غلام نبی نظامانی۔ انسان دوست

‏3 دسمبر کے یوم معذوران کی مناسبت سے ہم نے حکومت سندھ کے شعبۂ معاونت معذوروں کے ڈائریکٹر جنرل جناب غلام نبی نظامانی سے خصوصی گفتگو کی۔ وہ نہایت پُر عزم ۔ پُر خلوص اور بلند خیالات کے حامل ہیں۔ پولیو کی وجہ سے ان کی ٹانگیں بے جان ہیں۔ خود کار وہیل چیئر پر ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ۔ انسان دوست۔ جسمانی محرومیوں کی خدمت کی لگن۔ کتابوں کے رسیا۔ شاعری کا ذوق ۔ بہت محبت سے اپنے عزائم بتاتے ہیں۔ پڑھئے اور اپنی رائے دیجئے۔


معذوروں کی با اختیاری۔ سندھ حکومت سبقت لے گئی

10 مہینے کے تھے تو پولیو کی تشخیص ہوئی

غلام نبی نظامانی۔ ملازمت نہیں انسانیت کی خدمت

پورے سندھ کے معذوروں کے لیے ایک ڈیٹا بیس۔ ایک نیٹ ورک

پولیو سندھ میں ختم۔ باہر سے آنے والوں میں کوئی مریض آجاتا ہے

لوگ بعض معذوریوں کو بیماری ہی نہیں سمجھتے

غربت معذوری کو جنم دیتی ہے۔ معذوری غریبی کو

بیگم۔ بیٹے۔ پوتے پوتیاں۔ سب نارمل صحت مند

شاہ لطیف کے ’سرگھاتو‘ میں معذور موروڑو

٭ شعبۂ معاونت معذوروں حکومت سندھ کے ڈائریکٹر جنرل غلام نبی نظامانی سے تبادلۂ خیال: محمود شام

غلام نبی نظامانی ہیں تو وہیل چیئر نشیں لیکن ہم اپنے پاؤں پر چلنے والوں سے زیادہ متحرک۔ زیادہ فعال اور زیادہ بلند خیال۔


سندھ حکومت جسمانی محرومی سے دوچار خاص افراد کے لیے قانون سازی میں دوسرے صوبوں پر سبقت لے گئی ہے۔ 23 مئی 2018 کو سندھ اسمبلی نے Sindh Empowerment of Person with Disabilities act 2018 سندھ میں معذوری کے حامل افراد کو با اختیار بنانے کا قانون منظور کیا۔ پہلے سماجی بہبود و صحت حکومت سندھ کے مختلف محکمے خصوصی افرد کے معاملات الگ الگ دیکھ رہے تھے۔ اب ان افراد کی بہبود۔ علاج۔ تعلیم۔ تربیت۔ روزگار سب امور Department of Empowerment of Person with Disabilities کے دائرہ اختیار میں شامل کردیے گئے ہیں۔

غلام نبی نظامانی۔ ایم اے سوشیالوجی ہیں۔ ایم اے اکنامکس ہیں۔ اور سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں 1992 میں اوّل رہے ہیں۔ وہ اس نئے محکمے کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ ہمارا تعارف تو ضامن گروپ کی مینجنگ ڈائریکٹر ثروت شاہ کے توسط سے ہوا۔ ضامن گروپ مختلف محرومیوں کے حامل افراد کے لیے اور ایک Inclusive Society ہمہ شمول معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دے رہا ہے۔ ماہنامہ ’اطراف‘ نے اکتوبر 2021 کا ’دیدۂ دل‘ نابیناؤں کے لیے خاص نمبر ضامن گروپ کے خصوصی اشتراک سے شائع کیا تھا۔ اب یہ جسمانی محرومی کے حامل افراد کے لیے اشاعت خاص میں بھی میڈم ثروت شاہ کے خصوصی مشورے۔ تدابیر۔ اور منصوبے شامل حال ہیں۔

سندھ حکومت نے اس خصوصی انسان دوستی میں پہل کی ہے۔ جس کے لیے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ بالخصوص لائق تحسین ہیں۔ ان افراد کی بہبود اور با اختیار میں وزیر اعلیٰ خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ اس محکمے کی انتظامی سربراہی کے لیے ایک ایسے فرد کا تقرر کیا گیا جس کی تعلیم۔ تربیت اور تجربہ اس شعبے کے لیے خاص ہے۔

غلام نبی نظامانی نے 2جون 1963 کو سانگھڑ میں آنکھ کھولی۔ 10 ماہ کے تھے تو پولیو کا مرض لاحق ہوا۔ والدین انہیں کراچی لائے اس وقت کے مشہور سرجن ڈاکٹر جمعہ خان کو دکھایا۔ انہوں نے معائنے کے بعد کہا کہ بچے کی ٹانگیں ختم ہیں۔ لیکن اوپر کا نظام ٹھیک رہے گا۔ ان دنوں میڈیکل نے اتنی ترقی نہیں کی تھی۔ فزیو تھراپی بھی اتنی جدید نہیں تھی۔ سانگھڑ کراچی کا فاصلہ۔ اور استطاعت بھی نہیں تھی۔ لوئر مڈل کلاس زمیندار گھرانہ تھا۔ اس لیے فزیو تھراپی کا طویل عمل باقاعدہ تسلسل سے نہ ہوسکا۔ لیکن پڑھنے کا شوق تھا۔ گھر والے بھی یہی چاہتے تھے۔ معذوری کے باوجود پرائمری تعلیم پیر صبغت اللہ شاہ راشدی بوائز ڈگری کالج سانگھڑ سے حاصل کی۔ سندھ یونیورسٹی جام شورو سے سوشیالوجی اور اکنامکس میں ایم اے کیا۔ پھر سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں بیٹھے تو 1992 میں سب امیدواروں پر سبقت لی۔ اور پہلی تقرری حکومت سندھ کے سوشل ویلفیئر کے محکمے میں میڈیکل سوشل آفیسر سانگھڑ کی حیثیت سے گریڈ 17 میں ہوگی۔

1994 سے خدمت کے اس سفر کا آغاز ہوتا ہے تو غلام نبی نظامانی نے نہ تو مڑ کر دیکھا اور نہ ہی اسے سرکاری ملازمت یا افسری خیال کیا۔خود محرومی سے دوچار تھے۔ اس لیے دوسرے محروموں کے حالات بدلنے کی تمنّا تھی۔

ہم غلام نبی نظامانی صاحب سے تبادلۂ خیال کے لیے گلستان جوہر کے کمپلیکس میں موجود ہیں۔ جہاں ان کا دفتر بھی ہے۔ معذوروں کے لیے اسکول بھی۔ بیت المال کے دفاتر بھی۔ بہت صاف ستھرے۔ کچھ ہریالی بھی دکھائی دے رہی ہے۔ گیٹ کیپر بھی معذور ہیں۔ اچھا ماحول دکھائی دے رہا ہے۔ غلام نبی نظامانی معذوروں کے اعداد و شُمار معلوم کرنے کے سافٹ ویئر پر میٹنگ کررہے ہیں۔ اب اوّلیں کوشش یہ ہے کہ پورے سندھ سے جسمانی محروموں کا ڈیٹا جمع کیا جائے۔ کراچی ۔ حیدر آباد۔ لاڑکانہ سمیت پورے سندھ کا ایک نیٹ ورک ہو۔ جہاں واضح طور پر معلومات ہوں کہ کہاں کہاں مختلف اقسام کے محروم موجود ہیں۔ ان کی مالی حالت کیسی ہے۔ علاج کی ضرورت ہے۔ روزگار میسر ہے یا نہیں۔ 2018 میں بننے والے نئے قانون کے تحت اب سارے معذؤر افراد کی رجسٹریشن کی جارہی ہے۔

نظامانی صاحب کا کہنا ہے کہ ان افراد کو کونسلنگ یعنی مشاورت کی اشد ضرورت ہے۔ انہیں مایوسی سے نکالا جائے۔ انہیں با خبر کیا جائے کہ اس نئے قانون کے تحت انہیں کیا کیا حقوق اور سہولتیں میسر ہوسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں این جی اوز کو بھی متحرک کررہے ہیں۔ اسکولوں میں اجتماع منعقد کرکے انہیں آگاہ کیا جارہا ہے۔ 3دسمبر کو معذوروں کے بین الاقوامی دن پر وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ایک بڑی تقریب منعقد کی جارہی ہے۔

ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے پہلے سوشل ویلفیئر کے محکمے سے معلومات منتقل کی جارہی ہیں۔ ابھی تک 3500 کے کوائف یکجا ہوئے ہیں۔ ڈیٹا بیس سسٹم بنانے کا کام شروع ہوچکا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ سندھ پہلا صوبہ ہے۔ جہاں معذوروں کے لیے الگ سے ایک محکمہ۔ایک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس کے لیے با ضابطہ قانونی راستہ اختیار کرکے کسی قوم کا تقرر کیا جائے۔ جو سافٹ ویئر تیار کرکے یہ معلومات یکجا کرے گی۔ اس کے لیے باقاعدہ ٹینڈر نوٹس جاری ہوں گے۔

ہمارے سوال پر وہ بتارہے ہیں کہ پولیو سندھ میں قریباً ختم ہوچکا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں جو خاندان افغانستان سے فاٹا سے یا دوسرے علاقوں سے آتے ہیں ۔ جہاں پولیو کے قطرے پلائے جانے کی مزاحمت ہوتی ہے۔ ان بچوں میں پولیو کی شناخت یہاں ہوتی ہے۔ لیکن سندھ کے مقامی خاندانوں میں دو سال سے کوئی نیا مریض سامنے نہیں آیا۔

پولیو کے علاوہ دوسری معذوریاں بھی ہیں۔ زیادہ تر معذوریاں ان گھرانوں میں ہیں۔ جہاں خواتین کی مناسب دیکھ بھال نہیں ہوتی۔ بچوں کی پیدائش کے درمیان وقفہ نہیں ہے۔ غذا صحیح نہیں ہے۔ آئندہ بچے کے لیے مناسب خوراک نہیں ہے۔ وہ بچہ معذوری کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اب بھی تربیت یافتہ میڈیکل انصاف کی کمی ہے۔ پرانی دائیاں بھی کام کررہی ہیں۔ بچے کو صحیح آکسیجن نہیں ملتی۔

وہ بتارہے ہیں کہ سڑکوں کے حادثات کبھی معذوریوں کا سبب بنتے ہیں۔ انتہا پسند گروپوں کے پُر تشدد وارداتوں میں بھی لوگ جسمانی طور پر محروم ہوتے ہیں۔

ایک مسئلہ یہ ہے کہ بیماریوں کی ابتدا میں تشخیص صحیح نہیں ہوتی ہے۔ مثلاً بچے کی نظر کمزور ہے یا سماعت۔ یا وہ دماغی طور پر کسی کمی کا شکار ہے۔ ٹائیفائیڈ کی وجہ سے بھی بعض افراد کی کوئی حس متاثر ہوجاتی ہے۔ صنعتی علاقوں میں حفاظتی اقدامات نہ ہونا۔ یہ سارے عوامل مل کر Disability کا سبب بن رہے ہیں۔ ہم Disability مکمل طور پر تو ختم نہیں کرسکتے۔ لیکن ہم ایسے افراد کی مدد کرسکتے ہیں ۔ اس کے اثرات کو محدود کرسکتے ہیں۔ اب جیسے تھیلیسیمیا کا مرض ہے۔ خاندان بھی بن گیا ہے کہ رشتے داروں میں شادی ہورہی ہو تو خون کی تشخیص کی جائے۔ مگر اس پر عمل نہیں ہوتا۔ نکاح خواں پر لازم ہے کہ وہ سرٹیفکیٹ دیکھ کر نکاح پڑھائے۔

ہم ان سے دریافت کررہے ہیں کہ کیا سندھ میں بعض مخصوص علاقے بھی ہیں جہاں معذور افراد زیادہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ شہروں سے زیادہ دیہی علاقوں میں ایسے افرادملتے ہیں۔ جہاں میڈیکل سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ خاص طور پر دو اضلاع کے سرحدی دیہات میں کہ وہ اسپتالوں سے دور ہوتے ہیں۔ یا وہاں صحت کے بنیادی مراکز میں ڈاکٹر نہیں ہوتے۔ کراچی کے ساحلی علاقوں میں ریڑھی۔ اور ابراہیم حیدری میں سب سے زیادہ معذور ہیں۔ جسمانی بھی اور دماغی بھی۔ لوگ ان بیماریوں کو چھپاتے ہیں۔ یا انہیں بیماری ہی نہیں سمجھتے۔ سب سے بڑا سبب غربت ہے۔ شعور کا نہ ہونا ہے۔ سرکاری سہولتیں نہیں ہیں۔ سرکاری محکمے اپنی ذمہ داریوں کو پوری نہیں کرتے۔ یہ ایک دائرہ ہے۔ غربت معذوری کو جنم دیتی ہے۔ معذوری غربت کو۔

انہوں نے ایک اور اہم معاملے کی طرف توجہ دلائی کہ سندھ حکومت نے قانون بنایا ہے لیکن متعلقہ سرکاری ملازمین کی پوری تربیت نہیں ہے۔ اس لیے انہیں قواعد و ضوابط کی پوری طرح سمجھ نہیں آتی ہے۔ تربیت کے لیے پروگرام تشکیل دیے جارہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ رفتہ رفتہ محکمے سے وابستہ تمام اعلیٰ افسر اور عام اسٹاف اس قانون کے اسرار و رموز اور نتائج و عواقب سے وابستہ ہوجائے گا۔

سندھ اسمبلی میں ان معاملات پر بحث ہورہی ہے۔ جان کاری کے لیے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

نظامانی صاحب بڑے فخر سے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ معذور افراد سے متعلقہ اقدامات میں ذاتی دلچسپی لیتے ہیں۔ انہوں نے ایک تجربہ کار سیاستدان صادق علی میمن کو معاون خصوصی کی حیثیت سے یہ ذمہ داری سونپی ہے۔ وہ برطانیہ کینیڈا میں رہ چکے ہیں۔ بنیادی طور پر انجینئر ہیں۔ ان کے والد بابو غلام حسین نے اپنے علاقے کے لوگوں کی بڑی خدمت کی ان کی والدہ نے بھی تعلیمی شعبے میں نمایاں اقدامات کیے ہیں۔

ہمارے استفسار پر وہ بتارہے ہیں کہ اس نئے محکمے میں 3ہزار ملازمین ہیں۔ ان سب کو تربیت دی جارہی ہے۔ معذوروں کو با اختیار بنانے کی کوششیں بار آور ہورہی ہیں۔ اس سلسلے میں ہم غیر سرکاری اداروں اور کمپنیوں سے بھی اشتراک کررہے ہیں۔ جیسے ضامن گروپ نے تعاون کیا۔ ان اداروں کی طرف سے بھی مشاورت کی جارہی ہے۔ ایسے اداروں کے الحاق کی رجسٹریشن بھی کی جارہی ہے۔ تاکہ ایک سسٹم بن سکے اور طے ہو کہ کونسا ادارہ یا کمپنی کس شعبے میں ہمیں تعاون فراہم کرسکتا ہے۔

ہم نیٹ ورک کے ذریعے صوبے بھر میں اسکولوں اسپتالوں تک آنے اور جانے والی گاڑیوں میں ٹریکنگ سسٹم بھی لگوائیں گے۔ تاکہ حفاظتی اقدامات کیے جاسکیں۔

وہ بتارہے ہیں کہ یونیسکو کے فلسفے ’ تعلیم سب کے لیے‘ پر عملدرآمد تو ہو ہی رہا ہے۔ اس کے لیے ایک نئی اصطلاح Inclusive Education استعمال کی جارہی ہے۔ اسپیشل ایجوکیشن کے تحت سندھ میں 66 سرکاری اسکول چل رہے ہیں۔ جن میں کچھ پرائمری ہیں۔ کچھ میٹرک۔ ان سب میں جدید ترین سہولتیں۔ نئے نصاب کے تحت تدریس۔ اختیار کیے جارہے ہیں۔

ہمارا عزم ہے کہ پائیدار مقاصد کے حصول کے لیے پہلے 2000 سے 2015 تک کا ہدف تھا۔ اب 2030 تک یہ ہدف ہے کہ تمام معذوروں کو شمولیتی تعلیم سے آراستہ کیا جائے ہم اسے یونیورسٹی کی سطح تک لے جائیں گے۔ بعض نابینا حضرات و خواتین اپنے طور پر پی ایچ ڈی بھی کرچکے ہیں۔

میں ان سے پوچھ رہا ہوں کہ سرکاری ملازمت تو ہوتی ہی ہے۔ لیکن اس شعبے میں آپ کو معذور افراد کی خدمت اور تعاون کرکے کیسا لگتا ہے۔

ان کے چہرے پر ایک والہانہ طمانیت دکھائی دے رہی ہے۔ اور لبوں پر ایک مسکراہٹ۔ وہ ایک دوہا سنارہے ہیں۔

جس پر نہ بیتے وہ کب جانے۔ جگ والے آئے سمجھانے

پاگل من پھر بھی نہ مانے۔ کیسی انوکھی بات رے

انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند

ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر رات پورے سکون کے ساتھ سوتے ہیں۔ دلی تسکین ہوتی ہے۔ دل دماغ دونوں اتنے پُر سکون ہوتے ہیں کہ ایک لگن اور خلوص سے اپنے فرائض کی انجام دہی ہوتی ہے۔

ان کی بیگم ماشاء اللہ کسی محرومی کا شکار نہیں ہیں۔ بیٹے ہیں پوتے پوتیاں ہیں۔ شادی کے وقت ان کی عمر 16 سال تھی اور بیگم کی 15سال۔ 1979 میں شادی ہوئی۔ جون میں شادی کی سالگرہ مناتے ہیں مگر سادگی سے ۔42 سال کی رفاقت ہے۔ چار بیٹے ہیں وہ زمینداری کررہے ہیں۔دو زیر تعلیم ہیں۔ گنے۔ گندم اور کپاس کی کاشت ہوتی ہے۔

کتابیں کون سی پسندیدہ ہیں۔

ان کا جواب بہت ہی دلچسپ ہے۔ وہ کہتے ہیں میں شروع سے ہی کتابی کیڑا رہا ہوں۔ مطالعے کا شوق جنوں کی حد تک تھا۔بجلی نہیں ہوتی تھی۔ چاند کی روشنی میں ڈائجسٹ۔ ادبی رسالے۔ ناول پڑھتا تھا۔ فلسفے سے بھی دلچسپی رہی ہے۔کمپیوٹر کی مقبولیت سے پہلے وہ کوئی نہ کوئی کتاب پڑھ کر سوتے تھ۔ شاعری کرتے نہیں ہیں لیکن ذوق بہت ہے۔ سمجھتے ہیں۔ حبیب جالب سب سے پسندیدہ۔ پھر فیض احمد فیض ۔ پروین شاکر ۔ احمد فراز۔ ان سب کی کلیات ان کے پاس ہیں۔

اتفاق یہ ہے کہ انہیں شروع سے اُردو پڑھنے کا زیادہ موقع ملا۔ سندھی سے کم شغف رہا۔ ان کا جملہ سنئے۔ کہ وہ دریا سے پہلے سمندر میں گر گئے۔ اسی لیے دریا سے تعلق ختم ہوگیا۔ اُردو سے زیادہ واسطہ رہا۔ اس لیے سندھی نئی شاعری سے اتنا لگاؤ نہیں رہا۔ البتہ شاہ لطیف۔ شیخ ایاز اور استاد بخاری کا کلام بہت عقیدت سے پڑھا ہے۔

آخر میں بات ہونے لگی کہ شاہ لطیف کے رسالے میں معذوری کا ذکر کہاں کہاں ہے۔ وہ پورے انہماک سے بتانے لگے کہ شاہ لطیف کے ’سر گھاتو‘ میں میر بحر کا ذکر بھی ہے۔ موروڑو ایک ٹانگ سے لنگڑا ہے مگر وہ پُر عزم ہے۔ کراچی شہر کو بنانے میں بھی اس کا حصّہ ہے۔ اس کا باپ اڈبائیو تھا۔ اس کے چھ بھائی تھے ۔ ایک مگر مچھ کولاچی میں آجاتا ہے جو ماہی گیروں کو نگلنا شروع کردیتا ہے۔ اس وقت بارٹر سسٹم تھا۔ ماہی گیر مچھلیوں کے بدلے چاول گندم کپڑا حاصل کرتے تھے۔ جب مچھلیاں پکڑنا بند ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔کو وہیل مچھلی کھا گئی۔ تو بھائیوں کی حفاظت سب سے چھوٹے اور معذور موروڑو کے ذمے آگئی۔ وہ اس مگر مچھ کو مارنے نکلتا ہے۔ سب ہنستے ہیں کہ یہ خودکشی کیوں کرنے جارہا ہے۔ مگر وہ اپنے عزم اور حکمت عملی سے کامیاب ہوجاتا ہے۔ شکار کے لیے ایسا پنجرہ بچھاتا ہے اس مگر مچھ کے پیٹ سے اپنے بھائی برآمد کرکے لے آتا ہے۔ اس کا آدھا ڈھانچہ ایک عرصے تک سمندر کے کنارے پڑا رہا۔ یہ کہانی سندھ کی نصابی کتابوں میں بھی ہے۔ یہ بھی معذور کے با اختیار اور با اثر ہونے کی کہانی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

nine − five =