مورخ عوام ڈاکٹر مبارک علی

ڈاکٹر سید جعفر احمد۔ پاکستان کے ایسے مسلمہ دانشوروں میں سے ہیں۔ جو انسان کی آزادی اور خودمختاری کو تمام علوم کی بنیاد خیال کرتے ہیں۔ ہمارے ہم دم دیرینہ۔ ’اطراف‘ کے شروع سے قلمی سرپرست۔ محرومی کے حوالے سے ہم نے ان سے درخواست کی کہ وہ پاکستان کے عظیم مورخ ڈاکٹر مبارک علی کی بصارت سے متعلقہ مشکلات اور ان کے باوجود خرد افروزی پر ایک تحریر سے نوازیں۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں کہ انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ کے ڈائریکٹر اور پاکستان کی یونیورسٹیوں اور اعلیٰ اداروں میں قومی تشکیل و تعمیر کی حوالے سے لیکچروں کے لیے مقبول ڈاکٹر سید جعفر احمد نے ایک جامع مبسوط تحریر بہت ہی دل نشیں پیرائے میں نذر قارئین کی ہے۔

ڈاکٹر مبارک علی: بصرت سے محرومی کے بعد بھی بصیرت افروز

تاریخ کے مضمون سے ذہنوں میں بیداری پھیلائی

تاریخ کو سلطنتوں اور حکمرانوں کی قیود سے آزاد کیا

صرف سیاست تک نہیں معاشرے کے ہر حلقے کی اپنی تاریخ

علی الصباح ٹہلنے کے بعد ایک گلاس گاجر کا جوس

رخصتِ بینائی کے بعد صورت حال کا مقابلہ وقار اور ہمت کے ساتھ

دن میں آڈیو کتابیں سنتے ہیں۔ شام کو اسٹینو کو املا دیتے ہیں

ڈاکٹر طہٰ حسین۔ نجیب محفوظ ۔ ابو العلا المعری ۔ سارتر آخر زندگی بصارت سے محروم ہوئے

ڈاکٹر صاحب ٹیکنالوجی اور نئی تحقیقات سے با خبر

اہم کتابیں سن کر ذہن میں محفوظ کررہے ہیں

مغرب کی تاریخ نویسی واضح طور پر مغرب نواز یا یورپ مرکز

٭ڈاکٹر سید جعفر احمد کی تحریر خاص برائے اطراف

ملک کے مشہور مؤرخ ڈاکٹرمبارک علی گذشتہ چند برسوں میں آہستہ آہستہ بینائی سے محروم ہوتے رہے اوروہ اب تقریباً مکمل طور پربینائی سے محروم ہوچکے ہیں لیکن بصارت سے محرومی اُن کی بصیرت پر اثر انداز نہیں ہوسکی اوراُن کے افکار اور تاریخ سے کشید کردہ روشنی اب بھی اسی طرح ذہنوں کو منور کررہی ہے، جس طرح وہ اُن کی بصارت کے زمانے میں کرتی رہی تھی۔ڈاکٹر مبارک علی ملک کے ایک مقبول تاریخ دان ہیں۔وہ ایک پیشہ ور مؤرخ تو ہیں ہی کہ انہوں نے تاریخ کے مضمون کی تعلیم اہم درسگاہوں میں حاصل کی۔انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کیااور پھر جرمنی کی مشہور بورخم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔انہوں نے واپس آکر سندھ یونیورسٹی میں کئی سال تاریخ کا مضمون پڑھایا ۔وہ مختلف یونیورسٹیوں میں توسیعی لیکچرز کے لیے بھی مدعو کیے جاتے رہے، پیشہ ورانہ ، علمی و تحقیقی جرائد میں اُن کے مقالات شایع ہوتے رہے،اور پھر انہوں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر اور سرکاری پابندیوں سے جان چھڑا کر آزادانہ تحقیق اور تصنیف و تالیف کا کام شروع کردیا۔

ڈاکٹر مبارک علی نے ایک بہت بھرپور زندگی گزاری ہے۔انہوں نے اپنی تاریخِ پیدائش کے بارے میں خود لکھا ہے کہ اس کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ تو بزرگوں نے نہیں رکھا لیکن جب اسکول کا فارم بھرا گیا تو اس میں ۲۱ ؍اپریل ۱۹۴۱ء کو تاریخِ پیدائش کے طور پر درج کروادیا گیا۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ اس سال خیر سے اسّی سال کے ہوچکے ہیں۔اس سال دوستوں اور ملک بھر میں پھیلے ہوئے ان کے براہ راست اور بالواسطہ طالبعلموں نے اپریل میں ان کی سالگرہ کچھ اس طرح منائی کہ کورونا کی وبا کی وجہ سے کوئی تقریب تو نہیں ہوسکی مگر فیس بک کے ذریعے سینکڑوں لوگوں نے مبارکباد اُن تک پہنچا دی ۔

ڈاکٹر مبارک علی ایک پروفیشنل مؤرخ ہونے کے باوجود پیشہ ور مورخوں کی اکثریت سے مختلف طرزِ فکر اور طرزِ بودو ماند کے حامل رہے ہیں۔وہ لائبریریوں اور آرکائیوز کے اندر ہی مقید نہیں رہے بلکہ انہوں نے وسیع تر معاشرے کے ساتھ ہمیشہ اپنا ایک عملی تعلق قائم رکھا۔اُن کے خیالات بھی ایسے رہے ہیں جن کا تقاضا تھا کہ وہ عام لوگوں سے ملیں جلیں اور اُن کے خیالات میں تبدیلی کی جوت جگائیں۔بلامبالغہ آج وہ پاکستان کے مقبول ترین مؤرخوں میں سے ایک ہیں جن کا حلقۂ اثر عام لوگوں، طالبعلموں اور سیاسی کارکنوں تک پھیلا ہوا ہے۔ڈاکٹر صاحب کی کتابیں ملک کے دور اُفتادہ علاقوں میں بھی پڑھی جاتی ہیں۔اُن کی اتنی زیادہ مقبولیت کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انہوں نے تاریخ کے مضمون کو ذہنوں کی بیداری کے لیے استعمال کیا ہے۔اُن کی تاریخ سلانے والی نہیں بلکہ جگانے والی تاریخ ہے۔

ڈاکٹر مبارک علی نے ابتداً بہت بے سرو سامانی کے عالم میں کتابیں اور کتابچے لکھنے شروع کیے تھے۔جنرل ضیا ء الحق کے مارشل لاء کے زمانے میں ان کی تحریریں کوئی بھی پبلشر شایع کرنے کا روادار نہ تھا۔چنانچہ وہ ہاتھ سے کتابت کرکے چھوٹے چھوٹے کتابچے چھاپتے تھے اور خود طالبعلموں کے ذریعے ان کو دکانوں پر رکھوانے کی کوشش کرتے تھے لیکن جب ان کی کتابوں سے یہ حقیقت واضح ہونا شروع ہوئی کہ وہ سرکاری طور پر لکھوائی گئی غیر معروضی تاریخ کے برخلاف نہ صرف اس تاریخ کے اوپر سوالات اٹھاتے ہیں بلکہ ایسے حقائق کو منظر عام پر لانے کی ہمت بھی رکھتے ہیں جو ماضی کے حوالے سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں اور افسانہ و افسوں کو رد کرتے ہوں، تو ان کی تحریریں رفتہ رفتہ مقبول ہوتی چلی گئیں۔بعد کے برسوں میں ان کو پبلشر بھی ملے اور ان کی ایک ایک کتاب کے دسیوں ایڈیشن بھی چھپے۔ڈاکٹر مبارک اب تک اردو او ر انگریزی کی سو (۱۰۰) سے زائد کتابیں لکھ چکے ہیں ۔یہ کتابیں اُن کج بحثیوں سے پاک ہیں جو اکثر ان کتابوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں جن کے لکھنے والے کسی تنقیدی زاویہ نگاہ کا مظاہرہ کرنے کے بجائے بحث برائے بحث سے صفحے سیاہ کررہے ہوتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کی کتابوں کی ضخامت اور قیمت بھی ایک عام قاری کی سہولت اوراستعداد کو سامنے رکھ کر طے کی جاتی ہے۔

جہاں تک ڈاکٹر مبارک علی کی تاریخ نویسی کا تعلق ہے ، بہت اختصار کے ساتھ ہم چار ایسی بنیادی خصوصیات کا ذکر کرسکتے ہیں جو ان کی تاریخ نویسی کو ایک امتیازی حیثیت سے ہمکنار کرتی ہیں۔پہلی بات تو یہ کہ روایتی تاریخ نویسی جو دراصل حکمرانوں ، بادشاہوں، سپہ سالاروں، محلّات، ان محلاّت میں ہونے والی سازشوں اور حکمرانوں کی ملک گیری اور جنگ بازی کے موضوعات سے آگے نہیں بڑھتی ، ڈاکٹر صاحب نے اس سے بغاوت کا راستہ اختیار کیا۔ان کا خیال ہے کہ یہ ساری تفصیلات ماضی کی یکطرفہ تصویر پیش کرتی ہیں جبکہ ماضی کا مکمل احاطہ اس وقت ہوسکتا ہے جب تاریخ کو سلطنتوں اور حکمرانوں کی قیود سے نکال کراس کا دائرہ کار معاشرے تک وسیع کیا جائے۔انہوں نے معاشرتی تاریخ اور عوام کی تاریخ کی اہمیت کو اردو داں طبقے کے لیے جس بھرپور انداز سے پیش کیا اور جس مدلل انداز میں اس کی وکالت کی وہ ان کی بہت بڑی خدمت ہے۔برسہا برس کی اس جدوجہد کے نتیجے میں آج پاکستان میں’’ عوام کی تاریخ ‘‘اور’’ معاشرے کی تاریخ‘‘ کی اصطلاحات نہ تو غیر معروف رہی ہیں اور نہ ہی نامانوس۔

ڈاکٹر صاحب کی دوسری بڑی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے تاریخ اور تاریخ نویسی کے بیسیوں دوسرے شعبوں کی نشاندہی کی ہے اور دنیا جہاں سے وہ مثالیں اکٹھا کی ہیں جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تاریخ صرف سیاست کے دائرے میں نہیں گھومتی بلکہ معاشرے کے مختلف حلقوں کی بھی اپنی تاریخ ہوتی ہے،مختلف پیشوں کی بھی تاریخ ہوتی ہے۔عمارتیں، زرائع مواصلات، کھانے پینے کے آداب ، لباس، رہن سہن ، افکار، غرض ہر وہ چیز جو انسانی زندگی کا حصہ ہے ، اپنے ارتقا کی ایک داستان اپنے ساتھ لے کرہمارے سامنے آتی ہے۔اس داستان کا مطالعہ ہی تاریخ کہلاتا ہے۔سو اس لحاظ سے دیکھا جائے تو دنیا کی ہر چیز ، ہر رویے، ہر مادی وجود ، ہر خیال کی تاریخ مرتب کی جاسکتی ہے اور اگر ایسا ہے تو تاریخ نویسی کوئی لگا بندھا موضوع نہیں بلکہ ایک وسیع سے وسیع تر ہوتا ہوا زندہ موضوع ہے۔دنیا کے مختلف ملکوں کی یونیورسٹیوں میں تاریخ کی ان ساری جہتوں پر دادِ تحقیق دی جارہی ہے۔

ایک تیسر ی بات جو اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ ڈاکٹر مبارک علی نے جہاں ایک طرف عوام کی تاریخ کی اہمیت کو اجاگر کیا وہیں انہوں نے جو کچھ بھی لکھا وہ عوام ہی کو پیش نظر رکھ کر لکھا۔وہ آسان زبان لکھتے ہیں اور مشکل سے مشکل موضوع کو بھی سہل بنا کر پڑھنے والوں تک منتقل کردیتے ہیں۔

ڈاکٹر مبارک علی کی چوتھی بڑی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے صرف خود ہی تاریخ نہیں لکھی بلکہ انہوں نے تاریخ فہمی کو فروغ دینے اور ملک کے عام پڑھے لکھے لوگوں میں تاریخ کا شعور پیدا کرنے کی خاطر عملی کام بھی کیے ۔وہ ’تاریخ ‘ کے نام سے ایک وقیع علمی جریدہ شایع کرتے ہیں جس کے اب تک ساٹھ سے زیادہ شمارے منظر عام پر آچکے ہیں۔یہی نہیں بلکہ وہ تاریخ کے موضوع پر ملک کے مختلف شہروں میں بیس ، پچیس کانفرنسیں بھی منعقد کرچکے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے یہ سب کام بحیثیت مجموعی مشکل حالات ہی میں کیے ہیں لیکن نہ تو کبھی کوئی حرف شکایت ان کی زبان پر آیا اور نہ ہی انہوں نے حکومتوں اور اداروں سے کسی قسم کی توقعات رکھیں۔

تاریخ اور تاریخ نویسی کے حوالے سے ڈاکٹر مبارک علی صاحب جو اتنا بھرپور اور ہمہ جہت کام کرپائے اُس کے پیچھے سچائی تک پہنچنے کا ان کا حقیقی جذبہ، تاریخ کے نام پر پھیلائی گئی افسانہ و افسوں کی باتوں کو حقائق کے ذریعے رد کرنے کی خواہش، اور حقیقی سیاسی شعور کو معاشرے میں عام کرنے کی اہمیت کا احساس ، یہ اصولی اور نظریاتی عوامل تو تھے ہی لیکن یہ سارا کام جس محنت ومشقت اور جسمانی توانائی کا متقاضی تھا اُس کو بہم رکھنے میں ان کی کامیابی بھی ایک بہت بڑا عامل ثابت ہوئی۔کتنے ہی محققین، مورخین اور ادیبوں نے تصنیف و تالیف کا زرخیز سرمایہ اس لیے بھی آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑا کہ انہوں نے اپنی صحت کو اپنے مشن کا حصہ تصور کیا۔دوسری طرف ماضی میں ایسے بھی سینکڑوں بلکہ ہزاروں اہلِ قلم گزرے ہیں جن کا اعلیٰ اور ارفع کام اُن کی بُری صحتوں کی وجہ سے اتنا زرخیز نہیں بن سکا جتنا کہ وہ بن سکتا تھا۔پروفیسر فرمان فتح پوری صاحب نے پروفیسر انجم اعظمی کی وفات پر منعقدہونے والے تعزیتی اجلاس میں بڑی اچھی بات کہی تھی، انہوں نے کہا تھا کہ ہم ادیب اورشاعر لفظوں کی نشست و برخاست، ردیف اور قافیے کی پابندی، مصرعوں کے بحر میں ہونے یا بحر سے خارج ہونے کے بارے میں اس قدر حسّاس واقع ہوئے ہیں کہ زراسی بھول چوک سے بھی ہم صرفِ نظر نہیں کرسکتے لیکن ہمیں کبھی توفیق نہیں ہوتی کہ کچھ اپنے گُردوں کے بارے میں، اپنے نظامِ ہاضمہ اور قلب کی صورت حال کے بارے میں بھی توجہ کرسکیں۔اپنی جسمانی صحت کی طرف ہم اُسی وقت متوجہ ہوتے ہیں جب جسم کے کسی حصے میں تکلیف محسوس کرتے ہیں اور کوئی بیماری ہم کو لاحق ہوجاتی ہے۔ڈاکٹر مبارک علی اس لحاظ سے بڑے خوش قسمت رہے کہ زندگی کا بڑا عرصہ انہوں نے صحت کی مکمل حفاظت کرتے ہوئے گزارا۔ان کے لکھنے پڑھنے کے اوقات طے تھے۔وہ رات کو مناسب آرام کرتے تھے۔میں نے جب سے ان کو دیکھا اُن کا کھانے پینے کا ایک بہت ہی طے شدہ شیڈول رہا۔میں بارہا لاہور میں اُن کے مکان میں ٹھہرا۔میں دیکھتا تھا کہ وہ علی الصبح ٹہلنے کے لیے نکل جاتے تھے۔آدھے پون گھنٹے کی صبح خیزی کے بعد وہ واپس آتے تو بالعموم ایک گلاس گاجر کا جوس پیتے ۔اُس کے کچھ دیر بعد دو سلائس ،انڈہ اور چائے، یہ اُن کا ناشتہ ہوتا۔سہ پہر اور رات کو بھی وہ بہت ہلکی غذا کھانے میں لیتے البتہ کھانے اور چپاتی کا گرم ہونا ہمیشہ ان کا مسئلہ رہا۔ایک زمانہ ہوا، وہ سبزی خوری کو اختیار کرچکے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کے یہ معمولات ان کے لکھنے پڑھنے کے کام میں بڑے معاون ثابت ہوتے رہے ۔لیکن پھر وہ ایک بڑے بحران سے دوچار ہوگئے۔ابتداًانہیں نزلے کی شکایت رہنے لگی اور سونے کے دوران ناک سے پانی ان کے حلق کی طرف آنے لگا۔ان کی آنکھوں میں تکلیف بھی شروع ہوگئی۔مختلف ڈاکٹروں سے وہ اس کا علاج کرواتے رہے لیکن قدرے اطمینان انہیں حیدرآباد کے ایک ڈاکٹر کی دوا سے ہوا جس کی خوراکوں نے کافی حد تک اگر ان کے مسئلے کو ختم نہیں کردیا تو کم از کم بڑھنے بھی نہ دیا۔لیکن پھر اسی ڈاکٹر کی ایک تشخیص نے حالات بگاڑنے شروع کردیے۔ڈاکٹر نے انہیں پندرہ روز کے لیے آنکھ کے ڈراپ روکنے کو کہاجس کے نتیجے میں ان کی آنکھ کی پتلیاں سوکھنا شروع ہوگئیں،پتلیوں کو سنبھالنے کے لیے بڑی تگ و دو ہوئی مگر کیس بگڑتا چلاگیا، یہاں تک کہ ڈاکٹر صاحب کو امریکہ جانا پڑا۔وہاں امراضِ چشم کے ماہرین نے اُن کو تو جہ سے دیکھا۔انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو بتایا کہ آپ کی آنکھ کی پتلیاں سکڑ رہی ہیں۔انہوں نے ادویات دیں مگر ان سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ڈاکٹر صاحب کو دوسری مرتبہ پھر امریکہ جانا پڑا۔اس مرتبہ ان کی آنکھوں کا آپریشن کیا گیا مگر افاقہ اس سے بھی نہیں ہوا۔رفتہ رفتہ بینائی کمزور ہوتے ہوتے معدوم ہوتی چلی گئی۔آٹھ دس سال کی اس ہیجان خیز صورت حال کے بعد ان کی بینائی کم و بیش مکمل طور پر ختم ہوگئی اور اب انہیں صرف اندھیرے اور روشنی کا فرق ہی محسوس ہوپاتا ہے۔وہ پڑھنے اور لکھنے سے تقریباً معذور ہوچکے ہیں۔اندازے سے کاغذ پر اپنے دستخط کرسکتے ہیں یا ایک آدھ فقرہ بھی لکھ لیتے ہیں لیکن اندھیرا ان کی نظروں پر چھا چکا ہے۔

میں سوچتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے رخصتِ بینائی کا یہ سفر جو کئی سال پر محیط تھا، کس کیفیت میں گزارا ہوگا۔مجھے ان کے عزم اور ارادے کی پختگی اور ان کی will powerکا ہمیشہ سے احساس تھا لیکن رخصتِ بینائی کے ان کے اس سفر کو دیکھا تو مجھے حیرت ہوئی کہ انہوں نے کتنے وقار کے ساتھ اور کس قدر ہمت سے اس صورت حال کا مقابلہ کیا۔مجھے یاد ہے کہ کراچی یونیورسٹی میں ہمارے پاکستان اسٹڈی سینٹر کے ایک سیمینار میں جس کی وہ صدارت کررہے تھے عین دورانِ مذاکرہ ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ایک روز پہلے ہم نے ایک چائینز ریستوران میں ابو الفضل صاحب کی طرف سے دیے گئے ڈنر میں شرکت کی تھی۔شاید ڈاکٹر صاحب نے کوئی چیز خلافِ طبیعت تناول کرلی۔پاکستان اسٹڈی سینٹر میں فوراً ایمبولینس کا انتظام ہوا اور ان کو آغاخان ہسپتال لے جایا گیا۔وہاں وہ ایمرجنسی وارڈ میں کئی گھنٹے رہے اور پھر جب ان کی صحت کو مکمل طور سے بحال قرار دے دیا گیا تو وہ واپس آئے اور پھر بخیریت لاہور پہنچ گئے۔اس پورے عرصے میں ہر چند کہ وہ دیکھنے کے قابل نہیں تھے لیکن ایک لمحے کے لیے بھی ان کے مزاج میں برہمی یا تناؤ کی کیفیت پیدا نہیں ہوئی ۔وہ اس روز بڑے صابر و شاکر انسان نظر آئے۔بینائی سے محرومی کے بعد اُن کا صبح خیزی کا معمول بھی متاثر ہوا جس کی تلافی انہوں نے کمرے میں ورزش کی سائیکل رکھ کر اور اس کے روزانہ استعمال سے کرلی ہے۔ایک مرتبہ وہ گھر میں گِر بھی گئے جس سے ماتھے پر چوٹیں آئیں اور جیسا کہ ہوتا آیا ہے کہ مشکلیں آتی ہیں تو آتی چلی جاتی ہیں۔حالیہ وبا کے دنوں میں وہ بھی کرونا کی زد میں آئے اورصحت یاب ہونے کے بعد بھی بڑا عرصہ مضمحل رہے۔

گذشتہ چند برسوں میں جہاں ایک طرف ان کی بینائی رخصت ہورہی تھی وہیں دوسری طرف وہ مکمل طور پر بے بصارتی کی طرف جانے اور پھر اس سے آگے کے سفر کے بارے میں خود کو تیار کررہے تھے۔پچھلے تین چار برسوں میں، میں نے انہیں صورت حال سے ہم آہنگ ہوجانے کی ایک ایسی کیفیت میں دیکھا کہ جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنے لکھنے پڑھنے کے کام کو جاری رکھنے کے طریقے دریافت کرلیے ہیں۔گھر سے باہر جانا ہو تو اُن کی بچی نین تارا اُن کے ساتھ ہوتی ہے یا دوسرے احباب ان کے ہمسفر بن جاتے ہیں۔کراچی، اسلام آباد یا کسی اور شہربھی تشریف لاتے ہیں تو نین تارا اورڈاکٹر صاحب کی اہلیہ ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔

گھر میں ان کا معمول یہ ہے کہ وہ دن میں آڈیو کتابیں سنتے ہیں۔شام کو ان کے اسٹینو تشریف لے آتے ہیں اور ڈاکٹر صاحب کو اگر کچھ لکھوانا ہو تو وہ ان کو املا دے دیتے ہیں ۔یہ جب کمپوز ہوجاتا ہے تو وہ اس کو سن لیتے ہیں اور جہاں کہیں بھیجنا ہو بھیج دیتے ہیں۔

آڈیو کے ذریعے وہ کون سی کتابیں پڑھتے رہے ہیں؟ یہ آڈیو کتابیں دستیاب کیسے ہوتی ہیں؟ ان کا سننے اور یاد رکھنے کا کیا طریقہ ہے؟ اب تک وہ کیا کچھ آڈیو کتابوں کے ذریعے سن چکے ہیں اور ان کواپنی تحریروں میں کس طرح استعمال کرتے ہیں؟ یہ سوال پہلے بھی کسی نہ کسی شکل میں میرے ذہن میں موجود تھے لیکن اب جب محمود شام صاحب نے ڈاکٹر صاحب کے بینائی سے محرومی کے بعد کے معمولات کے بارے میں مجھ سے پوچھا تو میں نے سوچا کہ اپنے تاثرات لکھنے کے بجائے براہ راست ڈاکٹر صاحب سے پوچھا جائے ۔سو ایک دوٹیلی فونک نشستوں میں ، میں جو معلوم کرسکا اس کا لب لباب کچھ یوں ہے کہ پہلی بات تو یہ کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی زندگی کے اس بڑے بحران سے اپنے طور پر عہدہ برآ ہونے کا فیصلہ کیا۔ایک موقعے پر جب ڈاکٹر عبدالمالک نے ،جو کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ تھے، ڈاکٹر صاحب کو پیشکش کی کہ وہ بلوچستان کی حکومت کے خرچے پر علاج کے لیے باہر چلے جائیں لیکن ڈاکٹر صاحب نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے معذرت کرلی۔میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ بلوچستان کے نوجوان آپ کی کتابیں پڑھنے میں پیش پیش رہے ہیں۔آپ ان کے پسندیدہ ترین مصنفوں میں شامل ہیں،آپ پیشکش قبول کرلیتے۔انہوں نے کہا کہ گو میں نے ڈاکٹر مالک سے یہ نہیں کہا لیکن میرے دل نے پہلی بات یہی کہی کہ بلوچستان کے پیسے پر پہلا حق بلوچوں کا اپنا ہے۔پھر اس صوبے میں غربت اتنی ہے کہ میں تو سمجھتا ہوں کہ وہاں کا پیسہ پیسہ اس غربت کے خاتمے کے لیے خرچ ہونا چاہیے۔یہی نہیں ڈاکٹر صاحب اور بھی کسی کی مالی اعانت قبول کرنے سے ہمیشہ احتراز ہی کرتے ہیں۔ایک موقعے پر خود میں نے اپنے ادارے کی طرف سے یہ درخواست اُن تک پہنچائی تھی کہ وہ مہینے میں ہمیں تاریخ کے موضوع پر دو تحریریں عنایت کردیاکریں جنہیں ہم اپنی ویب سائٹ پر مشتہر کریں گے تو یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہوگی اور اس سلسلے میں شاید بہت ہی معمولی ساایک اعزا زیہ بھی اُن کوادارے کی طرف سے پیش کیاجا سکے گا۔اس وقت تو ڈاکٹر صاحب خاموش ہوگئے لیکن اگلے روز انہوں نے فون پر بہت سلیقے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں دوستانہ تعلقات میں مالی لین دین کو داخل نہیں ہونے دینا چاہتے۔

ڈاکٹر صاحب نے تاریخ کی کتابوں سے ، خاص طور سے سامنے آنے والی نئی تحقیقات سے خود کو کس طرح باخبر رکھاہے ؟ اُن کا کہنا ہے کہ زمانہ ہمیشہ آگے بڑھتارہتا ہے ۔ شکر ہے کہ سائنس کی ایجادات نے ماضی کی بہت سی مجبوریوں کی تلافی کا سامان پید ا کردیا ہے۔ اب پرانی اور نئی کتابیں آڈیو کی شکل میں دستیاب ہوجاتی ہیں ۔ میں بھی اُن ہی سے ا ستفادہ کرتا ہوں ۔بلکہ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ جوکتابیں برسوں سے میرے پاس رکھی تھیں مگر میں ان کو پڑھ نہیں سکا تھا، اب لوگوں سے ملنے ملانے اوراِدھر اُدھر جانے میں جو خلل واقع ہوا ہے، اُس نے وقت دے دیا ہے کہ میں اُن کتابوں کو جن کو پڑھ نہیں سکا تھا ، سن لوں۔

میں نے دریافت کیا کہ آڈیوز تک رسائی کیسے ہوتی ہے؟ کون لاکر دیتا ہے ؟ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ سب سے بڑا ذریعہ توامریکہ میں مقیم میری بیٹی شہلا ہے، وہ وکیل ہے، میرے لیے کتابوں کے آڈیوز وہی ڈھونڈتی ہے اور پھر مجھے بھجوادیتی ہے۔ یہاں لاہور میں ہمارے ایک نوجوان دوست عرفات تھے، وہ بھی اب کینیڈا چلے گئے ہیں۔وہ بھی بڑی مدد کرتے ہیں اور کتابوں کے آڈیوز کے انتخاب میں تعاون کرتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب اس پورے عرصے میں آ پ کون کون سی کتاب سن چکے ہیں؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ کتابیں تو بہت سی ہیں۔فوری طور سے بتانا مشکل ہے مگر چند نام جو ذہن میں آرہے ہیں ، اُن میں سی۔ایل۔آر جیمس کی کتاب The Black Jacobinsہے ۔ یہ کتاب ۱۹۳۸ میں شایع ہوئی تھی۔اس کا موضوع لاطینی امریکی مملکت ہیٹی کا انقلاب تھا۔کتاب کا مصنف جیمس خود بھی لاطینی امریکہ کے ملک ٹرینی ڈاڈ کا رہنے والا تھا۔ کتاب ہیٹی میں غلاموں کی بغاوت سے متعلق ہے ۔ہیٹی پہلے کوئی ۱۳۰ سال اسپین کی نوآبادی رہا ۔پھر۱۸۰ سال کے قریب یہ فرانس کی نوآبادی بنا رہا۔فرانسیسی تسلط کے خلاف غلاموں کی بغاوت بارہ تیرہ سال جاری رہی ۔تب ۱۸۰۴میں ہیٹی آزاد ہوا۔کتاب میں جیمس نے لکھاکہ انقلابِ فرانس کے پسِ پردہ آزادی اور مساوات کے جو تصورات کارفرما تھے ، فرانس میں اُن کے اثرات پڑے ہوں یا نہ پڑے ہوں، فرانس کی نو آبادی ہیٹی میں انہوں نے غلاموں کو آزادی کی راہ دکھائی اور آزادی کی منزل تک پہنچا دیا۔

اسی طرح ایک اور کتاب ہے To The Finland Station۔ اس کا مصنف امریکی مؤرخ اور نقاد ایڈمنڈ ولسن ہے ۔ اس کتاب میں اُس نے انقلابی فکر کے ارتقا کو اپنا موضوع بنایا ہے ۔ سوشلزم کا آغاز کیسے ہوا، مارکس اور اینگلز نے ان افکار کو کیا سائنسی جہت عطا کی، اور لینن نے ان میں کیا اضافہ کیا۔ یہ موضوع ہے اس کتاب کا ۔ اس میں خاص طور سے مارکس پرلکھے گئے باب کو میں ایک بہترین تحریر قرار دوں گا۔ اس میں مارکس کی غربت کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں اُن کو پڑھ کر رونا آتا ہے۔

ایک اور کتاب جو اس وقت ذہن میں آرہی ہے وہ ٹام رِیس کی تصنیف The Black Countہے۔ یہ تھامس الیگزینڈر ڈیوما کی سوانح حیات ہے جس میں مصنف نے انقلابِ فرانس کے دنوں میں تھامس ڈیوما کے بحیثیت ایک فوجی افسر کردار پر روشنی ڈالی ہے ۔اس کتاب میں بھی غلاموں کی زندگی پر روشنی پڑتی ہے جو وہ نوآبادیات میں گزارتے رہے تھے ۔ ٹام رِیس نے کتاب میں تھامس الیگزینڈر ڈیوماکے بیٹے الیگزینڈر ڈیوماکا بھی ذکر کیا ہے جو خود بھی ایک پائے کا ادیب تھا اور جس نے The Count of Monte Cristoاور The Three Musketeersجیسی یادگار کتابیں لکھیں۔

ٹام رِیس ہی کی ایک کتاب ہے The Orientalist۔ایک تو ایڈورڈ سعید کی شہرۂ آفاق کتاب Orientalismہے۔ ٹام رِیس کی کتاب بھی بڑی چشم کشا ہے۔ہے تو یہ لیو نو سمبام نامی شخص کی زندگی کی کہانی جو باکو میں پیدا ہوا مگر انقلابِ روس کی اکھاڑ پچھاڑ سے بچتا بچاتاجرمنی پہنچا جہاں اُسے فاشزم کی حشر سامانیاں دیکھنے کو ملیں۔ اُس نے اسلام، عرب دنیا اورمذہبی سیاسی تقسیموں پر اہم کتابیں لکھیں۔

ڈاکٹر صاحب نے ڈلری ایمپل کی ایک چندسال قبل منظرعام پر آنے والی کتاب Anarchyکا بھی ذکر کیا جو انہوں نے آڈیو کی شکل میں حاصل کی اور سنی۔ بقول ڈاکٹر صاحب ڈلری ایمپل کی ہندوستان پر کئی کتابیں آچکی ہیں۔وہ تاریخ کو بہت دلچسپ پیراے میں قلم بند کرتا ہے۔بنیادی مآخذ پر اس نے اپنے کام کی بنیاد رکھی ہے۔ ہندوستان ہی کے موضوع پر سپریا گاندھی کی کتاب The Emperor Who Never Wasبھی میں نے سنی ۔یہ داراشکوہ کے بارے میں ہے جو بادشاہ تو نہیں بن سکا مگر جس کے ذکر کے بغیر مغل ہندوستان کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔اُس کی سیاست، اُس کا تصّوف سے شغف ،اُس کا وسیع تہذیبی نقطۂ ،نظر یہ سب پہلوکتاب میں زیرِ بحث آئے ہیں۔

ڈاکٹر مبارک علی صاحب نے مزید بتایا کہ پچھلے برسوں میں انہوں نے جیک گوڈی کی کتاب The Theft of Historyبھی آڈیو پر سنی ۔ یہ بہت دلچسپ کتاب ہے جس میں جیک گوڈی کا کہنا ہے کہ مغرب نے تاریخ کو چرالیا ہے۔ مغرب کی تاریخ نویسی واضح طور پر مغرب نواز یا یورپ مرکز واقع ہوئی ہے۔ اس کے پیچھے بہت سے اسباب ہیں۔ ایک تو مغرب کا برتری کا مجموعی احساس ہے، پھر تاریخ نویس مغرب میں رہ کر جب تاریخ لکھتے ہیں اور اُن کے ذرائع اور مآ خذ بھی بیشتر وہ ہوتے ہیں جو مغر ب میں دستیاب ہیں تواُن کی تصانیف میں مغرب کی نظر سے دُنیا کو دیکھنے کا رجحان جگہ پالیتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مغرب مرکز تاریخ نویسی سے آزادی حاصل کی جائے اور مغرب و مشرق اور دنیا کے دیگر خطوں کو تاریخ کے کینوس پر ان کی جائز جگہ دی جائے ، ’تاریخ کی چوری‘ میرے خیال میں ایک ایسی کتاب ہے جس کا مطالعہ تاریخ کے سب ہی طالب علموں کو کرنا چاہئیے ۔

اب جب ڈاکٹر صاحب آڈیو کے ذریعے نئی کتابوں کا ذکر کرنے لگے تو ایک کے بعد ایک کتاب اُن کے ذ ہن میں آنا شروع ہوگئی۔لیکن پھر میں نے موضوع کو زرا دوسری طرف موڑتے ہوئے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب ماضی میں اور بھی ایسے مؤرخ گزرے ہوں گے جو یا تو پیدائشی طور پر بینائی سے محروم تھے یا زندگی میں کسی مرحلے پر اُن کی بینائی جاتی رہی ہوگی ۔ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ تاریخ دان بھی ہیں ‘ فلسفی اور ادیب و دانشور بھی ہیں جنہوں نے اندھیروں میں رہ کر روشنی پھیلانے کی کوشش کی۔

جرمنی کا مشہور مؤرخ لیو پولڈ وان رانکے ایک زبردست مؤرخ تھا۔ اُس نے کئی کئی جلدوں پر مشتمل کتابیں لکھیں۔وہ یورپ اور امریکہ میں ۱۹ ویں صدی کا ایک اہم مؤرخ تھا جس نے تاریخ کے مطالعے اورتحقیق میں نئے راستے نکالے ۔اُس نے کلا س روم میں سیمناروں کی بناڈالی ۔اُس کی کتاب The Popes of Romeتین جلدوں پر مشتمل ہے۔ فرانس کی تاریخ پر مشتمل اُس کی تصنیف French Historyکی پانچ جلدیں ہیں۔ اسی طرح انگلستان پر اُس کی کتاب History of Englandچھ جلدوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ان ضخیم کتابوں کے علاوہ بھی رانکے کی کئی کتابیں ہیں۔ رانکے نے اکیانوے (۹۱) برس کی عمر پائی ۔اُس کو زندگی میں بہت اعزازات حاصل ہوئے ۔آخری زمانے میں اُس نے چھ جلدوں پر مشتمل عالمی تاریخ لکھنے کا بیڑا اٹھایا تھا۔ اپنی وفات تک وہ بارہویں صدی تک پہنچا تھا۔ اُ س کے بعد اس کے کام کو اس کے شاگردوں نے مکمل کیا ۔رانکے کے ساتھ ایک بڑا المیہ یہ ہوا کہ ۱۸۷۱میں اُس کی بیوی کی وفات ہوگئی ۔اس کے فوراً بعد رانکے کی تقریباً آدھی بینائی جاتی رہی ۔اس کے بعد اُس نے اپنے طالبعلموں کی مدد سے تصنیف وتالیف کا کام کیا ۔

مصر کے معروف مفکر ڈاکٹر طحہٰ حسین جن کے خیالات نے بیسویں صدی کے مصر کی سیاست اور معاشرت پر گہرے اثرات مرتب کیے، دوسال کی عمر میں بینائی سے محروم ہوگئے تھے۔ انہوں نے کوئی چوراسی(۸۴)سال کی زندگی پائی ۔بینائی کے بغیر انہوں نے زندگی کا یہ سفر مثالی طور پر طے کیا۔ وہ مصـر کی نشاۃ ثانیہ کے روشن خیال معمار سمجھے جاتے ہیں۔

مصر ہی کے نجیب محفوظ عربی ادب کا قابلِ فخر نام ہیں۔تیس سے زیادہ ناول ، سینکڑوں کہانیوں ، چھبیس فلموں کے اسکرپٹ لکھنے والے نجیب محفوظ کو نوبل انعام بھی ملا۔وہ بھی آخری عمر میں بینائی سے مکمل طور پر تو نہیں البتہ بڑی حد تک محروم ہوگئے اوراُن کے لیے از خود لکھنا پڑھنا مشکل ہوگیا۔

شاعروں میں ایک بڑا نام ابو العلاء المعری کا ہے جو گیارہویں صدی عیسوی کاا یک بڑا عربی فلسفی، شاعر اور ادیب تھا۔المعری چارسال کی عمر میں چیچک کا شکار ہوا اور بینائی کھو بیٹھا مگر ساری زندگی غوروفکر اور دوسروں کی مدد سے تصنیف وتالیف میں مصروف رہا ۔وہ اپنی آزاد خیالی اور تشکیک پسندی کی وجہ سے مشہور ہے۔وہ اپنے خیالات کی وجہ سے اکثر معتوب بھی رہا۔

مغربی دنیا میں فرانس کے فلسفی یاں پال سارتر آخری زندگی میں بصارت سے محرومی کا شکار ہوئے۔ماضی میں مشہور سائنسدان گلیلیو کی بھی ایک مثال موجود ہے۔ سائنس کی تاریخ میں اُ س کا کتنا بڑا نام ہے ۔وہ بھی آخری عمر میں بینائی سے محرومی کی تکلیف دہ صورتِ حال سے گزرا۔

ڈاکٹر مبارک علی سے یہ ساری تفصیلات سنتے ہوئے مجھے مسلسل خیال آتا رہا کہ آج دنیا میں جو بھی ذہنی اور فکری روشنی ہے ، تاریخ کے ہر عہد میں روشن خیالی اور بصیرت جو موجود رہی ہے اُس میں کتنا حصّہ اُن اہلِ فکر کا ہے جو بصارت سے محروم پید ا ہوئے یا زندگی میں جن کو بصارت سے محروم ہونا پڑا۔ ڈاکٹر مبارک علی انہی بڑے لوگو ں کی صف میں شامل ہوگئے ہیں۔جب تک بینائی نے ان کا ساتھ دیا تب تک بھی اور جب بینائی سے وہ محروم ہوگئے تب بھی، وہ افکارِ تازہ کا وسیلہ بنے رہے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کو غالبؔ کا یہ مصرعہ بہت پسند ہے ، اور بجا طور پر پسند ہے کہ ؂

شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

ڈاکٹر صاحب کی ماضی اور حال کی زندگی اور اس زندگی کے مشکل بحرانوں اور حوادث پر نظر ڈالتا ہوں اور ساتھ ہی تاریخ کے حقیقی شعور کو فروغ دینے کی ان کی انتھک جدوجہد کو دیکھتا ہوں تو مجھے بھی میرؔ کا یہ شعر یاد آتا ہے ؂

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں

تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

two × five =