قو میں ناکام کیوں ہوتی ہیں قسط نمبر2

قو میں ناکام کیوں ہوتی ہیں

قسط نمبر2

چھٹا باب:
وینس کا عروج:
بحیرہ ایڈریاٹک میں واقع مجمع الجزائر وینس کسی زمانے میں دنیا کا امیر ترین ملک تھا۔ یہاں مشاورت کے اصول کے تحت سیاسی اور اقتصادی ادارے قائم تھے اور وینس کے لوگ دنیا کے بہترین جہاز رانوں میں شمار ہوتے تھے۔ یہ جہاز مال تجارت لے کر دنیا بھرکے ملکوں کا سفر کرتے تھے۔ وینس کو 810 عیسوی میں عروج حاصل ہوا۔ رومی سلطنت کا زوال ہوچکا تھا۔ وینس کے جہاز راں مشرقی ملکوں سے گرم مسالے،ریشم اور دیگر اشیا لاتے اور بزنطینی مصنوعات اور غلام ان ملکوں کے لئے لے جاتے۔1050 عیسوی میں وینس کی آبادی 45,000 تھی جو 1330 تک بڑھ کر 110,000 تک پہنچ گئی تھی۔اس وقت وینس لندن سے تین گنا بڑا تھا۔
وینس کا اقتصادی نظام منفرد اور جدید تھا۔ یہیں جوائنٹ اسٹاک کمپنی کی ابتدائی شکل دیکھنے میں آئی۔سب سے مشہور ادارہ کمنڈا تھا۔ اس میں دو شریک کار ہوتے تھے۔ بنیادی شریک کار وینس میں رہتا اور دوسرا مال تجارت لے کر جاتا۔یہ کاروبار نفع نقصان کی بنیاد پر چلتا تھا۔ نفع میں شراکت دو قسم کی ہوتی تھی۔ ایک قسم میں100 فیصد سرمایہ بنیادی سرمایہ کار کا ہوتا اور نفع میں حصہ 75 فیصد ہوتا۔ جبکہ دوسری قسم میں 67 فیصد سرمایہ بنیادی سرمایہ کار کا ہوتا اور نفع میں حصہ 50 فیصد ہوتا۔ یہ ایک اعتبار سے قطعی کھلی تجارت تھی۔سیاسی نظام اس سے بھی زیادہ کھلا اور آزادانہ تھا۔وینس کے حکمراں کا باقاعدہ انتخاب جنرل اسمبلی کے ذریعہ ہوتا۔جنرل اسمبلی میں با اثر تاجر خاندانوں کی نمائندگی تھی۔ووٹ کا حق سرمایہ کاری اور خاندان کی بنیاد پر ملتا تھا۔حکمراں کو ڈاج کہا جاتا تھا۔وقتا فوقتاً سیاسی اصلاحات بھی جاری رہیں۔ تنازعات کے حل کے لئے مجسٹریٹس کی تقرری کی جاتی تھی۔وینس کو مغربی دنیا کا سب سے پہلا محتوی معاشرہ کہا جاسکتا ہے جہاں جبر کے بجائے مشورے کا نظام نافذ تھا۔ حالانکہ اس زمانے میں یورپ کے بیشتر ملکوں میں مطلق العنان اور جابرانہ بادشاہتیں تھیں۔ وینس کا زوال 1314 میں شروع ہوا جب حکومت نے اچانک لوٹ مار شروع کردی۔ بہت سے اداروں کو قومیا لیا گیا۔ تجارت پر بھاری ٹیکس عائد کردئے گئے۔ آہستہ آہستہ وینس کے تمام ادارے تباہ ہوگئے۔ آج کا وینس سیاحت کامرکز ہے اور لوگوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری ہے۔
وینس کا زوال ثابت کرتا ہے کہ جبر پر مبنی حرفتی ادارے محدود مدت تک ترقی کرتے ہیں لیکن ہمیشہ قائم رہنے والے نہیں ہوتے۔ جو معاشرے مشاورتی اور غیر جابرانہ نظام قائم کرتے ہیں وہ اس وقت تک خوشحال رہتے ہیں جب تک یہ نظام برقرار رہتا ہے۔ جوں ہی مشاورتی نظام ختم ہوتا ہے ان معاشروں کی خوشحالی بھی رخصت ہوجاتی ہے۔
ر ومی شہنشاہیت:
یہ سلطنت اپنے عروج کے زمانے میں(117 عیسوی) شمالی اور مغربی افریقہ، اسپین، فرنس،آسٹریا ، اٹلی،جزیرہ نما بلقان، یونان، ترکی، شام و عراق اور مصر و لیبیا تک پھیلی ہوئی تھی۔رومی شہنشاہیت جولیس سیزر کے زمانے تک ایک جمہوریت تھی جہاں بادشاہ کا باقاعدہ انتخاب ہوتا تھا۔ اس جمہوریہ کا زوال اس وقت شروع ہوا جب جمہوری اور اقتصادی ادارے توڑ دئے گئے اور ان کی جگہ بادشاہت آگئی۔ یہیں سے رومی سلطنت کا زوال شروع ہوا۔ 49 قبل مسیح میں سیزر نے رومی جمہوریہ پر حملہ کیا اور روم پر قبضہ کرکے نظام تباہ کردیا۔ جمہوری نظام کی جگہ آمریت قائم کی گئی ۔ اگرچہ سیزر کو فتح ہوئی لیکن اس کے ساتھی جمہوریہ کے خاتمے پر سخت ناراض تھے چنانچہ موقع پاتے ہی انہوں نے سیزر کو قتل کردیا۔ سیزر کے قتل کے باوجود نظام درست نہ ہوسکا۔ پورا ملک خانہ جنگی کا شکار ہوگیا۔ اقتصادی اداروں کے قیام اور جمہوری اداروں کی اصلاح کی کوششیں رہیں۔ پانچویں صدی عیسوی میں رومی سلطنت دو حصوں (مغربی اور مشرقی رومی سلطنتوں)میں تقسیم ہوگئی۔ ایک کا دارلحکومت روم اور دوسری کا قسطنطنیہ (استنبول) تھا۔ رومی سلطنت کے عروج و زوال پر کتاب کے مصنف ایڈورڈ گبن نے فلاوئیس ایٹیئس کو آخری عظیم رومی لکھا ہے۔ ایٹئیس ایک رومی جنرل اور رومی سلطنت کاسب سے طاقتور شخص تصور کیا جاتا تھا۔ اسے شہنشاہ ویلنٹینیئن سوم نے قتل کرادیا۔فلاوئیس ایٹیئس نے یورپ کے وحشیوں(باربیریئنز) اور باغی رومیوں کے خلاف کئی جنگوں میں فتح حاصل کی۔اس نے خود شہنشاہ بننے کی کوشش نہیں کی لیکن شہنشاہ اس سے خوف زدہ تھا۔ 476 عیسوی تک جتنے رومی شہنشاہ آئے ان میں سے بہت کم طبعی موت مرے۔ زیادہ تر سازشوں یا جنگوں میں مارے گئے۔ وحشی یا باربیریئنز رومی فوج میں بطور غلام شامل کئے گئے تھے۔ جب حکومت کمزور ہوئی تو وہ حاکم بننے لگے۔ایلارک بھی ایسا ہی ایک جنرل تھا۔ اس نے 408 عیسوی میں بغاوت کردی اور فوج کشی کرکے روم پر قبضہ کرلیا۔
رومی سلطنت کے اقتصادی اداروں نے اقتصادی ترقی میں حصہ لیا اور دیگر حرفتی نظاموں کی طرح کامیاب بھی رہے لیکن ان کی پیداواریت کی شرح ہمیشہ یکساں نہیں رہی۔ اقتصادی ترقی میں عروج و زوال آتا رہا۔ٹیکنالوجی نے زیادہ ترقی نہیں کی کیونکہ اس اہم شعبے کو فعال کرنے کا فیصلہ حکومت ہی کرسکتی تھی جو عدم استحکام کا شکار تھی۔رومنوں کو عمارتوں کی تعمیراتی ٹیکنالوجی، پانی نکالنے کے کنوئیں اور رہٹ اور آب نکاسی کا نظام ورثے میں ملا تھا لیکن انہوں نے اسے ترقی نہیں دی۔ حکومت ٹیکنالوجی کی ترقی میں دلچسپی نہیں لیتی تھی۔
43 عیسوی میں رومی شہنشاہ کلاڈئس نے انگلستان پر حملہ کیا اور قبضہ کرلیا۔ تاہم اس نے اسکاٹ لینڈ پر قبضہ نہیں کیا۔ 85 عیسوی میں انگلستان میں رومی گورنر اگریکول تعینات تھا۔ اس نے انگلستان کے شمالی ساحلوں پر قلعوں کا ایک سلسلہ تعمیر کیا۔ان میں سب سے بڑا ونڈولنڈا تھا جو نیو کیسل سے 35 میل مغرب میں واقع تھا۔ اس زمانے میں انگلستان کی اقتصادی حالت بہت اچھی تھی اور لوگ خوشحال تھے۔انگلستان پر رومیوں کا قبضہ چوتھی صدی عیسوی تک رہا۔411 عیسوی میں رومی واپس چلے گئے۔انگلستان ایک مرتبہ پھر اقتصادی طور پر تباہ ہو گیا۔اس سے پہلے ہم بتاچکے ہیں کہ مشرق وسطی میں پتھر کا زمانہ 9500 قبل مسیح تک جاری رہا لیکن فلسطین کے لوگوں نے قصبوں اور شہروں میں تہذیبی زندگی کا آغاز کیا تو یورپ جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ انگلستان کے لوگ یا تو گلہ بانی کرتے تھے یا جنگلی جانوروں کا شکار کرتے تھے۔وہ پتھر کے زمانے سے باہر نہیں نکلے تھے۔ ان کو کھیتی باڑی بھی نہیں آتی تھی۔اس طرح مشرق وسطی تہذیبی اعتبار سے یورپ سے ہزارں سال آگے تھا۔ یہ تہذیب مشرق وسطی سے نقل مکانی کرنے والے مہاجرین کے ساتھ یورپ پہنچی۔ 3500 قبل مسیح میں میسوپٹیمیا(عراق)میں اوڑک اور اڑ کے بڑے بڑے شہر آباد تھے اڑوک کی آبادی 40,000 سے زیادہ تھی۔کمہار کاپہیہ اسی زمانے میں میسوپٹیمیا میں ایجاد ہوا اور ہر طرح کی برتن سازی شروع ہوگئی۔ معمار پتھر کے بجائے پکائی ہوئی اینٹوں سے مکان بنانے لگے۔مصر کا شہر میمفس بھی بہت بڑا شہر تھا۔مصریوں نے 3500 قبل مسیح میں اہرام تعمیر کئے۔ انگلستان طویل عرصے رومی شہنشاہیت کے تحت رہا۔ کچھ ترقی اسی زمانے میں ہوئی۔ لیکن رومیوں کی واپسی کے بعد انگلستان خانہ جنگی کا شکار ہوگیا۔ کہیں کوئی مرکزی حکومت نہیں تھی۔ 450 عیسوی میں انگلستان تاریخ کے تاریک ترین دور سے گزر رہا تھا۔اس کے بعد مشرق وسطی میں اسلامی تہذیب کا عروج ہوا۔ مشرقی بزنطینی سلطنت مسلمانوں کے ہاتھوں تباہ ہوئی اور مسلمانوں نے اس کے دارالحکومت قسطنطنیہ کو فتح کرلیا۔یہی قسطنطنیہ خلافت عثمانیہ کا دارالحکومت تھا۔ ترکوں کے بحری بیڑے پورے بحیرہ روم پر حکمرانی کرتے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے پورا جزیرہ نما بلقان(بوسنیا ہرزیگوینا، سربیا، البانیہ، بلغاریہ، رومانیہ، اور آسٹریا فتح کرلیا اور ان کی فتوحات کا سیلاب آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے دروازوں پر پہنچ کر رکا۔اسلامی تہذیب کے عروج کے زمانے میں انگلستان کے لوگ انتہائی پسماندہ زندگی گزارتے تھے) انگلستان سمیت پورے یورپ میں کوئی مرکزی حکومت نہیں تھی۔نوابوں اور جاگیرداروں کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں جنہوں نے بدترین جابرانہ نظام قائم کر رکھا تھا۔ ان سب چیزوں کے باوجود یورپ میں سب سے پہلے انگلستان میں جدید مشاورتی معاشرہ وجود میں آیا۔جو بعد میں صنعتی انقلاب کی بنیاد بنا۔
انقلاب کا آغاز:
ولیم لی پہلا پادری تھا جس نے کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ یہ 1583 تھا۔ انگلستان کی ملکہ الزبتھ اول(1558-1603) نے ایک حکم نامہ جاری کیا کہ عوام ہر وقت اون کی بنی ہوئی ٹوپی پہنے رہیں تاکہ سردی سے بچاؤ ہوسکے۔ لی نے بچپن ہی سے دیکھا کہ اس کی ماں اور بہنیں سلائیوں کی مدد سے ہر وقت ٹوپیاں یا سوئٹر بنتی رہتی تھیں۔ ایک سوئٹر کو مکمل کرنے میں کئی کئی دن لگ جاتے تھے۔ وہ سوچنے لگا کہ اگر دو سلائیوں اور ایک دھاگے کی مدد سے بنائی ممکن ہے تو ایک سے زیادہ سلائیوں او دھاگوں کی مدد سے یہی کام زیادہ جلدی ہوگا۔یہیں سے پارچہ بافی کی میکانی صنعت کا آغاز ہوا۔ ولیم لی نے دنیا کی پہلی ٹیکسٹائیل نٹنگ مشین بنائی۔جسے اسٹاکنگ فریم کہا جاتا تھا۔ 1589 میں وہ لندن گیا تاکہ ملکہ الزبتھ اول کے سامنے اپنی مشین کا مظاہرہ کرسکے۔ اس نے لندن میں ایک عمارت کرائے پر لی۔ اس کے بعد ممبر پارلیمنٹ رچرڈ پارکنز سے ملا جنہوں نے ملکہ کو مشین دیکھنے پر آمادہ کیا۔ اس نے ملکہ سے درخواست کی کہ اسے اس ایجاد کا حق تصنیف(کاپی رائیٹ) دیا جائے۔ لیکن ملکہ کا رد عمل حوصلہ شکن تھا۔ اس نے کہا کہ ماسٹر لی تم چاہتے ہو کہ اس ایجاد کے ذریعہ غریب لوگوں کو بے روزگار کردو۔تمہیں اس کا حق تصنیف نہیں دیا جاسکتا۔مایوس ہوکر ولیم لی فرانس گیا لیکن اسے کامیابی نہیں ہوئی۔وہ واپس انگلستان آیا۔اس دوران ملکہ کا انتقال ہوچکا تھا اور اس کی جگہ جیمز اول بادشاہ بن گیا تھا۔ جیمز اول نے بھی اسے حق تصنیف دینے سے انکار کردیا۔دونوں کو خطرہ تھا کہ اس ایجاد کی وجہ سے لوگ بے روزگار ہوجائیں گے جس کے نتیجے میں عدم استحکام پیدا ہوگا اور ان کے اقتدار کے لئے خطرے کا سبب بنے گا۔صنعتی انقلاب کے نتیجہ میں خوشحالی کے راستے میں یہی سوچ رکاوٹ تھی۔ انگلستان کی پوری تاریخ اشرافیہ، شاہیت اور عوام کے درمیان تنازعات سے بھری پڑی ہے۔ 1215 میں انگلستان میں اشرافیہ کے ایک طبقے بیرنوں نے بادشاہ کے خلاف بغاوت کی اور رنی میڈ کے مقام پر میگنا کارٹا پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔یہ میثاق ان بنیادی اصولوں پر مشتمل تھا جن سے بادشاہ کے مطلق العنانی پر مبنی اختیارات کم ہونا شروع ہوئے۔اس میثاق کے تحت بادشاہ ٹیکسوں میں اضافہ کرنے سے پہلے بیرنوں سے مشورہ کرنے کا پابند ہوگیا۔ سب سے اہم دفعہ 61 تھی جس کے تحت بیرنز ان 25 بیرنوں کا انتخاب کرسکتے تھے جو اس میثاق پر عمل درآمد پر نظر رکھیں اور بادشاہ کو من مانی کرنے سے روک سکیں۔کنگ جان میگنا کارٹا کو پسند نہیں کرتا تھا چنانچہ جوں ہی بیرنز کمزور اور منتشر ہوئے اس نے پوپ کو حکم دیا کہ وہ میگنا کارٹا کو منسوخ کرنے کا اعلان کردے۔ لیکن اس سے میگنا کارٹا اور بیرنوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔1265 میں برطانیہ کی پہلی منتخب پارلیمنٹ وجود میں آئی۔ اس کے ممبران ممتاز جاگیردار، نائٹس اور قوم کے امیر ترین لوگ ہوتے تھے۔ اشرافیہ سے تعلق کے باوجود بہت سے ممبران پارلیمنٹ مسلسل بادشاہ کے اختیارات میں اضافے کی مخالفت کرتے تھے۔ اشرافیہ کے بادشاہت کے حامی اور مخالف گروہوں کے درمیان تنازع گلابوں کی جنگ کے بعد ختم ہوا۔یہ لڑائی تخت و تاج کے دعویدار دو خاندانوں لنکاسٹر اور یارک خاندانوں کے درمیان ہوئی۔جس میں لنکاسٹر کو فتح ہوئی۔ہنری ٹیوڈر ہنری ہفتم کے نام سے 1485 میں تخت نشین ہوا اور وہ پہلا ٹیوڈر بادشاہ تھا۔ بادشاہوں کی جانب سے مرکزیت کا عمل پہلے سے شدید ہوگیا تاکہ اختیارات کو اپنے قبضے میں رکھا جاسکے۔اس مقصد سے ہنری ہشتم نے رومن کیتھولک چرچ کو حکومت سے الگ کردیا اور چرچ کی پوری زمین ضبط کرلی۔جب بیرنوں کو اندازہ ہوا کہ وہ بادشاہ کو من مانی سے نہیں روک سکتے تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی اختیارات کے استعمال کا طریقہ وضع کیا جائے۔ اس دوران دوسرے سیاسی واقعات بھی ہوتے رہے۔ ٹیوڈر خاندان کا اقتدار اس لئے ختم ہوا کہ ملکہ الزبتھ اول جو ہنری ہشتم کی بیٹی تھی لاولد مری۔ چنانچہ ٹیوڈر خاندان کی جگہ بادشاہت اسٹوارٹ خاندان میں چلی گئی۔پہلا بادشاہ جیمز اول تھا۔اس دوران اجارہ داریوں اور حق تصنیف کی عمل داری بڑھتی گئی۔پارلیمنٹ اور بادشاہ کے درمیان اختیارات کی جنگ میں بھی بڑھتی گئی۔ بادشاہ لوگوں کو اجارہ داری کا حق عطا کرتا تھا جس سے اسے غیر معمولی آمدنی ہوتی تھی۔ برطانیہ کے اندر اور بیرونی مقبوضات میں بیرونی تجارت پر ٹیکس لگانے کا حق بھی اسی کے پاس تھا۔ 1623 میں پارلیمنٹ نے اجارہ داریوں کو محدود کرنے کا قانون بنایا اور بادشاہ کو مزید اجارہ داریاں جاری کرنے سے روک دیا۔میگنا کارٹا کے تحت بادشاہ کو پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرنے کا اختیار تھا اور نئے ٹیکس لگانے کے لئے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری تھی۔1625 میں چارلس اول بادشاہ بنا لیکن اس نے 1629 کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے سے انکار کردیا۔اس نے اجارہ داریوں کی فروخت کی انتہا کردی۔ اس نے عدلیہ کے معاملات میں مسلسل مداخلت کی۔ اس نے متعدد اقسام کے ٹیکس اور جرمانے عائد کئے۔ خاص طور پر شپ منی ایسا ٹیکس تھا جو 1634 میں ساحلی علاقوں کی کاؤنٹیوں پر عائد کیا گیا تاکہ شاہی بحریہ کے اخراجات پورے کئے جاسکیں۔لوٹ کھسوٹ کی اس پالیسی پر پورے ملک میں سخت بے چینی نے جنم لیا۔1640 میں وہ اسکاٹ لینڈ سے الجھ گیا۔شاہی فوج نہ ہونے کے برابر تھی اور انگلستان اسکاٹ لینڈ پر حملے یا حملہ آور فوج کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا تھا۔چنانچہ چارلس اول نے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا تاکہ عوام پر مزید ٹیکس لگائے جاسکیں۔ممبران پارلیمنٹ نے ٹیکسوں کی منظور ی دینے سے انکار کردیا اور اس کے بجائے دیگر مسائل پر گفتگو شروع کردی۔چارلس نے ان کو برطرف کرنا شروع کردیا۔ اس سے اسکاٹ لینڈ کو اندازہ ہوگیا کہ بادشاہ کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔چنانچہ اسکاٹ لینڈ کی فوج نے انگلستان پر حملہ کردیا اور نیو کیسل کے شہر پر قبضہ کرلیا۔ چارلس اول نے مذاکرات شروع کئے۔ اسکاٹس نے پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوا۔جو مسلسل 1648 تک جاری رہا۔جب چارلس اول کو ممبران پارلیمنٹ کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے اجلاس ملتوی کرنے ک کوشش کی لیکن پارلیمنٹ نے انکار کردیا اور اجلاس کو جاری رکھا۔اس کے نتیجہ میں چارلس اور پارلیمنٹ کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوگئی حالانکہ کئی ممبران چارلس اول کے حامی تھے۔پارلیمنٹ چاہتی تھی کہ ایسے تمام ادارے ختم کردئے جائیں جو پارلیمنٹ کی منظوری سے قائم نہیں ہوئے۔یہ جدوجہد خالصاً اقتصادی اور سیاسی آزادی کی جدوجہد تھی۔صرف وہ ممبران بادشاہ کی حمایت کرتے تھے جن کو قیمتی اجارہ داریاں عطا کی گئی تھیں۔ اولیور کرامویل کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ نے جو راؤنڈ ہیڈز کہلاتے تھے کیونکہ ان کے بال گول کٹے ہوئے ہوتے تھے شاہ پسندوں کو شکست دے دی۔شاہ پسند کیویلیئرز کہلاتے تھے۔چارلس اول کے خلاف مقدمہ چلا اور 1649 میں اسے موت کی سزا دے دی گئی۔ شاہ پسندوں کی شکست کے باوجود جابرانہ اداروں کا مکمل خاتمہ نہ ہوسکا۔ شاہیت کی جگہ اولیور کرامویل کی آمریت نے لے لی۔کرامویل کی موت کے بعد 1660 میں بادشاہت دوبارہ بحال ہوگئی اور بادشاہ نے ایسی بہت سی مراعات دوبارہ حاصل کرلیں جو 1649 میں چھن گئی تھیں۔چارلس اول کے بیٹے چارلس دوم نے جابرانہ ادارے بنانے کا سلسلہ شروع کردیا۔اس کی موت کے بعد 1685 میں اس کا بھائی جیمز دوم بادشاہ بنا جس نے بھائی کی جابرانہ پالیسیوں کو جاری رکھا۔1688 میں پارلیمنٹ اور بادشاہ کے درمیان ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی شروع ہوگئی۔پارلیمنٹ اس مرتبہ زیادہ منظم اور فعال تھی۔ ممبران پارلیمنٹ نے ڈچ اسٹیٹ ہولڈر ولیم آف اورنج اور اس کی بیوی میری کو لندن آنے کی د عوت دی۔میری پروٹیسٹنٹ اور شاہ جیمز کی بیٹی تھی۔ولیم فوج کے ساتھ آیا اور تاج و تخت کا دعوی کردیا۔اسے پارلیمنٹ کی حمایت حاصل تھی۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ آئینی بادشاہت بحال کرے گا اور جابرانہ نظام کی حمایت نہیں کرے گا۔جب ولیم کی فوج ڈیون میں برکس ہام کے مقام پر اتری تو شاہ جیمز کی فوج منتشر ہوگئی اور وہ خود فرانس فرار ہوگیا۔اس طرح انگلستان میں جمہوریت کی جدوجہد کا ایک مرحلہ طے ہوگیا۔اس کامیابی کو عظیم انقلاب یا گلورئس ریوالیوشن کہا گیا۔پارلیمنٹ اور ولیم کے درمیان نئے آئین کی تشکیل پر مذاکرات ہوئے جو حملے سے قبل کئے گئے اعلان کی روشنی میں شروع ہوئے۔ انہیں بنیادی حقوق کے اعلان کا حصہ بنادیا گیا جو پارلیمنٹ نے فروری 1689 میں منظور کیا۔ یہ اعلان پارلیمنٹ کے اسی اجلاس میں پڑھا گیا جس میں ولیم کو تاج و تخت کی پیشکش کی گئی۔اعلان حقوق میں یقین دہانی کرادی گئی کہ بادشاہ قانون سازی میں مداخلت نہیں کرسکتا۔اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی ٹیکس نہیں لگا سکتا۔ اعلان حقوق کی بعض دفعات غیر واضح تھیں ۔ مثال کے طور پر یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ممبران پارلیمنٹ قطعی آزاد ہوں گے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ کیسے آزاد ہوں گے؟
صنعتی انقلاب:
صنعتی انقلاب نے انگلستان کی معیشت کے ہر پہلو کو متاثر کیا۔نقل حمل، میٹلرجی، اور دخانی قوت کے میدان میں غیر معمولی ترقی ہوئی۔سب سے اہم پیش رفت پارچہ بافی کی صنعت میں ہوئی جس نے ٹیکسٹائیل ترقی اور پیداوار کو انتہائی عروج پر پہنچا دیا۔اس کے ساتھ ہی مقامی اجارہ داریوں کا خاتمہ ہوگیا اور پیداواری عمل میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاروں کی شمولیت سے ترقی کا پہیہ تیزی سے چلنے لگا۔1640 میں اجارہ داریوں کے خاتمے کا قانون بن گیا اوراقتصادی اداروں کی تنظیم نو ہوئی۔ حقوق ملکیت کو قانونی تحفظ حاصل ہوگیا۔ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں انقلاب سے صنعتی انقلاب کی راہ ہموار ہوگئی۔1688 میں نہری راستوں اور شاہراہوں کے نظام میں ترقی ہوئی جس سے حمل نقل کے اخراجات بہت کم ہوگئے۔
1688 تک یہ تصور کیا جاتا تھا کہ تمام زمیں بادشاہ کی ملکیت ہے۔ اس لئے کوئی زمین کو نہ تو بیچ سکتا تھا اور نہ خرید سکتا تھا۔ پارلیمنٹ نے قانون سازی شروع کی کہ زمین کی ملکیت تبدیل کی جاسکتی ہے یا زمین کی خرید و فروخت، اور قرقی ممکن ہے۔ اس کے بعد زمین کی منتقلی اور خرید و فروخت کو قانونی شکل دے دی گئی۔ جس نے مالیاتی اداروں کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔1688 میں انگلستان میں اہم ترین درامدات ٹیکسٹائلز پر مشتمل تھیں اور یہ کپڑا ہندوستان سے درآمد کیا جاتا تھا۔ تمام تجارت ایسٹ انڈیا کمپنی سر انجا م دیتی تھی جسے اجارہ داری حاصل تھی۔شاہ جیمز دوئم کو کمپنی بڑے پیمانے پر ادائیگیاں کرتی تھی۔لیکن اس اجارہ داری کے خلاف دوسرے سرمایہ کار پارلیمنٹ کو پٹیشنز بھیجتے رہتے تھے۔اگلی نصف صدی میں یہ اجارہ داریاں ٹوٹ گئیں اوردیگر سرمایہ کاروں اور تاجروں کو بھی کاربار کے حقوق مل گئے۔
اس دوران تکنیکی ترقی جاری رہی۔پاپن نے اسٹیم ڈایجسٹر بنایا۔1690 میں پسٹن انجن بنا۔1705 میں دنیا کی پہلی دخانی کشتی بنی۔پاپن نے جب اس کشتی کو جرمنی کے ایک دریا میں اتارا تو قانون اس کے خلاف تھا۔پاپن لندن کا سفر کرنا چاہتا تھالیکن اسے اس کا موقع نہیں ملا۔دوسرے جہازرانوں نے اس کی کشتی پر حملہ کرکے اسے توڑ پھوڑ دیا۔پاپن خود بھی مارا گیا اور ایک نامعلوم قبر میں اسے دفن کردیا گیا۔
میٹلرجی یا دھات سازی کے میدان میں بھی ترقی ہوئی۔ 1780 میں ہنری کارٹ نے لوہے کی کچدھات صاف کرنے کا جدید طریقہ دریافت کیا۔1709 میں لوہا سازی کے کارخانوں میں کوئلے کا استعمال شروع ہوگیا۔دھاگہ سازی کا عمل بارھویں صدی عیسوی میں مشرق وسطی کے اسلامی ملکوں میں ایجادہوچکا تھا، 1280 میں یہ ایجاد یورپ پہنچی ۔دھاگہ سازی کا یہ طریقہ اٹھارویں صدی تک زیر استعمال رہا۔ انیسویں صدی میں اس طریقے میں اختراعات شروع ہوئیں۔1738 میں لوئس پال نے انگلستان میں دھاگہ بٹنے کی ابتدائی مشین بنائی۔1769 میں آرک رائیٹ نے زیادہ جدید مشینیں بنائیں اور 1771 میں آرک رائیٹ نے دنیا کی سب سے پہلی ٹیکسٹائیل فیکٹریاں لگائیں۔یہ سب صنعتی انقلاب کا نتیجہ تھا۔1785 میں ایڈمنڈ کارٹ رائیٹ نے پاور لوم متعارف کرائے۔ انگلستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری صنعتی انقلاب کے لئے ایک بڑی محرک قوت کی حیثیت رکھتی تھی جس سے عالمی معیشت کو ترقی ہوئی۔انگلستان کی برآمدات 1780 سے 1800 کے درمیان دگنی ہوگئیں جن میں سوتی کپڑا سر فہرست تھا۔ انگلستان نے نہروں، آبی راستوں، سڑکوں اور ریلوے لائنوں کی تعمیر کے ذریعہ حمل و نقل اور سفر کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا۔انگلستان میں 1770 میں نہروں کی تعمیر شروع ہوئی جو ناصرف آپ پاشی کے کا�آائیں بلکہ ان کو آبی راستوں کے طور پر استعمال کیا گیا اور تمام صنعتی پیداواری علاقوں کو ایک دوسرے سے ملادیا گیا۔ ڈیوک آف برج واٹر نے ایک شخس جیمز برندلے کی خدمات حاصل کیں جس نے مشہور برج واٹر نہر تعمیر کی جس کے ذریعہ مانچسٹر کے صنعتی شہر کو لیور پول اور دیگر شہروں سے ملادیا گیا۔ تکنیکی اور تنظیمی ندرت اور ترقی اقتصادی ترقی کا سبب بنی۔ صنعتی ترقی کے نتیجہ میں نئے کارخانے اور فیکٹریاں لگائی گئیں۔ ہزاروں کارکنوں کو روزگار ملا۔ تجارت نے ترقی کی۔ مواصلاتی ذرائع بہتر ہوتے گئے۔جس وقت انگلستان صنعتی ترقی کے دور سے گزر رہا تھا تو دنیا کے دوسرے علاقے تاریکی میں تھے ۔ حد یہ ہے کہ یورپ کے بیشتر علاقوں میں بھی صنعتی ترقی کا آغاز نہیں ہوسکا تھا۔
صنعتی انقلاب انگلستان میں ہی کیوں؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صنعتی انقلاب انگلستان ہی میں کیوں شروع ہوا۔ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اس کا سبب انگلستان کے محتوی ادارے تھے۔ ہم شروع میں اس اصطلاح کے بارے میں بتاچکے ہیں کہ اس سے مراد ایسے ادارے تھے جن میں مختلف سطحوں پر مشاورت کا اصول کارفرما تھا۔ اس کے مقابلے میں حرفتی ادارے جابرانہ نظام پر مشتمل تھے۔ چنانچہ انگلستان میں محتوی اداروں کی موجودگی اور استحکام صنعتی انقلاب کے لئے محرک ثابت ہوا۔ باہم مشورے سے ایسے قوانین بنائے گئے جن سے معاشرے کے بڑے حصے کو فائدہ ہوا۔ اگرچہ اس منزل کے حصول کے لئے انگلستان کے لوگوں کو طویل جدوجہد کرنی پڑی لیکن بالآخر وہ ایک با اختیار پارلیمنٹ بنانے میں کامیاب رہے جس نے صنعتی انقلاب میں بنیادی کردار ادا کیا۔یورپ اور دوسرے ملکوں میں بدترین جابرانہ نظام نافذ تھا اس لئے وہاں صنعتی انقلاب کا عمل دیر سے شروع ہوا۔ اسی طرح مغربی یورپ مشرقی یورپ سے بہت پہلے جابرانہ حرفتی نظام کے شکنجے سے آزاد ہوا۔ انگلستان میں ٹیوڈر اور اسٹوارٹ بادشاہوں سے پارلیمنٹ نے اختیارات چھین لئے۔ اور ایسی قانون سازی کی جس کا فائدہ عام تاجروں کو ہوا۔اس سے کاروباریوں اور تاجروں کا نیا طبقہ پیدا ہوا جنہوں نے شاہی خاندان کے جبر کی شدت سے مزاحمت کی اور جمہوری اداروں کا ساتھ دیا۔1642 کی خانہ جنگی میں تاجر طبقہ پارلیمانی اداروں کا حامی تھا۔1670 میں تاجروں نے وھگ پارٹی بنائی جس نے شاہ اسٹوارٹ کی جابرانہ پالیسیوں کی سخت مخالفت کی۔اس پارٹی نے1688 شاہ جیمز دوم کی بادشاہت کا تختہ الٹنے کی تحریک کا ساتھ دیا۔ اسی طبقے نے امریکہ میں کالونیوں کی اقتصادی ترقی میں حصہ لیا۔
ترقی میں رکاوٹیں:
1445 میں مینز، جرمنی میں جوہن گوٹن برگ نے پہلا پرنٹنگ پریس بنایا۔ اس ایجاد کے نتیجہ میں کتابیں اور اخبار چھپنے لگے اور عام لوگوں کی دسترس میں آگئے۔1476 میں ولیم کیکسٹن نے لندن میں چھاپہ خانہ لگایا۔ دوسرا چھاپہ خانہ دو سال بعد آکسفورڈ میں لگایا گیا۔ایک جانب یورپ اور برطانیہ میں طباعت ترقی کررہی تھی جس کے ذریعہ ناصرف جمہوری تصورات کو فروغ ہورہا تھا بلکہ عیسائی مشنریاں انجیل مقدس کے نسخے طبع کراکے دنیا بھر میں تقسیم کررہی تھیں۔ دوسری جانب خلافت عثمانیہ میں پرنٹنگ پریس پر پابندی لگادی گئی تھی اور قراں مجید کی طباعت کو جرم قرار دے دیا گیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پرنٹنگ پریسوں پر انجیل مقدس کی طباعت اور اشاعت سے عیسائیت افریقہ اور دوسرے ملکوں میں تیزی سے پھیلی جبکہ قران مجید کی طباعت پر پابندی کے سبب صرف قلمی نسخے لکھے جاتے رہے اور تبلیغ کا کام تین سو سال تک رکا رہا۔ 1485 میں عثمانی سلطان بایزید دوم نے عربی زبان میں ہر طرح کی کتابوں کی طباعت ممنوع قرار دے دی۔1515 میں سلطان سلیم اول نے اس قانون کو برقرار رکھا۔1727 میں یہ پابندی اٹھائی گئی اور سلطان احمد سوم نے خلافت عثمانیہ میں پہلا پرنٹنگ پریس لگانے کی اجازت دی۔ تاہم طباعت اور اشاعت پر سخت سرکاری پابندیاں تھیں اور کوئی چیز سرکاری کمیٹی کی منظوری کے بغیر شائع نہیں ہوسکتی تھی۔چنانچہ 1729 سے 1743 تک صرف 17 کتابیں شائع ہوسکیں۔ مصر بھی سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا جب فرانس کے بادشاہ نپولین بونا پارٹ نے مصر پر قبضہ کیا تو اس نے 1798 میں پرنٹنگ پریس لگانے کی اجازت دی جو ایک فرانسیسی نے لگایا۔ اس کا مقصد مصر میں خلافت عثمانیہ کے خلاف جذبات کو فروغ دینا اور پروپیگنڈا کرنا تھا۔ایک جانب اسلام اور مسلمانوں کے دشمن جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے زبردست پروپیگنڈا مہم چلا رہے تھے دوسری جانب خلافت عثمانیہ طباعت پر پابندیاں لگارہی تھی۔ (عیسائی مشنریاں لاکھوں کی تعداد میں انجیل مقدس چھپواکر دنیا بھر میں تقسیم کررہی تھیں جبکہ اسلامی دنیا قلمی کتابوں کے دور سے باہر نکلنے کو تیار نہیں تھی)۔صرف قسطنطنیہ(استنبول) میں 80,000 قلمی کتابیں زیر استعمال تھیں لیکن طباعت پر پابندی تھی۔حالانکہ طباعت کے بغیر ادبی، علمی اور اقتصادی ترقی ممکن نہیں تھی۔ 1800 میں خلافت عثمانیہ میں صرف دو سے تین فیصد آبادی خواندہ تھی ۔ ا سکے مقابلے میں انگلستان میں 60 فیصد آبادی خواندہ تھی۔
صنعتی ترقی کا خوف:
جمہوری اداروں کی ترقی اور سیاسی قوت کی بحالی کے بغیر انگلستان میں صنعتی انقلاب کا عمل شروع نہیں ہوا۔ اگرچہ پورا مغربی یورپ انگلستان میں ہونے والی سیاسی اور اقتصادی تبدیلیوں سے متاثر ہورہا تھا لیکن جابرانہ سیاسی نظام ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ روس، آسٹریا ہنگری اور اسپین میں بدترین جابرانہ نظام تھا۔حکمراں اشرافیہ کی خود غرضی، نا اہلی اور بد انتظامی نے اقتصادی ترقی کا راستہ بند کررکھا تھا۔ جب انگلستان میں صنعتی انقلاب شروع ہوا اور عام لوگ ترقی کے دھارے میں شامل ہوئے تو انگلستان میں بھی شاہ پرستوں نے اس کی مزاحمت کی اور یورپ کے مختلف ملکوں میں امرا کے طبقے نے بھی اس خوف کا اظہار شروع کردیا کہ اس انقلاب کو ان کے علاقوں میں آنے کی اجازت دی گئی تو اقتدار کے ایوانوں پر ان کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی اور ان کے اختیارات چھن جائیں گے۔ آسٹریا ہنگری کی سلطنت میں بھی اس تشویش کا اظہار کیا گیا۔آسٹریا کے صوبے ٹائرول کے شہریوں کا ایک وفد شاہ فرانسس سے ملا اور آئین بنانے کا مطالبہ کیا۔ شاہ فرانسس کا رد عمل انتہائی منفی اور شدید تھا۔ شاہ نے کہا کہ وہ کسی آئین کی حمایت نہیں کرے گا۔ اس نے کہا کہ” وہ ایک آئین بناکر دے سکتا ہے لیکن یہ یاد رکھا جائے کہ فوج میری وفادار ہے اور جب مجھے رقم کی ضرورت ہوگی میں تم لوگوں سے پوچھوں کا بھی نہیں۔ میں جب چاہوں گا نئے ٹیکس لگاؤں گا اور تم لوگوں کو دینا پڑیں گے۔ یہ یاد رکھو! میرا مشورہ ہے کوئی بات کہتے ہوئے احتیاط سے کام لو”۔ وفد کے سربراہ نے جواب میں کہا کہ اگر آپ کو آئین پسند نہیں تو بہتر ہے کہ آئین نہ ہو۔ شاہ فرانسس نے رعونت سے کہا کہ میری رائے بھی یہی ہے کہ آئین نہ ہو۔
شاہ فرانسس نے بدترین آمرانہ نظام قائم کیا۔ اس نے گزشتہ حکمراں ملکہ ماریا تھریسیا کی قائم کردہ اسٹیٹ کونسل کو تحلیل کردیا جہاں بادشاہ کے اقدامات پر شہری اپنی رائے دے سکتے تھے۔ اس نے شہزادہ وان میٹرنک کو1809 میں اپنا وزیر خارجہ بنایا۔ شہزادہ وان میٹرنک اتنا طاقتور تھا کہ 40سال وزیر خارجہ رہا۔ایک انگریز مستشرق رابرٹ اووین کی قیادت میں انگریزی وفد نے آسٹریائی حکومت کے عمال سے ملاقاتیں کیں۔ ایک ملاقات میں میٹرنک کے اسسٹنٹ سے وفد نے کہا کہ غریبوں کی فلاح کے لئے سماجی اصلاحات ضروری ہیں تو فریڈرک وان گینز نے جواب میں کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ تمام عوام خوش حال اور آزاد ہوجائیں۔ ہم پھر حکومت کس پر کریں گے؟ بدترین شاہانہ نظام طویل عرصہ صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ رہا۔
طبقہ امرا صنعتی ترقی کو اپنے اقتدار اور اختیار کے لئے خطرہ تصور کرتا تھا۔شاہ فرانسس کا کہنا تھا،” میں صنعتی ترقی کا مخالف ہوں۔ اس کے نتیجہ میں فیکٹریاں قائم ہوتی ہیں اور غریب عوام دیہات کو چھوڑ کر بہتر روزگار کے لالچ میں شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ یہ عوام حکومت کے مخالف ہوتے ہیں ۔ اگر سب کسان شہروں میں آجائیں تو فصلیں کون اگائے گا؟ حکومت کو ٹیکس کون دے گا؟ ” ۔ چنانچہ شاہ فرانسس نے ویانا میں فیکٹریاں لگانے پر پابندی لگادی۔ اس نے دخانی انجن سے چلنے والی ریلوں کی مخالفت کی۔چنانچہ 1860 تک آسٹریا میں ریل کے ڈبوں کو گھوڑے کھینچتے تھے۔ یہودی بنکار سالمن روتھ شیلڈ نے آسٹریا میں دخانی ریلوے انجن متعارف کرانے کی اجازت مانگی لیکن شاہ فرانسس نے انکار کردیا۔ آسٹریا ہنگری اور روس میں صنعتی ترقی کی مخالفت کرنے کا سبب یہ تھا کہ عام شہریوں کو اس کے فوائد پہنچتے تو ایسا طبقہ پید اہوجاتا جو حکمرانوں کے اقتدار کے لئے خطرہ بن جاتا۔ (مجھے اس کا تجربہ بلوچستان میں ہوا جہاں ذولفقار علی بھٹو کے حکم پر1973 میں بارکھان میں ایک کالج بنایا گیا۔ میں اس کالج میں لیکچرر تھا۔کالج کی عمارت کے لئے پرائمری اسکول سے ایک کمرہ عاریتاً لیا گیا۔ جس میں کالج قائم کردیا گیا۔ جب کالج کی عمارت کی تعمیر کے لئے قطعہ زمین حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی تو کھیتران قبیلے کے سردار اور علاقے سے پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی کے رکن سردار انور جان کھیتران نے اعلان کیا کہ جو شخص کالج کے لئے زمین دے گا وہ اپنی ماں کو بیچے گا۔ سردار انور جان کھیتران کا کہنا تھا کہ اگر کسانوں کے بچے پڑھ لکھ گئے تو ہمارا حکم کون مانے گا؟ سردار انور جان کھیتران کوئی جاہل آدمی نہیں تھا۔ وہ علی گڑھ یونیورسٹی کا گریجوٹ تھا۔ لیکن سرداری نظام کے مزاج کو علی گڑھ تبدیل نہ کرسکا، مترجم)
اشرافیہ کس طرح جدید تعلیم، نئی ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کی دشمن تھی ا سکا اندازہ اس سے لگائیں کہ روس کے زار نکولس نے ماسکو میں کئی صنعتی نمائشوں پر پابندی لگادی۔ 1848 میں ماسکو کے فوجی گورنر نے زار نکولس کو لکھا کہ ملک میں امن و امان کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ بے گھر اور بے روزگار لوگوں کو کہیں جمع ہونے کا موقع نہ دیا جائے کیونکہ ایسے لوگ جلد ہی حکومت مخالف تحریکوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔1849 میں ماسکو میں نئی فیکٹریاں لگانے پر پابندی لگادی گئی کیونکہ دیہات کے غریب بے روزگار ماسکو کا رخ کررہے تھے۔ اس پابندی کا مقصد باغی مزاج کے کارکنوں کے ماسکو میں جمع ہونے کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔ 1842 سے پہلے روس میں صرف ایک ریلوے لائن تھی جوسینٹ پیٹرز برگ سے شاہی رہائش گاہ تک جاتی تھی۔ 1851 میں ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ کے درمیان ریل کی پٹری بچھائی گئی۔ حکومت عوام کو سفر کی آسان سہولتیں نہیں دینا چاہتی تھی تاکہ وہ حکومت کے خلاف تحریک کا حصہ نہ بن سکیں۔ ریلوے لائنیں بچھانے پر پابندی 1870 میں اس وقت اٹھائی گئی جب کریمیا کی جنگ میں روسی فوجوں کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ برطانیہ، فرانس اور ترکی کی فوجوں کے خلاف لڑنے والی روسی فوج کو بروقت کمک نہ پہنچ سکی۔
جہاز رانی پر پابندی:
دنیا بھر میں بادشاہوں کے درمیان قدر مشترک تبدیلی کی مخالفت تھی۔ تمام بادشاہ صنعتی ترقی سے خوف زدہ تھے۔چین میں منگ خاندان 1368 میں برسراقتدار آیا۔ ہونگوو چینی شہنشاہ تھا۔ اس نے بین الاقوامی تجارت پر پابندی لگادی۔ اس کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تجارت سے عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ سیکڑوں لوگوں کو اس لئے قتل کرادیا کہ انہوں نے غیر ملکیوں کے ساتھ کاروبار کرنے کی کوشش کی۔ صرف سرکاری وفد ہی غیر ملکیوں سے بات چیت اور کاروباری تعلقات میں شامل ہوسکتا تھا۔
1402 میں شہنشاہ ہونگل برسراقتدار آیا۔ عام لوگوں پر بین الاقوامی تجارت پر پابندی برقرار رہی لیکن سرکاری سطح پر چھ بڑے بیڑے تیار کئے گئے جو مال تجارت لے کر دنیا بھر میں بھیجے گئے۔پہلے بیڑے میں 62 بڑے اور 190 چھوٹے جہاز شامل تھے۔ عملے کی تعداد 27800 تھی۔تاہم 1436 میں ان بیڑوں پر پابندی لگادی گئی۔یہ پابندی 1567 میں ہٹی۔1644 میں منگ خاندان کی جگہ کینگز خاندان اقتدار میں آیا۔ 1693 میں اس خاندان کے ایک بادشاہ کنگزی نے ہر طرح کے بحری جہاز بنانے اور استعمال کرنے پر پابندی لگادی۔ یہ تمام بادشاہ بیرونی اثرات سے خوف زدہ تھے۔
پسماندگی:
صنعتی انقلاب نے انیسویں صدی اور اس کے بعد کے زمانے میں ایسا عبوری دور تخلیق کیا جس میں نئی ٹیکنالوجی کا انتخاب کرنے والے معاشروں نے تیزی سے ترقی کی اور دنیا پر چھا گئے۔ جن معاشروں نے نئی ٹیکنالوجی کی مزاحمت کی اور تبدیلیوں کو روکنے کی کوشش کی وہ پسماندہ رہ گئے۔جو ممالک جابرانہ نظام کی گرفت میں تھے اور جہاں مشاورتی یا محتوی اقتصادی ادارے نہیں تھے وہاں ترقی کا پہیہ رک گیا۔ ایسا صرف اسلامی دنیا(جنوبی ایشیا، مشرق وسطی اور شمالی افریقہ) ہی میں نہیں ہوا بلکہ یورپ اور افریقہ کے بہت سے ممالک میں بھی اس تبدیلی کی مزاحمت کی گئی۔ یورپ کے ملکوں روس، آسٹریا، ہنگری، سلطنت عثمانیہ، چین اور اسپین میں جابرانہ سیاسی کنٹرول کے حامل سیاسی اور اقتصادی ادارے تھے جو اپنے نظام میں ناصرف اصلاحات کے لئے تیار نہیں تھے بلکہ وہاں حکمراں اشرافیہ نے صنعتی انقلاب کی شدید مزاحمت کی۔ اس کا نتیجہ قومی پسماندگی کی شکل میں نکلا۔آج بھی بہت سے ملک مثلاً افغانستان، ہیٹی، نیپال، صومالیہ اور دیگر بہت سے افریقی ممالک اس تبدیلی کی ناصرف مزاحمت کررہے ہیں بلکہ مشاورتی نظام معیشت کے فروغ میں کسی اعانت کے لئے بھی آمادہ نہیں۔ اس کی وجہ ان معاشروں میں رائج استبدادی نظام ہے جس میں سیاسی اور جمہوری ادارے ترقی نہیں کرسکتے۔ پورا معاشرہ یا تو سرداروں کے کنٹرول میں ہے اور قبائلی کلچر انہیں آزاد نہیں ہونے دیتا۔
ترقیء معکوس:
جنوب مشرقی ایشیا کے جزائر شرق الہند جہاں اس وقت انڈونیشیا، ملائشیا، سنگاپور وغیرہ کی ریاستیں قائم ہیں بدترین استعمار کا شکار ہوئے جس کا نتیجہ ان معاشروں کی ترقی معکوس کی شکل میں نکلا۔سترھویں صدی عیسوی میں جزائر ملوکا میں ٹیڈور، ٹرنیٹ اور بکن کی آزاد ریاستیں قائم تھیں(جو سب مسلمان تھیں)وسطی ملوکا میں امبون کی ریاست تھی۔ جنوب میں جزائر بندا تھے جہاں کوئی ایک حکومت نہیں تھی ۔ہر شہر آزاد تھا۔ملوکاس انتہائی قیمتی گرم مسالوں لونگ، جاوتری اور جائفل کی پیداوار کا مرکز تھے اور یہ گرم مسالے ان خطوں سے ساری دنیا کو بھیجے جاتے تھے۔ان میں سے جاوتری اور جائفل صرف جزائربندامیں پیدا ہوتے تھے۔ان خطوں کے باشندے ان قیمتی مسالہ جات کی بدلے اجناس خریدتے تھے۔یورپی قوموں میں پرتگیز سب سے پہلے یہاں پہنچے۔انہوں نے گرم مسالوں کی تجارت پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔پرتگیزوں نے 1511 میں ملیکا پر قبضہ کیا جو موجودہ ملائشیا میں شامل تھا۔ملیکا پر قبضہ کرکے انہوں نے مسالوں کی تجارت پر کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کی۔ انڈونیشیا اور ملائشیا کے مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی مختلف ریاستیں ایچے، بنٹن، ملیکا، مکاسر، پیگو، اور برونئی انتہائی ترقی یافتہ تھیں اور گرم مسالوں کی پیداوار کا مرکز تھیں۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ ان کے درمیان کبھی خانہ جنگی نہیں ہوئی اور وہ امن و امان کے ساتھ رہتی تھیں۔اسی وجہ سے انہوں نے کسی بیرونی حملہ آور کا مقابلہ کرنے کے لئے کسی بڑی فوج کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ شاید ان کی امن پسندی ہی ان کی تباہی کا سبب بن گئی۔ ان ریاستوں کے بادشاہوں کی آمدنی کا انحصار مال تجارت کے محصولات پر تھا۔پرتگیزوں نے بحر ہند میں انگریزوں، اور دوسرے یورپی استعماری ملکوں کی فوجوں کے ساتھ کئی جنگیں لڑیں۔ 1600 میں ڈچ یہاں آئے۔ انہوں نے پر تگیزوں کو نکال باہر کیا اور پورے خطے پر قبضہ کرلیا۔انہوں نے اس خطے کے وسائل پر قبضے کے لئے ایسی گھٹیا اور جارحانہ حکمت عملی اختیار کی جس سے جدیدیت کا دعوی کرنے والوں کا سر شرم سے جھک جانا چاہیئے۔ انہوں نے بندوق کے زور پر امبون کے بادشاہ کو ایک معاہدہ کرنے پرمجبور کیا جس کے تحت انہیں لونگ کی تجارت پر اجارہ داری حاصل ہوگئی۔1602 میں ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی قائم ہوئی۔یہ دوسری کمپنی تھی جس کی اپنی فوج تھی جس کی مدد سے کمپنی اپنے مفادات کا تحفظ کرتی تھی اور خانہ جنگی میں ملوث رہتی تھی۔امبون کے بعد ڈچوں نے شمالی ملوکاس پر قبضہ کرلیا اور ٹیڈور، ٹرنیٹ اور بکن کے حکمرانوں کو معاہدہ کرنے پر مجبور کیا کہ ان کے علاقوں میں لونگ کی پیداوار نہیں ہوگی اور نہ وہ کسی اور سے تجارت کریں گے۔ بٹاویہ کے ڈچ گورنر نے جاوتری اور جائفل کی تجارت پر اجارہ داری حاصل کرنے کے لئے ان گرم مسالوں کی پیداوار کے مرکز جزائر بندا پر حملہ کیا اور ان جزائر کی پوری آبادی کو ہلاک کردیا جو ان مسالوں کی پیداوار میں مہارت رکھتی تھی۔اس کے بعد اس نے ایک پلانٹیشن سوسائٹی قائم کی جو صرف ڈچوں مشتمل تھی جنہیں گرم مسالوں کی فصلیں اگانے کی تربیت دی گئی۔ڈچوں نے ان علاقوں میں بدترین جابرانہ نظام قائم کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مقامی آبادی نے گرم مسالوں کی فصلیں اگانی چھوڑ دیں اور شدید اقتصادی مشکلات کا شکار ہوگئے۔ شہر اور گاؤں آبادی سے خالی ہونے لگے۔ ہر شخص کو یہ خوف تھا کہ ڈچ انہیں غلام بنا لیں گے اور اپنی زمینوں پر ان سے بلا معاوضہ کام لیں گے۔ یہ ایک اعتبار سے ترقی معکوس تھی جس کا سامنا مقامی معاشروں کو ڈچوں کی غلامی کے سبب کرنا پڑا۔
غلاموں کی تجارت:
ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے غلاموں کی تجارت کو فروغ دینے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ ڈچ افریقی ساحلوں سے افریقی باشندوں کو اغوا کرتے تھے اور بطور غلام شمالی امریکہ، وسطی امریکا، برطانیہ اوردوسرے ملکوں میں فروخت کردیتے تھے۔ان غلاموں سے بحیرہ کیریبین کے علاقوں میں فصلیں اگانے کا کام لیا جاتا تھا۔ افریقہ میں غلاموں کی تجارت میں اتنی شدت آئی کہ لوگوں نے اپنے بچوں کو گھروں سے باہر بھیجنا چھوڑ دیا کیونکہ سفید فام ان بچوں کو اغوا کرکے غلام بنا لیتے تھے۔17ویں صدی میں 13,50,000 افریقیوں کو غلام بنا کر فروخت کیا گیا۔اٹھارویں صدی میں سات لاکھ افریقیوں کو غلام بنا کر فروخت کیا گیا۔ غلامی کا کلچر اس طرح عام ہوا کہ افریقہ میں کالے کالوں کو غلام بنانے لگے اور انسان گندم کی طرح بکنے لگے۔ صحرائے صحارا کے علاقوں میں ایک کروڑ افریقیوں کو غلام بنایا گیا۔ فرانس نے جن خطوں پر قبضہ کیا وہاں بڑے پیمانے پر کالوں کو غلام بنا کر فروخت کیا گیا۔فرانس کے اپنے سرکاری ریکارڈ کے مطابق مغربی افریقہ میں سینیگال، مالی، برکینا فاسو، چاڈ اور نائیجر کی 30 فیصد آبادی کو غلام بنا کر فروخت کردیا گیا۔ہالینڈ کے بعد فرانس وہ واحد ملک تھا جس نے کالے غلاموں کی تجارت کو قانونی شکل دی۔
چوروں کی عزت افزائی:
1707 میں انگلستان، ویلز اور اسکاٹ لینڈ کے قانونی ادغام سے برطانیہ عظمٰی وجود میں آیا۔اس زمانے میں اگرچہ پارلیمنٹ پوری شہری آبادی کے حقوق کا تعین کرچکی تھی لیکن مجرموں کو کوئی حقوق حاصل نہیں تھے۔ مجرم نہ ذاتی ملکیت رکھ سکتے تھے اور نہ زمین کے مالک ہوسکتے تھے۔ ان مجرموں کو قید کی سزائیں پوری کرنے کے لئے زیادہ تر امریکہ بھیجا جاتا تھا۔1783 میں امریکہ کے آزاد ہونے کے بعد برطانوی قیدیوں کی آمد بند ہوگئی۔ شروع میں انہیں افریقہ بھیجا گیا لیکن سفید فام قیدی وہاں کے موسم اور بیماریوں کی سختی برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ اگلا انتخاب آسٹریلیا تھا جو کیپٹن جیمز کک 29 اپریل 1770 کو دریافت کرچکا تھا۔ اس کی آب و ہوامعتدل تھی۔ چنانچہ جنوری 1788 میں کیپٹن آرتھر فلپ کی سرکردگی میں 11 بحری جہازوں پر مشتمل بیڑہ آسٹریلیا پہنچا۔ یہ بحری بیڑا 26 جنوری کوسڈنی کے مقام پر لنگر انداز ہوا۔ اسی تاریخ کو یوم آسٹریلیامنایا جاتا ہے۔ان جہازوں سے قیدیوں کی بہت بڑی تعداد آسٹریلیا آئی تھی۔یہ عادی مجرم اور سزا یافتہ قیدی تھے۔ آسٹریلیا کی آبادی کی اکثریت ان مجرموں کی اولاد ہے۔ انہوں نے اس نئی کالونی کو نیو ساؤتھ ویلز کا نام دیا۔ ان جہازوں میں سے ایک جہاز کا کپتان ڈنکن سنکلیر تھا۔ اس جہاز سے ایک قیدی جوڑا بھی آیا تھا۔ شوہر کا نام ہنری کیبلز اور بیوی کا نام سوسن تھا۔ ان کی شادی عجیب و غریب انداز سے ہوئی۔ جیل میں قید کے دوران انہیں ایک دوسرے سے محبت ہوگئی۔ سوسن پر چوری کا الزام تھا ۔اسے موت کی سزا دی گئی تھی جسے بعد میں عمر قید میں بدل دیا گیا۔شادی کے بعد ان کا ایک بیٹا ہوچکا تھا۔پہلے سوسن کو امریکہ اور اس کے بعد آسٹریلیا بھیجنے کا حکم ہوا۔ اس فیصلے کے نتیجہ میں اس خاندان کے ٹوٹ جانے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ کیونکہ اس کے شوہر ہنری کو آسٹریلیا جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ایک برطانوی سماجی کارکن لیڈی کیڈوگن نے اس جوڑے کو آسٹریلیا بھیجنے کا مطالبہ کیا اور اس کے لئے باقاعدہ اخباری مہم چلائی۔ جو کامیاب رہی۔لیڈی کیڈوگن نے جوڑے کی مالی مدد کے لئے بیس پونڈ بھی جمع کئے۔ یہ رقم اور دیگر تحائف جہاز کے کپتان سنکلیر کے حوالے کئے گئے تاکہ جوڑے کو آسٹریلیا پہنچنے پر دے دئے جائیں۔ جہاز جب آسٹریلیا پہنچا تو کپتان سنکلیر کی نیت خراب ہوگئی۔اس نے رقم اور تحائف پر قبضہ کرلیا۔ برطانوی قانون کے تحت کوئی سزا یافتہ قیدی کسی آزاد شخص کے خلاف مقدمہ نہیں کرسکتا تھا۔ اس لئے سنکلیر کا خیال تھا کہ وہ اطمینان سے یہ رقم کھا جائے گا۔ لیکن آسٹریلیا میں جج ایڈووکیٹ ڈیوڈ کولنز نے فیصلہ دیا کہ ہنری کیبل اور اس کی بیوی نئے آباد کار تھے اور جہاز کے کپتان سنکلیئر کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری تھی کہ ہنری اور مسز ہنری کے لئے بھیجا جانے والاپارسل ان کو بحفاظت پہنچایا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کپتان سنکلیئر نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ اس مقدمہ میں ہنری اور اس کی بیوی کو آباد کار کے بجائے قیدی لکھا جاتا تو شاید وہ یہ مقدمہ کبھی نہ جیت سکتے۔جج کولنز نے فیصلہ دیا کہ کپتان سنکلیئر ہنری اور مسز ہنری کو 15 پونڈ ادا کرے۔ اس فیصلے نے آسٹریلیا میں نظیر قائم کردی اور یہاں نئے آبادکاروں کو جو سب سزا یافتہ قیدی تھے کچھ حقوق مل گئے۔
ان نئے آبادکاروں کو اب تک کام کا معاوضہ دینے کی روایت نہیں تھی ۔ ان کو صرف دو وقت کھانا ملتا تھا۔ مسابقت نہ ہونے اور محنت کا معاوضہ نہ ملنے کی وجہ سے ان کی کارکردگی صفر تھی۔چنانچہ ان کو اچھی کارکردگی پر بونس رائج کیا گیا بعد میں انہیں معاوضہ بھی ملنے لگا۔محافظوں کو بھی اس کا فائدہ ہوا۔وہ آبادکاروں کو اشیا فروخت کرکے نفع کمانے لگے۔برطانیہ نے ولیم بلائی کو منتظم مقرر کیا جو پہلے ایک جہاز باؤنٹی کا کپتان تھا اور جس کی موجودگی میں مشہور بغاوت میوٹنی آن دی باؤنٹی ہوئی تھی۔ اس بغاوت پر کئی فلمیں بنی ہیں۔ وہ ایک سخت گیر منتظم تھا اور اس کی اسی سخت گیری کی وجہ ہی سے یہ بغاوت ہوئی۔ جب وہ آسٹریلیا آیا تو اس نے اسی سخت گیری کا مظاہرہ کیا۔اس کا نتیجہ بغاوت کی شکل میں نکلا۔ یہ بغاوت رم میوٹنی کہلائی۔ محافظوں کو رم کی فروخت کی اجارہ داری حاصل تھی اور ولیم بلائی نے یہ اجارہ داری ختم کردی۔بہرحال یہ نئی سرزمین سابق قیدیوں اور ان کے محافظوں کا نیا وطن تھی۔ یہاں دونوں کے لئے مالی ترغیبات تھیں۔یہاں جبر کا کوئی نظام نہیں تھا۔ بہت جلد باہم مشورے سے فیصلے ہونے لگے تھے۔یہاں بھی ایک طبقہ اشرافیہ کا تھا جو اسکوئیٹرز کہلاتے تھے لیکن آبادی کم ہونے کی وجہ سے لوگوں سے جبری اور بلا معاوضہ کام نہیں لیا جاسکتا تھا اس لئے یہاں مشاورتی یا محتوی ادارے قائم ہوئے۔سزا یافتہ قیدیوں کو جلد تاجروں اور کاروباریوں کا درجہ مل گیا۔سزاؤں کی مدت پوری ہونے پر انہیں زمینیں بھی الاٹ کردی گئیں۔ ان کے کاروبار چمک اٹھے اور ان میں سے بہت لوگ انتہائی دولت مند ہوگئے جن میں ہنری اور اس کی بیوی سوسن بھی شامل تھے۔ اب وہ کئی دکانوں کا مالک تھا۔اور اس کے پاس 470 ایکڑ زمین تھی۔
1850 میں آسٹریلیا میں تمام سفید فام شہریوں کو ووٹ کا حق دے دیا گیا تھا جن میں سابق قیدی بھی شامل تھے۔پارلیمانی ادارے بن چکے تھے اور لوگ اپنے ووٹوں سے اپنے نمائندے چن رہے تھے۔ مالی اور اقتصادی ترقی کے لئے جمہوریت اور مشاورت کا نظام بنیادی ضرورت ہے۔
انقلاب فرانس:
1789 سے پہلے فرانس میں جابرانہ مطلق العنان شاہیت تھی۔فرانسیسی معاشرہ تین طبقوں میں تقسیم تھا۔یہ طبقے جاگیریں کہلاتے تھے۔ پہلا طبقہ پادریوں اور مذہبی رہنماؤں یعنی کلیسا کا تھا۔ دوسرا طبقہ معززین یا نوبلٹی کا تھا اور بادشاہ، نوابین اور جاگیر دار ان میں شامل تھے۔ تیسرا طبقہ عوام الناس کا تھا۔تمام حقوق پہلے اور دوسرے طبقوں کو حاصل تھے۔کلیسا اور نوبیلٹی کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے تھے جبکہ عوام تمام ٹیکس ادا کرنے کے پابند تھے۔چرچ ناصرف ٹیکس ادا نہیں کرتا تھا بلکہ وہ بے حساب جاگیروں کا مالک تھا اور خود بھی ٹیکس عائد کرتا تھا۔ بادشاہ، معززین اور پادری انتہائی پر تعیش زندگی گزارتے تھے۔ ساری تکلیفیں عوام کے لئے تھیں۔قانون کے تحت تمام اختیارات کلیسا اور معززین کو حاصل تھے۔ سیاسی قوت بھی انہی کے پاس تھی۔فرانسیسی شہروں میں زندگی انتہائی تکلیف دہ تھی۔مینوفیکچرنگ پر طاقتور گلڈز کا کنٹرول تھا۔ یہ گلڈز نئے صنعت کاروں کو مینوفیکچرنگ کے شعبے میں آنے سے روکتی تھیں اور ان کی صنعت کاری پر مکمل اجارہ داری تھی۔ دیہات میں زندگی اس سے بھی زیادہ خراب تھی۔ تمام زمین جاگیرداریوں میں بٹی ہوئی تھی اور عام کاشتکار جبری کام کرنے پر مجبور تھے۔ کسان جاگیردار، نوبیلٹی اور چرچ کو ٹیکس ادا کرتے تھے۔ ان حالات میں انقلاب فرانس ایک حیرت انگیز واقعہ تھا۔ 4 اگست 1789 کو قومی اسمبلی نے نیا آئین منظور کیا۔جس کے پہلے آرٹیکل کے مطابق جاگیردارانہ نظام ختم کردیا گیا۔ ملک کے ہر طبقے کو تمام ٹیکس ادا کرنے کا پابند کردیا گیا۔ نویں آرٹیکل کے مطابق مراعات ختم کردی گئیں ۔ بادشاہ، نوبیلٹی اور چرچ سب کو حکم دیا گیا کہ گزشتہ چھ ماہ کے محصولات ادا کریں۔ سب سے بڑا انقلاب یہ تھا کہ گیارھویں آرٹیکل کے مطابق تمام شہریوں کے ہر عہدے پر تعیناتی کا مساوی حق تسلیم کرلیا گیا۔چرچ کا ٹیکس لگانے کا اختیار ختم کردیا گیا۔تمام پادری چرچ کے بجائے ریاست کے ملازم ہوگئے۔گلڈز اور تمام ایسے ادارے توڑ دئے گئے جنہوں نے اجارہ داریاں قائم کی ہوئی تھیں۔ اس اعلان کے ساتھ ہی پورے ملک میں خانہ جنگی شروع ہوگئی جو کئی عشرے جاری رہی۔ بادشاہ، معززین اور چرچ اپنے اختیار کو چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ چنانچہ انقلاب کے حامی اور مخالفین ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے۔
انقلاب فرانس کو بڑا دھچکہ اس وقت لگا جب 1792 میں فرانس اور یورپی ملکوں کے اتحاد جس کا قائد آسٹریا تھا جنگ شروع ہوئی۔ جنگ کے باوجود فرانس میں انقلاب کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان خانہ جنگی بند نہیں ہوئی۔ جولائی 1794 میں خونریزی کا سلسلہ لیڈروں کے قتل پر بند ہوا۔ 1795 سے 1799 کے دوران تین افراد پر مشتمل ایک کونسل حکمراں رہی ۔ اس کونسل کے ممبروں میں نپولین بونا پارٹ، ڈیوکوس اور سیئس شامل تھے۔یورپ میں جنگوں کے دوران نپولین بونا پارٹ غیر معمولی شہرت حاصل کرچکا تھا اور اس نے آسٹریا سمیت کئی یورپی ملکوں کی افواج کو شکست دی تھی۔نپولین کا زوال 1815 میں ہوا۔ اس کے بعد فرانس میں ایک مرتبہ پھر بادشاہت بحال ہوگئی۔لوئی یاز ہشتم بادشاہ بن گیا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ انقلاب فرانس کے اثرات ختم ہوگئے تھے۔(جاری ہے)
دی بلیک ایکٹ(کالا قانون):
ونڈسر محل لندن کے مغرب میں واقع ہے۔جو ہمیشہ سے شاہی خاندان کی پسندیدہ رہائش گاہوں میں شامل رہا ہے۔اٹھارویں صدی کے اوائل میں اس محل کے اردگرد ایک گھنا جنگل تھا جس میں بہت بڑی تعداد میں جنگلی ہرن پائے جاتے تھے۔ اب ان ہرنوں کی نسل کم از کم یہاں ختم ہوچکی ہے۔ اس زمانے میں جنگلوں اور جاگیروں پر لٹیروں کا ایک گروپ حملے کرتا تھا جو اس بنا پر بلیکس کہلاتے تھے کہ وہ اپنے چہروں پر سیاہی پھیر لیتے تھے تاکہ ان کو شناخت نہ کیا جاسکے۔ وہ ہمیشہ رات کو شکار پر نکلتے اور مختلف جاگیرداروں اور نوابوں کی جاگیروں پر حملے کرتے۔انہوں نے ونڈسر محل کے اطراف میں اس قدر غیر قانونی شکار کیا کہ 1659 تک ہرنوں کی نسل مکمل طور پر ختم ہوگئی۔ 1660 میں چارلس دوم تخت نشین ہواتو اس نے باہر سے بڑی تعداد میں ہرن منگوائے اور ان جنگلوں میں چھوڑ دئے تاکہ ان کی نسل بڑھ سکے۔لیکن اس وقت بھی کالے چہرے والوں کی لوٹ مار اور غیر قانونی شکار جاری تھا۔ 1670 میں وھگ پارٹی کی بنیاد ڈالی گئی جو تاجروں اور بزنس کلاس پر مشتمل تھی۔ وھگ پارٹی نے عظیم الشان انقلاب یا گلورئس انقلاب برپا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور اس کے ممبران 1714 سے1760 تک انگلستان کی پارلیمنٹ پر چھائے رہے۔اس سے قبل وہ عام لوگوں کی فلاح اور حقوق کی جدوجہد کرتے رہے لیکن جب وہ برسر اقتدار آئے تو انہوں نے وہی کچھ کیا جو شاہ پرست کیا کرتے تھے۔ ان کے مقابلے کے لئے ٹوری پارٹی بنی۔ کالے چہرے دراصل شاہ پرستوں اور حکمراں طبقے کی زیادتیوں کا عوام کی جانب سے جواب تھے۔
اسپین کے تخت پر قبضے کی جنگ کا ایک کردار جنرل ولیم کیڈوگن کو 1716 میں بیرن کے خطاب سے نوازا گیا۔1718 میں اسے ارل بنادیا گیا۔وہ ریجنسی کونسل کا ایک بااثر ممبر تھا۔بعد میں اس نے قائمقام کمانڈر انچیف کا درجہ بھی حاصل کرلیا۔ اس نے ونڈسر محل کے 22 میل مغرب میں ایک ہزار ایکڑ زمین خریدی۔ اس نے 240 ایکڑ پر ہرن پارک بنایا۔ یہ جائیداد عام لوگوں کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرکے بنائی گئی تھی۔لوگوں سے ناصرف ان کے گھر چھین لئے گئے بلکہ ان سے اپنے مال مویشی چرانے کا حق بھی چھین لیا گیا۔یکم جنوری 1722 کو اس پارک پر مسلح کالے چہروں نے حملہ کیا۔اسی زمانے میں بعض دیگر معززین اور نوابوں کی جاگیروں پر بھی حملے ہوئے۔ اس کے نتیجہ میں مئی 1723 میں بلیک ایکٹ منظور کیا گیا جس کے تحت ناصرف چہرہ کالا کرنا خلاف قانون قرار دے دیا گیا بلکہ کالے چہرے والے لٹیروں کے لئے پھانسی کی سزا مقرر ہوئی۔ بہت سے لوگوں پر مقدمے چلے اور پھانسی کی سزائیں ہوئیں۔ یہ گلوریس انقلاب تھا جس کے دوران سخت قوانین بنے اور کسی حد تک قانون کی حکمرانی بھی قائم ہوئی۔ قانون کی اس حد تک حکمرانی قائم ہوگئی کہ صرف جاگیرداروں اور نوابوں ہی کو عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا تھا غریب لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ انصاف کی مساوی فراہمی کے مواقع اس بنا پر حاصل ہوئے کہ انگلستان میں محتوی یا مشاورتی اقتصادی اور سیاسی ادارے قائم ہوگئے تھے اور بادشاہت کاجابرانہ نظام کمزور ہوچکا تھا۔بلیک ایکٹ پر عمل درآمد کے خلاف اس طبقے کی جانب سے مسلسل مزاحمت جاری تھی جن سے مطلق العنان اختیارات چھن گئے تھے۔ ان میں بادشاہ، امرا اور نوابین شامل تھے۔ ابھی لوگوں کی سیاسی اور جمہوری تربیت نہیں ہوئی تھی اور بعض اوقات جابرانہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والے عناصر خود بھی زیادہ اختیارات حاصل کرکے اپنا جابرانہ نظام قائم کردیتے تھے اور دوسرے جمہوریت پسندوں کو انہیں سیدھا راستہ دکھانا پڑتا تھا۔تاہم پورا انگلستانی معاشرہ اس جدوجہد میں شریک تھا۔اگر کوئی پٹری سے اترنے کی کوشش کرتا تو دوسرے اس کوواپس پٹری پر لانے کی کوشش کرتے تھے۔یہ ایک اجتماعی عمل تھا جس میں تمام معاشرتی طبقات شریک تھے۔ ان نظریات کو انگلستان میں پلورزم یا اجتماعیت کا نظریہ بھی کہا گیا۔اجتماعیت کے اس نظریہ کے تحت زیادہ کھلا سیاسی نظام قائم ہوا، آزاد میڈیا کو ترقی کرنے کے مواقع ملے۔محتوی یا مشاورتی اداروں کو اپنی بقا کے لئے لاحق خطرات سے آگہی حاصل ہوئی۔ 1688 میں انگلستان میں پریس پر سے سینسر شپ ہٹالی گئی۔ تاہم امریکہ اور برطانیہ میں محتوی اقتصادی اور سیاسی اداروں کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا تھا۔1745 میں ینگ پریٹیڈرز کا ایک مسلح گروہ فوج کے ساتھ ڈربی تک پہنچ گیا جو لندن سے زیادہ دور نہیں تھا اور ایک مرتبہ پھر سیاسی اداروں(پارلیمان اور عدلیہ وغیرہ) پر قبضہ کرکے مطلق العنان بادشاہت بحال کرنے کی کوشش کی۔لیکن جمہوریت پسندوں نے اپنے اداروں کا ڈٹ کر دفاع کیا اور اس فوج کو شکست دے دی۔
انگلستان میں اگرچہ جمہوری معاشرہ قدم بقدم آگے بڑھ رہا تھا لیکن ان کی پیش قدمی سست تھی۔زیادہ تر بالغوں اور خاص کر خواتین کو ووٹ کا حق نہیں تھا۔جبکہ اشرافیہ کی گرفت اقتدار پر مضبوط تھی۔ عوام کا مسلسل مطالبہ تھا کہ انہیں ووٹ کا حق دیا جائے۔1811-16 میں لڈائیٹ ہنگامے ہوئے جن میں کارکنوں نے حصہ لیا کیونکہ وہ نئی ٹیکنالوجی کے خلاف تھے اور انہیں خدشہ تھا کہ ان کی تنخواہیں کم ہوجائیں گی۔1816 کے اسپا فیلڈز، لندن اور1819 میں پیٹرلو مانچسٹر کے ہنگاموں میں کھل کر جمہوری حقوق اور ووٹ کے حق کا مطالبہ کیا گیا۔1830 میں زرعی کارکنوں نے بھی نئی ٹیکنالوجی کے خلاف مظاہرے کئے کیونکہ مشینیں دس دس کارکنوں کا کام ایک ساتھ کرنے لگی تھیں اور کارکن بے روزگار ہورہے تھے۔ادھر پیرس میں 1830 میں انقلاب جولائی رونما ہوا ۔جبکہ انگلستان میں1831 کے انتخابات سیاسی اصلاحات کے مطالبے کی بنیاد پر لڑے گئے۔وھگ پارٹی نے کامیابی حاصل کی اور ارل گرے وزیر اعظم بن گیا۔اس نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ہر شخص کو ووٹ کا حق دینے سے انکار کردیا۔1838 میں نئی تحریک چارٹسٹ کے نام سے شروع ہوئی اور ہر شہری کے لئے ووٹ کے حق کا مطالبہ کیاگیا۔لیکن بمشکل 16 فیصد آبادی کو ووٹ کا حق مل سکا۔1838 میں پیپلز چارٹر پیش کیا گیا جس میں اصولی طور پر 21 سال اور زیادہ عمر کے ہر شخص کے لئے ووٹ کے حق کا مطالبہ کیا گیا۔چارٹسٹ تحریک نے ملک بھر میں بڑے مظاہرے کئے۔لیکن بات نہیں بنی۔ 1864 میں نیشنل ریفارم یونین اور 1865 میں ریفارم لیگ بنی۔ سب کا مطالبہ ہر شہری کے لئے ووٹ کا حق تھا۔1866 میں ہائیڈ پارک میں بڑے ہنگامے ہوئے۔اس دباؤ کے نتیجہ میں 1867 میں دوسرا ریفارم ایکٹ آیا جس میں ووٹروں8 کی تعداد دگنی ہوگئی۔خفیہ رائے دہندگی کا طریقہ رائج ہوا۔ کارکن طبقات کو شہری حلقوں میں اکثریت حاصل ہوگئی۔1884 میں تیسرے ایکٹ میں 60 فیصد مردوں کو ووٹ کا حق مل گیا۔1918 کے پیپلز ایکٹ میں21 سال سے زیادہ عمر کے سو فیصد مردوں اور 30 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کو ووٹ کا حق مل گیا جو خود ٹیکس دیتی ہوں یا ٹیکس دہندہ سے ان کی شادی ہوئی ہو۔1928 میں تمام خواتین کو مردوں کے مساوی ووٹ دینے کے حقوق حاصل ہوگئے۔
تعلیم کا نظام شروع میں محدود تھا۔صرف اشرافیہ تعلیم حاصل کرتے تھے یا پھر کلیسا تعلیمی ادارے قائم کرتا تھاجہاں مذہبی تعلیم دی جاتی تھی۔غریبوں کو پڑھنے کے لئے فیس دینی پڑتی تھی۔1870 کے قانون کے تحت تمام شہریوں کو تعلیم کی سہولت دینا ریاست کی ذمہ داری قرار پایا۔1891 میں تعلیم مفت کردی گئی۔1893 میں اسکول چھوڑنے کی عمر 11 سال مقرر کی گئی جو 1899 میں بڑھا کر 12 سال کردی گئی۔1870 میں دس سال عمر کے صرف 40 فیصد بچے اسکولوں میں زیر تعلیم تھے لیکن 1900 میں ان کا تناسب بڑھ کر 100 فیصد ہوگیا۔
امریکی محتوی نظام:
امریکہ میں محتوی مشاورتی نظام کی جڑیں استعماری دور میں ورجینیا، میری لینڈ اور کیرولینا میں پڑیں۔آئین بننے کے بعد یہ ادارے مستحکم ہوگئے۔19 ویں صدی کے وسط میں تمام سفید فام مردوں کو ووٹ کا حق مل چکا تھا لیکن عورتوں اور کالوں کو اس کا حق نہیں تھا۔1862 میں ہوم اسٹیڈ ایکٹ منظور ہوا جس کے تحت زمین صرف آباد کاروں کو الاٹ کی جاتی تھی لیکن سیاسی اشرافیہ کو تحفے میں نہیں دی جاتی تھی۔ لیکن برطانیہ کی طرح امریکہ میں بھی مشاورتی اداروں کو چیلنجوں کا سامنا رہا۔جب ریلویز، صنعت اور تجارت میں توسیع ہوئی تو کچھ لوگوں نے اس سے بہت فائدہ اٹھایا۔ مثال کے طور پر روبر ز بیرنوں نے اپنی اجارہ داریاں قائم کرلیں اور دوسروں کو اس کاروبار میں داخلے سے روکنے لگے۔ان میں سب سے زیادہ بدنام کارنیلیئس ونڈربلٹ تھا جو کہا کرتا تھا کہ میں قانون کی پروا کیوں کروں میں خود اقتدار میں ہوں۔ ایسا ہی ایک اور شخص جان ڈی راکفیلر تھا جس نے 1870 میں اسٹینڈرڈ آئل کمپنی قائم کی۔ اس نے کلیو لینڈ میں تیزی سے دوسری کمپنیوں کو تیل کی مصنوعات اور ٹرانسپورٹیشن کے میدان سے خارج کردیا اور اپنی اجارہ داری قائم کرلی۔ وہ یہودی تھا۔ 1882 میں اس نے بہت بڑی اجارہ داری قائم کرلی۔ 1890 میں اس کی اسٹینڈرڈ آئل کمپنی امریکہ میں تیل کے 88 فیصد کاروبار پر قابض تھی۔ 1916 میں راکفیلر دنیا کا سب سے پہلا ارب پتی بن چکا تھا۔اس دور کے ایک کارٹونسٹ نے اس کی اجارہ داری کی عکاسی ایک کارٹون میں کی جس میں اس کی اسٹینڈرڈ آئل کمپنی کو دکھایا گیا تھا جس نے ہشت پا (آکٹوپس) کی طرح پورے امریکہ کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا جس میں کیپیٹل ہل بھی شامل تھا۔ دیگر اجارہ داروں میں بدنام جان پیئر پونٹ مورگن شامل تھا جو جدید بنکاری نظام کا بانی تھا۔مورگن نے اینڈریو کارنیگی کے ساتھ مل کر 1901 میں یو ایس اسٹیل کمپنی قائم کی۔یہ دنیا کی پہلی اور سب سے بڑی کارپوریشن تھی اور اس کا آغاز ایک ارب ڈالر کے سرمائے سے ہوا۔ 1890 میں امریکہ میں معیشت کے ہر شعبے میں کئی بڑے بڑے اوقاف قائم ہوئے جن کا 70 فیصد سے زیادہ مارکیٹ پر کنٹرول تھا۔ ان میں ڈو پونٹ، ایسٹ مین کوڈک، اور انٹرنیشنل ہارویسٹر شامل تھے۔ان اجارہ داریوں کے خلاف امریکہ میں کئی تحریکیں شروع ہوئیں ۔ پاپولسٹ تحریک1860 کے عشرے میں اٹھی۔1867 میں گرینگرز کی تحریک شروع ہوئی جس کا مقصد زراعت اور گلہ بانی کے شعبے میں ناانصافیوں اور اجارہ داریوں کا خاتمہ کرنا تھا۔ 1873-74 میں گرینگرز کو 11 ریاستوں کی قانون ساز اداروں پر کنٹرول ہوچکا تھا۔1890 میں اجارہ داراوقاف کے خلاف شرمین انٹی ٹرسٹ ریگولیشن منظور ہوا۔ اجارہ داریوں کے خلاف طاقتور لابی زراعتی کمیونٹی نے اہم کردار ادا کیا۔ریلویز کے شعبے میں اجارہ داریاں توڑنے کے لئے کاشتکاروں کی تنظیموں نے تحریک شروع کی تھی۔ پاپولسٹ تحریک نے اپنا تمام وزن ڈیموکریٹس کے حق میں استعمال کیا لیکن یہ تحریک جلد ختم ہوگئی۔ اس کی جگہ پروگریسو تحریک شروع ہوئی جس کا سرخیل ٹیڈی روزولٹ تھا جو صدر مک کنلی کا نائب صدر تھا۔ صدر مک کنلی کے قتل کے بعد وہ صدر بن گیا۔ اس کے سیاسی کیرئر کا آغاز نیویارک کے گورنر کے طور پر ہوا تھا۔گورنر کی حیثیت سے اس نے امریکی سیاست سے کرپشن کو صاف کردینے کا بیڑا اٹھایا تھا۔ وہ اوقاف اور ٹرسٹوں کو شیطانی ادارے کہا کرتا تھا جو امریکہ کی مارکیٹ معیشت کے سب سے بڑے دشمن تھے ۔روزویلٹ نے کانگریس کے سامنے تجویز رکھی کہ وہ ایک وفاقی ایجنسی قائم کرے جو کارپوریشنوں کے مالی معاملات کی تحقیقات کرے۔روزولٹ نے کارپوریشنوں کے خلاف شرمین ایکٹ بنایا اور ان بڑے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی۔روزویلٹ کا جانشین ولیم ٹفٹ تھا جس نے اس سلسلے کو جاری رکھا۔وڈرو ولسن 1912 میں صدر بنا۔ اس نے اپنی کتاب دی نیو فریڈم میں لکھا تھا کہ اجارہ داریاں برقرار رہیں تو وہ حکومت کے تمام امور پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں گی۔ اس سے پہلے کہ وہ امریکی حکومت پر قابض ہوجائیں ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ ولسن نے 1914 میں کلیٹن اینٹی ٹرسٹ ایکٹ بنایا اور اس پر عمل کرانے کے لئے وفاقی ٹریڈ کمیشن کی تشکیل کی۔اس سے قبل 1913 میں وفاقی ریزرو بورڈ بنایا گیا۔ ان سب کا مقصد بیرنوں اور کارپوریشنوں کی اجارہ داریوں اور اثر و رسوخ کا خاتمہ کرنا تھا۔
بیسویں صدی کے ابتدائی نصف میں امریکی میڈیا کو آزادی کی جنگ لڑنی پڑی۔ 1906 میں روزویلٹ نے مک ریکرز کی اصطلاح متعارف کرائی جس کے لغوی معنی تو آوارہ اور غلیظ لوگوں کے ہیں لیکن مک ریکر ایک ادبی کردار تھا جو ایک مصنف بنیان نے اپنی کتاب پلگرمس پروگریس میں پیش کیا تھا۔ اس اصطلاح کے ذریعہ صحافت کی اس قسم کو متعارف کرایا گیا جس نے بظاہر نہایت بد تہذیبی سے روبر بیرنز کی کردار کشی کی اور انہیں معاشرے کے سامنے عریاں کردیا۔ان اخبارات نے مقامی اور بیرونی کرپشن کی نشاندہی بھی کی۔شاید سب سے زیادہ مشہور مک ریکر ایڈا تربیل تھا جس نے 1904 میں اسٹینڈر آئل کمپنی کی تاریخ لکھی۔ اس کتاب نے راکفیلر اور اس کے کاروباری مفادات، اس کی شر انگیزیوں اور لوٹ مار کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسراا ہم مک ریکرزایک وکیل اور مصنف لوئی برانڈیس تھا جسے صدر ولسن نے سپریم کورٹ کا جج نامزد کیا تھا۔ برانڈیس پوجو کمیٹی کا ایک بااثر ممبر بھی تھا۔ اس نے اپنی کتاب میں مالیاتی اسکینڈلوں سے پردہ اٹھایا اور ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا بنکار دوسروں کی امانتیں کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ولیم رینڈولف ہیئرسٹ نے بھی اپنے اخبار کے ذریعہ اہم کردار ادا کیا۔ڈیوڈ گراہم فلپس نے اس کے میگزین کاسموپولیٹن میں مضامین کا ایک سلسلہ سینیٹ کے خلاف بغاوت کے عنوان سے لکھا۔ اس کا مطالبہ تھا کہ امریکی سینیٹ کے ممبروں کا انتخاب ووٹروں کے براہ راست ووٹوں سے کیا جائے۔ اس کے نتیجہ میں امریکی آئین میں 1913 میں سترھویں ترمیم ہوئی۔مک کریکرز نے سرمایہ داروں، تیل کمپنیوں اور مالیاتی لابیوں کے خلاف کارروائی کے لئے سیاستدانوں کو آمادہ کیا۔ روبر بیرنز مک کریکرز ز سے شدید نفرت کرتے تھے اور اسی وجہ سے انہیں میلے اور غلیظ جیسے خطابات سے نوازتے تھے لیکن مک ریکرز نے جمہوری اداروں میں قانون سازی کے ذریعہ سینیٹ اور کانگریس کو بنکاروں اور روبر بیرنز کے کنٹرول سے آزاد کرایا۔ محتوی اور مشاورتی اداروں نے ہمیشہ مک ریکرز کی اس جدوجہد کو سراہا اور پریس کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔
فرینکلن ڈی روزویلٹ ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار اور ٹیڈی روزویلٹ کا کزن تھا۔ وہ 1932 میں امریکہ کا صدر منتخب ہوا۔یہ سخت کساد بازاری کا زمانہ تھا۔ اس وقت امریکی کارکنوں کی ایک چوتھائی تعداد بے روزگار تھی۔صنعتی پیداوار آدھی رہ گئی تھی۔روزویلٹ نے جو اقدامات کئے ان کو نیو ڈیل کا نام دیا گیا۔نیو ڈیل کی بنیاد پر نیشنل انڈسٹریل ریکوری ایکٹ منظور ہوا۔صدر روزویلٹ اور ان کی ٹیم صنعت کے میدان میں اجارہ داری کے خاتمے اور مسابقت کے فروغ کی حامی تھی۔ اس قانون کی منظوری کا مقصدصنعت کاروں سے ٹیکسوں اور دیگرواجبات کی وصولی تھا۔ روزویلٹ نے کارکنوں کو زیادہ حقوق دینے کے لئے جدوجہد کی اور مزوور یونیئنوں کے قیام کے لئے قانون سازی کی۔ نیشنل انڈسٹریل ریکوری ایکٹ کو عدالتوں میں چیلنج کردیا گیا۔ 27 مئی 1935 کو سپریم کورٹ اپنے ایک متفقہ فیصلے میں اس قانون ایک حصے کو مسترد کردیا۔ اپنے فیصلے میں عدالت عظمی نے کہا کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی تدابیر کرنی پڑتی ہیں لیکن غیر معمولی حالات سے آئینی اختیارات میں نہ تو توسیع ہوتی ہے اور نہ نئے اختیارات وضع ہوتے ہیں۔ اس سے قبل روزویلٹ نے سوشل سیکیورٹی ایکٹ کی منظوری دی تھی جس کے تحت امریکہ کو فلاحی ریاست قرار دیا گیا تھا۔ریٹائرمنٹ پنشن، بے روزگاری کے فوائد، خاندانوں کی امداد، عوام کی صحت کی دیکھ بھال اور معذوری کی امداد وغیرہ فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔صدر نے نیشنل لیبر ریلیشنز ایکٹ پر بھی دستخط کئے اور ان قانون کو تمام نجی اداروں تک توسیع دے دی جس کی وجہ سے تمام کارخانے، فرمیں اور تجارتی کاروبار اپنے کارکنوں کو تمام فوائد دینے کے پابند ہوگئے۔ روزویلٹ کے ان اقدامات کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔ اس دوران 1936 میں روزویلٹ پہلے سے زیادہ اکثریت کے ساتھ دوبارہ صدر منتخب ہوگیا۔ اسے 61 فیصد ووٹ ملے۔لیکن سپریم کورٹ اکثریت کی بنیاد پر اس کے ہر پلان کی حمایت کرنے کو تیار نہیں تھی۔ چنانچہ روزویلٹ نے سپریم کورٹ کو کنٹرول کرنے کی کوششیں شروع کردیں اوراعلان کیا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کو 70 سال کی عمر میں ریٹائر کردیا جائے گا اور اس سلسلے میں قانون سازی کی جائے گی۔ اس نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ سپریم کورٹ کو آئین میں ترمیم یا تبدیلی کا اختیار نہیں ہے ۔قانون سازی صرف قانون ساز اداروں کا کام ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلا کہ صدر کے اقدامات کو صرف 40 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے۔لوئی برانڈیس اگرچہ صدر روزویلٹ کے فلاحی پروگرام کا حامی تھا لیکن سپریم کورٹ کے اختیارات میں کمی برداشت کرنے کو تیار نہیں تھا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل تھی لیکن ایوان نمائندگان نے صدر کے بل کی منظوری دینے سے انکار کردیا۔روزویلٹ نے اس کے بعد سینیٹ سے یہ بل منظور کرانے کی کوشش کی۔ یہ بل سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کو بھیجا گیا جس نے طویل بحث کے بعد اسے منفی رپورٹ کے ساتھ سینیٹ کو بھیج دیا۔ سینیٹ نے اسے 20 کے مقابلے 70 ووٹوں کی اکثریت سے دوبارہ بل ڈرافٹنگ کمیٹی بھیج دیا۔ اس طرح روزویلٹ کے اختیارات پر پابندیاں لگی رہیں لیکن بہت سے امور میں سپریم کورٹ نے اس کی بات مان لی جن میں سوشل سیکیورٹی اور نیشنل لیبر ریلیشنز ایکٹ شامل تھے اور انہیں آئینی قرار دے دیا گیا۔اس طرح سپریم کورٹ، قانون ساز اداروں اور سیاسی جماعتوں نے مشارت کے ذریعہ احتساب اور توازن کا نظام قائم کیا اور کسی ایک ادارے کو بھی اپنی حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی۔
برائی کا چکر:

مغربی افریقہ کے ملک سیئر الیون پر برطانیہ نے 1896 میں قبضہ کیا اور اپنی کالونی قرار دے دیا۔اس کا دارالحکومت فری ٹاؤن تھا۔ یہ شہر ان افریقیوں نے قائم کیا تھا جو اٹھارویں صدی میں غلامی سے آزاد ہونے کے بعد واپس وطن آئے تھے۔ انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں برطانیہ نے اپنے راج کو سیئر الیون کے اندرونی علاقوں تک توسیع دینا شروع کی۔ اس کے لئے برطانیہ نے مقامی سردارو ں سے مختلف معاہدے کئے۔ برطانیہ نے 31 اگست کو سیئر الیون کو پرٹیکٹوریٹ قرار دیا اور مختلف قبائیلی سرداروں کو پیراماؤنٹ چیف کا خطاب دیا۔ضلع کانو میں انگریزوں کا واسطہ ایک طاقتور قبائیلی سردار سولوکو سے پڑا۔ اس علاقے میں ہیرے جواہرات کی کانیں تھیں لیکن انگریز تمام جواہرات خام حالت میں بغیر کوئی معاوضہ ادا کئے برطانیہ کی جانب برآمد کردیتے تھے۔ برطانیہ نے اسی پر بس نہیں کیا اور سیئر الیون کے قومی وسائل کی لوٹ مار کےعلاوہ مقامی آبادی اور غریب قبائیلیوں پر ٹیکس بھی عائد کرنا شروع کردئے۔ جنوری 1898 میں ہر جھونپڑی پر پانچ شلنگ کا ٹیکس لگادیا گیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مقامی سرداروں نے بغاوت کردی۔ اس بغاوت کا آغاز شمالی علاقے سے ہوا۔ لیکن اس کا زیادہ زور جنوبی علاقے مینڈ لینڈ میں تھا۔ برطانوی فوج نے سختی سے بغاوت کو کچل دیا۔ فری ٹاؤن سے شمالی علاقے کی جانبایک ریلوے لائن بچھائی جارہی تھی۔جب بغاوت ہوئی تو ریلوے لائن کا راستہ تبدیل کردیا گیا۔ بغاوت کا اصل مرکز جنوبی علاقہ مینڈ لینڈ تھا اور برطانیہ بغاوت کے مرکز تک ریلوے لائن جلد از جلد پہنچا نا چاہتا تھا تاکہ قبائیلیوں کو کنٹرول کرسکے۔ چنانچہ ریلوے لائن شمالی علاقے کے بجائے جنوب میں بو گاؤں تک تعمیر کی گئی جو مینڈ لینڈ کے وسط میں واقع تھا۔
1961 میں برطانیہ نے سیئرالیون کو آزاد کردیا۔ 1967 میں سیئر الیون کی زیادہ تر برآمدات کافی، کوکوا اور ہیرے پر مشتمل تھیں جو جنوبی علاقے مینڈ لینڈ میں پیدا ہوتی تھیں۔ برطانیہ کی تعمیر کی گئی ریلوے لائن ان برآمدات کی بیرونی دنیا کو ترسیل کا ذریعہ تھی۔ انتخابات میں جن دو پارٹیوں میں مقابلہ ہوا ان کا تعلق دو الگ الگ علاقوں شمال اور جنوب سے تھا۔ انتخابات میں شمال سے تعلق رکھنے والی جماعت آل پیپلز کانگریس پارٹی کا میاب ہوئی۔ اسٹیونز اس کا لیڈر تھا۔بر سر اقتدار میں آنے کے بعد اس نے مخالف پارٹی کو کمزور کرنے کے لئے جس کا تعلق مینڈ لین تھا جنوبی علاقے میں انگریزوں کی بچھائی ہوئی سیکڑوں میل لمبی ریلوے لائن اکھڑوادی۔ ایسا کرتے ہوئے اس نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اس کا سارا نقصان عوام کو ہوگا۔ اس سے ملکی معیشت کو غیر معمولی نقصان پہنچے گا اور ملک اقتصادی طور پر دو سو سال پیچھے چلا جائے گا۔ مشاورتی اور محتوی اقتصادی اور سیاسی نظام اور جابرانہ نظام کے درمیان فرق یہاں واضح ہوجاتا ہے۔ اسٹیونز نے کچھ کیا وہ بالکل ایسی ہی بات تھی جیسے زار روس کے زمانے میں زار نکولس اول نے کہا تھا کہ میں ریلوے لائن سے اس لئے خوف زدہ ہوں کہ ریل کے ذریعہ انقلاب ماسکو تک پہنچ سکتا ہے۔ اسٹیونز کا کہنا تھا کہ ریلوے لائن اس کے سیاسی مخالفین کو مضبوط کرے گی۔ وہ اپنے سیاسی مخالفین سے اس قدر خوف زدہ تھا کہ اپنے ذاتی اقتدار کے لئے ملکی معیشت کی ترقی کو بھی داؤ پر لگادیا۔
گوئٹیمالا:
14 جنوری 1993 کو رامیرو ڈی لیون کارپیؤ نے گوئٹیمالا کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ اس نے رچرڈ ایکن ہیڈکاسٹیلو کو وزیر خزانہ اور رچرڈ کاسٹیلو کو وزیر ترقی بنایا۔ تینوں کے درمیان قدر مشترک یہ تھی کہ ان کے اجداد اسپینی فاتح تھے جو اٹھارویں صدی میں گوئٹیمالا آئے تھے۔ وہ اشرافیہ کے طبقے سے تعلق رکھتے تھے جو آبادی کا صرف ایک فیصد تھے اور اپنی کسی کارروائی کے لئے کسی کو جوابدہ نہیں تھے۔ سیئر الیون اور دوسرے افریقی ملکوں میں بدترین آمرانہ اور جابرانہ نظام سرداروں یا بادشاہوں نے نہیں بلکہ بعض اوقات منتخب لیڈروں نے قائم کیا جس کی ایک مثال سیئرالیون ہے۔ اسٹیونز انتخابات کے ذریعہ برسر اقتدار آیا لیکن صدر بننے کے بعد اس نے آمرانہ نظام قائم کردیا اور 25 سال تک منصفانہ انتخابات نہیں ہونے دئے اور برسر اقتداررہا۔ اس نے اپوزیشن کو سختی سے کچل دیا اور جابرانہ ادارے قائم کئے جن کا مقصد صرف اپنے خاندان اور ساتھیوں کو فائدہ پہنچانا تھا۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

19 − seventeen =