجھ نہیں آتی۔ نیوز وغیرہ میں بھی یہ مسئلہ ہوتا ہے۔ کبھی شہر میں امن و امان کا مسئلہ ہو جائے ہمیں پتہ نہیں چلتا ہے۔ ایک بار یہ تیار ہوکر آفس کے لیے نکل رہی تھی تو ان کی ساس آئیں اور کہا آج شہر کے حالات خراب ہیں تب پتہ چلا۔ ان کے بقول پہلے زیادہ مشکل ہوتی تھی اب ایس ایم ایس کی سہولت ہے تو دوست رشتے دار میسج کرکے بھی بتا دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ مفتاح کو میڈیا سے شکایت ہے کہ وہ خواتین، کوکنگ، فیشن، بزنس، وغیرہ کو تو باقاعدہ ٹائم دیتے ہیں اور اخبارات میں صفحات مختص ہیں مگر ڈیف افراد کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ کم از کم ہفتے میں ایک بار ڈیف افراد کے لیے بھی ٹائم اور صفحات مختص ہونے چاہئیں۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

twelve − seven =