مہر گڑھ۔ بلوچستان کا فخر اور امتیاز

٭ ماہر آثار قدیمہ جناب ایوب بلوچ کی آنکھیں کھول دینے والی تحریر
مہر گڑھ بلوچستان کی قابل فخر اور امتیازی نشانیوں میں سے ایک ہے۔اس دریافت نے بلوچوں کے اس وطن کے بارے میں ایک خالی قلعہ ہونے کے وہم کو دور کردیا ہے۔بلوچستان انسانی تہذیبوں کے تاریخی سفر میں مرکزی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔اس کے اثرات ہمالہ سے وسط ایشیا، افغانستان، ایران، مشرق وسطی اور دور دراز علاقوں سری لنکا اور آسٹریلیا تک پھیلے ہوئے نظر آتے ہیں۔موجودہ زمانے میں جس طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ایک انقلاب برپا کیا ہے اسی طرح آثار قدیمہ میں مہر گڑھ کی دریافت بھی غیر معمولی گہرے اثرات کی حامل ہے۔کئی قدیم تہذیبیں مہر گڑھ کے بطن سے پیدا ہوئیں جن میں وادی سندھ اور سرسوتی (ڈاکٹر جیرج) شامل ہیں۔اس دریافت نے ناصرف آثار قدیمہ بلکہ عمرانیات، بشریات، اقتصادیات، مذہبیات وغیرہ سے روشناس کرایا۔ بڑی حد تک اس دریافت نے انسانی ترقی کی نئی جہتیں پیدا کیں اور نئے رجحانات کو فروغ دیا۔
میری نئی کتاب مہر گڑھ پر نئی روشنی ڈالنے کا سبب ہوگی خاص طور پر جہاں ماہرین آثار قدیمہ نے دیگر متعلقہ عمرانی علوم مع علم بشریات میں تحقیق کے لیے میدان خالی چھوڑدیا۔مہر گڑھ قدیم ورثوں کے نقطہ اتصال پر واقع ہے جہاںسے تاریخی وادی بولان شروع ہوتی ہے۔ وادی بولان قدیم تہذیب کا گہوارہ ہے۔ ڈھاڈر اور سبی اس خطے میں حکمرانی کے مرکز کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ قابل احساس، ٹھوس اور غیر ٹھوس تاریخی ورثوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا جس کا آغاز مہر گڑھ کی دریافت سے بہت پہلے ہوا۔ مہر گڑھ کا کردار ہزاروں سالوں پر پھیلا ہوا ہے۔وادی بولان کی ان تمام تہذیبوں میں مہر گڑھ کا کردار مرکزی ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مہر گڑھ کا فاصلہ 150 کلو میٹر سے کم نہیں۔تاریخی وادی بولان سے گزرنے والی سڑک کول پور کے دروازے سے بولان میں داخل ہوتی ہے۔ یہ سڑک بلند پہاڑی گھاٹیوں کے درمیان سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی آگے بڑھتی ہے اور ڈھاڈر کے قصبے تک پہنچتی ہے۔ڈھاڈر میں داخل ہونے سے پہلے ہائی وے سے ایک چھوٹی سی سڑک مہر گڑھ کی طرف مڑ جاتی ہے جو آثار قدیمہ کی 9,000 سال پرانی نیو لیتھک سائیٹ ہے۔نیو لیتھک پتھر کے زمانے کو کہتے ہیں جب انسان نے دھاتوں کا استعمال نہیں سیکھا تھا۔مہر گڑھ دریائے بولان کے کنارے واقع ہے۔ یہ دریا ہزاروں سال سے بلوچ معاشرت میں اہم کردار ادا کرتا رہا اور تبدیلیوں و انقلابات کا سبب بنتا رہا۔یہ وہ مقام ہے جو نیل، دجلہ و فرات، سندھ، اور سرسوتی وغیرہ کی تہذیبوں کا پیش رو ہے۔مہر گڑھ کی تہذیبی سائینس ایک گیم چینجر کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں ماہرین آثار قدیمہ نے حیرت انگیز دریافتیں کی ہیں۔ ان میں کچھ بالکل نئی اورانتہائی حیرت خیز ہیں۔ یہ سائینس ایک ایک کرکے ہزاروں سالوں کے تہذیبی سرمائے کو دریافت کررہی ہے اور انسان کے ماضی کی سائینسی خطوط پر تعمیر نو کررہی ہے۔یہاں انسانی تہذیب کے عمل تخلیق کے ثبوت سامنے آتے ہیں اور ان کلچروں کا پتہ چلتا ہے جو ان تہذیبوں میں پیدا ہوئے۔اس مساعی کے نتیجے میں ان علاقوں اور لوگوں کی شناخت ہوتی ہے جو انسان کے تہذیبی ورثہ کا حصہ تھے۔ ان دریافتوں سے کرہ ارض کے طول و ارض کے انسانی ورثہ میں ان کی خدمات کا پتہ چلتا ہے اور انسانی معاشروں کے ارتقا کے بارے میں ہماری سمجھ میں موجود خلا پُر ہوتا ہے۔چنانچہ دنیا ان معلومات کے لیے آثار قدیمہ کے علم اور اس کے ماہرین کی فیاضانہ دریافت و تحقیق کی مشکور ہے۔ مہر گڑھ کی کہانی تہذیبوں کے اثر و رسوخ کی کہانی ہے۔ہم اس کا تفصیل سے تذکرہ کریں گے لیکن اس سے پہلے میں اس فرانسیسی آثار قدیمہ مشن کے بارے میں مختصراً بتانا چاہتا ہوں جس نے مہر گڑھ کے ان آثار کو دریافت کیا۔
بلوچستان پاکستان کے مجموعی رقبے کا 44 فی صد ہے اور یہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔یہ پورا علاقہ ’ڈمب‘نشانوں سے بھرا ہے۔ ڈمب بلوچی زبان کی اصطلاح ہے۔یہ ان سائیٹس کے لیے استعمال ہوتی ہے جہاں مختلف قصبوں اور دیہات کے اردگرد مٹی کے ٹیلے تھے جن میں قدیم آثار پوشیدہ تھے۔ان آثار کا پتہ شروع میں قدیم مٹی کے برتنوں اور ان کے ٹکڑوں سے چلا جو تیز بارش کے بعد مٹی سے باہر نکل آئے۔مقا میآبادی ایسی جگہوں کو شبے کی نظر سے دیکھتی تھی اور اس کا خیال تھا کہ یہاں پرانے بادشاہوں کے پوشیدہ دفینے اور خزانے ہیں۔ اس غلط تصور کی بنا پر مقامی لوگوں نے جابجا کھدائیاں کیں اور سونے چاندی کی تلاش میں ان سائیٹس کو بری طرح سے تباہ و برباد کیا۔مہر گڑھ بھی اس تباہی سے نہ بچ سکا۔فرانس کے آثار قدیمہ کے مشن نے بلوچستان میں 1960 کی دہائی میں کام شروع کیا۔ممتاز فرانسیسی ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر جین کیسل اس مشن کے سربراہ تھے۔ مشن کے دیگر ممبران میں ڈاکٹر فرانکوئس جیرج اور ان کی بیوی ڈاکٹر کیتھرین جیرج شامل تھیں۔ انہوں نے اپنا کام شروع کرنے کے لیے جنوبی بلوچستان کے علاقے آرنچ میں نندوواڑی کی سائیٹ کا انتخاب کیا۔یہ ٹیم ہڑپہ کی قسم کے اثرات تلاش کررہی تھی اور اس زمانے میں رجحان یہی تھا۔کھدائی کا کام بغیر کسی رکاوٹ کے کچھ عرصے جاری رہا اور ٹیم نے اپنے اسائنمنٹ کی تکمیل تک وہاں ٹہرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے بلوچستان کی منتخب اور مقبول سردار عطا اللہ مینگل کی حکومت کو تحلیل کردیا اور صوبے میں گورنر راج نافذ کردیا۔اس کے نتیجے میں خطے میں بدترین عدم استحکام پیدا ہوا اور علاقے میں کشیدگی کے سبب مشن کو اپنا کھدائی کا کام معطل کرنا پڑا کیونکہ امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ ماہرین نے یہا کام ترک کرکے نسبتاً مشرقی بلوچستان کے زیادہ پرسکون اور پرامن علاقے کا رخ کیا۔انہوں نے سندھ اور بلوچستان کی سرحد کے ساتھ چند علاقوں میں کھدائی شروع کی۔جنوبی بلوچستان سے مشرقی بلوچستان کی جانب نقل مکانی اگرچہ مجبوری میں کی گئی تھی لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مشن مہر گڑھ کے قریب پہنچ گیا۔آثار قدیمہ کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے جب معمولی واقعات بڑی دریافتوں کا سبب بنے۔چین میں 1977 میں زیان ٹیرا کوٹا آرمی بھی اسی طرح دریافت ہوئی جب ایک کاشتکار پانی کی تلاش میں کنواں کھود رہا تھا۔
مشرقی بلوچستان میں کھدائی کی یہ کہانی مزید آگے بڑھی جب ایک قبائلی سردار اور موثر سیاستدان نواب رئیس بخش رئیسانی منظر پر ظاہرہوئے۔ نواب رئیسانی گورنر بلوچستان بھی تھے اور وہ آثار قدیمہ میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے تھے۔ڈاکٹر جیرج کے مطابق نواب رئیسانی ہی نے فرانسیسی مشن کی توجہ مہر گڑھ سائیٹ کی جانب مبذول کی۔ انہوں نے مشن کو علاقے کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ وہ مشن کو مہر گڑھ کے علاقے میں ہر ’ڈمب سائیٹ‘ تک خود لے کر گئے اور کہا کہ اگر مشن نے مہر گڑھ میں کھدائی کا کام شروع کیا تو وہ ذاتی سرپرستی کریں گے۔ٹیم تجربہ کار ماہرین پر مشتمل تھی اور اس کا یورپ، مشرق وسطی، جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا وغیرہ میں کھدائی کرنے کا ٹریک ریکارڈ تھا۔ انہوں نے فوری طور پر سائیٹ پر بکھرے ہوئے مٹی کے برتنوں اور دیگر آثار کا معائنہ شروع کیا۔انہوں نے سائیٹ میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور وعدہ کیا کہ وہ بہت جلد اپنی ابتدائی رپورٹ مرتب کرلیں گے۔ابتدائی تحقیقات ہی سے پتہ چل گیا کہ یہ ایک ایسی سائیٹ ہے جہاں ہونے والی تحقیق دنیا میں تہلکہ مچا دے گی اور نئی دریافتوں کے ساتھ حیرت و استعجاب کا سبب بنے گی۔آثار قدیمہ، بشریات اور دیگر متعلقہ علوم کے ریسرچ جرنلز میں ایسے مقالات اور مضامین شائع ہونا شروع ہوئے جن سے فرانسیسی اور پاکستانی ٹیموں کی دریافتوں کی بنیاد پر ہونے والی تحقیق سے نئی بحث اور نئی دلچسپیوں کا آغاز ہوا۔ اس دوران مشن کے لیڈر ڈاکٹر کیسل مختصر علالت کے بعد فوت ہوگئے اور ٹیم کی سربراہی ڈاکٹر جیرج نے سنبھال لی۔دریں اثنا ان دریافتوں نے دنیا بھر میں تہلکہ مچادیا اور اور بلوچستان دنیا بھر کے ماہرین آثار قدیمہ کی خصوصی توجہ کا مرکز بن گیا۔ہر ایک کو 7000 سال قدیم پتھر کے زمانے کی اس دریافت میں دلچسپی تھی۔اس سائیٹ کا نام ’مہر گڑھ‘ اتنا قدیم نہیں جتنی کہ یہ سائیٹ قدیم ہے۔یہ جگہ نواب رئیسانی کے خاندان کے ایک بزرگ مہر اللہ خان سے منسوب ہے۔یہاں ان کی زرعی زمینیں تھیں اور وہ یہاں کاشتکاری کیا کرتے تھے اس لیے اس گاؤں کا نام مہر گڑھ پڑ گیا۔صدیوں سے یہ خطہ بلوچ قبیلوں رئیسانی، رند، شاہوانی اور دیگر کی آماجگاہ تھا۔یہ بلوچ قبائل زیادہ تر کاشتکاری کیا کرتے تھے۔اگراس جگہ کے ماضی کو کھنگالا جائے تو یہ خطہ پتھر کے دور کی مثالی جگہ تھا ۔ دریائے بولان کی اس خطے میں بہت زیادہ اہمیت تھی اور اس دریائے بولان کے قرب و جوار کے علاقے اپنی زرخیز مٹی کی وجہ سے دیگر خطوں سے مختلف کلچر رکھتے تھے جہاں کے لوگ کاشتکار نہیں بلکہ زیادہ تر شکاری تھے۔پانی کی موجودگی کی وجہ سے یہاں جنگلی پھلوں کے خود رو باغات اور جنگل تھے جن میں جنگلی جانور تھے اور دریا میں مچھلی دستیاب تھی جس کی وجہ سے انسانی آبادی کے لیے خوراک کی فراوانی تھی۔موزوں آب و ہوا نے بھی اس خطے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔سورج روشنی اور حرارت کا غالب ذریعہ تھا۔ دوسری جانب سورج اور آگ اس خطے کے لوگوں کی مذہبی ضرورت کو پورا کرتی تھی (کیونکہ وہ آتش پرست تھے)۔ اس کا اظہار وہاں دستیاب پینٹنگز، ڈرائنگز، مہروں، نقش،اشکال اور کھلونوں وغیرہ سے ہوتا تھا۔ یہ آرائشی نشانات اور علامات برتنوں، جاروں اور دیگر اقسام کی اشیا پر بھی تھیں جو مہر گڑھ کی کھدائی میں برآمد ہوئیں۔یہ آرائیشی نشانات ان کے کلچر اور ماحول کو ظاہر کرتے ہیں۔
ڈاکٹر جیرج نے اپنا کیمپ کھدائی کی جگہ کے قریب واقع قصبے ڈھاڈر میں بنایا۔ انہوں نے وہاں ایک سائیٹ آفس اور معمولی سی لیب بھی بنائی جہاں دونوں طرح کی سہولتیں دستیاب تھیں۔سب سے زیادہ اہم اس ٹیم کی مقامی تاریخ کے متعلق غیر معمولی معلومات اور مہارت تھی جس سے دنیا اس سے قبل واقف نہیں تھی۔یہاں ہونے والی دریافتوں نے دنیا کو حیران کردیا۔ یہ خطہ انسانی کلچر، نسلیات، اور نشو ونما کے تعلق سے ایک نمونہ تھا کیونکہ یہاں دو تہذیبیں ساتھ ساتھ جنم لے رہی تھیں اور ایک دوسرے میں مدغم ہورہی تھیں۔ایک تہذیب پتھر کے زمانے سے تعلق رکھتی تھی دوسری تہذیب اس کے بعد کے دور سے متعلق تھی۔ مہر گڑھ کی کھدائی میں دونوں تہذیبوں کے اثرات صاف ظاہر تھے۔ایک تہذیب سے دوسری تہذیب تک کا سفر اپنی کہانی بیان کرتا تھا۔جنگلی جانوروں کے شکار پر گزارہ کرنے والے پتھر کے زمانے کے لوگ اور زیادہ جدید تہذیب کے حامل تخلیق کار لوگوں کی رہائش اور تہذیب میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں مہر گڑھ اور جیریکو (فلسطین) کی تہذیبوں میں نمایاں فرق تھا۔ فرانسیسی ماہرین کی اس ٹیم نے اس تحقیق میں مصروف رہتے ہوئے پیرس کی عالی شان اور آرام دہ زندگی سے دور بلوچستان کے سخت محنت کوش ماحول میں اپنی زندگی کے 30 سال گزار دیے۔وہ اپنے مشن میں کامیاب رہے اور انہوں نے اپنی اس سخت محنت کا بدلہ دنیا بھر سے اعتراف و مداحت کی شکل میں حاصل کیا۔ان کی خدمات کو بلوچستان میں بھی غیر معمولی توقیر حاصل ہوئی۔
مہر گڑھ کی پتھر کے زمانے کی انسانی آبادیاں باقاعدہ مکانوں پر مشتمل تھیں جن کی تعمیر تیز دھوپ میں پکائی لکھوری اینٹوں سے کی جاتی تھی۔ ان میں جانوروں کے باڑے بھی شامل تھے۔ ان عمارتوں میں اناج ذخیرہ کرنے سہولت بھی تھی اور گندے پانی کی نکاسی کے انتظامات بھی تھے۔وہ اپنے مردوں کو دفن کیا کرتے تھے۔ انہوں نے تقریبات اور کھیل کود کے لیے ثقافتی جگہیں بھی مختص کی تھیں، جہاں اوزار سازی، دست کاری اور تخلیق کاری کے لیے الگ الگ ورک شاپس تھیں۔بیرونی حملہ آوروں سے بچاؤ اور حفاظت کے لیے تہہ خانے تھے۔ ان آبادیوں کے عمیق مطالعہ سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ یہاں درجہ مراتب کی تقسیم تھی اور معاشرہ کئی سماجی درجات پر مشتمل تھا۔یہ بھی ظاہر ہوا کہ پتھر کے زمانے سے لے کر کانسی اور اس کے بعد لوہے کے زمانے تک سات مختلف ادوار گزرے جن میں مہر گڑھ نے ابتدائی تہذیبوں میں قائدانہ کردار ادا کیا۔
کھدائی کا پہلا دور 1974 سے 1985 تک پھیلا ہوا ہے۔ اس دور میں متفرق امتیازات اور خوبیوں پر مشتمل سات مرحلے شامل تھے جس میں 7000 قبل مسیح سے لے کر 5500 قبل مسیح کا زمانہ مہر گڑھ اول Aceramic Neolithic دور کہلایا۔ اس دور کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ انسانوں نے خوراک کی تیاری سیکھ لی تھی۔ دوسرا دور 5500 سے 3300 قبل مسیح کا ہے جو مہر گڑھ دوم سے ششمAceramic Neolithic تک پھیلا ہوا ہے۔
مہر گڑھ کی زندگی کا پورا دور کسی انسانی معاشرے کا microcosm یا کائنات اصغرہے جو تہذیب کی جانب انسان کی پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس دور میں انسان کی سماجی اور ذہنی ترقی جاری رہی جس میں دنیا کی مختلف تہذیبوں کی بالعموم اور جنوبی ایشیا کی بالخصوص پیدائش اور نشو ونما ہوئی ۔مہر گڑھ میں عالمی سطح پر دلچسپی کی ایک وجہ ایک جامع سماجی ترقی اور انسانی فضیلت تھی ۔ یہ عمل 7000 قبل مسیح میں شروع ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ عمل پختہ ہوتا گیا۔ اسی دور میں مہر گڑھ آثار قدیمہ کی ترقی کا ممتاز نشان بن گیا۔عمومی طور پر اس دور کی امتیازی خصوصیت sedentary آبادیاں، پالشڈ آلات، پودے، جانور اور برتن وغیرہ ہیں۔پتھر کے زمانے کی خصوصیات کے ساتھ مہر گڑھ میں کچھ اور خوبیاں بھی نظر آتی ہیں۔اس زمانے کے لوگوں نے خوراک تیار کرنا سیکھ لیا، جانوروں سے دودھ اور گوشت حاصل کرنا، لباس تیار کرنا، جوتے بنانا، باربرداری، نقل و حمل میں جانوروں کا استعمال سیکھا، جانوروں کی مدد سے ہل چلانا شروع کیا، کاشتکاری اور باغ بانی کا آغاز کیا۔شجر کاری اور کاشتکاری سے خوراک کے چناؤ میں اضافہ ہوا۔ اناج کی ذخیرہ دہی، بہتر صحت اور ذہنی سکون کی سہولتیں ملیں۔اس سے پہلے انسان صرف شکار کے ذریعہ خوراک حاصل کرتا تھا۔ اب وہ خوراک اگلے وقت کے لیے محفوظ کرنے لگا۔اس کی تخلیقی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔جو ابتدائی انسانی معاشرے کی بالکل ابتدائی شکل تھی۔جانوروں اور پودوں کا انسانی زندگی کا حصہ بن جانا دو بڑی تہذیبی کامیابیاں تھیں جن کی بنیاد پر مہر گڑھ میں جدید دور کا اغاز ہوا۔ اس کے بعد جو پیشے شروع ہوئے ان میں دستکاری، مینوفیکچرنگ،مال کے بدلے مال اور تجارت، جنگوں اور جھڑپوں میں تزویراتی اہلیت کا استعمال ،مواصلات اور ثقافتی فضیلت کی جانب پیش رفت شامل تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مویشی بافی ا س معاشرے یا سماج کی تہذیب کا حصہ بن گئی۔ جانور شوقیہ طور پر بھی پالے گئے اور کھدائی سے یہ بھی پتہ چلا کہ وہ لوگ اپنے پالتو جانوروں کو بھی مرنے والوں کے ساتھ دفن کرتے تھے تاکہ انہیں تنہائی محسوس نہ ہو۔زراعت میں اس وقت بہت اضافہ ہوا جب زیبو(بیل) جیسے جانور ابتدائی دور کے کاشتکاروں کو دستیاب ہوگئے۔یہ ان کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوا اور فصلوں کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اس کے بعد فاضل اناج ذخیرہ گاہوں میں محفوظ کیا جانے لگا۔بیلوں کی اسی اہمیت کے پیش نظر بیل اور گائے ان کی زندگی میں بہت زیادہ اہمیت اختیار کرگئے۔چنانچہ روزمرہ استعمال کی چیزوں، برتنوں، اناج ذخیرہ کرنے کے بڑے کنٹینرز پر جابجا بیلوں کی تصویر نظر آتی ہے۔ان تصویروں سے مہر گڑھ کی قدیم آبادی کے اعلیٰ جمالیاتی ذوق کا پتہ چلتا ہے۔آثار قدیمہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ تصورات مہر گڑھ میں دکھائی دیے۔ اسی طرح جو، کپاس، کھجور، خشک میوہ جات اور مختلف زرعی اجناس کی پیداوار پہلی مرتبہ مہر گڑھ میں دکھائی دیتی ہے۔ یہیں سے زرعی معاشرے کی بنیاد پڑی جس نے حیرت انگیز طور پر دریائے بولان کے دونوں کناروں پر جنم لیا اور ترقی کی۔مہر گڑھ کی دریافت ناصرف آثار قدیمہ کے نقطہ نظر سے اہم تھی بلکہ ماہرین عمرانیات میں اس نے کثیر جہتی دلچسپیوں کو فروغ دیا۔لیکن جہاں ماہرین آثار قدیمہ اس پیش رفت کی ایک بڑی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب رہے لیکن سماجی علوم کے ماہرین اس شعبے میں عدم واقفیت کے سبب بہت پیچھے رہ گئے۔اسی طرح مہر گڑھ پر ماہرین آثار قدیمہ اور سماجیات کی معلومات میںغیر معمولی فرق نظر آتا ہے۔آج مہر گڑھ کتابوں، تحقیقی مجلوں اور جرائد، یونیورسٹی کے نصابوں،طباعتی اور برقیاتی ابلاغ عامہ، سوشل میڈیا ویب سائیٹس، سمیناروں اور لیکچروں پر چھایا نظر آتا ہے لیکن یہ سب آثار قدیمہ کی قلمرو میں ہے جبکہ سماجیات کا میدان تقریبا خالی ہے۔ دوسرے الفاظ میں آثار قدیمہ کا قیمتی اور کثیف ڈیٹا کے سماجی توضیحات پر ماہرین علوم عمرانی کوئی توجہ نہیں دے رہے یا انہوں نے اسے صرف آثار قدیمہ کا شعبہ قرار دے کر یونہی چھوڑ دیا ہے۔سماجی علوم کے ماہرین کی جانب سے سوائے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے کوئی علمی سرگرمی نظر نہیں آتی۔ میں یہاں چندچبھتے ہوئے سوالات پیش کررہا ہوں:
٭ مہر گڑھ کی کھدائی کو ایک قبائلی تنازع کا شکار ہونے کا موقع کیوں دیا گیا جس پر یقینی طور پر قابو پایا جاسکتا تھا؟سازشی نظریہ کے تحت کیا اس کا مقصد ملک کی پہلے سے مستحکم نام نہادآثار قدیمہ سائیٹس کی شہرت کو تحفظ فراہم کرنا تھا تاکہ حالات کو جوں کا توں رکھا جائے کیونکہ مہر گڑھ کی دریافت سے ان کی اہمیت کم ہوتی تھی۔ یا اس کا مقصد بلوچوں کی ثقافتی شناخت کو ابھرنے سے روکنا تھا کیونکہ وہ دنیا کی ایک ایسی قوم بن کر سامنے آرہے تھے جہاں سب سے پہلی قدیم تہذیب نے جنم لیا۔لیکن میں امید کرتا ہوں کہ میرے ان سوالوں کا موزوں جواب دیا جائے گا اور سائینسی علمی خطوط پر ان پر غور کیا جائے گا۔میں اس سوال پر دوسرے زاویہ سے بھی غور کرتا ہوں۔ہمیں اس پر بھی بات کرنے کی ضرورت ہے کہ کھدائی کے دوران ملنے والے اس مواد کی اہمیت کو تسلیم کیا جانا چاہیئے جس کے بارے میں سوشل سائینس دان، مثلاً ماہرین علوم انسانی اور ماہرین عمرانیات اپنے تمام تر علم کی بنیاد رکھتے ہیں اور ان کے دلائل کا انحصار انہی پر ہے۔ جن کی وارث ثقافتوں ‘heir-cultures’ کی سمجھ اور شعور اس پر منحصر ہے کہ وہ تاریخ کے گمشدہ نکتوں کو باہم جوڑنے میں کامیاب ہوسکیں۔طویل عرصہ سے کسی معقول محقق نے بلوچستان کے لوگوں اور کلچروں کے بارے میں مہر گڑھ کی دریافت کے بعد کوئی تحقیقی کام نہیں کیا کیونکہ بلوچستان کے منفی تاثر کو منصوبہ بندی سے فروغ دیا گیا اور سلامتی کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کیا گیا۔اس کے علاوہ یہ تصور بھی کرلیا گیا کہ مقامی ماہرین یہ کام زیادہ بہتر طور پر کرسکتے ہیں۔چنانچہ بلوچستان کے تاثر کو بہتر بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی بلکہ یہ تاثر مزید خراب ہورہا ہے اور کوئی مقامی اسکالر بھی کوئی تحقیق نہیں کررہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مہر گڑھ مسلسل عدم توجہ کا شکار ہے حالانکہ اسے بھرپور توجہ کی ضرورت ہے۔آج مہر گڑھ کو مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے جو اس کے تاریخ میں موزوں مقام کے حصول، اس کی ورثے اور تہذیب کے تعلق سے درپیش ہیں۔ مجھے کہنے دیں کہ مندرجہ سوالات کے کچھ جوابات میری نئی کتاب ” Balochistan Under the Canopy of
Mehrgarh “(بلوچستان مہر گڑھ کی دریافت کے بعد) میں دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ میں نے اس کتاب میں جنوبی ایشیا اور اس سے آگے کے خطوں میں مہر گڑھ کی تہذیب کے اثرات کا جائزہ لیا ہے اور آج کے ثقافتی اثرات اورخصوصیات میں تسلسل کو مدنظر رکھتے ہوئے مہر گڑھ کے اثرات کو اجاگر کیا ہے۔یہ اثرات موجودہ بلوچ کلچر میں نمایاں ہیں جو مہر گڑھ کی تہذیب کا براہ راست وارث ہے۔

508، لینڈ مارک پلازا، آئی آئی چندریگر روڈ۔ کراچی
فون: 8210636-0300 ای میل:[email protected]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

four × 4 =