مطمئن خواتین

مطمئن خواتین

’اطراف‘ کوشش کررہا ہے کہ آپ کو دُنیا میں ایسی خواتین سے متعارف کرواتا رہے جو اپنے اپنے شعبے میں کارنامے انجام دے رہی ہیں۔ اور اپنے کام سے مطمئن ہیں۔ اس بار وہ سائرہ منیر سے ملوارہی ہیں جو فیس بُک کی نیوز ٹیم میں کام کرنے والی پہلی پاکستانی صحافی ہیں۔ ان کی باتیں سنئے اور عش عش کیجئے کہ ایسی ہونہار پاکستانی خواتین بھی ہیں جو جدید ترین شعبوں میں دوسری قوموں کا مقابلہ کررہی ہیں۔

میراکردار بدل گیا،آواز بدل گئی،لفظ محدود ہو گئے،نظریات تبدیل ہو گئے،ساتھی مختلف ہوگئے،سوچنے کا انداز وہ نہ رہا،لکھنے بیٹھی تو پچھلا کوئی رابطہ نہ رہا،زمین کیا بدلی آسمان وہ نہ رہا۔میں سائرہ منیر جذبات اور احساس کوایک سمجھنے والی،رات سے اجالا،دن سے تاریکی اخذ کرنے والی ،الفاظ کے معنی بدلنے والی،رنگوں کو خوشبو بنانے والی،خود سے باتیں ،وعدے کرنے والی۔ صحافت کی نئی دنیا دیکھ رہی ہوں۔وقت کی رفتار سے منکر نہیں۔جانتی ہوں کچھ پہلے جیسا نہیں ہو گا اب جو ہو گا وہ اوربھی بڑھ کر ہو گا۔مجھے صحافی بننا تھا۔
صحافت میں ماسٹرز کی ڈگری لے کر ملک لوٹی تو نصاب اور کتاب سے عملی صحافت سے ملکی صحافت کو مختلف پایا۔پاکستان میں اب تک صحافت کو صرف سیاست اور حالات حاضرہ سمجھا جاتا ہے جبکہ صحافت تو ہر شعبے کے بارے میں خبریں او ر معلومات بہم پہنچانے کا نام ہے۔صحافی صرف ایک ذریعہ ہو تا ہے ناکہ خبر۔یہاں الیکٹرو نک میڈیا کو ناخدا مانا جاتا ہے۔مائک ٹھامے رپورٹرز ،خبریں پڑھتی ہو ئیں نیوز کاسٹرز،ٹاک شوز میں بحث کر تے ہو ئے میزبان اور سیاسی مہمان ہی صحافی کہلاتے ہیں۔ہمارے نیوز رومز سیاسی خبروں اور رپورٹنگ کے لئے تخلیق کئے جاتے ہیں۔مغرب میں ایسا نہیں ہو تا۔وہاں سائنس،فکشن، موسم، ٹیکنالوجی، آٹی وغیرہ کے شعبوں کو اتنی ہی اہمیت دی جاتی ہے۔

میرا تعارف

ایکسپریس ٹریبیون،ڈان نیوز،دی گارجیئن،الجزیرا (انگلش)، وائس نیوز،کوارٹز اوردیگر بین الاقوامی اخبارات میں ایڈیٹوریل ذمہ داریاں نبھائیں۔کو لمبیا جنرلزم اسکول سے ملٹی میڈیا میں ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی۔فیس بُک اور ٹوئٹرپربحیثیت نیوز کیوریٹر ٹیم ممبر پہلی پاکستانی صحافی کام کر رہی ہوں۔

صحافی بننے کے لئے اس شعبے کی تعلیم حاصل کر نا لازم نہیں ۔ متعدد صحافی جنہوں نے اس فیلڈ میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کیں ان کے پاس صحافت کا لائسنس یعنی ڈگری نہیں ۔لیکن وہ پھر بھی کامیاب ہو ئے ۔کیونکہ انہوں نے کچھ نیا کر کے دکھایا،کچھ تخلیق کیا،اختراع کی ۔

سوشل جرنلزم ناصر ف ابلاغ کا ذریعہ بنابلکہ صحافت کی دنیا کو نئی شاخ اور رفتار دی۔ریڈیو،اخبارات اور ٹیلی وژن تک محدود رہنے والی صحافت کا دائرہ سوشل میڈیا کی فریکوئنسی سے چٹخنے لگااور دیکھتے ہی دیکھتے ٹوٹ گیا۔محدود لا محدود اور تناظر وسیع تر ہو گیا۔بلاگز بنائے گئے ۔لکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔صحافیوں کوان کا کردار تبدیل ہو تا محسوس ہوا۔حالیہ تناظر میں بیشتر صحافی سوشل جنرلزم کو معلومات حاصل کر نے کا بنیادی ذریعہ تسلیم کر تے ہیں۔اخبار بھر نے کے لئے بھی اسی ذریعہ کو برو ئے کار لایا جانے لگا ۔فیس بُک،ٹوئٹر یا واٹس ایپ جس سے چاہیں رابطہ کرلیں ۔منٹوں میں خبریں،تصویریں مل جاتی ہیں۔
بحیثیت پہلے امیگرینٹ صحافی میں نے فیس بُک اور ٹوئٹرپر نیوز کیوریٹر کام کیا۔یہ تجربہ منفرد ہو نے کے ساتھ نئی جہت کے سفر میں معاون بھی ہے۔
یہاں سے جانے کا خیال بھی اسی لئے آیا کیونکہ ہمارے نیوز رومزمیں جن خطوط پر اب تک کام ہو رہا ہے ان میں کہیں innovationکی گنجائش نہیں۔ہم نے تو سوشل میڈیا کو بڑی دیر اور مشکل سے قبول کیا ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ نیوز بُلیٹن کی ہیڈلائنز کو غیر سیاسی خبر سے پیش کر یں یا کم سے کم سیاسی خبریں شائع کی جائیں تو مجھے کو ئی صحافی ہی نہیں سمجھے گا۔در اصل ہمیں صحافت کے نام پرسیاست کر نی ہو تی ہے۔جس صحافی نے پی آر نہیں کی وہ صحافی کہلانے کا مستحق نہیں۔تخلیق کو پنجرے میں بند کر کے تخلیق کا نام دینے والے اگر صحافی ہیں تو میں کم از کم ایسی صحافت کی قائل نہیں ہوں۔صحافی کا کام ایمانداری سے بیان کرنا ہے ناکہ اخبار یا چینل کی ریٹنگ بڑھانا۔میں ملک سے دور مگر صحافی ہی بھلی ہوں۔سوشل جرنلزم ترقی یافتہ ممالک کی پہچان چکا ہے۔اب کوئی خبریں جاننے کے لئے رات نو بجے کے نیوز بُلیٹن کا انتظار نہیں کر تا۔سوشل میڈیا نے صحافت کی رفتار اور فارمیٹ دونوں بدل دیئے ہیں۔نئی نسل کے پاس اتنا وقت ہی نہیں بچا کہ وہ صحافت کے قدیم طرز اپنائے ۔ہمیں نئے رجحانات کی طرف دیکھنا ہو گا انہیں سیکھنا،سمجھنا اور سمجھانا ہو گا۔
لفظ اپنے معنی بدل سکتے ہیں لیکن ان کو سمجھنے کے لئے جانکار ہو نا شرط ہے۔سوشل جرنلزم نے میڈیا کے دیگر ذرائع کے مقابلے میں ترقی پائی۔ کامیابی کا سفر اس کی رفتار کا ساتھی بن گیا۔میں سمجھتی ہوں تبدیلی اسی وقت آتی ہے جب اسے آنا چاہئے۔یعنی اس کی ضرورت ہی اسے ایجاد کر تی ہے۔آن لائن پبلشرز انٹر نیٹ کے ساتھ سوشل میڈیا سے ناظرین کو جوڑنے کے لئے مارکیٹنگ کے جو طریقے اپناتے ہیں وہ وقت کو دوڑنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔اس طرح نیٹ ورکس بھی ان سے رابطہ کر تے ہیں اور وہ وہاں سے بھی کماتے ہیں لیکن یہ وہ طریقہ ہے جو سب کو نظر آرہا ہے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا بھی تو کمائی کے ذریعے ہیں۔صرف فارمیٹ کی بات ہے۔سوشل جرنلزم نے بنے بنائے سانچے ضرور دستیاب کئے ہیں جو بآسانی اورکم خرچ پر پبلشرز کو مل گئے ہیں مگر ان کے استعمال کے طریقے ہیں،ضابطہ اخلاق اور قوانین ہیں۔آپ ان سے پیسا کما سکتے ہیں لیکن کسی بھی قسم کی غیر قانونی،جھوٹی اور جعلی خبر یا ایکٹیویٹی کی صورت میں سائبر کرائم کادائرہ آپ کے گرد تنگ ہوتا جاتا ہے۔ہر پبلی کیشن ایڈیٹوریل ذمہ داریوں اور ان سے بزنس کر نے کے مابین توازن رکھنا جانتا ہے۔جعلی سنسنی خیز مواد اور ناظرین کو انگیج رکھنا دو الگ باتیں ہیں۔بہتریہ ہے کہ قارئین ، ناظرین اور سامعین کے مزاج کو مد نظر رکھتے ہو ئے اس فارمیٹ کو استعمال کیا جائے۔آپ کے مخاطب کو ن ہیں،یہ کیسے سوچتے ہیں،انہیں باقی دنیا سے کیسے ملایا جائے،ان سے انہی کی زبان میں بات کر یں۔اگر آپ ایسا کر نے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقین جانئے بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ایک صحافی کو ذرائع پرنظر رکھنی چاہئے ۔خبر کا ذریعہ چاہے جو بھی ہو اس کی صداقت افادیت،شفافیت اور معلومات کی کراس چیکنگ کرنی چاہئے۔تصویریں، وڈیوز،اقوال زریں وغیرہ کی authenticity اوّلین ترجیح ہو۔عوام کو بھی ان خبروں اور معلومات پر یقین کر نے سے قبل چند باتوں کا خیال رکھنا چاہئے جیسے۔یہ حقائق کہاں سے آئے،انہیں کون بیان کر رہا ہے،آپ کو اس بارے میں کیسے پتا چلا؟

درست سمت کا سفر کٹھن ہوتا ہے،راستہ پُر خار ہو تا ہے،اس پر چلنے والے مستقل مزاج نہ ہوں تو بھٹک کر اور بہت دورنکل جاتے ہیں۔واپسی کے دروازے بند کر تے ہو ئے گزر جاتے ہیں۔
میں یہاں آ تو گئی تھی پر دل مطمئن نہ تھا۔ شاید جو میں کر نا چاہتی تھی وہ میں کر نہیں پا رہی تھی۔یہی میری بے چینی کی وجہ تھی۔امریکا لوٹ جانے کا خیال اچانک نہیں آیا۔ کافی سوچ و بچار کے بعد میں نے فیصلہ کیا۔میں وقت ضائع نہیں کر سکتی۔جو کر نا ہو تا ہے کر جاتی ہوں ۔اس طرح ہار یا جیت دونوں آپ کی ذاتی ملکیت ہو تی ہیں۔جیت جائیں تو سب آپ کا ،ہار کی صورت میں نقصان بھی آپ کا۔فیس بُک اور ٹوئٹر میں کام کرنا میرے لئے آسان نہیں۔آپ کیا سمجھتے ہیں باہر سب حلوہ ہے؟جو تھالی میں سجا کر پیش کر دیا جاتا ہے؟یہ صرف خواب اور خیال ہیں۔میری ڈگری مغرب کی لیکن تجربہ دیسی شمار ہو تا ہے۔باہر کی زندگی قطعی آسان نہیں ہے۔خاص طور پر ایک مسلم خاتون کے لئے تو بلکل بھی نہیں۔سب کچھ نئے سرے اور نئے عزم کے ساتھ شروع کر نا تھا مجھے۔سابق کام ،تجربہ کام شمار نہ ہوا۔مجھے سخت محنت اور خود کو ثابت کر نے کی اشد ضرورت تھی اور میں نے یہ کیا بھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلم امیگرینٹس کے لئے تشویش کے اظہار اورامریکا کو غیرملکی ملازمت پیشہ افراد سے خالی کروانے کی بازگشت سب نے سنی۔ایسی صورتحال میں غیر ملکیوں کے لئے امریکا کا روایتی مہمان نواز کردار بھی معدوم ہو تا نظر آرہا تھا۔لیکن ٹرمپ کے امریکا میں ایک مسلم امیگرینٹ عورت کا یہ سفر دلچسپ ہے۔یہ کبھی نہ ہونے والی خبروں کا سلسلہ ہے۔آپ نے بھی شاید دیکھا ہوکہ یہاں صحافی کم سوتے اور زیادہ کام کر تے ہیں۔
صحافیوں کو کثیر نقطہ ء ہائے نظر سمیت مختلف مسائل پر پہلے سے زیادہ جانفشانی کے ساتھ کام کر نا پڑتا ہے۔انہیں یہ بھی خیال رکھناپڑتا ہی کہ انہیں پڑھنے ،دیکھنے اور سننے والے ان کی تحریر سے الگ تھلگ نہ ہو جائیں چاہے لکھنے والے کے ذاتی خیال وہ نہ ہوں جو آڈیئنس کے ذاتی خیالات ہو تے ہیں۔
میں ہر پاکستانی صحافی اور اس شعبے میں کام کر نے کے خواہشمندافراد کو یہ مشورہ دینا چاہتی ہوں کہ ابلاغ کے جدید طریقوں پر توجہ مرکوز کریں کریں انہیں سیکھیں۔معلومات حاصل کر نے کے ذرائع جتنے جدید اور موئثر ہوں گے آپ کا کیریئر بھی اسی قدر آگے بڑھے گا۔سوشل میڈیا صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہے اہم ترین شعبے اس سے منسلک ہیں ۔مقابلہ آرائی کی فضا ء ہر شعبے میں محسوس کی جا رہی ہے ۔صحافی کسی بھی ملک کا ہو اس کی ذمہ داری بڑی ہو تی ہے۔ایک سیکنڈ میں بدلتی ہو ئی صحافت کی دنیا ،متاثر بہت کر تی ہے ۔لیکن یہ ذہن نشین رہے کہ جو کام آج آپ ’’نیا‘‘ یا ’’منفرد‘‘ سمجھ کر کر رہے ہیں۔کل وہ بھی پرانا یا غیر مروّج کہلائے گا ۔لہٰذا کامیاب صحافی بننے کے لئے جدت کو اپنانے اسے گلے لگانے کی ضرورت ہے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

14 − 8 =