مملکت کی بیماریاں علاج مانگتی ہیں—-غیر جانبدار دانشور۔محقق آگے آئیں

مملکت کی بیماریاں علاج مانگتی ہیں—-غیر جانبدار دانشور۔محقق آگے آئیں

محمود شام

انتہائی اہم محلّ وقوع۔ سونا اگلتی زمینیں ۔ سر سبز پہاڑ۔ قیمتی معدنیات سے معمور ریگ زار۔ بیش بہا پتھروں والے کوہسار۔ جفاکش نسلیں رکھنے والا پاکستان اس وقت جتنی افراتفری۔ بے سمتی۔ مایوسی۔ بیزاری۔ ذہنی انتشار کا مظاہرہ پیش کررہا ہے ۔ 73سال میں ہی شاید ہی ایسے کسی ادبار سے گزرا ہو۔ وسائل سے بھرپور اس سر زمین کے کروڑوں فرزند غربت کی لکیر سے نیچے جارہے ہیں۔ بے کسی اور بے بسی کواپنا مقدر خیال کررہے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کا ایک اک لمحہ گن گن کر گزارتے ہیں۔ ان کے چہروں پر محرومیاں تہ در تہ جم رہی ہیں۔ عالمی معیار زندگی پر نہ ان کی رہائش گاہیں اترتی ہیں نہ ان کی غذا۔ نہ تعلیم ۔ مگریہ سنگین معاملات سیاسی قائدین کے نزدیک ترجیح رکھتے ہیں اور نہ ہی میڈیا کے لیے کروڑوں ہم وطنوں کے یہ بنیادی مصائب بیان کے قابل ہیں۔
اس بد قسمت ملک میں سیاستدان اور فوج برابر برابر عرصے حکومت کرچکے ہیں۔ دونوں کو تاریخ نے موقع دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں اور استعداد کے مطابق اس ملک کو آگے لے کر چلیں۔ دنیا کے مہذب ملکوں کی طرح اس ملک کے باشندوں کو بھی زندگی کی آسانیاں فراہم کریں۔ اس وقت اس مملکت خداداد میں جو ذہنی خلفشار۔ اقتصادی پستی۔ اخلاقی گراوٹ پائی جاتی ہے اس میں ان دونوں کی بے بصیرت۔ بغیر از تدبر اور شعور سے عاری حکمرانی کا دخل ہے۔
ملک میں اگر ایدھی۔ ادیب رضوی۔ سیلانی۔ انڈس اسپتال۔ سٹیزن فائونڈیشن۔ الخدمت۔ آغا خان فائونڈیشن اور چھوٹے بڑے شہروں میں ایسی فلاحی تنظیمیں نہ ہوتیں تو تعلیم ۔صحت اور معیشت کا جو حال ہوتا اس کا تصور ہی تباہ کن ہے۔ لیکن اگر غور کریں تو ان انسانیت دوست تنظیموں کی وجہ سے ہماری ریاست اور حکومتوں کو اپنے فرائض سے مجرمانہ پہلو تہی کا موقع بھی مل رہا ہے۔ یہ ساری تنظیمیں گرانقدر اخراجات سے جو کام کررہی ہیں یہ سب ریاست کی ذمہ داری ہیں۔ان سب امور کے لیے وہ بجٹ بھی رکھتی ہے۔ مگر وہ رقوم کہاں جاتی ہیں۔
یہ سارے آثار۔ قرائن ایک ملّت بیمار کی تشخیص کرتے ہیں۔ یہ ساری ناکامیاں دراصل بیماریاں ہیں۔ سیاستدانوں کا خود غرض ہونا۔جاگیرداری کا اب تک تسلط۔ ملک کا غریب سے غریب تر۔ حکمران طبقے کا امیر سے امیر تر ہونا۔ فوج کا سول امور میں دخل دینا۔ چار پانچ بار مکمل حکمرانی سنبھالنا۔یہ سب عارضے ہیں۔ ان کے علاج کے لیے سب کا مل بیٹھنا ناگزیر ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف تلواریں سونت کر قبائلی جنگیں شروع کرنا اس کا درماں نہیں ہے۔
ان دنوں سوشل میڈیا کے بعد تو یہ بحث اپنی حدود سے گزر رہی ہے۔ ہمارے سیاسی رہنما ہوں۔ فوج ہو۔ دیگر ادارے۔ شخصیات سب ہمارے ہیں۔ ان کا جس طرح مضحکہ اڑایا جاتا ہے۔ اس سے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ ان میں سے کسی سے بھی ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ طے ہے کہ اس وقت ہم کسی مثالی آئینی صورت حال میں نہیںہیں۔ اس میں ہم سب کا قصور ہے۔ تاریخ گواہی دے رہی ہے کہ سیاستدانوں۔ عدلیہ۔ فوج سب نے ایسے اقدامات کیے ہیں جس سے ایک دوسرے پر اعتبار۔ اعتماد ختم ہوا ہے۔ اور ملک بے سمت ہوا ہے۔
ہمارا دردمندانہ مشورہ یہ ہے کہ ان کو بیماریاں سمجھ کر بتدریج علاج کا پروگرام بنایا جائے۔ سب اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں۔ اقتدار اور وسائل پر گرفت کے حصول کی دیوانہ وار کوششوں سے ہم صراطِ مستقیم پر نہیں آسکتے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک آئین بناچکے ہیں۔ اس کی پاسداری ہی ملک کو افراتفری اور ادبار سے بچاسکتی ہے۔ قومی سیاسی جماعتیں آئین کی پاسبانی اور جمہوریت کی فراوانی کی مشینیں ہیں۔ ان کے کل پرزے درست اور اپنی اپنی جگہ ہونے چاہئیں۔ یہاںشخصیات کو نہیںاصولوں کو مقدم رکھا جائے۔
ملک کی سلامتی کو یقینا مشرقی اور مغربی سرحدوں سے خطرات ہیں۔ ان چیلنجوں کا مقابلہ تدبر اور شعور سے کیا جاسکتا ہے۔ عوام اور فوج دونوں مل کر ملک کو محفوظ بناسکتے ہیں۔
ہمارے خیال میں مملکت کے روشن دماغ ہی ایسے انتشار میں رہنمائی کرسکتے ہیں۔ جن کی نہ کسی سیاسی پارٹی سے وابستگی ہو۔ نہ ہی کسی غیر سیاسی ادارے سے۔
یونیورسٹیوں میں تحقیقی اداروں میں ایسے غیر جانبدار تجزیہ کار موجود ہیں ۔ آئین میں حدود مقرر کردی گئی ہے۔ ان حدود کا احترام تہذیب و تمدن سے ہوتاہے۔ آرڈی نینسوں اور قرار دادوں سے نہیں۔ سب ادارے۔ حکمران اپنی اپنی حدود میں رہیں۔ اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیں تو یہ بیماریاں دور ہوسکتی ہیں۔ بیماریوں میں وفاق کا صوبوں کو خود مختاری نہ دینا ۔ مالیاتی اختیارات سے تجاوز بھی شامل ہے ۔اور صوبوں کا اضلاع کو خود مختاری اور مالی استطاعت نہ دینا بھی ۔ مسلح افواج کے لیے بھی آئین نے حدود مقرر کررکھی ہیں۔ عدلیہ بھی اس میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ وہ بھی اس سارے جمہوری ڈھانچے کا ایک ناگزیر جزو ہے۔

واٹس ایپ: 7806800-0331
ای میل؛ [email protected]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

2 × 2 =