بھارتی جنرل کو پاکستان کے جوابی تھپڑ کا تصوّر نہیں تھا…

جولائی 2014سے مسلسل اشاعت
بھارتی جنرل کو پاکستان کے جوابی تھپڑ کا تصوّر نہیں تھا
جنرل خالد محمد عارف کی کتاب Khaki Shadowsسے ایک باب تلخیص و ترجمہ: سیّد عرفان علی یوسف
بھارت نے پاکستان پر 6 ستمبر 1965 کی صبح حملہ کیا۔اچانک حملے،زیادہ تعداد اور جدید ہتھیاروں کے نظام کی برتری کی بنا پر بھارتی فوجی ہائی کمان سخت غرور میں تھی۔ بھارتی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرلدرست ثابت کردیا۔بھارتی حملے کو پاکستان کے جوابی مکے نے ناکام بنادیا۔لاہوردنیا کے سامنے پاکستان کا اسٹالن گراڈ بن کر ابھرا۔لاہور جمخانہ میں اپنی فتح کا جام پینے کا خواب دیکھنے والوں کو اپنا تھوکا ہوا چاٹنا پڑا۔

بھارت کا عسکری منصوبہ:
کچھ بھارتی مصنفین نے لکھا کہ اکھنور پر پاکستان کے دباؤ اور اس کے ممکنہ سقوط کے خدشہ کے سبب بھارت پاکستان پر حملہ کرنے پر مجبور ہوا۔یہ دعوی غلط بیانی پر مبنی تھا۔حملے کے لیے تزویراتی مقاصد کا انتخاب اور ان مقاصد کے حصول کے لیے حملہ آوربھارتی فوج کا بہت بڑا حجم یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کا کم از کم مقصد پاکستان کی دفاعی اہلیت کو چکنا چور کرنا تھا۔بھارت کے دفاعی پلان میں مندرجہ ذیل عناصر شامل تھے:
1۔دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان ایک راہداری بنانے کی کوشش جس میں چار ڈویژن فوج کارفرما ہو جس کی مدد کے لیے چھ آرٹلری بریگیڈز ہوں گے اور ساتھ ہی مغالطے میں ڈالنے اور پاکستان کو دھوکہ دینے کے لیے جسر سیکٹر میں مختلف کارروائیاں؛
2۔کشمیر اور سیالکوٹ سیکٹر میں fixation کی کوششیں؛
3۔ راوی بیاس راہداری میں امدادی کوشش جہاں سے تین ڈویژن فوج لاہور پر قبضے کے لیے پیش قدمی کرے گی؛
4۔راجستھان سیکٹر میں دوسری امدادی کوشش؛
5۔بھارت نے فوجی، سیاسی اور نفسیاتی وجوہ کی بنا پر مشرقی پاکستان پر حملہ نہیں کیا۔عسکری اعتبار سے دو محاذ کھولنا موزوں نہیں سمجھا گیا لیکن اس سے فائدہ حملہ آور ہی کو تھا۔سیاسی طور پر بھارت کو پاکستان کو دو ٹکڑے کرنا آسان ہوگیا۔نفسیاتی طور پر بھارت مشرقی پاکستان میں یہ احساس پیدا کرنے میں کامیاب رہا کہ مشرقی پاکستان کی دفاعی ضرورتوں کو پورا نہیں کیا گیا اور نہ ان کو اہمیت دی گئی۔

پاکستان کا رد عمل:
بھارتی حملے کے خلاف پاکستان کا رد عمل یہ تھا:
1۔دشمن کو لاہور، سیالکوٹ اور کشمیر سیکٹروں میں آگے بڑھنے میں روکنا؛
2۔سلیمانکی سیکٹر اور راجستھان میں مقامی سطح پر فوجی پیش قدمی؛
3۔امرتسر۔کھیم کرن میں بھارت کے خلاف جوابی پیش قدمی؛
4۔دشمن کی اصل کوشش کو ناکام بنانا۔
دشمن کے حملے کو روکنے کی کوششیں:
لاہور پر قبضے کے لیے تاوی بیاس سیکٹر میں بھارت کی امدادی کوشش(auxiliary effort) ناکام ہوگئی۔پاکستان کی پہلی دفاعی لائن نے بمبن والا،راوی، بیدین لنک نہر (بی آر بی نہر) سے بھارت کی پیش قدمی کو مکمل طور پر روک دیا۔بھارت کے پندرھویں ڈویژن کا جی او سی میجر جنرل نرنجن پرشاداس طرح اپنے حوصلے کھو بیٹھا کہ جنگ کے پہلے دن کے اختتام ہی پر اس نے کمان چھوڑ دی۔اس کی برطرفی پاکستان کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت تھی۔
بھارتی فوج کے ڈویژن کا سائز سیالکوٹ سیکٹر میں دو مقاصد کے تحت تھا۔اول، مقبوضہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے دباؤ کو کم کرنا اور سیالکوٹ کی جانب پیش قدمی۔دونوں ملکوں کی افواج کی یہ جھڑپ سرحدی علاقے تک محدود رہی۔ جسر سیکٹر میں بھارتی فوج نے دریائے راوی کے مشرقی جانب بھارتی علاقے سے گھرے ہوئے پاکستانی انکلیوز پر پہلے ہی ہلے میں قبضہ کرلیا۔اس علاقے میں 115 بریگیڈ تعینات کیا گیا۔ 3 پنجاب کو جسر پل کی حفاظت کی ذمہ داری دی گئی۔سرحد کے پار بھارتی ٹینکوں کی نقل و حرکت سے 3 پنجاب نے یہ غلط نتیجہ اخذ کیا کہ دشمن بڑا حملہ کرنے والا ہے۔بدقسمتی سے ایچ کیو 115 بریگیڈکا ایچ کیو 15 ڈویژنل ہی ڈکوارٹر سے ایسے وقت رابطہ منقطع ہوگیا جب اس کی اشد ضرورت تھی۔دونوں ہیڈکوارٹرز پر اس بلیک آؤٹ کی ذمہ داری عائد کی گئی۔اس دوران اس پل کو جوابی جانچ پڑتال کے بغیر ہی دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ دشمن کا حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔فیصلے کی یہ غلطی ایچ کیو 15 ڈویژن کو بہت شاق
گزری۔7 ستمبر کو 11 بجے صبح 15 ڈویژن میں کمانڈروں کا اجلاس ہوا جس میں فارمیشن کمانڈر کے علاوہ لیفٹننٹ جنرل بختیار رانا کمانڈر 1 کور، میجر جنرل ابرار حسین کمانڈر جنرل آفیسر کمانڈنگ 6 آرمرڈ ڈویژن، بریگیڈیر اے اے کے چوہدری کمانڈر 4 کور آرٹلری، اور میں شریک تھا۔جسر کے علاقے میں دریا کے پار پاکستانی انکلیو ناقابل دفاع تھا اور اس پر بھارتی قبضے کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔اس پر کسی کو کوئی حیرت نہیں ہوئی۔لیکن رات کے وقت الارم بیل کا بجنا، کمیونیکیشن بلیک آؤٹ، اور 24 بریگیڈ کی نقل و حرکت نے کمان کی کمزوری کو ظاہر کردیا۔کرنل اسٹاف 15 ڈویژن کی پریزنٹیشن اعتماد سے خالی تھی۔جی او سی 15 ڈویژن کے جی او سی نے خطاب کیا لیکن کسی کو متاثر نہ کرسکا۔پورے اجلاس کے دوران لیفٹننٹ جنرل بختیار رانا غمگین نظر آئے اور خاموش رہے۔
7 ستمبر کو چھ بجے شام بریگیڈ 24 کو 15 ڈویژن نے جسر جانے کا حکم دیا تاکہ وہاں دفاع کو مستحکم کیا جاسکے۔بریگیڈ کمانڈر نے کہا کہ سرحد کے پار یہاں پر دشمن کی نقل و حرکت بہت زیادہ دکھائی دے رہی ہے اس لیے یہاں سے بریگیڈ 24 کی منتقلی مناسب نہیں۔بریگیڈ کمانڈر کی درخواست مسترد کردی گئی۔اس سے ڈویژنل دفاع عدم توازن کا شکار ہوگیا۔ 24 بریگیڈ 2 پنجاب اور 25 کیولری کے ساتھ روانہ ہوا۔بریگیڈکمانڈر اپنے او گروپ کے ساتھ ایچ کیو 115 بریگیڈ، ناروال پہنچے اور دیکھا کہ جی او سی 15 ڈویژن بھی موجود ہیں۔جنگ کی صورت حال غیر واضح تھی۔لیکن یہ بات طے شدہ تھی کہ دشمن نے دریائے راوی کو عبور نہیں کیا تھا۔ اس اثنا میں رپورٹ آگئی کہ دشمن نے سیالکوٹ سیکٹر پر حملہ کردیا ہے۔جی او سی 15 فوراً سیالکوٹ روانہ ہوگیا۔گیارہ بجے رات 24 بریگیڈ کو پسرور میں ٹہرنے کا حکم ملا جو چونڈہ اور ناروال کے درمیان آدھے فاصلے پر ہے۔اس وقت تک بریگیڈ (25 کیولری کے بغیر)ناروال پہنچ چکا تھا۔25 کیولری اس وقت قلعہ سوبھا سنگھ سے گزر رہا تھا۔پسرور کی جانب نقل و حرکت نصف رات تک مکمل ہوگئی۔ کمانڈر 1 کور نے معمولات کو درست کرنے کے لیے تیزی سے کارروئی کی۔جی او سی 15 ڈویژن اور کرنل اسٹاف 15 ڈویژن کو ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا گیا۔جنرل ٹکا خان نے 15 ڈویژن کی ذمہ داری سنبھال کی۔کشمیر میں زیادہ تر مقامات پر جنگ بندی تھی۔لیکن کچھ علاقوں میں جھڑپیں جاری تھیں۔بدوری بلج اور اڑی پونچھ سیکٹر میں اس سے پاکستان کو نقصان ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

thirteen + nineteen =