مصوّری کے 70سال

مصوّری کے 70سال

وطنِ عزیز میں فنونِ لطیفہ کے کئی شعبوں میں نشیب و فراز آئے ہیں لیکن مصوّری کا شعبہ ترقّی کی جانب گام زن رہا ہے اور ممتاز مصوّر اے آر چُغتائی سے تاحال فنکاروں کی کہکشاں سے سے جگمگارہا ہے۔ ہمارے ایسے قابلِ فخر فنکار رہے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے ملک میں شہرت حاصل کی بلکہ بیرونِ ملک پاکستان کا نام اپنے فن سے روشن کیا ہے۔ مصوّری کے 70برسوں کا جائزہ لیتے ہوئے ہم نے گزشتہ دو قسطوں میں ، فنکاروں کا مختصراً تعارف پیش کیا۔ اس سلسلے کی یہ تیسری قسط پیشِ خدمت ہے۔

علی امام 1924ء میں، نرسنگھ پور (مدھیہ پردیش۔ انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ 1940ء کے اوائل میں وہ ’’ناگ پور اسکول آف آرٹ‘‘ میں، آرٹ کی تعلیم حاصل کرنے چلے گئے۔ اس کے بعد انہوں نے ’’جے جے اسکول آف آرٹ‘‘ بمبئی میں دو برس تعلیم حاصل کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ اپنے خاندان کے کچھ افراد کے ساتھ یہاں آگئے۔
یہاں آ کر وہ ترقی پسند مصنّفین کی تحریک اور کمیونسٹ پارٹی کی سرگرمیوں میں حصّہ لینے لگے۔ ترقی پسند ہونا، کمیونسٹ نظریے کا حامی ہونا پاکستان میں سنگین ترین جرم تھا لہٰذا علی امام کو اس ’’جرم‘‘ کی وجہ سے تکالیف اٹھانا پڑیں۔ 1950ء کے عشرے میں وہ اپنے ترقی پسند خیالات کی وجہ سے تین بار جیل گئے۔
لاہور میں قیام کے دوران علی امام نے پنجاب یونیورسٹی سے 1949ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اپنے سیاسی نظریے کی وجہ سے وہ مستقل، خفیہ پولیس کی نظر میں رہتے تھے لہٰذا وہ لندن چلے گئے اور تقریباً گیارہ برس وہاں مقیم رہے۔ اس دوران انہوں نے ’’سینٹ مارٹن اسکول آف آرٹ‘‘ میں داخلہ لیا۔ وہاں ایک برس تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ’’ہیمر اسمتھ کالج آف آرٹ‘‘ میں داخلہ لیا اور 1962-63ء میں وہاں آرٹ کی تعلیم حاصل کی۔ پھر وہ لندن سے پاکستان واپس آگئے اور 1971ء میں کراچی میں ’’انڈز گیلری‘‘ قائم کی۔ ان کی اس گیلری کا پاکستان میں آرٹ اور فنکاروں کی ترقی میں کلیدی کردار ہے۔ انڈز گیلری میں کتنے ہی نام ور فنکاروں بشمول صادقین، گل جی اور اقبال مہدی کے فن کی نمائشیں منعقد ہوئیں۔علی امام کی گیلری نے بہت شہرت حاصل کی اور انہوں نے اسے شہر کا ثقافتی مرکز بنایا۔ علی امام نے آرٹ میں اپنے شاگردوں کو آگے بڑھایا، صحافیوں کی حوصلہ افزائی کی، آرٹ کے شائقین کے حلقے میں اضافہ کیا۔

علی امام نے ماڈرن پینٹر کی حیثیت سے بہت شہرت حاصل کی۔ ان کے فن کا بہترین دور 1967ء سے 1971ء تک کہا جاتا ہے۔ 1971ء میں انہوں نے ’’ماں اور بچّہ‘‘ کے عنوان سے جو پینٹنگ بنائی وہ شائقین اور ناقدینِ فن کے لیے نہایت پسندیدہ رہی۔

علی امام کے فن اور فن کی خدمت کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 1968ء میں انہیں ’’تمغۂ حسنِ کارکردگی‘‘ پیش کیا۔ 2006ء میں ملک کے محکمۂ ڈاک نے ’’پاکستان کے 10 بڑے پینٹرز‘‘ کی تصاویر کے جو یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کئے ان میں علی امام شامل ہیں۔
علی امام کا انتقال کراچی میں، دل کا دورہ پڑنے سے 2002ء میں 23 ویں مئی کو ہوا۔

تصّدق سہیل 1930ء میں جالندھر (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ عمر کے تقریباً تیس برس لندن میں گذارے جہاں وہ 1961ء میں گئے تھے۔ پھر وہ کراچی آگئے اور گزشتہ ماہ اکتوبر میں یہیں ان کا انتقال ہوگیا۔
2014ء کے آخری مہینے میں، اوشین آرٹ گیلری میں ان کے فن کی نمائش منعقد ہوئی تھی جس کی روداد، ہم نے ’’اطراف‘‘ کے 2015ء جنوری کے شمارے میں قارئین کے سامنے پیش کی تھی۔ اُس نمائش میں ان سے ہماری ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے فن کے شائقین سے کہا تھا کہ ’’یہ میرا آخری شو ہے۔۔۔ چند ماہ سے میں خود کو بہت کم زور محسوس کر رہا ہوں۔ میری ہڈیوں سے

ساری طاقت نچڑ چکی ہے۔۔۔ مجھ میں وہ توانائی نہیں رہی جو ہوا کرتی تھی۔‘‘
تصدّق سہیل ادیب بھی ہیں۔ انہوں نے مختصر کہانیاں لکھیں جو لندن کے جریدے ’’اردو ادب‘‘ میں شائع ہوئیں۔ ان کی تحریروں کا مجموعہ ’’تنہائی کا سفر‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ ان کے فن کے بارے میں 1979ء میں بی بی سی نے دستاویزی فلم بنائی، دوسری فلم 1987ء میں طارق علی نے چینل 4 کے لیے بنائی۔ ان کی پینٹنگز میں جانور، پرندے، باریش قدیم انسانی چہرے، برہنہ جسم جھاڑیوں سے جھلکتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے نیوڈز بھی بے تحاشہ ڈراینگ کیے ہیں۔

پاکستان میں تجریدی آرٹ کے حوالے سے مشہور، وہاب جعفر 1941ء میں پونا (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک فنکار کی شہرت کے علاوہ ’’آرٹ کلکٹر‘‘ کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ان کے ذخیرے میں مشہور فنکاروں احمد پرویز، صادقین، علی امام، بشیر مرزا، اے آر ناگوری سمیت برطانیا، کینڈا فلپائن، انڈونیشیا، انڈیا

سمیت کئی ممالک کے پینٹرز کے فن پاروں کے علاوہ معروف فنکاروں کے بنائے ہوئے مجسّمے، قلمی نسخے اور مِنی ایچرز شامل ہیں۔
وہاب جعفر کی فنّی کاوشوں کی پہلی یک نفری نمائش (سولوشو) 1981ء میں انڈز گیلری میں منعقد ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ ان کی نمائشیں نیشنل آرٹ گیلری اسلام آباد، اونٹیریو کینڈا، کیلی فورنیا امریکا اور ممبئی انڈیا میں بھی منعقد ہوچکی ہیں۔ وہ ملک کے ممتاز فنکار احمد پرویز سے بہت متاثر ہیں۔ ان کے بارے میں وہاب جعفر کا کہنا ہے کہ ’’میرے کام میں میرے استاد احمد پرویز کا رنگ نظر آتا ہے۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ان کے ساتھ ساتھ علی امام، بشیر مرزا اور گُل جی جیسے اساتذہ سے سیکھنے کا موقع ملا۔ یہ سب مجھے اپنے نگار خانوں میں مدعو کرتے اور کہتے تھے کہ ہمیں پینٹ کرتے دیکھو۔‘‘ وہاب جعفر کی پینٹنگز میں زندگی کی مسرّتیں، روشنی اور رنگ نظر آتے ہیں۔
وہ سال کے چھ ماہ پاکستان میں اور چھ ماہ کینڈا میں رہتے ہیں۔

سلیمہ ہاشمی 1942ء میں دہلی (انڈیا) میں پیدا ہوئیں۔ 1947ء میں وہ قیامِ پاکستان کے دوران اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آگئیں۔ نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) لاہور میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ 1960ء کے عشرے کے اوائل میں انگلینڈ چلی گئیں۔ انہوں نے وہاں 1965ء میں ’’باتھ اکیڈمی آف آرٹ‘‘ (کورشم) سے آرٹ ایجوکیشن میں ڈپلوما حاصل کیا۔

انہوں نے ’’رہوڈے آئی لینڈ اسکول آف ڈیزائن (امریکا) میں بھی تعلیم حاصل کی۔
وہ آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ کیوریٹر، کنٹمپوریری آرٹ کی تاریخ نویس بھی ہیں۔ انہوں نے این سی اے میں تقریباً 31 برس تدریس کی اور یہاں چار برس پرنسپل بھی رہیں۔ وہ بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے اسکول آف ویژؤل آرٹس کی ’’ڈِین‘‘ بھی رہی ہیں۔ وہ سماجی کام میں حصّہ لیتی رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے بھی سرگرم رہی ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (پنجاب) کی وائس چیئرپرسن ہیں۔
سلیمہ ہاشمی کو ادبی، علمی، سیاسی ماحول اپنے گھر سے ملا۔ وہ ممتاز شاعر فیض احمد فیض اور برطانوی نژاد ایلس فیض کی دُختر ہیں۔ انہوں نے پاکستانی خواتین پینٹرز کی حیات اور فن کے بارے میں کتاب لکھی جو 2001ء میں شائع ہوئی۔انہیں 1999ء میں صدارتی تمغۂ حُسنِ کارکردگی دیا گیا

سیّد اقبال مہدی نقوی، 1946ء میں یکم اپریل کو امروہہ (یوپی۔ انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سیّد محمد میر علی نقوی، مصوّر تھے، شاعر تھے، پیسٹل چاک سے تصویریں بنایا کرتے تھے۔
اقبال مہدی سے ہمارا تعلّق کئی برسوں پر محیط رہا۔ ہفت روزہ معیار کے ماہانہ ادبی ایڈیشن کے لیے ہم نے، ان سے تفصیلی انٹرویو کیا جو 1992ء کے سال نامے میں شائع ہوا تھا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ’’میں آٹھ برس کی عمر میں تصویریں بنانے لگا تھا۔ یہ میرا بچپن تھا۔ میں کوئلے سے قبروں پر، امام باڑوں پر تصویریں بناتا اور پھر پٹتا تھا۔ میں امروہہ سے پہلی بار میرٹھ گیا۔ وہاں ایک دکان دار نے بتایا کہ ’’ہمارے ہاں ایک پینسل ہوتی ہے جو کوئلے کی بنی ہوتی ہے۔‘‘ (وہ آج چار کول کہلاتی ہے) یہ وہی پینسل تھی۔ بس پھر تو قیامت آگئی۔ پھر ہم نے جانوروں کو چھوڑ کر جو پہلا پورٹریٹ بنایا وہ دلیپ کمار کا تھا۔ پھر مدھو بالا کا بنایا۔ اُس عمر میں ہمارے یہی ہیرو تھے۔ ابھی میں کلر میں نہیں آیا تھا۔ باقاعدہ پینٹنگ کا آغاز پاکستان آکر ہوا۔۔۔ میں نے کاغذ پر شیر اور ہرن بنائے جن کی قیمت مجھے چونّی (چارآنے) ملی۔ یہ میری پہلی آمدنی تھی۔ پھر میری بنائی تصویر پچیس روپے میں بِک گئی۔ اب سے کوئی دس سال پہلے میری ایک تصویر ڈیڑھ لاکھ روپے میں بِکی۔ یہ شاہ خالد کی پورٹریٹ تھی۔ انہوں نے مجھے اپنے مہمان کے طور پر سعودی عرب بلایا تھا۔۔۔ لیکن پیسے سے میرے فن کا تعیّن نہیں ہوسکتا۔ میں اپنی ہوئی لاکھوں روپے والی تصویر چند ہزار میں بھی بیچ دیتا ہوں۔۔۔ میں نے آئل پینٹنگ کرنا، مرزا سجّاد حسین سے سیکھا جو لکھنؤ آرٹ کالج اور علی گڑھ یونیورسٹی میں آرٹ سکھاتے تھے۔ وہ ڈاکٹر ذاکر حسین کے دوست تھے اور ڈاکٹر محمود حسین کے کہنے پر پاکستان آگئے۔ پھر میری سب سے زیادہ ٹریننگ جو ہوئی وہ کی ہمارے صادقین نے۔۔۔

1969ء میں 23 ویں دسمبرکو میراپہلا وَن مین شو کراچی میں ہوا۔ اس کا انتظام صادقین صاحب نے کیا تھا۔ فیض صاحب نے اس میں تقریر کی، سابق گورنر مغربی پاکستان اختر حسین نے اس کا افتتاح کیا۔۔۔ پھر فیض صاحب اور سبط حسن صاحب مجھے لے آئے ’’لیل و نہار‘‘ (ہفت روزہ) میں۔ یہ میری پہلی ملازمت تھی۔۔۔ میری بنائی ہوئی تصاویر پاکستان کے بینکوں، لائبریریوں، گورنر ہاؤسز، چیف منسٹر ہاؤسز، پرائم منسٹر ہاؤس، بڑے بڑے ہوٹلوں اور آرٹ کلکٹرز کے گھروں کے علاوہ دنیا بھر میں ہیں۔۔۔ میرے تقریباً 25 وَن مین شوز ہوئے ہیں۔ جن میں پاکستان کے علاوہ واشنگٹن، میونخ، سعودی عرب، ہانگ کانگ، لندن اور پیرس میں بھی شوز ہوئے ہیں۔۔۔ میں نے اقبالؔ اور فیضؔ کے کلام کو پڑھا اور السٹریٹ کیا اور اس کی نمائشیں کیں۔۔۔ جوشؔ صاحب کی ’’یادوں کی برات‘‘ کا جو سرورق ہے، اُن کی جو تصویر ہے وہ میری بنائی ہوئی ہے۔۔۔ محمود شام صاحب سے گہرا تعلق رہا ہے۔ شاید سولہ برس پہلے میں نے ان کی تصویر بنائی۔ ان کے مجموعہ کلام ’’آخری رقص‘‘ کا سرورق میں نے بنایا۔۔۔‘‘
پورٹریٹ بنانے میں اقبال مہدی کو ملکہ حاصل تھا۔ نہایت شان دار ڈرائینگ اسکیچ کرتے تھے۔ پین اینڈ اِنکڈرائینگ وہ کمال کی کرتے تھے۔ اخبار جہاں، سب رنگ ڈائجسٹ کے لیے انہوں نے کئی برس اسکیچ بنائے۔ اقبال مہدی نے شہرت اور مقبولیت جوانی میں حاصل کرلی تھی۔ ان کی بنائی پورٹریٹس، ڈرائینگز ان کی زندگی میں ہی ہزاروں روپے اور پھر لاکھ روپے سے زائد رقم میں فروخت ہونے لگی تھیں۔ لیکن حیرت ہے کہ ’’نقّادانِ فن‘‘ نے انہیں قطعی نظر انداز کیا ہے۔ کیا دھڑے بندی، لابنگ حسد کا جذبہ یا خود اقبال مہدی کا مزاج ! ویسے تو شعر و ادب میں بھی ’’نقادانِ فن‘‘ کی یہ روش عام ہے۔ بہتاچھا شعر کہنے والے شعراء کو نظر انداز کیا گیا اور کیا جارہا ہے۔ لیکن یہ بھی مُسلّمہ امر ہے کہ ’’لابنگ‘‘ کسی فنکار کا خواہ اس کا تعلق فنونِ لطیفہ کے کسی بھی فن سے ہو، وقتی طور پر راستہ روک سکتی ہے مگر فن اور فنکار کا تعیّن، تاریخ کرتی ہے۔ غالبؔ آج اردو کا بے مثال شاعر ہے۔
اقبال مہدی کا انتقال 2008ء میں 19 ویں مئی کو راول پنڈی میں ہوا اور تدفین کراچی میں سخی حسن قبرستان میں ہوئی۔

لیلیٰ شہزادہ

لیلیٰ شہزادہ، پاکستان کی خواتین فنکاراؤں میں اوّلین تھیں جنہوں نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ ان کی فنّی کاوشوں کی نمائشیں آرٹس کونسل کراچی، لندن، پیرس،ٹوکیو اور نیو یارک میں منعقد ہوئیں اور لیلیٰ شہزادہ کے فن کو سراہا گیا۔ وہ واحد پاکستانی ہیں جنہیں ’’نیو یارک شہر کی کِلد‘‘ سے نوازا گیا ہے۔

وہ 1926میں انگلینڈمیں پیدا ہوئی تھیں اور جولائی 1994میں ان کا انتقال ہوا۔انہوں نے 1945میں ‘‘رائل ڈرائنگ سوسائٹی‘‘ میں تعلیم حاصل کی۔ان کی پہلی یک نفری(سولو) نمائش 1960 میں آرٹس کونسل کراچی میں منعقد ہوئی تھی۔ وادئ سندھ کی تہذیب پر انہوں نے جو کام کیا ہے وہ یادگار ہے۔ انہوں نے اس قدیم تہذیب کے مختلف رُخ اپنی پینٹنگز میں اُجاگر کیے جن کی نمائش 1976میں کراچی میں منعقد ہوئی تھی۔ ان کی پینٹنگز کی آخری نمائش دسمبر1994 میں چوکنڈی آرٹ گیلری میں منعقد ہوئی تھی۔
رابعہ زبیری
رابعہ زبیری‘1949 میں علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ مجسّمہ سازی میں دپلوما، انہوں نے 1964 میں لکھنؤ کالج آف آرٹ سے کیا۔ اُسی برس وہ کراچی آگئیں۔ یہاں آکر انہوں نے کراچی اسکول آف آرٹ قائم کیا جو مستند حیثیت رکھتا ہے۔
ان کی فنّی کاوشوں کی پہلی بڑی نمائش 1970میں پاک امریکن کلچر سینٹر کراچی میں منعقد ہوئی، جس میں انہوں نے اپنے بنائے مجسّمے پیش کیے۔

رفعت علوی

رفعت علوی 1944میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کراچی اسکول آف آرٹ سے گریجویشن کیا۔ اسی اسکول میں انہوں نے آرٹ کی تدریس بھی کی۔1982سے 1986 تک وہ سندھ اسمال اینڈانڈسٹریز میں آرٹ ڈیزائنر رہیں۔

سے وہ رنگو والا آرٹ گیلری سے بہ حیثیت ڈائریکٹر ہیں، یہاں وہ آرٹ کی تدریس بھی کرتی ہیں۔ اس گیلری کو بہتر سے بہتر بنانے میں منہمک رہتی ہیں، پینٹنگ کرتی ہیں، اس کے لیے رنگ خود بناتی ہیں وہ بھی مٹی سے۔ جس جس ملک میں جاتی ہیں وہاں کی مٹّی لے کر آتی ہیں۔ مٹّی، رفعت علی کا عشق ہے۔
ان کی فنّی کاوشوں کی پہلی بڑی نمائش ’’گم شدہ تہذیبیں‘‘ 1993 میں رنگون والا گیلری میں منعقدہوئی تھی۔ 1996میں انہوں نے اپنی دوسری بڑی نمائش بریڈ فورڈ (برطانیا) میں منعقد کی تھی۔ دُنیا کے کئی ممالک کے وہ دورے کرچکی ہیں۔

ناہید رضا

وطنِ عزیز میں جن خواتین فنکاروں نے اپنے فن کو منوایا اور شہرت حاصل کی ان میں ایک نام ناہید رضا کا ہے۔ 1947 میں جنم لینے والی ناہید رضا کے فن کا بنیادی موضوع عورت، نسوانیت ہے۔ انہوں نے اپنی پینٹنگز میں عورت کی زندگی کو پیش کیا ہے، اس کا گھُٹا گھُٹا ماحول یا اس کی مجبوری۔

انہوں نے سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف آرٹس اینڈ کرافٹس(سی آئی اے سی) سے گریجویشن کیا اور 1970کے عشرے کے اوائل سے اپنی فنّی کاوشوں کو شائقینِ فن کے سامنے پیش کرنا شروع کیا۔ انہوں نے ’’عورت‘‘ کے عنوان سے اپنے فن کی ایک سیریز بنائی جس کی نمائش 1987 میں چوکنڈی آرٹ گیلری میں منعقد ہوئی تھی۔
انہوں نے معاشرے کی اس عورت کو خصوصی طور پر اپنے فن کا موضوع بنایا ہے جو مردانہ یا معاشرتی جبرا و استحصال کا شکار ہے اور خود کو فروخت کرتی ہے۔ ناہید رضا کا یہ کام جرأت کا مظہر ہے۔( جاری ہے)

 

 

 

 

 

 

 

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

two + seven =