نیشنل بُک فاؤنڈیشن

نیشنل بُک فاؤنڈیشن

نیشنل بک فاؤنڈیشن۔ ملک کا قابل فخر ادارہ ہے۔ کتابوں کی اشاعت کے لیے اس کی کوششیں انتہائی قابلِ قدر ہیں۔ آج کل اس کے منیجنگ ڈائریکٹر ممتاز ادیب ، شاعر ڈاکٹر انعام الحق جاوید ہیں۔ ان کی سربراہی میں بہت سے نئے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ بہت سے پرانے سلسلے جو منقطع ہوچکے تھے انہیں بحال کیا گیا۔ اصغر عابد کی یہ تحریر خاص طور پر ’کتاب نمبر‘ کے لیے قلمبند کی گئی ۔ اپنی رائے دیجئے۔

* اصغر عابد

1972ء میں ایک سرکاری ایکٹ(XIX)کے تحت معرضِ وجود میں آنے والا قومی ادارہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن اب تک 45برسوں میں اپنے بنیادی و اساسی مقصد(Mandate)فروغِ عاداتِ مطالعہ وکتب بینی کے حصول کے لیے لاکھوں کی تعداد میں کتابیں شائع کر چکا ہے جن میں متنوع موضوعات کی عمومی کتب اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد فیڈرل ٹیکسٹ بکس بورڈ کی حیثیت میں شائع ہونے والی نصابی کتب شامل ہیں۔ این بی ایف کے اس شاندار ترقی کے سفر میں اشاعتِ کتب کے حوالے سے ایک تسلسل نظر آتا ہے اور ادارے کے محنتی اور مخلص کارکنان کی جدوجہد صاف جھلکتی ہے ، بالخصوص گزشتہ چار برسوں میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کی کارکردگی میں جو انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں، ان کے پیشِ نظر اس شعبے سے وابستہ لوگوں اور اداروں کی جانب سے این بی ایف کو ملک کی سب سے نمایاں اور اہم ترین بک انڈسٹری کے نام سے یاد کیا جانے لگا ہے ۔جنوری2016ء میں مشیرِ وزیراعظم برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن جناب عرفان صدیقی کی نگرانی میں این بی ایف کے اس ڈویژن کے تحت آنے کے بعد ہر شعبے میں این بی ایف کی کارکردگی میں تیزی آئی اور ہماری مختلف منصوبہ بندیوں کی تکمیل کے لیے نئے عزم اور ولولے کے ساتھ ادارے کو ایک نئی جہت ملی ہے ۔’’ہمارا خواب، ہر ہاتھ میں کتاب ‘‘ اور ’’امن انقلاب بذریعہ کتاب‘‘ کے نعرے کے تحت کردار سازی، شخصیت سازی، بہتر معاشرے کی تشکیل اور پاکستان کے روشن مستقبل کو متعارف کرانے کے لیے 1000مفید ،معیاری، معلوماتی اور کم قیمت کتب شائع کرنے کا ایک میگا منصوبہ بنایا گیا جس میں سے تقریباً400کتب شائع ہو چکی ہیں۔ قارئین کو اُن کی استطاعت کے مطابق کم نرخوں پر کتب کی دستیابی کی حکمتِ عملی کے باعث اربابِ قلم ، شائقینِ کتب اور زندگی کے ہر شعبۂ حیات کے قارئین نے این بی ایف کی آنے والی ہر کتاب کو پذیرائی بخشی اور پچھلے چند برسوں میں ان میں سے اکثر کتابوں کے دوسرے اور تیسرے ایڈیشن تین تین اور پانچ پانچ ہزار کی تعداد میں شائع ہوئے۔ این بی ایف کی اشاعتِ کتب کی تعداد میں اضافے اور تعدادِ فروخت میں تیزی سے اضافے اور کتب کی مانگ کا ایک بڑا سبب فروغِ کتب بینی کے لیے نئے نعروں اور نئے منصوبوں کو متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود اہم منصوبوں کو دوبارہ فعّال بنانا اور اُن کی اہمیت و افادیت کو بحال کرتے ہوئے عوام النّاس کی ایک بڑی تعداد کو ان سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ این بی ایف کی کتاب دوستی اور کتاب بینی کے اس سفر میں مہمیز کر دینے والے منصوبوں اور اسکیموں میں این بی ایف کی 45سالہ تاریخ میں پہلی بار امّ القرآن(قرانِ پاک) کی اشاعت، دارالمصنفین سے ایک معاہدے کے تحت ’’سیرۃ النبیؐ‘‘ کی اشاعت، کتابوں کی سیل کا نیا فول پروف کمپیوٹرائزڈ نظام، ہر کتاب کی اشاعت پر رائلٹی کی بروقت ادائیگی، ملک بھر میں 3سے 5روزہ قومی کتاب میلوں کا خصوصی اہتمام و انصرام سے انعقاد، ان میلوں کے لیے ترتیب دیئے جانے والے پروگراموں میں جدّت اور پُرکشش پیشکش،’’شہرِ کتاب‘‘ کے عنوان سے اسلام آباد میں مستقل کتاب میلوں کا سلسلہ ، این بی ایف ماڈل بک شاپ اور کتاب کیفے کا آغاز ، ملک میں اپنی نوعیت کے منفرد ’’این بی ایف نیشنل بک میوزیم‘‘ کا آغاز، بکس آن وہیل یعنی کتاب آپ کی دہلیز پر کے نام سے مفید منصوبہ، ملک بھر میں این بی ایف کی 24آؤٹ لیٹس(بک شاپس) پر خالصتاً علمی ماحول کی فراہمی، کراچی آفس میں موجود بریل بُکس کمپلیکس جگہ کی تبدیلی اور بریل پریس کی اَپ گریڈیشن سمیت این بی ایف کے دیگر شہروں کے مراکز کی بین الاقوامی معیار کے مطابق تزئینِ نو اور وہاں بینک کارڈزاور وائی فائی کی سہولتیں، این بی ایف ریڈرز بک کلب ممبر شپ کے تحت55فیصد خصوصی ڈسکاؤنٹ پر کتب کی فراہمی، این بی ایف یونیورسٹی بک شاپ/کلب کا آغاز، ’’پرزنرز فری مائنڈ بک کلب‘‘ کے تحت جیلوں کے قیدیوں کے لیے کتب کی فراہمی ، لاہور اور کراچی ایئر پورٹس پر ٹریولرز بک کلب کا قیام ، پانچ ریلوے اسٹیشنوں پر ٹریولرز بک شاپس کا قیام، ایس ایم ایس اور ای میل سروس کا آغاز، ای بک اور وٹس اَیپ کا آغاز، این بی ایف پبلی کیشنز کی توضیحی ببلو گرافی، دیگر ممالک کے سفارتخانوں کی وساطت سے ان کی ڈیمانڈ پر پاکستان کے سافٹ امیج کو پروموٹ کرنے کے لیے کتب کے عطیات کی فراہمی ، تحریکِ پاکستان ، قائداعظم اور علامہ اقبال پر اردو ، انگریزی اور پاکستانی زبانوں میں چھپنے والی کتب کے مصفنفین کو نقد انعامات کا اہتمام ، این بی ایف بک شاپس میں نامور ادیبوں اور اہلِ قلم کے نام سے خصوصی کارنرز کا قیام، این بی ایف صدر دفتر میں دیگر ممالک کے سفارتخانوں کے تعاون سے خصوصی گوشوں کا قیام، نیشنل بک پارکس کا قیام ، کتب کیفے کا آغاز اور کتابوں کی سیل اینڈ ڈسٹری بیوشن کے جدید نظام کا نفاذ شامل ہیں۔لوگوں کو کتاب کی طرف راغب کرنے کے لیے ہیڈ آفس میںبطورِ خاص اور این بی ایف کے ذیلی دفاتر میں عمومی طور پر علمی و ادبی ماحول فراہم کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ہیڈ آفس میں نیشنل بُک میوزیم ، نیشنل بُک پارک اور دیگر خصوصی گوشوں کی صورت میں دفتر کے ہر کونے کو کتاب سے آراستہ کیا گیا ہے۔

ملک کے سب سے مستند اشاعتی ادارے ہونے کے باعث نیشنل بک فاؤنڈیشن کو ایشیاء پیسفک تنظیم کے نائب صدر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور این بی ایف ایشیاء کے کئی ممالک میں اشاعتِ کتب اور اس سے متعلقہ امور کے حوالے سے پاکستان کی نمائندگی کر چکا ہے ۔ صدر دفتر اسلام آباد میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کی مرکزی بک شاپ ایک جدید بک شاپ کا نمونہ پیش کرتی ہے جہاں ہمہ وقت 20ہزار سے زائد کتب کا ذخیرہ موجود ہے جب کہ یہاں اردو کے نامور جیّد مشاہیر کے خصوصی گوشے آنے والوں کے لیے کشش کا باعث ہیں۔ علامہ اقبال، انتظار حسین، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، احمد ندیم قاسمی، عطاء الحق قاسمی اور سعادت حسن منٹوکے ان خصوصی گوشوں میں ان مصنفین کی کتب دستیاب ہیں۔ اس آؤٹ لیٹ میں این بی ایف کی بہت بڑی تعداد میں کتب کے علاوہ ملک بھر کے معروف پبلشرز اور نام ور رائٹرز کی سینکڑوں ہزاروں کتب 15سے 33فیصد رعایت پر دستیاب ہیں جب کہ این بی ایف کی شائع شدہ بکس پر خریداروں کو 15تا40فیصد رعایت حاصل ہے ۔ اس مرکزی بک شاپ میں علم و ادب ، حکمت و دانائی، فلسفہ ، اسلامی کتب ، خواتین، بچوں کے ادب کی کتب، تاریخ، سفرنامے، سوانح حیات ،ناول، حالاتِ حاضرہ، اردو ادب کی تاریخ کی کتب ، ملک کی علاقائی زبانوں کی کتب ، کلاسیکل شعراء کے کلام کا انتخاب مع اردوترجمہ ، بچوں کے لیے ’’کڈز ری پبلک‘‘ کے نام سے خصوصی گوشہ، بریل بکس ، عالمی ادب کے تراجم کی کتب ، عظیم کتب سیریز کے سلسلے کی کتب، پاکستانیات کے موضوع کی کتب ، بچوں کی کہانیوں کی کتب ، غرض ہر موضوع کی معیاری کتابیں سستے داموں دستیاب ہیں۔اشاعتی منصوبوں کے اسی تسلسل میں این بی ایف نے منفرد انداز کے ’’غزل کیلنڈر‘‘ اور ’’نظم کیلنڈر‘‘ بھی شائع کیے جنہیں بہت پذیرائی ملی ۔یہ سلسلہ اب دیگر اصنافِ سخن کے حوالے سے جاری ہے۔
نیشنل بک فاؤنڈیشن نے اٹھارویں ترمیم کے بعد فیڈرل ٹیکسٹ بورڈ کی حیثیت سے پہلی سے بارہویں کلاس تک کی کتب کی اشاعت اور اِن کی بروقت فراہمی کی ذمہ داری بھی بہ طریقِ احسن نبھائی ہے۔ خاص طور پر پچھلے چار برسوں میں نصابی کتب کا معیار بین الاقوامی سطح تک لے جایا گیا اور سرورق سے لے کر متون کی صحت کو باریک بینی سے دیکھتے ہوئے اغلاط سے پاک کتب شائع کی گئیں۔ نصابی کتب کے ماہر ایڈوائزر کی خدمات حاصل کی گئیں اور ایسا این بی ایف کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ نامساعد حالات کے باوجود نصابی کتب کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔

نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی جنرل بُکس اس ادارے کی شناخت ہیں۔ این بی ایف نے اپنے بنیادی مقاصد کے تحت قارئین کو دُنیا کی عظیم اور بڑی کتب کی اشاعت اور اُن کی فراہمی کا بھی ایک سلسلہ ’’عظیم کتب سیریز‘‘ کے نام سے شروع کیا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں ادارۂ فروغِ قومی زبان(مقتدرہ) کی شائع شدہ دُنیا کی عظیم کتب کو جو کہ اب تقریباً ناپید ہو چکی ہیں انہیں از سرِ نو بہت کم قیمت پر شائع کیا اور تشنگانِ علم کو سیراب کیا۔ اس سیریزکے تحت50کتب میں سے 8چھپ چکی ہیں جن میں ارسطو کی بوطیقا، اوسوالڈ سپینگلر کی زوالِ مغرب(حصہ اول و حصہ دوم)، زرنُوجی کی تعلیم المتعلم، ابنِ سینا کی کلیاتِ قانون اور الاشارات و التنبیہات، ژاں ژاک رُوسوکی معاہدۂ عمرانی اور نکولو میکیا ولی کی کتاب بادشاہ چھپ چکی ہیں جبکہ ارسطو سمیت ایک دو کتب کے پہلے ایڈیشن فروخت ہو چکے ہیں اور اب وہ دوبارہ شائع کیے جا رہے ہیں۔ ’’عظیم کتب سیریز‘‘ کے علاوہ این بی ایف نے ہر اُس موضوع پر اوسط ضخامت کی کتب شائع کی ہیں جنہیں قارئین پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جب کہ بعض ایسے موضوعات پر بھی این بی ایف نے کتب شائع کی ہیں جن پر اس سے پہلے کام نہیں ہوا تھا۔ یہ ایک طرح سے نیشنل بک فاؤنڈیشن کا اختصاص ہے۔ اس قومی ادارے نے انگریزی اور اُردو زبانوں اور تراجم کی نادر کتب شائع کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سارے صوبوں میں بولی جانے والی پاکستانی زبانوں کی کتابوں کے انتخاب بھی سلیس اور آسان اُردو ترجمے کے ساتھ شائع کیے ہیں جو بہت زیادہ پسند کی گئیں اور اسی پسندیدگی کی وجہ سے اُن کے کئی کئی ایڈیشن کئی کئی ہزار کی تعداد میں شائع ہوئے ۔ ان میں نامور صوفی شعراء بابا فرید، بلھے شاہ، وارث شاہ، شاہ حسین، سیف الملوک ،مست توکلی، خوشحال خان خٹک، شاہ عبداللطیف بھٹائی، رحمان بابا اور دیگر شامل ہیں۔این بی ایف کے کتاب آشنائی اور کتاب فہمی کے اس سفر میں ادارے کا علمی و ادبی جریدہ ’’کتاب‘‘ بھی شریکِ عمل ہے۔ اسی طرح پاکستان ریلویز کے اشتراک سے شائع ہونے والا ششماہی ٹائم اینڈ فیئر ٹیبل’’مسافر‘‘ کے ذریعے بھی این بی ایف نے اپنا پیغام قارئین تک پہنچایا ہے۔ این بی ایف کی دیگر شہروں بشمول کراچی، لاہور ، ملتان ، کوئٹہ ، پشاور، واہ کینٹ، حیدر آباد، ڈی آئی خان ، سکھر، فیصل آباد اور کئی دوسرے مراکز پر بھی کم وبیش مرکزی بک شاپ کی طرح کی تزئین و آرائش کی گئی ہے۔ ان بک شاپس میں LED، کمپیوٹر سسٹم اور دیگر جدید سہولتیں موجود ہیں۔ این بی ایف کی مرکزی بک شاپ میں ادارے کی اپنی مطبوعات کے علاوہ تمام بڑے پبلشرز کی کتب سمیت لغات، تحقیقی کتب ، سوانح، سفرناموں ، حکمت و دانش اور تاریخ کے موضوع پر بھی مستند کتابیں موجود ہیں۔

کتاب کی اہمیت کو اُجاگر کرنے ، اس کی افادیت کو ذہن نشین کرانے اور مسلسل مطالعے کی عادات کو اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنانے کے لیے نیشنل بُک فاؤنڈیشن نے اپنے نگراں ادارے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے وژن کو رہنما بنایا ہے اور اپنے مقاصدِ اُولیٰ کے حصول کے لیے اپنے ڈویژن کے بھرپور تعاون سے سفرِ کتاب دوستی میں زیادہ تیزی پیدا کی ہے۔این بی ایف ایک طرح سے حکومتی سرپرستی میں چلنے والا سب سے بڑا State owned پبلشنگ ہاؤس بن چکا ہے جو دیگر پبلشرز اور بک سیلرز تک کی پوری بُک انڈسٹری کو بھی ساتھ لے کر چل رہا ہے۔ نیشنل بُک فاؤنڈیشن نے اپنے منصوبوں اور اپنی حکمتِ عملی کے ذریعے مصنف کے کیے جانے والے استحصال کا راستہ بھی روکا ہے اور ایک شفاف میکنزم کو اپناتے ہوئے اپنے نعرے ’’امن انقلاب بذریعہ کتاب‘‘ کو قارئین کے دلوں تک پہنچایا ہے ۔ نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی کتاب دوستی اور فروغِ کتب بینی کے لیے خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے اور ادارے کا یہ سفر ایک دعوتِ فکر کی طرح مسلسل جاری ہے۔

 

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

four × two =