ذہنی پس ماندہ بچوں کے لیے پہلا ادارہ

سیما لیاقت ہمیشہ ’اطراف‘ سے رضاکارانہ قلمی تعاون کرتی ہیں۔ معذوری کے لیے ’اطراف‘ کی اشاعت خاص کے لیے ان سے درخواست کی گئی تھی کہ معذوروں کی بحالی کے لیے کام کرنے والے کسی ادارے سے قارئین اطراف کو متعارف کروائیں انہوں نے پی ای سی ایچ ایس کراچی میں ذہنی پسماندگی دور کرنے کے لیے 1960سے قائم ادارے سے رابطہ کیا۔ ایک دل گرفتہ نے اپنے معذور بیٹے نیاز مسلم کی صورت حال دیکھ کر انہوں نے ایک ادارے کی بنیاد رکھی تاکہ وہاں نیاز مسلم جیسی صورت حال سے دو چار بچوں کا مفت علاج کیا جاسکے۔ اور انہیں باقاعدہ کوئی ہْنر بھی سکھایا جائے۔


منگول بچے۔ سائینوسا ڈے ہوم کی آغوش میں

نیاز مسلم کی بیماری۔ اس ادارے کی بنیاد بن گئی

پیشہ ورانہ شعبے میں داخلے کے وقت ذہنی عمر دیکھی جاتی ہے

Retarted نہیں Intellectual disability

تین قسم کی تھراپی۔ اسپیچ۔ فزیو۔ ہائیڈرو تھراپی

سلائی۔ بڑھئی کا کام۔ مصوری۔ کھانا پکانا سکھایا جاتا ہے

سب سے زیادہ بچے اورنگی ٹاؤن سے آتے ہیں

سائنوسا کا اسپیشل اولمپک گیمز سے الحاق

سائنو سا ذہنی پسماندہ بچوں کے لیے پہلا ادارہ

 تحریر: سیما لیاقت


قارئینِ اطراف کے تسلسل کے لیے بہتر ہے کہ شروع میں ہی وجہ تسمیہ پر بھی بات ہوجائے۔ادارے کے نام کی ترتیب اور ترکیب سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے کہ اس میں دانستہ کہیں بھی ذہنی پس ماندگی کا لفظ استعمال نہ ہوا کہ اس وقت (1960)میں لوگ ذہنی معذوری سے متعلق بہت سے توہمات اور ناپسندیدگی کااظہارکرتے تھے اسی سے بچنے کے لیے اس طرح نام تجویز کیا گیا۔

سائنوساڈے ہوم کے لیے قابلِ فخر بات کہ پاکستان کا پہلا ادارہ جو ذہنی پس ماندہ بچوں کے لیے قائم ہوا۔اس سے قبل ایسا کوئی بھی ادارہ پاکستا ن میں نہیں تھا۔ اب یہ ایک مشعل کی حیثیت ثابت ہوا کہ جس کی دیکھا دیکھی دیگر لوگوں نے بھی ہمت کی اور اس طرح کے مزید ادارے وجود میں آئے۔ سائنوسا کا قیام تو قدرت کی طرف سے ایک غیبی اشارہ تھا جسے سمجھنا کچھ مشکل نہیں۔

میں اْس ربِ غنی و حمیدکاشکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے ایک ذہنی پسماندہ بچہ عطافرمایا۔۔۔اور مجھے دیگر ذہنی پسماندگان کی خدمت، نگہداری، تعلیم وتربیت اور بحالی کی طرف پیش قدمی کی سعادت بخشی۔”

یہ تمہید ہے ابوالامتیازع س مسلم صاحب کی جو انہوں نے اپنی کتاب “پاکستان میں ذہنی پسماندگی” کے ابتدائیہ میں رقم کی ہے۔ اس اقتباس کا پہلا جملہ ہی سامنے والے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے کہ کیا بھلا کوئی ان باتوں پر بھی شاکر ہوسکتا ہے۔یہاں تو بہت سارے وسوسوں کے نتیجے میں مایوسی ہی ڈیرہ جماتی ہے۔لیکن نہیں! کچھ باہمت لوگ ہوتے ہیں جو اپنا راستہ الگ کرتے ہوئے دوسروں کے لیے راہیں ہموار کرجاتے ہیں۔یہی کچھ مسلم صاحب نے بھی کیا۔

اطراف نے اپنے خاص نمبر کے خاص لوگوں کے لییمسلم صاحب کے ادارے سے رابطہ کیا۔اپنا مقصد بیان کیا تو وہاں موجود پرنسپل رضوانہ خانم نے بہت خوش اسلوبی سیا طراف کو خوش آمدیدکہا۔ ان کے ساتھ طے شدہ وقت میں ایک نشست رکھی گئی۔رضوانہ خانم اس ادارے میں 2003سے وابستہ ہے۔اسپیشل ایجوکیشن میں ماسٹرز ہیں۔ اس اعتبار سیبچوں کے مزاج، نفسیات کونہ خود بہت اچھی طرح سمجھتی ہیں بلکہ سامنے والے پر بھی چیزیں واضح کرجاتی ہیں۔ہم ان کے اس تعاون اور بے لوث جذبہ کوسراہتے ہیں۔ ان سے ہونے والی گفتگو اپنے قارئین کی نذر ہے۔

1950 میں نیاز مسلم پیلوٹھی اولاد کی پیدائش ہوتی ہے۔9 سال کی عمر تک بالکل ٹھیک کہ جنہیں دیکھ کر کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔پہلے نمونیا ہوا۔اس کے علاج کے بعد ٹھیک ہوگئے۔ لیکن پھر بخار نے آلیا تب ڈاکٹر نے کہا کہ یہ منگول بچہ (ڈاؤن سینڈرم)ہے اور اس کی زندگی مزید دوڈھائی سال سے زیادہ نہیں ہے۔ان جملوں کی حیثیت دہرے وار کی طرح تھی۔ان والدین پر کیا گزری ہوگی۔مگر اس سے بڑھ کر وہ ذات ہے جو سب کا نصیب اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔نیاز کی ذات میں انہیں ایک جذبہ نوازاگیا تھا۔ (یہ کہانی بذاتِ خود ایک دلچسپ محرک ہے جس کے لیے کتاب پاکستان میں ذہنی پسماندگی از ابوالامتیازع س مسلم کا مطالعہ کیا جاسکتاہے)۔امتیاز صاحب اسی سوچ میں تھے کہ کیا کیسے ہوگا۔ کیا واقعی نیاز کا خاتمہ ہونے والا ہے۔آگے معاملات کس طرح طے ہونگے۔دنیا میں اور بھی تو والدین ہیں جن کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی۔انہی سوالات میں الجھے ہوئے تھے کہ رب تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ وہ ایسا کوئی ادارہ بنائیں جہاں پر اس طرح کیمخصوص بچے اپنا وقت گزاریں اور ان کی تربیت کا انتظام ہو۔

اور یوں 1960 میں مسلم صاحب نے اس ادارے کی بنیاد رکھی۔شروع میں یہ ادارہ پی ای سی ایچ ایس (کراچی) میں دو کمروں سے شروع ہوا۔لیکن جیسے جیسے لوگوں کو اس ادارے کی بابت علم ہوا۔انہوں نے خود رابطہ کرتے ہوئے اپنے ذہنی پسماندہ بچوں کو بھی اس ادارے کا حصہ بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔دوسری طرف مسلم صاحب بھی لوگوں سے رابطہ کررہے تھے کہ کسی طور اس ادارے کووسعت دی جائے۔انہوں نے مخیر حضرات سے روابط کرنے شروع کردیئے۔ان کی کوششیں رنگ لائیں۔اسی دوران انہیں جی۔ ڈ ی طھاریہ جو ایک بنکر تھے ان کی اخلاقی حمایت حاصل رہی۔ان دونوں کا درد مشترکہ تھا۔طھاریہ صاحب کے اپنے صاحب زادے رشید طھاریہ بھی ڈاؤن سینڈرم تھے اور وہ بھی اس ادارے میں نیاز کے ساتھ داخل کیے گئے۔اور کوششیں بھی یکجا ہوئیں۔

رابطوں کی صورت میں ہی پاکستان فضائیہ کے ایر مارشل بی۔کے داس کی اہلیہ نے کے ڈی اے سے دوایکڑ کا رفاحی پلاٹ سائنوسا ڈے کو دیاجس پر آج یہ موجودہ عمارت قائم ہے۔حمید حبیب ( حبیب بنک ) نے بھی ایک لاکھ روپے عطیہ کیے جو 1960 میں بلاشبہ ایک غیر معمولی رقم تھی جس کی وجہ سے یہ عمارت تعمیر ہوئی۔بیگم وقارالنساء نون سابقہ برطانوی نڑاد اور پاکستان کونسل آف سوشل ویلفیئر کی صدر بھی تھیں انہوں نے سائنوسا ڈے ہوم کا وزٹ کیا۔مسلم صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اس وقت ان کی کیفیت مشفق و مہربان دادی اماں کی طرح تھی جیسے ان سب کو اپنے بازوؤں کی حفاظت میں سمیٹ لینا چاہتی ہوں۔حسین شہید سہر وردی کی صاحب زادی بیگم اختر سلیمان خود بھی ایک سماجی کارکن تھیں انہوں نے بھی سائنوسا ڈے ہو م کا وزٹ کیا۔سائنوساکو ان حضرات کے وزٹ پر مکمل اخلاقی سرپرستی حاصل رہی۔اس کے علاوہ بھی مغربی پاکستان،انگلستان، یورپ اور امریکہ سے بھی ایسے لوگ آئے جو فلاحی کاموں میں دلچسپی لیتے تھے اور سائنوسا ڈے ہوم کو ذہنی پس ماندگان کی تعلیم و تربیت کا متبادل سمجھاجاتا رہا۔

ابوالامتیاز مسلم نہ رہے لیکن ان کا لگایا ہوا پودا کس طرح تناور درخت بن گیا ہے۔وہ بچہ بھی نہ رہا جسے ڈاکٹرچند دنوں کا مہمان کہہ رہے تھے لیکن وہ اپنے عمر کی 50 سے زیادہ بہاریں دیکھنے کے بعد رب کی مرضی سے رب کی جانب چلا۔رشید طھاریہ بھی اپنی زندگی جی کر اس جہاں کو لبیک کہہ گئے کہ یہ ایک نارمل عملیہ تھا۔

آئیے اطراف کے ہمراہ مزید آگے بڑھتے ہیں۔جہاں پرنسپل رضوانہ خانم سوال جواب کے نتیجہ میں معلومات دے رہی ہیں۔

رضوانہ جی نے بتایا کہ عام اسکولوں میں عمر کا تعین کیا جاتا ہے جہاں 15 سال کی عمر کے بعد طالب علم اسکول سے فارغ التحصیل جانا جاتا ہے لیکن یہاں ایسا نہیں ہے۔ سائنوسا ڈے ہوم میں بنیادی تعلیم کے بعد بچہ کی پیشہ ورانہ شعبہ (Vocational Department)میں داخلہ کے وقت ذہنی عمر دیکھی جاتی ہے۔اور جب طالب علم اتنا تربیت یافتہ ہوجاتا ہے کہ اپنا ذاتی کام خود سے کرنے لگے،ٹوائلٹ ٹریننگ ہوجائیتو یہ بات بھی اطمینان کا باعث ہوتی ہے۔اس ادارے سے کسی کو بھی فارغ نہیں کیا جاتا۔ انہیں غیر نصابی سرگرمی یا ووکیشنل ٹریننگ کا حصہ بنادیا جاتا ہے۔ ویسے تو والدین کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ سیکھنے کا یہ مرحلہ جاری رہے۔

یہاں کون کون سے بچے ہوتے ہیں یہ جاننے کے لیے ہمیں ان ذہنی پسماندہ بچوں کی درجہ بندی سمجھنی پڑے گی۔لیکن یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اسپیشل ایجوکیشن کی طرف سے اب ان بچوں کے لیے Retardجیسے لفظ استعمال نہیں ہوتے بلکہ انہیںIntellectual Disabilityکہاجاتا ہے۔یقیناً یہ ایک اچھی اور بہتر اصطلاح ہے۔

ان بچوں کی درجہ بندی بہ اعتبار تریب کچھ یوں ہے۔

Border Line Intellectual Disability:             یہ کافی حد تک بہتر ہوتے ہیں۔

Mild Intellectual Disability:           ان کی ذہنی سطح نسبتاًبہتر ہوتی ہے۔یہ ایک حد تک تربیت یافتہ، تعلیم یافتہ ہوپاتے ہیں۔

Moderate Intellectual Disability:  انہیں تربیت فراہم کی جاتی ہے۔تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت نسبتاً کم رکھتے ہیں۔

Sever Intellectual Disability:          یہ manageableہوتے ہیں۔یہ نہ ہی بہترہنر سیکھ پاتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی تربیت باآسانی لے سکتے ہیں۔ انہیں اسسٹنٹ کے ذریعہ ان کے ذاتی کام سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

Profound Intellectual Disability:  ذہنی پس ماندگی کے علاوہ ان میں جسمانی پس ماندگی بھی ہوتی ہے۔ایک عام آدمی کی طرح آزادانہ حرکت نہیں کرسکتے۔اسی لیے یہ معصوم بچے ان داروں کی پہنچ سے دور ہوتے ہیں۔

یہاں بچوں کو تربیت دینے یا آگے بڑھانے کے تین مختلف ذرائع تھراپی، اکیڈمک اورتربیتی طریقے ہوتے ہیں۔

تین قسم کی تھراپی انہیں دی جاتی ہیں جس میں اسپیچ، فزیو اور ہائیڈرو تھراپی شامل ہیں۔کوشش ہوتی ہے کہ انہیں سوئمنگ سکھائی جائے کیونکہ ان کے جسمانی اعضاء نہ صرف کمزور ہوتے ہیں بلکہ ان میں توازن بھی نہیں ہوتالہٰذا ہائیڈرو تھراپی ان کے اعضاء میں توازن قائم کرنے میں مدد دیتی ہے۔تیراکی کے ذریعہ ان کے اعضاء مضبوط ہوتے ہیں۔

تیسرا ووکیشنل ڈیپارٹمنٹ ہے جہاں بچوں کومختلف ہنر سکھائے جاتے ہیں۔یہ شعبہ بہت وسیع ہے۔ 1960 سے جو سکھانے کا عمل شروع ہواہے وہ اب تک جاری ہے۔بچے کپڑے بننا سیکھتے ہیں۔کارپینٹری کاکام بہت اچھا کرتے ہیں جس میں خوبصورت موبائل اسٹینڈ، فریم اورسجاوٹ کی چیزیں شامل ہیں۔فائن آرٹ کا بھی شعبہ ہے جہاں ان بچوں کو پینٹنگ سکھائی جاتی ہے جو رنگوں کابھی شعور نہیں رکھتے تھے۔ بلاک پرنٹنگ ہے۔کاغذ سے مختلف چیزیں سکھائی جاتی ہیں۔بچیوں کے لیے کھانا پکانا، بیوٹیشن شامل ہے۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ہر بچے کو تمام ہنر نہیں سکھائے جاتے بلکہ شروع میں اسے ہر تربیت کا حصہ بناتے ہیں اور پھر جہاں اس کی دلچسپی نظر آتی ہے اس کے لیے وہی تربیت مختص ہوجاتی ہے۔سائنوسا کا پروگرام ہنر بمعہ بحالی ہے تاکہ بچے کچھ کمانے کے قابل ہوجائیں۔کچھ اپنی مدد خود کرسکیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارا ایک بچہ یہاں کار چوبی کاکام اس خوبصورتی سے کرتا ہے کہ اس کی دلچسپی کے مطابق ہم نے اس کے گھر میں ہی مشین رکھوادی ہے جہاں وہ آرڈر پر کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سائنوسا ڈے ہوم کے پانچ تربیت یافتہ بچے DandPakفوڈ انڈسٹری میں کام کرتے ہیں۔جہاں انہیں دیگر لوگوں کی طرح مراعات ملی ہوئی ہیں۔جس میں ٹرانسپورٹ، بونس وغیرہ شامل ہے۔ ورنہ تو ان ذہنی پس ماندہ بچوں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔کیونکہ یہ سب تو نارمل بچے بھی نہیں کرپاتے۔ایسے میں ان بچوں کا یہاں تک پہنچنا ایک کمال بات ہے۔

جب بھی یہاں کوئی داخلے کے لیے آتا ہے تو پہلے اس کا اسسمنٹ ٹیسٹ ہوتا ہے۔اس سے بچہ کا ذہنی معیار سامنے آجاتا ہے۔صرف اسی ٹیسٹ میں پوری ٹیم شامل ہوتی ہے جس میں کلینیکل سائیکلوجسٹ، فزیوتھراپسٹ،اسپیچ تھراپسٹ، اسپیشل ایجوکیٹرز، ٹیچرزا ور والدین شامل ہوتے ہیں۔یہ پوری ٹیم مل کر ہی بچہ کی ذہنی عمر کا تعین کرتی ہے۔اسسمنٹ ٹیسٹ کے ساتھ ہی class observationبھی ہوتا ہے۔کیونکہ ذہنی پسماندگی کے ساتھ ہی ان کا مزاج رویہ بھی پس ماندہ ہوتا ہے۔کچھ بچوں کے مزاج میں sitting problemہوتی ہے۔وہ نہیں بیٹھتے۔کچھ بچے کلاس میں ایک دوسرے کو ماررہے ہوتے ہیں۔ایک بچہ دوسروں کو ڈسٹرب تو نہیں کررہا۔اس کی مطابقت یا عدم مطابقت پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔

کلاس مشاہدے کے بعد IEPیعنی Individualize Education for Planبھی رکھاجاتا ہے۔اب ایک کلاس میں پانچ بچے ہیں۔ان سب کا معیار یا لیول الگ الگ ہے۔مثال کے طور پر پہلی کلاس میں اگر اے بی سی ڈی سکھانی ہے تو ضروری نہیں کہ ہر بچہ کو ایک ساتھ ہی سبق یاد ہو۔سب کی رفتار آگے پیچھے ہوسکتی ہے۔ہر بچے کا الگ پلان ہوتا ہے۔ہمارے پاس 143 بچے ہیں تو پلان بھی 143 تیار کیے جائیں گے اور ہر پلان بچہ کی صلاحیت کے مطابق مختلف ہی ہوگا (یہ ایک محنت طلب اور حیران کن بات ہے )۔

سائنوسا ڈے ہوم میں عملے کی کل تعداد66ہے۔جس میں غیر تدریسی عملہ، ٹیچرز اور ووکیشنل ٹرینر شامل ہیں۔ایک کلاس میں پانچ یا چھ بچے ہوتے ہیں۔اس سے زیادہ بچے خود سے نہیں لیے جاتے۔اگر بچوں کی تعداد زیادہ ہوجائے تو ایک اور کلاس بن جاتی ہے۔ووکیشنل کلاس میں ٹیچر کے ساتھ ایک معاون استاد بھی ہوتا ہے۔

ذہنی پسماندگی کی کیا وجوہ ہوسکتی ہیں کیا یہ موروثی نقص ہے۔اس کے جواب میں رضوانہ صاحبہ نے بتایا کہ پس ماندگی میں موروثی و ماحولیاتی دونوں ہی عوامل کا اثر ہوتا ہے۔ان وجوہات کو بھی تین حصوں میں بیان کرسکتے ہیں۔Pre Natal جسے پیدائش سے پہلے حمل کا عرصہ کہا جاتا ہے۔ Pere Natal حمل کے دوران کا زمانہ اور Post Natalپیدائش کے بعد کا دور ہوتا ہی۔یہ تینوں ادوار اپنی حساسیت کے مطابق بہت اہم ہوتے ہیں۔اور پھر اس کے بعد بھی ڈیولپمنٹ پیریڈ تک کسی بھی نقصان کی صورت میں ذہنی پسماندگی ہوسکتی ہے۔جیسا کہ ایک دم سے جھٹکا لگنا، گردن توڑ بخار، پیدائش کے وقت آکسیجن کی کمی یا غفلت، کسی بھی دوا کی کمی یا زیادتی ان بچوں کا نقصان کرجاتی ہے۔عموماًایسا بھی ہوتا ہے کہ بہت دیر کے بعد پتا چلتا ہے کہ بچہ نارمل نہیں ہییا نارمل نہیں رہا۔

پس ماندگی کئی طرح کی ہوتی ہیجیسا کہ نابینا افراد، قوت سماعت و گویائی سے محروم افراد ہوتے ہیں جبکہ ایک بڑی قسم ذہنی پسماندگی جس میں ڈاؤن سینڈرم، آٹزم اور Cerebral Palsyشامل ہے۔ یہ بچے جسمانی و ذہنی طور پر پس ماندہ ہوتے ہیں۔ذہنی پسماندگی میں ڈاؤن سینڈرم، آٹزم خاص مثالیں ہیں۔

جب اطراف نے ان سے پوچھا کہ کیا کبھی کوئی بچہ اسکول چھوڑ کر بھی جاتا ہے تو پرنسپل صاحبہ نے بہت خوشی سے بتایا کہ سائنوسا ڈے ہوم کی یہ انفرادیت الحمدللہ برقرار ہے کہ آج تک اس کا کوئی بچہ صرف فیس کی وجہ سے اسکول چھوڑ کر نہیں گیا ہے۔ویسے تو ایک بچہ کی فیس ساڑھے چھ ہزار ہے لیکن کوئی پندرہ سو دیتا ہے، کوئی ہزار بارہ سو روپے بھی دیتا ہے۔ سب سے زیادہ بچے اورنگی ٹاؤن سے آتے ہیں۔اب ذرا موازنہ کیجئے کہ وہ تو خود محنت کش طبقے کی بستی ہے۔وہ لوگ بھلا کہاں اتنا برداشت کرسکتے ہیں۔حتٰی کہ ان بچوں کے والدین ٹرانسپورٹ کی فیس بھی ادا نہیں کرسکتے۔وہ بھی ادارہ خود دیتا ہے۔بس کوشش یہی ہوتی ہے کہ یہ بچے اپنے ذاتی مسائل کے سبب اسکول نہ چھوڑ کر جائیں۔ البتہ اگر کوئی گھرانہ گاؤں چلاجائے، شہر یا ملک چھوڑ دے یا پھر خدانخواستہ بچہ کا انتقال ہوجائے۔اس کے علاوہ اسکول کی تربیت ادھوری چھوڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی طرف سے اسپیشل ایجوکیشن اور دیگر ٹیچرز کے لییتربیتی ورک شاپ کروائی جاتی ہیں۔ یقیناً جو ان اساتذہ کے لیے انتہائی کارآمد ہوتی ہیں۔اس اسکول میں اتنی جان فشانی نظر آتی ہے کہ کرونا وائرس میں جب ہر طرف لاک ڈاؤن تھا تو ایسے میں اسکول انتظامیہ نے آن لائن کلاس کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایسے میں نارمل بچوں کے لیے آن لائن ایک مشکل امر تھا لیکن بڑی بات ہے کہ یہاں کے اساتذہ نے حالات کو قابو میں رکھتے ہوئے بچوں کو آن لائن گیم بھی سکھائے۔البتہ کچھ والدین کو اسمارٹ فون یا نیٹ کے مسائل رہے لیکن سائنوسا کی طرف سے یہ سلسلہ نہ رکا۔

مختلف وقتوں میں یہاں لوگ آتے رہے ہیں۔2019 میں گورنر اسماعیل آئے تھے انہوں نے اس طرح تو مدد نہ کی لیکن بچوں کے ہاتھ کی بنائی ہوئی اشیاء خریدی تھیں۔یہی ان کی مہربانی تھی۔ان کا وقت صرف 20 منٹ طے ہوا تھا لیکن وہ یہاں آکر بچوں سے اتنا گھل مل گئے کہ انہوں نے یہاں 2گھنٹے گزارے۔

یہ ادارہ سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہے۔جس کی انتظامی کمیٹی 10 سے 12 لوگوں پر مشتمل ہے۔حبیب طھاریہ صدر ہیں ذوالفقار علی رمذی اس ادارے کے اعزازی سکریٹری ہیں۔مسلم صاحب کی بیٹی راحت خان اس کمیٹی کی ممبر ہیں۔اسکول کادورانیہ ایک بجے تک ہے۔درمیان میں ادارے کی طرف سیبچوں کو ناشتہ بھی کروایا جاتا ہے۔جس میں موسم کے مطابق تبدیلی بھی ہوتی ہے۔ا س مقصد کے لیے ان کے پاس ایک بڑا ور صاف ستھرا ڈائننگ ہال ہے۔

اطراف نے پرنسپل صاحبہ سے سوال کیا کہ ان بچوں کے ہاتھوں کی تیار ی ہوئی مصنوعات مارکیٹ تک کیسے پہنچتی ہیں تو بتایا گیا کہ Bed & Bathجو کہ اپنی معیاری مصنوعات کے سلسلے میں ایک بڑا نام ہے وہ ان بچوں کے ہاتھوں کی تیار کی ہوئی چیزیں اپنے شو روم میں رکھتے ہیں جو کہ حیدری مارکیٹ اورڈ یفنس میں واقع ہے۔ یہاں سے لوگ اشیاء خرید کر اپنے گھروں کی زینت بناتے ہیں۔سائنوساڈے Bed & Bathکے اس تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ جن کی وجہ سے یہ اشیاء مارکیٹ کا حصہ بنتی ہیں۔

سائنوساڈے کے حصے میں کئی اعزاز آئے ہیں۔چونکہ پاکستان کا پہلا ادارہ ہے۔اسکاؤٹنگ، بینڈ اور تیراکی بھی سب سے پہلے اسی ادارے میں شروع ہوئی۔ان کی تھراپی اور ووکیشنل ٹریننگ کا دائرہ کا ر بہت وسیع ہے۔ غیر نصابی سرگرمیاں اپنے عروج پر رہتی ہیں۔جو ان کی ذہنی سطح بڑھاتی ہے۔جس میں بچوں کی دلچسپی بھی نظرآتی ہے۔ باسکٹ بال، سوئمنگ اور فسٹل (لڑکیوں کے لیے فٹ بال)میں یہ بچے بڑے مشاق ہیں کیونکہ ان بچوں پر باقاعدہ محنت ہوئی ہے اور اس کے نتائج بھی بہت عمدہ رہے ہیں۔ مثلاً2019 میں ہونے والے اسپیشل اولمپک گیمزجو ابوظہبی میں منعقد ہوئے تھے اس میں ان بچوں نے حصہ لیا۔سائنوساڈے ہوم پہلااسپیشل ادارہ ہے جہاں پاکستان کی اسپیشل بچی زیرش صدیقی نے مشعل اٹھاکر اولمپک گیمز کا افتتاح کیا۔زیرش نے ہی futsalمیں حصہ لیا۔علی سہیل نے باسکٹ بال اور منیب صدیقی نے سوئمنگ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔یہ غیر نصابی سرگرمیاں ان کے جسمانی اعضاء کو متحرک کرتی ہیں۔اور یہ بچے اسپیشل اولمپک گیمز کی سرپرستی میں پورا سال پریکٹس کرتے ہیں۔سائنوساڈے ہوم کا اسپیشل اولمپک گیمز سے الحاق بھی ہے۔

ان بچوں کی بین الاقوامی سطح پر نمائندگی نہ صرف سائنوساکے لیے بلکہ وطنِ عزیز کے لیے بھی ایک منفرد و جاوداں مثال ہے۔لیکن یہ مثالیں خود بہ خود تو نہیں بن جاتیں۔اس کے پیچھے ایک جذبہ ہوتا ہے۔اطراف نے جب سائنوسا کی عمارت کا وزٹ کیا، بچوں سے ملاقات کی تو اس قدر نظم و ضبط نظر آیا جو کسی اور اسکول میں کہاں۔ جس جگہ 143 بچے ہوں وہاں کسی بھی قسم کی بدنظمی نہیں تھی۔اب ایسا بھی نہیں کہ بچے سہمے ہوئے تھے ہر بچہ کے چہرے پر ملاقات کے دوران ایک خوشی نظر آرہی تھی جو بناوٹی نہیں تھی کہ بچے منافق نہیں ہوتے۔ وہ دل سے خوش تھے۔کوئی بچہ بھی صفائی سے بے نیاز نہ تھا۔ہر بچہ اپنے صاف ستھرے یونیفارم میں موجود تھا۔ورنہ ان بچوں کی صفائی تو خود ایک بڑا مسئلہ ہوتی ہے۔حتٰی کہ وہ عملہ جو ان بچوں کو صاف ستھرارکھتا ہے وہ خود اپنی وردی میں صاف ستھرے تھے۔تدریسی و غیر تدریسی عملہ کا اس قدر انہماک دیکھ کر ان کے لیے دل سے دعا نکلی کہ یہ لوگ ملازمت نہیں کررہے بلاشبہ خدمتِ عظیم کررہے ہیں جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ان سب کی سرپرستی سائنوساڈے ہوم کی انتظامی کمیٹی ہی کررہی ہے۔ اطراف طھاریہ صاحب، رمذی صاحب اور راحت صاحبہ کے جذبہ کی قدر کرتا ہے۔جن کی کاوشوں کی بدولت اس معاشرہ کا نظر اندازکیا جانے والا طبقہ محفو ظ ہاتھوں میں ہے۔

اطراف نے سائنوسا ڈے ہوم میں پرنسپل رضوانہ خانم سے بظاہر اجازت چاہی کہ دل و دماغ تو ان بچوں میں، اسٹاف میں ہی رہ گیا تھا۔یہ روداد تو ابوالامتیاز مسلم صاحب سے ہی شروع ہوئی تھی اس کا ختم بھی انہی کے جملے پر بنتا ہیکہ:

ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ خدانخواستہ اگر سائنوساڈے ہوم کا قیام عمل میں نہ آتا تواس کی کیا حالت ہوتی!یااگر وہ(بیٹا نیازمسلم ) ذہنی پس ماندہ نہ ہوتا تو کیا ہم یہ ادارہ قائم کرنے سوچتے؟اْس کی مصلحتوں کے رموز سے آشنائی کا دعویٰ کون کرسکتا ہے !”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

6 − five =