قو میں ناکام کیوں ہوتی ہیں قسط نمبر3

قو میں ناکام کیوں ہوتی ہیں

قسط نمبر3

گوئٹیمالا میں جب اسپینی داخل ہوئے تواس علاقے میں مایا قبائیلی آبادی 20,00,000 سے کچھ زیادہ تھی۔ اس وقت پوے امریکہ میں وبائیں پھیلی ہوئی تھیں اور علاج معالجہ کی سہولتیں نہ ہونے کے سبب بڑی تعداد میں اموات ہورہی تھیں۔چنانچہ آدھی سے زیادہ آبادی خانہ جنگی اور بیماریوں کے سبب اموات کا شکار ہوگئی۔ مایا قبائیلیوں کی آبادی کو دوبارہ پرانی سطح پر پہنچنے میں لمبا عرصہ لگا اور 1920 کے عشرے میں وہ کسی حد تک خوشحالی کے قریب پہنچ سکے۔اسپینی مقبوضات (میکسیکو، پیرو اورگوئٹیمالا وغیرہ ) میں جبری محنت کا نظام رائج تھا۔اشرافیہ اسپینی اپنے مفتوحین سے جبری بیگار لیتے۔ گوئٹیمالا میں بیگار کے علاوہ اجارہ داریاں بھی تھیں۔ مختلف تجارتی گلڈز بنالی گئی تھیں جن کو خاص اجناس اور اموال کی برآمد پر اجارہ داری حاصل ہوتی تھیں اور کسی دوسرے کو اس کی تجارت کی اجازت نہیں تھی۔ جب گوئٹیمالا آزاد ہواتو تجارتی گلڈز پر مقامی لوگوں کا کنٹرول ہوچکا تھا۔ اگرچہ بیگار کا نظام جاری تھا لیکن اب مقامی لوگ بھی اشرافیہ کا حصہ بن چکے تھے۔ اگرچہ اسپین نے وسطی امریکہ کے بڑے علاقے کو آزادی دے دی تھی لیکن اس آزادی کو اشرافیہ نے پسند نہیں کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آزادی کی وجہ سے آئین بنا اور نئے قوانین عوام کے مشورے سے بنائے گئے۔ تاہم یہ مشاورتی نظام زیادہ عرصے نہیں چلا اور مقامی لوگوں کی آمریت قائم ہوگئی۔ یہ آمریت رفائل کیریرا کی سرکردگی میں1839 سے 1865 تک چلتی رہی جو مقامی لیڈر تھا۔اب مقامی اشرافیہ نے اقتدار پر قبضہ کررکھا تھا اور اسپینی عرصہ ہوا رخصت ہوچکے تھے۔یہ آزادی محض ایک انقلاب تھا جس میں مغربی استعمار کی جگہ مقامی اشرافیہ کے استعمار نے لے لی تھی لیکن اور کوئی چیز تبدیل نہیں ہوئی۔ جابرانہ نظام اسی طرح جاری رہا اور اقتدار کے محلوں کے مکین بدل گئے۔
1993 میں جب رچرڈ کاسٹیلو کو وزیر ترقی بنایاگیا تو گوئٹیمالا پر جمہوریت کے پردے میں اشرافیہ کاآمرانہ نظام نافذ تھا۔ کاسٹیلو کو کسی ایسی ترقی سے دلچسپی نہیں تھی جس سے عوام کے تمام طبقات مستفید ہوں ۔ وہ صرف اپنے خاندان یا گروپ کے فائدے کے لئے ترقیاتی کام کرنا چاہتا تھا۔ اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ ملک بھر میں تاجروں کی آسانی کے لئے سڑکوں کا جال بچھائے اور بندر گاہیں بنائے۔ اس وقت ملک کی واحد بندرگاہ بحیرہ کیریبیئن کے ساحل پر تھی۔ بحر اوقیانوس کی جانب کوئی بندرگاہ نہیں تھی۔ لیکن یہاں کوئی بندر گاہ بنادی جاتی تو کئی شہر وں کے درمیان تجارت آسان ہوجاتی۔ تاہم کاسٹیلو جانتا تھا کہ یہ بندرگاہ بن گئی تو اس کے خاندان کی وسطی گوئیٹیمالا میں تجارت پر اجارہ داری ختم ہوجائے گی اور دوسرے حریف میدان میں آجائیں گے۔کاسٹیلو نے ساحل سمندر کے ساتھ سڑکیں بھی نہیں بننے دیں ۔اس کے نتیجہ میں تاجروں کا ایک طبقہ پیدا ہوجاتا جو حکمراں اشرافیہ کے کنٹرول سے آزاد ہوتا۔اشرافیہ کے اس کنٹرول کی وجہ سے گوئٹیمالا تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں انتہائی پسماندگی کا شکار تھا۔ٹرانسپورٹیشن کی لاگت میں کمی ہورہی تھی۔ بھاپ سے چلنے والی ریلیں، کشتیاں، بحری جہاز چل رہے تھے۔ مغربی یورپ اور امریکہ میں صارفین کی ایک بڑی مارکیٹ وجود میں آچکی تھی۔ اور گوئیٹیمالا صارفین کی اس مارکیٹ کے لئے سیکڑوں چیزیں بناکر برآمد کر سکتا تھاجن کی دنیا بھر میں طلب تھی۔ گوئٹیمالا میں دو قدرتی رنگوں انڈیگو اور کوچی نیل کی کاشت ہوتی تھی۔ گوئٹیمالا کی زمین کافی کی پیداوار کے لئے بہترین تھی۔ جب کافی کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو لوگوں نے کسی سرکاری مدد کے بغیر اس کی کاشت بڑے پیمانے پر شروع کردی۔ 1871 میں کیریرا کی آمریت کا تختہ الٹ دیا گیا اور لبرل برسر اقتدار آگئے۔لبرلز کا مطلب تبدیلی تھی۔ اشرافیہ کی اجارہ داریاں ٹوٹنا شروع ہوگئیں اور نئی بننے لگیں۔جابرانہ اقتصادی ادارے قائم رہے اور مالکان بدل گئے۔ لبرلز نے کافی کی پیداوار اور تجارت کو غیر معمولی اہمیت دی کیونکہ یہ ایک بین الا قوامی جنس تھی۔کافی کی پیداوار میں زمین اور کارکن دونوں بنیادی ضرورت تھے۔ لبرلز نے زمین کی اصلاحات کے نام پر نجکاری شروع کی لیکن اس کے پیچھے پرانے مالکان سے زمینیں چھیننا مقصد تھا۔لبرلز بہت جلد تمام زمینوں پر قابض ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ حد یہ ہے کہ انہوں نے ان زمینوں پر بھی قبضہ کرلیا جو سرکاری تھیں۔1871 سے 1883 کے درمیان 10 لاکھ ایکڑ زمین پر لبرلز نے قبضہ کرلیا۔قبضہ کی ہوئی زمین کو بظاہر نیلام کے ذریعہ فروخ کیا جاتا تھا لیکن حقیقت میں انہیں نئی اشرافیہ کے حوالے کیا جارہا تھا۔ اس پوری زمین پر کافی کی کاشت کی گئی۔ اب کارکنوں کی ضرورت تھی۔ جبری بھرتی کے لئے ریاستی طاقت کا استعمال کیا گیا۔لاکھوں آزاد انسانوں کو بیگار میں پکڑ کر ان زمینوں پر کام لیا جانے لگا۔ جو اعتراض کرتا اسے ملک کا دشمن قرار دے کر مار دیا جاتا یا جیل میں ڈال دیا جاتا۔نومبر 1876 میں صدر بیریوس نے تمام گورنروں کو لکھا کہ رید انڈین قصبوں اور شہروں سے کارکنوں کی بھرتی کی جائے اور انہیں فارموں کے حوالے کردیا جائے۔ ہر فارم کو جتنے کارکن چاہیءں اتنے فراہم کئے جائیں ۔یہ بیگار باقاعدہ سر کاری سرپرستی میں شروع ہوئی۔ 1877 میں بیگار کو قانونی شکل دے دی گئی۔ دیہات میں ہر شخص کے لئے ایک ورک بک رکھنا لازم تھا جس میں درج ہوتا تھا کہ اس نے کتنے دن بیگار کی۔اس ورک بک کو لبریٹا کہا جاتا تھا۔ جو کارکن ایک مرتبہ زمین دار سے قرض لے لیتا وہ ہمیشہ کے لئے غلامی میں آجاتا۔ اس کے بعد زمین دار جب چاہتا اسے اٹھوا لیتا اور اس سے بیگار لیتا۔ اس بیگار میں اسے قانونی مدد حاصل ہوتی۔ حکومت اس کی پشت پر تھی لیکن کارکنوں کے لئے بولنے والا کوئی نہ تھا۔ جو لو گ بیگار سے بچ جاتے انہیں پھانسنے کے لئے نئے قوانین بنائے گئے۔ جو شخص ثابت نہ کرسکتا کہ وہ برسرروزگار نہیں ہے اس کا بے روزگار ہونا بھی جرم تھا۔ اسے پکڑ کر بیگار پر بھیج دیا جاتا۔انیسویں اور بیسویں صدی میں جنوبی افریقہ میں بھی ایسی ہی صورت حال تھی۔
گوئٹیمالا میں ظلم کا یہ دور ایک صدی سے زیادہ جاری رہا۔اس دوران نام نہاد جمہوریت بھی رہی لیکن صدر ہمیشہ بلا مقابلہ منتخب ہوتا کیونکہ جو اس کے مقابلے پر آتا اسے قتل کرادیا جاتا۔جارج یوبیکو سب سے طویل عرصے صدر رہا۔ اس نے 1931 سے 1944 تک حکومت کی۔اس کے دور حکومت میں کارخانے اور فیکٹریاں لگانے کی اجازت نہیں تھی۔ باقاعدہ قانون سازی کرکے کارکن، لیبر یونین اور اسٹرائل کے الفاظ کو بولنا بھی جرم قرار پایا۔جو شخص ان میں سے کوئی ایک لفظ بھی منہ سے نکالتا تھا اسے گرفتار کرکے جیل بھیج دیاجاتا تھا۔ یوبیکو کا اقتدار 1944 تک جاری رہا۔ اس کے خلاف تحریک یونیورسٹی کے طلبہ نے شروع کی اور دوسرے طبقات اس تحریک میں شامل ہوتے چلے گئے۔یکم جولائی کو یوبیکو کا اقتدار ختم ہوا۔ لیکن جمہوریت 1945 سے 1954 تک رہ سکی۔ 1954 میں ایک انقلاب کے نتیجہ میں جمہوری حکومت ختم ہوگئی۔لیکن اس کا نتیجہ خانہ جنگی کی شکل میں نکلا۔ جمہوریت کی واپسی 1986 میں ممکن ہوئی۔ گوئٹیمالا میں جابرانہ نظام اسپینی حملہ آوروں نے قائم کیا ۔ بیگار کے اس نظام کو وہ مقامی اشرافیہ کے حوالے کر گئے۔ جنہوں نے نظام میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔انہوں نے ناصرف اس نظام کو جاری رکھا بلکہ اسے اور زیادہ مضبوط بنایا۔ جب بھی تبدیلی کے لئے تحریک شروع ہوئی اسے بدترین تشدد کے ذریعہ کچل دیا گیا۔ درست جمہوری نظام کے لئے کئی نسلوں کو جدوجہد کرنی پڑی۔(جاری ہے)
غلامی سے جم کرو تک:
گوئٹیمالا میں جابرانہ ادارے استعماری دور سے لے کر جدید دور تک قائم رہے۔معاشرے پر اشرافیہ کا آمرانہ کنٹرول رہا۔ اسی طرح امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں سول وار(خانہ جنگی تک) اسی نوعیت کے جابرانہ ادارے رہے۔اقتصادیات اور سیاست پر جنوبی اشرافیہ قابض رہی۔بڑے قطعات اراضی اور غلاموں پر کنٹرول رہا۔ غلاموں کو کسی قسم کے اقتصادی یا سیاسی حقوق حاصل نہیں تھے۔ انیسویں صدی کے وسط میں جنوبی ریاستوں کے جابرانہ ادارے شمالی ریاستوں کے مقابلے میں مقابلتاً غریب تھے۔جنوب میں صنعتی ترقی نہیں ہوسکی اور نہ کوئی انفرا اسٹرکچر تھا۔تمام جنوبی ریاستوں کی مجموعی صنعتی پیداوار 1860 میں پنسلوانیا، نیویارک یامیساچوسیٹس سے کم تھی۔صرف 9 فیصد آبادی شہروں میں رہتی تھی۔جبکہ شمالی ریاستوں کی35 فیصد آبادی شہری تھی۔جنوب میں دریائے مسس پی کے ساتھ آبادی میں غلاموں کا تناسب 95 فیصد تھا۔ تبدیلی خانہ جنگی کے خاتمے پر آئی جب بنیادی اقتصادی اور سیاسی اصلاحات ہوئیں۔ غلامی کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا اورکالوں کو ووٹ کا حق مل گیا۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے جنوبی ریاستوں کے جابرانہ ادارے تیزی سے مشاورتی اداروں میں تبدیل ہونے لگے۔ جس کا نتیجہ اقتصادی خوش حالی کی شکل میں نکلا۔ لیکن جنوبی ریاستوں میں اشرافیہ کی جانب سے اصلاحات کی مزاحمت جاری تھی ۔ غلامی اگرچہ غیر قانونی قرار دے دی گئی تھی لیکن جیمز کرو نے دوسری قسم کی غلامی رائج کردی۔کالوں کو کوئی ایک صدی تک مزید کچل کر رکھا گیا۔ ان کے سیاسی اور اقتصادی حقوق غصب کئے جاتے رہے۔ان کو گوروں کے ساتھ بسوں میں سفر کرنے ، اسکولں میں پڑھنیھ اور طب و صحت کی سہولتوں سے محروم کردیا گیا۔ باغات اور کھیتوں میں کام کرنے والے کالوں کو بہت کم معاوضہ دیا جاتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شمالی اور مشرقی ریاستوں میں اقتصادی خوشحالی جنوبی ریاستوں سے کئی گنا زیادہ تھی۔ جنگ کے دوران جب غلامی کا خاتمہ ہوا تو آزاد ہونے والے غلاموں کو فی کس 40 ایکڑ زمین اور ایک خچر دینے کا اعلان کیا گیا ۔اس پر کبھی عمل نہ ہوسکا اور اشرافیہ نے ا سکی پابندی نہیں کی۔افریقی امریکی اسکالر ڈبلیو ای بی ڈو بوئس کے مطابق جنوب کالوں کے استحصال کا مسلح لیبر کیمپ بن گیاتھا۔
خانہ جنگی کے بعد 1865-77 کا زمانہ تعمیر نو کا دور کہلاتا ہے۔1877 میں صدارتی انتخابات ہوئے۔ ردر فورڈہیئز کو انتخاب جیتنے کے لئے جنوب کی اشرافیہ کی مددد رکار تھی۔ اس وقت صدر کا انتخاب عوام کے براہ راست ووٹوں سے نہیں ہوتا تھا۔ امریکی یونین کی فوجیں جنوب میں قانون پر عمل درآمد کرانے بھیجی گئی تھیں۔ جنوبی ریاستوں نے مطالبہ کیا کہ فوج واپس بلائی جائے اور شمالی ریاستیں جنوبی ریاستوں کے سیاسی امور میں مداخلت نہ کریں تو وہ ردر فورڈہیئز کو ووٹ دیں گے۔ ردر فورڈہیئز نے اس کا وعدہ کیا اور جنوبی ریاستوں کی اشرافیہ کی مدد سے صدر بن گیا اور اس کے بدلے اس نیجنوب سے فوج واپس بلالی۔ جنوبی ریاستوں نے اب قوانین میں تبدیلیاں شروع کردیں جن کی مدد سے کالوں کو ان حقوق سے محروم کردیا گیا جو وفاقی قانون سازی کے ذریعہ ان کو حاصل ہوئے تھے۔ اس سے اشرافیہ نے مکمل کنٹرول حاصل کرلیا اور کالوں اور غریب سفید فام آبادی کو تمام حقوق سے محروم کردیا گیا۔اس کے نتیجہ میں جنوبی ریاستوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت بن گئی۔ تمام قوت اور اختیار زمیندار اشرافیہ کے پاس تھا۔جم کرو کے قوانین نے گوروں اور کالوں کے الگ الگ اور کالوں کے گھٹیا درجے کے اسکول قائم کئے ۔کالوں کو گوروں کے اسکولوں میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ 1900 میں جنوب میں صرف 13.5 فیصد آبادی شہروں میں تھی جبکہ شمالی مشرقی ریاستوں میں شہری آبادی کا تناسب 60 فیصد تھا۔ جنوبی ریاستوں کے جابرانہ نظام کی بنیاد زراعت،کم تعلیم یافتہ اور کم معاوضوں پر کارکنوں کی دستیابی پر تھی۔اس نظام کا خاتمہ دوسری جنگ عظیم کے بعد خاص طور پر انسانی حقوق کی تحریک کی کامیابی سے ہوا ۔ چنانچہ 1950 اور 1960 کے عشروں میں جابرانہ اقتصادی و سیاسی اداروں کا مکمل خاتمہ ہوا اور جنوب کی ریاستیں بھی امریکی قومی دھارے میں شامل ہوگئیں۔
چند سری حکومت کا آہنی قانون:
ایتھوپیا کی سلیمانی حکومت کا تختہ 1974 میں ایک فوجی انقلاب میں الٹا گیا۔اس انقلاب کے سرخیل چند مارکسی فوجی افسر تھے جن کا گروپ ڈرگ کہلاتا تھا۔ اس سے قبل ایتھوپیا قدیم روایتی شہنشاہیت کے مماثل تھا۔شہنشاہ ہیل سلاسی دن کا آغاز شاہی محل میں اپنے دربار سے کرتا۔ اس محل کی تعمیر انیسویں صدی کے آخر میں شہنشاہ مینیلک دوم نے کی تھی۔محل سے باہر درباریوں اور معززین شہر کا ہجوم صف بستہ کھڑا ہوتا جو شہنشاہ ہیل سلاسی کا جھک کر استقبال کرتا۔ شہنشاہ شاہی تخت پر بیٹھتا۔ ہیل سلاسی کی ٹانگیں چھوٹی تھیں اس لئے جب وہ شاہی تخت پر بیٹھتا تو اس کی ٹانگین نیچے لٹکی دکھائی دیتیں ا س لئے اس کے پیروں کے نیچے بھی تکیہ لگائے جاتے تاکہ ا سکے بدنما پیر لٹکے دکھائی نہ دیں۔ ملک میں بدترین جابرانہ نظام تھا۔ڈرگ کی تشکیل ملک بھر سے مختلف فوجی یونٹوں کے 108 نمائندوں میں سے ہوئی۔صوبہ حرارے کا نمائندہ میجر مینجسٹو ہیل مریم تھا۔ یہ فوجی انقلاب 4 جولائی 1974 کو آیا اور شروع میں فوجی افسروں نے شہنشاہ سے وفاداری کا اظہار کیا لیکن جب انہیں شہنشاہ کی کمزوری کا اندازہ ہوا تو انہوں نے سرکاری عمال کو گرفتار کرنا شروع کردیا۔ 12 ستمبر کو ہیل سلاسی کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔دسمبر میں ڈرگ نے شہنشاہیت کے خاتمے اور ملک کو سوشلست ریاست قرار دینے کا اعلان کیا ۔ 1975 میں دیہات و شہروں میں تمام نجی و سرکاری اراضی کو قومی ملکیت قرار دے دیا گیا۔ ڈرگ کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف ملک کے بہت سے حصوں میں بغاوت ہوگئی۔ اریٹیریا، اگاڈین اور ٹیگاری میں آزادی کی تحریکیں شروع ہوگئیں جو مسلم اکثریتی علاقے تھے اور جن پر شہنشاہ مینیلک دوم کے زمانے مین قبضہ کیا گیا تھا۔ میجر مینجسٹو انتہائی ذہین جنرل تھا۔ اس نے چند ہی دنوں میں تمام بغاوتوں کو کچل دیا اوراس دوران اسے سوویت یونین اور کیوبا سے ہتھیار ملتے رہے۔1978 میں میجسٹو نے ہیل سلاسی کے اقتدار کے خاتمے کی چوتھی سالگرہ منائی۔ میجسٹو اپنے گھر سے ہیل سلاسی کے محل میں منتقل ہوگیا اور شہنشاہ کی طرح شاہی تخت پر بیٹھنے لگا۔ اس نے شہنشاہ والا انداز اختیا رکرلیا۔اب وہ ملک پر ایک ملٹری کونسل کی مدد سے حکومت کررہا تھا۔ حکمراں فوجی افسروں کے سامنے دولت کے ڈھیر لگ گئے اور انہوں نے ظلم و ستم اور عیاشی میں شہنشاہیت کے درباریوں کو بھی مات دے دی۔
جرمن ماہر عمرانیات اور فلاسفر رابرٹ مچلز نے اس قانون کو ” آئرن لا آف اولیگارچی” یعنی چند سری حکومت کا قانون قرار دیا جس میں چند سر مل کر ٰ(جیسے فوجی انقلاب کی صورت میں چند جنرل یا ان پر مشتمل انقلابی کونسل) حکومت کرتے تھے۔ مچلز نے لکھا کہ گزشتہ بادشاہت یا جابرانہ نظام کا ظلم و ستم اس فوجی انقلاب کا جواز فراہم کرتا تھا۔ لیکن مچلز نے یہ نہیں لکھا کہ یہ کارل مارکس کے ان ریمارکس کی بازگشت تھی کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ کیونکہ کچھ عرصے بعد یہ انقلاب بودا ثابت ہوتا تھا اور اس کی جگہ دوسرا نقلاب آتا تھا جس کے نتیجہ میں سوشلست نظریات ایک واہمہ ثابت ہوتے تھے۔پہلا انقلاب ایک المیہ ہوتا تھا اور دوسرا انقلاب تباہی کی تکمیل۔افریقہ میں زیادہ تر ملکوں میں یہی ہوا۔ سوشلسٹ انقلاب کے نام پر فوجی انقلابات لائے گئے جن کو مضبوط بنانے کے لئے سوویت یونین سے مالی اور فوجی امداد بھی ملتی رہی۔ مارکسم کے نظریات کو فروغ دیا جاتا رہا لیکن مارکسم اور سوشلزم کے نام پر آنے والا ہر انقلاب گزشتہ انقلاب کی نفی کرتا رہا۔تاہم اقتدار کی اس جنگ میں ادارے تباہ ہوگئے اور قومی وسائل ایک یا چند افراد کی ملکیت بن گئے۔
سیئر الیون میں سامراجیت کے خلاف جھنڈا بلند کرنے والے اسٹیونز نے بھی یہی کیا اور اس کے خلاف جمہوری جدوجہد کرنے والے مینڈی نے بھی انہی سرداروں پر انحصار کیا جن کو برطانیہ نے اپنی سامراجیت مضبوط بنانے کے لئے مراعات دے کر کھڑا کیا تھا۔ موبو تو کی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف بغاوت کرنے والے لارینٹ کبیلا نے شہریوں کو حقوق دینے کے نام پر مسلح جدوجہد شروع کی اور جب وہ خود اقتدار میں آیا تو ا س نے وہی کچھ کیا جو موبوتو نے کیا تھا۔ ایتھوپیا میں مارکسی فوجی افسر میجر میجستو اور اس کی فوجی کونسل ڈرگ کی پالیسیوں کی وجہ سے ایتھوپیا کی زرخیز زمین تباہ ہوگئی اور قحط پڑ گیا۔
سارے انقلاب بوگس ثابت نہیں ہوتے بشرطیکہ شہری حلقے اس انقلاب کی سختی سے نگرانی کریں اور وہ اتنے طاقتور ہوں کہ انقلابیوں کو پٹری سے اترنے نہ دیں۔اس کی سب سے بڑی مثال برطانیہ کا شاندار یا گلورئس انقلاب تھا جس کے مقاصد کی حفاظت شہریوں نے مسلسل کی اور انقلابیوں کا سخت احتساب کرتے رہے۔ انہوں نے مشاورتی اداروں کو جابرانہ اداروں میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ لیکن افریقہ میں ایسا نہیں ہوا۔ تاہم جہاں جہاں یورپی سامراجی پہنچے وہاں نسبتاً آزاد ادارے قائم ہوئے اور تجارت کی ترقی ہوئی۔کینیا اور نائیجیریا کی برطانوی کالونیوں کی صورت حال بھی بہتر رہی۔کانگو میں بیلجین آبادکاروں نے ادارے بنائے جن کی وجہ سے تاجروں کا نیا طبقہ پیدا ہوا۔لیکن یہ سب استعماریوں کے اپنے فائدے کے لئے استعمال ہوا اور ان کی اجارہ داریاں عام شہریوں کو فائدہ نہیں پہنچنے دیتی تھیں۔
بین الاقوامی برادری کا خیال تھا کہ آزادی ملنے کے بعد افریقی ملکوں میں اقتصادی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔نو آزاد مملکتیں نئی سیاسی قیادت کے تحت ترقی کی منصوبہ بندی کرسکیں گی ۔لیکن استعماریوں نے ہر جگہ جو ادارے قائم کئے تھے ان کا مقصد استعمار کو مضبوط بنانا تھا مقامی آبادی کو اس کا فائدہ پہنچانا مقصود نہیں تھا۔چنانچہ آزادی کے بعد اقتدار اور اختیار ان مقامی لوگوں کے ہاتھ میں آیا جو استعماریوں کے مقامی کارندے اور وفادار تھے اور وہ لوگ بہت جلد اقتدار پر قابض ہوگئے۔ چونکہ کالونی دور میں پہلے کوئی جمہوری اور مشاورتی ادارے قائم نہیں ہونے دئے گئے اور ملک پولیس اسٹیٹ بنا رہا اس لئے آزادی کے بعد اسی فوج اور پولیس نے طاقت کا خلا محسوس کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور ایسا پورے افریقہ میں ہر جگہ ہوا۔اس قیادت نے جس انداز میں لوٹ مار کی اور خود اپنے لوگوں کو نقصان پہنچایا وہ انتہائی افسوس ناک تھا۔اس کی ایک مثال زمبابوے ہے۔زمبابوے میں جنوری 2000 میں قومی لاٹری شروع کی گئی جس کا اہتمام قومی سرکاری بنک نے کیا تھا۔ یہ لاٹری ہزاروں اکاؤنٹ ہولڈرز کے لئے تھی جس کا انعام ایک لاکھ زمبابوے ڈالر تھا۔ تقریبات کا انچارچ فالٹ چواوا تھا جس کو لاٹری حاصل کرنے والے خوش قسمت فرد کے نام کا اعلان کرنا تھا ۔ لیکن وہ اس وقت حیران رہ گیا جب اس نے دی جانے والی پرچی پر زمبابوے کے ڈکٹیٹر آر جی موگابے کا نام لکھا دیکھا۔ رابرٹ موگابے نے زمبابوے پر 1980 سے آہنی پنجے کے زور پر حکومت کی۔ اس کی مالی بد عنوانی کا اندازہ اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ قومی لاٹری کا ایک لاکھ ڈالر کا انعام اس نے پانچ مرتبہ حاصل کیا اور اسے چیلنج کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ قومیں کیوں ناکام ہوتی ہیں؟ زمبابوے اس کی ایک مثال ہے۔ جب زمبابوے آزاد ہوا تو اس کی فی کس قومی آمدنی آج کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھی۔یہ مغربی استعمار سے کیسی آزادی تھی کہ جس کاقوم اور شہریوں کو نقصان ہی نقصان ہوا۔ملک میں طب و صحت کی سہولتوں کا عالم یہ تھا کہ 2008-09 میں ملک میں ہیضے کی وبا پھیل گئی۔جنوری 2010 تک کوئی 4293 افراد ہلاک ہوچکے تھے۔اقوام متحدہ کے مطابق 2009 میں زمبابوے میں بے روزگاری کی شرح 94 فیصد تھی۔زمبابوے کی زمین انتہائی زرخیز تھی اور وہاں اتنی زرعی پیداوار ہوسکتی تھی کہ تنہا زمبابوے پورے افریقہ کو کھلا سکتا تھا۔ 1890 میں برٹش ساؤتھ افریقہ کمپنی نے اس علاقے میں قدم رکھا تو مقامی آبادی کو اپنے جدید ہتھیاروں کے ذریعہ بے دخل کرکے تمام زمینوں پر قبضہ کرلیا۔ اس وقت زمبابوے روڈیشیا کہلاتا تھا۔1932 میں قانون بنایا گیا جس کے ذریعہ سفید فام آبادکاروں کو مکمل کنٹرول حاصل تھا۔ جب سفید فام آباد کار برٹش ساؤتھ افریقہ کمپنی کے کنٹرول سے آزاد ہوئے تو یہاں ایک قانون ” نیٹوز لینڈ ایکٹ” بنایا گیا جو جنوبی افریقہ کے قوانین کے مماثل تھا۔ اس طرح صرف سفید فام آبادی ہر قومی وسیلے اور زمینوں کی مالک قرار پائی اور تمام سیاہ فام مقامی افراد ان کے مزارع اور غلام تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب یورپ کی تمام سلطنتیں کمزور ہوگئیں تو انہوں نے افریقہ اور ایشیا میں آزادی بانٹنا شروع کی۔ روڈیشیا میں سفید فام صرف 5 فیصد تھے۔ انہوں نے 1956 میں برطانیہ سے آزادی کا اعلان کردیا۔سیاہ فام شہریوں نے پڑوسی ملکوں کی مددسے سفید فاموں کے خلاف چھاپہ مار جنگ شروع کی تاکہ سفید فاموں کی غلامی سے آزادی حاصل کرسکیں۔ 1980 میں سفید فاموں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا اور نئے ملک زمبابوے کا قیام عمل میں آیا۔ رابرٹ موگابے اس ملک کا حکمراں بن گیا۔ اس آزادی کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ اب سفید فام کی جگہ سیاہ فام ڈکٹیٹر نے لے لی ۔ قومیں اس لئے تباہ ہوتی ہیں کہ ان کے اقتصادی ادارے شہریوں کی مشاورت سے قائم نہیں ہوتے اور ان کے فائدے کے لئے کچھ نہیں کرتے۔ ان اداروں پر اہل اقتدار اور اشرافیہ کا مکمل کنٹرول ہوتا ہے اور ان کی لوٹ مار کو روکنے کی طاقت شہریوں میں نہیں ہوتی۔قومی وسائل پر ایک طبقہ قابض ہوتا ہے جو ایسی پالیسیاں اختیار کرتا ہے جس کا صرف اسے فائدہ ہو۔ اس کی ایک مثال مصر ہے جہاں گزشتہ ساٹھ سال سے فوجی آمریت ہے۔ تمام وسائل دولت پر اب فوجی طبقات کا کنٹرول ہے۔ فوج کی حیثیت اب ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے ایک قومی ا دارے کی نہیں بلکہ ایک کارپوریشن کی ہے۔ فوج بڑے بڑے کارخانوں ، فیکٹریوں اور کاروباروں کی مالک ہے۔ فوجی جنرل خواہ وہ ریٹائرڈ ہوچکے ہوں یا حاضر سروس ہوں۔ لاکھوں ایکڑ زرعی زمینوں کے مالک ہیں۔ یہ نئی اشرافیہ اب زیادہ تر حاضر سروس اور ریٹائرڈ جنرلوں پر مشتمل ہے۔ تمام ملکی و قومی وسائل پر ان کا مکمل کنٹرول ہے۔ وہ ہر پالیسی اپنے طبقاتی مفاد میں بناتے ہیں۔ وہ جب ضرورت محسوس کرتے ہیں سوشلزم کو بطور نظریہ اختیار کرلیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں سرمایہ دارانہ نظام کے حامی بن جاتے ہیں۔ (یہ وہی مصر ہے جو کبھی سوویت یونین کا اتحادی تھا اور اب امریکہ اور اسرائیل کا اتحادی ہے اور مغرب بھی مصر اور دوسرے عرب و افریقی ملکوں میں جمہوری اداروں کی مضبوطی کو اپنے مفاد میں بہتر تصور نہیں کرتا۔امریکہ ہمیشہ ان ملکوں میں فوجی آمریتوں کی حمایت اور سرپرستی کرتا ہے۔ اگر کہیں جمہوری حکمراں بر سراقتدار آتے ہیں تو سی آئی اے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیتی ہے۔( ایران میں ڈاکٹر مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ کر شہنشاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت کی بحالی اس کی سب سے اچھی مثال ہے)۔
آزاد اقتصادی اور جمہوری و مشاورتی اداروں کی عدم موجودگی یا عدم استحکام ان ملکوں کی اقتصادی تباہی کا سبب ہے۔ انگولا، کیمرون، چاڈ، کانگو، ہیٹی، لائبیریا، نیپال، سیئر الیون، سوڈان، اور زمبابوے ایسے ممالک ہیں جو آج 1960 سے بھی زیادہ غریب ہیں۔خانہ جنگی، قحط، وبائیں ان ملکوں میں روز کا معمول ہیں۔ لیکن مغربی ملکوں کی کمپنیوں کو آج بھی ان ملکوں کے قومی وسائل اور قیمتی معدنیات کوڑیوں کے مول لے جانے کی آزادی حاصل ہے۔( ان ملکوں میں کوئی بھی ایسی سیاسی تبدیلی جس کے نتیجہ میں مغربی ملکوں کے مفادات متاثر ہوں تو مغربی ممالک فوجی کارروائی کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔اس کی تازہ مثال سیئر الیون ہے جہاں جہادیوں نے ملک کے ایک حصے پر قبضہ کیا تو فرانس نے اپنی فوج وہاں اتار دی۔ جبکہ لیبیا میں قذافی کی حکومت کا تختہ الٹنے میں فرانس اور برطانیہ نے انہی جہادیوں کو استعمال کیا اور اب وہاں انہی کی حکومت ہے۔ امریکہ، فرانس اور برطانیہ کو لیبیا میں القاعدہ کی حکومت پر کوئی اعتراض نہیں) ۔
بچوں کی صلیبی جنگ:
سیئر الیون میں اسٹیونز نے خوب لوٹ مار کی یہاں تک کہ اس نے ریل کے انجن، ڈبے اور ریل کی پٹریاں بھی بیچ کھائیں لیکن جلد ہی اس کا برا وقت آگیا ۔1985 میں اسٹیونز کو کینسر ہوگیا۔ اس نے اقتدار جوزف موموہ کے حوالے کردیا۔ جوزف موموہ کو پہلے ہی تباہ حال معیشت ملی۔باقی کسر اس نے خود پوری کردی۔ سڑکیں ٹوٹ گئیں اور ملک 100 سال پیچھے چلا گیا۔ اسکولوں کی عمارتیں بیچ دی گئیں۔1987 میں قومی ٹیلیویژن کی نشریات ختم ہوگئیں کیونکہ وزیر اطلاعات نے کیمرے بیچ دئے۔1989 میں ریڈیو کی نشریات بھی ختم ہوگئیں کیونکہ ریڈیو ٹاور گر گئے۔ 1995میں فری ٹاؤن سے نکلنے والے ایک اخبار نے لکھا کہ مموہ کی حکومت کا خاتمہ اس لئے ہوا کہ اس کی حکومت نے سرکاری ملازمین، اساتذہ اور سرداروں کو تنخواہیں دینی بند کردیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پورے ملک میں بغاوتیں ہوگئیں۔ 1991 میں مسلح افراد کے ایک گروپ نے پڑوسی ملک لائبیریا سے سرحد عبور کرکے حملہ کیا۔ اس گروپ کا لیڈر سیئر الیون کی فوج کا ایک سابق کارپورل فوڈے سنکوہ تھا۔اسے 1971 میں اسٹیونز کی حکومت کے خلاف ایک ناکام فوجی انقلاب کے بعد فوج سے برطرف کردیا گیا تھا۔ رہائی کے بعد وہ فرار ہوکر لیبیا چلا گیا جہاں کرنل قذافی افریقی انقلابیوں کی سرپرستی کرتا تھا۔وہاں سنکوہ کی ملاقات ایک شخص چارلس ٹیلر سے ہوئی جو لائبیریا کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے کرائے کے سپاہی جمع کررہا تھا۔ جب ٹیلر نے لائبیریا پر 1989 میں حملہ کیا تو سنکوہ ا س کے ساتھ تھا۔ اس کے بعد سنکوہ نے ٹیلر کے جنگ جوؤں کی مدد سے سیئر الیون پر حملہ کیا۔ یہ گروپ ریوولیوشنری یونائٹیڈ فرنٹ (آر یو ایف) کہلاتا تھا۔ اس میں لائبیریا کے علاوہ برکینا فاسو کے جنگ جو بھی شامل تھے۔ سیئر الیون میں مموہ کی حکومت کسی بیرونی حملے کو روکنے کی اہلیت نہیں رکھتی تھی۔ عوام نصف صدی کے ظلم اور ستم سے تنگ آئے ہوئے تھے ا س لئے وہ ان جنگ جوؤں کے ساتھ ہوگئے۔ جلدہی حملہ آوروں کو دانش وروں کی حمایت بھی حاصل ہوگئی۔لیکن تھوڑے ہی عرصے میں انہوں نے قتل و غارتگری کا بازار گرم کرنا شروع کردیا اور پرانے دور میں کی جانے والی ناانصافیوں اور قتل کے بدلے لینے لگے۔ جن لوگوں نے آر یو ایف کی قتل و تگری کے خلاف آواز اٹھائی، سنکوہ نے ان کو قتل کرنا شروع کردیا۔سنکوہ نے جبری بھرتی کی مہم شروع کی اور بڑوں کے ساتھ بچوں کو بھی فوج میں بھرتی کرنا شروع کردیا۔اس نے کمسن فوجیوں اور بچوں پر مشتمل فوجی دستے بنائے جن کو چلڈرنز آرمی کہا جاتاتھا۔ ا س کے نتیجہ میں خانہ جنگی شدید ہوگئی۔ ان حرکتوں میں صرف آر یو ایف ہی ملوث نہیں تھی سرکاری فوج نے بھی یہی کچھ کیا۔ آر یو ایف نے ان علاقوں پر قبضہ کرلیا جہاں اقتصادی فائدے اٹھائے جاسکتے تھے۔ چنانچہ ہیروں کی کانوں پر بھی ان کوکنٹرول حاصل ہوگیا۔ 2001 میں یہ خانہ جنگی ختم ہوئی تو ملک مکمل طور پر تباہ ہوچکا تھا۔80,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دوسرے افریقی ملکوں مثلاًانگولا، صومالیہ، سوڈان، کانگو، موزیمبق، اور یوگنڈا میں اس سے ملتی جلتی صورت حال رہی۔
لاطینی امریکہ:
کولمبیا دو حصوں میں تقسیم ہے اور ایک حصہ گرم کولمبیا اور دوسرا حصہ ٹھنڈاکولمبیا کہلاتا ہے۔گزشتہ پچاس سال کے دوران کولمبیا میں باقاعدگی سے انتخابات ہوتے رہے اور حکومتیں بدلتی رہیں۔ قتل و غارت گری کے باوجود زیادہ تر فیصلے ووٹ کی طاقت سے ہوتے رہے۔1958 میں مختصر مدت کے لئے فوجی انقلاب آیا لیکن اس کے بعد 1974 تک باقاعدگی سے انتخابات ہوئے اور دو سیاسی جماعتیں کنزرویٹوز اور لبرلز انتخابات میں حصہ لیتی رہیں۔ لیکن طویل جمہوری تاریخ کے باوجود کولمبیا میں مشاورتی اقتصادی ادارے نہیں قائم ہوئے۔ ا سکے بجائے کولمبیا کی تاریخ شہری آزادی کی خلاف ورزی، ماورائے عدالت قتل، شہریوں کے خلاف تشدد اور خانہ جنگی سے بھری ہوئی ہے۔کولمبیا میں خانہ جنگی سیئر الیون کی خانہ جنگی سے مختلف تھی جہاں ملک اور ادارے مکمل طور پر تباہ و برباد ہوگئے۔ لیکن کولمبیا میں خانہ جنگی کا سبب فوجی حکومت بنی۔اس زمانے میں کمیونسٹوں نے سر اٹھایا اور پورے ملک میں قتل و غارتگری کا بازار گرم کردیا ۔ ان کی جنگ صرف فوجی حکومت کے خلاف نہیں تھی۔ وہ عام شہریوں کو بھی قتل کرتے تھے۔اغوا برائے تاوان، بلیک میلنگ، اور معاوضہ لے کر کسی کوبھی مار دینا معمولی بات تھی۔ اگر کسی کو اپنی جان کی حفاظت کرنی ہے یا خود کو تاوان کے لئے اغوا ہونے سے بچانا ہے تو اسے ایک خاص ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا۔جسے ویکسی نیشن کہا جاتا تھا۔ 1981 میں کمیونسٹوں کی ایک تنظیم فارک نے ایک ڈیری فارمر کو اغوا کرلیا اور ا سکی رہائی کے لئے 7500 ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا۔ اسکے بیٹوں نے اپنا فارم گروی رکھ کر رقم کا انتظام کیا لیکن رقم کی وصولی کے باوجود کمیونسٹوں نے ان کے باپ کو رہا نہیں کیا اور اس کی لاش جنگل میں ایک درخت سے لٹکی ہوئی ملی۔ اس کے بیٹوں کارلوس، فیڈل اور وسنٹی نے شدید غم کے عالم میں فیصلہ کیا کہ وہ فارک سے اس کا بدلہ لیں گے۔ ایک نیم فوجی تنظیم لاس تنجیروس بھی فارک کے خلاف کام کررہی تھی۔ انہوں نے ا س تنظیم سے رابطہ کیا اور اس کی مدد سے اپنا ایک عسکری گروپ منظم کیا تھا جو فارک کے گوریلوں پر حملے کرتا تھا۔دیہات میں کولمبین عوام ان گوریلوں سے تنگ آئے ہوئے تھے اور مرکزی حکومت اور فوج کو عوام کی حالت زار سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ بہت سے زمین دار بھی گوریلوں کا نشانہ بنتے رہتے تھے اس لئے وہ بھی فاک کے خلاف امداد فراہم کرنے لگے۔ 1997 میں ان بھائیوں نے ایک نیم فوجی تنظیم یونائٹیڈ سیلف ڈیفنس فورسز آف کولمبیا(اے یو سی) بنائی۔2001 تک اے یو سی کے مسلح سپاہیوں کی تعداد 30,000تک پہنچ گئی تھی۔ ا سکی طاقت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور اس نے سیاست میں دخل دینا شروع کردیا۔ بہت سے سیاستدانوں نے ان کی حمایت حاصل کرنی شروع کردی اور اس کے بدلے ان کی مدد کرنے لگے۔بہت جلد اے یو سی کی طاقت اتنی بڑھ گئی کہ ان کی مدد سے سیاسی لیڈر انتخابات جیتنے لگے۔ چنانچہ2002 کے انتخابات میں کولمبین کانگریس کا انتخاب جیتنے والوں میں سے 35 فیصد اے یو سی کی حمایت سے کامیاب ہوئے۔ اگرچہ اے یو سی کے لئے مشاورتی جمہوری اقتصادی ادارے بنانا اور اصلات کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں تھا لیکن انہوں نے اس کے بجائے اپنی اجارہ داریاں بنانے کو ترجیح دی۔ فارک کی طرح اب اے یو سی بھی معصوم لوگوں کے قتل میں ملوث ہوتی تھی۔ انہوں نے دیہات میں عوام سے چھینی جانے والی زمینوں کو واگزار کرنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ چنانچہ ایک تخمینے کے مطابق دیہات میں دس فیصد زمینوں پر مختلف نیم فوجی تنظیموں اور گوریلوں کا قبضہ تھا جن میں کمیونسٹ اور غیر کمیونسٹ سب شامل تھے۔
ارجنٹائن:
پہلی جنگ عظیم(1914) سے پہلے تک ارجنٹائن کا شمار انتہائی امیر ملکوں میں ہوتا تھا۔ لیکن یہ ترقی ایک جابرانہ نظام کی بدولت تھی۔ معیشت کی تمام ترقی زرعی پیداوار کی برآمدات کی بنا پر ہوئی جس میں گوشت، کھالیں، اور اجناس شامل تھے۔ لیکن اس کا تمام فائدہ ایک چھوٹی سی اقلیت اشرافیہ کو ہوتا تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد ملک میں انقلابات کا زمانہ آیا اور کئی بغاوتیں ہوئیں جن سے نمٹنے کے لئے فوج کی ضرورت پیش آئی ۔ فوج مضبوط ہوئی تو اس نے سویلین حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ سویلین حکومت کے کمزور ہونے کا بنیادی سبب یہ تھا کہ یہ اشرافیہ کی حکومت تھی اور جمہوری اداروں کا فقدان تھا۔ 1930 اور 1983 کے دوران کئی مرتبہ فوجی انقلاب آئے اور کئی مرتبہ سول حکومتیں بر سر اقتدار آئیں۔ 1970 میں ایک فوجی حکومت کا زمانہ بدترین ظلم کا دور ثابت ہوا۔اس دور میں ہزاروں لاکھوں افراد کو جیلوں میں ڈال دیا گیا اور تشدد و ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔
سویلین دور حکومت میں جو جمہوری حکومتیں بنتی تھیں انہوں نے بھی جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے لئے سنجیدہ اقدامات نہیں کئے۔تاہم بری بھلی جمہوریت چلتی رہی اور انتخابات ہوتے رہے۔ ایک سیاسی جماعت جو طویل عرصے اقتدار میں رہی پیرنسٹ پارٹی کہلاتی تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے کھلم کھلا ووٹ خریدنے کی روایت ڈالی۔ سپریم کورٹ کی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس پالیسی کو چیلنج کرسکتا۔جو اقتصادی پالیسیاں اور ادارے بنائے جاتے ان کا مقصد صرف حکومت کو ووٹ دینے والوں کو فائدہ پہنچاناہوتا۔وسیع تر قومی مفاد میں کوئی پالیسی نہیں بنائی جاتی۔1990 کے عشرے میں جب ایک منتخب صدر مینم آئینی طور پر تیسری بار صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتا تھا تو اس نے آئین میں ترمیم کردی۔
شمالی کوریا:
نومبر 2009 میں شمالی کوریانے کرنسی اصلاحات کیں۔ شدید افراط زر کی وجہ سے یہ اصلاحات ضروری ہوگئی تھیں۔شمالی کوریا کی کرنسی کا نام وان تھا۔پرانی کرنسی کی قدر بہت کم ہوچکی تھی اس لئے ایک نیا وان جاری کیا گیا۔ نئے وان کی قدر پرانے100 وان کے مساوی تھی۔لوگوں کو اجازت تھی کہ وہ پرانا نوٹ دے کر نئی کرنسی حاصل کرسکتے تھے لیکن اس کے لئے صرف ایک ہفتے کی مہلت دی گئی۔ فرانس نے جب یہ پالیسی اختیار کی تو لوگوں کو 42 سال تک کرنسی بدلنے کی اجازت رہی تھی۔شمالی کوریا نے ایک ہفتے بعد اعلان کیا کہ اب ایک لاکھ سے زیادہ وان نہیں بدلوائے جا سکتے۔بعد میں یہ حد بڑھا کر 500,000 کردی گئی۔بلیک مارکیٹ میں ایک لاکھ وان کی قیمت صرف 40 ڈالر تھی۔اس طرح ایک ہی وار میں شمالی کوریا کی حکومت نے عوام کو شدید نقصان سے دوچار کیا اور ان کی سالوں کی کمائی غصب کرلی۔
شمالی کوریا میں کمیونسٹ آمریت ہے جو نجی ملکیت اور مارکیٹوں کی مخالف ہے ۔ لیکن بلیک مارکیٹ کو کنٹرول کرنا مشکل ہے جہاں سب سودے نقدی میں ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس میں کچھ غیر ملکی زرمبادلہ(چینی کرنسی) بھی شامل ہوتا ہے لیکن زیادہ تر شمالی کورین وان استعمال ہوتا ہے۔یہ کرنسی اصلاحات انہی لوگوں کو سزا دینے کے لئے کی گئیں تاکہ لوگ زیادہ امیر اور دولت مند نہ ہوجائیں۔ غریب لوگ حکومت کے لئے مسئلہ نہیں بن سکتے۔شمالی کوریا میں بھی اشرافیہ موجود ہے جو کمیونسٹ پارٹی کے لیڈروں پر مشتمل ہے۔ عوام غریب ہیں لیکن کمیونسٹ لیڈر دل بھر کے عیاشی کرتے ہیں۔شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ دوم کا محل سات منزلہ ہے۔ اس میں جدید دنیا کی تمام عیاشیاں فراہم کی گئی ہیں جن میں بار، کراؤکے مشین، منی مووی تھیٹر، سوئمنگ پول، مصنوعی لہریں پیدا کرنے کی مشینیں وغیرہ شامل ہیں۔ شمالی کوریا کے اس لیڈر کا ذاتی بجٹ 800,000 ڈالرسالانہ ہے۔
مارکس نے جس نظام کا تصور پیش کیا تھا اس کا مقصد عدم مساوات کا خاتمہ اور سب کے لئے محنت کے مساوی مواقع فراہم کرنا تھا۔لیکن نظریہ اور عمل میں فرق ہے۔ جب روس میں بالشویک انقلاب آیا تو لینن اور اس کے ساتھیوں نے کبھی مارکس کی تعلیمات ہر عمل نہیں کیا اور یہ تعلیمات صرف پروپیگنڈے کا حصہ رہیں۔ سوویت یونین میں جو نئی اشرافیہ تخلیق کی گئی وہ لینن اور دیگر کمیونسٹ لیڈروں پر مشتمل تھی۔ اس اشرافیہ کی تخلیق کے دوران غیر کمیونسٹوں کو بڑے پیمانے پر قتل کیا گیا ۔اس کے ساتھ ہی ان کمیونسٹ لیڈروں کو بھی قتل و غارتگری کا نشانہ بنایا گیا جن سے خدشہ تھا کہ وہ لینن اور اس کی ٹیم کے اقتدار کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ لینن کے بعد خانہ جنگی اور اسٹالن کی اجتماعیت کی مہم میں چار کروڑ روسی ہلاک ہوئے۔ روسی کمیونزم انتہائی ظالمانہ اور خون خوار تھا لیکن منفرد نہیں تھا۔ جہاں بھی کمیونسٹ انقلاب آیا یہی ہوا۔ چین، کمبوڈیا، شمالی کوریا بھی اس دور سے گزرے۔
ازبکستان:
یہ ملک 1990 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کی وجہ سے آزاد ہوا۔ اس وقت ازبکستان کی برآمدت میں کپاس کا حصہ 45 فیصد سے زیادہ تھا۔آزادی کے بعد روسی کمیونسٹ پارٹی کا لیڈر اور ازبکستان میں سوویت یونین کی انٹیلیجنس ایجنسی کے جی بی کا سربراہ اسلام کریموف ازبکستان کا صدر بن گیا۔ روسی کمیونزم کے دوران ازبکستان کے تمام کھیت 2048 فارم لینڈز کے کنٹرول میں تھے۔آزادی کے بعد بھی کاشتکاروں کو آزادی نہیں ملی کیونکہ کپاس انتہائی قیمتی چیز تھی اور اس پر حکومت کا قبضہ تھا۔ یہ فارم لینڈز بعد میں اشرافیہ میں تقسیم کئے گئے لیکن کسانوں کے ہاتھ میں بہت کم آیا۔حکومت نے کپاس کی جو قیمت مقرر کی اس پر کوئی کپاس فروخت نہیں کرنا چاہتا تھا ۔چنانچہ کسانوں نے کپاس اگانی بند کردی۔ حکومت نے قانون بنادیا کہ ہر کسان اپنی زمین کے 35 فیصد پر صرف کپاس اگائے گا ورنی اسے سخت سزا دی جائے گی۔کمیونسٹ دور میں کپاس اٹھانے کا کام کمبائنڈ ہارویسٹرز کرتے تھے جو غریب کسانوں کے پاس نہیں تھے۔ اس کا حل بھی کریموف کی حکومت نے نکال لیا۔ اعلان کیا گیا کہ اسکولوں کے بچے بجائے اسکول جانے کے کپاس چننے کا کام کریں گے۔کپاس ستمبر کے اوائل میں اٹھائی جاتی ہے۔یہ وہی وقت ہے جب بچے سکولوں میں ہوتے ہیں۔ مقامی گورنروں کو حکم ہوا کہ ہر اسکول کا کپاس چننے کا کوٹہ مقرر کردیں اور یہ کپاس براہ راست ہر اسکول بھیجی جائے۔ چنانچہ 27 لاکھ بچوں کو اس کام پر لگادیا گیا۔ اساتذہ بجائے بچوں کو تعلیم دینے کے مزدور بھرتی کرنے والے بن گئے۔بعض جگہ کپاس اسکولوں میں نہیں بھیجی گئی اور اس کے بجائے بچوں کو کھیتوں میں جانے پر مجبور کیا گیا جو بعض اوقات گھروں سے بہت دور تھے۔ بچوں کو اکثر گھر سے دور کھیتوں میں انتہائی خراب موسم اور ماحول میں کام کرنا پڑتا تھا اور وہ کئی کئی دن بھوکے پیاسے وہاں رہنے پر مجبور تھے۔فصل کے موسم میں بچوں کو اتوار کی چھٹی بھی نہیں ملتی تھی۔ہر بچے کو اس کی عمر کے حساب سے 20 سے 60 کلوگرام تک کپاس چننی ہوتی تھی اور اگر وہ بچہ اس میں ناکام رہتا تو اسے پوری کلاس کے سامنے سزا ملتی۔ جو بچے دیہات میں رہتے تھے وہ خوش قسمت تھے کیونکہ کھیت ان کے گھروں کے قریب تھے لیکن شہروں میں رہنے والے بچوں کو شدید تکلیف کا سامنا ہوتا۔ان بچوں کو کھیتوں میں راتیں گزارنی پڑتیں جہاں بعض اوقات انہیں سانپ یا بچھو کاٹ لیتے۔ وہاں نہ کچن تھے اور نہ بچے زیادہ وقت کے لئے کھانا ساتھ لاسکتے تھے۔ حکومت کی جانب سے ان کے کھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ اس جبری محنت کا سارا فائدہ سابق کے جی پی اور کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر اسلام کریموف اور اس کی اشرافیہ کو پہنچتا تھا۔ ان بچوں کو اس محنت کا معقول معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا تھا۔ کپاس کی عالمی قیمت 2006 میں 1.40 ڈالر فی کلو تھی لیکن بچوں کو 0.03 ڈالر فی کلو معاوضہ دیا جاتا تھا۔75 فی صد فصل بچے اٹھاتے تھے۔ازبکستان جابرانہ نظام کی بدترین مثال ہے جہاں آزادی کے ساتھ ہی اقتدار پر سابق کے جی بی کے لیڈر قابض ہوگئے۔ اپوزیشن کو مکمل طور پر کچل دیا گیا۔ اخبارات بند کردئے گئے۔اب اسلام کریموف اپنی جانشین کے طور پر اپنی بیٹی گل نورا کو تیار کررہا ہے جو اس وقت بہت سے ا داروں کی منیجنگ ڈائرکٹر ہے۔جہاں مشاورتی جمہوری نظام نہ ہو وہاں شہریوں کی فلاح و بہبود کے لئے پالیسیاں نہیں بنائی جاتیں۔ ازبکستان اس کی ایک مثال ہے۔
جنوبی ریاستوں کی جبریت کا خاتمہ:
امریکہ میں جنوبی ریاستوں میں جبریت کا نظام بہت بعد تک قائم رہا۔ یہ یکم دسمبر 1955کی بات ہے۔ منٹگمری، الباما میں ایک بس ڈرائیور نے اس وقت پولیس طلب کرلی جب ایک سیاہ فام عورت روزا پارکس سفید فاموں کے لئے مختص بس کی نشست پر بیٹھ گئی اور اٹھنے سے انکار کردیا۔الباما کے جم کرو قوانین کے تحت کالوں اور گوروں کے لئے الگ الگ بسیں چلائی جاتی تھیں۔ پولیس نے اس عورت کو جبراً نشست سے اٹھایا اور عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے اس پر 10 ڈالر جرمانہ کیا ،چار ڈالر کورٹ فیس اس کے علاوہ تھی۔ اس عورت کی گرفتاری اور سزا کے خلاف پورے امریکہ میں مظاہرے ہوئے۔کالوں کی ایسو سی ایشن نے پورے ملک میں منٹگمری بس سروس کا بائیکاٹ کردیا۔یہ بائیکاٹ انتہائی کامیاب ثابت ہوا۔20 دسمبر 1956کو امریکی سپریم کورٹ نے الباما اور منٹگمری میں کالوں اور گوروں کی الگ الگ بسوں اور نسلی امتیاز کو آئین کے خلاف قرار دے کرجرم قرار دے دیا۔ امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں کالوں کے ساتھ سخت امتیاز کا مظاہرہ کیا جاتا تھا اور ان کے ادارے جابرانہ تھے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ شمالی ریاستوں کی فی کس آمدنی جنوب سے کئی گنا زیادہ تھی۔جبریت قومی ترقی کی قاتل ہے۔ جبکہ جمہوری مشاورتی ادارے ترقی اور فلاح کا ذریعہ بنتے ہیں۔
1962 میں یونیورسٹی آف مسس پی ،آکسفورڈ میں ایک کالے طالب علم کو داخلہ دینے سے انکار کردیا گیا۔سپریم کورٹ نے طالب علم کے حق میں فیصلہ دیا اور اسے داخلہ دینے کا حکم دیا گیا۔ ریاست کے گورنر راس بارنیٹ نے ٹیلیویژن پر اعلان کیا کہ وہ کسی کالے کو یونیورسٹی میں داخلہ دینے کے بجائے یونیورسٹی بند کردیں گے۔ 30 ستمبر کو عدالتی فیصلے کی روشنی میں یہ طالب علم جس کا نام جیمز میری ڈتھ تھا عدالتی محافظوں اور مارشلوں کے ساتھ یونیورسٹی پہنچا تو2500 سفید فام طالب علم کلاسوں سے باہر آگئے اور عدالتی محافظوں پر حملہ کیا۔محافظوں نے آنسو گیس استعمال کی۔ فسادات پورے شہر میں پھیل گئے۔ رات گئے وفاقی فوج شہر میں داخل ہوئی اور اس نے فسادات پر قابو پایا۔
امریکہ میں کالوں کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کے لئے بہت سی جنوبی ریاستوں میں تعلیم، ذاتی ملکیت اور ٹیکسوں کی ادائیگی جیسی شرائط عائد تھیں۔ چنانچہ 1960 میں صرف پانچ فیصد کالوں کو ووٹ کا حق حاصل تھا۔ 1970 میں ان کا تناسب بڑھ کر 50 فیصد ہوا۔ڈیموکریٹک پارٹی کالوں کو حقوق دینے کی سب سے بڑی مخالف تھی لیکن اسے بھی آخر کار اپنی پالیسی بدلنی پڑی۔ 1960 سے پہلے کالوں کو ٹیکسٹائل ملوں میں ملازمت نہیں دی جاتی تھی۔ 1990 میں ملازمتوں میں کالوں کا تناسب 25 فیصد ہوا۔ جیسے جیسے جنوبی ریاستوں میں اقتصادی سرگرمیوں میں کالوں کو شرکت کی اجازت ملتی گئی ویسے ویسے اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہوتی گئی۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جمہوریت اور مشاورت کے شفاف نظام کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ اور جو قومیں اس سے محروم ہیں ان کی ناکامی کا سبب بھی یہی ہے۔
چین میں کمیونسٹ انقلاب:
چینی کمیونسٹ پارٹی نے 1949 میں ماؤزے تنگ کی قیادت میں قوم پرست چینی لیڈر چیانگ کائی شیک کی حکومت کاا تختہ الٹ دیا۔یکم اکتوبر 1949 کو عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا گیا۔چینی کمیونسٹ پارٹی کے تحت قائم کئے جانے والے اقتصادی اور سیاسی ادارے انتہائی جابرانہ تھے۔کسی کو کوئی سیاسی تنظیم بنانے کی اجازت نہیں تھی۔ماؤ کا کمیونسٹ پارٹی اور حکومت پر مکمل غلبہ اور کنٹرول تھا۔ ماؤزے تنگ نے تمام زمین کو قومی ملکیت میں لے لیا۔ اور شہریوں سے ہر طرح کے املاک رکھنے کے حقوق چھین لئے گئے۔مخالفین کو قتل کرادیا گیا۔ مارکیٹ معیشت کا مکمل خاتمہ کردیا گیا۔دیہی علاقوں کو بتدریج کمیونل فارمز میں تقسیم کردیا گیا۔رقم اور تنخواہوں کی جگہ ورک پوائنٹس رائج کئے گئے۔1956 میں اندرون ملک لوگوں کی نقل مکانی پر پابندی لگادی گئی تاکہ سیاسی اور اقتصادی کنٹرول بڑھایا جاسکے۔تمام صنعتیں قومیالی گئی تھیں۔ماؤزے تنگ نے تیز تر ترقی کے لئے پنج سالہ منصوبوں پر عمل شروع کیا جو سوویت یونین کی طرزپر تھا۔ملک بھر سے تمام وسائل پر کمیونسٹ پارٹی کا قبضہ ہوگیا۔صنعتی ترقی کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل کو عظیم چھلانگ کا نام دیا گیا جس کا آغاز دوسرے پنج سالہ منصوبے کے اختتام پر 1958 میں ہوا۔ماؤ نے دعوی کیا کہ چین آئندہ پندرہ سال میں صنعتی ترقی اور فولاد کی پیداوار میں برطانیہ سے آگے نکل جائے گا۔ لیکن ان اہداف تک پہنچنے کے لئے وسائل نہیں تھے۔ ا سکے لئے خام لوہے کی ضرورت تھی جو دستیاب نہیں تھا۔ چنانچہ اسکریپ لوہے سے ابتدا کی گئی۔ لوگوں نے اپنے گھر کے برتن اورزراعتی آلات مثلا ہل وغیرہ تک پگھلادئے ۔ جس کا سخت نقصان زرعی پیداوار بند ہونے کی شکل میں سامنے آیا اور ملک میں قحط پڑگیا۔لوگ بھوکے مرنے لگے۔ اس عرصے میں اموات کا تخمینہ دو سے چار کروڑ کے درمیان لگایا گیا ۔تاہم یہ سب اعداد و شمار مغربی ذرائع سے ہیں اور چینی انہیں درست نہیں مانتے۔بہرحال اس لمبی چھلانگ کے چکر میں چین کی فی کس قومی آمدنی کم ہوکر ایک چوتھائی رہ گئی۔
اس لمبی چھلانگ کے دوران ماؤ کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے الزام میں کمیونسٹ پارٹی کے سینیئر ممبر ڈینگ زیاؤ پنگ زیر عتاب آگیا اور اسے تمام سرکاری عہدوں و مراعات سے محروم کرکے انقلاب دشمن قرار دے دیا گیا۔اس نے اپنی ایک تقریر میں کہہ دیا تھا کہ بلی کالی ہو یا سفید اس وقت تک اچھی ہے جب تک چوہوں کو پکڑ رہی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ انقلاب صرف اس وقت تک اچھا ہے جب تک اس کے مقاصد حاصل ہورہے ہیں۔پالیسیاں خواہ کمیونسٹ ہوں یا اس کے برخلاف لیکن عوام کا پیٹ بھرنا چاہیئے۔ 16 مئی1966 کو ماؤ نے اعلان کیا کہ انقلاب کو بورژوا قوتوں سے خطرہ لاحق ہے۔ ماؤ نے عظیم پرولتاری ثقافتی انقلاب کا اعلان کیا جس کی بنیاد 16 نکات پر تھی۔ماؤ نے کہا کہ اس انقلاب کے دوران سرمایہ داری کے ایجنٹوں کو شناخت کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔چنانچہ اس دوران لاکھوں لوگوں کو انقلاب دشمنی کے الزام میں قتل کردیا گیا۔ثقافتی انقلاب کے بھی کوئی مثبت نتائج نہیں نکلے۔1967 میں ڈینگ زیاؤ پنگ کو جیل بھیج دیا گیا۔1969 میں اسے صوبہ چیانگ زی جلا وطن کردیا گیا جہاں وہ ایک دیہی ٹریکٹر فیکٹری میں کام کرتا رہا۔ ماؤ نے 1974 میں اسے واپس آنے کی اجازت دی اور اسے وزیراعظم چواین لائی کا نائب بنادیا گیا۔ڈینگ نے ماؤ کی منظوری سے ایک تین نکاتی فارمولا مرتب کیا جس میں اعلی تعلیم کی ترقی، صنعت اور زراعت کے شعبوں میں ترغیبات کا اجرا، اور پارٹی سے بائیں بازو کا اخراج شامل تھا۔ ماؤ کی صحت خراب ہورہی تھی اور پارٹی پر بائیں بازو کا کنٹرول بڑھ رہا تھا۔ ماؤ کی بیوی اور اس کے تین ساتھی ثقافتی انقلاب کے زبر دست حامی تھے۔ انہیں چار کا گینگ یا ٹولا کہا جاتا تھا۔ 5 اپریل کو ٹیاننمن اسکوائر پر حکومت مخالف مظاہرے ہوئے۔ چار کے ٹولے نے ڈینگ زیاؤ پنگ کو ان مظاہروں کا ذمہ دار قرار دیا اور اسے ایک مرتبہ پھر تمام مراعات سے محروم کردیا گیا۔ چو این لائی کی وفات کے بعد ماؤ نے ڈینگ زیاؤ پنگ کے بجائے ہوا گوفینگ کو قائمقام وزیر اعظم بنادیا۔ستمبر1976 میں ماؤ بھی چل بسا۔ اب کمیونسٹ پارٹی میں قیادت کی جنگ شروع ہوئی۔ چار کا ٹولا ثقافتی انقلاب کو جاری رکھنا چاہتا تھا۔ہوا گوفینگ ثقافتی انقلاب کا خاتمہ چاہتا تھا۔ جبکہ ڈینگ زیاؤ پنگ کمیونسٹ پارٹی کا خاتمہ نہیں چاہتا تھا لیکن مارکیٹ معیشت کو بھی فروغ دینا چاہتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ سیاسی کنٹرول کھوئے بغیر تیز ترین اقتصادی ترقی ممکن ہے۔اسے معلوم تھا کہ اقتصادی اداروں کو آزادی دئے بغیر یہ ممکن نہیں۔ چنانچہ وہ چاہتا تھا کہ مارکیٹ فورسز اور ترغیبات کو اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔ اس کے لئے نجی ملکیت کو وسعت دی جائے اور کمیونسٹ پارٹی کا عمل دخل معاشرے اور انتظامیہ میں کم کیا جائے۔ ہوا گوفینگ نے اس کی تجاویز کو قبول کرلیا کیونکہ وہ چار کے ٹولے سے چھٹکارا پانا چاہتا تھا۔ ڈینگ زیاؤ پنگ نے غیر ملکی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تجارت کے لئے دروازے کھول دئے۔ ماؤ کی موت کے ایک ماہ کے اندر چار کے ٹولے کو گرفتار کرلیا گیا۔ مارچ 1977 میں ڈینگ زیاؤ پنگ کو نائب وزیر اعظم کے عہدے پر بحال کردیا گیا۔ ڈینگ نے عہدہ سنبھالتے ہی پارٹی کے عہدوں سے تمام مخالفین کو نکال دیا اور ان پر اپنے حامیوں کی تقرریاں کردیں۔ اب اختیارات کی جنگ ڈینگ زیاؤ پنگ اور ہوافینگ کے درمیان شروع ہوگئی۔1978 میں جمہوری دیوار تحریک شروع ہوئی جس میں عوام کی اس کی اجازت دے دی گئی کہ وہ اپنی شکایات اس دیوار پر لکھ سکتے ہیں۔ نومبر اور دسمبر 1978 میں گیارھویں سینٹرل پارٹی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ہوافینگ کے اعتراضات کے باوجود فیصلہ کیا گیا کہ اب کمیونسٹ پارٹی کی توجہ طبقاتی جدوجہد کے بجائے اقتصادی ترقی پر مرکوز کی جائے گی۔ڈینگ زیاؤ پنگ پارٹی میں خود کو مضبوط بناتا رہا۔ 1980 میں ہوا گینگ کو وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور کردیا گیا۔ ا سکی جگہ زھاؤ زیانگ کو وزیر اعظم بنادیا گیا۔1982 میں ہوا فینگ کو سینٹرل کمیٹی سے بھی نکال دیا گیا۔ ڈینگ زیاؤ پنگ اور اس کے اصلاح پسند ساتھی پارٹی اور ملک پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔ 1983 میں زراعت کے میدان میں کسانوں کو مزید ترغیبات دی گئیں۔ 1985 میں زرعی اجناس کی جبری خریداری کے بجائے رضاکارانہ فروخت کا نظام رائج کیا گیا۔ ا سکے نتیجہ میں زرعی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ نجی شعبے میں نئی فرموں کو داخلے کی اجازت دی گئی جو سرکاری فرموں کا مقابلہ کرنے لگیں۔ صنعتی شعبے میں بھی ترغیبات شروع کی گئیں ۔ درحقیقت چین کی موجودہ ترقی کا راز جبریت پر مبنی اقتصادی اداروں کی جگہ مشاورتی اداروں کو رائج کرنے میں پوشیدہ تھا۔ عام لوگوں کو جتنی زیادہ ترغیبات دی گئیں اتنے ہی زیادہ اقتصادی ادارے مضبوط ہوئے اور ملک ترقی کے راستے پر چل نکلا۔
خوش حالی اور غربت کا شعور:
دنیا کے مختلف خطوں کے درمیان معیار زندگی کے اعتبار سے زمین و آسمان کا فرق ہے۔حد یہ کہ امریکہ کے غریب ترین شہری کو بھی صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، عوامی خدمات، ، اقتصادی اور سماجی مواقع کے اعتبار سے افریقہ کی صحرائی مملکتوں، جنوبی ایشیا اور لاطینی امریکہ کے شہریوں پر برتری حاصل ہے۔ جنوبی اور شمالی کوریا، امریکی اور میکسیکن نوڈیلز، یا امریکہ اور میکسیکو کے درمیان جو فرق ہے وہ سب پر ظاہر ہے۔پانچ سو سال پہلے میکسیکو یقیناً شمالی امریکہ کے باسیوں سے زیادہ خوش حال تھا لیکن اب بہت پیچھے ہے۔کیاگزشتہ دو سو سال پہلے تاریخی، جغرافیائی، یا ثقافتی اعتبار سے مغربی یورپ، امریکہ، اور جاپان صحرائی افریقہ، لاطینی امریکہ اور چین سے زیادہ ترقی یافتہ تھے۔ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ یہ سب ترقی صنعتی انقلاب کے بعد ہوئی ہے جو پہلے برطانیہ میں آیا اور وہاں سے مغربی یورپ ، شمالی امریکہ اور آسٹریلیا میں پھیلا۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کچھ قومیں کیوں زیادہ ترقی یافتہ ہیں اور کچھ کیوں پیچھے رہ گئی ہیں؟ ا سکا جواب اتنا زیادہ سادہ نہیں ہے ۔ ہم نے اس پوری کتاب میں دنیا کے مختلف خطوں کی تاریخ پڑھی اور دیکھا کہ کیا چیز قوموں کی ترقی میں رکاوٹ بنی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جن خطوں میں شہریوں کے تمام طبقات کو کام کرنے کے مساوی موقع دئے گئے اور انکے راستے میں حائل رکاوٹیں دور ہوگئیں، ان کے ترقی اور خوش حالی کے راستے کھل گئے۔ جہاں ایک طبقہ یعنی اشرافیہ تمام وسائل پر قابض ہوگئی اور جس نے مشاورتی اور جمہوری اداروں کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا وہاں ترقی رک گئی۔ گویا اصل چیز جبریت کا نظام اور جبری ادارے اور مشاورتی نظام اور مشاورتی ادارے ہیں جو قوموں کی زندگی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔( یہاں قوموں کے غیر ترقی یافتہ رہ جانے یا ترقی کرنے کا کوئی تعلق مذہب سے نہیں ہے۔ ایک سچا بنیاد پرست مسلمان بھی اسی طرح ترقی کرسکتا ہے جس طرح ایک عیسائی یا ایک بے دین ملحد کرسکتا ہے۔اصل فرق مشاورتی یا جمہوری اداروں اور جابرانہ آمرانہ ا داروں کا ہے۔ جابرانہ اور غیر جمہوری ادارے یا شخصیات خواہ وہ سیکولر ، بے دین، یہودی، عیسائی یا ہندو ہوں یا مسلمان ان کا طرز عمل ایک ہی جیسا ہوگا۔اس کی مثالیں قدیم دور میں بھی ملتی ہیں اور جدید دور میں بھی۔ ترکی ایک مکمل جمہوریت ہے لیکن اس کا شمار اب واحد ترقی یافتہ مسلم ملک کے طور پر ہوتا ہے حالانکہ وہاں ایک بنیاد پرست اسلامی جماعت کی حکومت ہے۔ اس کے مقابلے میں یہی ترکی اس وقت پسماندہ ملک تھا جب اس پر سیکولر سیاستداں حکمراں تھے۔ان کے سیکولر ہونے سے ان کی اقتصادی ترقی میں کوئی مدد نہیں ملی)۔
افغانستان میں امریکہ اور نیٹو افواج کی مدد سے جمہوریت قائم کی گئی۔ یہ جمہوریت طالبان کی اس امارات اسلامیہ کے کھنڈروں پر تعمیر ہوئی ۔اس کے بعد کرزئی کی صدارت میں قائم ہونے والی اس حکومت کو کامیاب بنانے کے لئے ترقی یافتہ دنیا نے اربوں ڈالر کی مالی امداد دی ۔ لیکن افغانستان وہیں کا وہیں رہا۔نہ اسکول قائم ہوئے، نہ اسپتالوں کی عمارتیں تعمیر ہوئیں، نہ طلبہ کی تعداد میں کوئی خاص اضافہ ہوا۔حد یہ ہے کہ خواتین کو کچل کر رکھنے کا طالبانی کلچر جسے قبائیلی کلچر کہنا زیادہ مناسب ہوگا تبدیل نہیں ہوا۔ ہرات میں کسی تعمیراتی منصوبے کے لئے کئی ارب ڈالر مالیت کے ایک پروجیکٹ کا اعلان کیا گیا۔اس رقم کا 20 فیصد جنیوا میں اقوام متحدہ کے مشن کی عمارت پر خرچ ہوگیا۔ باقی 20 فیصد ایک این جی او کو ملا جس نے برسلز میں اپنے دفتر پر اسے خرچ کردیا۔ باقی 20 فیصد تین مختلف این جی اوزمیں تقسیم ہوگیا۔ بمشکل آخر بیس فیصد سے وہ سامان خریدا گیا جس سے اس منصوبے کو مکمل ہونا تھا۔ وہ سامان ہرات کے گورنر اسماعیل کی ٹرک کمپنی کے ذریعہ ایران سے خرید کر ہرات پہنچایا گیا۔ جہاں دیگر سامان پہنچنے میں تاخیر کی وجہ سے یہ لکڑی کھلے آسمان کے نیچے پڑی رہی اور قبائیلی اسے موسم سرما کی برفباری میں اپنے گھروں کے آتش دانوں کو گرم کرنے کے لئے استعمال کرتے رہے۔یہ اس غیر ملکی امداد کا حشر ہوا جو ایک غریب ملک کی ترقی کے لئے بھیجی گئی۔یہ افغانستان میں خرچ ہونے والی غیر ملکی مالی امداد کی ایک مثال ہے۔ ایسی ہزاروں مثالیں افغانستان میں موجود ہیں اور کھربوں ڈالر کی امداد کرزئی حکومت کے سیکولر مگر بدعنوان عمال اور مغربی این جی اوز ہضم کرگئیں۔ ان بدعنوانیوں کی ایسی جعلی تحقیقات ہوتی رہیں جن میں خود اقوام متحدہ کے ا ہلکار ملوث رہے اور جنہیں فراڈ قرار دیا گیا۔ بالکل یہی صورت حال اقوام متحدہ کے دنیا بھر میں غربت ختم کرنے والے پروگراموں کی ہے۔کہیں بھی اس مالی امداد کا موثر استعمال نظر نہیں آتا اور اس میں بدعنوانیوں کی سیکڑوں بلکہ ہزاروں تحقیقات ہوئیں، رپورٹیں جاری ہوئیں اور میڈیا کی زینت بننے کے بعد ختم ہوگئیں۔اس سے ایک سبق ملتا ہے کہ غیر ملکی مالی امداد قوموں کی ناکامی اور غربت کو دور کرنے کی وجوہ و اسباب کو ختم کرنے میں کوئی مدد نہیں دیتیں۔ بڑے ممالک یہ امداد زیادہ تر سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں لیکن اس امداد کے درست استعمال کی ضمانت کوئی فراہم نہیں کرتا۔ جن ملکوں میں شفاف ادارے اور مالیات کا شفاف نظام نہیں وہاں یہ امداد بدعنوان بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے لئے انعام کی حیثیت رکھتی ہے۔

(ختم شد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

3 × two =