نیشنل لائبریری۔ اسلام آباد

نیشنل لائبریری۔ اسلام آباد

نیشنل لائبریری اسلام آباد۔ پاکستان کا قومی کتب خانہ ہے۔ جہاں پاکستان میں چھپنے والی ہر کتاب ہر رسالہ ہر مجلّہ ہر اخبار قانونی طور پر جمع کروایا جاتا ہے۔ یہ لائبریری صرف کتابوں کے اجراء کے لیے ہی نہیں تحقیق کے لیے بھی مواقع فراہم کرتی ہے۔ اس کے آڈیٹوریم میں سیمینار۔ کانفرنسیں بھی باقاعدگی سے ہوتی ہیں۔ فرخند اقبال صاحب نے اس قابل فخر ادارے کے بارے میں آپ کے لیے مختصر مگر جامع رپورٹ مرتب کی ہے۔

مفکرین کا کہنا ہے کہ دنیا پر صرف کتابیں حکومت کرتی ہیں۔ ہزاروں برس قبل افلاطون کی لکھی گئی “دی ریپبلک”اور ارسطوکی “پالیٹکس” کتابیں آج بھی دنیا کے بیشتر سیاسی نظاموں پر چھائی ہوئی ہیں۔ تھامس ہابس کی “لیویاتھن ” اور نکولو میکاولی کی “پرنس”نامی کتابیں سینکڑوں برس بعد بھی دنیا کے حکمرانوں کے اسٹڈی رومز کے لازمی جز ہیں، تو ہر طرف انتشار کے شکار اس دور کے مفکرین کی تحریروں میں بھی امن کے حصول کے لئے جے جے روسو اور جان لاک کی “سوشل کنٹریکٹ تھیوریز”کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ 19ویں صدّی میں سرمایہ دارانہ نظام سے لڑنے والے کارل مارکس کی کتاب “داس کیپٹل”نے اگر دنیا کے سیاسی و اقتصادی نظام کو ہلاکر رکھ دیا، تو اسی صدّی میں چارلس ڈارون کے “آن دی اوریژن آف سپیشیز”نے سائنس اور مذہب کی دنیا میں بیک وقت ہلچل برپا کردی جس کے اثرات سے دنیا آج بھی پوری طرح سے نہیں نکل سکی ہے۔ کتابوں کی اہمیّت اور اس سے محبت کو عظیم ارجنٹائنی شاعر و افسانہ نگار جارج لوئس بورگس نے اسی ایک فقرے میں بہت خوبصورتی سے سمویا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ،”میں ہمیشہ یہ تصوّر کرتا ہوں کہ جنّت لائبریری کی ایک قسم ہوگی۔” کتابوں کی اسی اہمیّت اور لائبریری کے اس طلسماتی تصوّرکے ساتھ آج میں نے پاکستان کی اہم ترین لائبریری نیشنل لائبریری آف پاکستان کے بارے میں ایک معلوماتی مضمون لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جوقارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔
قومی کتب خانہ پاکستان (نیشنل لائبریری آف پاکستان)ایک تحقیقی اور سرکاری دستاویزات جمع کرنے والی لائبریری ہے ،جو اسلام آباد کی شاہراہ جمہوریت پر واقع ہے۔ اس کی منظوری حکومت پاکستان نے 1949میں دی تھی جبکہ باضابطہ قیام 1951میں کراچی میں وزارت تعلیم کے سیکرٹریٹ میں لایا گیا۔ 1954میں لیاقت میمورئیل لائبریری کو نیشنل لائبریری میں ضم کردیا گیا اور اسے لیاقت نیشنل لائبریری کا نام دے دیا گیا۔ 1960کی دہائی میں جب پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد منتقل کردیا گیا تو نیشنل لائبریری کو بھی یہاں شفٹ کرنے اور لیاقت نیشنل لائبریری کا پرانا نام لیاقت میمورئیل لائبریری دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ لائبریری کی عمارت کے نقشے کو منظوری نہ ملنے اور حکومت وقت کی عدم توجہ کی وجہ سے کتب خانے کی تعمیر کافی تاخیر کے بعد ستمبر 1985میں شروع ہوئی ،جس پر 130.322 ملین روپے کی لاگت آئی۔ جون 1988میں تعمیراتی کام مکمل ہوگیا اور اسی سال لائبریری عملہ اور کتابوں کا ذخیرہ نئی عمارت میں منتقل کردیا گیا۔ 24اگست 1993کو پاکستان کے عبوری وزیر اعظم معین الدّین احمد قریشی نے لائبریری کا باقاعدہ افتتاح کیا اور اس کے دروازے عوام کے لئے کھول دئے گئے۔
لائبریری عمارت: نیشنل لائبریری آف پاکستان کی عمارت شاہراہ جمہوریت پر وزیراعظم سیکرٹریٹ کے قریب واقع ہے۔ عمارت 168844مربع فٹ کے احاطے پرچار فلورز پر مشتمل ہے ۔بیسمنٹ فلور میں سیریل ڈویژن، کتابوں کی

ڈیلیوری اور اخبارات شاخ، ٹیلی فون ایکسچینج، ائیرکنڈیشننگ اور الیکٹرک پلانٹس قائم ہیں۔ گراونڈ فلور پر لائبریری کا مرکزی دروازہ، استقبالیہ، ڈیجیٹل انفارمیشن ڈویژن، کینٹین، کمپیوٹر شعبہ، منصوبہ بندی اور تحقیقی شعبہ اور ماڈل چلڈرن لائبریری واقع ہے۔ پہلی منزل پر آن لائن عوامی رسائی کیٹالاگ، چار ریڈنگ ہالز، نادر کتابوں کا سیکشن، سیمینارہال اور ملاقاتی کمرے واقع ہیں۔ جبکہ دوسری منزل پر 14تحقیقی کمرے ہیں۔ لائبریری کے آڈیٹوریم میں بیک وقت 400افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے ، اور یہ اسلام آباد میں تعلیمی اور ثقافتی پروگراموں کا ایک اہم مرکز تصور کیا جاتا ہے۔قومی کتب خانے کے ریڈنگ ہالز میں پڑھنے والوں کے لئے 500نشستوں کا بندوبست موجودہے۔
لائبریری وژن: ملک کے شہریوں میں تخلیقی صلاحیتیں ابھارنے اور جدّت کی طرف راغب کرنے کے لئے خطّے کی ایک عالمی پائے کی قومی لائبریری بننا نیشنل لائبریری آف پاکستان کا وژن ہے۔
لائبریری سروس: لائبریری پاکستان کی پارلیمان کے 422ارکان، اس کے دیگر عملے اور ملک کے ہر شعبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو پڑھنے اور تحقیق کی سہولتیں مہیّا کرتی ہے۔
لائبریری کا سالانہ بجٹ 60.2ملین روپے ہے۔ جبکہ عملے کے افراد کی تعداد 178 ہے ۔
اس وقت لائبریری میں لگ بھگ 3لاکھ کتابیں دستیاب ہیں۔ 580ہاتھ سے لکھی گئی کتابیں اور عربی، اردو اور فارسی کی 10,000سے زائد نادر کتب بھی موجود ہیں۔
متحدہ ہندوستان کی 1911، 1921،1931اور1941کی مردم شماریوں کا تمام ریکارڈبھی دستیاب ہے۔
یہاں اخبارات اور موقتی مطبوعات کے 56000 سے زائد والیومز ، 48,000مائیکروفشز (دستاویز کے مختصر کردہ تصاویر )اور1949کے بعد پاکستان گزٹ کے 1300والیومزموجود ہیں۔
روزانہ کی بنیاد پر 380اخبارات اور ماہانہ 1300رسالے و جرائد قارئین کی سہولت کے لئے دستیاب ہوتے ہیں۔
قومی کتب خانے میں 6000پی ایچ ڈی مقالے اور 2200کے

لگ بھگ کتب سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز کی شکل میں موجود ہیں۔
20سال یا اس سے زائد عمر کے شہری اور پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی ملازمین لائبریری کے رکن بن سکتے ہیں۔
لائبریری کریڈٹ پرموجود کارنامے: نیشنل لائبریری آف پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق 2001سے لے کر اب تک لائبریری نے 2لاکھ پانچ سو سے زائدافراد کو پڑھنے کی سہولت مہیّا کی ہے۔
1962سے لے کر 2010تک Pakistan National Bibliographyکے 43 والیومز شائع کئے گئے۔
لائبریری نے 1985سے لے کر اب تک Book Numbering (ISBN) International Standard نظام کے تحت 1940ناشرین کا اندراج کیا، اور 40,000سے زائد عالمی معیار کی کتاب اعداد( (ISBNالاٹ کئے ہیں۔

قومی دستاویزات جمع کرنے کی حیثیّت (National Depository Library): کاپی رائٹ آرڈیننس 1962 اور کاپی رائٹ (ترمیمی ایکٹ ) 1992کے تحت ملک کے ہر ناشر ادارے کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے خرچے پر اپنی کسی بھی شائع کردہ مواد کی بہترین کاپی 30دن کے اندر اندر نیشنل لائبریری آف پاکستان میں جمع کرائے۔دستاویزات جمع کرنے کا اہم مقصد ملک میں شائع ہونے والے تمام مواد کو موجودہ اور مستقبل کی نسلوں کے لئے محفوظ کرنا ہے۔ علاوہ ازیں اس کا دوسرا مقصد لائبریری کو ملک کے ریکارڈ شدہ علم کا سب سے بڑا خزانہ بنانا ہے۔
لائبریری کے دیگر فرائض و سرگرمیاں : نیشنل لائبریری آف پاکستان بین الاقوامی اداروں یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف پبلیکیشنز، ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی مزدور تنظیم، یونیسکو وغیرہ کے لئے ریپوزیٹری (ایک کمپوٹنگ سسٹم کے متعلق معلومات کا مجموعہ) کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں لائبریریوں کے عملے کے افراد کو تربیّت دی جاتی ہے۔یہاں مختلف قسم کی نمائشیں، لیکچرز اور سیمینارز منعقد کئے جاتے ہیں۔ لائبریری میں کتابوں کو محفوظ بنانے کی لیبارٹری بھی کام کرتی ہے۔ پرانے کتابوں کے بوسیدہ مطبوعات کی درستگی اور ہاتھ سے لکھی گئی کتابوں کی عکسی نقول بھی تیار کی جاتی ہیں۔ نیشنل لائبریری آف پاکستان عالمی اداروں مثلاًپبلک لائبریری ایسوسی ایشن، کانفرنس آف ڈائریکٹرز آف نیشنل لائبریریز، کانفرنس آف ڈائریکٹرز آف نیشنل لائبریریزان ایشیاء اینڈ اوشنیا، انٹرنیشنل فیڈریشن آف لائبریری ایسوسی ایشنز وغیرہ کی رکن بھی ہے۔
نیشنل لائبریری آف پاکستان ملک کااہم ترین ادارہ ہے، جس کی سروسز اور خدمات پر جتنی بھی بحث کی جائے کم ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں پڑھنے کا رجحان بدستورکم ہورہا ہے۔اور ملک کے نوجوانوں کی اکثریت سوشل میڈیا کی لت اور دوسری سرگرمیوں میں مشغول رہنے کے باعث لائبریوں کا رخ کم ہی کرتی ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔ ایک مہذب شہری ہونے کی حیثیت سے ہم سب کا فرض ہے کہ معاشرے میں کتاب اور لائبریری کی اہمیت کو اجاگر کریں اور پڑھنے کے دم توڑتے رجحان کو نئی زندگی بخشیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

10 − six =