کھلا معاشرہ:

کھلا معاشرہ:

مکافات عمل کے چنگل میں

تحریر:راجر کوہن
ترجمہ: سید عرفان علی یوسف

جب 1993 میں حامد بگلاری نے بطور تھیوریٹیکل نیوکلیئر فزیسشٹ اپنی ملازمت کو خیرباد کہا اور مک کنسے کنسلٹنگ میں شمولیت اختیار کی تو اس نے محسوس کیا کہ کمپنیاں بین الاقوامی مسابقت کے یونٹوں کی طرح ملکوں کو بے دخل کر رہی ہیں۔ یہ ایک بڑی اور اہم بین الاقوامی تبدیلی تھی۔بین الاقوامی کارپوریشنیں ان معاملات کو دوسری طرح دیکھتی ہیں۔وہ قومی سطح کے بجائے عالمی سوچ رکھتی ہیں۔ان کا مقصد دنیا بھر میں منافع کمانا ہے اور وہ وہیں رقم خرچ کرتی ہیں جہاں غیر معمولی نفع کی امید ہو اور جہاں محنت بہت سستی ہو۔انہیں قومی مفادات سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔یہ تبدیلی مواصلات میں ترقی کے ساتھ تیزی سے ہورہی ہے جہاں فاصلے کسی اہمیت کے حامل نہیں اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور نئی ٹیکنالوجی کے لیے سرحدیں کھولی جارہی ہیں۔ ہزاروں لاکھوں افراد ان ترقی پذیر ملکوں میں غربت کی حدوں سے نکل کر متوسط طبقے میں شامل ہورہے ہیں۔ دوسری جانب مغربی معاشروں میں متوسط طبقہ مینوفیکچرنگ اور تکنیکی ترقی کے سبب روزگار سے محروم ہورہا ہے اور وہاں مشاہرے کم ہورہے ہیں۔اگر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے تو سوویت سامراجیت پر جمہوری کھلے معاشرے کی فتح نے 1989 میں دیوار برلن کو ڈھایا تھا اور دس کروڑ سے زیادہ مشرقی یورپی شہریوں کو آزادی دی تھی لیکن وہ اب ان اقتصادی قوتوں کے چنگل میں پھنس گئے ہیں جو جمہوریتوں کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔لبرلزم کو اس وقت ردعمل سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ یہ عالمی تناظر ہر ایک کے لیے موزوں نہیں ۔فرانسیسی اسے پردیسی علاقے کہتے ہیں جو بڑے شہروں سے باہر آباد ہو رہے ہیں اور جدید قوموں کے لئے تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔جن کے پاس بے اندازہ دولت ہے۔ وہ بدعنوانی پر مبنی عالمی نظام چلاتے ہیں اور مقامی لوگ مقامی ہی رہتے ہیں۔یہ عدم مساوات ہر قوم میں پیدا ہورہی ہے اور مالی تباہی اس کے ساتھ ساتھ ہے جبکہ قومی طبقات کے مابین ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ مایوسیاں اس سطح پر پہنچ رہی ہیں کہ ان کو کم کرنے اور ردعمل سے بچنے کے لیے قربانی کے بکرے تلاش کیے جاتے ہیں۔

تین عشرے پہلے کی قوم پرستی اور علاقائیت کم ہوتے ہوتے آج تنگ دلی تک پہنچ گئی جس کی مثال امریکی صدر ٹرمپ، میانمار کی لیڈر سان سو کئی اور پولینڈ کا لیڈر جیروسلاکازنسکی ہیں۔ یہ تبدیلی حیرت انگیز ہے لیکن منطق کے بغیر نہیں۔انقلاب فرانس کے تیس سال بعد بوربنوں کی بحالی کا ردعمل شروع ہوا ۔ اسی طرح 1990 میں سوویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد عالمگیریت نے جمہوری انقلاب کے مقاصد کو تارپیڈو کردیا۔ ہم اس وقت نقطہ تصریف یعنی بڑی تبدیلی کے مقام پر ہیں کیونکہ ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ دائیں بازو کے عناصر اور بیمار قدامت پسند کب تک ساتھ چلیں گے۔سچی بات یہ ہے کہ ٹرمپ ایک وجہ نہیں بلکہ ایک علامت ہے۔ اس نے امریکی ناراضگی کے اسباب کا ہر ایک سے زیادہ ادراک کیا۔ اس نے اس ثقافتی مایوسی کو محسوس کیا جس نے کروڑوں امریکیوں پر اس کی فحاشی کو غیر موثر بنادیا اور حقیقت میں اسٹبلشمنٹ کی نظر میں اسے پسند کیا گیا۔وہ جانتا تھا کہ وہ سیاست کو ایک حقیقی / رئیلٹی شو میں تبدیل کرسکتا ہے اور یہ بات سچ ہے۔ لوگ ڈپریشن کے عالم میں پریشان ہوجاتے ہیں۔ امریکہ کا افیم کا بحران خواب آور گولیوں سے حل نہیں ہوسکتا۔ یہ خاص حالات ہیں جو اس کا سبب بنے۔ بلگاری کا کہنا تھا کہ امریکہ میں بے روزگاری کی شرح 16 فی صد سے کم ہوکر چار فیصد پر آگئی تو برسر روزگار لوگوں کی شرح کچھ اور کہانی بیان کرتی ہے۔1990 کے عشرے میں 67 فی صد لوگ بر سر روزگار تھے لیکن اب 63 فی صد لوگ برسر روزگار ہیں۔ لوگ اس قدر مایوس ہیں کہ انہوں نے ملازمت تلاش کرنا چھوڑ دی۔
دنیا بھر میں ٹرمپ کا ڈنکا بج رہا ہے۔لیکن پولینڈ میں نہیں۔ وہاں لیچ ویلیسا اور اس کی سولیڈیرٹی موومنٹ نے کمیونسٹ اقتدار کا تختہ الٹا اور ایسی تبدیلیاں شروع کیں جوایک متحد اور جمہوری یورپ کا سبب بنیں گی۔ لیکن وال اسٹریٹ جرنل نے حال ہی میں لکھا کہ قوم پرست لیڈر اب ویلیسا کو قوم کے ذہنوں سے مٹادینا چاہتے ہیں۔اسے یورپی یونین اور نیٹو کے اندر پولینڈ کی تحلیل کا ذمہ دار اور سازشی کارندہ کہا جاتا ہے۔کازنسکی نے اسے خودکشی قرار دیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پولینڈ اقتصادی کامرانی کی کہانی ہے۔ پولش شہری اب زیادہ آزاد زیادہ بہتر معاشی زندگی گزر رہے ہیں جو ویلیسا کے بغیر ناممکن تھا۔اسی طرح ٹرمپ بھی پریشان کن عناصر کے خلاف ایک طاقت ہے۔ ڈیووس میں ٹرمپ نے کہا،’’جب لوگوں کو بھلادیا جائے گا تو دنیا ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔کمزور اور بھلائے ہوئے لوگوں کی آواز سن کر ہم روشن مستقبل کی تعمیر کرسکتے ہیں جس میں سب لوگ امن سے رہ سکیں۔‘‘ یقیناً اگر بھلایا جانے والا کوئی مہاجر ہے تو اس کو بھلا دیں۔ اور اگر وہ کوئی غریب بچہ ہے جسے صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے یا اگر وہ کوئی نقل مکانی کرنے والا ایسا شخص ہے جس کے پاس دستاویزات نہیں تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں اوراسے بھول جائیں۔
امریکی تعلیم کا نظام تکنیکی خلل کو روکنے میں ناکام رہا۔صرف بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری جسے بگلاری تعلیم کا مارشل پلان کہتا ہے اس خلل کو دور کرسکتا ہے۔بلگاری ایران میں پیدا ہوا۔وہ 1970 کے عشرے میں نقل مکانی کرکے ایران سے امریکہ آیا۔پھر وہ سٹی کور کا وائس چیرمین بن گیا۔وہ ٹرمپ کی قسم کا آدمی نہیں لیکن اس میں یقین رکھتا ہے کہ کھلے معاشرے کو کام کرنے دیا جائے۔(بشکریہ نیویارک ٹائمز انٹرنیشنل ایڈیشن)

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

4 × three =