‏97 سالہ دردمند پاکستانی کی سوچ

مجھے 97 سالہ ڈاکٹر عبد العزیز چشتی پر رشک آتا ہے کہ وہ اس پیرانہ سالی میں اتنے جواں عزم ہیں۔ بستر علالت پر ہیں لیکن اپنے ہاتھوں سے صفحات کے صفحات صرف اور صرف اپنے وطن کی محبت کا دم بھرنے کے لیے لکھ کر ’اطراف‘ کو ڈاک سے بھیجتے رہتے ہیں۔ ہماری نالائقی کہ ہم انہیں وقت پر شاملِ اشاعت نہیں کر پاتے۔ ہم شور کوٹ سے بہت دور بیٹھے ہیں۔ ورنہ ڈاکٹر موصوف کی خدمت میں حاضری دیتے۔ ان کے مشاہدات تجربات سنتے۔ ان کی یادیں، جنگ عالمگیر دوم کی، قیام پاکستان کی سنتے۔ اب بھی ضلع جھنگ کے ادب دوستوں کا فریضہ بنتا ہے کہ وہ اس عظیم پاکستانی کی یہ قیمتی یادیں محفوظ کر لیں۔

پاکستان اور خالصتان اچھے پڑوسی ثابت ہوں گے
سکھ غیر ممالک کی بجائے اپنی تحریک بھارت میں چلائیں
قائد اعظم نے بھارتی لیڈروں کے کسی دعوے پر اعتبار نہیں کیا
میں بھارت میں پھنسی 790 خواتین پاکستان لایا
ہندوؤں نے خالصتان کا وعدہ کر کے سکھوں سے مسلمانوں کا قتل عام کروایا
بھارت طاقت ور ہوا تو سکھوں کے پاس صرف پچھتاوے رہ گئے
گورو نانک نے بابا فرید شکر گنج کے کلام کا بڑا حصّہ گرنتھ میں شامل کیا

٭شور کوٹ شہر سے ڈاکٹر عبدالعزیز چشتی کی درد بھری تحریر

بابا گورو نانک کے ماننے والی سکھ برادری کے ساتھ بڑا دھوکہ ہوا۔ جناب میں تحریک آزادی اور تحریک پاکستان کا ایک ادنیٰ کارکن اور ان واقعات کا چشم دید گواہ ہوں۔ میرا تعلق بھارت کے صوبہ پنجاب کے شہر جگراؤں، ضلع لدھیانہ سے تھا۔ میں نے ہندوستان کو بہت قریب سے تقریب ہوتے دیکھا۔ پاکستان معرض وجود میں آیا لیکن ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے لالچ میں آکر تقسیم کے آخری لمحات میں مشرقی پنجاب بھارت کے چھ اضلاع بھارت کے صوبہ پنجاب میں شامل کر دیے۔ انہی اضلاع فیروز آباد، امرتسر، جالندھر، گورداسپور، لدھیانہ، میں 1947 خون مسلم سے سب سے زیادہ ہولی کی گئی۔ لاکھوں مسلم شہید کردیے گئے۔ ہجرت سے پہلے 50 ہزار مسلم خواتین بھارت میں یر غمال بنائی گئیں۔ چادر عصمت تار تار ہوئی۔ ان کا مذہب تبدیل کرکے ہندو اور سکھ بنالیا گیا۔ والٹن مہاجر کیمپ لاہور میں میں نے ایک فلاحی تنظیم ادارہ بازیابی مسلم خواتین خدام بھارت میں رضاکارانہ کام کیا اور بھارت میں پھنسی 790 خواتین کو پاکستان لایا اور انہیں بچھڑنے والے عزیز و اقارب سے ملایا۔

قارئین! دنیا جانتی ہے کہ ہندو قوم دنیا کی بزدل ترین قوم ہے۔ انہوں نے سکھوں سے آزاد سکھ ریاست خالصتان کا وعدہ کرکے سکھوں کو اپنے ساتھ ملایا۔ ماسٹر تارہ سنگھ اور لیڈروں کو اپنے ساتھ ملایا اور ان سے مسلمانوں کا قتل عام کرایا گیا۔ سکھوں کو مسلمانوں کے قتل عام کے لیے بھاری اسلحہ بھی فراہم کیا گیا۔ ان کی ہر طرح سے مدد کی گئی۔ سب سے زیادہ جانی نقصان مشرقی پنجاب میں ہوا۔ سکھ شام سویرے شراب پی کر مسلح ہوکر پروگرام کے مطابق اپنے کیمپوں سے ست سری اکال کے نعرے لگا کر مسلم آبادیوں تک پہنچتے اور مسلمانوں کو چن چن کر قتل کرتے اور نوجوان لڑکیوں کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ سکھوں کو ایک ہی وعدہ صوبہ خالصتان کا یاد تھا۔ بھارتی ریاست جب ذرا اپنے پاؤں پر کھڑی ہوئی تو صوبہ خالصتان کے قیام کے وعدے دے مکر گئی۔ سکھوں کی قربانیاں اکارت گئیں۔ سکھ پریشان اور مایوس ہوگئے۔ ان کی بیٹیاں اور یتیم بچے سراپا احتجاج بن گئے۔ سکھوں کے پاس صرف پچھتاوے رہ گئے۔ ان کے پلے کچھ نہ پڑا۔ ان کے سب خواب خاک میں مل گئے۔ ریاست خالصتان کا خواب تعبیروں سے ہمکنار نہ ہوا۔ یہ وعدہ محض ایک سبز  باغ ہی تو تھا جو مکار ہندوؤں نے لالچی سکھوں کو دکھایا تھا۔ میرا خیال ہے کہ اگر سکھ قائد اعظم کا ساتھ دیتے تو وہ انہیں آزاد چھوٹی ریاست خالصتان قائم کردیتے۔ یوں بھارت میں مسلمان قتل عام سے بچ جاتے اور سکھ بھی امن و سکون سے اپنی زندگی بسر کرسکتے تھے۔ لیکن ایسا لالچی سکھوں کے لیے ممکن نہ ہوا۔

اب پچھائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت!

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے

سکھ بھارت میں زندگی کے دن بڑی مشکل میں گزار رہے ہیں۔

نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے

گھٹ کے مرجاؤں میں مرضی مرے صیاد کی ہے

ان کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ مسلمانوں کو ایک آزاد ملک پاکستان اور ہندوؤں کو بھارت مل گیا۔ سکھوں کو صرف تلوار ‘ برچھا اور کرپان ملی۔ وہ گھماتے پھریں اور در بدر کی ٹھوکریں کھاتے پھریں۔ ان کی آنے والی نسلیں بھی ہمیشہ تمام سہولتوں اور توانائیوں سے محروم رہیں گی۔ آنے والا مورخ انہیں ایک بیوقوف قوم ہونے کے طعنے دیتا رہے گا۔

یہ بانی پاکستان قائد اعظم ہی تھے جنہوں نے گاندھی اور نہرو کی عقل و فراست اور سیاست کا پہیہ جام کردیا تھا۔ محمد علی جناح نے بھارت لیڈروں کے کسی بھی وعدے پر اعتبار نہ کیا۔ وہ ایک آزاد ملک حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

معزز قارئین! ماضی بعید میں مسلمان اور سکھ قوم میں اچھے تعلقات رہے۔ سکھ قوم کے بانی بابا گورونانک نے ازراہِ عقیدت بابا فرید شکر گنج کے کلام کا بڑا حصّہ اپنی مذہبی کتاب گرنتھ صاحب کا حصہ بنالیا تھا۔ بابا نائب جی مکہ مدینہ کے مقدس سفر بھی گئے۔ مصلّٰی، تسبیح اور لوٹا ان کے ساتھ تھا۔ میرا خیال ہے وہ ہمارے پیارے رسول حضرت محمد ؐ کی زیارت کو گئے تھے۔ بابا نانک وحدانیت کے قائل تھے وہ بتوں اور مورتیوں کو نہیں پوجتے تھے۔

میں سکھ قوم کے آزاد صوبہ خالصتان کا حامی ہوں۔ میرا مشورہ مانیں۔ وہ غیر ممالک میں چلائی جانے والی تحریک جلسے، جلوسوں، ریلیوں، لانگ مارچ، احتجاج، ریفرنڈم، نعروں کا مرکز بھارت کو بنائیں۔ ورنہ ان تمام کارروائیوں ہڑتالوں کا بھارت کی صحت پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ وہ بدستور سکھوں پر ظلم و ستم ڈھاتا جائے گا۔

مجھے معلوم ہے ہم نے انگریز حکمرانوں سے کیسے آزادی حاصل کی تھی۔ آزادی قربانیاں مانگتی ہے۔ جھوٹے نعروں سے آزادی نہیں ملتی۔ امریکہ، لندن، فرانس میں نکلنے والے جلوسوں اور ریفرنڈموں سے خالصتان وجود میں نہ آئے گا۔ یہ سب کارروائیاں بھارت میں آکر کریں، پڑوس ملکوں میں جاکر کرنے سے یہ تحریک کامیاب نہ ہوگی۔

اب امید ہے کہ خالصتان کے لیڈروں کے کبھی 12 بجیں گے۔ ہر کام حکمت عملی سے ہوگا۔

بھارت صوبہ خالصتان پلیٹ میں رکھ کر آپ کو کبھی پیش نہیں کرے گا۔ پاکستان اور خالصتان اچھے پڑوسی ثابت ہوسکتے ہیں۔


ماہنامہ ’اطراف‘ کراچی جولائی 2014 سے باقاعدگی سے شائع ہورہا ہے۔

سینئر صحافی شاعر دردمند پاکستانی محمود شام کا آخری عمر کا عشق

نمونے کی کاپی مفت منگوانے کے لیے ‏0300-8210636 پر ایس ایم ایس کیجئے۔

اس پوسٹ کے حوالے سے مستقل خریدار بننے والوں کو 25 فی صد رعایت

آپ بھی اگر کالم نویس ہیں۔ شاعر ہیں۔ محقق ہیں تو اپنی تحریر بھیج سکتے ہیں۔

[email protected]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

five × four =