پی پی پی کے50سال

پی پی پی کے50سال

نومبر2017آگیا ہے۔ پی پی پی آج50سال کی ہوگئی ۔’اطراف‘ واحد اُردو جریدہ ہے جس نے نومبر2016 سے پی پی پی کے 50سال کی روداد کی اشاعت شروع کی ہوئی ہے۔ اس کے لیے پی پی پی کے سینئر رہنما۔ کراچی پی پی پی کے سابق صدر ۔ سندھ پی پی پی کے سیکرٹری جنرل اور ’کراچی پیپرز‘ کے مصنّف اقبال یوسف سے درخواست کی گئی۔ وہ باقاعدگی سے پی پی پی کے اقتدار کے سنہرے دنوں کی جدو جہد اور آمریت کے خلاف مزاحمت کی کہانی سنارہے ہیں۔ اس قسط میں وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے۔ مارشل لا کے تحت کوڑوں اور جیل کی سزاؤں کے دل خراش واقعات بیان کررہے ہیں۔ پڑھئے اور اپنی رائے دیجئے۔

5جولائی 1977 پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ دن تھا جس کے پھیلائے گئے اندھیروں سے ہم آج تک نجات حاصل نہ کرسکے گزشتہ 40سالوں میں پاکستان کے عوام پر کسی نہ کسی شکل میں 5جولائی مسلط ہوتا رہا ہے۔ 5جولائی 1977 کی صبح ریڈیو اور اخبارات کے خصوصی ضمیموں سے عوام کو صرف اتنی خبر ملی کہ فوج نے اقتدار سنبھال لیا ہے وزیر اعظم بھٹو کو بحفاظت مری منتقل کردیا گیا ہے اور دیگر سیاسی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے ۔ ریڈیو پاکستان کی دوپہر کی نشریات میں حکومت پاکستان کا ایک اعلان نشر کیا گیا کہ:
’’ چیف آف دی آرمی اسٹاف نے پورے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا ہے اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ سنبھال لیا ہے اور حکم دیا ہے کہ
1۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور معطل رہے گا۔
2۔قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دی گئی ہیں۔
3۔ وزیر اعظم، وفاقی وزرا، وزرائے مملکت ، وزیر اعظم کے مشیر ،قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، سینیٹ کے چیئرمین اور وائس چیئرمین ، صوبائی گورنر، صوبائی وزرائے اعلیٰ اور وزیر اپنے عہدوں پر قائم نہیں رہے۔
4۔ صدر پاکستان اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔
5۔ پورا ملک مارشل لاء کے تحت آگیا ہے۔
اسی روز 3بجے کی خبروں میں بتایا گیا کہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق نے صدر پاکستان چوہدری فضل الٰہی اور سپریم کورٹ آف پاکستان چیف جسٹس جناب یعقوب علی خان سے ملاقات کی ہے اور شام 5بجے کی خبروں میں اعلان کیا گیا ہے کہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر رات 8بجے قوم سے خطاب کریں گے۔ دن بھر حالات معمول کے مطابق رہے کوئی غیر معمولی کارروائی نظر نہیں آئی ماسوائے اس کے کہ شہر میں فوجی ٹرکوں اورگاڑیوں کا گشت جاری رہا۔
5جولائی کی رات 8بجے ریڈیو اور ٹی وی پر جنرل ضیا کا قوم سے پہلا خطاب شروع ہوا۔ قرآنی آیات کے ساتھ جنرل ضیاء نے اپنی تقریر شروع کی جس کے اہم نکات یہ تھے۔
1۔ جناب بھٹو کی حکومت ختم ہوچکی ہے اسکی جگہ درمیانی مدت کے لیے فوج نے حکومت سنبھال لی ہے۔
2۔ سابق وزیر اعظم جناب بھٹو اور ان کے رفقا نیز قومی اتحاد کے رہنما ’زیر حفاظت‘ رہیں گے۔
3۔ وطن عزیز میں 7مارچ 1977کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کو ایک فریق نے تسلیم نہیں کیا تھا مذاکرات کی کامیابی کے لیے فوج نے حکومت کو موقع فراہم کیا لیکن سیاسی رہنما ملک کو بحران سے نکالنے میں ناکام رہے یہی سبب ہے کہ افواجِ پاکستان کو مداخلت کرنی پڑی۔
4۔ دستور نہیں توڑا گیا ہے اس کے کچھ حصّے معطل کیے گئے ہیں صدر چوہدری فضل الٰہی نے اسی دستور کے تحت فرائض انجام دیتے رہنے پر آمادگی ظاہر کی ہے ان کے صدارتی فرائض کی ادائیگی کے لیے ایک چار رکنی فوجی کونسل تشکیل دی گئی۔
5۔ میں( جنرل ضیاء) چیف آف دی آرمی اسٹاف اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے فرائض انجام دوں گا میرے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں اور اکتوبر1977میں نئے انتخابات کرانا میرا واحد مقصد ہے انتخابات کے بعد اقتدار عوامی نمائندوں کو منتقل کردیا جائے گا۔
6۔ عدلیہ کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں لیکن ناگزیر اسباب کی وجہ سے کوئی مارشل لاء یا ریگولیشن کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا آج سے تا حکم ثانی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے گی۔

جنرل ضیاء الحق نے اپنے اس اقدام کو ’آپریشن فیئر پلے‘ کا نام دیا چار اور پانچ جولائی کی درمیانی شب وزیر اعظم بھٹو اور پیپلز پارٹی کے وفاقی وزرا جناب عبدالحفیظ پیرزادہ، مولانا کوثر نیازی، ممتاز علی بھٹو، ڈاکٹر غلام حسین ، شیخ محمد رشید اور جنرل ٹکا خان کو مری منتقل کردیا گیا تھا جبکہ قومی اتحاد کے رہنماؤں میں مولانا مفتی محمود، نوابزادہ نصر اللہ خان، ایئرمارشل اصغر خان، مولانا شاہ احمد نورانی، سردار شیر باز مزاری اور پروفیسر غفور احمد بھی فوجی حراست میں مری منتقل کردیے گیے۔
5جولائی کو جنرل ضیاء نے قوم سے خطاب سے قبل صدر چوہدری فضل الٰہی سے ملاقات کی تھی اور اسی روز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب یعقوب خان سے جو ملاقات کی تھی اس میں چیف جسٹس یعقوب علی خان نے جنرل ضیاء الحق کو مشورہ دیا تھا کہ:
1۔ آئین کو بالکل نہ چھیڑا جائے۔
2۔ فوجی عدالتیں قائم نہ کی جائیں۔
3۔صدر پاکستان کو ان کے عہدے پر برقرار رکھا جائے۔
4۔ مارشل لا انتظامیہ سوائے امن برقرار رکھنے کے بقیہ نظام حکومت میں دخل اندازی نہ کرے اور اپنے مقرر کردہ 90دنوں کے عرصے میں اقتدار واپس سول انتظامیہ کو لوٹاکر مارشل لاء ختم کردے اور فوج بیرکوں میں واپس چلی جائے۔

۔ اگر کسی فرد یا جماعت نے مارشل لاء کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو ہم اپنے سابقہ فیصلے( عاصمہ جیلانی کیس) کے پابند ہیں۔
6جولائی 1977چاروں صوبوں میں گورنر اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹروں کا تقرر کردیا گیا سندھ میں جسٹس عبدالقادر شیخ ،صوبہ سرحد میں جسٹس عبدالحکیم، بلوچستان میں جسٹس خدا بخش مری، پنجاب میں جسٹس اسلم ریاض گورنر مقرر ہوئے جبکہ پنجاب میں لیفٹیننٹ جنرل محمد اقبال ، سندھ میں لیفٹیننٹ جنرل جہاں زیب ارباب ، صوبہ سرحد میں لیفٹیننٹ جنرل محمد سوار خان اور میجر جنرل عبداللہ سعید جان کو مارشل لاء ایڈمنسٹر یٹرز مقرر کردیا گیا۔
10جولائی 1977جنرل ضیاء نے 8مارشل لاء آرڈر جاری کیے اور فوجی عدالتوں کے قائم کرنے کا اعلان کردیا ’’بلی نے تھیلے سے باہر آنا شروع کردیا‘‘۔
27جولائی کو جنرل ضیاء نے دوسری بار قوم سے خطاب کیا اور اعلان کیا کہ یکم اگست 1977 کوسیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہوگی اور اکتوبر 1977میں عام انتخابات منعقد ہوں گے ۔28جولائی کو جنرل ضیاء نے جناب بھٹو اور مولانا مفتی محمود سے ملاقات کی اور اسی روز شام کو تمام ’’زیر حفاظت‘‘ سیاسی رہنما رہا کردیے گئے اور جناب بھٹو اسلام آباد پہنچ گئے۔ جہاں انہوں نے عبدالحفیظ پیرزادہ کی رہائش گاہ پر کارکنوں اور پارٹی عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔29جولائی جناب بھٹو پاک فضائیہ کے ایک خصوصی طیارے میں لاڑکانہ آگئے ان کے ساتھ جناب ممتاز علی بھٹو بھی لاڑکانہ آئے ۔ 17جولائی 1977کو مقرر ہونے والے چیف الیکشن کمشنر جسٹس مولوی مشتاق حسین نے اعلان کیا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن 18اکتوبر کو ہوں گے دوسری طرف لاہور میں 29جولائی کو ہی احمد رضا قصوری نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں اپنے باپ کے قتل کا مقدمہ جناب بھٹو کے خلاف دائر کردیا اور عدالت نے سماعت کے لیے 31جولائی مقرر کردی۔مارشل لاء حکام کی سرپرستی میں سول انتظامیہ کی کارروائیاں آئندہ منصوبوں کا پتہ دے رہی تھیں۔
2اگست 1977کو المرتضیٰ لاڑکانہ میں پارٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ 18اکتوبر 1977 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی پوری قوت کے ساتھ حصّہ لے گی۔ دوسرے دن جناب بھٹو لاڑکانہ سے بذریعہ ٹرین کراچی پہنچے اور کینٹ اسٹیشن سے بذریعہ کار 70کلفٹن کے لیے روانہ ہوئے تو کینٹ اسٹیشن پر موجود ہزاروں کارکن بھی ان کے ہمراہ تھے ہزاروں کارکنوں اور سینکڑوں گاڑیوں کا یہ قافلہ ایک بڑے جلوس کی شکل اختیار کرگیا اور کینٹ اسٹیشن سے 70کلفٹن کا راستہ پانچ گھنٹے میں طے ہوا۔70کلفٹن پہنچتے ہی ملاقاتوں اور اجلاسوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور 18اکتوبر کے انتخابات کے لیے امیدواروں، انتخابی مہم اور بدلتی ہوئی صورت حال پر حکمت عملی طے کی جاتی ہے۔
جناب بھٹو بذریعہ طیارہ ملتان روانہ ہوتے ہیں ملتان ایئرپورٹ پر ان کا شاندار استقبال ہوتا ہے ایئرپورٹ سے 3میل لمبے جلوس میں جناب بھٹو اپنی قیام گاہ پر پہنچتے ہیں یہ صورت حال مارشل لاء حکام کے لیے غیر متوقع تھی ۔ ملتان میں ایک روزہ قیام کے بعد 8اگست 1977 کو جناب بھٹو لاہور پہنچتے ہیں لاہور ایئرپورٹ پر تمام تر حفاظتی انتظامات کے باوجود ہزاروں کارکن خیر مقدم کے لیے موجود تھے اور پورے لاہور شہر میں جناب بھٹو کے استقبال کے لیے عوام سڑکوں پر تھے حالانکہ جلسے جلوس پر پابندی تھی ۔
11اگست کو جناب بھٹو ۔۔۔ پہنچے تو وہاں بھی شاندار استقبال ہوا اس استقبالی ہجوم پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے کئی کارکن زخمی ہوگئے جناب بھٹو نے اس موقع پر مارشل لا حکام کو خبر دار کیا کہ اگر مکمل غیر جانبداری نہ برتی گئی اور آزاد انتخابات کی ضمانت نہ دی گئی تو پیپلز پارٹی انتخابات کا بائیکاٹ کردے گی جس کے جواب میں جنرل ضیاء نے دھمکی دی اگر کسی جماعت یا کسی لیڈر نے ہمارے مشن کو ناکام بنانے کی کوشش کی تو اس کو ملک دشمن تصوّر کیا جائے گا۔ جنرل ضیاء کے اس بیان سے پارٹی اور عوام میں اشتعال پیدا ہوا اور نظر آنے لگا کہ جنرل ضیاء کی نیت ٹھیک نہیں ہے کیونکہ ہر جگہ جناب بھٹو کے بڑے بڑے استقبال اور اجتماعات سے جنرل ضیاء اور اس کے ’رفقاء ‘خوف زدہ ہوچکے تھے۔ 19اگست 1977 کو نواب محمد احمد کنا کے مقدمہ قتل میں ایف ایس ایف کے تین اہلکارو کو گرفتار کرلیا گیا اب صورت حال واضح ہونے لگی کہ جنرل ضیاء کے عزائم اور ایجنڈا کچھ اور ہے۔
ملک کے مختلف شہروں سے بھی مارشل لاء ریگولیشن کے تحت کارکنوں کی گرفتاری اور سزاؤں کی خبریں آرہی تھیں۔29اگست کو جناب بھٹو اسلام آبادپہنچے تو وہاں بھی ان کا عظیم الشان استقبال ہوا جس سے ’’راولپنڈی‘‘ والوں کی نیندیں حرام ہوگئیں جناب بھٹو نے ضیاء الحق سے ملاقات کی اور واضح کیا کہ وہ ’آپریشن فیئر پلے‘‘ تک ہی رہے۔ 30اگست 1977 کو ایئر مارشل اصغر خان نے پہلے ’’احتساب پھر انتخاب‘‘ کا مطالبہ کردیا۔ جبکہ سردار شیر باز مزاری ، شیر احمد پیش امام نے ایک مشترکہ بیان میں جناب بھٹو کی گرفتاری کا مطالبہ کیا اس ماحول میں جناب بھٹو کا لہجہ اور رویہ سخت ہوگیا۔ مارشل لا حکام کے اقدامات میں بھی سختی آگئی۔
3ستمبر 1977 کی صبح جناب بھٹو کو 70کلفٹن کراچی سے گرفتار کرلیا گیا اور سرکاری طور پر اعلان کیا گیا کہ جناب بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے مقدمۂ قتل کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے اسی روز کراچی میں حیدر آباد کالونی سینٹرل جیل کراچی کے سامنے پیپلز پارٹی نے ایک بڑے جلسۂ عام کا اہتمام کیا تھا جس سے پارٹی رہنماؤں اور اکتوبر کے انتخابات کے امیدواروں نے خطاب کیا۔ جلسۂ عام کے اختتام پر مسروع احسن کو گرفتار رلیا گیا اس جلسے سے بیگم شمیم ،این ڈی خان ، سردار حنیف، نسیم عثمانی ، این ڈی خان ، محمد حسین دھنجی و دیگر نے بھی خطاب کیا تھا۔ دوسرے دن جناب بھٹو کی گرفتاری اور کارکنوں کی گرفتاری پر ردّ عمل سامنے آیا اور کئی گرفتاریاں ہوئیں ۔ ان گرفتار کارکنوں کو مارشل لا ریگولیشن کی سزائیں دینے کا عمل تیزی سے جاری رہا۔ سرسری سماعت کی فوجی عدالت نے مسرور احسن کو ایک سال 10کوڑوں کی سزا سنائی۔ سردار حنیف کو 9ماہ قید کی سزا سنائی گئی ۔کئی کارکنوں کو مارشل لا ریگولیشن نمبر12کے تحت 90دن کے لیے نظر بند کردیا گیا قید اور کوڑوں کی سزاؤں کا یہ سلسلہ جاری تھا گو کہ انتخابی شیڈول کا اعلان کردیا گیا اور 18اکتوبر کے انتخابات کی تیاریاں بھی جاری تھیں کاغذات نامزدگی داخل ہوچکے تھے پیپلز پارٹی کو انتخابی نشان ’’تلوار‘‘ اور قومی اتحاد کو ’’ہل‘‘ الاٹ کردیا گیا۔ محدود انتخابی سرگرمیوں کی اجازت کی اجازت بھی دے دی گئی تھی۔4ستمبر1977 کو جناب بھٹو کی ضمانت پر رہائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی اسی روز مارشل لا کا ضابطہ نمبر21جاری کیا گیا جس کی تحت 1970-77کے دوران کے تمام قومی، صوبائی اسمبلیوں کے ارکان سینیٹرز اور وزیروں مشیروں کو پندہ دن کے اندر اپنے اثاثوں اور املاک کے گوشوارے داخل کرنے کا پابند کیا گیا۔
7ستمبر1977 کو جناب بھٹو کو ’’کوٹ لکھپت‘‘ جیل لاہور منتقل کردیا گیا۔ اسی روز لاہور میں بیگم نصرت بھٹو کی صدارت میں پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر قیمت پر 18اکتوبر کے انتخابات میں حصّہ لیا جائے گا۔ جناب بھٹو کی گرفتاری سے شکوک و شبہات پیدا ہورہے تھے اور پارٹی کے اندر بھی مشکلات پیدا ہورہی تھیں ۔ تاج محمد جمالی اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری ناصر علی رضوی نے پارٹی سے استعفیٰ دے کر اپنا علیحدہ گروپ بنالیا تھا ’’ مصلحت پسندوں‘‘ کا ایک گروپ سرگرم تھا۔13ستمبر کو جنرل ضیاء الحق نے سیاسی جماعتوں کا ایک مشترکہ اجلاس طلب کیا پیپلز پارٹی کی طرف سے بیگم نصرت بھٹو ، عبدالحفیظ پیرزادہ، ڈاکٹر غلام حسین اور قومی اتحاد کی طرف سے مولانا مفتی محمود ، مولانا شاہ احمد نورانی، خان محمد اشرف اور پروفیسر غفور احمد سمیت 24رہنماؤں نے اجلاس میں شرکت کی یہ اجلاس صبح گیارہ بجے شروع ہوکر دوپہر ساڑھے بارہ بجے ختم ہوا۔ جس کی خبر صرف یہ تھی کہ جنرل ضیاء نے کہا ہے کہ عام انتخابات 18اکتوبر کو ہی ہوں گے۔
اسی دن یعنی 13 ستمبر کو دوپہر دو بجے پنجاب ہائی کورٹ کے جسٹس ایم کے صمدانی نے جناب بھٹو کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔ تین بجے سہ پہر سے شام پانچ بجے تک ملک بھر میں اخبارات کے خصوصی ضمیمے شائع ہوگئے اخبارات کی سرخی تھی:’’ شیر پنجرے سے باہر آگیا‘‘۔
اور اسی دن نعرہ بن گیا۔’’بھٹو ساڈا شیر ہے باقی ہیر پھیر ہے‘‘۔
جناب بھٹو کی رہائی سے ملک بھر میں پارٹی کارکنوں کے حوصلے بلند ہوگئے قید اور کوڑوں کی سزاؤں کا خوف نکل گیا گلیوں بازاروں میں پارٹی پرچم لیے کارکن سرگرم ہوگئے جناب بھٹو نے رہائی کے بعد دوسرے دن ہی ملتان میں جلسہ عام سے خطاب کیا اور کراچی آگئے۔ جناب بھٹو کی پنجاب ہائی کورٹ سے رہائی پر جنرل ضیاء اور ان کے ٹولے لو سخت دھچکا لگا تھا اورجنرل ضیاء نے پنجاب کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد اقبال کو فونکرکے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا ’’ اگر ہائی کورٹ نے رہا کردیا تھا تو آپ اس کو مارشل لا 12میں گرفتار کرلیتے، بھٹو کی رہائی سے میری مشکلات میں اضافہ ہوا ہے‘‘۔ ضمانت پر رہائی کے صرف 4دن بعد جب جناب بھٹو 16ستمبر1977 کی رات کراچی پہنچے اور اسی شب انہوں نے کراچی کے صحافیوں سے 70کلفٹن پر ملاقات کی ۔ صحافیوں سے یہ بات چیت تاریخ میں ان کی آخری پریس کانفرنس بن گئی کیونکہ دوسرے دن وہ عید منانے لاڑکانہ روانہ ہوگئے اور 17ستمبر کی دوپہر 12بجے جناب بھٹو کو نوڈیرو سے گرفتار کرلیا گیا۔ یہ جناب بھٹو کی زندگی کی چوتھی اور آخری گرفتاری تھی جو ان کو شہادت کی منزل پر لے گئی۔
ریڈیو سے جناب بھٹو کی گرفتاری کی خبر سن کر کراچی میں کارکن پہلے پارٹی آفس پہنچنا شروع ہوئے معلوم ہوا کہ بیگم بھٹو کراچی میں ہی ہیں تو کارکن 70کلفٹن پہنچے ، میں اور اختر چاؤلہ مرحوم بھی وہاں موجود تھے جہاں بیگم نصرت بھٹو ان کی خالہ زاد بہن بیگم فخری گلزار ، بیگم گوہر اعجاز، بیگم شمیم این ڈی خان، بیگم نور جہاں سومرو، مسز خان ان کی بیٹی منیرہ شاکر، ڈاکٹر سلطانہ ابراہیم اور دیگر کئی خواتین اور کارکن موجود تھے۔ بیگم نصرت بھٹو صاحبہ فون پر پارٹی رہنماؤں سے رابطے کررہی تھیں اسی اثنا میں مس بے نظیر بھٹو بالائی منزل سے نیچے تشریف لائیں وہ بہت پریشان تھیں انہوں نے سوال کیا کہ پارٹی کیا کررہی ہے؟ میں نے انہیں بتایا آج صوبہ سرحد کے جناب حق نواز گنڈا پور کے یوم شہادت کے سلسلے میں پارٹی آفس میں جلسہ ہے حق نواز گنڈ اپور1970میں شہید ہوگئے تھے مس بے نظیر بھٹو نے فوراً پارٹی آفس جانے کی خواہش کا اظہار کیا اور گاڑی نکلوائی، بیگم فخری کو ساتھ لیا مجھے گاڑی میں بیٹھنے کو کہا اور خود گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے 70کلفٹن سے روانہ ہوئیں یہ بی بی سے میری پہلی ملاقات تھی ۔ دس منٹ میں ہم پارٹی آفس پہنچ گئے جہاں کارکنوں نے مس بے نظیر بھٹو کو اپنے درمیان دیکھ کر پُر جوش نعرے لگائے اسپیشل برانچ کے تمام اہلکار جن کو ہم ان دنوں ’’فیتے‘‘ کہتے تھے سرگرم ہوگئے ۔ چند منٹوں کے بعد جناب کمال اظفر جو ان دنوں کراچی کے صدر تھے پہنچے اور مجھ پر برہم ہوگئے کہ ان حالات میں پنکی بی بی کو پارٹی آفس کیوں لے آیا؟ میرے کچھ بولنے سے قبل ہی مس بے نظیر بھٹو نے کمال اظفر کو جواب دیا۔۔۔اس وقت پارٹی آفس میں کارکنوں کا ہجوم تھا جن میں ولی محمد لاسی، چاچا سلیمان، سمیع دہلوی، اصغر علی ، عبدالمنعم خان، ایڈووکیٹ نسیم حیدر، نفیس عثمانی، سلیم برہان، لائنز ایریا کے عبدالغفور، اختر میمن حیدر آباد کالونی، عبدالقادر منور سہروردی، محمد حسین دھنجی، عبدالرحیم بلوچ، لیاقت کاظمی، فرید انصاری، صدیق مغل، اصغر علی، شاہد علی رضا وغیرہ موجود تھے۔ مس بے نظیر بھٹو نے کارکنوں سے مختصر خطاب کیا اور متحد رہتے ہوئے جدو جہد کرنے کی تیاری کی ہدایت کی وہ ڈیڑھ گھنٹے تک پارٹی آفس میں کارکنوں کے درمیان رہیں۔ اس دوران جناب کمال اظفر نے سرگرم کارکنوں کا تعارف کروایا اور اس یقین کا اظہار کیا کہ جلد قائد عوام ہمارے درمیان ہوں گے پھر ہم واپس 70کلفٹن آگئے جہاں غلام مصطفیٰ جتوئی، حاجی قاسم عباس پٹیل، عبداللہ بلوچ، آفتاب عالم ، رشید اخوند، ایڈووکیٹ عبداللہ بلوچ، غلام نبی میمن، پی پی پی آئی نیوز ایجنسی کے فاروق معین، واجد شمس الحسن، عنایت حسین، اقبال جعفری وغیرہ پہنچ چکے تھے عید کا دن تھا اور دوسرے دن اخبار شائع نہیں ہونا تھا پھر بھی کراچی کے صحافی بہت کچھ معلوم کرنا چاہتے تھے۔ بیگم نصرت بھٹو رہنماؤں سے صورت حال پر تبادلہ خیال کررہی تھیں ۔ دوسرے دن صبح بیگم صاحبہ لاہور روانہ ہوگئیں جہاں پارٹی کے وکلاء سپریم کورٹ میں درخوست دائر کرنے کی تیاری کررہے تھے۔
19ستمبر کو اخبارات میں جناب بھٹو کی گرفتاری کی خبر کے ساتھ ضیاء الحق کا ایک انٹرویو شہ سرخی کے ساتھ شائع ہوا جو جنرل ضیاء نے ایرانی اخبار ’’ ڈیلی کہیان‘‘ کو دیا تھا اس انٹرویو نے جنرل ضیاء کے عزائم کو آشکار کردیا اس انٹرویو میں جناب بھٹو پر سخت تنقید کی گئی تھی جنرل ضیاء نے کہا:
’’ آئین کیا چیز ہے یہ دس بارہ صفحوں کا ایک کتابچہ ہی تو ہے میں جب چاہوں اسے پھاڑ کر پھینک سکتا ہوں اور کہہ سکتا ہوں کہ کل سے ہم ایک نئی طرز حکومت کو اپنائیں گے کیا مجھے ایسا کرنے سے کوئی روک سکتا ہے آج میں لوگوں کی جس طرف رہنمائی کروں گا لوگ اسی طرف چل پڑیں گے سارے سیاستدان میرے پیچھے دُم ہلاتے چلے آئیں گے۔‘‘
اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد مکمل صورت حال واضح ہوگئی تھی کہ امریکی سیکرٹری خارجہ ہنری کیسنجر کے تحریر کردہ اسکرپٹ پر کام شروع ہوچکا ہے۔
جناب بھٹو کی گرفتاری مارشل لا کے ضابطہ نمبر12کے تحت ہوئی تھی اور اسی دن مارشل لا ریگولیشن نمبر12کے تحت جناب ممتاز بھٹو، غوث بخش رئیسانی، عبدالحفیظ پیرزادہ، ہمایوں سیف اللہ، اقبال جدون، نصر اللہ خٹک، شیخ محمد رشید، ڈاکٹر غلام حسین ، خالد ملک، حیات محمد گھمن بھی گرفتار کرلیے گئے تھے۔20ستمبر کو بیگم نصرت بھٹو کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں جناب بھٹو اور دیگر 10رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب یعقوب علی خان تھے دو دن بعد جنرل ضیاء نے چیف جسٹس یعقوب علی کو ہٹاکر ان کی جگہ جسٹس انوار الحق کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کردیا اور انہوں نے اسی روز حلف بھی اٹھالیا ۔جنرل ضیاء کو خوف تھا کہ جسٹس یعقوب علی خان ، عاصمہ جیلانی کیس کی طرح نصرت بھٹو کیس میں بھی مارشل لاء کو غیر قانونی اقدام قرارنہ دے دیں جس کا اشارہ وہ جنرل ضیاء کو 5جولائی 1977 کو پہلی ملاقات میں دے چکے تھے ۔’’لندن ٹائمز‘‘ نے اپنی 24ستمبر کی اشاعت میں جنرل کے اسی خوف کو خبر کے طور پر شائع کردیا تھا:
جناب بھٹو جیل میں تھے پارٹی کے سرکردہ رہنما گرفتار کرلیے گئے اور کارکنوں کی بھی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں جاری تھیں۔فوجی عدالتوں سے سرسری سماعت کے بعد کارکنوں کو قید اور کوڑوں کی سزائیں دے کر خوف اور دہشت کا ماحول پیدا کیا جارہا تھا۔ انتخابی سرگرمیاں شروع ہوچکی تھیں یہ المناک صورت حال تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو انتخابات میں اپنی قیادت کی خدمات اور مستقبل کا پروگرام پیش کرنے کی بجائے قیادت اور کارکنوں کی رہائی کی بات کرنے پر مجبور کردیا گیا اور مزاحمت اور جدو جہد کی تحریک شروع ہوگئی جبکہ پی این اے مارشل لا کی سرپرستی میں انتخابی مہم چلارہی تھی۔
پیپلز پارٹی کی اندرونی صورت حال یہ تھی کہ پارٹی کی قیادت کے لیے ایک مضبوط گروپ جوڑ توڑ کررہا تھا مولانا کوثر نیازی کی قیادت میں کوشش تھی کہ جناب غلام مصطفی جتوئی کو پارٹی چیئرمین بنادیا جائے جیل سے جناب بھٹو کا پیغام اور ہدایت ملنے کے بعد انتہائی خوش اسلوبی سے سینٹرل کمیٹی نے ایک قرارداد کے ذریعے بیگم نصرت بھٹو کو پارٹی کا قائم مقام چیئرمین منتخب کرلیا اور بیگم نصرت بھٹو کی انتخابی مہم کے پروگرام جاری کردیے گئے ۔ پارٹی کے تمام ذمہ داروں کو ہدایت دے دی گئیں بیگم نصرت بھٹو نے 23ستمبر کو ناصر باغ لاہور میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ضیاء کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا اور کہا:’’ پیپلز پارٹے انتخاب اور انقلاب دونوں کے لیے تیار ہے‘‘۔ 26ستمبر کو ایک اور جلسۂ عام میں کہا:’’ اگر جناب بھٹو کو انتخاب میں حصّہ لینے سے روکا گیا تو انقلاب کا راستہ خود بخود نہیں چل سکے گا‘‘۔ بیگم نصرت بھٹو کے برے بڑے جلسوں اور جلوس سے جنرل ضیاء پریشان تھا دوسری طرف مس بے نظیر بھٹو نے بھی جلسوں اور دوروں کے ذریعے تحریک میں جان ڈال دی تھی ۔29ستمبر1977 کو اوکاڑہ کے بہت بڑے جلسۂ عام کے بعد مس بے نظیر بھٹو کو ساہیوال میں 4روز کے لیے ان کی قیام گاہ پر نظر بند کردیا گیا۔ یہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی نظر بندی تھی۔
یکم اکتوبر کو کراچی کے نشتر پارک میں بیگم نصرت بھٹو کا تاریخی جلسۂ عام تھا نشتر پارک کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ پارک کے چاروں اطراف سڑکوں پر سر ہی سر نظر آرہے تھے اور 5جنوری 1970کا جلسہ یاد آرہا تھا۔ اسٹیج بھی اسی مقام پر بنایا گیا اس جلسۂ عام سے کراچی کے محفوظ رہنماؤں

کے علاوہ مولانا اکرام الحق اور مولانا کوثر نیازی نے بھی خطاب کیا تھا بیگم نصرت بھٹو نے اپنی تقریر میں کہا کہ:
’’ یہ جنرل عوام کی طاقت سے خوف زدہ ہوگیا ہے آپ لوگوں نے اپنے قائد عوام سے جس بے مثال محبت کا مظاہرہ کیا ہے اس پر میں کراچی والوں کو بھٹو صاحب کی طرف سے سلام پیش کرتی ہوں اور آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں کراچی کے کارکنوں نے ظلم کا مقابلہ کرنے کی ابتدا کردی ہے ہم پوری قوت سے مقابلہ کریں گے ۔ عوام کا راستہ روکنے والے نہیں جانتے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں جو قید اور کوڑوں سے نہیں ڈرتے یہ محنت کشوں اور غریب عوام کی پارٹی ہے جس کے قائد ذوالفقار علی بھٹو ہیں جن کا راستہ تم نہیں روک سکتے وہ عوام کے دلوں میں بستے ہیں ان کی زندگی عوام کے لیے ہے اور بھٹو بہت جلد عوام کے درمیان ہوں گے۔‘‘
یہ جلسہ رات ساڑھے آٹھ بجے ختم ہوا اور راست دس بجے ریڈیو اور ٹی وی سے جنرل ضیاء نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کردیا اور اس طرح 18اکتوبر انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہوگئے۔ تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگادی گئی جنرل ضیا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’کئی سیاسی رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ پہلے احتساب پھر انتخاب عمل میں لائے جائیں۔‘‘یہ ساری صورتحال قطعی غیر متوقع نہیں تھی بیگم نصرت بھٹو اور مس بے نظیر بھٹو کی جس طرح عوام میں پذیرائی ہورہی تھی اس سے عوام میں جوش بڑھ رہا تھا۔ دونوں خواتین جس طرح جرأت ، بہادری اور برق رفتاری سے پارٹی کو لے کر آگے بڑھ رہی تھیں اس نے فوجی حکمرانوں کو ہلاکر رکھ دیا تھا اور خود پارٹی ’’ اعتدال پسند مصلحت پسند‘‘ گروپ جو یہ آس لگائے ہوئے تھا کہ بھٹو کے بعد قیادت ان کے پاس ہوگی وہ بھی پریشان تھے ان کے تصوّر میں بھی نہیں تھا کہ یہ دونوں خواتین اس طرح کا انقلابی کردار ادا کریں گی۔
انتخابات ملتوی ہونے کے اعلان کے بعد قانونی جنگ شروع ہوچکی تھی پنجاب میں کئی رہنما اسیر تھے مقدمہ قتل میں لاہور ہائی کورٹ نے جناب بھٹو کی ضمانت منسوخ کردی تھی اور سپریم کورٹ میں بیگم نصرت بھٹو کی آئینی درخواست کی سماعت بھی شروع ہوچکی تھی۔ جناب غلام علی میمن ، جناب یحییٰ بختیار، رشید اخوند، میر محمد شیخ، کمال اظفر اور دیگر وکلاء کی ٹیم بیک وقت سندھ ہائی کورٹ ، لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مقدمات کی پیروی کررہی تھی۔ کراچی سینٹرل جیل میں ممتاز علی بھٹو ، عبدالحفیظ پیرزادہ، سید قائم علی شاہ مارشل لا ریگولیشن 12کے تحت نظر بند تھے پارٹی کی دوسری لائین آف لیڈر شپ ملک بھر میں جناب بھٹو اور دیگر سیاسی اسیروں کی رہائی کے لیے سرگرم تھی۔
جناب بھٹو کے مقدمۂ قتل کی حقیقت کیا تھی؟
قصور کے قدیم حکمران اور انگریزوں کے مراعات یافتہ خاندان سے تعلق رکھنے والے نواب محمد احمد خان 1902میں قصور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد 1926میں اسکاٹ لینڈ اعلیٰ تعلیم کے لیے گئے 1929میں واپسی پر انگریز سرکار کے ملازم ہوگئے اور مختلف سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔1931میں مجسٹریٹ کے عہدے پر مقرر کیے گئے ان دنوں لاہور سینٹرل جیل میں حریت پسند رہنما بھگت سنگھ کا مقدمہ جیل کے اندر چل رہا تھا اور 23مارچ 1933کو مجسٹریٹ نواب محمد احمد خان نے بھگت سنگھ کو پھانسی دی اس کے بعد مجسٹریٹ نواب محمد خان حریت پسندوں کی ہٹ لسٹ پر تھا اور دو مرتبہ ان پر حملہ بھی کیا گیا جس کے بعد محمد احمد خان پس منظر میں چلا گیا ۔ قیام پاکستان کے بعد بھی وہ سرکاری عہدوں پر رہا اس کا بیٹا احمد رضا قصوری ابتداء ہی میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوگیا اور جناب بھٹو کی زبردست حمایت کرتا تھا۔1970 میں پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے لیے کامیاب ہوا اور جلد ہی اس نے جناب بھٹو سے بغاوت کی ۔ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتا رہا۔1972کے عبوری آئین پر اور 1973کے آئین پر دستخط نہ کیے چنانچہ پارلیمانی پارٹی نے ان کو پارٹی سے نکال دیا۔ جس کے بعد وہ اسمبلی میں جناب بھٹو کے خلاف تقریریں کرتا جس فورم پر اس کو موقع ملتا وہ جناب بھٹو کے خلاف غیر اخلاقی تقریریں کرتا ۔3جون 1974 کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران احمد رضا قصوری کے غیر شائستہ جملوں پر جناب بھٹو نے احمد رضا قصوری کو ڈانٹتے ہوئے کہا’’ تم خاموش ہوجاؤ تمہاری زہر آلود گفتگو ناقابل برداشت ہے‘‘۔ اور یہی جملہ استغاثہ نے مقدمۂ قتل میں بھٹو صاحب کے خلاف استعمال کیا۔
10نومبر کی شب احمد رضا قصوری اپنے والد والدہ اور ایک خالہ کے ہمراہ کار میں ایک شادی کی تقریب سے واپس آرہا تھا تو شادمان کالونی لاہور میں ان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں اس کے والد زخمی ہوئے جن کو زخمی حالت میں خود احمد رضا قصوری اسپتال لے گیا جہاں ان کا آپریشن کے دوران انتقال ہوگیا۔پولیس کو ابتدائی بیان میں احمد رضا قصوری نے درج کرایا کہ ’’حملہ آور مجھے قتل کرنا چاہتے تھے لیکن میرے والد قتل ہوگئے اور ذمہ دار ذوالفقار علی بھٹو ہیں‘‘ اس وقت کے ایس ایس پی سردار عبدالوکیل نے جو بعد میں ڈی آئی جی لاہور بھی ہوگئے تھے اپنے انتقال سے قبل جبکہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد پیر پگارا لیگ میں شامل ہوچکے تھے مشہور صحافی زبیر رانا کو ایک انٹریو میں بتایا کہ :
’’وقوعہ کے روز جناب بھٹو ملتان میں تھے میں نے وزیر اعظم کو فون کرکے بتایا کہ احمد رضا قصوری آپ کے خلاف ایف آئی آر میں نام درج کرانا چاہتے ہیں تو وزیر اعظم بھٹو نے جواب دیا کہ آپ مقدمہ درج کرلیں بعد میں جناب بھٹو نے جسٹس شفیع الرحمن کی سربراہی میں ایک ٹریبونل قائم کیا جس نے جناب بھٹو کو اس واقعہ کا ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ اس مقدمے کی رپورٹ میں ‘‘نامعلوم افراد‘‘ جن میں ان انقلابی افراد کو جنہوں نے 23مارچ 1974کو ایک جلسے میں مجسٹریٹ نواب محمد احمد کو حریت پسند بھگت سنگھ کو پھانسی دینے والے مجسٹریٹ کی حیثیت سے بھگت سنگھ کا قاتل قرار دیا تھا اور اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ نواب محمد احمد خان کے جائیداد اور زمینوں کے کئی مقدمات ہیں ان کی جاری دشمنیوں کی تحقیقات کی جائے۔‘‘
اکتوبر 1975میں اس مقدمے کو’’ عدم سراغ یابی‘‘ قرار دے کر داخل دفتر کردیا گیا۔ اس کے بعد احمد رضا قصوری نے پارٹی میں دوبارہ شمولیت کے لیے معافی نامہ تحریر کیا ہر ذریعے سے جناب بھٹو سے ملاقات کے لیے کوششیں کیں اور بالآخر وہ بیگم بھٹو سے ملنے میں کامیاب ہوا اور بیگم بھٹو کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگی اور 6اپریل 1976میں پارٹی میں دوبارہ شامل ہوگیا جس کا اعلان انہوں نے خود اپنی رہائش گاہ پر اجتماع کرکے کیا۔ اب اس نے 1977کے انتخابات میں پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے لابی شروع کردی لیکن جناب بھٹو نے ان کو پارٹی ٹکٹ نہیں دیا جبکہ احمد رضا قصوری کے سگے خالو جمیل الدین عالی کو کراچی سے قومی اسمبلی کا امیدوار نامزد کردیا۔
ٹکٹ نہ ملنے پر احمد رضا قصوری مشتعل ہوگیا۔ جناب جمیل الدین عالی کی انتخابی مہم میں، میں خود سرگرم تھا کیونکہ یہ ہمارا حلقہ تھا اور جناب جمیل الدین عالی نہ صرف دانشور شاعر ادیب بلکہ کراچی شہر کی گونجتی آواز تھے ۔ عالی جی کی انتخابی مہم میں 7مارچ 1977کو انتخابات والے دن راقم الحروف خود پی این اے کی غنڈہ گردی کا شکار ہوا اور جناب واجد شمس الحسن اور جناب محمود شام نے مجھے زخمی حالت میں اسپتال روانہ کیا جی ہاں جمیل الدین عالی مقتول نواب احمد خان کے ہم زلف تھے اور یہ انہی کا بیان تھا کہ ’’نواب محمد احمد کے قتل میں حریت پسند بھگت سنگھ سے عقیدت رکھنے والے ملوث ہوسکتے ہیں یا وہ لوگ ملوث ہوسکتے ہیں جن سے نواب صاحب کی زمینوں کے سلسلے میں شدید نوعیت کے تنازعات چل رہے تھے ذوالفقار علی بھٹو ہر گز ذمہ دار نہیں تھے‘‘ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ بیگم نصرت بھٹو نے جناب جمیل الدین عالی اور ان کی اہلیہ کو نواب محمد احمد کی بیوہ کے پاس بھیجا تھا اور احمد رضا قصوری کی والدہ نے کہا’’جنرل ضیا ہمارے سر پر بندوق رکھ کر یہ مقدمہ چلارہا ہے‘‘ یہ حقائق ہیں اور اسی لیے آج بھٹو کے بد ترین مخالف بھی اور ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ ’’بھٹو کا عدالتی قتل ہوا‘‘۔
اس مقدمہ کا عنوان سرکار بنام ذوالفقار علی بھٹو تھا جس کی سماعت 11اکتوبر1977 کو لاہور ہائی کورٹ میں شروع ہوئی۔ (اس مقدمے کے اہم نکات ، عدالتی کارروائی کے دوران کے اہم واقعات، اہم دستاویزوں کو جگہ کی قلت کی وجہ سے ان صفحات کی بجائے مجوزہ کتاب میں شامل کیا جارہا ہے )وقت تیزی سے گزر رہا تھا ملک بھر میں جناب بھٹو کی رہائی کے لیے تحریک جاری تھی سرکاری میڈیا سے پیپلز پارٹی اور جناب بھٹو کی

کردار کشی کی جارہی تھی ریڈیو پاکستان کے ہر نیوز بلیٹن کا 70فیصد جناب بھٹو کے خلاف زہر پر مشتمل ہوتا اور غیر سرکاری اخبارات سرکار کے دباؤ اور اپنی مخاصمت پر صفحے سیاہ کررہے تھے۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان اور رسائل پر فوجی حکمرانوں کے حملے شروع ہوگئے’’روزنامہ مساوات‘‘ ، ہلال پاکستان، ہفت روزہ ’نصرت‘ پر بندش کا آغاز ہوگیا۔ مختلف اخبارات کے ترقی پسند صحافیوں کی برطرفیاں جاری تھیں۔ پی ایف یو جے کے قائد جناب منہاج برنا کی قیادت میں صحافیوں نے آزادی صحافت محنت کشوں کے حقوق، بے روزگار کیے جانے والے صحافیوں اور بند کیے گئے اخبارات اور رسائل کے لیے ایک منظّم تحریک کا آغاز کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل مجیب الرحمن فوجی حکومت کے سیکرٹری اطلاعات تھے جو انتقامی رویہ اپنائے ہوئے تھے اگست میں جناب محمود شام کی گرفتاری، ستمبر میں جناب منہاج برنا کی برطرفی ، ستمبر میں ہی روزنامہ ’مساوات‘ ، ہفت روزہ ’معیار‘ اور ’الفتح‘ کی بندش سے مشکلات پیدا ہورہی تھیں۔ اکتوبر میں جناب ابراہیم جلیس جو ان دنوں مساوات کراچی کے ایڈیٹر تھے اور اخبار کی بندش ، فوجی حکومت کی دھمکیوں اور کارکنوں کے مصائب پر انتہائی دل گرفتہ اور ذہنی دباؤ میں تھے 26اکتوبر1977کو ’مساوات‘ کے دفتر میں موجود تھے کہ ان کو عارضہ قلب کی شدید شکایت ہوئی اور وہ بے ہوش ہوگئے ان کو فوری اسپتال لے جایا گیا جہاں معلوم ہوا کہ وہ دماغ کی شریان پھٹنے سے انتقال کرگئے ہیں پورے شہر میں صف ماتم بچھ گئی ۔
اس صورت حال میں جناب منہاج برنا کی قیادت میں 3ستمبر1977 کو صحافیوں کی اس تحریک کا آغاز ہوا جس نے عظیم الشان تاریخی تحریک کا مرتبہ حاصل کرلیا ابتدا میں یہ تحریک کراچی سے شروع ہوئی لیکن چند روز میں ہی یہ تحریک ملک بھر میں پھیل گئی جس میں ملک بھر کے ترقی پسند صحافیوں نے شرکت کی صحافیوں کی اس تحریک نے جنرل ضیا کی حکومت کو ہلاکر رکھ دیا اور اس تحریک نے پیپلز پارٹی قیادت اور کارکنوں کو بڑا حوصلہ دیا۔ بھوک ہڑتال اور رضاکارانہ گرفتاریوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا صحافی گرفتار ہوتے جیل جاتے کوڑوں کی سزائیں قبول کرتے مگر حوصلہ نہیں ہارتے۔
دسمبر1977 سے اکتوبر1978تک چلنے والی اس تحریک کی مکمل تاریخ سینئر صحافی اور شاعر احفاظ الرحمن صاحب نے کتاب ’’آزادی صحافت کی سب سے بڑی جنگ‘‘ کے نام سے مرتب کی 600صفحات کی اس کتاب میں 330دنوں کی لمحہ بہ لمحہ جدو جہد کی کہانی 400سے زیادہ گرفتار کیے جانے والے صحافیوں ، کوڑوں کی سزا پانے والے بہادر صحافیوں ، بند کیے جانے والے اخبارات و رسائل کی تفصیل ، پاکستان میں صحافت کی تاریخ اور اہم ترین چونکا دنے والے تاریخی واقعات ، خاتون صحافیوں کی دلیرانہ جدو جہد، ہاریوں کی قربانیوں اور جیل میں اسیر قیدیوں کے واقعات شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی قیادت کی تیسری نسل اور تیسری نسل کے ہر سیاسی کارکن کو اس تاریخی کتاب کا مطالعہ کرنا چاہئے۔آج کے سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کا المیہ یہ ہے کہ وہ ’’فیس بک‘‘ اور’’ واٹس ایپ‘‘ کے سحر میں گرفتار ہوکر علمی فکری اور تاریخی کی کتابوں کے مطالعے سے دور ہوگئے ہیں ان کا علم محدود ہوتا جارہا ہے۔ ملک اور پارٹی کی بہتر خدمات کرسکیں گے آج میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ 1977 میں 28اپریل کو جناب بھٹو نے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران اس امریکی اہلکار کی اس گفتگو کا حوالہ دیا تھا جو آقا کو کہہ رہا تھا کہ پارٹی از اوورParty is Over , Party is Over اس کے دو دن بعد جناب بھٹو نے ایک جرمن صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے پارٹی سے متعلق کہا تھا تم کو معلوم ہے میری پارٹی پی پی پی کیا ہے؟
First of All PAKISTAN
Then PEOPLES OF PAKISTAN
Then PARTY
میری پارٹی کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔
یہی جملے محترمہ بے نظیر بھٹو نے 16مارچ 1994کو نیشنل ڈیفنس کالج راولپنڈی میں اسی طرح دہرائے اور 16ستمبر1999کو کراچی میں یوم دفاع کے موقع پر جنرل (ر) معین الدین حیدر سمیت جناب عبدالستار افغانی جناب محمود شام و دیگر کو اعتراف خدمت گولڈ ایوارڈ کی تقریب میں اقبال یوسف نے یاد دلائے تھے جس کو آج پرویز مشرف سمیت کئی لیڈروں نے اپنالیا ہے ۔ یہ سوچ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کی سوچ تھی یہ عوام کی سوچ ہے۔
10اکتوبر1977 کو سپریم کورٹ نے بیگم نصرت بھٹو کی آئینی درخواست پر ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت مارشل لا کو جائز قرار دے دیا ۔ ادھر لاہورہائی کورٹ میں جناب بھٹو کے مقدمات جاری تھے دسمبر 1977 کے آخری ہفتے میں بیگم نصرت بھٹو کی زیر صدارت سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جناب بھٹو کی سال گرہ 5جنوری کا دن ’’یوم جمہوریت‘‘ کے طور پر منایا جائے گا ملک بھر میں کارکنان اپنے اضلاع میں ریلیاں نکالیں گے اور ضرورت پڑی تو رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں بھی دیں گے۔ پارٹی کارکنوں میں جوش و جذبے کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اب ’’پارٹی لائین‘‘ آگئی تھی دوسری طرف فوجی انتظامیہ نے گرفتاریوں کا سلسلہ بھی تیز کردیا تھا میاں رضا ربّانی ، علاؤ الدین عباسی، ایس ایم عمر، صلاح الدین طوفانی ، ڈاکٹر امیر احمد، شعلہ آسوانی، اختر میمن، غلام محمد، چیئرمین راشد ربّانی، شفیع جاموٹ ، شیر محمد بلوچ، خلیل قریشی اور کئی رہنما کارکن مارشل لا ریگولیشن 12کے تحت نظر بند تھے یا فوجی عدالتوں سے سزا پاگئے تھے۔ مارشل لا 12کیا تھا؟ اس ضابطے میں کہا گیا تھا کہ ’’ جس شخص کے بارے میں مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی رائے ہو کہ اس کی سرگرمیاں مارشل لا کے مقاصد کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہیں اس کو حراست میں لے کر 90دن کے لیے نظر بند کیا جاسکتا ہے اور یہ مدت بڑھائی جاسکتی ہے‘‘ اسی آرڈر کے تحت بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو نظر بند کردیا گیا تھا۔
بیگم نصرت بھٹو کے یوم جمہوریت منانے کے فیصلے کے بعد پارٹی کے کئی بڑے رہنما فرار کا راستہ تلاش کررہے تھے مگر کارکنوں کی سطح پر یوم جمہوریت کی تیاریاں شروع کردی گئیں وقت بہت کم تھا 28دسمبر 1977 سے 5جنوری تک پارٹی تنظیموں کے اجلاس منعقد کرنا پمفلٹ تیار کرنا اور ان کی تقسیم کہ جس کی چھپائی اور تقسیم پر بھی مارش لا کے تحت گرفتاری اور سزا ہوتی تھی سرگرم اور زیر زمین کارکنوں کو کام کرنے کی ہدایت اور ان تک پیغام رسانی کی حکمت عملی اسیر کارکنوں کو حوصلہ دینے کے لیے ان کے گھروں کا دورہ اسیر کارکنوں کو جیل میں ضرریات زندگی کے سامان کی فراہمی، یہ سب کام پارٹی کی ضلعی وارڈ کی تنظیمیں کررہی تھیں۔’’ڈویژنل قیادت غیر فعال تھی‘‘ ان حالات میں سابق وزیر اطلاعات طاہر محمد خان کو بیگم نصرت بھٹو نے خصوصی طور پر کراچی میں محنت کشوں ، صحافیوں اور کارکنوں سے رابطے کے لیے کراچی میں ٹاسک دیا۔ کراچی سرگرم کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نظر بند تھی اس تمام صورتحال کے باوجود ’’جمہوریت پسندوں‘‘ نے ’’ مصلحت پسندوں‘‘ کا راستہ روک دیا ۔ ان دنوں کراچی کے صدر کمال اظفر تھے کراچی کے جنرل سیکرٹری حاجی قاسم عباس پٹیل مرحوم تھے اور مرحوم جمیل الرحمن عرشی جوائنٹ سیکرٹری تھے ۔ سندھ کے صدر غلام مصطفی جتوئی تھے بیگم نصرت بھٹو کی ہدایت کے مطابق تمام عہدیداروں کو اپنے علاقوں سے احتجاجی ریلیاں نکالنی تھیں اور ضرورت پڑنے پر گرفتاریاں بھی دینی تھیں۔ اندرونِ سندھ بھی کارکنوں نے اپنے طور پر کام کرنا شروع کردیا تھاچنانچہ کراچی میں مولانا احترام الحق کو میمن مسجد سے دوپہر 2بجے ریلی کی قیادت کرنی تھی مولانا احترام الحق تھانوی کو 3جنوری کو نارتھ ناظم آباد میں جناب شوکت صدیقی مرحوم کی رہائش گاہ پر ’’محفوظ‘‘ کردیا گیا تھا اسی طرح کئی سرگرم افراد کو بھی محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کردی گئی تھی۔4جنوری 1978کی شام تمام اخبارات کو پانچ جنوری کے پروگرام کی پریس ریلیز جاری کردی گئی ۔ یہ تاریخی پریس ریلیز تھی جس میں کراچی کے ہر علاقے سے قائدین کے نام کے ساتھ ریلیاں نکالنے کا پروگرام تھا 4جنوری رات 2بجے حاجی قاسم عباس پٹیل، عبداللہ بلوچ اور کراچی کے چند ’مصلحت پسندوں‘ نے کشمیر روڈپر

اسپورٹس کمپلیکس میں قائم سب مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے دفتر میں ملاقات کرکے اس پریس ریلیز سے لا تعلقی کااظہار کردیا۔ جناب کمال اظفر اسی شب لاہور روانہ ہوگئے ۔ جناب غلام مصطفی جتوئی صبح 4بجے نواب شاہ روانہ ہوگئے اور بیشتر ’’مصلحت پسند‘‘ گرفتاری سے بچنے کیلے مقامی انتظامیہ کو لاتعلقی کا پروانہ دیکر راستہ چھوڑ گئے۔ 5جنوری کو مولانا احترام الحق تھانوی بڑی جرأت اور بہادری کے ساتھ میمن مسجد بولٹن مارکیٹ اختر چاؤلہ کے ساتھ ہنڈا ففٹی50CC پر مسجد پہنچ گئے ۔ نماز ظہر ادا کی اور جب کارکنوں کے ساتھ نعروں کی گونج میں مسجد سے باہر آئے تو جو کچھ پولیس نے ان کے ساتھ کیا سو کیا لیکن مولانا احترام الحق تھانوی اس دن پاکستان کے بہادر ترین سیاستدان بن گئے ان کی گرفتاری پر بی بی سی نے 10منٹ کا پروگرام نشر کیا۔ ملک کے طول و عرض میں اس دن پانچ ہزار سے زائد افراد نے گرفتاریاں دیں 5جنوری کے یوم جمہوریت نے آمریت کے چہرے سے ’’غیر جانبداری‘ کا نقاب نوچ کر جنرل ضیا کے مکروہ عزائم کو بے نقاب کردیا۔ بیگم نصرت بھٹو کے جرأت مندانہ فیصلے نے شہید بھٹو کے یوم ولادت کو یوم جمہوریت کا نام دیکر تاریخ میں 5جنوری کو امر کردیا۔ ’مصلحت پسندوں‘ اور جمہوریت پسندوں کے درمیان فاصلہ کردیا اگر 5جنوری کو یوم جمہوریت نہ منایا جاتا تو مصلحت پسندوں نے فیصلہ کچھ ’’اور‘‘ ہی کرلیا تھا۔
بیگم نصرت بھٹو جو 28دسمبر 1977سے نظر بند تھیں کو 14جنوری کو رہا کردیا گیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی نظر بندی بھی ختم کردی گئی۔ یہ دونوں بہادر خواتین دوسرے دن کراچی آئیں اور کارکنوں سے رابطے اور پارٹی کے اجلاس منعقد کرنے شروع کردیے تو 19جنوری کو بیگم صاحبہ کو پھر دس دن کے لیے نظر بند کردیا گیا اور مس بے نظیر بھٹو کو کراچی بدر کردیا گیا۔29جنوری کو بیگم نصرت بھٹو کی نظر بندی ختم کردی اور بے نظیر بھٹو کا شہر بدری کا حکم واپس لے لیا گیا۔ بیگم نصرت بھٹو نے 3فروری کو سینٹرل کمیٹی اجلاس کراچی میں طلب کرلیا۔ 3فروری کی صبح مجھے 70کلفٹن سے علی اصغر جتوئی کا فون آیا کہ آپ 3بجے 70کلفٹن آجائیں میں 3بجے 70کلفٹن پہنچا تو دوست محمد نے بتایا کہ سینٹرل کمیٹی میں اجلاس کے لیے جناب معراج خالد اور احسان الحق کو ہوٹل میٹرو پول سے لانا ہے آپ 70کلفٹن کے پچھلے گیٹ سے گاڑی لے جائیں اور ان کو واپس 71کلفٹن کے گیٹ سے اندر لائیے گا میں ڈرائیور کے ساتھ حسب ہدایت میٹرو پول ہوٹل پہنچ گیا ان دنوں میٹروپول ہوٹل فعال تھا اور معراج خالد صاحب جب کراچی آتے یہیں قیام کرتے تھے ۔ ہوٹل کی لابی میں دونوں حضرات موجود تھے ان دونوں کے ہمراہ میں واپس 71کلفٹن سے گاڑی کو اندر لے گیا۔ ساڑھے چار بجے سینٹرل کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا تو باہر آگیا۔ 71کلفٹن کے گیٹ سے باہر نکل ہی رہا تھا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس 2افراد نے مجھے دبوچ لیا اور پیدل ہی کلفٹن تھانے لے گئے جہاں لاک اپ کردیا گیا اور دوسرے دن صبح ملٹری کورٹ نمبر3میں پیش کردیا گیا اور چارج شیٹ دی گئی کہ
’’تم 70کلفٹن کے سامنے جئے بھٹو، بھٹو زندہ باد کے نعرے لگارہے تھے‘‘
ایک سطر کی چارج شیٹ کوئی گواہ کوئی سوال کوئی جواب نہیں اور 9ماہ قید کی سزا سنادی گئی اسی روز شام کو سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا یہ میری پہلی گرفتاری تھی جو 70کلفٹن کے گیٹ سے ہوئی تھی۔ سینٹرل جیل میں پہلے سے متعدد کارکن ساتھی موجود مولانا احترام الحق تھانوی ۔عبدالحفیظ پیرزادہ، ممتاز علی بھٹو، رضا ربّانی ، علاؤ الدین عباسی اور بے شُمار ساتھی موجود تھے۔8فروری کو حیات محمد شیرپاؤ کا یوم شہادت تھا۔ اسیران جمہوریت ایک بیرک میں جمع ہوئے اور وہاں ایک جلسہ ہوا جس کی کارروائی کی رپورٹ اخبارات کو بھجوادی گئی دوسرے دن اخبارات میں خاص طور پر مساوات میں ناصر بیگ چغتائی نے 3کالمی خبر ’’جیل میں یوم شہادت حیات محمد شیرپاؤ‘‘ کی سرخی کے ساتھ تمام تصویریں چھاپ دیں یہ خبر جیل حکام لے لیے عذاب بن گئی ۔ 10 فروری کو جیل سے سیاسی قیدیوں کا تبادلہ شروع ہوا نسیم عثمانی کو خیرپور مجھے اور لیاقت کاظمی کو حیدر آباد سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا جہاں ہمیں خطرناک سیاسی قیدی کہہ کر علیحدہ ویران وارڈ میں رکھا گیا مگر ہمارے وارڈ کے بالکل برابر اسپیشل وارڈ تھا جہاں پہلے حیدر آباد سازش کیس کے تمام بڑے ملزمان قید تھے جن کو جنرل ضیا نے ایک ماہ قبل رہا کردیا تھا اب اس اسپیشل وارڈ میں مخدوم رفیق الزماں ، سینیٹر عبدالطیف انصاری ، علی نواز شاہ، الٰہی بخش قائم خانی ، عثمان کینڈی، حاجی ظفر لغاری، میر اعجاز علی تالپور، عبدالسلام تھیم، غلام رسول انڑ، سید قمر الزماں شاہ، عبدالستار بچانی ، پیر سعید جان سر ہندی، عبدالخالق سومرو، عبدالمجید خانزادہ، مارشل لا کے مختلف ضابطوں کے تحت اسیر تھے۔ ہم قید میں تھے باہر کی کوئی خبر نہیں مل رہی تھی۔ اخبارات بھی دوسرے دن سنسر کرکے دیے جاتے ۔ پڑوس کے اسپیشل وارڈ سے پھل اور بسکٹ آتے تھے ۔ 18مارچ 1978کی دوپہر حیدر آباد سینٹرل جیل نعروں سے گونجنے لگی یعنی جیل گرم ہوگئی۔ جیل کے سپاہی چھتوں پر بندوقیں تان کر چڑھ گئے نعرے بڑھتے ہی گئے کہ ایک سپاہی نے آکر بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا سنادی ہے یہ خبر سن کر غم اور غصّے کے ساتھ ہم بھی نعرے لگانے لگے اور برابر کے اسپیشل وارڈ والوں سے رابطے کے لیے درخت پر چڑھ گئے۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ جیل میں درخت پر چڑھنا بھی ایک جرم ہے تھوڑی دیر میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد نواز پولیس کے ایک جھتے کے ساتھ آئے اور ہمیں بند وارڈ کردیا ۔ تین دن بعد اس سزا سے نجات ملی وقت تیزی سے گزر رہا تھا ۔ جناب بھٹو نے سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی تھی۔ مارشل لا حکومت نے جناب بھٹو کی کردار کشی کے لیے اخبارات ریڈیو اور ٹیلی وژں پر مہم شروع کردی تھی ۔ سپریم کورٹ نے جناب بھٹو کی اپیل کی سماعت کے لیے 9ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دیا ۔ ایک جج جسٹس قیصر علی 30جولائی کو ریٹائر ہوگئے۔ جبکہ جسٹس وحید الدین 20نومبر کو علیل ہوگئے اور بینچ سمٹ کر 7ججوں پر مشتمل رہ گیا۔جسٹس وحید الدین بھی دباؤ کے نتیجے میں دماغی فالج کی وجہ سے انتقال کرگئے۔
جنرل ضیا کی حکومت نے عین اس وقت جبکہ سپریم کورٹ جناب بھٹو کے کیس کی سماعت کررہی تھی پی پی پی حکومت کے خلاف 1500صفحے کا پہلا قرطاس ابیض (white Paper)شائع کیا اور جناب بھٹوپر ہر قسم کا الزام عائد کردیا یہ کردار کشی سپریم کورٹ میں بھٹو کے مقدمے کو متاثر کرنے اور عوام میں جناب بھٹو کے لیے پائی جانے والی محبت اور ہمدردی کو کم کرنے کی ناکام کوشش تھی۔ مارشل لا حکومت نے اس طرح کے پانچ قرطاس ابیض شائع کیے لیکن اس کو سرکاری پروپیگنڈہ ہی تصوّر کیا گیا اور اس کا کوئی اثر عوام پر نہیں ہوا۔ 5جولائی کو مارشل لا کا ایک سال مکمل ہوا تو جنرل ضیا نے اس روز 22رکنی وفاقی وزرا سے حلف لیا۔ ان میںآج کے باغی جاوید ہاشمی، خواجہ آصف کے والد خواجہ صفدر بھی شامل تھے۔ 15ستمبر1978کو صدر فضل الٰہی کی مدت پوری ہونے پر ضیاء الحق نے صدر پاکستان کا عہدہ بھی سنبھال لیا۔ جناب بھٹو کی سپریم کورٹ میں کارروائی جاری تھی اور جناب بھٹو کی رہائی کے لیے تحریک بھی۔ 15ستمبر کو ہی پیپلز ایکشن کمیٹی نے عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا آغاز کیا اور روزانہ مختلف جگہوں سے کارکنوں نے گرفتاریاں دینی شروع کیں اور مارشل لا عدالتوں نے ایک سال 12کوڑے کی سزائیں ۔ یکم اکتوبر کو راولپنڈی کمیٹی چوک میں راشد ناگی اور وحید قریشی نامی دو کارکنوں نے جناب بھٹو کی رہائی کے لیے اپنے جسموں پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگالی کسی لیڈر کے لیے اس طرح خود سوزی کا پہلا واقعہ تھا پھر چند دنوں بعد یعقوب کھوکھر ، عزیز ملک اور عبدالرشید نامی کارکنوں نے یہی عمل دہرایا ۔ جناب بھٹو کے لیے جان سے گزر جانے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ بھکر کے رزاق جھرنا، ایاز سموں اور ادریس طوطی ، ناصر بلوچ ، لاہور کے عثمان غنی ، ادریس بیگ، گجرانوالہ کے وحید بخاری ۔۔۔ کس کس کا نام لیا جائے سینکڑوں لوگوں نے اپنی زندگیاں صرف بھٹو کے لیے ہار دیں ۔ ہزاروں جلا وطن ہوئے صرف اور صرف ذوالفقار علی بھٹو کے لیے کہ وہ ہماری صدی کا سقراط تھا۔
جناب بھٹو کے سپریم کورٹ میں بیان ، جیل سے تحریر کی گئی تاریخی دستاویز اور دوران سماعت کے اہم واقعات کو پی پی پی کے پچاس سال پر مشتمل کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔23دسمبر1978کو سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ہوئی اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔14جنوری 1979 کو ممتاز بھٹو اور عبدالحفیظ پیر زادہ کو رہا کردیا گیا۔عبدالحفیظ پیرزادہ رہائی کے بعد راولپنڈی پہنچ گئے اور جیل میں جناب بھٹو سے ملاقات کی ۔5فروری کو بیگم نصرت بھٹو ، مس بے نظیر بھٹو ، راؤ عبدالرشید سمیت ملک بھر میں گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ملک بھر کے تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیے گئے اور 6فروری 1979 کو عدالتِ عظمیٰ نے مقدمۂ قتل میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف جناب بھٹو کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت کی توثیق کردی۔ فیصلہ چیف جسٹس انوار الحق نے پڑھا ،جسٹس کرم الٰہی چوہان، جسٹس اکرم اور جسٹس نسیم حسن شاہ نے اتفاق کیا جبکہ جسٹس صفدر شاہ ، جسٹس دراب پٹیل اور جسٹس محمد حلیم نے سزائے موت کے خلاف نوٹ لکھے۔ (جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

6 + 11 =