وزیر اعظم کینیڈا کی آپ بیتی

وزیر اعظم کینیڈا کی آپ بیتی

وزیر اعظم کینیڈا۔ جواں سال بھی ہیں۔ جواں عزم بھی۔ اور انہوں نے اپنے دَور حکومت میں بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کا روڈ میپ واضح تھا۔ وہ سب کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ حکومت اپنے خاندان تک محدود نہیں کررہے ہیں۔ نہ دوستوں کو پالتے ہیں۔ ان کی کتاب آپ بیتیCommon Grounds (مشترکہ بنیاد) اب اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔’اطراف‘ کے قارئین اس سلسلے کو بہت پسند کررہے ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جن سیاسی رہنماؤں کو اس روداد سے مسائل حل کرنے اور قوم کی قیادت کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ وہ اس کے مطالعے کے لیے وقت نہیں نکالتے۔ مطالعے کی عادت ختم ہوچکی ہے۔قوم کی مشکلات دور کرنے میں حکمرانوں کی ناکامی کی وجہ یہی ہے کہ وہ نہ اپنی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں نہ کامیاب قوموں کی۔ آپ اپنی رائے دیجئے۔

میں یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ سیاست کی حقیقی جنگ کے مقابلے میں باکسنگ کے اس مقابلے کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔سیاسی جماعتیں کھلاڑیوں کی کسی ٹیم کی طرح ہوتی ہیں۔وہ یکساں سوچ رکھنے والے مسابقتی رہنماؤں پر مشتمل ہوتی ہیں اور انہیں بھی اپنے جذبوں کو زندہ اور تابندہ رکھنے کے لیے مسلسل فتوحات کی ضرورت ہوتی ہے خواہ ماضی میں انہیں شکستوں کا سامنا رہا ہو۔یہ باکسنگ میچ کنزرویٹوز پر لبرلز کی ایک ایسی فتح تھا جس نے کارکنوں اور رہنماؤں میں نئی روح پھونک دی۔اس ڈرامائی میچ کے نتائج سے بہت سے لوگوں نے یہ اخذ کرلیا کہ لبرلز راکھ کا ڈھیر نہیں ہیں اور یہ عفریت انگڑائی لے کر بیدار ہورہا ہے۔ کچھ قومی اخبارات نے تو یہ بھی لکھ دیا کہ یہ غیر سرکاری طور پر ٹروڈیو کی یعنی میری لبرلز کی قیادت کی مہم شروع ہونے کی علامت ہے۔سچ یہ ہے کہ میں اس وقت بھی یہ فیصلہ کرنے سے کوسوں دور تھا کہ مجھے لبرلز کی قیادت سنبھالنی چاہیئے۔لبرل پارٹی کے کامیاب پالیسی کنونشن کے بعد این ڈی پی کا اجلاس ٹورنٹو میں ہوا تاکہ وہ خود اپنی پارٹی کی سمت کا تعین کرسکے۔ان کے سامنے جیک لیٹن کے جانشین کے انتخاب کا سخت مرحلہ تھا۔لیٹن کی موت اس

وقت واقع ہوئی جب اس نے پارٹی کی تاریخ کے کامیاب ترین انتخابی نتائج دیئے۔این ڈی پی کو ایک ایسے شخص کا چناو کرنا تھا جو کنیڈا کا آئندہ وزیراعظم بھی بن سکے۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ خیال بھی بعض حلقوں میں زیر بحث تھا کہ لبرل پارٹی کو این ڈی پی میں ضم کردیا جائے۔ حد یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کے سابق لیڈرز یہ بات کھل کر پریس کے سامنے زیر بحث لا رہے تھے۔مجھے اس بارے میں شبہات تھے تاہم ا سکی وجوہ پر میں بعد میں تفصیل سے بات کروں گا۔ میں اپنے ذہن کو کھلا رکھنا چاہتا تھا۔این ڈی پی کے کچھ لیڈروں نے اس تجویز کا گرم جوشی سے خیرمقدم کیا جن میں ناتھن کولن سر فہرست تھا۔اس نے لبرل پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد کی حمایت میں مہم چلائی۔میں ناتھن کو پسند کرتا تھااور اس کا احترام کرتا تھا اور یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کی مہم کہاں تک جاتی ہے۔میرے بہت سے دوستوں نے این ڈی پی کو ماضی میں ووٹ دئے تھے۔میں پارٹی کی تاریخ کا احترام کرتا تھا اور پارٹی نے ماضی میں کنیڈین شہریوں کے لیے جو خدمات انجام دی تھیں ان کا تذکرہ کرتا تھا۔نیو ڈیموکریٹس کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کیا وہ اپنی جڑوں کے وفادار رہیں گے یا آئندہ حکومت بنانے کی خاطر خود کو تبدیل کریں گے۔دوسرے الفاظ میں انہیں فیصلہ کرنا تھا کہ کیا وہ اقتدار تک رسائی کے لیے اپنے نظریات ترک کرنے کو تیار ہیں۔چنانچہ وہ ایسے لیڈر کی تلاش میں نظر آتے تھے جو اسٹیفن ہارپر کے سامنے بلند قامت کا دکھائی دے۔چنانچہ مسٹر ہارپر اور کنزرویٹوز کی مخالفت کے جنون میں انہوں نے بہت سے بڑے غلط کام کیے۔مثال کے طور پر کنیڈا کی خوش حالی کا انحصار معدنی وسائل کو ترقی دینے اور انہیں عالمی مارکیٹ میں لانے کی اہلیت پر ہے۔ہر وزیراعظم اس سے اتفاق کرتا ہے۔آج اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کام اس طرح کیا جائے کہ ماحول کو برباد کیے بغیر وسائل کو ترقی دی جائے۔لیکن ا سکے معنی یہ نہیں کہ مغربی کنیڈا کے قدرتی وسائل کی دولت کے حصول پر اس طرح زور دیا جائے کہ یہ باقی ماندہ معیشت کو لے کر بیٹھ جائے۔لبرل پارٹی نے یہ سبق میرے والد کی قیادت کے زمانے میں سیکھا۔مغربی وسائل کی دولت سے مشرقی ووٹ حاصل کرنا ایک خاص حکمت عملی تھی جو تمام کنیڈین شہریوں کو غریب بنا دیتی۔اس کے ساتھ ہی میں اپنے صوبے کوئبک میں این ڈی پی کا ساورنٹسٹس کے ساتھ پینگیں بڑھانا پسند نہیں کرتا تھا۔یہ حکمت عملی کنزوریٹوز کے وزیراعظم ملرونی کی پارٹی کے ساتھ کینہ پروری اور تقسیم کا سبب بنی۔ کنیڈین آئین کھلونا نہیں اور نہ کلیرٹی ایکٹ ہے۔اس میں وضاحت کردی گئی ہے کہ آپ کو ملک کی تعمیر پر قطعی اتفاق ہونا چاہیئے۔دوسرے حصے میں وہ شرائط بیان کی گئی ہیں (ان کی تعین اور وضاحت سپریم کورٹ آف کنیڈا کے ایک فیصلے میں کی گئی ہے) جن کی بنیاد پر ہی اس کو تحلیل کیا جاسکے۔یہ بہت ہی اہم امور ہیں۔ این ڈی پی کی جانب سے ایک جانب آئین کو کھولنے اور دوسری جانب کلیرٹی ایکٹ کو منسوخ کرنے سے انکار بے حد خطرناک تھا۔یہ اس قسم کے وعدے تھے جو سیاست دان صرف اس وقت کرتے ہیں جب وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اس پر عمل در آمد کراسکیں گے۔
سیاست میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ اگر آپ کوئی حکومت تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو چناؤ کا آپشن رکھتے ہیں محض صدائے باز گشت پر زور نہیں دیتے۔ میں خاموشی سے ان کے کنونشن کی کارروائی کو دیکھتا رہا اور محسوس کرتا رہا کہ نیو ڈیموکریٹس مسٹر ہارپر سے خوفزدہ تھے اور اس کے طرز سیاست سے مرعوب تھے۔مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ ہارپر کو شکست دینے کے لیے اس کا آئینی عکس پید اکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ میں غلط بھی ہوسکتا تھا لیکن میری سوچ یہی تھی کہ کنیڈین شہریوں کے لیے اس طرز کی سیاست موزوں نہیں۔ میرے پاس مستقبل میں لبرل پارٹی کا قائد بننے کی ٹھوس وجوہ تھیں۔ میں کنیڈا کی خدمت کرنا چاہتا تھا۔ایک بچے کا باپ بننے کے بعد میرا یہ احساس قوی ہوگیا تھا کہ ہمیں نئی نسل کو مضبوط و مستحکم کنیڈا دینا چاہیئے۔ایسا کنیڈا نہیں جو ہمیں اپنے اجداد سے ورثے میں ملا۔ میں محسوس کرتا تھا کہ لبرل پارٹی ہی وہ جماعت ہے جو کنیڈا کے بہتر مستقبل کے لیے سنجیدہ اصلاحات کرسکتی ہے اور کنیڈین شہریوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کام کرسکتی ہے۔میں دو انتخابات میں کامیاب ہوچکا تھا اور میں نے اپنے مخالفین کا سخت مقابلہ کیا تھا۔اب میں اپنی سیاسی سوچ، اور اہلیت پر پوری طرح اعتماد رکھتا تھا۔ان تمام چیزوں نے مجھے قیادت کی دوڑ میں حصہ لینے کا فیصلہ کرنے کے قابل کردیا۔لیکن ایک اور چیز بھی میری رہنمائی کررہی تھی۔2012 میں کنیڈین سیاست میں اسٹیفن ہارپر کی کنزرویٹو پارٹی ایک غالب طاقت تھی۔بہت سے لوگوں کی پیشنگوئی تھی کہ ایک بڑی اکثریتی حکومت بنانے کے بعد کنزرویٹو پارٹی کی سوچ میں اب پختگی اور توازن آجائے گا۔ایک اقلیتی حکومت کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ حکومت مسلسل مہم جوئی میں مصروف رہتی ہے۔کیونکہ کوئی بھی الیکشن دارالعوام میں اس حکومت کے ٹوٹنے کا سبب بن سکتا ہے۔لیکن اکثریت حاصل ہونے کی صورت میں حکومت طویل مدت کے اقدامات کرتی ہے اور ملک کے لیے ایک حکمت عملی بنانے کی کوشش کرتی ہے۔یہ اگرچہ ایک اچھا نظریہ ہے لیکن وقت نے اسے غلط ثابت کردیا۔جو حکومت اکثریت میں ہوتی ہے وہ عدم اعتماد کے ووٹ سے محفوظ ہوجاتی ہے اور اس طرح خود کو جمہوری احتساب سے بھی محفوظ خیال کرتی ہے۔چنانچہ وہ بڑے مسائل حل کرنے کی کوشش کے بجائے چھوٹے مسئلوں میں الجھ جاتی ہے اور کام نہیں کرتی۔اسے متوسط طبقے کے مسائل سے دلچسپی نہیں ہوتی۔وہ موسمیاتی تبدیلیوں، ماحولیات اور جمہوری نظام کی بوسیدگی کو روکنے کے لیے کام نہیں کرتی۔اسے صرف اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف نمبر بنانے سے دلچسپی ہوتی ہے۔ چنانچہ میرا یہ یقین پکا ہوتا گیا کہ مسٹر ہارپر کی حکومت ملک کو غلط سمت میں لے جارہی ہے۔اس حکومت کی کوشش اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کے بجائے انتشار پھیلانے میں ہے۔شاید یہ موثر سیاسی حکمت عملی ہو لیکن ملک و قوم کو اس سے نقصان ہے۔کیونکہ کنیڈا کو تقسیم کی نہیں اتحاد کی ضرورت ہے۔ ہارپر کی حکمت عملی یہ تھی کہ مشرق کو مغرب، شہری کو دیہی، کوئبک کو باقی کنیڈاکے خلاف کھڑا کردیا جائے تاکہ اس کی پارٹی انتخابات جیت سکے۔حالانکہ لوگوں کو دوبارہ متحد کر نا آسان نہیں اور لوگوں کے اتحاد کے بغیر لوگوں کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔اس پس منظر میں میں

نے قیادت کا امیدوار ہونے پر غور کرنا شروع کیا۔چنانچہ میں نے اپنا موسم گرما اور باقی ماندہ وقت سوفی اور بچوں کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا۔ میرا ذاتی تجربہ تھا کہ سیاستدانوں کے خاندان سخت دباؤ میں ہوتے ہیں اور میں خود بھی اس تجربے سے گزر چکا تھا۔
میں نے جیری بٹس اور کیٹی ٹیلفورڈ کو ہدایت کی کہ وہ ایک جنگی پلان بنائیں اور سوچیں کہ ایک کامیاب مہم کیسی ہونی چاہیئے؟لیکن اس کے باوجود میں جانتا تھا کہ حتمی فیصلہ مجھے اور سوفی کو مل کر کرنا تھا۔ہم نے اس موسم گرما میں کئی طویل تبادلہ خیال کیے۔ہماری شادی کی مضبوطی کا سبب ہی یہ تھا کہ ہمارے درمیان بات چیت کبھی کمزور نہیں پڑتی تھی۔ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے بالکل کھلے رہے۔میں اس کی یقین دہانی چاہتا تھا کہ وہ اچھی طرح سے یہ جان لے کہ ہمیں سخت مشکلات کا سامنا ہوگا اور اسے اس کے لیے تیار رہنا ہوگا۔میں نے سوفی کو بتایا کہ میرے والد نے صاف کہہ دیا تھا کہ ہمارے خاندان کو اب اس عہدے پر آنے کی کوشش نہیں کرنی اور ہم کنیڈا کی بہت خدمت کرچکے۔میرے ڈیڈی کو اکیسویں صدی کی سیاست کا تجربہ نہیں ہوا جو ان کے زمانے سے بہت مختلف ہے۔میرا اسٹائل کبھی یہ نہیں رہا کہ میں گندی سیاست میں شامل ہوں۔میں نے ہمیشہ عوام کے درمیان زندگی گزاری اور درون خانہ سازشوں پر مبنی سیاست کو کبھی پسند نہیں کیا۔ اس دوران جیری اور کیٹی نے ایک تین روزہ بحث پر مبنی حکمت عملی مرتب کی اور منصوبہ بندی کی کہ ا س پر کیسے عمل کیا جائے گا؟ میں نے یہ واضح کردیا کہ میں قیادت کا امیدوار بنوں گا اور اس کے لیے ہم ایک نئے انداز کی مہم چلائیں گے جس میں کنیڈین شہریوں کی غیر معمولی تعداد شریک ہوگی۔ ہمیں لبرل پارٹی کے دروازے ہر ایک کے لیے کھول دینے کی ضرورت ہوگی۔اگر لبرل پارٹی کا مستقبل بنانا ہے تو اسے کنیڈین شہریوں کے حوالے کیا جانا ضروری ہے۔ ہم جولائی کے اختتام پر مونٹ ٹریمبلنٹ پر ملے۔ میرا خاندان ملک بھر سے آئے ہوئے لوگوں کی ایک ٹیم کے ساتھ بیٹھاجن کا ہم نے نہایت احتیاط کے ساتھ ان کی اہلیت، توانائی، تجربے کی بنیاد پر انتخاب کیا تھاتاکہ ہم فیصلہ کرسکیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے؟ اور ہم کچھ کرنے کے قابل بھی ہیں یا نہیں۔ ہم نے اپنے دوستوں کو بھی جمع کیا جن میں نئے پرانے سب شامل تھے۔ ان میں سے بہت سوں کا سیاست کا طویل تجربہ تھا۔ دیگر بزنس اور چیرٹی کے شعبے سے آئے تھے۔عورتوں اور مردوں میں تعداد کے اعتبار سے توازن تھا۔سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہم اپنے خاندانوں کے ساتھ آئے تھے۔سوفی وہاں تھی اور میرا بھائی سیچا بھی موجود تھا۔ میں نے اپنی ٹیم کی بھی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے خاندان اور شرکائے کار کے ساتھ آئیں۔مجھے معلوم تھا کہ اگر ہم کسی نتیجے پر پہنچ گئے تو ہماری ٹیم کے ہر ممبر کو اس کے خاندان کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔مجھے اور میری ٹیم کو معلوم تھا کہ جب بھی مجھے کسی جلسہ عام یا کسی چھوٹے بڑے اجتماع سے خطاب کرنا ہوگا تو ہمیں کئی کئی دن اپنے خاندان سے دور رہنا پڑے گا۔ ہم میں سے ہر ایک کو اس سیاسی زندگی کی حقیقت کا جاننا ضروری تھا۔ چنانچہ میری قیادت کی مہم کا آغاز ایک کیمپ فائر سے ہوا۔ ہم نے جو کاٹجز لوگوں کے قیام کے لیے حاصل کیے تھے ان کے درمیان کیمپ فائر پر لوگ کوچز پر بیٹھے تھے اور حد یہ ہے کہ بعض سونے کے تھیلوں پر لیٹ کر بات کررہے تھے۔ٹام پٹ فیلڈ نے مانٹریال سے ’اسموکڈ میٹ‘(دھوئیں دار بھنا ہوا گوشت) خصوصی طور پر منگوایا تھا۔ جب سورج غروب ہوگیا تو میں نے مختصر تقریر کی اور امید ظاہر کی کہ ہم بہت جلد کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔میں نے کہا کہ جب ہم یہاں سے باہر نکلیں گے تو یقینی طور پر ہمارا مقصد متفقہ ہوگا۔ ہم میں اتفاق رائے پید اہوچکا ہوگا۔ میں نے مذاقاً کہا کہ اگر ہم نے فیصلہ کرلیا تو سب لوگ ایک ساتھ نکلیں گے اور ہم کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو پھر میں اور سوفی یہاں رکیں گے اور خاموش ویکنڈ گزاریں گے۔ آخر میں میں نے ہر ایک سے ایک سادہ سوال کیا کہ آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟
اس کے بعد ہر شخص نے اپنی کہانیاں سنانی شروع کیں۔مسی سواگا کے نوجوان نو ڈیپ بینز نے جو 2011 کے انتخابات میں بہت کم ووٹوں سے ہارا تھا بتایا کہ کنیڈا نے ا س کے خاندان کو کیا کیا مواقع فراہم کیے۔لیکن اب اسے شبہ تھا کہ اس کی نسل کی کامیابی خطرے میں ہے۔ دیگر نے خاص پالیسی امور پر اظہار خیال کیا۔ لوگوں نے اقتصادی مواقع، تعلیم، قدرتی وسائل، موسمی تبدیلیوں، امیگریشن، اور تنوع کے مسائل پر گفتگو کی۔کچھ لوگوں خاص وجوہ کی بنا پر یہاں آئے تھے۔لبرل پارٹی، پاپی نیؤ کے صدر اور میری مہم کے چیف فنانشل آفیسر لک کزی نیؤ نے کہا کہ کنزرویٹوز کی حکومت میں انصاف کا نظام خطرے میں ہے۔کوئبک سے کئی کارکنوں نے کہا کہ ان کے صوبے کی آواز قومی سطح پر دبا دی گئی ہے۔رچرڈ میکسمٹز نے کہا کہ پارٹی نے ایسی میٹنگ پہلے کبھی نہیں کی۔وہ بی سی کے وزیر خزانہ کا چیف آف اسٹاف تھا۔ جب میں سوالوں کا جواب دینے کے لیے اٹھا تو میں نے کہا کہ یہ ملک موجودہ حکومت سے کہیں زیادہ اچھا ہے۔کنیڈین شہری وسعت نظری رکھتے ہیں۔ وہ انصاف پسند، مخلص، محنتی، اور رحم دل لوگ ہیں۔ میں نے کہا کہ کنیڈا کو کئی مسائل کا سامنا ہے لیکن یہ اتنے بڑے مسائل نہیں جن کو پہلے حل کیا جا چکا۔ میں نے کہا کہ ہمارے ملک کی آبادی کا تنوع سب سے بڑی نعمت ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں کو کنیڈا کا لیڈر بننا ہو انہیں کھلے ذہن کا مالک ہونا چاہیئے۔انہیں ہر ایک کے ساتھ مہربانی اور انصاف سے پیش آنا چاہیئے صرف ان سے نہیں کہ جو ان کی سیاسی حمایت کریں۔مسٹر ہارپرز کی بصیرت نے بہت سارے لوگوں کو محروم کردیا ہے اور انہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ میں نے کہا کہ کنزور ویٹو حکومت کی سب سے بڑی بیماری اس کا چھوٹا پن، اس کی کمینگی، اور ان لوگوں کے ساتھ نا انصافی ہے جو اس سے سیاسی اتفاق نہیں رکھتے۔میں نے کہا کہ مسٹر ہارپر کی اس تنگ نظرسوچ سے کہ عدم اتفاق اور اختلاف رائے کمزوری کی علامت ہے اور ایسے لوگوں کو اٹھا کر باہر پھینک دو، اس سے کنیڈین اتحاد کو سخت نقصان پہنچے گا۔میں نے کہا کہ حکومت ہر حال میں بدلنی ہے اور اس میں مجھے بنیادی کردار ادا کرنا ہے ۔ ہمیں اب یہ سوچنا ہے کہ ہم اور ہماری پارٹی کس طرح یہ اہم کام سر انجام دے سکتے ہیں؟ اس اختتام ہفتے پرہم نے کئی اہم تبادلہ خیال اور بحثیں کیں اور اس پر غور کیا کہ ہمیں کس طرح کی مہم چلانی ہوگی؟کن امور کو اجاگر کرنا ہوگا، اور کن مسائل کو حل کرنا ہوگا؟ان میں سے کچھ مسائل قطعی تکنیکی تھے۔ان میں ڈیٹا تکنیک، تحائف

اور فنڈز جمع کرنے کی اسکیم، اور سوشل میڈیا حکمت عملی شامل تھے۔ہم نے بعض بنیادی مباحث بھی کیے۔ان میں سے ایک یہ تھا کہ کیا لبرل پارٹی کو قائم رہنا چاہیئے؟ کیا ہم کنزورویٹوز کو شکست دینے کے لیے این ڈی پی سے الحاق کرلیں؟یا ہم ایک قطعی نئی سیاسی جماعت تشکیل دیں؟ جو مرکز پسند ہو، اور جو نام کے اعتبار سے لبرل نہ ہو؟ اس موضوع پر بڑی سنجیدہ بحث ہوئی۔گزشتہ انتخابات میں لبرل پارٹی شکست کھا کر تیسرے نمبر پر چلی گئی تھی ا س لیے یہ بحث ضروری تھی۔یہ مریض(یعنی لبرل پارٹی) باب رائے کی عبوری قیادت میں اب خطرے سے باہر نکل آیا تھا۔لیکن ابھی ا سکی حالت نازک تھی۔بہت بڑی تعداد میں کنیڈین شہری خود کو لبرل کہتے تھے لیکن اب بہت کم لوگ لبرلز کو ووٹ دینے باہر نکلتے تھے۔چنانچہ اب لبرل پارٹی کو اصلاحات اور تعمیر نو کی سخت ضرورت تھی۔ سوال یہ تھا کہ کیا ہم اگلے انتخابات سے پہلے پارٹی انفرا اسٹرکچر کی تعمیر نو کرسکتے ہیں؟ اگر کنزرویٹوز کو شکست دینی ہے تو ایک نئی پارٹی بنانا خلاف حقیقت اور خارج از امکان تھا۔میں جانتا تھا کہ کوئی بھی پارٹی کسی بھی نام سے کام کرے جس کا لیڈر ٹروڈیو ہوگا اسے لبرل پارٹی تصور کیا جائے گا۔چنانچہ ہم نے الحاق اور انضمام کے آپشن کو بھی آئندہ کے لیے چھوڑ دیا۔ میں انضمام کے خلاف تھا جبکہ اونٹاریو کے ممبرز نے نشاندہی کی کہ بہت سے لبرل ووٹرز نیو ڈیموکریٹس کو ووٹ دینے کے بجائے اقتصادی بنیادوں پر کنزرویٹوز کو ووٹ دیں گے۔جیری اور کیٹی کا کہنا تھا کہ ایسا 2011 کے وفاقی انتخابات میں اونٹاریو میں ہوا اور گریٹر اونٹاریو کے ہمارے ووٹروں نے معیشت کے مسئلے پر این ڈی پی کو ووٹ دینے کے بجائے کنزرویٹوز کو ووٹ دیا۔مقررین نے نشاندہی کی کہ دونوں پارٹیوں کا کلچر الگ الگ ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ کنزرویٹوز کنیڈا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گے اس لیے ان کا مقابلہ دونوں پارٹیوں کے اتحاد سے کیا جائے۔میں نے محسوس کیا کہ لبرل پارٹی صرف اپنے داخلی مسائل پر سوچ رہی ہے اور وہ ان لوگوں کے بارے میں نہیں سوچ رہی جو ا س کے ووٹر اور کنیڈین شہری ہیں۔ چنانچہ دونوں جانب سے اچھے دلائل دیے گئے۔ میں این ڈی پی کی جانب سے کلیرٹی ایکٹ کی منسوخی کی مہم کا مخالف تھا۔اسی طرح این ڈی پی کی اقتصادی پالیسی بھی غلط تھی۔اس کے مقابلے میں لبرلز اقتصادی پالیسی کو بنیادی اہمیت دیتے تھے کیونکہ اقتصادی ترقی کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم اقتدار کے حصول کے لیے این ڈی پی کی سیاسی حکمت عملی کی حمایت نہیں کرسکتے۔ کنیڈا کو محض حکومت کی تبدیلی کی نہیں اچھی حکومت کی ضرورت ہے۔اس لیے این ڈی پی کے ساتھ اتحاد یا انضمام کے تصور کو مسترد کردیا گیا۔ ایک اور اہم تبادلہ خیال پالیسی کے مسئلے پر ہوا کہ ہم اپنی مہم کس طرح چلائیں گے؟ تجویز تھی کہ ہم ہر تیس سے نوے دن کے وقفے سے پالیسی امور پر ایک قرطاس ابیض(وھائیٹ پیپر) شائع کریں گے۔ تاہم یہ تجویز مسترد کردی گئی۔ اس کے بجائے ہم نے طے کیا کہ ہم اعلان کریں گے کہ ہماری پالیسی ترقی پسندانہ ہوگی جس کے اجزا میں آزاد تجارت، مالی نظم و ضبط، اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری شامل تھے۔ تبادلہ خیال کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ لبرلز نے 1990 کے عشرے میں معیشت کی بہتری پر زور دیا تھا لیکن پوری توجہ مرکوز نہیں کرسکے۔ ہم نے انتخابات میں جو کامیابی حاصل کی اسی کو کافی تصور کرلیا اور اسی وجہ سے آگے چل کر ہمیں نقصان ہوا۔اس اجلاس میں ہم نے تفصیل سے کنیڈین متوسط طبقے کی حالت زار کا جائزہ لیا۔ اور یہ بات سامنے آئی کہ لوگوں کے قرضے بڑھ رہے ہیں لیکن ان کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہورہا۔ہم نے محسوس کیا کہ کنیڈا میں کوئی ساختی اقتصادی تبدیلیوں پر بات نہیں کرتا جن سے معیشت متاثر ہورہی ہے اور لوگوں کی زندگی مشکل ہوتی جارہی ہے۔ ہم نے کوئبک کے مسئلے پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔میری رائے یہ تھی کہ ہم پارٹی کے وجود اور بقا کے مسئلے پر زیادہ توجہ دے رہے تھے اور شہریوں کے مسائل پر کم بات کرتے تھے۔اسپانسرشپ اسکینڈل نے لبرل پارٹی کی دیانت پر ضرب لگائی اور ہم نے بدنامی سے بچانے کے لیے موثر قدم نہیں اٹھایا۔اس دوران کوئبک کے لوگ حکومتی سطح پر ایک کے بعد دوسرے اسکینڈل سے متاثر ہوتے رہے۔اس سے لوگوں کا اعتبار سرکاری اداروں پر متزلزل ہوا۔ کاربونیؤ کمیشن قائم ہونے کے بعد اسکینڈلز کے حوالے سے روزانہ خوفناک خبریں سامنے آتی رہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ لبرل پارٹی اپنی جڑوں پر توجہ دے اور لوگوں کے روزمرہ کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے جن میں روزگار، پنشن، بچوں کی خوش حالی، سر فہرست ہے۔ میں نے پاپی نیؤ میں جو تجربہ حاصل کیا تھا اب میں ان تجربات سے پورے ملک میں فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ ان تمام بحث و مباحث کے نتیجہ میں ہم آخر کار ایک نتیجے پر پہنچ گئے کہ ہمیں اپنی مہم کس طرح چلانی ہے؟ ہمارے گروپ کے درمیان بہت سی چیزیں مشترک تھیں۔ہماری اقدار، سوچ، نظریات، سیاست اور زندگی کے تجربات مشترک تھے۔ہم میں سے
بہت سوں کے بچے کم سن تھے۔میں نے یہ واضح کردیا کہ میں اپنی مہم ماضی کی نہیں بلکہ مستقبل کی بنیاد پر چلانا چاہتا ہوں۔ میں اس مہم میں ہزاروں لوگوں کو شامل کرکے اسے ایک نئی قسم کی سیاسی تحریک کی شکل دینا چاہتا تھا۔ہم ان لوگوں کا خیرمقدم کررہے تھے جو ماضی میں لبرل پارٹی کے لیے کام کرتے رہے تھے لیکن ہمارا مستقبل ان لوگوں سے وابستہ تھا جو کبھی کسی پارٹی کے ممبر نہیں رہے۔ہم کنیڈا کا ایک بصیرت افروز تصور رکھتے تھے۔ہم جانتے تھے کہ کنزرویٹوز اور دائیں بازو کے لوگوں کے لیے ٹروڈیو کا امیدوار ہونا سخت پریشانی کا سبب بنے گا۔ وہ ہم پر پوری شدت کے ساتھ حملے شروع کردیں گے۔ ان کے حملے منفی اور ذاتی ہوں گے۔ان کے پاس کروڑوں ڈالر ہیں اور فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ وہ ہمیں تباہ کرنے کے لیے کسی حدود کی پابندی نہیں کریں گے۔ میں نے دوستوں سے آخری سوال کیا۔ کیا آپ سب ہر طرح کی تکلیف اور سختی برداشت کرنے کو تیار ہیں؟سب نے یکے بعد دیگرے مجھے اپنی پوری حمایت کا یقین دلایا۔ہم نے طے کیا کہ ہم نئی قسم کی سیاست سے خوف و حراس اور منفی سوچ کا راستہ روکیں گے۔ہم مشترکہ بنیاد پر لوگوں کو جمع اور متحد کریں گے اور محض سیاسی فائدے کے لیے انہیں تقسیم نہیں کریں گے۔ ہم اپنی مہم منفی نہیں مثبت بنیادوں پر چلائیں گے۔ ہم نے اپنی مساعی کی بنیاد محنت اور امید پر رکھی۔
امید اور سخت محنت
2012 کا درمیانی حصہ پیشن گوئیوں سے معمور تھا۔لبرل پارٹی کو اگرچہ اب ایک چلا ہوا کارتوس سمجھا جارہا تھا لیکن ا سکی قیادت میں بہت لوگوں کو دلچسپی تھی۔پردے کے پیچھے سے عبوری سربراہ باب رائے سنجیدگی کے ساتھ قیادت کا امیدوار ہونے کے بارے میں سوچ رہا تھا جبکہ ا سکے جانشینوں میں ڈالٹن مک گوئنٹی اونٹاریو کے پریمیئر کے عہدے کا امیدوار تھا۔ افواہیں تھیں کہ آپریٹوز بنک آف کنیڈا کے گورنر مارک کارنی کی خدمات حاصل کرنے پر غور کررہے ہیں۔دیگر ناموں میں فرینک مک کینااور جان مینلی شامل تھے۔اسی طرح موجودہ اور سابق ساتھی مارک گارنیو اور مارتھا ہال فنڈلے بھی اس مقصد کے لیے ٹیم بنا رہے تھے۔ حتمی فیصلہ کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پنچا کہ میں اپنے ساتھی امیدواروں پر زیادہ توجہ نہیں دوں گا خواہ وہ کوئی بھی ہوںَ۔ میں ان سب کو جانتا تھا اور ان کا احترام کرتا تھا۔کیونکہ پارٹی کی داخلی مسابقتی سیاست سے کہیں زیادہ اہم مسائل سامنے تھے۔چنانچہ میری ساری توجہ اب مہم کی نوعیت پر مرکوز تھی اور اب میں اس یجنڈے پر غور کررہا تھا جسے قیادت کی مہم اور ا سکے بعد فروغ دیا جانا تھا۔ اگر ہمیں عام انتخابات میں کامیابی کی توقع تھی تو ہمیں قیادت کی مہم جیتنے کے بعد فوراً ہی تعمیر نو کی کوششیں شروع کرنی تھیں۔ ہمیں صرف قیادت کی جنگ ہی نہیں جیتنی تھی بلکہ 2015 کے انتخابات جیتنے کی منصوبہبندی بھی کرنی تھی۔قیادت کی جنگ میں کامیابی تو پہلا قدم تھا۔ ہم جانتے تھے کہ یہ انتہائی پیچیدہ کوشش ہے۔قیادت کی مہم ایک داخلی جدوجہد تھی جس میں یہ فیصلہ ہونا تھا کہ ٹرین کا ڈرائیور کون ہوگا جس پر ہم سب سوار ہوں گے اور اگر قسمت ساتھ دے تو اس کا درست رخ متعین کرنا اصل کام ہوگا۔ہمیں اس ٹرین کے لیے مسافر بھی پکڑنے تھے، ٹرین کی تعمیر نو بھی کرنی تھی اور ساتھ ہی پٹری بھی بچھانی تھی۔ یہاں امید اور سخت محنت سے کام شروع کیاجاناتھا۔ہمیں کام کی ٹھوس منصوبہ بندی اور مثبت بصیرت دونوں کی ضرورت تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی توجہ مبذول کرائی جائے۔سالوں کے ٹیچنگ کے تجربے اور پاپی نیؤ کی انتخابی مہم جوئی نے مجھے بہت کچھ سکھایا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ مجھے اپنے گرد ایسے لوگوں کو جمع کرنا ہے جو مثبت فکر، غیر معمولی ذہانت، درست اقدار،اور میری جیسی توانائی کے مالک ہوں۔میں جانتا تھا کہ لبرل لیڈر بننے کے بعد مجھے کیا کرنا ہے؟تمام ٹھوس منصوبوں کی طرح ہمارا منصوبہ بھی نظریات اور لوگوں، ٹیم اور پلان، امید اور سخت محنت پر مبنی تھا۔ہم لبرل پارٹی کو ایک قومی سیاسی طاقت میں تبدیل کردینا چاہتے تھے جو کنیڈا کو درپیش مسائل پر درست اور ٹھوس نقطہ نظر رکھتی ہو۔اس کے نتیجہ میں ہمیں تازہ تصورات، اور کارکنوں کی غیر معمولی تعداد کی ضرورت تھی۔بنیادی طور پر ہم جانتے تھے کہ جو بھی قیادت کی دوڑ میں کامیاب ہوگا وہ پارٹی کو لے کر آگے چلنے کی پوری اہلیت رکھتا ہوگا۔
میں نے اب لبرل کارکنوں سے کہنا شروع کیا کہ ہماری حالت تصور سے زیادہ خطرناک ہے۔میرے لیے ووٹ کے معنی یہ تھے کہ اس دوڑ میں کوئی شارٹ کٹ نہیں تھا۔ہم کسی کی امیدوںُ پر پانی نہیں پھیرنا چاہتے تھے۔ ہم نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا کہ محض اچھی امیدیں قائم کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔اس کے لیے سخت محنت کرنی ہوگی ۔ لبرل پارٹی کے پاس کنیڈین شہریوں کو دینے کے لیے بہت کچھ تھا اور انہیں یقین دلانا تھا کہ صرف لبرل پارٹی ان کی حالت میں تبدیلی لانے کی اہلیت رکھتی ہے ۔ ان کو یہ بھی یقین دلانا تھا کہ لبرل پارٹی کنیڈین معیشت میں انقلاب لانے اور لوگوں کی حالت سدھارنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔اگر ہمیں ان کا اعتماد جیتنا تھا تو یہ سارا کام پرانے فیشن ہی میں ہونا تھا۔چنانچہ 40 سال کی عمر کو پہنچنے پر جسے وکٹر ہیوگو نے ’’نوجوانی کا بڑھاپا‘‘ قرار دیا میں اپنی پارٹی کو امید افزا پیغام دے رہا تھا۔کہ کامیابی ممکن ہے لیکن یقینی نہیں۔ہمیں نئے مشن، نئے تصورات، اور نئے لوگوں کے ساتھ آگے بڑھنا تھا۔پہلا قدم پارٹی کے مشن پر توجہ مرکوز کرنی تھی یعنی عام کنیڈین شہریوں کی ضرورتوں، امیدوں اور خوابوں کی تکمیل صرف لبرل پارٹی کرسکتی تھی۔اگر یہ پیغام ایک نعرے سے زیادہ تھا تو اسے عام کرنے کے لیے ہمیں لاکھوں کنیڈین کارکنوں کی خدمات درکار تھیں۔
2 اکتوبر 2012 میرے چھوٹے متوفی بھائی مائیکل کی 37ویں سالگرہ تھی اور اسی دن میں نے پاپی نیؤ کے قلب میں واقع کمیونٹی سینٹر میں سوفی اور بچوں کے ساتھ قیادت کے لیے اپنی مہم کا آغاز کیا۔کمیونٹی سینٹر کا ہال لوگوں سے پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ میں نے وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ میں یہاں اس لیے آیا ہوں کہ کنیڈا کو نئی قیادت اور کنیڈین شہریوں کو نئے پلان کی ضرورت ہے۔میری مہم کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ اگر میں کامیاب ہوا تو میں اقتصادی ترقی کا ایسا منصوبہ شروع کروں گا جو متوسط طبقے کے کنیڈین شہریوں کی خوش حالی کے لیے ہوگا۔میں نے کہا کہ موجودہ حکومت کا تعلق ملک کی ترقی سے نہیں ہے اور وہ ایسی کوئی کوشش نہیں کررہی جس سے انصاف کا حصول آسان ہو، قومی ترقی کا سفر جاری رہے،اور ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ ہوجائے۔ ہارپر حکومت کی خصوصیت قوم کو تقسیم کرنا ہے۔ یہ تقسیم کنیڈا کے لیے اچھی نہیں۔ کنیڈا دنیا کا وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ متنوع آبادی ہے۔ ہمیں ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو انہیں ایک لڑی میں پرو دے۔تنقیدی نقطہ نگاہ سے ہمارا متوسط طبقے کا ایجنڈا اقتصادیات سے زیادہ تھا۔اس میں تسلیم کیا گیا تھا کہ ملک کی طاقت کا اظہار اوٹاوا سے ہوتا ہے جہاں ہماری بہترین سیاسی قیادت پہنچتی ہے لیکن اس کی تشکیل اور تخلیق یہاں نہیں ہوتی۔یہ وہ سبق ہے جو لبرلز نے حاصل کیا ہے۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ متوسط طبقہ ہے جس نے ملک کو متحد کررکھا ہے سیاسی طبقات نے ملک کو متحد نہیں کیا۔ عام کنیڈین شہریوں کی امید خواہ وہ سرے، بی سی میں رہنے والے حالیہ تارکین وطن ہوں یا کنیڈین شہریوں کی دسویں نسل جو کوئبک سٹی میں رہتی ہے اس ملک کو زندگی بخشنے والا خون ہیں۔کینڈا کو ایسے سیاسی لیڈروں کی ضرورت ہے جو وسعت نظر رکھتے ہوں ایسے تنگ نظر نہیں کہ اپنے مفادات کی خاطر کنیڈین قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کریں۔ میں نے لوگوں کو یاد دلایا کہ مشترکہ بنیاد پورے کنیڈا میں پھیلی ہوئی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور ان بنیادوں پر نئی سیاسی عمارت کی تعمیر کریں۔
گزشتہ سالوں میں لبرلز کے لیے یہ کہنا مشکل ہوگیا تھا کہ پرانی اقدار اور نئی اقدار کے درمیان کیا فرق ہے؟ میں نے کہا کہ لبرل پارٹی نے کنیڈا کی تخلیق نہیں کی۔ تاریخی طور پر لبرل پارٹی اتنی کامیاب رہی کہ اس کے دروازے ہر کنیڈین کے لیے کھلے تھے اور اس کا رابطہ ہمیشہ عام شہری سے رہا۔ یہ ان کے جذبات کے اظہار کا ذریعہ تھی لیکن کامیابیوں کے ساتھ ہم نے یہ سبق بھلادیا۔ یہ ایک ایسی غلطی تھی جس کا خمیازہ ہمیں آج بھگتنا پڑ رہا ہے۔متوسط طبقے کے اقتصادی پہلو سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔یہ انتہائی اہم بات ہے۔دنیا بھر سے لوگ جن کا عقیدہ اور کلچر کچھ بھی ہو ایک صدی سے زیادہ عرصے سے کنیڈا نقل مکانی کرتے رہے ہیں۔ان کو ان کے اپنے ملک سے زیادہ یہاں قبول کیا جاتا ہے۔ان کو یہاں بہترین اقتصادی مواقع حاصل ہورہے ہیں۔اس کے نتیجہ میں نئے آنے والوں کا یہاں زبردست خیرمقدم کیا جاتا ہے اور ہم ان کے مذہب اور عقیدے سے متعلق نظریات کو پہلے سے زیادہ قبول کرتے ہیں حالانکہ پہلے ہم ان سے اختلاف رکھتے تھے۔ دوسروں کو برداشت کرنا کنیڈا کا بنیادی کلچر ہے۔ جب ہم مشترکہ بنیادوں کو وسعت دیں گے تو دوسروں کو زیادہ قبول کریں گے اور برداشت و رواداری کی بنیاد پر ملک کی تعمیر کریں گے۔ اقتصادی بنیاد پر کنیڈا کی ترقی بغیر محنت کے حاصل نہیں ہوئی اور نہ یہ کامیابی خیرات میں ملی ہے۔یہ سب کنیڈین شہریوں کی مشترکہ جدوجہد اور سخت محنت کا نتیجہ ہے۔ جب بھی اس خوش حالی میں کمی آتی ہے تو بصیرت سے محروم لوگ ہمیشہ ان اختلافات کو اپنے ناپاک مفادات کی خاطر فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے فخر ہے کہ کوئبک کے لوگوں نے سیاسی فائدوں کی خاطر قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کرنے والی سیاسی قوتوں کو مسترد کردیا۔ اب ہمیں قومی اقتصادی ترقی اور روزگار کے فروغ کے لیے کوشش کرنے کی ضرورت ہے اور ہماری سیاست کو اسی بنیاد پر فروغ دینا چاہیئے نہ کہ قوم کے اختلافات کو بڑھایا جائے۔(جاری ہے)

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

three × three =