‏سماعت سے محروم 14 مشہور شخصیات

‏3 دسمبر معذوروں کا دن۔ ’اطراف‘ دسمبر ان محروموں کے لیے مخصوص۔ آپ کی معلومات میں اضافے کے لیے ’اطراف‘ نے دنیا بھر سے ان پُر عزم لوگوں کی کہانیاں تلاش کی ہیں۔ جنہوں نے اپنی محرومی کو معذوری نہیں بنایا۔ بلکہ دنیا کو بدلنے کا ارادہ کیا۔ اور کسی نہ کسی شعبے میں انقلاب برپا کردیا۔ اُردو میں یہ معلومات عرفان علی یوسف نے منتقل کی ہیں۔

‏14  کم سننے والے۔ مگر دنیا بدل دی

ہیلن کیلر۔ بصارت۔ سماعت۔ گویائی سے محروم

کٹی اونیل نے اسسٹنٹ کے طور پر 127فٹ سے نیچے چھلانگ لگائی

چیلا مین دوسرے کمزوروں اور معذوروں کے لیے حوصلہ

ونٹ سروف۔ انٹرنیٹ کے باوا آدم

کلاڈیا ایل گورڈن۔ پہلی بہری سیاہ فام خاتون

جیکب سن کے ’بہروں کے سفر‘ پر دستاویزی فلم بنی

تھامس ایڈیسن انجینئرنگ کی دنیا بدلنے والے آلات کے موجد

لارینٹ کلرک امریکہ میں بہروں کے پہلے استاد

ہرمن، ہیروڈ جڑواں۔ دونوں بیک وقت اچانک بہرے ہوئے

کلیٹن والی اشارہ کی زبان کے شاعر

تلخیص و ترجمہ: سید عرفان علی یوسف

دنیا میں عدم مساوات اور نا انصافی کا مقابلہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔بہت سے بہرے اور کم سننے والے لوگ اس سے بخوبی واقف ہیں۔ امتیازی سلوک اور رسائی کے چیلنجوں کا تجربہ ان پر یہ واضح کرتا ہے۔اپنے حقوق، اور اسی طرح کے دیگرچیلنجوں کا سامنا کرنا، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا بہت سے بہرے اور سننے سے محروم لوگوں کو تبدیلی کے لیے لڑنے کی ترغیب دیتا ہے۔ تاریخ میں لوگوں نے یہ جدوجہد مختلف طریقوں سے کی ہے۔ کچھ لوگ سرگرمی یا سیاست میں حصہ لے کر اپنے حقوق کی جدوجہد کرتے ہیں، دوسرے آرٹ تخلیق کرتے ہیں، اور بعض رابطے کے نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں۔بہت سے لوگ اپنے بہرے پن یا سماعت کی کمی کی پرواہ کیے بغیر عظیم کارنامے انجام دیتے رہے ہیں۔ بہرے اور کم سننے والے لوگوں کی تخلیقی صلاحیت اور لچک لامحدود ہے۔ یہاں ہم ان 14 بہرے اور کم سننے والے سخت کوش اور پر عزم لوگوں کا ذکر کررہے ہیں جنہوں نے اپنے خیالات سے دنیا کو بدل دیا۔

ہیلن کیلرHelen Keller :

ہیلن کیلر ایک قابل ذکر امریکی ماہر تعلیم، معذور کارکن اور مصنفہ تھیں۔ وہ تاریخ کی سب سے مشہور بہری نابینا شخصیت ہیں۔1882 میں کیلر کی عمر 18 ماہ تھی اور وہ ایک شدید بیماری میں مبتلا ہو گئیں جس کی وجہ سے وہ بہری، اندھی اور گونگی ہو گئیں۔ انہوں نے بچپن کے اس تجربے کو بعد میں اپنی سوانح عمری میں ”گہری دھند میں سمندر میں ہونا” کے طور پر بیان کیا۔کیلر ایک ایسے وقت میں زندگی گزاری تھی جب بہرے اور نابینا لوگوں کے لیے کوئی سہارا نہیں تھا۔ اور انہوں نے ایک چھوٹے بچے کی طرح بنیادی علامات کو محسوس کرکے بات چیت کا اپنا طریقہ وضع کیا۔ اس کے بعد کیلر کی ملاقات این سلیون Anne Sullivanسے ہوئی، جو ان کی زندگی بھر کی دوست اور استاد بن گئیں۔ سلیون نے کیلر کو انگلی سے ہجے کرنے اور دوسرے طریقوں سے بات چیت کا طریقہ سکھایا۔کیلر نے یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور نابینا افراد کی مدد کرنے والی ہیلن کیلر انٹرنیشنل (HKI) تنظیم کی مصنف اور بانی بن گئیں۔ وہ ایک عوامی مقرر اور کارکن کے طور پر بھی بہروں کے حقوق کے لیے باقاعدگی سے جدوجہد کرتی رہیں۔انہوں نے خواتین کے حق رائے دہی، مزدوروں کے حقوق، امن پسندی اور ضبط ولادت کے لیے بھی مہم چلائی۔

کٹی او نیل Kitty O’Neil:

‘دنیا کی تیز ترین خاتون’ کے طور پر جانی جانے والی کٹی اونیل ایک امریکی اسٹنٹ وومین اور اسپیڈ ریسر تھیں، جنہوں نے 1970 کی دہائی میں بہت شہرت حاصل کی۔انہوں نے تیزرفتار کے عالمی ریکارڈ قائم کیے۔ انہوں نے ’’ونڈر وومن‘‘ میں لنڈا کارٹر کے سٹنٹ ڈبل کے طور پر بالکونی سے 127 فٹ کی چھلانگ لگا ئی، اس طرح کٹی نے اپنے پورے کیریئر میں نئے عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے غیر معمولی کارنامے انجام دیے۔کٹی اونیل پانچ ماہ کی عمر میں متعدد بیماریوں میں مبتلا تھیں جس سے انکی سماعت متاثر ہوئی۔ دو سال کی عمر میں انکی ماں کو پتہ چلا کہ اس کی بیٹی سن نہیں سکتی،وہ گونگی اور بہری ہے۔ چنانچہ کٹی اونیل کی ماں نے اسے ہونٹ پڑھنا اور بولنا سکھایا۔او نیل بیماریوں سے لڑتی رہی۔ انہیں گردن توڑ بخار ہو گیا جس کی وجہ سے ان کی اولمپک ڈائیونگ کی خواہش پوری نہ ہوسکی۔ انہوں نے موت کا مقابلہ کرنے والے کارنامے جاری رکھے۔ واٹر اسکیئنگ، اسکوبا ڈائیونگ، اسکائی ڈائیونگ اور ہینگ گلائیڈنگ کرتے ہوئے وہ کبھی نہیں ڈریں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈائیونگ ”میرے لیے کبھی خوفناک نہیں رہی۔”20 کی دہائی میں، او نیل کو کینسر کی تشخیص ہوئی، لیکن انہوں نے اس کا علاج نہیں کرایا۔ انہوں نے زمین اور پانی پر تیز رفتاری کے 22 ریکارڈ قائم کیے اور 1982 میں اپنے ایک ساتھی کے ہلاک ہو جانے کے بعد ریٹائر ہوگئیں۔ان کے الفاظ ہیں کہ، ”بہرے لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں بشرطیکہ ہ کبھی ہمت نہ ہاریں۔ جب میں 18 سال کی تھی تو مجھے کہا گیا تھا کہ مجھے نوکری نہیں مل سکتی کیونکہ میں بہری ہوں۔ لیکن میں نے کہا کہ ایک دن میں کھیلوں میں مشہور ہونے جا رہی ہوں۔ میں نے انہیں یہ دکھانے کے لیے کہ میں کچھ بھی کر سکتی ہوں ہر خطرناک کام کیا”

ہیبن گرماHaben Girma :

وہ معذوری کے حقوق کی ایک ماہر وکیل ہیں اور ہارورڈ لاء اسکول سے گریجویشن کرنے والی پہلی بہری نابینا شخصیت ہیں۔سابق امریکی صدر براک اوباما نے انہیں وائٹ ہاؤس چیمپیئن آف چینج قرار دیا، اور انہیں 2018 میں ہیلن کیلر اچیومنٹ ایوارڈ بھی ملا ۔گرما معذوری کے حقوق کی پرجوش وکیل ہیں۔ اس نے قانون میں دلچسپی کی وجہ سے اس کی اعلی تعلیم حاصل کی۔ وہ یونیورسٹی کے کیفے میں مینو تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی تھیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مینو کو تمام طلباء کے لیے قابل رسائی بنایا جائے۔گرما بچپن میں ایک نامعلوم بیماری کی وجہ سے اپنی سماعت اور بینائی کھو بیٹھی تھیں ۔ ان کے پاس ایک جرمن شیفرڈ امدادی کتا مائلو Mylo ہے اور وہ بریل کی بورڈ کے ذریعے دوسروں کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک مددگار بھی ساتھ رکھتی ہیں۔

چیلامینChella Man:

بہرے اور کم سننے والی برادری میں سب سے پرجوش نوجوان آوازوں میں سے ایک آواز 21 سالہ چیلا مین کی ہے۔ وہ ایک باصلاحیت بصری فنکار، اداکار، متاثر کن اور گونگی بہری اور نابینا برادریوں میں سرگرم کارکن ہیں۔ چیلا مین کی انٹرنیٹ پر موجودگی سے دوسرے کمزور معذور لوگوں کو حوصلہ ملتا ہے اور وہ بہرے اور معذور لوگوں کے حقوق کے لیے باقاعدگی سے وکالت کرتے ہیں۔چار سال کی عمر میں، چیلا مین کو کانوں میں گھنٹی بجنے کی آوازآنے لگیں۔ آہستہ آہستہ ان کی سماعت کم ہونے کی تشخیص ہوئی۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ بالآخر اپنی سماعت مکمل طور پر کھو دیں گے۔ اب وہ کوکلیئر امپلانٹس cochlear implants استعمال کرتے ہیں۔

ونٹ سرفVint Cerf:

ونٹ سرف کو ‘انٹرنیٹ کے باوا آدم’موجدوں میں سے ایک تصور کیے جاتے ہیں۔وہ ایک ریاضی دان اور موجد ہیں جنہوں نے 1974 میں رابرٹ ای کاہن کے ساتھ مل کر TCP/IP پروٹوکول ایجاد کیا، جس نے انٹرنیٹ کی جدید شکل کی ایجاد کی راہ ہموار کی ۔جب وہ 1943 میں پیدا ہوئے تھے تو ان کو سانس لینے میں مدد کے لیے آکسیجن ٹینک میں رکھا گیا تھا۔ اب ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ اس کی وجہ سے ان کو اعصابی نقصان ہوا ۔سرف اب ایک قابل رسائی وکیل ہیں۔ گوگل کے ساتھ ایک انٹرویو میں تکنیکی رسائی کے بارے میں بات کرتے ہوئیسرف نے کہا، ”کسی بھی پروڈکٹ کے ڈیزائن کے مرحلے کے دوران اس پر غور کیا جانا چاہیے کہ اس کا قابل رسائی ہونا اور استعمال میں آسانی انتہائی ضروری ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایسی مصنوعات بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے جو سارے لوگوں کے استعمال کے قابل نہ ہوں۔”

ڈیرک کولمینDerrick Coleman:

ڈیرک کولمین امریکہ کی نیشنل فٹ بال لیگ (NFL) میں قانونی طور پر پہلے بہرے کھلاڑی ہیں۔لاس اینجلس (UCLA) میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے لیے فٹ بال کھیلنے کے بعد کولمین نے 2012 میں مینی سوٹا وائکنگز کے ساتھ کھیلنے کا معاہدہ کیا۔جینیاتی سماعت کی کمزوری کی وجہ سے کولمین تین سال کی عمر میں بہرے ہو گئے تھے۔اپنے پورے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران، کولمین نے مینی سوٹا وائکنگز، سیئٹل سی ہاکس، اٹلانٹا فالکنز اور ایریزونا کارڈینلز کے لیے کھیلا ۔ وہ گیمز کے دوران اپنی ٹیم کے ساتھ بات چیت کے لیے ہاتھ کے اشاروں اور ہونٹوں کی ریڈنگ(لب خوانی) کا مرکب استعمال کرتے ہیں۔

کلاڈیا ایل گورڈنClaudia L. Gordon:

کلاڈیا ایل گورڈن معذوری کی وکیل ہیں۔ وہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں پہلی بہری سیاہ فام خاتون اٹارنی ہیں۔گورڈن نے اپنے کیریئر کا آغاز نیشنل ایسوسی ایشن آف دی ڈیف لاء اینڈ ایڈوکیسی سنٹر میں قانون کے گریجویٹس کے معذور افراد کے ساتھ کام کرنے کا اسکالرشپ حاصل کرنے کے بعد کیا۔ انہوں نے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی، دفتر برائے شہری حقوق اور شہری آزادیوں کے لیے سینئر پالیسی مشیر کے طور پر کام کیا۔گورڈن آٹھ سال کی عمر سے بہری ہیں، لیکن انہیں بڑی مشکل سے یہ یقین آیا کہ وہ بہری ہیں کیونکہ وہ لوگوں کے ہونٹ پڑھ سکتی تھیں اور سوچتی تھیں کہ وہ ان کی آوازیں سن رہی ہیں۔ گورڈن ’نیشنل بلیک ڈیف ایڈوکیٹس‘ کی نائب صدر تھیں اور ’معذوری کے حقوق کے قومی اتحاد‘ کے ساتھ بھی شامل رہیں۔ https://www.instagram.com/p/B8ClqC_nf_e/

سیزر جیکب سنCasar Jacobson:

وہ ایک نارویجن۔کنیڈین بہری کارکن اور سائنس دان ہیں۔ وہ شمالی امریکہ میں پہلی بہری شخصیت تھیں جس نے قومی مقابلہ کا اعزاز حاصل کیا۔جیکب سن مس یونیورس کنیڈا آڈئینس فیورٹ (2012)، مس کنیڈا (2013) اور مس پیس (2013) رہیں۔جیکبسن پیدائشی طور پر دونوں کانوں سے بہری تھیں۔ اب وہ دو’ کوکلیئر امپلانٹس‘ استعمال کرتی ہیں۔جیکبسن اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرتی رہی ہیں۔ وہ UN Youth and Gender Equality 50/50 کی چیمپئن ہیں اور UN Women ( اقوام متحدہ کی خواتین) کے ساتھ صنفی اور معذوری کے شعبوں میں مساوات کو بہتر بنانے کے منصوبوں پر کام کرتی رہی ہیں۔ وہ اشاروں کی زبان تک رسائی رکھتی ہیں۔جیکب سن بطوراداکار کئی اقسام کے کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے ’ٹاک ٹو دی ہینڈز‘میں ایملی اور ’دی مرڈرز‘ میں ایما کا کردار ادا کیا۔وہ ’دی گڈ ڈاکٹر‘ کے تیسرے سیزن اور کنیڈا کے ’گوٹ ٹیلنٹ‘ میں بھی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔جیکب سن نے کہا کہ وہ نئے کردار تخلیق کرنے اور نئی بہری داستانوں کے مسودے لکھنے پر کام کر رہی ہیں۔ جیکب سن کے ’بہروں کے سفر‘ پر ایک دستاویزی فلم 2020 میں ریلیز ہونے والی تھی۔

ٹمیکا کیچنگزTamika Catchings:

باسکٹ بال سپر اسٹار ٹمیکا کیچنگز کا 2002 سے 2016 تک 15 سالہ کیریئر شانداررہا تھا۔وہ ایک سے زیادہ ایوارڈ یافتہ ہیں، اور انہوں نے چار اولمپک گولڈ میڈلز بھی حاصل کیے ہیں۔انہوں نے 1997 میں پہلی بار کوئنٹپل ڈبل (25 پوائنٹس، 18 ریباؤنڈز، 11 اسسٹ، 10اسٹیلز اور 10 بلاکس) ریکارڈ قائم کرکے شہرت حاصل کی۔ کیچنگز نے اپنا پورا کیریئر کورٹ پربطور ایک آل راؤنڈر، ویمنز نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن (WNBA) کے انڈیانا فیور کے لیے کھیلتے ہوئے گزارا۔ وہ دس WNBA آل اسٹار ٹیموں، 12 آل WNBA ٹیموں اور 12 آل ڈیفنس ٹیموں کے لیے بھی منتخب ہوئیں۔کیچنگز کوسننے میں مشکل پیدا ہوئی تو اس وقت وہ جوان تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے آلات سماعت پہننا شروع کیے۔انہوں نے 2012 سے 2016 تک WNBA پلیئرز ایسوسی ایشن کی صدر کے طور پر خدمات انجام دیں، اور 2020 میں انہیں خواتین کے باسکٹ بال ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔

تھامس ایڈیسنThomas Edison:

تھامس ایڈیسن نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ بغیر کسی سماعت کے گزارا اور انہیں امریکہ کے سب سے بڑے موجد کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ایڈیسن انجینئرنگ کی دنیا کو بدلنے والے آلات کے لیے مشہور ہیں جن میں لائٹ بلب، فونوگراف (آواز کو ریکارڈ کرنے اور چلانے کا پہلا آلہ) اور ٹیلی فون میں استعمال ہونے والا مائیکروفون شامل ہیں۔ایڈیسن کی سماعت سے محرومی کی وجہ ایک بہت بڑا راز ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس بیماری کی شروعات 12 سال کی عمر میں ہوئیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سکارلیٹ بخار(سرخبادہ) میں ان کی سماعت جاتی رہی۔ ایڈیسن نے خود دعویٰ کیا تھا کہ ٹرین سے گرنے کے بعد ان کی سماعت متاثر ہونا شروع ہوئی۔ایڈیسن نے کہا کہ سننے سے محروم ہونے کی وجہ سے وہ اپنے کام پر توجہ مرکوز کرنے کے قابل ہوگئے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ بہرے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ‘پڑھنا’ چاہیے کیونکہ ”وہ عام لوگوں کوگفتگو میں مات دے سکتے ہیں۔”ایڈیسن کا اقتباس مشہور ہے کہ: ”میں ناکام نہیں ہوا ۔ میں نے 10,000 طریقے دریافت کیے ۔”

لارینٹ کلرکLouis Laurent Marie Clerc :

امریکی اشاروں کی زبان اور بہروں کی تعلیمی ترقی میں لارینٹ کلرک نے ایک اہم کردار ادا کیا۔انہیں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ‘بہروں کا پہلا استاد’ سمجھا جاتا ہے اور بعض اوقات انہیں ‘امریکہ میں بہروں کے پیغام برکے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے شمالی امریکہ میںThomas Hopkins Gallaudet کے ساتھ مشترکہ طور پر بہروں کے پہلے اسکول کی بنیاد رکھی۔یہ واضح نہیں ہے کہ آیا کلرک پیدائشی طور پر بہرے تھے یا نہیں۔ وہ ایک سال کی عمر میں کرسی سے گرنے سے بہرا ہو گئے تھے۔ وہ سونگھ نہیں سکتے تھے۔ یہ نام انہیں بچپن میں آگ میں گرنے اور گال پر لگنے والے زخم کی وجہ سے دیا گیا ۔

فرانسسکو گویا:

Francisco José de Goya y Lucientes کو فرانسسکو گویا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 18ویں صدی کے آخر اور 19ویں صدی کے اوائل میں وہ ایک ہسپانوی رومانوی فنکار تھے۔ان کا فنکارانہ کیریئر بہت زیادہ تھا اور بہت سے موضوعات پر محیط تھا۔ اب بھی انہیں اس دور کے سب سے زیادہ بااثر مصوروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 1793 میں گویا ایک ناقابل تشخیص بیماری کے بعد بہرے ہو گئے۔گویا کی بہت سی مشہور پینٹنگز انتہائی سیاسی ہیں اور ان میں کچھ بہت خوفناک ہیں۔ انہوں نے طاقت، جنگ اور بدعنوانی کے تصورات کو موضوع بنایا۔ ان کے سب سے مشہور کاموں میں سے ایک وہ ٹکڑا ہے جو ‘بلیک پینٹنگز’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسے انہوں نے اپنے گھر، Quinta del Sordo (ہاؤس آف دی ڈیف) کی پلاسٹر کی دیواروں پر پینٹ کیا تھا۔

ہرمن اور ہیروڈا برہانے:

یہ دونوں طرز زندگی کے بلاگرہیں اور انتہائی متاثر کن ہیں۔ ہرمن اور ہیروڈا برہانے دونوں بہرے ہیں اور ایک جیسے جڑواں بچے ہیں۔ان کے پاس ایک کامیاب فیشن اور ٹریول بلاگ ‘Being Her ‘ہے۔ Instagramپرا ن کا صفحہ طرز زندگی پر مواد شائع کرتا ہے اور بہروں کے متعلق آگاہی اور معلومات فراہم کرتا ہے۔جڑواں بچوں کی اپنے بہرے پن کے بارے میں ایک دلچسپ خاندانی کہانی ہے۔ سات سال کی عمر میں دونوں ایک ہی وقت میں اچانک بہرے ہو گئے۔ وہ اپنے قریبی خاندان کے واحد بہرے رکن ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیسے اور کیوں بہرے ہو گئے؟ برہانے بہروں کی وکالت کرتے ہیں اور ان کے حقوق کے بارے میں آواز اٹھاتے ہیں۔ وہ اپنے سامعین کو تعلیم دینے اور ان کی رہنمائی کرنیکے لیے متعدد چینلز استعمال کرتے ہیں۔

کلیٹن والیClayton Valli :

وہ بہرے ماہر لسانیات اور امریکن اشاراتی زبان (ASL) کے شاعر ہیں۔کلیٹن والی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے ASL شاعری کو ادبی صنف کے طور پر دریافت کیا۔انہوں نے اشاروں کی زبان میں منفرد اور خوبصورت شاعری تخلیق کی۔والی کی شاعری میں اپنے کاموں کے معنی بیان کرنے کے لیے ہاتھ کی شکل، ہاتھ کی حرکت، چہرے کے تاثرات، جگہ اور تکرار کا استعمال ہوتا ہے۔ ان کی بہت سی نظموں میں فطرت کے موضوع کو بہروں کے تجربے کے بارے میں بات کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ان کی ایک نظم ڈینڈیلین ہے جو ASL کی طاقت کے بارے میں ہے۔ اس میں ایسے ماحول کا تذکرہ ہے جہاں لوگ اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

(بشکریہ: ا۔ی۔ میڈیا)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

ten + one =