اسپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام

اسلام آباد میں ’اطراف‘ کے نمائندہ خصوصی فرخند یوسف زئی قارئین اطراف کی معلومات میں اضافے کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔ معذوروں پر اشاعت خاص کے لیے انہوں نے اسلام آباد میں خصوصی افراد کے لیے قائم ادارے اسپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام کے سربراہ عاطف شیخ سے خصوصی ملاقات کی۔ اور ان کی اب تک کی کامیابیوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرے نذر قارئین کررہے ہیں۔

اسپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام۔ خصوصی افراد کے لیے سرگرم

معذوری کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر معاون آلے کے حصول میں دو سال لگ جاتے ہیں

خاص افراد اور مرکزی دھارے میں لانا امتیازی سلوک کا خاتمہ مشن

ٹیلی نار کمپنی کے اشتراک سے جاب پورٹل

انکلوسیو ایجوکیشن کے نام سے تعلیمی پروگرام کا آغاز

ہنگامی آفات میں خطرات کم کرنے کے لیے معذوروں کے لیے آگاہی پروگرام

کئی منصوبوں میں اقوام متحدہ کا تعاون بھی شامل ہے

‏10 ہزار خصوصی افراد کو ملازمتیں دلوانے میں مدد

‏STEP کے سربراہ محمد عاطف سے فرخند یوسف زئی نمائندہ ’اطراف‘ اسلام آباد سے کی خصوصی اشاعت

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں خصوصی افراد کی تعداد27 لاکھ سے 30لاکھ کے درمیان ہے۔لیکن بدقسمتی سے یہ مختلف مسائل سے دوچار ہیں اور حکومتی عدم توجہ، مالی وسائل کی کمی اور معاشرے کے امتیازی رویے کی وجہ سے ان کی زندگیاں مشکلات سے بھرپور ہیں۔ ان کی بڑی تعداد کو اپنی روزمرہ سرگرمیاں سرانجام دینے کے لئے بنیادی معاون آلات کی ضرورت ہوتی ہے مگر ان آلات کی قیمتیں اکثر ان کی قوت خرید سے زیادہ ہوتی ہیں جس کی وجہ سے انھیں کسی کے سہارے کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے ۔حکومتی عدم توجہی اور سماجی شعور کی کمی کے باعث ان کے لئے زندگی کی جنگ لڑنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتاہے۔ بدقسمتی سے ملک میں انھیں سوشل سیکیورٹی فراہم کرنے کا کوئی منظم پروگرام موجود نہیں ہے، یہاں تک کہ انھیں سند معذوراں حاصل کرنے کے لئے بھی ایک طویل عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور پھر اسی سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر انھیں کسی معاون آلے کے حصول میں تقریباً دو سال کا عرصہ لگتا ہے۔ یہ صورتحال ان افراد کے لئے مزید تشویشناک ہے جن کی معذوری کا وقت کے ساتھ بڑھنے کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔

اسلام آباد میں قائم اسپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام (STEP)نے خصوصی افراد کے حقوق کے لئے لڑنے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور اس مقصد کے لئے 1997سے مختلف میدانوں میں سرگرم ہے۔ STEPمعاشرے میں خصوصی افراد کے حقوق اجاگر کرنے، ان کے لئے سرکاری، نجی اور ترقیاتی سیکٹرز میں لابنگ کرنے ، انھیں طاقتور بنانے ، سازگار ماحول فراہم کرنے اور صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع دلانے کے لئے کوشاں ہے۔خصوصی افراد کو مین اسٹریم سوسائٹی میں لانا اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ اس ادارے اور اس کے سربراہ محمد عاطف شیخ کا مشن ہے ۔

ڈس ایبیلٹی جاب سنٹر (DJC):

STEPنے ملک میں خصوصی افراد کو ملازمت تلاش کرنے میں مدد فراہم کرنے کے مقصد سے ٹیلی نار کمپنی کے اشتراک سے DJCکے نام سے ایک جاب پورٹل قائم کیا ہے جہاں مختلف شعبوں میں معذور افراد کے لئے مختص ملازمتوں کے اشتہار شائع کئے جاتے ہیں اور اس پورٹل پر یہ افراد ان تمام ملازمتوں کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔ اسی طرح ان کے لئے ملازمت کے مواقع تلاش کرنے کا عمل نہایت آسان کردیا گیا ہے اور وہ ایک ہی پورٹل پر ہر قسم کی ملازمتیں ڈھونڈ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا جاب پورٹل ہے جہاں کمپنیاں خود ملازمتوں کے اشتہار لگاتی ہیں اور یہاں ان کا معذور افراد سے براہ راست رابطہ ہوتا ہے۔ STEPنوجوانوں سے قریبی رابطے رکھتا ہے اور حال ہی میں اس نے DJCمیں فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی کی طالبات کے لئے ایک آگاہی پروگرام کا انعقاد کیا جس میں کئی خصوصی طالبات نے ملازمتوں کے حصول کے لئے اس پورٹل کے ذریعے اپنی CVsجمع کرائیں۔ اسی پورٹل کے ذریعے کئی نوجوانوں کو مختلف اداروں میں ملازمتیں مل چکی ہیں۔ ادارے نے اب تک دس ہزار خصوصی افراد کو مختلف ملازمتیں دلانے میں مدد فراہم کی ہے۔

انکلوسیو ایجوکیشن:

اقوام متحدہ نے 2018کے انسانی ترقیاتی انڈیکس میں پاکستان کو 189ممالک میں 150ویں نمبر پر رکھا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان تعلیمی میدان میں جنوبی ایشیاء میں کم ترین سکور رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق جب تعلیمی مواقع کم ہوجاتے ہیں توبچوں کے لئے سیکھنے اور ملازمتوں کے مواقع کم ہونے کی وجہ سے اگلی نسلیں غربت اور دیگر سنگین مسائل سے دوچار ہونے کے خطرے میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔پاکستان میں انفراسٹرکچر اور وسائل کی کمی کے باعث تعلیم حاصل کرنے کے راستے میں خصوصی بچوں کے لئے بے شمار دشواریاں حائل ہیں۔ STEPنے 2017-18میں انکلوسیو یجوکیشن کے نام سے ملک بھر میں ایک تعلیمی پروگرام کا آغاز کیا جس کے پہلے مرحلے میں خیبرپختونخواہ کے دو اضلاع نوشہرہ اور چارسدہ میں مختلف معذوریوں کی شکار 22طالبات کو 22سکولوں میں داخل کرایاگیا اور 92اساتذہ کو انکلوسیو ٹیچنگ میتھڈالوجی میں تربیت فراہم کی گئی۔ STEPنے اس مقصد کے لئے گراس روٹ سطح پر کام کیا اور 1329کمیونٹی ممبرز کی مدد حاصل کی۔ اسی پراجیکٹ میں خصوصی بچوں کو 180معاون آلات مثلاً وہیل چئیرز، واکرز، ہئیرنگ ایڈ، سفید چھڑیاں اور دیگر ٹولز فراہم کئے گئے۔ ادارے نے حفظان صحت کے عنوان سے 22سیشنز کا بھی انعقاد کیا جس میں 220بچیوں سمیت 1129بچوں کو پرسنل ہائجین کی ٹریننگ دی گئی۔ STEPہی کی کوششوں سے خیبرپختونخواہ حکومت نے اعلان کیا کہ کوئی بھی خصوصی بچہ اب سکول سے باہر نہیں رہے گا اور ان کے لئے سکولوں میں واش رومز جیسی بنیادی سہولیات کا بندوبست کیا جائے گا۔

ڈس ایبلٹی انکلوسیو ڈیزاسٹررسک ری ڈکشن :

پاکستان جغرافیائی لحاظ سے مختلف آفات کے لحاظ سے 7عالمی فالٹ لائنز میں سے تین فالٹ لائنز پر واقع ہے اور اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کسی قدرتی آفت، جنگ یا ہنگامی صورتحال میں معاشرے کا سب سے زیادہ تر طبقہ معذور افراد کا ہوتا ہے ۔ اس طرح کی صورتحال میں اکثر یہ افراد بروقت امداد اور پناگاہوں تک رسائی حاصل نہیں کرپاتے۔ STEPنے اس احساس کے ساتھ کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والے اداروں میں اکثر اوقات معذور افراد کی نمائندگی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل نہیں ہوپاتے،مالٹا کی امدادی تنظیم مالٹیسر انٹرنیشنل کے اشتراک سے ڈس ایبلٹی انکلوسیو ڈیزاسٹررسک ری ڈکشن پراجیکٹ کا آغاز کیا ہے ۔ اس پراجیکٹ کے تحت آفات سے نمٹنے کے اقدامات میں مقامی سطح پر معذور افراد کو شامل کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے جسے دوسرے مرحلے میں قومی و علاقائی سطحوں تک توسیع دی جائے گی۔ ادارے کو اس پراجیکٹ کے آغاز میں معاشرے کے منفی رویوں کی وجہ سے بہت مشکلات کا سامنا رہا۔ محمد عاطف شیخ کے مطابق ان پر سب سے زیادہ اعتراض یہ کیا جاتا تھا کہ جو لوگ خود معذور ہوں وہ کسی اور کی مدد کیسے کرسکتے ہیں؟ لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ مغرب کے ترقی یافتہ ممالک کے اس قسم کے اداروں میں خصوصی افراد کو اہم ذمہ داریاں دی جاتی ہیں اور وہ انھیں کامیابی سے پورا کرتے ہیں۔ لہٰذا ہم نے ان اعتراضات کی پرواہ نہیں کی اور وقت کے ساتھ خود کو اس کام کے لئے بھی اہل ثابت کیا ہے۔

اسپورٹس فار انکلوژن:

کھیل جسمانی و ذہنی صحت کے لئے انتہائی اہم ہے اور STEPکو اس حقیقت کا بھی بخوبی ادراک ہے۔ یہ ادارہ اس شعبے میں بھی متحرک ہے اور اس نے اب تک ملک کے مختلف شہروں میں معذور افراد کے لئے اسپورٹس ایونٹس کا انعقاد کیا ہے جن میں آل پاکستان وہیل چئیر ٹورنامنٹ، پاکستان ڈیف کرکٹ ٹورنامنٹ، وہیل چئیر کرکٹ ٹورنامنٹ، سپرنگ ایشیاء کپ (اسلام آباد)، نیشنل اسپیشل گیم گالا، اسپورٹس فیسٹیول گالا(ایبٹ آباد)، ایس ایس پی وہیل چئیر کرکٹ ٹورنامنٹ(ملتان)، انکلوسیو اسپورٹس ایونٹ (نوشہرہ)، کراچی اور پشاور میں سینسٹائزیشن آف میل چیمپئینزایونٹس شامل ہیں۔

دیگر کامیابیاں:

STEPگزشتہ دس سال سے خصوصی افراد میں قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لئے کام کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے اس نے مختلف کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد کیا ہے ۔ادارے نے اب تک 24بین الاقوامی اور 9قومی شراکت داروں کے ساتھ مختلف پراجیکٹس میں کام کیا ہے۔ 6تحقیقی اور سکوپنگ مطالعے شائع کئے ہیں۔200سے زائد آگاہی سیشنز کا انعقاد کیا ہے۔ادارے نے نمائشی پروگرامز اور فیشن شوز بھی منعقد کئے ہیں۔ ہزاروں افراد کو سکالرشپس پر بیرون ممالک بھیجا اور اب وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے واپس آئے ہیں اور مختلف شعبوں میں ملازمتیں کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ادارے نے 3000سے زائدخصوصی افراد کو مختلف شعبوں میں ٹریننگ بھی فراہم کی ہے۔ ادارے کی خدمات کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا جارہا ہے اور اقوام متحدہ جیسی بڑی تنظیم اس کے پراجیکٹس میں معاونت فراہم کرتی ہے۔

ہمارا ادارہ خود انحصاری پر یقین رکھتا ہے،ہم نے ہزاروں خصوصی افراد کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا،

اسپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام کے سربراہ محمد عاطف شیخ سیفرخند یوسف زئی کا خصوصی انٹرویو

محمد عاطف شیخ سپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام (STEP)کے سربراہ ہیں جس کا شمار پاکستان کے بڑے فلاحی اداروں میں کیا جاتا ہے۔ وہ پاکستان تخفیف غربت فنڈ، یواین ڈیولپمنٹ پروگرام، یونائیٹڈ نیشنزاکنامک اینڈ سوشل کمیشن فارایشیاء اینڈ پیسفک، ورلڈ بینک، آکسفورڈ پالیسی مینجمنٹ اور دیگر کئی بڑے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ معاشرے میں خصوصی افراد کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانا ان کا مشن ہے اور اس مقصد کے لئے اپنی زندگی وقف کرچکے ہیں۔ وہ خود بھی ہاتھ اور ٹانگوں کی معذوری کا شکار ہے لیکن انھوں نے اسے اپنی کمزوری بنانے کی بجائے اپنی طاقت بنایا اور معاشرے میں لاتعداد لوگوں کی فالح کا ذریعہ بنے ہیں۔ ’’اطراف‘‘ نے ان سے انہی معاملات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے:

اطراف: سر آپ کو اسپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام جیسے ادارے کے قیام کا خیال کیسے آیا؟

محمد عاطف شیخ: جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں خود بھی ’اے پرسن ود ڈس ایبیلٹی‘ ہوں ، میری پرائمری تعلیم خصوصی افراد کے سکول میں ہوئی لیکن پھر جب میں ہائی سکول میں چلا گیا تو وہاں مجھے احساس ہوا کہ ہمارے معاشرے میں خصوصی افراد کو کن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مجھے سکول میں خصوصی افراد کے لئے مختص واش رومز ، دیگر سہولیات کی کمی اور اساتذہ و طلباء کی جانب سے مذاق اڑانے اور دیگر منفی رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بہر حال میں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور بی کام کرنے کے بعد ایک دن میرے ذہن میں خیال آیا کہ جانے میرے پرائمری سکول کے کلاس فیلوز اب کس حال میں ہوں گے۔ یہ معلوم کرنے کے لئے میں دوبارہ اپنے سکول گیا اور وہاں سے ان کے ایڈریسز لے کر جب رابطے کئے تو مجھے پتہ چلا کہ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا انتقال ہوچکا ہے، کچھ لوگ نہایت کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور چند ہی لوگ ایسے ہیں جو زندگی میں کامیاب ہوسکے ہیں۔ چونکہ وہ سب ہی معذور تھے ، ان کو بنیادی سہولیات میسر نہیں تھیں اور بہت ساری دشواریوں کا سامنا کر رہے تھے، کئی افراد کو بار بار واش روم جانے کے لئے اپنے والدین سے کہنا پڑتا تھا اور اس اذیت سے بچنے کے لئے انھوں نے کھانا پینا ترک کردیاتھا جس کی وجہ سے وہ مزید پیچیدگیوں کا شکار ہوکر انتقال کرگئے۔ مجھے ان کے بارے میں سن کر بہت افسوس ہوا، پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ صرف ہمارا نہیں بلکہ پورے ملک اور معاشرے کا مسئلہ ہے اور معذور افراد کی زندگیاں ایک المیہ بن چکی ہیں۔تب میں نے سوچا کہ میں ایک ایسا ادارہ قائم کروں گا جو خصوصی افراد کے بارے میں بنیادی معلومات جمع کرکے معاشرے میں آگاہی پھیلائے گا۔ اس طرح میں نے 1997میں چند دیگر خصوصی افراد سے مل کر اس ادارے کی بنیاد رکھی، جو آج ایک بین الاقوامی سطح کا ادارہ بن چکا ہے ۔ یہ ادارہ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اسے خصوصی افراد خود چلاتے ہیں۔

اطراف: پاکستان میں خصوصی افراد مزیدکن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں؟

محمد عاطف شیخ: خصوصی افراد کا سب سے بڑا مسئلہ معاشرے کے منفی رویے ہیں، ان کی ہر جگہ تضحیک کی جاتی ہے، ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور انھیں کمتر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے لئے کوئی انفراسٹرکچر نہیں ہے، نابینا لوگوں کے لئے بریل سسٹم آسانی سے میسر نہیں ہے، سماعت سے محروم افراد کے لئے اشاراتی زبان (sign language)ابھی پوری طرح سے اپنائی نہیں گئی ۔ ادارہ جاتی سطح پر ان کے لئے کوئی کام نہیں کیا گیا ہے، ان کو بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں جبکہ انھیں تعلیمی پالیسی میں بھی نظر انداز کیا جاتا ہے۔عمارتوں میں ان کے لئے خصوصی لفٹ نظام کا بھی فقدان ہے۔

اطراف: آپ اس سلسلے میں حکومتی کردار کے بارے میں کیا کہیں گے؟

محمد عاطف شیخ: ’’خدا نظر بد سے بچائے۔‘‘

اطراف: آپ کے ادارے کو ابتداء میں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا؟

محمد عاطف شیخ: ہمارا ادارہ اس لحاظ سے ایک منفرد ادارہ ہے کہ اسے خصوصی افراد خود چلاتے ہیں، لیکن ابتداء میں ہمیں بڑی مشکل سے تسلیم کیا گیا۔ کہا جاتا تھا کہ یہ تو خود معذور ہیں یہ کسی کی کیا مدد کریں گے؟ بلکہ اب بھی دیہاتوں کی سطح پر ہمارے بارے میں یہ سوچ موجود ہے۔ ہمیں اب بھی بعض جگہوں پر ثانوی اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر حکومت ہمیں سپورٹ کرے تو ہم ملک میں خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لئے ان کی بھرپور مدد کرسکتے ہیں۔ ہم خصوصی افراد تک اس کی رسائی ، انھیں سرٹیفیکیٹ دینے اور احساس پروگرام میں تعاون کر سکتے ہیں ۔

اطراف: آپ کے ادارے کی اب تک کی کامیابیاں کیا ہیں؟

محمد عاطف شیخ: ہم تمام اہم حکومتی کمیٹیوں کا حصہ ہیں۔ اقوام متحدہ نے ہماری کارگردگی کو تسلیم کیاہے، ہم عالمی تھنک ٹینکس کا بھی حصہ ہیں۔ ہمارا ادارہ بڑی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ ہم نے دس ہزار خصوصی افراد کو مختلف شعبوں میں ملازمتیں دلوانے میں مدد فراہم کی ہے، ہزاروں طلباء کو اسکالرشپس دی، 3000خصوصی افراد کو مختلف قسم کی ٹریننگز دیں اور اب یہ سب لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اور اپنے جیسے لوگوں کی مدد کرکے معاشرے کی فلاح کا بھی باعث بن رہے ہیں۔

اطراف: آپ کے ادارے کا ذریعہ آمدن کیا ہے ؟

محمد عاطف شیخ: ہم مختلف اداروں کے لئے ایڈوائزر کے طور پر کام کرتے ہیں اور اچھی خاصی فیس وصول کرتے ہیں، جس سے ہمارے اخراجات آسانی سے پورے ہوجاتے ہیں۔ میں یہاں آپ کو ایک بات بتاوں کہ ہم کسی سے بھیک اور چندہ نہیں مانگتے، ہمارا ادارہ خیرات پر نہیں چلتا۔ ہم اپنے خصوصی افراد کو بھی یہ سکھاتے ہیں کہ وہ مختلف ہنر سیکھ کر کام کریں، خود کمائیں اور کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں۔

اطراف: ادارے کے ماہانہ اخراجات کیا ہیں؟

محمد عاطف شیخ: ماہانہ اخراجات سات آٹھ لاکھ تک آجاتے ہیں۔

اطراف: آپ کے ادارے کی ملک کے کن علاقوں تک رسائی ہے؟

محمد عاطف شیخ: ہم نے پاکستان کے تقریباً تمام دیہاتوں میں کام کیا ہے۔ چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے دوردراز علاقوں تک بھی پہنچے ہیں۔ ہم نے مقامی سطح پر دیہاتوں میں خصوصی افراد کی تنظیمیں بنائی ہیں اور یہ تنظیمیں بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔

اطراف: خصوصی افراد آپ سے مدد لینے کے لئے کیسے رابطہ کرسکتے ہیں؟

محمد عاطف شیخ: سپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام کے نام سے ہماری ویب سائٹ پر ہم سے رابطہ کیا جاسکتا ہے، اس پر ہمارے فون نمبرز اور ای میل پتے درج ہیں۔

اطراف: معاشرے کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

میں یہ پیغام دوں گا کہ معذوری ایک انفرادیت ہے، معذور افراد سے نفرت نہ کریں، ان سے پیار کریں، یہ اللہ کی مخلوق ہے اور اللہ کی مخلوق میں کوئی کمی نہیں ہوسکتی۔ اگر کمی ہے تو ہماری نظروں میں ہے۔ خدا کی بنائی گئی ہر شے شاہکار ہے۔ ہماری بنائی گئی چیزوں میں خامیاں ہوسکتی ہیں لیکن خدا کی تخلیق کردہ ہر چیز مکمل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

10 − 9 =