گوادر۔ روشن مستقبل کا دروازہ

گوادر۔ روشن مستقبل کا دروازہ

ادھر بھی سمندر کی بے تاب موجیں
ادھر بھی سمندر کی پہنائیاں ہیں
سمندر گھروں سے ہم آغوش ہونے کی خواہش میں بے چین ہے
چٹانیں۔ زمیں کی محافظ
سمندر کے رستے میں حائل ہیں
وحشی ہوائیں۔ سمندر کی ساتھی ہیں
دن رات معصوم کچی چٹانوں کے سینے پہ خنجر چلاتی ہیں
فطرت مصور ہے
ننگی چٹانوں پہ پاگل ہواؤں کے ہر گھاؤ کو مختلف زاویوں میں
بدلتی ہے۔
کچی چٹانیں۔ کھجوریں۔ گھروندے۔ یہ سنگلاخ چہرے
سمندر سے اپنی بقا کے لیے روز و شب لڑ رہے ہیں۔
سمندر زمیں جب بھی ملتے ہیں۔
ساحل پہ گھونگھے۔ صدف۔ سیپیاں جگمگاتی ہیں۔
رنگت ہے۔ خوشبو ہے۔ سپنوں کی رنگنینیاں ہیں۔
سکوں ہے محبت ہے۔ ساحل کی رعنائیاں ہیں
خدایا! گوادر کو لطف و کرم۔رحمتیں۔ برکتیں ہوں عطا
یہ ہے آنے والے زمانوں کا در
نشانِ اُمید عروج بشر

Related image
میں نے یہ نظم 1975میں لکھی تھی ۔ ہمیں بلوچستان کے گورنر خان قلات نواب احمد یار خان اپنے خصوصی جہاز میں گوادر بندرگاہ دکھانے لائے ہیں۔ قدرتی ساحل۔ چاندنی رات۔ ہم دیر تک گیلی گیلی مٹی پر ہیں۔ ملک کے حال۔ مستقبل کی باتیں کررہے ہیں۔ سمندر کی لہریں ہمارے پاؤں چوم رہی ہیں۔ اور سمندر کا پیغام دے رہی ہیں کہ یہ قدرتی ساحل۔ یہ سمندر کی وسعتیں۔ یہ فراواں پانی۔ یہ پُر جوش لہریں۔ سب آپ کی۔ اللہ کے نائب انسان کی خدمت کے لیے مامور ہیں۔ انسان کو خدائے بزرگ و برتر نے ذہن رسا عطا کیا ہے۔ دور رس نگاہیں عنایت کی ہیں۔ سمندر تسخیر کرو۔ ہواؤں کو قابو میں لاؤ۔ لاتعداد امکانات بے حساب مواقع اس کے در پر دستک دے رہے ہیں۔
گوادر پاکستان کی سرزمین میں ایک خصوصی اضافہ ہے۔ میں سوچ رہا ہوں ۔ 1958میں ہمیں یہ انتہائی قیمتی اور حساس ساحلی شہر مسقط والوں سے ملا۔ ہم ابھی تک اس کے امکانات اس کے فوائد سے بے خبر ہیں۔
یہ آواز۔یہ پیغام پاک بحریہ نے بہت غور سے سُنا ہے۔ وہی ان امکانات اور مواقع کو مملکت خداداد کے استحکام کی بنیاد بنانے کے لیے شب و روز مصروف ہے۔ اس سر زمین پر پاکستانی پرچم ستارہ و ہلال بھی ایک بحری پلاٹون نے لیفٹیننٹ افتخار احمد سروہی کی قیادت میں 8دسمبر 1958کو لہرایا تھا۔ ویرانے میں بہار آگئی تھی۔ اس پرچم کو بڑی عقیدت سے سلامی دی گئی ۔ گوادر اس کے گرد و نواح ۔ ٹھاٹھیں مارتا سمندر۔ کچی چٹانیں سب بیک آواز کہنے لگے۔

Image result for gwadar
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں
ہر ایک مقام کی اپنی کشش ہوتی ہے۔ اپنی تاریخ۔ اس علاقے کو پاکستان کی خوشحالی کا سر چشمہ بننا تھا۔ اس لیے اس کے اسباب پیدا کیے گئے۔ یہ 1783ء سے1958 تک مسقط عمان کے زیرنگیں تھا۔ پاکستان کی درخواست پر امریکی جیالوجیکل سروے نے 1954میں یہ اشارہ دیا تھا کہ گوادر گہرے پانی کی بندرگاہ کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ اس وقت بھی گوادر مسقط کی حدود میں ہی تھا۔
تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ 8 ستمبر 1958کو گوادر اور اس کا نواحی علاقہ مسقط نے پاکستان کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت فیروز خان نون۔ پاکستان کے وزیر اعظم تھے۔ یہ خوش بختی ان کے دَور کا حصہ بنی کہ گوادر پاکستان کی حدود میں شامل کیا گیا۔ اس وقت یقیناًکسی صاحب بصیرت کو اندازہ ہوگا کہ یہ علاقہ پاکستان کے لیے کتنی خوشحالی لے کر آئے گا۔
اس جنت ارضی کی تعمیر و ترقی۔ فلاح و بہبود پاکستان بحریہ کے حصّے میں آئی۔ 8دسمبر1958کو پاکستانی پرچم لہرانے سے یہ سفر شروع ہوتا ہے۔ اور آج 60سال بعد بھی جاری ہے۔ ان چھ دہائیوں کے درمیان دُنیا کیا سے کیا ہوگئی۔ بقول اقبال:
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
بعض خاص مواقع کے لیے قدرت کی طرف سے ادارے بھی چُن لیے جاتے ہیں اور شخصیات بھی۔ پاکستان بحریہ کے سابق چیف آف اسٹاف وہ تاریخ ساز شخصیت ہیں جنہیں پہلے 8دسمبر1958کو پاکستان پرچم لہرانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ان کی قیادت میں ایک پلٹن نے یہ فرض انجام دیا۔ ایسا رُتبہ بہت ہی منتخب ہستیوں کو ملتا ہے۔ جب 16اپریل 1987کو پاکستان بحریہ نے یہاں کے سمندروں کی نگرانی کے لیے گوادر کو اپنا بیس کیمپ بنایا۔ تو لیفٹیننٹ کمانڈر () امان اللہ خان اس کے سربراہ تھے۔ یہاں پرچم لہرانے کی تقریب اس وقت کے کومپاک ریئر ایڈمرل افتخار احمد سروہی کی سربراہی میں منعقد ہوئی۔بعد میں 31جولائی 1987کو گوادر کو باقاعدہ پی این ایس اکرم کا نام دیا گیا۔ اس وقت جناب افتخار احمد سروہی۔بھی ایڈمرل تھے اور پاک بحریہ کے سربراہ۔ جب بھی گوادر کی بحری اہمیت کا ذکر ہوگا تو ایڈمرل(ر)افتخار احمد سروہی کا نام بھی ساتھ ساتھ آئے گا۔
اب ہیڈ کوارٹر کو م ویسٹ۔ پی این ایس اکرم گوادر پر قائم کی گئی ہے۔ اس کمان کا قیام 2000ء میں اس لیے عمل میں آیا کہ مکران کے ساحلی علاقوں اور خاص طور پر گوادر کو ہر حوالے سے ترقی یافتہ بنایا جائے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کو مرکز و محور بنایا گیا۔
پاکستان بحریہ کے جتنے افسروں کمانڈروں سے بات ہوتی ہے وہ گوادر کی تعمیر و ترقی میں پاک بحریہ کے فعال کردار پر فخر کا اظہار کرتے ہیں کہ پاک بحریہ کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں گوادر آج عالمی اُفق پر اُبھرا ہوا ہے۔
60سال سے پاک بحریہ نے گوادر اور آس پاس کے علاقوں میں بستے انسانوں۔ ماہی گیروں بچوں بزرگوں اور خواتین کی خدمت کا یہ سفر جاری رکھا ہے۔ مختلف حالات رہے۔ مختلف حکومتیں آئیں۔ لیکن پاک بحریہ نے اپنی توجہ یہاں کے ہم وطن پاکستانیوں کا معیار زندگی بلند کرنے پر مرکوز رکھی۔ ان اقدامات کی تفصیل میں جانا تو ممکن نہیں ہے کیونکہ تفصیلات قلمبند کرنے کے لیے وقت بھی چاہئے اور صفحات بھی۔ اس کی شہادت مقامی آبادی سے بھی مل سکتی ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں پاک بحریہ کے جوان اور افسر ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں۔
گوادرکے پُر عزم اور بلند حوصلہ قدیم باشندے زیادہ تر ماہی گیر ہیں۔ مچھلیاں پکڑنا مچھلیاں بیچنا۔ ان کا روز مرہ کا معمول ہے۔ ماہی گیروں کے گیت یہاں کی وادیوں میں گونجتے ہیں۔ وہ سمندر میں جال پھینکتے ہیں تو یہی گیت گاتے ہیں۔ اللہ سے مدد مانگتے ہیں ماہی گیری کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے میں بھی پاک بحریہ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ گوادرملک کے دور دراز علاقے میں واقع ہے۔ اس لیے یہاں صحت اور تعلیم کی سہولتیں دوسرے علاقوں کے برابر نہیں ہیں۔ پاک بحریہ نے اس مشکل کا احساس کرتے ہوئے پسنی گوادر اور جیوانی میں میڈیکل سیٹ اپ قائم کیے۔ جہاں مریضوں کی بڑی تعداد کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ گوادر۔ پسنی۔ جیوانی کے مستقل باشندے ہمیشہ ان سہولتوں پر پاک بحریہ کے ممنون و شکر گزار رہتے ہیں یہ تو مستقل میڈیکل سیٹ اپ ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ دور دراز دیہی علاقوں میں پاک بحریہ کے میڈیکل دستوں نے مفت طبی معائنے کیے۔ مفت دوائیں تقسیم کیں۔ خیال ہے کہ سال رواں میں 60ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا۔
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّو بیاں
اس سفر کے مصداق پاک بحریہ اپنے ہم وطنوں کے لیے درد دل کا اہتمام کررہی ہے۔ غم بانٹ رہی ہے ان کی مشکلات آسان کرنے کی جستجو میں رہتی ہے۔
صحت کی فکر کے ساتھ ساتھ تعلیم کی اشاعت کا بیڑا بھی پاک بحریہ نے اٹھایا ہے۔ ساحلی علاقوں میں خواندگی کی شرح بڑھانے کے لیے بی ایم ایس گوادر 23مارچ 2010میں قائم کیا گیا۔ پھر 14ستمبر 2018کو اسے باقاعدہ کالج کی حیثیت دے دی گئی۔ جیوانی اور گوادر کے ان تعلیمی مراکز میں 25فیصد طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کی جارہی ہے۔ بی ایم ایس گوادر کے تعلیمی نتائج میں اوسط 94.7فیصد رہی ہے۔ آج کل تعلیم ہی مملکتوں کو مضبوط اور مستحکم بناتی ہے۔ یہ علاقہ جو پاکستان کی خوشحالی کا مرکز بننے والا ہے۔ یہاں کے باسیوں کو تعلیم یافتہ بنانے میں پاک بحریہ پیش پیش ہے۔
سمندر میں پانی تو بہت ہے مگر یہ پینے اور فصلوں کی کاشت میں کام نہیں آسکتا۔ تازہ شفاف پانی گوادر کی شدید ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں پاک بحریہ کی کارکردگی لائق تحسین ہے۔ پاکستان بحریہ کے جہازوں کے ذریعے صاف پانی مقامی آبادی کو فراہم کیا جارہا ہے۔ انسانوں اور فصلوں کے چہروں پر تازگی آرہی ہے۔ اب پاک بحریہ مقامی آبادی کو تازہ پانی کی مستقل فراہمی کے لیے ایک آر او پلانٹ کے منصوبے پر مصروف عمل ہے۔
ماہی گیری جان جوکھوں کا کام ہے ۔ سمندر کبھی کبھی بے رحم ہوجاتا ہے۔ اپنے مستقل ساتھیوں کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ ایسے میں بھی پاک بحریہ ہنگامی بنیادوں پر ان کی مدد کرتی ہے۔ جان بچاتی ہے۔ جدید ترین ماہی گیری کے لیے ان کو ٹیکنیکل تعاون بھی پیش کرتی ہے۔ شہریوں کی تفریح۔ کھیل اور دوسری دلچسپیوں کے لیے بھی مراکز قائم کیے جارہے ہیں۔گوادر میں معزز ماؤں۔ بہنوں۔ بیٹیوں کے لے ایک انڈسٹریل ہوم بھی قائم کیا گیا ہے۔
8دسمبر1958پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے الفاظ سے تابندہ رہے گا۔ اب پاکستانی قوم گوادرکے حصول کے 60سال بعد باقاعدہ تقریبات منعقد کررہی ہے۔ تاکہ پاکستان کے عوام اور بیرونی دُنیا پر گوادر کی اہمیت اُجاگر ہوسکے۔
گوادر۔ یہ ہے آنے والے زمانوں کا در
نشانِ اُمید عروجِ بشر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

two + two =