انکوائری رپورٹ۔ سول ملٹری تعلقات کا فیصلہ کن موڑ کسی کی فتح نہ کسی کی شکست

انکوائری رپورٹ۔ سول ملٹری تعلقات کا فیصلہ کن موڑ

کسی کی فتح نہ کسی کی شکست

مزار قائد کی بے حرمتی والی رات کی صورت حال پاکستانی فوج نے اپنے دو سینئر افسروں کو قصوروار سمجھ کر برطرف کردیا۔ یہ رپورٹ عوا م کے سامنے پیش کردی گئی۔
کیا اس سے فوج کی ساکھ مجروح ہوئی ہے یا وقار میں اضافہ ہوا۔ یہ تبصرے جاری ہیں مگر ہمارے نزدیک اہم یہ تاثر ہے کہ فوجی افسروں کے نزدیک سندھ پولیس کا طرز عمل ناکافی اور سست رو تھا
فوج نے تو یہ اعتراف کیا کہ ان افسروں کے طرز عمل سے ریاست کے دو اداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ ناپسندیدہ صورت حال سے گریز کرنا چاہئے تھا
دانشوروں۔ حقوق انسانی کی تنظیموں۔ سیاسی جماعتوں سب کو سنجیدگی سے یہ جائزہ لینا چاہئے کہ تین دہائیوں سے سول امور میں فوجی دلچسپی میں کمی کیسے ہوسکتی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان۔ سندھ میں رینجرز کی موجودگی کیا اس دلچسپی کا جواز پیدا کرتے ہیں۔
سندھ پولیس کو اس رات کی صورت حال میں کیا کرنا چاہئے تھا۔ جب پی ٹی آئی والے تھانے میں دبائو ڈال رہے تھے۔ تو سندھ کے وزیر اعلیٰ کو حرکت میں آنا چاہئے تھا یا نہیں۔
مزار قائد کی بے حرمتی پر انہیں خود کوئی بیان جاری نہیں کرنا چاہئے تھا۔
بلاول بھٹو زرداری اور آرمی چیف اب جب ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں تو انہیں سول امور میں فوجی دخل اندازی کی ناپسندیدہ روایات پر مذاکرات کرنے چاہئیں سندھ میں رینجرز کی موجودگی کیوں ضروری ہے۔ کب تک ضروری ہے۔؟
آئی جی اور دوسرے پولیس افسروں نے کام چھوڑنے کا جو دبائو ڈالا۔ وہ کس کے ایما پر تھا۔
اس رپورٹ کو ایک فیصلہ کن موڑ بنایا جاسکتا ہے۔
جذباتی بیانات اور کسی کی فتح اور کسی کی شکست کی بجائے یہ غور کیا جائے کہ کسی مسئلے پر فوجی افسروں کو عوام کا شدید دبائو محسوس ہو تو وہ کیا راستہ اختیار کریں۔ جیسے اس وقت مہنگائی سے عوام سخت پریشان ہیں۔ اگر وہ حکومت پر دبائو بڑھانے کے لیے سڑکوں پر آگئے اس دبائو پر شہروں میں متعین فوجی افسر کیا طرز عمل اختیار کریں گے۔

واٹس ایپ: 7806800-0331
ای میل: [email protected]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

12 − nine =