سماعت سے محروم لاڈلے

اکثر سفارتی اور سماجی تقریبات میں ہماری ایک غیر ملکی جوڑے سے ملاقات ہوتی تھی۔ رشک آتا تھا کہ وہ اپنے گھروں سے دور ہمارے گونگے بہرے بچوں کی تربیت کے لیے رضاکارانہ طور پر موجود ہیں۔ اب جب معذوروں کے لیے اشاعت خاص مرتب کررہے ہیں تو ہم نے ان سے رابطہ کیا۔ تاکہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ وہ کیسے یہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سماعت اور گویائی سے محروم بچوں کو کیسے لکھنا پڑھنا سکھارہے ہیں۔ خان ظفر افغانی نے ان سے بات کی۔ پھر ہم گلستان جوہر میں ان کے ادارے میں ان سینکڑوں بچوں بچیوں کے درمیان ان کی خوشیاں دیکھ رہے تھے۔ خان ظفر افغانی نے اس سفر کی رُوداد بڑے شوق سے قلمبند کی ہے۔ پڑھئے اور اپنی رائے دیجئے۔

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے

 اور دوسروں کے کام آنے والے ، اچھے لوگوں کی کمی نہیں۔ ہر ملک، ہر قوم، ہر مذہب، ہر زبان کے افراد میں ایسے لوگ ہیں جو بلا کسی تفریق، بلا کسی تعصب، انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ نہ صلے کی تمنّا نہ ستائش کی آرزو۔ ایسے اچھے لوگوں نے اپنی پوری زندگی، ضرورت مندوں کی خدمت کرتے گزار دی خواہ مادام رُتھ فاؤ ہوں یا جناب عبدالستار ایدھی، اختر حمید خان ہوں یا ڈاکٹر ادیب رضوی۔

اِدھر ہمارے شام جی بھی خوب ہیں۔ انسانیت کی خدمت کرنے والوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اچھے لوگوں کی اچھائیاں اُجاگر کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ نابینا انسانوں کا دن منایا جارہا ہو تو متعلقہ خدمات گزار افراد و اداروں، نابینا افراد کی ہمت و لیاقت کی مثالوں کو ڈھونڈ نکال کر ’اطراف‘ کا ’سفید چھڑی‘ خصوصی شُمارہ پیش کردیتے ہیں۔وطن عزیز میں ضرورت مندوں کی مدد و خدمت کی روشن مثال ’’اخوّت‘‘ اور ڈاکٹر امجد ثاقب کے بارے میں اہل وطن کو تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے ’اطراف‘ کی خصوصی اشاعت لے آئے۔ اور اب دسمبر میں ’’عالمی یومِ معذور‘‘ منایا جاتا ہے تو اس حوالے سے بھی خصوصی اشاعت کا سوچا، متعلقہ خدمت گزار افراد اور اداروں کے تعارف اور کام کی تفصیلات قارئینِ اطراف تک پہنچانے کی تیاری کی۔ اس حوالے سے، سماعت سے محروم بچوں و نوجوان طلبا کے ’ڈیف ریچ اسکول‘ اور اس کے منتظمین خصوصاً مسز ماریا پاؤلا سے ملاقات کا وقت مقرر کرنے کے لیے فون پر رابطہ قائم کیا گیا۔

اس ادارے کے بانی رچرڈ گیری اور اہلیہ، ان کے رفقاء کار فرانسز ڈوہرٹی اور اہلیہ ماریا پاؤلا، سب غیر ملکی ہیں اور سماعت سے محروم بچوں کی تعلیم و تربیت کے قابلِ تحسین جذبے سے سرشار ہیں۔ تین عشروں سے زائد عرصہ ہوا ہے انہیں کراچی میں رہتے ہوئے۔ اس عرصے میں انہوں نے کراچی میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے اسکول قائم کیا، پھر کئی اسکول اندرون سندھ قائم کیے اور دو اسکول پنجاب میں بھی۔

گلستانِ جوہر (کراچی) میں قائم اسکول میں جناب فرانسزو مسز ماریا اور پرنسپل مہرین ابرار( پی ٹی وی کی ’’بولتے ہاتھ‘‘ والی معروف) سے تفصیلی ملاقات اور اسکول کی مختلف جماعتوں کے طلبا کو پڑھتے ہوئے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس ملاقات اور اسکول کے دورے کی تفصیل، قارئین کے پیشِ خدمت ہے:

٭ خان ظفر افغانی

اس سوال پر کہ ’’اس فاؤنڈیشن‘‘ کے اور اپنے بارے میں بتائیے؟ انہوں نے کہا کہ ’’ ہم دونوں اپنی شادی سے پہلے ہی سے سماجی خدمت کررہے تھے۔ شادی کے بعد بھی ہم دونوں نے سماجی خدمت کو ہی اپنی زندگی کا مقصد بنالیا۔ انڈیا چلے گئے۔ وہاں جب ہمارا پروجیکٹ مکمل ہوا تو ہم 1985 میں کراچی آئے اور یہاں کئی سماجی خدمات کے اداروں کو اپنی رضاکارانہ خدمات کی پیشکش کی۔ ہمارا ارادہ تھا کہ یہاں دو تین سال رہ کر چلے جائیں گے۔ لیکن ہوا یوں کہ یہاں ہمارے کئی دوست بن گئے جنہوں نے ہماری بہت حوصلہ افزائی کی۔ ہم نے معذور افراد کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ یہاں مسٹر رچرڈ گیری (Richard Geary) سے ملاقات ہوئی۔ ان کا بیٹا سماعت سے محروم ہے۔ انہوں نے ہی ایف ای ایس ایف(FESF) قائم کی ہے۔ یہ ایک خیراتی ادارہ ہے۔

شروع میں یہاں ہم نے اپنے مقامی دوستوں کے ساتھ مل کر ایک کلب بنایا اور سماعت سے محروم افراد کو اشاروں کی زبان کی تعلیم دے کر انہیں اساتذہ بنایا، ہم سب نے سماعت سے محروم بچوں اور نوجوانوں کو پڑھانا اور تربیت دینا شروع کیا تاکہ وہ سماعت کی محرومی کے احساس سے نکل کر خود اعتمادی حاصل کریں اور عملی زندگی میں عام افراد کی طرح حصّہ لیں۔ ہم دونوں شوہر و بیوی، رچرڈ اور ان کی اہلیہ پر مشتمل ٹیم نے کام شروع کیا تھا، مقامی دوستوں کی حوصلہ افزائی اور تعاون تھا، ہم نے رہنے کے لیے کرائے پر مکان لیا تھا۔ شروع میں تو ہمیں کم سپورٹ تھی، ہم مقامی لوگوں کی تعلیم و تربیت کرکے ٹیچرز تیار کررہے تھے تاکہ سماعت سے محروم بچوں اور نوجوانوں کے کام کو آگے بڑھایا جائے جس کی یہاں سخت ضرورت ہے۔ پھر مقامی دوستوں نے دفتر کے لیے جگہ فراہم کی، دو کمپیوٹرز بطور عطیہ دیے۔ سماعت سے محروم افراد کے لیے نصابی کتب تیار کی گئیں، طلبا کو کمپیوٹر کی بنیادی تربیت دینا شروع کی، ان کو انگریزی، اُردو زبانوں، ہارڈ ویئر اور سوفٹ ویئر کی تعلیم دینے کا آغاز کیا، انگریزی اُردو کے ساتھ ساتھ مقامی زبانوں سندھی، پنجابی زبانوں میں رائج اشاروں کو بھی اپنی درسی کتب میں شامل کیا جیسے کہ پانی پینا ہو تو کیا اشارہ کیا جاتا ہے، نیند آرہی ہو تو کس طرح اشارے سے بتاتے ہیں وغیرہ۔

آئے تو ہم دو تین سال کا سوچ کر لیکن یہاں کام بڑھتا گیا، طلبا کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور اب ہمیں یہاں رہتے ہوئے تقریباً 36 برس ہوگئے۔ اس فاؤنڈیشن کے بانی رچرڈ گیری نے بہت کام کیا۔ ان کی سماجی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں ’’ستارۂ خدمت‘‘ سے نوازا ہے۔ وہ ان دونوں بیرون ملک ہیں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے۔ انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے بہت کام کیا ہے۔ Sign Language یعنی اشاراتی زبان(پاکستانی اشاراتی زبان) کو ہمارے ادارے نے کمپیوٹرائزڈ کیا اور کتاب چھاپی ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ

’’آپ کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں سماعت سے محروم بچوں کی کتنی تعداد ہے، سماعت سے محرومی کے کیا اسباب ہیں؟‘‘

انہوں نے بتایا کہ ’’پاکستان میں دس لاکھ سے زائد بچے سماعت سے محروم ہیں۔ سماعت سے محرومی کی وجوہ غربت ، بیماری، خاندان کے اندر شادیاں ہونا ہیں۔ ان کے علاوہ پیدائشی سماعت سے محرومی بھی ہے۔‘‘

’’آپ لوگوں نے دوستوں کا کلب بنا کر سماعت سے محروم افراد کی تعلیم و تربیت کا آغاز کیا تھا۔جب سے اب تک کتنا سفر طے کیا ہے؟‘‘

’’ اب ہماری ایک بڑی ٹیم ہے ہم چار افراد کے ساتھ، ہمارے ہاں سے ہی تعلیم و تربیت حاصل کرنے والے طلبا میں سے ٹیچررز ہیں اور مخیّر لوگوں کا تعاون ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت کراچی، حیدر آباد، سکھر، نواب شاہ، ٹنڈوالہ یار، راشد آباد، لاہور اور جہلم میں ہمارے ڈیف ریچ اسکولز، ٹریننگ سینٹرز اور کالجز، سماعت سے محروم بچوں کو کنڈر گارٹن سے بی اے تک کی تعلیم، ہُنر مندی کی تربیت، والدین کی تربیت، روزگار کے حصول میں مدد فراہم کررہے ہیں۔

اس وقت جہاں آپ سے گفتگو ہورہی ہے، 250 طلبا زیر تعلیم و تربیت ہیں۔ جب کہ تمام کیمپسوں میں 1200 سے زائد طلبا داخل ہیں۔ 400 والدین ہر ایک ماہ چھوڑ کر پی ایس ایل کلاسز میں شریک ہوتے ہیں۔ اب تک 5ہزار سے زائد طلبا ہمارے ہاں سے مستفید ہوچکے ہیں۔

ہمارے اسکولوں سے تعلیم اور ہُنر حاصل کرنے والے ایک ہزار سے زائد طلبا اس وقت روزگار سے وابستہ ہیں۔ پاکستان میں کے ایف سی(KFC) کی 7شاخوں میں ہمارے طلبا خدمات انجام دے رہے ہیں، گل احمد ٹیکسٹائل میں کام کررہے ہیں۔‘‘

اس سوال کے جواب میں کہ

’’ کیا طلبا سے ماہانہ فیس لی جاتی ہے، اسکولوں کے اخراجات کس طرح پورے کیے جاتے ہیں؟‘‘

انہوں نے یعنی فرانسز ڈوہیرٹی اور مسز ماریا پاؤلا نے بتایا کہ ’’ یہ طلبا غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، ہمارا ذریعۂ تعلیم، ہمارے تعلیمی ادارے ان کے والدین کو راغب کرتے ہیں لیکن وہ فیس ادا نہیں کرسکتے، لہٰذا 95 فی صد طلبا مفت تعلیم حاصل کررہے ہیں چند فی صد ہیں جو کبھی کم کبھی پوری فیس دیتے ہیں۔ اخراجات سرکاری گرانٹ اور مخیّر لوگوں کے تعاون سے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ زیادہ تر فنڈز لوگوں کی جانب سے نجی طور پر ہوتے ہیں۔ سرکاری گرانٹ سالانہ بھی ہوتی ہے اور کبھی اس سے کم مدت کے لیے۔ ہم اس کا آڈٹ کراتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ سال کے آخر میں بجٹ ختم ہوجاتا ہے اور اخراجات پورے کرنے میں دُشواری ہوتی ہے۔‘‘

’’آپ نے یہ مخصوص تعلیم کہاں سے حاصل کی؟‘‘

’’رچرڈ گیری کا بیٹا سماعت سے محروم ہے۔ اس کی وجہ سے والد نے تعلیم حاصل کی اور ہم نے ان سے سیکھا۔آپ کو ہم یہ بتائیں کہ طلبا کے والدین یہاں آکر اپنے بچوں کو اشاراتی زبان سیکھتے اور ابلاغ کرتے دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں کہ ان کے بچے اب معاشرے سے علیحدہ یا بوجھ نہیں ہیں۔ ہم والدین کو بھی سکھاتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنے بچوں کو سکھانے میں مدد کریں اور ان میں تعلیم کا شوق پیدا کریں۔ یہ والدین دوسرے والدین کو بتاتے ہیں۔ اس طرح ہمارے ادروں میں سماعت سے محروم بچوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

ہمارے ادارے کا 50فی صد سے زائد عملہ سماعت سے محروم افراد پر مشتمل ہے۔ ہم سب ایک ٹیم کی شکل میں کام کررہے ہیں۔ ہمارے تربیت یافتہ ٹیچرز کیمپسوں میں تعلیم دے رہے ہیں اور ہمارے ہی طرح جذبے سے کام کررہے ہیں۔

ہمارا مرکزی دفتر کراچی ہے۔ اس وقت جہاں ہم بیٹھے ہیں۔ اسی اسکول میں یہ دفتر بھی ہے۔

’’ آپ دونوں 36 برسوں سے پاکستان میں ہیں، یہاں کی شہریت حاصل کی، یا اس کے حصول کے خواہش مند ہیں؟‘‘

’’ جی ہم ایک طرح سے پاکستانی ہی ہیں، تھوڑی بہت اُردو سمجھ اور بول لیتے ہیں، پہناوا اور پکوان بھی مقامی ہیں۔ ہم نے شہریت کے حصول کے لیے حکومت کو درخواست دی ہوئی ہے دیکھئے کب منظورہوتی ہے۔‘‘

’’ آپ دونوں میں سے کس نے کس کو شادی کا پیغام دیا تھا؟‘‘

’’( دونوں خوب ہنسے۔ بیوی نے شوہر کی جانب اشارہ کیا کہ انہوں نے) پھر اُردو میں جواب دیتے ہوئے فرانسز نے بتایا کہ میں نے پروپوز کیا تھا۔ میرا تعلق اسکاٹ لینڈ گلاسگو سے ہے اور ماریا اٹلی روم کی ہیں۔

ہم دونوں اب پردادا پر دادی ہیں۔ ہمارا ایک بیٹا ہے جو انگلینڈ میں ہے اور اس نے وہیں شادی کی ہے۔ رچرڈ گیری کے بیٹے نے یہاں پاکستانی لڑکی سے شادی کی ہے۔‘‘

(مسٹر فرانسز اور ماریا پاؤلا سے گفتگو کے دوران چائے اور بسکٹوں سے ہماری تواضع ہونے لگی،چائے پیش کرنے والا نوجوان بھی اس اسکول سے متعلق اور سماعت سے محروم)۔

چائے کے دَور کے بعد فرانسز، ماریا اور پرنسپل مہرین ابرار نے ہمیں اسکول کا دورہ کرایا جس کا آغاز کنڈر گارٹن کلاس سے ہوا۔ ننھے بچّوں کو استانی، بورڈ پر مارکر سے لکھ کر اور اشاروں کی زبان میں درس دے رہی تھی۔ رنگوں کی پہچان سکھائی جارہی تھی۔ بچوں نے ہمارا خیر مقدم، ہاتھ کی انگلیوں سے اشارے میں ’’آئی لو یو‘‘(I Love You) کہہ کر کیا۔ جواب میں ہم نے بھی ان کی طرح سے جواب دیا۔ جیسے جیسے ہم بڑی کلاسز میں جاتے گئے، ویسے ویسے طلبا کی عمروں کا تناسب بھی بڑھتا گیا۔ پرنسپل کے والد بھی سماعت سے محروم ہیں۔ پرنسپل نے بتایا کہ انہوں نے بھی یہاں اشاراتی زبان سیکھی اور اب وہ یہاں پڑھاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سماعت سے محروم طلبا کو پڑھاکر دلی سکون ملتا ہے۔

ملبوسات کی سلائی و کڑھائی کی تربیت کی کلاس ہورہی ہے، مصوّری سکھائی جارہی ہے، مٹی سے ظروف سازی اور اشیا ئے سجاوٹ بنائی جارہی ہیں،کپڑے، جینز سے استعمال کی اشیاء یعنی بیگز(Bags) وغیرہ بنائے جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ بہت دیدہ زیب ہے۔ ان اشیاء کی قیمتوں کی چٹیں لگی ہوئی ہیں۔ شام جی نے اپنے پوتے پوتی کے لیے دو بیگ خرید کر بچوں کے کام کی حوصلہ افزائی کی ۔

مصوّری کی کلاس کی ایک بچی نے ہمارے لیے رنگین کارڈ بناکر، ہمارا نام لکھ کر انگریزی میں، اسکول کا دورہ کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔دلوں کو چھونے والا انداز ہے۔ بہت جذباتی مناظر ہیں ان کلاسز میں بچوں سے ملاقات کے۔ اورآفرین ہے ان اساتذہ کو جنہوں نے سماعت سے محروم ان بچوں کو، نوجوانوں کو، اشاراتی زبان کے علم سے آراستہ کرکے ابلاغ کے قابل کردیا، یہ طلبا خوش ہیں، ان کے والدین اور خاندان والے خوش ہیں، سماعت سے محرومی اب زحمت یا بوجھ نہیں، یہ تعلیم یافتہ ہیں، بر سرِ روزگار ہورہے ہیں۔

ہمیں بتایا جارہا ہے کہ ’ڈیف ریچ اسکولوں کے طلبا کی یونی فارمز بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ لڑکوں کی سفید قمیص، نیلی ٹائی اور نیلی پتلون ہے۔ لڑکیوں کی نیلی فراک، سفید اسکارف اور سفید شلوار ہے۔ ان یونی فارمز پر اسکول کا ’لوگو‘ بنا ہوا ہے۔ طلبا کے لیے ان کے گھروں سے اسکول لانے اور واپس پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کا بھی مفت انتظام ہے۔

اس سوال پر کہ

’’ اسکول میں طلبا کے لیے کینٹین کا انتظام ہے؟‘‘

بہت معنی خیز انداز میں جواب دیا گیا کہ ’’ہم ابھی آپ کو ایک سرپرائز دیں گے!‘‘

کے جی، پرائمری، سیکنڈری کلاسز ، مصوّری کلاس روم، سلائی کلاس روم، پوٹری کلاس روم کے دورے میں یہ بات بہت قابل ستائش نظر آئی کہ بچوں میں نظم و ضبط ہے، یونی فارمز صاف ستھرے ہیں، کلاس رومز کشادہ اور ہوادار ہیں، کہیں گندگی نہیں، دیگر بچوں کی طرح سماعت سے محروم بچے بھی کھیل رہے ہیں، آپس میں اشاراتی زبان سے ابلاغ بھی ہورہا ہے۔

اب یہ اساتذہ ہمیں جس طرف لے جارہے ہیں وہاں سے پکوان کی اشتہا انگیز خوش بو، ہماری جانب لپک رہی ہے۔ اندر کمرے میں داخل ہوئے، یہ تو باورچی خانہ یعنی آج کی مروّج زبان میں ’کچن‘ ہے، گیس کے چولہے ہیں، دیگیں چڑھی ہوئی ہیں، طلبا ہی کھانا پکارہے ہیں (یہ ہُنر ان کی عملی زندگی میں کام آئے گا جیسے کہ سابق طلبا اس وقت ’’کے ایف سی‘‘ میں کام کرکے بر سرِ روزگار ہیں) ، ان کے ساتھ ان کی ’’شیف‘‘ موجود ہیں۔

پرنسپل بتارہی ہیں کہ ’’اسکول کی شفٹ صبح سے دوپہر تک ہوتی ہے، تمام طلبا کو ظہرانہ مفت دیا جاتا ہے۔ سندھ اور پنجاب کے تمام کیمپسوں میں یکساں مینیوں ہوتا ہے یعنی آج یہاں اس اسکول میں بریانی پکائی گئی ہے تو ہر کیمپس میں بریانی ہی پکے گی۔‘‘ واہ! ماشاء اللہ ۔ زبردست۔

کووڈ 19وبا کی شدت میں اسکول بند ہونے سے مشکلات پیش آئیں تو اسکول کی انتظامیہ نے ، اساتذہ نے اس خیال سے کہ بچے جب اسکول نہیں آئیں گے تو زبان بھول جائیں گے، لہٰذا فوری طور پر ’’آن لائن کلاسز‘‘ شروع کیں۔ بچوں کو ’لیپ ٹاپس‘ دیے گئے جو انتظامیہ نے فنڈ کے طور پر مخیّر افراد و اداروں سے حاصل کیے تھے۔

کلاس رومز کے متاثر کن دَورے کے بعد ہم واپس اسی استقبالیہ کمرے میں آگئے جہاں گفتگو کے بعد، دورہ شروع کیا تھا۔ چائے کے ایک اور دَور کا اصرار ہے۔ ہمیں چار گھنٹے ہوگئے ہیں۔ ڈیف ریچ اسکول کے حوالے سے ہمیں ایک معلوماتی مختصر وڈیو دکھائی جارہی ہے جس میں ’’ایف ای ایس ایف‘‘ کے مقاصد، پروگرام وغیرہ کا بیان کیا گیا، یہ فاؤنڈیشن 12 بورڈ آف ڈائریکٹرز پہ مشتمل ہے جو سب پاکستانی ہیں۔ یہ ادارہ فاؤنڈیشن کے طور پر حکومت سے رجسٹرڈ ہے۔ عطیات، زکوٰۃ کی شکل میں حاصل ہونے والی رقم سے سماعت سے محروم طلبا کو تعلیم و تربیت، انہیں گھروں سے اسکول لانے اور واپس گھر پہنچانے، درسی کتب، یونی فارمز، ظہرانہ، والدین اور ٹیچر ٹریننگ پروگرام، اساتذہ اور عملے کی تنخواہیں، طلبا کے تفریحی پروگرام کے اخراجات کیے جاتے ہیں۔

فاؤنڈیشن کے کالج کا جامعہ کراچی سے الحاق ہے۔ ڈیف ریچ اسکول و کالج کے طلبا کا تعلیمی ریکارڈ اچھا ہے، یہاں کے دو طلبا نے وظیفہ حاصل کیا ہے اور وہ امریکا اعلیٰ تعلیم کے لیے گئے ہوئے ہیں۔

فرانسز اور ماریا کا کہنا ہے کہ ’’پاکستانی لوگ بہت گرم جوش، مہمان نواز، بہت محبت کرنے والے، تعاون کرنے والے ہیں۔ اسی لیے ہم یہاں 36 برسوں سے رہ رہے ہیں ورنہ دو تین سال میں یہاں سے واپس چلے جاتے۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ ’’ سماعت سے محرومی کوئی عیب نہیں بلکہ کم زوری ہے۔ ایسے افراد سے محبت کیجئے، سماعت سے محروم بچوں کو تعلیم دلواکر انہیں معاشرے کے لوگوں میں عملی طور پر شامل کیجئے کہ وہ خود پر ، معاشرے پر بوجھ نہ بنیں اور دیگر لوگوں کی طرح عملی، خوش گوار زندگی گزاریں۔ مخیّر افراد، ان بچوں کی تعلیم و تربیت میں مالی تعاون کریں کہ یہ انسانیت کی خدمت ہے اور روحانی سکون و طمانیت کے حصول کا ذریعہ بھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

eighteen − 11 =