دکھوں کے رنگ

گل افشاں رانا فیصل آباد، پاکستان کی ان قابل فخر بیٹیوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی جسمانی محرومیوں کو اپنے عزائم پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ ساری مشکلات اور مالی مجبوریوں کی باوجود ہمت نہیں ہاری۔ وہیل چیئر پر بیٹھے بیٹھے زندگی کی دْشواریوں کو آسان کیا۔ اسے اپنا امتحان کہتے ہوئے سارے سوالات کے جوابات دیے۔ پاکستان کے مختلف حصوں میں 100 وہیل چیئر نشینوں کے انٹرویو کیے۔ جن میں گل افشاں جیسے ہی پْر عزم اور با ہمت نوجوان تھے۔ کوئی ڈاکٹر کوئی انجینئر۔ کوئی پروفیسر کوئی آئی ٹی کا ماہر۔ ہماری درخواست پر دسمبر کے خصوصی شْمارے کے لیے گل افشاں نے بہت ہی دل نشیں تحریر ’دکھوں کے رنگ‘ سے نوازا ہے۔ آپ نے اگر ’روشن ستارے‘ نہیں پڑھی تو دیکھئے زندگی کیسے گزاری جاتی ہے۔


میں نے ’روشن ستارے‘ میں دل کھول کر رکھ دیا

بیٹھے بیٹھے موبائل پر دن رات محنت کرکے یہ کتاب لکھی

لکھتے لکھتے تھک جاتی تھی تو لیٹ کر لکھتی تھی

حکومت وقت معاشرہ بھی اپنی ذمہ داری سمجھے

مان باپ گود میں بٹھاکر سکول لے جاتے ہیں واپس لاتے ہیں

ماں باپ نے حج بھی کروایا۔ جرمن اسپتال سے علاج بھی کرایا

وہیل چیئر پر بیٹھ کر شان سے جینا سکھاتی ہوں

با ہمت، روشن خیال، پْرعزم گل افشان رانا کی قابل فخر تحریر


ہم خصوصی افراد کو معذوری کا دکھ تو ہر پل سہنا ہی پڑتا ہے لیکن معاشرے کا نارواں سلوک ہمارے لیے کتنی ازیت کا باعث بنتا ہے۔کیسے کسی کی نظریں. باتیں. رویے دلوں کوچھلنی کرتے تکلیف دیتے ہیں۔کاش لوگ جان جائیں تو کبھی کسی پر آواز نہ کسیں۔کبھی کسی کی شکل چال ڈھال کا مزاق نہ اڑائیں۔کسی کی دل آزاری نہ کریں۔میں بھی ایسے سب لوگوں کو جواب دینا چاہتی تھی۔ بہت کچھ انہیں بتانا اور سمجھانا چاہتی تھی جس کا موقع مجھے قدرت نے دیا اور ’’روشن ستارے میں‘‘میں نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا بیٹھے بیٹھے موبائل پر دن رات محنت کرکے یہ کتاب لکھی ہے لکھتے لکھتے تھک جاتی تھی تو لیٹ کر لکھتی تھی لیٹے لیٹے تھک جاتی تو پھر مجھے سہارا دے کر بیٹھا دیا جاتا کیونکہ میں خود سے اٹھ کر بیٹھ سکتی ہوں نا خود سے لیٹ کر کروٹ بدل سکتی ہوں۔روزانہ رات کو درد کی شدت سے ہر دو گھنٹے کے بعد لازماً آنکھ کھلتی ہے اور مجھے اٹھ کر بیٹھنا پڑتا ہے شدید جسمانی تکلیف سہنی پڑتی ہے لیکن میری تربیت ایسی ہوئی مجھے شعور ایسا ملا مجھے ماحول ایسا ملا ہے کہ اس سب تکلیف دہ صورتحال کے باوجود میری کوشش ہوتی کے میں کلمہ شکر زبان سے نکالوں خیر بانٹوں امید یقین امن محبت .دوستی روداری . تحمل برداشت حسن عمل کا مظاہرہ کروں جب شکوہ اور شکر کرنے میں ایک سا وقت لگتا تو پھر میری کوشش ہوتی ہر نعمت پر شکر ادا کروں اور قدردانی کروں کیونکہ اگر میں خود ذاتی طور پر یہ سب نہیں کروں گی تو میرے لفظوں میں اثر و تاثیر بھی نہیں رہے گی اور کھوکھلے لفظ کبھی دلوں پر دستک نہیں دیتے میرا کیا کمال کے جو موجودہ نعمتیں میرے پاس ہیں؟ اور اگر یہ چھین لی جائیں تو کیا میں زبردستی انہیں اپنے پاس رکھنے پر قادر ہوں؟

میں نے اس کتاب میں اپنی باتیں اپنے جذبات اپنی خواہشات اپنی مشکلات بتانے کی سمجھانے کی اپنی سی کوشش کی ہے اللہ کرے میری آواز اربابِ اختیار تک پہنچے اور وہ عملی طور پر پاکستان بھر کے معذور افراد کے لئے مزید بہتر اقدامات کرسکیں ہمیں پورے وقار سے ہمارے حق دئیے جائیں ہمارے لیے ایسے ادارے بنائیں جائیں کے ضرورت کے وقت ہلپ لائن پر کال کر ہم کسی مددگار کو بلا کر بروقت اپنی مطلوبہ جگہ پر پہنچ سکیں کیونکہ ہم خصوصی افراد کا ادھا دکھ معذوری ہے تو ادھا دکھ شفٹنگ کا ہوتا ہے ہم بیسبی سے بیٹھے رہ جاتے ہیں ہمارے گھر والے ہمارا کتنا ساتھ دیں؟ اور کہاں تک دیں؟

حکومتِ وقت کو معاشرے کو بھی اپنی زمہ داری سمجھنی چاہیے عام صحت مند افراد کو خود چاہیے کے وہ اپنے اردگرد موجود خصوصی افراد کو اپنے ساتھ ترقی کی راہ میں آگے بڑھنے میں مددگار بنیں. کیونکہ آپ خود سوچیں سمجھیں کے عام صحت مند افراد تعلیم حاصل کرنے میں کتنی محنت کرتے ہیں انکے گھر والے انکے ساتھ کتنا تعاون کرتے ہیں پڑھنے والے پڑھانے والے دونوں کی محنت شامل ہوتی ہے کامیابی حاصل کرنے میں لیکن معذور افراد کو اس معاملے میں بھی عام طالبِ علموں سے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے سہولتیں نا ہونے کے وجہ سے ان کے ماں باپ گود میں اٹھا کر اسکول چھوڑکر آتے اور پھر گود میں اٹھا کر واپس لاتے ہیں اگر گھر اوپر کی منزل پر ہے تو پہلے بچوں کو گود میں اٹھا کر ایک ایک سیڑھی چڑھ کر اوپر کمرے میں چھوڑ کر آتے ہیں پھر انکے اسکول کے بھاری بھرکم بستے اٹھا کر لے جاتے ہوئے ہانپ جاتے ہیں کیا وہ پریشان حال سلگتے دل گرفتہ ماں باپ ہمیشہ تندرست توانا رہتے ہیں ؟ کیا وہ لوہے کے بنے ہوتے ہیں؟ کیا انہیں دل کے درد کمر کے درد گھنٹوں کے درد کے ساتھ جسمانی تکالیف کا سامنا نہیں ہوتا؟ جو وہ اپنے بچوں کو اٹھائے ہمیشہ ایسے ہی پھرتے رہیں؟

سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے معذور افراد معذوری کے ساتھ ساتھ ذہنی اور بہت ساری جسمانی بیماریوں اور کمزوریوں میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں ان کے لئے پڑھنے اور آنے جانے کے لیے سہولتوں کا فقدان ہے تو صحت مند تفریح یا تفریحی مقامات پر جانے کے کیا مواقع ہوں گے ؟ معذور بچے کتنی بار گرتے جسمانی چوٹیں لگواتے لوگوں کے تضحیک آمیز جملوں نظروں سے دل کو چھلنی کرتے آنسوو?ں سے بھری آنکھوں کے ساتھ پڑھتے ہوئے اپنے تعلیمی مدارج طے کرتے ہیں اور پھر انہیں نوکریوں کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں اپنی ڈگریوں کو ہاتھ میں لے کر افسوس سے دیکھتے ہیں کے یہ حاصل کرنے کے لیے زندگی کے اتنے سال محنت کی اور اب نوکری کے حصول کے لئے کب تک کتنے سال محنت کرنی ہوگی ؟ اور جہاں تک ہمارے علاج معالجے کی بات ہے تو ہر کسی کے ماں باپ اپنی بساط کے مطابق جہاں جو بھی بتائے اپنے بچوں کے لیے علاج کے جاتے ہیں.جانا چاہتے ہیں. ہمارے ماں باپ نے ہمارا ہر طرح سے علاج کروانے کی کوشش کی جہاں جس نے جو بتایا وہ سب کرنے کی کوشش کی سعودی عرب میں قیام کے دوران حج بھی کروایا اورجرمن اسپتال جدہ سے علاج بھی کروایا فیصل آباد ڈاکٹر اعظم اسلم. ڈاکٹر خالد جمیل لاہور . ڈاکٹر عامر عزیز لاہور سے کروایا لیکن کہیں سے شفا نہیں ملی. میرے بابا کو کسی نے کہا کے آپ اپنے بچوں کا روحانی علاج بھی کروائیں میرے بابا نے گولڑہ شریف سے ملتان پتہ نہیں کہاں کہاں سے ہمارا علاج کروایا ہے آخری روحانی علاج بلاوڑا شریف کوٹلی ستیاں سے کروایا جس میں پیر صاحب نے دعوا کیا تھا کے سات دم کے اندر آپ کے بچے اپنے پاو?ں پر کھڑے ہوکر آپ سے ملیں گے اتنی دور پہاڑوں پر ایک بندے کا جانا مشکل ہے تو اتنے لوگوں کو لے کر ساتھ جمرات وہاں جانا کتنا دشوار گزار ہوگا کوئی ہم سے پوچھے میرے بابا ہزاروں روپے لگا کر ہمیں اتنی دور اس آس پر بھجتے کے میرے بچے واپس آکر کھڑے ہوکر مجھ سے گلے ملیں گے لیکن نویں دن پر بھی جب واپسی پر گاڑی سے ایک ایک کو گود میں اٹھا کر نکالنا پڑا تو ہم بہن بھائیوں نے اپنی نظریں نیچی کرلیں کہ بابا کے چہرے پر پھیلی حسرت و یاسیت دیکھنے کا حوصلہ ان آنکھوں میں کہاں سے لائیں ؟

کچھ چیزیں کچھ فیصلے اٹل ہیں تقدیر کے ساری دنیا بھی مل کر اگر ہمیں نقصان یا فائدہ پہنچانا چاہے تو بغیر رب کی منشاء کے نہیں پہنچا سکتی اور اگر تقدیر نے ہمیں کسی آزمائش و امتحان کے لئے منتخب کرلیا ہے تو کوئی اس کی جگہ نہیں بدل سکتا یہاں پر بس یہی حدیث مبارکہ دل کو تسلی دلاسہ امید دیتی ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے:

پیارے آقا محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا’’ جب تمہیں اپنے غم دکھ درد زیادہ محسوس ہونے لگیں تو تم میرے غم یاد کرلیا کرو تمہارے غم ہلکے پڑ جائیں گے۔‘‘

میں نے یہ کتاب لکھ کر کوئی بہت بڑا کارنامہ تو سرانجام نہیں دیا ہے لیکن جب ہر طرف خوف و ہراس تھا ہر شخص سہما ہوا تھا کرونا کی وجہ سے موت کو اپنے اردگرد رقص کرتے دیکھ کر زندگی سے مایوس ہوتا جارہا تھا میں نے اپنی شدید ترین بیماری کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور اپنے قلم سے امید . ہمت . حوصلے. جیسے لفظ لکھ کر معاشرے میں روشنی پھیلانے کی کوشش کی ہے کیونکہ کہا گیا ہے جس نے ایک شخص کو بچایا اس نے گویا پوری انسانیت کو بچایا میں نے یہ نہیں دیکھا کے میرے ذرائع کیا ہیں میں نے بس یہ دیکھا کہ میں کیا کرسکتی ہوں کے جس سے میں بھی انسانیت کے کام آسکوں اور اپنے حصے کی شمع روشن کرسکوں کہ :

شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلائے جاتے

اور مجھے خوشی ہے فخر ہے کہ معذوری کے باوجود میں اپنے معاشرے کی فعال شہری ہوں . میں اپنے اردگرد موجود لوگوں کو دیکھتی ہوں یہاں ہر انسان کو پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی کچھ لوگوں کو ہمدردی .محبت دوستی.دلجوئی.اہمیت و عزت کی بھی چاہت ہوتی ہے. اس لیے میری کوشش ہوتی ہے کے میں جس کی جو چاہت پوری کرسکوں ضرور کروں امیدیں بڑھاتی رہوں مسکراہٹیں سجاتی رہوں

خوشیاں بانٹتی رہوں وہیل چئیر پر بیٹھ کر شان سے جینا سکھاتی رہوں کہ

زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

seventeen + seventeen =