میری کہانی میری زبانی

میری کہانی میری زبانی

پروفیسر فرحت عظیم سر سید گرلز کالج کی پرنسپل رہی ہیں۔ زندگی کا ایک طویل دَور تدریس کے مقدس پیشے میں گزارا۔ سیرت النبیؐ پر کتابیں لکھیں۔ اعزاز بھی حاصل کیے۔ان کی شاگردوں کی بڑی تعداد اندرون ملک اور بیرون ملک موجود ہے۔ ’اطراف‘ کو فخر حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی خود نوشت کے لیے اس کے صفحات کو چُنا۔ پہلی تحریر ملاحظہ کیجئے اور پھر ہر سطر آپ کے دامنِ دل کو پکڑ لے گی۔یہ ملک جسے آج چند طالع آزماؤں نے اپنی لوٹ مار کا ہدف بنالیا ہے۔ دیکھئے گا اس کے لیے ہمارے بزرگوں نے کس طرح قربانیاں دیں۔ کس طرح وہ زخم زخم پاکستان پہنچے۔ بچھڑے ہوئے کس طرح ملے۔ بہت ہی دل نشین انداز۔ الفاظ کا چُناؤ بر محل۔ پڑھئے اور اپنی رائے دیجئے۔

میرے والد بتاتے ہیں کہ ۔۔۔
قیام پاکستان سے قبل ہم دہلی میں رہا کرتے تھے۔ میری ایک بہن اور دو بھائی مجھ سے بڑے تھے میں سب سے چھوٹا تھا۔ رشتے داروں کے گھر بھی قریب ہی تھے تقریباً پورا خاندان کم اور زیادہ فاصلے سے یہیں آباد تھا۔ مالی اعتبار سے ہمارا گھرانہ متوسط تھا۔ سب کی طرح ہمارے ہاں بھی گھر کے اندر کی تمام ذمہ داری میری ماں کی اور باہر روزگار سے لے کر تمام ضروریات زندگی مہیا کرنا میرے ابا کی ذمہ داری تھی۔ میرے دو بڑے بھائی بہت زیادہ بڑے تو نہیں تھے لیکن اُس زمانے کے لحاظ سے گھر کا بوجھ اٹھانے کے قابل تھے سو وہ بھی کچھ محنت کرکے کمالاتے تھے بہن، میری ماں کا گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتی تھی۔ اب رہا میں، تو سب کی خواہش اور تمنا تھی کہ میں خوب پڑھوں اتنا پڑھوں کہ باقی بہن بھائیوں کی کسر پوری کردوں اس لحاظ سے میں، ماں، ابا اور سب بہن بھائیوں کی توجہ کا مرکز تھا۔ میں دس سال کا ہوگیا تھا، لیکن میری ماں مجھے اپنے ساتھ ہی سلاتی تھی میں بھی اُس کے ساتھ سونے کا عادی ہوگیا تھا۔ میرے کپڑوں کا خیال بھی سب کے مقابلے میں زیادہ رکھا جاتا تھا

میری ضرورتیں بھی سب سے پہلے پوری ہوتیں۔ پرائمری اسکول میں پڑھنے جاتا تھا اور ابھی سے خاندان میں پڑھا لکھا مشہور ہوگیا تھا۔ خاندان میں بھی اِسی نظر سے دیکھا جانے لگا تھا کہ میں پڑھ لکھ کر خاندان کا نام روشن کروں گا۔ سارے رشتے داروں کے گھر ہی قریب نہ تھے دِلوں میں بھی فاصلہ نہ تھا۔ سب روزآنہ ملتے تھے ایک دوسرے کے حالات، دکھ سکھ اور اونچ نیچ سے واقف اور ساتھی تھے۔ شام کو بز رگ اور درمیانی عمر کے لوگ کسی بھی ایک گھر میں جمع ہوتے اور باتیں کرتے تھے۔
مگر میری ماں میرے پڑھنے کی وجہ سے نہ خود کہیں جاتی تھی اور نہ اپنے گھر میں رشتہ داروں کو جمع کرتی تھی۔ جب سب بچے شام کو باہر کھیلتے تھے تو میں اپنا ہوم ورک کرتا تھا۔ صبح و شام اطمینان سے گزر رہے تھے کہ پاکستان بننے کا شور ہوا۔ اپنے بڑوں کے درمیان ہونے والی باتوں سے میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ سب کو اِس بات کا یقین بھی نہیں تھا کہ پاکستان واقعی بن جائے گا۔ پاکستان کی حقیقت کا اندازہ اُس وقت ہوا جب اِس کا اعلان کردیا گیا۔ قریب رہنے والے کچھ گھرانوں نے پاکستان جانے کا اظہار کیا تو باقی نے سخت مخالفت کی۔ اِسی دوران کچھ واقعات سُننے میں آئے کہ مسلمانوں پر حملے ہو رہے ہیں، انہیں پاکستان جانا ہوگا، ورنہ مار دیا جائے گا۔ ہمارے گھر اور رشتہ داروں میں بھی یہ خبریں گھومنے لگیں چند خاندان سب کی ناراضگی مول لے کر پاکستان کے لئے چل پڑے۔ میرے ماں باپ اور تقریباً سارے رشتے دار نہ جانے کیوں بہت مطمئن تھے کہ یہ سب کچھ دِن کا ہے ٹھیک ہو جائے گا یہاں تک کہ اُن ہی دنوں میرا نکاح چار پانچ لوگوں کی موجودگی میں ہمارے گھر کے قریب ہی رہنے والی میری پھپھو زاد بہن سے اس لئے کر دیا گیا کہ میرے پھپھا قریب المرگ تھے اور وہ مرنے سے پہلے بیٹی کے بوجھ سے آزاد ہونا چاہتے تھے۔ رخصتی کے لئے میری پڑھائی کے مکمل ہونے تک کی مدت طے کی گئی، اُس وقت دسویں کلاس کے بعد تقریباً پڑھائی مکمل ہونے کا تصور تھا۔ نکاح کے وقت میں عبدالعظیم دس سال اور میری پھپھو زاد بہن زبیدہ آٹھ سال کی تھی۔ قریب رہنے اور رشتہ دار ہونے کے ناطے ہم ایک دوسرے سے خوب واقف تھے لیکن نکاح کے بعد ایک دوسرے سے شرمانے لگے تھے۔
اِسی دوران رمضان آگئے ماحول بجھا بجھا سا اور سہما ہوا تھا لگتا تھا ہر طرف خطرہ منڈلا رہا ہے روزآنہ کسی نہ کسی مسلمان آبادی پر حملہ کی خبر آتی تھی۔ یہ بھی خبر تھی کہ ہمارے محلے کا نمبر بھی آئے گا لیکن ہمارے سب رشتہ داروں نے عید اسی اُمید پر منائی کہ اگلے برس سب ٹھیک ہو جائے گا اُن کا یہ یقین اُس وقت ٹوٹا جب صبح ہی سے ہمارے محلے پر حملے کی خبریں آنا شروع ہوگئیں اور یہ بھی کہ ہمارے قریب والی مسلمان آبادی تک حملہ آور پہنچ چکے تھے۔ بزرگوں نے ہر گھر جاکر ہدایت کی، گھروں میں جلدی پہنچنے اور شام ہی سے دروازوں کی کنڈی لگانے کی تاکید کی، اِس کے ساتھ ہی گھر میں موجود چھوٹے موٹے ہتھیار مثلاً چاقو، چھری، ہتھوڑا، ڈنڈا اور ساتھ ہی لال مرچوں کا پانی بناکر رکھنے کے لئے بھی کہا۔ یہ سب اپنی حفاظتی تدابیر کے طور پر تھا شام ہوتے ہی محلے میں سناٹا چھا گیا تھا سب اپنے اپنے گھروں میں بند ہو گئے تھے۔ بس شور تھا جو دور سے آتا محسوس ہوتا تھا۔ میری ماں نے اپنا چولہے کا کام بھی بہت جلدی نمٹایا۔ دوپہر ہی سے لکڑیاں جلائیں، سالن پکایا، روٹیاں بھی جلد ہی پکالیں، میرے لئے رات کو سوتے وقت کا دودھ بھی ساتھ ہی ابال لیا، تاکہ چولہا بھی جلدی ہی بجھا دیا جائے۔ آج میری ماں نے سل پر قیمہ پیس کر کوفتے بنائے تھے جو مجھے بہت پسند تھے۔ خوف کے عالم میں ہم سب

نے کھانا کھایا اور اپنی اپنی چارپائیوں پر چلے گئے میں حسب معمول اپنی ماں کے ساتھ لیٹ گیا۔
رات ابھی چڑھنے بھی نہ پائی تھی کہ دور سے سُنا جانے والا شور قریب آنے لگا پھر آوازوں میں اور چیخ و پکار میں بدل گیا۔ اللہ اکبر اور کلمہ شہادت کی آوازوں کے ساتھ دِل دہلانے والی پکاریں اسی دوران ہمارا دروازہ بھی پیٹا جانے لگا ماں نے چشم زدن میں جس چارپائی

 

 پر میں اور وہ لیٹے ہوئے تھے کھڑی کی اور اُس کے پیچھے اپنی دانست میں مجھے چھپا دیا۔ لمحہ بھر میں دروازہ ٹوٹا، اس لمحہ میری ماں ابا بہن اور دونوں بھائی جو ایک دم سے صحن میں ایک ساتھ جمع ہوگئے تھے حملہ آوروں نے انہیں تلواروں سے شہید کردیا۔ میں چار پائی کے پیچھے، چار پائی کے بڑے بڑے سوراخوں سے نظر آرہا ہے اور سوچ رہا تھا کہ بس اب میری باری ہے لیکن نہ جانے کس طرح حملہ آوروں کی آنکھوں سے اوجھل رہا انہوں نے ایک اور لمحہ میں پورے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور دوسرے گھر میں گھس گئے۔ ایک ہی وقت میں مختلف سمتوں سے آنے والی خیچ و پکار بتا رہی تھی کہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ساری رات یہی آوازیں گونجتی رہیں مجھ میں ہلنے کی بھی ہمت نہیں تھی صبح ہوتے ہوتے شور کم ہوا اور بالکل خاموشی چھا گئی۔ تھوڑی سی روشنی ہوئی تو میں چار پائی کے پیچھے سے نکلا سب کی لاشیں دیکھیں، شاید پتھر کا ہوگیا تھا، رونا ہی نہیں آیا۔ پورا گھر تہس نہس ہوگیا تھا لیکن چولہے پر میری ماں کا پکایا ہوا سالن بالکل اسی طرح رکھا تھا، گھر سے باہر آیا، ہر طرف لاشیں ہی لاشیں، خون ہی خون۔ میری طرح زندہ بچ جانے والے اپنے اپنے گھروں سے باہر آرہے تھے۔ ایک دوسرے کو بے جان آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ نہ ہمدردی نہ آنسو۔ میرے ذہن میں اپنی بیوی کا خیال آیا۔ میں

اپنی پھپھو کے گھر کی طرف بھاگا وہاں سب کی لاشیں تھیں، لیکن اُس کی نہ تھی، سوچاھ کہ شاید حملہ آور اُسے اٹھاکر لے گئے، یہی سُنا تھا کہ وہ لڑکیوں کو اٹھاکر لے جاتے ہیں، پھر میں اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں زندہ بچ جانے والے لوگوں کو تلاش کرتا رہا، لیکن کوئی نظر نہ آیا۔ کچھ لوگ تھے جو گروپ کی شکل میں ٹرین اسٹیشن کی طرف پیدل جا رہے تھے، انہوں نے بتایا کہ اِس طرح بہت سے گروپ ٹرین اسٹیشن کی طرف جاچکے ہیں، ہوسکتا ہے تمہارا کوئی رشتہ دار وہاں مل جائے، میں اُن کے ساتھ ہولیا، مجھے رشتہ دار کوئی نہ ملا، یہاں تک کہ میں لوگوں کے ساتھ ٹرین پر سوار ہوگیا۔ ٹرین میں لوگ کبھی ترس جاکر مجھے کچھ کھانے کو دے دیتے اور کبھی بالکل اجنبی بن جاتے۔ نہ جانے مجھے کب نیند آئی، آنکھ کھلی تو ٹرین لاہور پر رکی ہوئی تھی، سب اتر رہے تھے، تنہائی اور نئی جگہ سے مجھے تھوڑی سی پریشانی ہوئی، اور میں ٹرین سے اتر گیا۔ اجنبیت فوراً ہی ختم ہوگئی۔ مجھ جیسے بہت تھے۔ سینکڑوں خاندان بھی بے سہارا تھے۔ یہاں کچھ لوگ ایسے بھی موجود تھے جو ٹرین سے آنے والے لوگوں کو کیمپوں میں لے جا رہے تھے۔ میں نے دِل میں سوچا کہ اگر میں کیمپ میں چلا گیا تو اپنے رشتہ داروں کو کیسے ڈھونڈوں گا، بھوک تو جیسے مجھے بھول ہی گئی تھی لہٰذا پانی پیا اور چل دیا۔ دِن گھوم پھر کر گزارتا اور رات جہاں جگہ ملتی سو جاتا۔ مہاجروں کے لئے جگہ جگہ انتظامات تھے۔ وہاں کھانے پینے کا بھی بندوبست ہوتا تھا۔ ان جگہوں پر بھی رہا، جہاں بھی ہجوم ہوتا میں اپنوں کو تلاش کرنے پہنچ جاتا۔ یوں پیدل ہی چلتے چلتے مہاجرین کے کیمپوں اور بہت سی جگہوں اور لوگوں سے واقف ہونے لگا۔ یاد نہیں کتنے دِن گزر گئے۔ ایک دن میں نے کچھ لوگوں کو باتیں کرتے سنا کہ وہ کراچی جائیں گے۔ کراچی کا نام میں نے بھی سنا تھا، دل میں ایک اُمید جاگی کہ شاید وہاں کوئی رشتہ دار یا جاننے والا مل جائے، سو میں نے بھی کراچی جانے کی ٹھانی اور ان لوگوں کا پیچھا کرتا ہوا ٹرین کے ذریعہ کراچی پہنچ گیا۔ ان دنوں ٹرینوں میں ٹکٹ نہیں تھا، یہ خصوصی ٹرینیں تھیں جو مہاجرین کے لئے چلائی گئی تھیں۔
کراچی پہنچنے کے بعد سب لوگ بندروڈ (جس کا نام اب ایم۔اے۔جناح روڈ ہے) پہنچنا چاہتے تھے اور پیدل ہی چل دیئے اب ایک مرتبہ پھر میری نگاہ میں کسی شناسا کو تلاش کرنے لگیں۔ چاوں طرف دیکھتے ہوئے چلتا رہا، پھر اِدھر اُدھر سے آوازیں سنائی دیں کہ بندروڈ آگیا، اپنے اردگرد توجہہ دی تو بہت سے لوگ بندروڈ آتے آتے کہیں گلیوں ہی میں گم ہوگئے تھے، میرے پاس تو کھو جانے کی بھی کوئی وجہہ نہیں تھی، سوچلتا رہا۔ بھوک اورپیاس تو خیر مسئلہ ہی نہیں تھی ہاں کچھ کام کرنا چاہتا تھا چلتے ہوئے مجھے ایک ہوٹل نظر آیا تھا ’’ایرانی ہوٹل‘‘ میں نے ہمت کی اور اندر جاکر کاؤنٹر پر بیٹھے ہوئے آدمی سے کچھ کام کرنے کے لئے مانگا۔ مہاجرین کی آمد کی وجہہ سے شاید یہ روز کا معمول تھا اِس لئے کاؤنٹر والے آدمی نے مجھے نظرانداز کردیا لیکن میرے بار بار اصرار اور وہیں جمے رہنے سے اُس نے میری طرف دیکھا نہ جانے کیا محسوس کیا کہ مجھ سے مختصر سی معلومات کیں اور ’’چائے والا‘‘ کے بطور کام پر رکھ لیا۔ یہ دِن میرے لئے ’’عید‘‘ کا دِن تھا نہ جانے کتنی مدت بعد دل نے خوشی محسوس کی تھی اب میرا دن نوکری میں اور رات کو کہیں نہ کہیں جگہ بناتا اور سوجاتا ویسے بھی ان دنوں رات ہوتی ہی نہ تھی، دِن بہت بڑے ہوگئے تھے یا شاید میں سونا نہیں چاہتا تھا کہ کہیں بند آنکھیں مجھے کسی شناسا چہرے کو دیکھنے سے محروم نہ کردیں لیکن دل کی بے قراری میں کمی آتی جا رہی تھی میں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ زندگی اب ایسے ہی گزرے گی ہوٹل والا میرے کام سے خوش تھا کہ میں سب سے پہلے نوکری پر پہنچنے اور سب سے آخر میں ہوٹل چھوڑنے والوں میں تھا۔ اگر ہوٹل کا مالک اجازت دیتا تو میں ہر وقت ہوٹل میں رہ جاتا۔
اب میں نے ہوٹل کے قریب ہی واقع ایک نائٹ اسکول’’NJV‘‘میں داخلہ لے لیااور دل لگا کر پڑھنے بھی لگا۔ بہت زیادہ اپنے آپ کو مصروف کرنے سے یہ ہوا کہ وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا، میں پندرہ سال کا ہوگیا تھا اور نویں جماعت میں آنے سے بہت خوش تھا زندگی میں ٹہراؤ سا آگیا تھا کہ ایک دِن اپنے پرانے پڑوسی کو ہوٹل میں دیکھ کر میں ساکت ہوگیا یہ ہمارے برابر والے گھر میں رہتا تھا بالکل خاندان کی طرح تھا اور ہمارے تمام رشتہ داروں سے واقف تھا۔ میں اُس کے پاس گیا اُس نے بھی بے اختیار مجھے گلے لگالیا، مجھے پیار کرتا رہا اور روتا رہا۔ یہ جاننے پر کہ میں تنہا ہوں اُس نے مجھے بتایا کہ تمہاری پھپھو کی بیٹی جس سے تمہارا نکاح ہوا تھا اُسے میں نے تین سال پہلے لاہور کے ایک مہاجر کیمپ میں دیکھا تھا۔ مجھے پتہ بھی دیا، اب تو میری دنیا ہی بدل گئی تھی کسی لمحے قرار نہ تھا۔ لاہور جانے کی ہمت پیدا ہوگئی تھی۔ بجلی کی طرح اُس تک پہنچنا چاہتا تھا۔ مگر اتنے پیسے نہ تھے۔ میں نے اسکول چھوڑ کر اپنی مزدوری کو بڑھا لیا۔ روز جینے اور روز مرنے کی اس جنگ میں ایک سال گزر گیا اب میں نے اتنے پیسے جمع کرلئے کہ لاہور چلا جاؤں۔
لاہور پہنچ کر سیدھا اُسی مہاجر کیمپ پہنچا اور آنے کا مقصد بتایا لیکن پچھلے برس اُسے کسی اور کیمپ میں منتقل کردیا گیا تھا۔ یہاں سب لوگ بہت اچھے تھے انہوں نے میری ہمت بڑھائی اور رہنمائی بھی کی۔ دوسرے روز آنے کو کہا تاکہ وہ متعلقہ کیمپ کی مکمل معلومات اورپتہ دے سکیں میرے لئے تو ایک ایک لمحہ صدیاں تھیں لگتا تھا کہ کوئی میرے دل کو دونوں ہاتھوں سے مسل رہا ہے لیکن میری ہمت اس حملے کا جواب دے رہی تھی دوسرے کیمپ تک پہنچنے میں ایک ہفتہ لگ گیا وہاں جاکر دھڑکتے دل کے ساتھ اُس کے بارے میں پوچھا اور اپنے بارے میں بتایا ایک مرتبہ پھر میں نے اپنے ڈوبتے ہوئے دل کو بچایا کیونکہ مجھے بتایا گیا کہ چند ماہ قبل اُسے بڑی بچیوں کے کیمپ میں منتقل کیا گیا ہے۔ یہاں بھی لوگ بہت اچھے تھے انہوں نے کہا کہ تم کل ہی اس کیمپ میں جاسکتے ہو۔ رات گزارنی تھی، سو گزاری اور علیٰ الصبح اُس کیمپ جاپہنچا۔ وہاں بھی اپنے اور اُس کے بارے میں سب بتایا۔ آفس والوں نے بہت ہمدردی کا سلوک کیا اور بتایا کہ تمہاری بیوی نے بھی تمہارے بارے میں یہاں معلومات جمع کروائی ہیں، ہم ابھی اُسے بلاتے ہیں۔ اِن الفاظ کے سنتے ہی میں نے اپنے اوپر بہت قابو پانا چاہا لیکن آنکھوں میں آنے والے دریا کو نہیں روک سکا۔ وہ آئی تواُس کی آنکھوں میں بھی سمندر تھا شاید وہ بھی آج پہلی دفعہ روئی تھی۔

 

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

18 − six =