ماہانہ اطراف ستمبر2019- چھوٹے شہروں کے بڑے پاکستانی

اطرافیہ
چھوٹے شہروں کے بڑے پاکستانی

سچ جانیے۔ میں ایک سرشاری کے عالم میں ہوں۔
پاکستان کے بڑے بڑے میڈیا گروپوں میں اعلیٰ ترین عہدوں پر خدمات انجام دیتے ہوئے اندرون ملک۔ بیرون ملک بڑے بڑے محلّات میں۔ ملکی سربراہوں سے ملنے کے مواقع ملتے رہے۔ لیکن دل کو جو تسکین اب ’اطراف‘ کے مضمون نویسی کے مقابلوں کی تقسیم انعامات کی تقریبات منعقد کرکے۔ ملک بھر کے نوجوانوں میں حرف و معانی لوح و قلم سے اشتیاق دیکھ کر ملتی ہے۔ وہ امریکہ۔ فرانس۔ چین کے صدرو سے مل کر ہوتی تھی۔نہ برطانیہ۔ بھارت۔ تھائی لینڈ۔ فلپائن کے وزرائے اعظم سے ملاقاتوں میں۔
’اطراف‘ یقینا ایک فخر سے یہ کہہ سکتا ہے:
اک ولولہئ تازہ دیا میں نے دلوں کو
عین ان دنوں میں جب یہ شور عام ہے کہ پاکستان کا نوجوان قلم ہاتھ میں لینے کی بجائے کی پیڈ پر انگلیاں دھرنے کا عادی ہورہا ہے۔ اس موسم میں ’اطراف‘ 3سال سے ملک کے مختلف علاقوں میں 18سے 28سال کے نوجوانوں کے درمیان مضمون نویسی کے مقابلے منعقد کررہا ہے۔ انہیں ترغیب دیتا ہے کہ وہ مختلف متنوع موضوعات پر تحقیق کریں۔ معلومات (ڈیٹا) یکجا کریں۔ ہر پھر مضمون کی شکل میں اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کریں۔ کتنی مسرت ہوتی ہے۔ جب ملک کے دور دراز کے شہروں قصبوں سے بیٹے بیٹیاں بڑے اہتمام سے مضمون تیار کرکے ارسال کرتے ہیں۔ پھر انتظار میں رہتے ہیں کہ ان کی کوئی پوزیشن آرہی ہے یا نہیں۔ یقینا ان کے اساتذہ بھی ان کی مدد کرتے ہوں گے۔ مضمون نویسی میں ان کی معاونت میسر آتی ہوگی۔ لیکن اصل شوق تو ان طلبہ و طالبات کا ہی ہے۔
بڑا میڈیا تو روزانہ ملک کی ایسی کیفیت بیان کرتا ہے کہ یونیورسٹیوں میں کچھ نہیں پڑھایا جارہا ہے۔ نوجوان مطالعے سے گریز کرتے ہیں۔ ملک میں صرف سیاستدان ہی فعال اور سرگرم ہیں۔
تین سال سے جاری ’نوجوانوں میں قومی زبان کے فروغ کا منصوبہ‘ کامیابی کی منزلیں طے کررہا ہے۔ اور ملک بھر کے بزرگوں نوجوانوں کو یہ یقین دلارہا ہے کہ پاکستان آگے بڑھ رہا ہے۔
مجھے ان تقریبات کے سلسلے میں ان شہروں میں جانے کا حسین موقع مل رہا ہے۔ جہاں پہلے کبھی نہیں گئے تھے۔ وہاں جاکر ہی احساس ہوتا ہے کہ ہم وطن کتنے جفاکش ہیں۔ کتنی محنت کرتے ہیں۔ زندگی کی گاڑی کھینچنے کے لیے کیا کیا نئے راستے اختیار کرتے ہیں۔ ان مقامات پر ڈپٹی کمشنر۔ کمشنر۔ بلدیاتی ادارے۔ تعلیمی ادارے بھی کتنے سرگرم ہیں۔ بڑے شہروں سے زیادہ صفائی ستھرائی دیکھنے کو ملتی ہے۔آپس میں بھائی چارہ۔ ایک دوسرے کی مدد کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ علم حاصل کرنے کے لیے اب بھی طلبہ و طالبات کئی کئی میل پیدل چلتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو اسکول یونیفارم میں سڑک کنارے آہستہ آہستہ اسکولوں کی طرف گامزن دیکھ کر سیروں خون بڑھ جاتا ہے۔
اس بار تقریب تقسیم انعامات بلوچستان کے ایک قدیم شہر لورا لائی میں تھی۔ چھوٹا سا شہر لیکن بیدار۔ فعال اور پُر رونق۔ یونیورسٹی آف لورا لائی 500ایکڑ میں پھیلی ہوئی ہے۔ ابھی کچھ بلاک بنے ہیں۔ باقی زیر تعمیر ہیں۔ اس منصوبے میں آئندہ چالیس پچاس سال کی ضرورت کا خیال رکھا گیا ہے۔ پہاڑ اس کی نگہبانی کررہے ہیں۔ شہر میں کئی کالج ہیں۔ لڑکوں کے الگ لڑکیوں کے الگ۔ میڈیکل کالج بھی ہیں۔ کوئٹہ سے راستے میں قلعہ سیف اللہ کیڈٹ کالج کی وسعتیں بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان سب درسگاہوں میں طالب علموں کی تعداد قابل رشک ہے۔ سندھ پنجاب کی طرح گھوسٹ اسکول نہیں ہیں۔ اسی علاقے میں شرح خواندگی بلند ترین دیکھی۔ لورا لائی اور خانو زئی نے صوبائی امتحانوں میں ہمیشہ پوزیشن لی ہے۔
حکومت ان علاقوں میں چاہے زیادہ فعال نہ ہو۔ مگر لوگ اپنے طور پر نئے راستے تلاش کررہے ہیں۔ سولر انرجی (شمسی توانائی) کا بھرپور استعمال دیکھنے میں آتا ہے۔ جس سے بنجر علاقے گل و گلزار ہورہے ہیں۔ سبزیوں کی فصلیں اگائی جارہی ہیں۔ موٹر سائیکل سے ایک چھوٹا سا چھکڑا ملحق کرکے باربرداری کا کام لیا جارہا ہے۔ ایران سے اسکا نمونہ لیا گیا ہے۔
نوجوانوں میں آگے بڑھنے کی لگن ہے۔ وفاقی حکومت۔ صوبائی حکومت اگر مقامی حکومتوں کی حوصلہ افزائی کریں تو یہ علاقے ملک کی مجموعی ترقی میں بہت مدد کرسکتے ہیں۔ شہریوں میں تخلیق اور تحقیق دونوں کی صلاحیتیں ہیں۔ انگریز ہزاروں میل دور سے آکر ان علاقوں میں روشن امکانات دیکھ سکتا تھا۔ تو ہمارے عمران خانوں۔ شریفوں۔ زرداریوں اور مولاناؤں کو اس مٹی کی زرخیزی کیوں نہیں دکھائی دیتی۔ یقین جانیے۔ آپ کو بڑے پاکستانی ان چھوٹے شہروں میں ہی ملیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

one × 2 =