نشان نہیں چھوڑنا

نشان نہیں چھوڑنا

’ نشان نہیں چھوڑنا‘۔ بہت ہی خوفناک کہانیاں۔ امریکہ اور مغربی ممالک چوری چھپے کیا کرتے ہیں۔ کرایے کے سپاہی کتنے خطرناک ہیں۔ کتنے کنٹریکٹر ہیں جو خفیہ طور پر ہر وقت سرگرم ہیں۔ دیکھنے میں یہ تاجر یا پروفیسر لگتے ہیں ۔ مگر وہ اپنے آقاؤں کے کہنے پر موت کے کھیل کھیل رہے ہوتے ہیں۔
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ ہاتھوں پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
یہ کسی قسم کا ثبوت یا نشان نہیں چھوڑتے۔ ان پر خرچ ہونے والے کروڑوں ڈالروں کا کوئی حساب بھی نہیں ہوتا۔ پڑھئے اور پریشان ہوتے رہئے۔

شامی باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے امریکہ نے ملٹری کنٹریکٹرز کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرکے خفیہ طور پر شام بھیجا اور لیبیا میں نیٹو کے چھوڑے ہوئے ہتھیار القاعدہ سے خرید کر شامی باغیوں کو فراہم کیے ۔مسلسل دو عشروں تک القاعدہ کے خلاف پروپیگنڈے اور اسامہ بن لادن کو گالیوں سے نوازنے کے باوجود جب امریکہ کو ضرورت پڑی تو اس نے اسی القاعدہ کو استعمال کیا۔ شام میں جاری عالمی کھیل کے بارے میں دلچسپ سچی کہانی کا تیسرا حصہ۔
میں بلغاریہ سے برطانیہ ہوتا ہواکیلیفورنیا واپس لوٹا تو مسلسل جنرل صابر اور اس کے ساتھی مجاہدین کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ وہ اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر شامی شہریوں کے قافلوں کو سرحد پار کرارہے تھے اور مسلسل شامی فوج کا نشانہ بن رہے تھے۔میں نے جنوری 2012 کا زمانہ بھاری دل کے ساتھ ٹیلی ویژن پر شامی شہریوں کی حالت زار کے بارے میں خبریں سنتے اور پڑھتے گزارا۔ عالمی طاقتیں مصلحتوں کا شکار تھیں۔ انہیں شامی شہریوں کی تکلیفوں سے حقیقی معنوں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی اور شام کے معاملات کے بارے میں بھی ان کا یہی رویہ تھا۔ ہر روز شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہورہا تھا اور لٹے پٹے شامی مہاجرین کے قافلے ترکی اور اردن میں پناہ لے رہے تھے۔امریکا اور اس کے اتحادی بیان بازی اور زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں کررہے تھے۔میری مایوسی میں روز بروز اضافہ ہورہا تھا۔میں نے شام میں جو دہشت ناک واقعات دیکھے ان کا منظر بار بار نظروں کے سامنے آجاتا تھا۔ہر وقت کیمیائی ہتھیاروں کا نشانہ بننے والے بچوں اور عورتوں کی لاشوں کی تصویریں میری نظروں کے سامنے ناچتی رہتیں۔ رات کو میں چین کی نیند نہیں سو سکتا تھا اور مجھے خوفناک خواب جگا دیتے۔ میں یہ سب بھلانے کے لیے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ فلمیں دیکھنے چلا جاتا یا ساحل سمندر پر گھنٹوں پیڈل سرفنگ کرتا۔ میں اکثر اپنی گرل فرینڈ کی بیٹی اولیویا کو جوڈو کلاسوں میں شرکت کے لیے لے جاتا تو وہیں بیٹھ جاتا۔ اور بچوں کو
جوڈو سیکھتے دیکھتا رہتا۔ ایک دن میں وہیں تھا کہ مجھے اپنے موبائل پر مائیکل ایس کا پیغام ملا کہ اپنے ہاٹ میل اکاؤنٹ میں میل چیک کرو۔ یہ اکاؤنٹ میں نے اسی مقصد کے لیے بنایا تھا۔ میں نے میل کھولی تو مائیکل ایس نے لکھا تھا،’’رائے نمبر 2 درست ہے‘‘۔ میںنے میل کو فوراً ہی ڈیلیٹ کردیا۔ اب مجھے ایک مرتبہ پھر مائیکل کے ساتھ یوٹاہ جانا تھا۔ مائیکل نے مجھے بتایا کہ اب ہم ہتھیاروں کی خریداری کے لیے ’’القاعدہ ان دی اسلامک مغرب‘‘ سے بات کریں گے۔ یہ سن کر مجھے حیرت ہوئی۔ میں نے مائیکل سے کہا کہ ایک سال پہلے القاعدہ کے انہی جہادیوں سے ہم عراق میں لڑ رہے تھے۔مائیکل نے کہا کہ اسے یہ سب معلوم ہے اور وہ خود اس مقصد کے لیے القاعدہ کو استعمال کرنا اچھا نہیں سمجھتا۔لیکن بلغاریہ میں بورس سے سودے بازی میں ناکامی کے بعد اب کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا تھا۔اس نے کہا کہ امریکی حکومت اس پورے معاملے کو انتہائی پوشیدہ رکھنا چاہتی ہے اور یہ بے حد حساس معاملہ ہے۔ ہمیں اس پورے مشن میں کہیں کوئی نشان نہیں چھوڑنا ہے۔ میں نے مائیکل سے دوسرا سوال کیا،’’کیا وہ ہم کو ہتھیار بیچنے پر تیار ہو جائیں گے؟‘‘۔
’’یقیناً‘‘ مائیکل نے جواب میں کہا،’’وہ اس کام میں ہماری مدد کرنے کو تیار ہیں کیونکہ یہ ہتھیار شام میں ان کے دوستوں کی مدد کے لیے خریدے جا رہے ہیں۔ ان کے یہ دوست النصرہٰ بر یگیڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں سے بعض فری سیرین آرمی کے بہترین لڑاکا جنگ جو ہیں۔وہ سب بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے کام کررہے ہیں‘‘۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہ عالمی کھیل کس قدر پیچیدہ ہے۔مائیکل کہہ رہا تھا،’’ہم اس جنگ میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ ہم مین پیڈ، اسٹنگر، اور دوسرے ہتھیار لیبیا میں القاعدہ سے خریدیں گے اور شام میں فری سیرین آرمی کو پہنچائیں گے۔ دنیا کو اس کی کانوں کان خبر نہیں ہوگی کہ یہ ہتھیار ہم نے شام پہنچائے ہیں۔ لوگ یہی سمجھیں گے کہ یہ ہتھیار القاعدہ نے شام میں اپنے دوستوں کی مدد کے لیے بھیجے ہیں‘‘۔ میں اگرچہ اس تمام منصوبہ بندی سے مطمئن نہیں تھا لیکن جنگ اور محبت میں سب جائز ہے اور میں فری سیرین آرمی کے جنرل صابر کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ میرے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔اگر میں ذرا بھی تاخیر کرتا تو ممکن ہے کہ شامی فوج جنرل صابر اور ان کے ساتھیوں کا صفایا کردیتی۔ اس طرح ہزاروں نہتے شامی مہاجرین کی جانیں خطرے میں پڑ جاتیں۔
منصوبے کے تحت مجھے بن غازی، لیبیا جانا تھا جہاں القاعدہ سے سودے بازی کے لیے ایک نجی کمپنی قائم کی گئی۔ یہ کمپنی ہتھیار خریدتی اور پھر ہتھیاروں کو کردستان منتقل کیا جاتا جہاں اس کا دوسرا مرکز تھا۔کردستان سے یہ ہتھیار زمینی راستے سے شام منتقل کیے جاتے۔ میں اپنی زندگی میں لیبیا پہلے کبھی نہیں گیا تھا۔لیکن جنرل صابر اور شامی شہریوں کی مدد کرنے کی سبیل پیدا ہورہی تھی اور میں اس کے لیے ہر کام کرنے کو تیار تھا۔ چنانچہ میں نے اگلے ہی دن لندن کی پرواز پکڑ لی۔ ہیتھریو پر اترنے اور باہر نکلنے کے بعد میں نے ڈیرن ایف کا ایک ایس ایم ایس پیغام وصول کیا،’’اپنی منزل پر پہنچنے کے بعد مجھ سے رابطہ کرو‘‘۔ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا چاہتا ہے؟ میں نے نائیٹس برج ہوٹل میں ایک کمرہ لیا اور وہاں منتقل ہوگیا۔
مجھے یقین تھا کہ وہ خود ہی مجھ سے دوبارہ رابطہ کرے گا۔ مجھے اپنے کمرے میں پہنچے 20 منٹ ہوئے تھے کہ فون دوبارہ بج اٹھا۔اس نے مجھ سے تھا کہ میں شام کی چائے کے لیے اسی ہوٹل کے نچلے زینوں کے قریب کرامل روم میں پہنچ جاؤں جہاں کیک اور پیسٹری کے ساتھ جدید فیشن میں چائے پیش کی جاتی تھی۔ ہتھیاروں کی خریداری جیسے سودوں پر بات کرنے کے لیے یہ کوئی مثالی جگہ نہیں تھی لیکن یہاں رومانی ماحول تھا اور دوپہر کے بعد زیادہ بھیڑ نہیں ہوتی تھی اس لیے کسی کو آسانی سے تلاش کیا جاسکتا تھا۔ڈیرن کسی تھریلر جاسوس کی طرح کے سوٹ اور ٹوری ٹائی میں ملبوس نمودار ہوا۔ اس کے چہرے پرپراسرار سختی تھی۔چائے پر ہمارے درمیان اس طرح گفتگو ہورہی تھی جیسے دو بچھڑے ہوئے دوست طویل عرصے بعد ملے ہوں۔ وہ بعض اوقا ت اتنی تیزی سے بات کرتا تھا کہ آدھی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ سب جان بوجھ کر ہوتا تھا تاکہ اگر کوئی ہماری جاسوسی کررہا ہو تو ملاقات کو ایک عمومی روایتی ملاقات سے زیادہ حیثیت نہ دے۔اس کی ایک بری

عادت مسلسل اپنے کندھوں کے اوپر سے جھانکنا تھی۔ اتنی دیر کی بات چیت سے صرف ایک ہی نتیجہ نکلا کہ ہم یہاں سے اٹھ کر ایک پرانے دوست کولن سے ملنے جائیں گے۔
’’جو بھی تمہاری خواہش ہو، مجھے کوئی اعتراض نہیں‘‘ میں نے کہا۔
کولن اس کا ایک پرانا برٹش اسپیشل فورسز کا آپریٹر تھا جس کے کردستان میں حکمراں برزانی قبیلے میں گہرے تعلقات تھے۔ڈیرین اور میں نے اپنی چائے ختم کی اور ا سکے بعد ایک ٹیکسی کے ذریعہ بدنام برکلے کلب گئے۔ایک سیکیورٹی ڈیسک سے گزرنے کے بعد ہم پہلی منزل کے ایک ڈائننگ روم کے دروازے پر پہنچے جہاں ایک ویٹر ہمارا منتظر تھا جو ہمیں کولن تک لے گیا۔ کولن ایک کھڑکی کے قریب لگی ہوئی میز پر بیٹھا ایک’’ڈوور سول‘‘ کھانے میں مصروف تھا۔ وہ بے حد خوش لباس تھا اور 60 کے پیٹے میں تھا۔ وہ عالمی حالات پر اس طرح بولتا تھا کہ ا سکے بارے میں ایسا تصور ہوتا تھا جیسے وہ دنیا کے چند لوگوں میں شامل ہے جو عالمی کھیل کھیل رہے ہیں۔ کولن نے تاخیر کیے بغیر اپنا منصوبہ ہمارے سامنے رکھ دیا۔ اس منصوبے کے مطابق مجھے شمالی عراق جانا تھا جہاں ایک مقامی کمپنی امادہ بیش کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ سیکیورٹی کمپنی قائم کرنا تھا۔ امادہ بیش ایک تیل کمپنی کے ساتھ سیکیورٹی کے ٹھیکے لے گی جو کردستان میں کام کرتی تھی۔ کولن نے کہا کہ یہ کام بے حد آسان ہے کیونکہ ٹھیکے جاری کرنے والی تیل کمپنی اس کی اپنی ضمنی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔جب یہ کام مکمل ہوجائے گاتو میں نئی کمپنی کا عملہ بھرتی کروں گا جو سابق جنرل ابراہیم سمیر انور کی کمان میں کئی سو جنگ جوؤں پر مشتمل پیش مرگہ سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ جنرل ابراہیم سمیر انور حکمران برزانی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام سے بھی اس کا تعلق ہے۔وزارت داخلہ تمام سیکیورٹی کمپنیوں کو لائسنس جاری کرتی ہے اور ان کی نگرانی کی ذمہ دار بھی ہے۔جنرل کی کمپنی میں ایک نوجوان ایسو انور بھی کام کرتا ہے جو کردستان کے ڈائرکٹر جنرل سیکیورٹی کا بیٹا ہے۔ یہ تنظیم کردستان کی سی آئی اے یا سیکرٹ سروس ہے۔کولن نے تجویز دی کہ میں اپنی کمپنی میں اس نوجوان کی خدمات حاصل کرلوں تاکہ سرخ فیتے اور دوسری دفتری رکاوٹوں سے بچا جاسکے۔
کولن نے کہا کہ اس کے بعد ہر کام آسان ہوجائے گا۔ہمیں آتشگیر اسلحہ کے لیے لائسنس لینے ہوں گے اور پھر انہیں بیرون ملک سے درآمد کرنا ہوگا۔یہ ہتھیار قانونی طور پر درآمد کیے جائیں گے اور کردستان ہی کی ایک سیکیورٹی کمپنی ان کی خریداری کررہی ہے۔ جس کے پاس ان ہتھیاروں کا ’’اینڈ یوزر سرٹیفکیٹ‘‘ ہوگا۔ جو بات ہم کسی کو نہیں بتائیں گے وہ یہ کہ جونہی یہ ہتھیار کردستان میں داخل ہوں گے ہم انہیں فلیٹ بیڈ ٹرکوں پر لوڈ کریں گے اور انہیں سرحد پار شام لے جائیں گے۔
’’جب ہم شام میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے تو مقامی سرحدی محافظ ہمیں روکیں گے نہیں‘‘، میں نے پوچھا۔
ڈیرن نے جواب میں کہا ،’’سائمن! اس خطے میں دو چیزیں خوب کام کرتی ہیں۔ نقدی اور خاندان۔ تم کو دونوں چیزیں حاصل ہیں۔ تمہیں کوئی نہیں روک سکتا، یہاں تم حقیقت میں کاروبار کرسکتے ہو‘‘۔
’’بالکل درست‘‘ کولن بولا۔
میرا دماغ گھوم رہا تھا۔ میرا اس قسم کے کاروبار سے کبھی واسطہ نہیں پڑا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ کیا یہ کام اتنا ہی سادہ ہوگا جیسا بظاہر نظر آرہا ہے۔ ڈیرن نے میری تشویش کو اپنے ہاتھ کی حرکت سے دور کرنے کی کوشش کی اور بولا،’’پریشان مت ہو! اولڈ بوائے! مختلف گروپوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کا یہ کام ہم سیکڑوں مرتبہ کر چکے ہیں‘‘۔
ہم یہاں سے اٹھے اور مے فیئر گئے جہاں ہمیں جنرل ایکسٹن ایس سے ملنا تھاجو شمالی افریقہ خاص طور پر لیبیا میں ہتھیاروں کے ذخائر کے بارے میں غیر معمولی معلومات رکھتا تھا۔وہ مختلف ملکوں کی سرحدوں کے آر پار غیر قانونی ہتھیاروں کی منتقلی میں بھی مہارت رکھتا تھا۔ اینکسٹن نے میرا منصوبہ انتہائی دلچسپی سے سنا۔ ا سکے سوالات تجزیاتی اور گہرائی لیے ہوئے تھے۔ ’کون کون ہتھیاروں کی منتقلی میں کردار ادا کرے گا؟ ہم کب یہ کام شروع کریں گے؟ ہم شام میں یہ ہتھیار کس جگہ پہنچائیں گے؟ ہمیں کن مقاصد

کی تکمیل کی امید ہے؟
ہم کوئی ایک گھنٹے تک اس منصوبے کی جزیات پر اظہار خیال کرتے رہے۔ اس کے بعد ڈیرن کو کسی اور کلب میں ایک اور میٹنگ میں شرکت کرنی تھی اس لیے میں ایک ٹیکسی لے کر اپنے ہوٹل واپس روانہ ہوگیا۔ پچھلی نشست پر بیٹھ کر میں سوچ رہا تھا کہ کیا اس کلب میں دوسرے لوگ بھی ہماری طرح کوئی جاسوس تھے اور کسی ایجنسی کے لیے کام کرتے تھے؟ میں نے خود سے پوچھا کہ کیا عوام کو کوئی تصور بھی ہے کہ دنیا بھر میں تبدیلیاں لانے اور انقلاب برپا کرنے کے فیصلے ساٹھ سالہ عمر کے حامل بڈھے یا ادھیڑ عمر جاسوس اور تاجر شراب کی ایک بوتل اور ڈوور سول کی ایک پلیٹ پر بیٹھ کر کررہے تھے۔ میں ابھی اپنے کمرے میں پہنچا ہی تھا کہ واشنگٹن سے مائیکل ایس کی کال آگئی۔ اس نے بتایا کہ وہ اور سیرین سپورٹ گروپ کے دیگر ممبران ایک فری لانس فوٹو گرافر ریان کے ساتھ رابطے میں ہیں جو ہمارے ساتھ شام میں تھا۔ مائیکل نے کہا کہ ہمیں شامی فوج کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مزید شہادتوں کی ضرورت ہے۔ مائیکل نے مجھے ہدایت کی کہ میں ریان
سے رابطہ کرلوں اور اس کے بنائے ہوئے فوٹو حاصل کروں۔ میں کئی ملاقاتوں میں تھک کر چور ہوچکا تھا لیکن کارمل روم میں پہنچا جہاں تھوڑی دیر میں ریان بھی آگیا۔ اس کی بنائی ہوئی سب تصویریں اس کے لیپ ٹاپ میں تھیں۔ میں دیر تک یہ تصویریں دیکھتا رہا۔ ایسی بھیانک تصویریں انسانی ذہن پر جو اثر ڈالتی ہیں اس کا عام آدمی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ میں سوچ رہا تھا کہ جب امریکی حکومت خفیہ طور پر اس آپریشن کی منظوری دے چکی تھی تو ان مزید تصویروں کی کیا ضرورت تھی۔تاہم میں نے کچھ اور تصویریں ریان سے خرید لیں۔
اگلے دن میں طیارے سے کیلیفورنیا واپس جارہا تھا تاکہ ایک ہفتے کی چھٹی اپنی گرل فرینڈ میا اور اسکی بیٹی اولیویا کے ساتھ گزار سکوں۔وہ میرے کام کی نوعیت سے قطعی واقف نہیں تھی اور میری پوری کوشش ہوتی تھی کہ خود کو ایک نارمل آدمی کی طرح پیش کروں۔اس دوران مائیکل، ٹیڈ اور مختلف ماہرین قانون اور اکاؤنٹنٹس ساتھ بیٹھے ایک برطانوی سیکیورٹی کمپنی کے مالی امور پر میٹنگ کررہے تھے جو میں نے کئی سال پہلے ’’سیؤن ریسورسز‘‘ کے نام سے قائم کی تھی۔ انہوں نے اس کمپنی کے حسابات تیار کیے تاکہ اس کو ٹیکس آفس سے منظور کرا سکیں۔ جب یہ کام مکمل ہوگیا تو میں نے کیلیفورنیا میں اسی کمپنی کی ایک شاخ قائم کی جس میں سیؤن ریسورسز، لندن کے 51 فی صد اور ایک امریکی شہری کریگ پی کے 49 فی صد حصص تھے۔ اس کے بعد سیؤن ریسورسز لندن نے کمپنی کی امریکہ شاخ کے بنک اکاؤنٹ میں فنڈز کی منتقلی شروع کی۔ یہ بنک اکاؤنٹ ایچ ایس بی سی، وین نائز برانچ میں تھا۔ ا سکے بعد میں اور کریگ نے اس کمپنی کے دفتر کے لیے ساز و سامان خریدنا شروع کیا۔اس کا مقصد صرف یہ ظاہر کرنا تھا کہ سیؤن ریسورسز ایک قانونی کمپنی تھی۔اب میں اپنی ٹیم کے ساتھ اپنے مشن پر جانے کے لیے تیار تھا۔میں اور مائیکل لاس اینجلس سے پیرس، پھر پیرس سے عمان، اردن؛ وہاں سے اربیل، کردستان گئے۔ اربیل ائر پورٹ پر ہمارا استقبال آسو انور نے کیا جس کا باپ اسپیشل پروجیکٹس، پولیس کا چیف تھا۔آسو انور ہمیں ائر پورٹ سے روٹنا ہوٹل لے گیا۔کم سنی کے باوجود وہ بے حد تجربہ کار تھا اور دنیا بھر کا سفر کر چکا تھا۔ وہ ہمیشہ دھیمے اور نرم لہجے میں بات کرتا ۔ اس نے پانچ سال برطانیہ میں گزارے تھے اور اسی وجہ سے بہترین انگریزی بولتا تھا۔ وہ برطانیہ میں بس ڈرائیور رہا اور اس نے کباب کی ایک دکان بھی چلائی۔ہر موسم گرما میں وہ ترکی، رومانیہ اور چیک جمہوریہ ہوتے ہوئے جرمنی جاتا اور وہاں استعمال شدہ بی ایم ڈبلیو کاریں خریدتا۔ اس کے بعد وہ کردستان واپس آتا اور خطیر منافع پر فروخت کرتا۔
اربیل شہر نے مجھے حیران کردیا۔یہ شہر بغداد کی طرح کچرا خانہ نہیں تھا۔اور نہ ہی یہاں کسی جنگ زدہ عمارت کے کھنڈر نظر آتے۔اربیل دبئی کی طرح انتہائی خوبصورت شہر تھا جہاں جدید دنیا کی ہر شے دستیاب تھی۔یہاں جدید ترین گلاس ٹاورز بھی تھے اور قدیم اسلامی آرکیٹکچر کا شاہکار عمارتیں بھی۔ یہاں انتہائی خوبصورت باغات تھے۔ شہر کی تمام سڑکیں پختہ اور جدید معیار کی تھیں۔یہ دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شامل تھا جس کی بنیاد 6000 قبل مسیح میں پڑی۔ یہاں برزانی قبیلے کی حکومت تھی۔ اس کے اردگر کا علاقہ عراقی کردستان تھا۔اس سے قبل یہ شہر سلطنت عثمانیہ میں شامل تھا۔موجودہ صدر مسعود برزانی تھا جو حکمراں کردش ڈیموکریٹک پارٹی کا سربراہ بھی تھا۔ 1992 کے بعد سے کردستان کو عراق میں داخلی خودمختاری حاصل تھی۔یہاں دنیا کے چھٹے سب سے بڑے تیل کے ذخائر تھے اور اسی وجہ سے مغرب کی خصوصی توجہ اور دلچسپی کا مرکز تھا۔ مغربی دنیا کے مفادات کی وجہ سے دنیا بھر کی انٹیلیجنس ایجنسیاں اس علاقے میں سرگرم تھیں۔( جاری ہے)

 

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

four × three =