قو میں ناکام کیوں ہوتی ہیں قسط نمبر1

قو میں ناکام کیوں ہوتی ہیں

قسط نمبر1

پیش لفظ

یہ کتاب دنیا میں زندگی گزارنے والے انسانوں کے درمیان آمدنی اور معیار زندگی کے وسیع فرق پر بحث کرنے کے لئے لکھی گئی ہے جو امریکہ برطانیہ اور جرمنی جیسے امیر ملکوں اور افریقہ، وسطی امریکہ اور جنوبی ایشیا کے غریب ملکوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ اس تحریر کے قلم بند کئے جانے کے وقت شمالی افریقہ اور مشرق وسطی میں “عرب بہار” کی تحریک جاری تھی جو وہاں کے غریب عوام کی جانب سے اپنے حکمرانوں کی بدعنوانیوں اور ظلم و تشددکے خلاف سخت ناراضگی اور غصے کا اظہارتھا۔ اس تحریک کا آغاز ایک معمولی ٹھیلے والے محمد بو عزیزی کی جانب سے تیونس کے ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خلاف خود سوزی سے ہوا جو جعلسازی اور دھوکہ بازی سے 1987 سے حکومت کررہا تھا۔ اس کے نتیجہ میں یہ تحریک تیونس سے نکل کر دوسرے عرب ملکوں میں پھیلتی چلی گئی۔ پہلے بن علی اوراس کے بعد مصر کے حسنی مبارک کی آمریت کا زوال ہوا۔ان الفاظ کے لکھے جانے تک بحرین، لیبیا، شام اور یمن کی قسمت کا فیصلہ نہیں ہوسکا تھا۔(بحرین اور یمن میں فوج نے عوام کے مظاہروں کو سختی سے کچل دیا، شام میں ابھی تک تحریک جاری ہے، لیبیا میں حکومت کا تختہ برطانیہ اور فرانس کی فوجی کارروائی کے نتیجہ میں الٹا گیا اور جو بھی حکومت آئی وہ مغرب کی مرضی کے مطابق چل رہی ہے۔ مغربی ملکوں کو خوف تھا کہ تیل کے ذخائر پر مغرب دشمن اسلامی قوتیں قابض ہوجائیں گی)۔
ان ملکوں میں جو بھی بدامنی پیدا ہوئی اس کا بنیادی سبب غربت تھی۔ایک عام مصری شہری کی آمدنی ایک امریکی شہری کی ا وسط آمدنی کا صرف 12 فیصد ہے۔ مصر امریکہ کے مقابلے میں اتنا غریب کیوں ہے؟ اس کی وجوہ پر غور کیا جائے تو سب سے پہلے مصریوں ہی کی بات سننی چاہیئے جو تحریر اسکوائر پر جمع ہوئے اور حسنی مبارک کی فوجی آمریت کے خلاف جدوجہد شروع کی۔ ان مصری شہریوں کا کہنا تھا کہ ان کی غربت کا بنیاد سبب مصر میں اشرافیہ اور فوج کی حکومت ہے جو ملک کے تمام وسائل پر قابض ہے ۔ اشرافیہ فوجی آمریت کے ذریعہ اقتدار میں ہے۔ اس حکومت کی قوت کا سرچشمہ عوام نہیں بلکہ فوجی جنرل اور اشرافیہ ہیں۔ سیاسی قوت پر اشرافیہ اور فوج کا مکمل کنٹرول ہے۔ جب تک یہ سیاسی نظام تبدیل نہیں ہوگا کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ حسنی مبارک نے اس غریب ملک میں جس طرح لوٹ مار کی اس کی مثال یہ ہے کہ اس کی ذاتی دولت کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ کچھ یہی صورت حال دوسرے عرب ملکوں میں بھی ہے۔ برطانیہ اور امریکہ کے عوام اس لئے امیر ہیں کہ ان کے عوام نے اپنے ملکوں میں اشرافیہ کے اقتدار کا خاتمہ کردیا اور وہ تمام سیاسی حقوق حاصل کرنے اور ان پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہے جو انہیں اس انقلاب کے نتیجہ میں حاصل ہوئے۔( مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ ،برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دوسرے ملکوں کے جمہوریت پسند خود اپنے ملک میں جمہوری نظام کی حفاظت کرتے ہیں لیکن تیسری دنیا کے ملکوں میں جمہوریت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ چنانچہ دنیا بھر میں بدعنوان فوجی آمروں اور بادشاہوں کے سرپرست یہی جمہوریت پسند مغربی ملک ہیں۔ اس کی پرانی مثال ایران میں محمد مصدق کی جمہوری منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر شہنشاہ ایران کی بحالی اور تازہ ترین مثال مصر میں اخوان کی جمہوری منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی آمریت کی بحالی ہے۔ مصر کی فوجی حکومت کو امریکہ، اسرائیل، برطانیہ وغیرہ کی حمایت حاصل ہے۔ حد یہ ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کو مصر میں جمہوریت کی بحالی پر سخت اعتراض تھا اور دونوں نے فوجی حکومت کی بحالی کا خیرمقدم کیا)۔
برطانیہ مصر سے زیادہ امیر اس لئے ہے کہ برطانیہ(یا انگلستان) میں 1688 میں ایک انقلاب آیا جس نے قومی سیاسیات اور اقتصادیات کو بدل دیا اور عوام نے تمام سیاسی اور جمہوری حقوق حاصل کرلئے جو اس سے پہلے اشرافیہ نے غصب کررکھے تھے۔مصر میں خلافت عثمانیہ کی حکومت تھی۔ 1798 میں فرانس کے شاہ نپولین نے مصر پر فوج کشی کی اور قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد کچھ عرصے عثمانی گورنر رہے لیکن پھر برطانیہ نے قبضہ کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں بدترین سامراجیت اور استعمار کا دور شروع ہوا۔ 1952 میں مصر پر شاہ ادریس کی حکمرانی تھی ۔ مصری فوج نے حکومت کا تختہ الٹ کر بادشاہت کا خاتمہ کردیا ۔یہ انقلاب اگرچہ عوام کے حقوق کی بحالی کے نام پر لایا گیا لیکن درحقیقت اشرافیہ کے اقتدار میں اب فوجی جنرل بھی شامل ہوگئے اور عوام وہیں کے وہیں رہے۔ جمہوریت بحال نہ ہوسکی۔تین فوجی آمروں ناصر ، انور سادات اور حسنی مبارک نے ایک کے بعد ایک حکومت کی۔ لیکن کسی سے عوام کو کچھ نہیں ملا۔ اس کتاب میں ان اسلوبوں اور نظاموں کا مطالعہ کیا گیا ہے کہ کیوں مصر کے عوام غریب کے غریب رہے اور برطانیہ کے 1688اور فرانس کے 1789 کے انقلابات کی طرح ان کی قسمت کیوں کھل نہ سکی۔ اس سے ہمیں یہ فیصلہ کرنے میں مدد مل سکے گی کہ مصر اور دوسرے ملکوں کے عوام کیوں غریب ہیں اور ان کی قسمت بدلنے کی صورت کیا ہوسکتی ہے؟
باب اول:
ریو گرانڈ کی اقتصادیات:
نوگیلز کا شہر ایک باڑ کے ذریعہ دو حصوں میں تقسیم ہے۔ اگر آپ اس باڑ کے ساتھ کھڑے ہوں تو نوگیلز اریزونا کا حصہ سانٹا کروز کاؤنٹی میں نظر آتا ہے جو امریکہ میں شامل ہے۔شہر کادوسرا حصہ نوگیلز سونورا امریکہ کا حصہ نہیں اور میکسیکو میں شامل ہے۔ نوگیلز اریزونا میں ایک گھرانے کی سالانہ آمدنی 30,000 ڈالر ہے۔ زیادہ تر بچے اسکول جاتے ہیں اور بالغوں کی اکثریت گریجوٹس پر مشتمل ہے۔لوگ مجموعی طور پر صحت مند ہیں اور ان کا صحت کا معیار عالمی سطح کے مطابق ہے۔کیونکہ انہیں صحت کی دیکھ بھال کی بہترین سہولتیں میسر ہیں۔اکثریت کی عمر 65 سال سے زیادہ ہے۔یہاں پانی، بجلی،ٹیلیفون،گنداب نکاسی کا نظام، پبلک ہیلتھ اور پورے امریکہ سے رابطے کے لئے سڑکوں کا بہترین نظام ہے۔امن و امان کی صورت حال بہترین ہے اور امریکہ کے بہت سے علاقوں سے بہتر ہے۔لوگ اپنے روزمرہ کے مشاغل بلا خوف و خطر انجام دیتے ہیں۔ اور انہیں چوری، بلیک میلنگ یا ڈاکہ زنی کا کوئی خوف نہیں۔ انہیں یہ بھی خطرہ نہیں کہ پولیس بلا سبب انہیں پریشان کرے گی اور ان سے بھتے کا مطالبہ کرے گی۔ چنانچہ وہ بے خوف ہوکر اپنی کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ بیرونی سرمایہ کار اپنا سرمایہ ضائع ہونے کے خوف کے بغیر یہاں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ شہریوں کو ووٹ کا حق حاصل ہے اور وہ کسی بھی میئر، ممبر کانگریس یا سینیٹر کو اپنے ووٹ کے ذریعہ تبدیل کرسکتے ہیں جو ان کی امیدوں پر پورا نہ اترے۔وہ صدارتی انتخابات میں بھی ووٹ دیتے ہیں۔
باڑ کے دوسری جانب جنوبی حصے میں چند فٹ دورنوگیلز سونورا میں زندگی بہت مختلف ہے۔ان کی آمدنی نوگیلز ایریزونا کے مقابلے میں ایک تہائی ہے اگرچہ یہ میکسیکو کا نسبتاً امیر خطہ ہے۔ زیادہ تر بالغوں کے پاس ہائی اسکول کی سند نہیں۔بچوں کی بڑی تعداد اسکولوں میں نہیں پڑھتی۔صحت کی خراب سہولتوں اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔اسی وجہ سے اوسط عمر بھی بہت کم ہے۔سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں۔ امن و امان کی صورت حال انتہائی خراب اور جرائم کی شرح بہت بلند ہے۔یہاں کوئی کاروبار شروع کرنا نہایت خطرناک ہے۔ڈاکہ زنی عام ہے اور جرائم کی شرح بلند ہے۔ سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کرنے کے لئے قدم قدم پر اہلکاروں کی مٹھی گرم کرنی پڑتی ہے۔نوگیلز سونورا کے ششہری اپنے سیاستدانوں اور ممبران پارلیمنٹ کی کرپشن سے تنگ ہیں۔عوام کے نمائندوں کو عوام کی کوئی پروا نہیں۔
ایک ہی شہر کے دو حصے اس طرح مختلف اور متضاد کیوں ہیں؟ ان کے جغرافیہ، موسم اور بیماریوں میں بھی کوئی فرق نہیں۔ دونوں جگہ ایک طرح کے جراثیم پائے جاتے ہیں کیونکہ یہ باڑ جراثیم کو نہیں روک سکتی۔ جنوب میں جراثیم کے پھلنے پھولنے کا بھرپور ماحول ہے۔ لیکن شمال میں بیماریوں کے سدباب کے انتظامات ان جراثیم کو پھیلنے نہیں دیتے۔ شہر کے دونوں حصوں کے رہنے والے ایک ہی نسل اور رنگ سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلے یہ پورا خطہ میکسیکو کا حصہ تھا لیکن 1853 میں امریکیوں نے یہ قطعہ زمین خرید لیا اور یہ علاقہ امریکہ کا حصہ بن گیا۔ لیکن دونوں خطوں کے درمیان غربت اور امارت کا یہ فرق کیوں ہے؟ اس کی سادی سی توضیح یہ ہے کہ نوگیلز اریزونا امریکہ میں ہے۔اس کے شہریوں کو تمام امریکی اقتصادی اداروں تک رسائی حاصل ہے۔ ان کے لئے منافع بخش مالیاتی اداروں، پیشوں اورملازمتوں،تعلیم و تربیت کے بہترین اسکولوں اور یونیورسٹیوں تک مفت تعلیم کی سہولت دستیاب ہے۔ وہ آزادی سے اپنے جمہوری نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں اور اگر وہ ان کے لئے ٹھیک کام نہ کریں تو ان کو بدل دیتے ہیں۔ ان کے سیاستداں انہیں تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ذمہ دار ہیں۔ اس کے مقابلے میں ان کے وہ بھائی جو نوگیلز سونورا میں رہتے ہیں اتنے خوش قسمت نہیں۔سوال یہ ہے کہ امریکہ میں قائم ادارے اقتصادی بہتری اور کامیابی کا سبب کیوں ہیں؟ اس سوال کا جواب ان معاشروں کی تشکیل کے عمل میں پوشیدہ ہے جو ابتدائی استعماری دور میں وجود میں آئیں۔اس کے لئے ہمیں اس تاریخ کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔
یہ کوئی اتفاق کی بات نہیں کہ امریکہ میں آئین بن گیا اور اس کا نفاذ بھی ہوگیا جس کے نتیجہ میں جمہوری اصولوں کے تحت سیاستدانوں کے اختیارات کا تعین ہوا جن کی جڑیں معاشرے میں تھیں۔مئی 1787 میں فلاڈلفیا میں جو آئین سازی ہوئی اس کا آغاز 1619 میں جیمز ٹاؤن سے ہوا تھا۔ابتدائی مرحلے میں جو بھی آئین بنا اس نے جدید معیار کی جمہوریت کی تخلیق نہیں کی۔امریکہ کی شمالی ریاستوں نے ووٹ کا حق صرف سفید فاموں کو دیا جبکہ کالوں اور سرخ ہندی )ریڈ انڈیئنز( قبائلیوں کو جو امریکہ کے اصل باشندے تھے ووٹ کے حق سے محروم رکھا گیا۔اسی طرح تمام ریاستوں نے عورتوں اور غلاموں کو ووٹ کے حق سے محروم رکھا۔گویا جب آئین فلاڈلفیا میں لکھا گیا تو غلامی کو آئینی حیثیت حاصل تھی۔ اس وقت ایوان نمائندگان میں نشستوں کی تقسیم ریاستوں کی آبادی کی بنیاد پر تھی۔جنوبی ریاستوں کے کانگریس کے نمائندون نے مطالبہ کیا کہ غلاموں کو بھی آبادی میں شمار کیا جائے جبکہ شمالی ریاستوں نے اس کی مخالفت کی۔ بات چیت کے بعد فیصلہ ہوا کہ ایوان نمائندگان میں ایک غلام کا ووٹ اپنے وزن کے اعتبار سے ایک آزاد ووٹ کا 3/5 تصور کیا جائے گا۔ یہ اختلافات جاری رہے یہاں تک کہ خانہ جنگی کی نوبت آگئی۔لیکن اس خانہ جنگی کے باجود عام آدمی کی اقتصادی حالت بہت اچھی تھی اور امریکی شہری میکسیکو کے شہریوں کے مقابلے کہیں زیادہ خوش حال تھے۔ اگر امریکہ میں 1860-65 میں صرف پانچ سال تک عدم استحکام رہا تو میکسیکو مسلسل 50 سال تک غیر مستحکم رہا۔
عالمی عدم مساوات کا نظریہ:
ہم ایک غیر مساوی دنیا میں رہتے ہیں۔قوموں کے درمیان تفاوت ایسا ہی ہے جیسا نوگیلز کے دو حصوں کے درمیان ہے جیسا ہم نے شروع میں تذکرہ کیا۔ امیر ملکوں کے شہری صحت مند ہوتے ہیں ۔ ان کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں۔ وہ زیادہ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ ان کی رسائی زندگی کی بہترین سہولتوں تک ہوتی ہے اور ان کے پاس ترقی کرنے کے مواقع بہت زیادہ ہوتے ہیں۔اس زندگی کا غریب ملکوں کے لوگ صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ امیر ملکوں میں سڑکیں اور شاہراہیں چمکتی ہوئی اور بین الاقوامی معیار کی ہوتی ہیں اور وہ اس خطرے سے بے پرواہ ہوکر فاسٹ ڈرائیونگ کرتے ہیں کہ سڑک پر اچانک کوئی بڑا گڑھا نہیں آجائے گا۔ان کے گھروں اور دفتروں میں بلکہ بازاروں میں بھی حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے کی صاف ستھری جگہیں ہوتی ہیں۔ ان کے گھروں، دفتروں اور دکانوں میں بجلی کبھی نہیں جاتی۔ ان کے نلوں میں جراثیم سے پاک صاف ستھرا پانی آتا ہے۔ ان کے ملک اور شہروں میں ایسی حکومت اور ایسی انتظامیہ ہوتی ہے جو ان کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتی ہے۔ ان کے نمائندے ٹھیک کام نہیں کرتے تو وہ ان کو بدل دیتے ہیں۔حکومت ان کو تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور امن و امان کی فراہمی کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ان کا جمہوری سیاسی نظام بنیادی سطح سے شروع ہوتا ہے اور جمہوریت کی پاسبانی کا دعوی کرنے والی حکومتیں جن سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہوتی ہیں ان میں بھی شخصی یا موروثی قیادت نہیں ہوتی بلکہ ان کے ممبران اس قیادت کا انتخاب کرتے ہیں۔اگر ایک مرتبہ قیادت ناکام ہوجائے تو نئی قیادت لائی جاتی ہے۔اس طرح شہریوں کی رائے کا اظہار صرف عام انتخابات یا بلدیاتی انتخابات ہی میں نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنی سیاسی جماعتوں کی قیادت بھی خود ہی منتخب کرتے ہیں۔( اس کے مقابلے میں غریب ملکوں میں سیاسی جماعتوں کی قیادت موروثی ہوتی ہے جیسے پاکستان میں بھٹو خاندان، نواز شریف کا خاندان یا بھارت میں نہرو کا خاندان اور بنگلہ دیش میں شیخ مجیب کا خاندان وغیرہ۔ ان ملکوں میں وی آئی پی کلچر رائج ہے اور تمام ممبران پارلیمنٹ وی آئی پی ہیں۔ طاقتور وزیر اور دوسرے حکمراں جو بظاہر لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں لیکن جب یہ باہر نکلتے ہیں توعوام کے لئے راستے بند کردئے جاتے ہیں۔لیکن انہیں عوام کی کوئی پروا نہیں ہوتی ۔ حد یہ ہے کہ درجنوں مریض اس وی آئی پی کلچر کی بنا پر راستے بند ہونے کی وجہ سے ایمبولینسوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دیتے ہیں لیکن میڈیا تک ان کی خبریں جاری نہیں کرتا)۔
چنانچہ غریب اور امیر ملکوں کے درمیان یہ فرق ہر ایک پر واضح ہے۔ یہ عدم مساوات صرف غریب اور امیر ملکوں کے درمیان ہی نہیں ہے ۔ یہ فرق امیر ملکوں کے اندر غریب اور امیر طبقات کے درمیان بھی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ غریب ملکوں کی آبادی کی بڑی اکثریت بعض ملکوں میں 90 فیصد تک غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتی ہے۔ جبکہ امیر ملکوں میں غریب لوگوں کا تناسب پانچ چھ فیصد تک ہوسکتا ہے۔ امریکی شہر نوگیلز اور میکسیکو کے نوگیلز کے درمیان بھی یہی فرق نظر آتا ہے۔ یہ فرق اداروں کی وجہ سے ہے جنہوں نے شہریوں کو با اختیار اور امیر بنادیا ہے۔جمہوری اداروں کے اراکین شہریوں کی رائے سے منتخب ہوتے ہیں اور شہریوں کو ان اراکین پر زیادہ قوت اور اختیار حاصل ہے۔یہ ادارے شہریوں کو اتنی طاقت عطا کرتے ہیں کہ سیاسی، اقتصادی پالیسیاں شہریوں کی مرضی سے بنتی ہیں۔کوئی سیاسی رہنما من مانی نہیں کرسکتا۔
اداروں کا کردار:
ادارے قومی زندگی میں طرز عمل، روئیوں اور ترغیبات پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اسی سے قوموں کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ہوتا ہے۔افراد معاشرے کی ہر سطح پر اپنی ذہانتیں استعمال کرکے قوم کی سربلندی کے لئے کام کرتے ہیں۔بہت سارے ذہین اور تعلیم یافتہ افراد مل کر ایک بڑی مثبت فورس کی تشکیل کرتے ہیں۔مثال کے طور پر امریکہ میں بل گیٹس نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کیا۔ امریکہ میں تعلیمی نظام ہی ایسا ہے جو بل گیٹس جیسے لوگ پیدا کرتا ہے۔اس تعلیمی نظام ہی وجہ سے بل گیٹس کو وہ ترغیبات ملیں جنہوں نے اسے اپنی افتاد طبع کے مطابق بہترین شعبے کے انتخاب کا موقع فراہم کیا۔امریکہ کے اقتصادی اداروں نے قدم قدم پر اس کی رہنمائی کی ۔امریکی لیبر مارکیٹ میں دستیاب ذہین اور ماہر افراد کی صلاحیتوں نے اسے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں وہ بڑا کام کرنے کا موقع فراہم کیا جو اسے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑی شخصیت بنانے میں مددگار ثابت ہوا۔امریکہ میں سرمایہ کے تحفظ کے ماحول نے اسے سرمایہ فراہم کیا۔ بل گیٹس کو پاکستان کے سرمایہ کاروں کی طرح کسی کو بھتہ نہیں دینا پڑتا۔ وہاں کا نظام اسے اور اس کے سرمائے کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ وہاں کوئی بھی جماعت اقتدار میں ہو ملک کا سیاسی نظام چلتا رہتا ہے، اقتصادی ادارے اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔وہاں کسی فوجی انقلاب کا خطرہ نہیں۔ وہاں کوئی ڈکٹیٹر نہیں جو اقتصادی پالیسیوں کو من مانے طور پر تبدیل کرے۔ تمام فیصلے جمہوری اداروں میں ووٹروں کی مرضی سے ہوتے ہیں۔وہاں کے ووٹر اتنے تعلیم یافتہ ہوتے ہیں کہ منفی یا مثبت اقتصادی پالیسیوں میں امتیاز کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ سیاسی جمہوری اوراقتصادی ادارے کسی ملک کے غریب یا امیر ہونے کا فیصلہ کرتے ہیںْ ان امور میں مذہب کا دخل نہیں ہوتا۔ یہ ادارے 1619 کے بعد طویل سفر طے کرکے موجودہ درجے تک پہنچے ہیں۔اور یہی ادارے قوموں کی خوش حالی یا بدحالی اور پسماندگی کا فیصلہ کرتے ہیں۔
نظریات جو کام نہیں کرتے؟
دنیا میں سب سے زیادہ غریب ملک افریقہ میں ہیں۔جن کا زیادہ حصہ صحرائے صحارا سے تعلق رکھتا ہے۔اس کے بعد غریب ملکوں میں افغانستان، ہیٹی، اور نیپال وغیرہ کا نمبر آتا ہے جو انتہائی غریب ملک شمار ہوتے ہیں۔ اگر گزشتہ 50 سال کا جائزہ لیا جائے تو سب ملک ایسے نہیں جو ہمیشہ سے امیر رہے ہوں۔ مثال کے طور پر سنگاپور اور جنوبی کوریا ہمیشہ امیر نہیں تھے۔ انہوں نے موجودہ مقام گزشتہ 25 سال میں حاصل کیا۔ اسی طرح کچھ ملک ایسے ہیں جو کسی قدرتی وسیلے مثلا تیل و گیس کی آمدنی کی وجہ سے 30 امیر ترین ملکوں میں شامل ہیں لیکن اگر تیل کی قیمتیں گر جائیں تو یہ ممالک چشم و زدن میں غریب ملکوں میں شامل ہوجائیں گے، ان ملکوں میں سعودی عرب، کویت وغیرہ شامل ہیں اور انہوں نے تیل کی دولت سے کبھی فائدہ نہیں اٹھایا۔ دوسری جانب ایسے ملک بھی ہیں جہاں قدرتی وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں، جہاں نہ گندم اور چاول پیدا ہوتا ہے اور نہ تیل نکلتا ہے۔ وہ اپنی ضرورت کی ہر چیز درآمد کرتے ہیں۔ جن کی آبادی نہ ہونے کے برابر ہے لیکن وہ دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شامل ہیں۔وہ ہر چیز درآمد کرتے ہیں جس سے ان کے کارخانے چلتے ہیں۔ یہ سب ایک مضبوط مستحکم سیاسی نظام اور اقتصادی اداروں کی وجہ سے ہے۔
جغرافیائی اثرات:
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جغرافیہ ملکوں کے غریب اور امیر ہونے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اٹھارویں صدی کے وسط میں فرانسیسی سیاسی فلاسفر مونٹیسکو نے جغرافیہ اور موسم کو ترقی کا اہم کردار قرار دیا۔ اس نے لکھا کہ استوائی اور گرم مرطوب موسم لوگوں کو سست بنادیتا ہے اور وہ اس طرح کام نہیں کرسکتے جس طرح ٹھنڈے علاقوں کے لوگ کام کرتے ہیں۔ اس کا یہ نظریہ حال ہی میں ناکام ثابت ہوگیا کیونکہ ملائشیا، سنگاپور اور بوٹسوانا انتہائی گرم علاقوں میں واقع ہیں لیکن دنیا کے 30 انتہائی امیر ملکوں میں شامل ہیں۔ اسی طرح بہت سے خطے ایسے ہیں جہاں کچھ ادوار تیز ترین ترقی سے گزرے لیکن کچھ عرصے کے بعد ان کا زوال شروع ہوگیا۔مثال کے طور پر دوسری جنگ عظیم کے بعد مشرق بعید کے ملکوں نے تیز ترین ترقی کی اور اقتصادی شیر کہلانے لگے لیکن کچھ عرصے کے بعد ان کی معیشتیں اچانک بیٹھنا شروع ہوگئیں۔ چین نے تیز ترین ترقی کی لیکن اب وہاں ترقی معکوس شروع ہوچکی ہے۔ ارجنٹائن نے 1920 کے بعد تیزی سے ترقی کیْ اس کا ترقی کا یہ دور پچاس سال تک جاری رہا لیکن پھر اس کا زوال شروع ہوگیا۔سوویت یونین نے 1930 سے 1970 کے درمیان تیزی سے ترقی کی اور عالمی طاقت بن گیا لیکن اس کے بعد اس کی معیشت ایسی بیٹھی کہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔
کلچر کا کردار:
جرمن ماہر عمرانیات میکس ویبر نے نظریہ پیش کیا کہ یورپ کی ترقی کا سبب پروٹسٹنٹ اصلاحات اور اخلاقیات تھیں جن کی وجہ سے مغربی یورپ میں جدید صنعتی معاشرے کی بنیاد پڑی۔ افریقہ اس لئے غریب ہے کہ وہاں کے لوگ ابھی تک جادو ٹونے پر یقین رکھتے ہیں اور مغربی کلچر کی مزاحمت کرتے ہیں۔چینی کلچر اور کنفیوشس کا مذہب ترقی کے راستے میں رکاوٹ تھا۔حالانکہ یہ بات غلط ہے کیونکہ چین، سنگاپور اور ہانگ کانگ میں اقتصادی ترقی کا سبب کام کرنے کی اخلاقیات تھیں۔ ان کا مذہب کچھ بھی ہو لیکن وہ اس راستے میں کبھی رکاوٹ نہیں بنا۔کوئی مذہب ترقی کرنے سے نہیں روکتا۔نوگیلز کے مثال سامنے ہے۔ نوگیلز کے دونوں حصوں کے لوگ ایک ہی مذہب کے ماننے والے ہیں لیکن ایک غریب ہے اور دوسرا امیر۔
ایک مثال مشرق وسطی کی ہے۔ تیل کی دولت سے مالامال ملک مثلا سعودی عرب مصر سے زیادہ امیر اور خوش حال ہے۔ مصر اور سعودی عرب دونوں خلافت عثمانیہ کا حصہ رہے۔ جدید دور میں خلافت عثمانیہ کا زوال ان ملکوں کی علیحدگی کا سبب بنا۔ خلافت عثمانیہ نے ان خطوں کی ترقی کے لئے کوئی کام نہیں کیا۔ سعودی عرب اس لئے خوش حال ہے کہ وہاں تیل نکل آیا ورنہ یہ ملک شاید مصر سے بھی زیادہ غریب ہوتا۔ مصر خلافت عثمانیہ کا حصہ تھا جب نپولین نے مصر پر حملہ کیا اور قبضہ کرلیا۔ نپولین کی مصر سے پسپائی کے بعد محمد علی پاشا اس کا حکمراں ہوگیا۔ اس نے خلافت عثمانیہ سے بہت مختلف پالیسیاں اختیار کیں جس کے نتیجہ میں مصر نے تیزی کے ساتھ ترقی کی۔ اس نے جو اصلاحات کیں ان میں ریاستی نوکر شاہی کی تنظیم نو، فوج اور ٹیکس نظام کی ترقی اور زرعی و صنعتی اصلاحات شامل تھیں۔ اگر یہ اصلاحات جاری رہتیں تو مصر مشرق وسطی میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہوتا لیکن 1952 میں مصری فوج نے اقتدار پر قبضہ کرکے سب کچھ برباد کردیا۔ مصر میں اشرافیہ اقتدار میں آگئی جس سے ایک طبقہ تمام وسائل پر قابض ہوگیا۔ فوج اور اشرافیہ نے مل کر لوٹ مار کی۔اگرچہ مصری فوجی جنرلوں کی حکومت نے مذہب اور مذہبی اداروں کو کچل کر رکھا لیکن اس کا تعلق مفادات کی جنگ سے تھا۔ مغربی کلچر اختیار کرنے سے ترقی نہیں ہوتی اور نہ ہی مذہب ترقی کرنے سے روکتا ہے ورنہ مصر ترقی یافتہ ملک ہوتا جس کے حکمرانوں نے مذہب کے بجائے سیکولرازم کو اختیار کیا۔
چین میں ماؤزے تنگ قومی ہیرو اور انقلاب کا قائد تھا لیکن جب تک وہ زندہ رہا چین کا شمار غریب ملکوں میں رہا۔ ماؤ کی پالیسیاں چین کی اقتصادی ناکامی کا سبب رہیں۔لیکن اب وہی چین گزشتہ تین عشروں سے دنیا کی انتہائی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے۔اس دوران نہ تو چین کا مذہب بدلا اور نہ کمیونسٹوں اور مارکسیوں کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ چینی کمیونسٹ پارٹی اسی طرح برسراقتدار رہی لیکن صرف اقتصادی پالیسیوں نے چین کو دنیا کی انتہائی ترقی یافتہ قوموں میں کھڑا کردیا۔
خوش حالی اور غربت کیوں؟
جنوبی اور شمالی کوریا کی اقتصادیات: یہ 1945 کا موسم گرما تھا۔ دوسری جنگ عظیم ختم ہونے کے قریب تھی۔کوریا اس وقت جاپان کا غلام تھا۔15 اگست کو جاپان نے ہتھیار ڈالے تو کوریا دو حصوں شمالی اور جنوبی میں تقسیم ہوگیا۔جنوبی حصہ امریکہ کے اور شمالی حصہ کمیونسٹ روس کے زیر انتظام تھا۔ دونوں کو تقسیم کرنے والاخط 38 واں متوازی کہلاتا تھا۔ امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ شروع ہوچکی تھی کہ جون1950میں شمالی کوریا نے اچانک 38 واں خط متوازی عبور کیا اور جنوبی کوریا پر حملہ کردیا۔شمالی کوریا کی فوج کو ابتدائی طور پر فوری جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں اور اس نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل پر قبضہ کرلیا۔تاہم یہ قبضہ زیادہ عرصے برقرار نہیں رہا۔ موسم خزاں آتے آتے شمالی کوریا کی فوج پسپا ہونے پر مجبور ہوگئی۔ اس کے نتیجہ میں ہزاروں کورین خاندان تقسیم ہوگئے۔ ان میں کورین دو بھائی بھی شامل تھے۔ شمالی کوریا میں رہ جانے والے بھائی نے خود کو بمشکل سرخ فوج میں جبری بھرتی ہونے سے بچایا اور کہیں چھپ گیا۔ جب حالات کچھ بہتر ہوئے تو وہ باہر نکلا اور جیسے تیسے زندگی گزارنے لگا۔ دوسرا بھائی ہوانگ پویانگ وان جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھا جنوبی کوریا کی فوج کے لئے کام کرنے لگا۔1950 میں جدائی کے بعد وہ 2000 میں دوبارہ ملے۔ اس وقت شمالی اور جنوبی کوریا کی حکومتیں تقسیم ہوجانے والے خاندانوں کی ملاقاتوں پر رضامند ہوگئی تھیں۔ یہ ملاقاتیں سئیول، جنوبی کوریا میں ہوئیں۔دونوں بھائی بھی ملے۔ جنوبی کوریا میں رہنے والا بھائی ہوانگ پویانگ وان فضائیہ میں طویل خدمات انجام دینے کے بعد ریٹائر ہوچکا تھا اور خوشحال زندگی گزار رہا تھا۔ شمالی کورین بھائی غربت اور عسرت کی تصویر تھا۔ پہلے انہوں نے ایک دوسرے کو بتایا کہ الگ ہونے کے بعد انہوں نے کس طرح زندگی گزاری؟ ہوانگ پویانگ وان نے بتایا کہ اس کے پاس بہترین کار ہے اور وہ ایک وسیع مکان میں رہتا ہے۔ شمالی کوریا میں رہ جانے والے بھائی نے بتایا کہ اس کے پاس کوئی کار نہیں ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کے پاس فون بھی نہیں ہے۔لیکن اس کی بیٹی جو وزارت خارجہ میں کام کرتی ہے اس کے دفتر میں فون ہے لیکن اسے ا سکا کوڈ معلوم نہیں۔ ہوانگ پویانگ وان کو یاد آیا کہ یہاں شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے خاندان اپنی شدید غربت کی بنا پر جنوبی کورین متمول رشتہ داروں سے رقم مانگ رہے تھے۔ اس نے اپنے بھائیوں کو ایک بڑی رقم پیش کی لیکن اس نے کہا کہ وہ یہ رقم نہپیں لے جا سکتا کیونکہ حکومت یہ تمام رقم ضبط کرلے گی اور اس کے پا س پھوٹی کوڑی بھی نہیں چھوڑے گی۔ بڑے بھائی نے دیکھا کہ شمالی کورین بھائی کا کوٹ انتہائی خراب ہے ۔ اس نے پیشکش کی کہ وہ اپنا خراب کوٹ اسے دے کر اس کااچھا کوٹ لے لے۔ شمالی کورین بھائی نے کہا کہ یہ بھی ممکن نہیں کیونکہ اس کو حکومت نے یہ پھٹا پرانا کوٹ ادھار دیا ہے۔اور واپسی پر اسے یہ کوٹ واپس کرنا پڑے گا۔ہوانگ پویانگ وان نے محسوس کیا کہ اس کا بھائی بے حد خوف زدہ ہے۔ اس کو اس کے خوف کی وجہ معلوم تھی۔ شمالی کوریا میں بدترین جاسوسی نظام تھا۔ہر شہری کو حکم تھا کہ وہ دوسرے شہریوں کے بارے میں سرکاری اہلکاروں کو رپورٹ دے۔چنانچہ سب شہری ایک دوسرے سے خوف زدہ رہتے تھے۔
اس زمانے میں جنوبی کوریا اقتصادی اعتبار سے یورپی ملکوں پرتگال اور اسپین کا ہم پلہ تھا۔جبکہ اس وقت جنوبی کوریا یورپ کے بہت سے ملکوں سے زیادہ خوش حال ہے۔اس کے مقابلے میں شمالی کوریا میں زندگی صحرائے صحاراکی افریقی ریاستوں سے بہتر نہیں تھی جن کا شمار دنیا کے غریب ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ شمالی کوریا کے شہریوں کے مقابلے میں جنوبی کوریا کے شہریوں کی آمدنی دس گنا زیادہ تھی۔جنوبی کوریا
اورشمالی کوریا کے درمیان اقتصادی تفاوت کی بہترین مثال ایک تصویر ہے جو کسی مواصلاتی سیارے نے رات کے وقت بنائی۔ اس تصویر میں جنوبی کوریا روشنیوں سے جگمگ کررہا ہے جبکہ شمالی کوریا مکمل طور پر تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ دونوں خطوں کے درمیان یہ فرق ہمیشہ سے نہیں صرف پچاس سال پرانا ہے۔ یہ ان ملکوں کے اقتصادی نظام کا فرق ہے۔ جنوبی کوریا میں جب فوجی آمریت تھی اس وقت بھی حکومت نے آزاد مارکیٹ کا اصول اپنا یا۔ جس کے نتیجہ خوش حالی کی شکل میں نکلا۔ اب جنوبی کوریا دنیا کے دس پندرہ انتہائی امیر ملکوں میں شامل ہوچکا ہے اور وہاں مستحکم جمہوری نظام ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان دو نظاموں کی کامیابی یا ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
کانگو کی مثال:
سلطنت کانگو افریقہ کی ایک عظیم مملکت تھی جس کا زوال سترھویں صدی میں ہوا۔زوال کے زمانے میں مختلف یورپی ممالک اس پر قابض ہوتے رہے اور لوٹ مار کرتے رہے۔ کانگو 1960 میں یورپی ملک بیلجیئم کی غلامی سے آزاد ہوا۔1965 سے 1997 کے درمیان ملک پر جوزف موبوتو کی حکومت رہی۔ موبوتو کی اقتصادی پالیسیاں انتہائی تباہ کن ثابت ہوئیں اور ملک غربت کے اندھیرے میں ڈوبتا چلا گیا۔موبوتو کی حکومت کا تختہ لارینٹ کبیلا نے الٹ دیا۔کبیلا نے انتہائی کامیاب اقتصادی نظام قائم کیا جس کے نتیجہ میں عوام غریب سے غریب اور کبیلا اور اشرافیہ سے منسلک اسکے ساتھی امیر سے امیر ہوتے گئے۔ اس نے لوٹ مار کرکے جو دولت کمائی اس سے یورپ کے مختلف شہروں اور لکسمبرگ میں محلات اور قطعات اراضی خریدے۔ اگر وہ عوام کی فلاح و بہبو دکے پروگراموں پر عمل کرتا تو اس کا خود بھی فائدہ ہوتا۔ لیکن اس نے صرف اپنے خاندان اور ایک طبقے کو مضبوط بنانے کو ترجیح دی۔ ماہرین اقتصادیات نے اس نوعیت کے اداروں کو لوٹ مار پر مبنی اقتصادی ادارے کہا ہے۔ کیونکہ حکمرانوں کی جانب سے باقاعدہ ادارے بناکر منظم لوٹ مار کی گئی۔اس وقت بھی بہت سے ترقی پذیر اور غیر ترقی یافتہ ملکوں میں یہ نظام رائج ہے۔ جہاں ادارے اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ عوام کو ان کے ذریعہ لوٹا جائے۔ یہ ادارے محصولات عائد کرتے ہیں۔ ایسے ٹیکسز لگاتے ہیں جنہیں عوام پر خرچ نہیں کیا جاتا۔ حد یہ ہے کہ جمہوری اداروں کے اراکین یعنی ممبران پارلیمنٹ بھی یہ سوچ پارلیمنٹ میں جاتے ہیں کہ انہیں زیادہ سے زیادہ کمائی کرنی ہے۔ یہ ممبران پارلیمنٹ انتخابی مہم کے دوران خوب پیشہ لٹاتے ہیں اور سمجھتے ہیں جو رقم وہ الیکشن جیتنے کے لئے خرچ کررہے ہیں اس سے کہیں زیادہ کما لیں گے۔ ان کو جو رقوم عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے شروع کرنے کے لئے دی جاتی ہیں اس کا بہت کم حصہ ان منصوبوں پرخرچ ہوتا ہے ۔ سڑکیں کاغذات پر بنتی ہیں حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔کاغذات میں اسکول بن جاتے ہیں جو بھوت اسکول کہلاتے ہیں۔ اسکولوں کے عملہ کی تقرریاں بھی ہوتی ہیں لیکن تنخواہیں رکن اسمبلی یا اشرافیہ کے کسی اہم رکن کے اکاؤنٹ میں جارہی ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سندھ میں ایسے بھوت اسکولوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔ جن ملکوں میں احتساب کا موثر نظام نہیں ہوتا وہاں ایسے اداروں سے رقوم واپس نہیں لی جاسکتیں۔(مثال کے طور پرپاکستان میں گزشتہ حکومت کے وزیر ریلوے نے لوٹ مار کرکے پوری ریلوے تباہ و برباد کردی۔ تمام ریلوے سروسز بند کردی گئیں اور عوام بسوں کے ذریعہ طویل سفر کرنے پر مجبور ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں ٹرانسپورٹ مافیا کا ہاتھ تھا جس نے وزیر موصوف سے اتحاد کررکھا تھا۔ کراچی میں سرکلر ریلوے کو تباہ کردیا گیا اور اس کے پیچھے بھی ٹرانسپورٹ مافیا کا ہاتھ تھا۔ مترجم )۔
باب چہارم:
تاریخ کا کردار
طاعون کی پیدا کردہ دنیا:
1346 میں دنیا کے وسیع حصے میں طاعون کی وبا نے تباہی مچادی۔طاعون یا سیاہ موت بحر اسود کے کنارے دریائے ڈون کے دہانے پر آباد بندرگاہ تانا سے پھیلنا شروع ہوا۔ یہ بیماری چوہوں کے بالوں میں پلنے والے پسوؤں کے ذریعہ پھیلتی تھی۔ یہ چوہے چین سے آنے والے تجارتی جہازوں اور شاہراہ ریشم کے راستے آنے والے تجارتی قافلوں کے ذریعہ یورپ پہنچے۔ تانا کی بندرگاہ سے یہ چوہے پورے بحر روم کی مملکتوں میں پھیلتے چلے گئے اور ان کے ساتھ ہی طاعون بھی پھیلتا گیا۔ اگلے سال طاعون قسطنطنیہ یااستنبول پہنچ گیا۔1348 میں طاعون فرانس، اٹلی اور شمالی افریقہ کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ طاعون نے تھوڑے ہی عرصے میں یورپ کی آدھی آبادی کا صفایا کردیا۔ انگلستان کے لوگ جانتے تھے کہ طاعون بہت جلد انگلستان پہنچنے والا ہے۔ چنانچہ اسی خدشے کے پیش نظر اگست 1348 کے وسط میں انگلستان کے شاہ ایڈورڈ سوم نے آرچ بشپ آف کنٹر بری کو ہدایت کی کہ وہ تمام گرجا گھروں میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔ دعاؤں کا طاعون پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ طاعون یا سیاہ موت انگلستان کی آدھی آبادی کو نگل گئی۔ یورپ میں طاعون کی وبا کھیتوں میں کام کرنے والے لاکھوں کارکنوں، مزدوروں، دستکاروں کو کھا گئی۔ جابجا بے روزگاری پھیل گئی۔ ہر قسم کے کارکنوں کی قلت ہوگئی۔ دوسری جانب روزگار کے موقع ختم ہوگئے۔خوراک کی قلت کے ساتھ طلب میں اضافہ ہوا۔ طلب پوری کرنے کے لئے مشرقی یورپ کے نوابوں اور جاگیرداروں نے بیگار شروع کردی۔ کارکنوں کو پکڑ کران سے جبرا کام لیا جاتا۔ لیکن بیگار کا نظام مشرقی یورپ میں زیادہ اور مغربی یورپ میں کم تھا۔ مغربی یورپ میں طاعون کی وجہ سے جاگیرداری نظام کمزور ہوا۔ کارکن جبری بیگار سے آزاد ہوگئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں ادارے زیادہ ترقی یافتہ تھے۔
محتوی اداروں کا قیام:
مغربی یورپ میں قائم اقتصادی ادارے محتوی نوعیت کے تھے۔ یعنی یہاں زراعت اور صنعت دونوں میں کارکنوں کو مناسب معاوضہ دینے کا اہتمام تھا۔ جبری بیگار کا خاتمہ ہوچکا تھا۔ اس نظام کو مستحکم کرنے میں 1642-1651 کی خانہ جنگی اور 1688 کے انقلاب نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ انقلاب بادشاہ اور اس کی انتظامیہ کے اختیارات کو کم کرنے کی کوششوں تک محدود تھا۔ اسے گلورئس روالیوشن یا عظیم الشان انقلاب قرار دیا گیا۔اس میں انگلستان کی پارلیمان کو اقتصادی ادارے بنانے اور ان پر کنٹرول رکھنے کے اختیارات حاصل ہو گئے۔ اس سے عوام کو ترغیب ملی کہ وہ اقتصادی ترقی کے عمل کا حصہ بنیں۔ اس سے پہلے تجارتی سرگرمیوں پر کوئی پابندی نہیں تھی لیکن دیسی اور بین الاقوامی تجارت اجارہ داریوں سے متاثر تھی۔ریاست یک طرفہ ٹیکس لگاتی تھی اور قانون سازی کرتی تھی۔ زیادہ تر زمین پر قبضے ہوگئے اور اس کی خرید و فرخت یا سرمایہ کاری کی غرض سے استعمال مشکل ہوتا گیا۔اس انقلاب نے اقتصادی اداروں کے قیام کی راہ کھول دی۔تمام اجارہ داریاں توڑ دی گئیں۔ حق تصنیف کا قانون بنا جس کے تحت موجدوں اور سائنس دانوں کو نئی اختراعات اور ایجادات کے حقوق حاصل ہوگئے۔ چنانچہ صنعتی انقلاب کا راستہ کھل گیا۔
عظیم الشان انقلاب کے چند عشروں ہی کے بعد صنعتی انقلاب شروع ہوا۔جیمز واٹ نے بھاپ انجن بنائے۔رچرڈ ٹریویتھک نے بھاپ سے چلنے والا پہلا ریلوے انجن بنایا۔رچرڈ آرک رائٹ نے دھاگہ بنانے کا فریم ایجاد کیا۔ برونیل نے بہت سے دخانی جہاز بنائے۔ صنعتی انقلاب اس لئے ممکن ہوا کہ انگلستان میں تیزی سے سیاسی اصلاحات ہوئیں جن کی وجہ سے عام لوگوں کو کام کرنے اور منافع کمانے کی ترغیب ہوئی۔ عظیم الشان انقلاب کا اصل کارنامہ بادشاہ اور ا سکی اشرافیہ کے ہاتھ پیر باندھنا تھا۔بادشاہ کے اختیارات کم ہونے سے پارلیمان کے اختیارات بڑھے۔ پارلیمان کے اختیارات بڑھنے سے عوام کا اختیار بڑھا۔
دوسری جانب امریکہ 1492 میں دریافت ہوچکا تھا۔ 1600 میں دنیا کے زیادہ تر ملکوں کے درمیان بین الاقوامی تجارت شروع ہوچکی تھی۔اسی سال ایسٹ انڈیاکمپنی قائم ہوئی۔ 1585 میں انگلستان کی سب سے پہلی بستیاں امریکہ میں قائم ہوئیں۔1607 میں ورجینیا کمپنی نے جیمز ٹاؤن کی داغ بیل ڈالی۔ 1620 میں بحیرہ کیریبین پر قبضہ ہوا۔1608 میں فرانس نے کنیڈا میں کوئبک پر قبضہ کرکے اپنی پہلی کالونی قائم کی۔ نئی دنیا میں سبقت لے جانے کے لئے یورپی طاقتوں کے درمیان مسابقت اور جنگ بھی شروع ہوگئی۔ اس وقت انگلستان، اسپین اور فرانس تین بڑی استعماری طاقتیں تھیں۔ بحر اوقیانوس پر اسپین کی بحریہ کا راج تھا۔ اس کے مقابلے میں انگلستان کی بحریہ کمتر درجے کی تھی۔ اسپین کے بادشاہ شاہ فلپ دوئم کی ہدایت پر ڈیوک آف میڈونیا سڈونیا کی سرکردگی میں اسپینی بحری بیڑے نے انگلستان پر حملہ کیا۔توقع کے برخلاف اسپینی بحری بیڑے کو شکست ہوئی اور انگلستان کو بحر اوقیانوس میں مضبوط ہونے کا موقع مل گیا۔ جس سے عالمی تجارت کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور ہوگئیں۔
افریقہ میں بدترین صورت حال تھی۔ یورپ ملکوں نے پہلے افریقہ کی کالی آبادی کو محکوم بناکر غلاموں تجارت شروع کی۔ طاقت کے زور پر پوری پوری آبادیاں کو گرفتار کرکے بحری جہازوں کے ذریعہ امریکہ اور دوسری کالونیوں کو بھجوادیا جاتا تھا۔ اور ان سے بیگار لی جاتی تھی۔ جن جہازوں کے ذریعہ یہ کالے غلام لے جائے جاتے تھے ان کا حال انتہائی خراب ہوتا تھا۔ بعض اوقات آدھے سے زیادہ غلام گرمی اور دم گھٹنے سے راستے ہی میں مر جاتے۔ غلاموں کی تجارت کا خاتمہ 1807 میں ہوا۔ لیکن افریقیوں پر یورپی ملکوں کا استعمار ظلم ڈھاتا رہا۔ سب سے زیادہ بری بات یہ تھی کہ یورپی استعمار نے ادارے بنانے کے بجائے تباہ کئے۔ یورپی قوموں نے باہم جنگیں لڑیں جن میں افریقی غلاموں کو استعمال کیا گیا۔ علاقوں پر قبضے کی جنگ میں لاکھوں افریقی قتل کردئے گئے۔کانگو، مدغاسکر، نمیبیا اور تنزانیہ میں بڑے پیمانے پر افریقی قبائیل کا قتل عام ہوا۔
انیسویں صدی میں استبدادیت کا نظام افریقہ،مشرقی یورپ، اور ایشیا میں ہر جگہ صنعتی انقلاب کا راستہ روکے ہوئے تھا۔چین میں مطلق العنان حکومت تھی اور تاجروں اور صنتکاروں کا وجوود نہ ہونے کے برابر تھا۔عوام سیاسی طورپر انتہائی کمزور تھے۔ چین کا تجارتی بحری بیڑا ایک زمانے میں بہت بڑا اور طاقتور تھا جو مال تجارت لے کر یورپ تک سفر کرتا تھا۔ لیکن چودھویں اور پندرھویں صدی میں منگ بادشاہوں نے اچانک تجارتی بیڑوں کی سرپرستی ترک کردی۔ ہندوستان میں مغل بادشاہوں نے کوئی تجارتی بحری بیڑا نہیں بنایا۔ان کا نظام استبدادیت پر مبنی تھا۔جس میں جاگیرداروں کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ جاگیردار مرکزی حکومت کو ٹیکس دیتے تھے اور فوجی نفری فراہم کرتے تھے۔ مقامی طور پر ہندو بدترین طبقاتی نظام میں تقسیم تھے۔ہندووں کا ایک فرقہ تو سمندر کو عبور کرنے کو بھی گناہ تصور کرتا تھا۔اس لئے عالمی تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لینے سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔
جاپان میں اقتصادی ادارے انیسویں صدی میں بننا شروع ہوئے۔جب جاپان میں 1600 میں ٹوکوگاواخاندان کی حکومت تھی تو ملکی بنیاد جاگیردارانہ نظام پر تھی۔بیرونی تجارت پر پابندی لگادی گئی تھی۔اس کے معنی یہ تھے کہ غیر ملکی جہازوں کو جاپانی بندرگاہوں میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔جولائی 1853 میں چار امریکی جنگی جہاز جاپان میں داخل ہوئے اور تجارتی رعایتوں کا مطالبہ کیا۔اس کے نتیجہ میں جاپانی قوم پرستی نے جنم لیا اور ایک دشمن کے سامنے پوری قوم متحد ہوگئی۔تجارتی اور اقتصادی ادارے بنائے گئے اور جاپان نے بیرونی تجارت شروع کردی۔
لاطینی امریکہ میں اقتصادی اداروں کو اسپین کے کالونی دور میں جنم دیا۔ اسی طرح مشرق وسطی میں خلافت عثمانیہ نے کچھ اقتصادی ادارے بنائے ۔ لیکن عثمانی سلطنت کی بنیاد بھی جاگیردانہ نظام پر تھی۔ جس میں اجارہ داریوں کو دخل تھا۔زرعی پیداوار اور زمینوں پر محصولات سے حکومت کو آمدنی ہوتی تھی۔لیکن یہ نظام اس طرح کا نہیں تھا جیسا اسپین نے لاطینی امریکہ میں قائم کیا جہاں جبر و تشدد کرکے لوگوں کو ٹیکس نہ دینے پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں اس کے بجائے ٹیکس وصولی کے لئے عمال مقرر کئے گئے جو مقامی لوگ تھے۔ٹیکس رضاکارانہ طور پر ادا کیا جاتا تھا جس کے بدلے حکومت لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری ادا کرتی تھی۔ لیکن جوں ہی مرکز کمزور ہوا ٹیکس وصول کرنے والے عمال نے من مانی شروع کردی۔ وہ جبراً ٹیکس وصول کرنے لگے جس کا بہت کم حصہ وہ مرکز کو بھیجتے تھے۔ کمزور مرکزی حکومت ان کو درست کرنے کے لئے سختی کرتی تھی تو وہ بغاوت کردیتے تھے۔ مرکز کے کمزور ہوتے ہی یہ عمال اتنے طاقتور ہوگئے کہ وہ ٹیکسوں کی آمدنی میں خرد برد کرنے لگے تھے اور زیادہ حصہ خود کھا جاتے تھے۔انہوں نے ترکوں کے خلاف عربوں کو اکسانا شروع کیا اور اس سے عرب قوم پرستی کو فروغ ہوا۔ خلافت عثمانیہ کے دشمن برطانیہ اور فرانس سے اس سے فائدہ اٹھایا اور باغیوں کی مدد کرنا شروع کردی۔ لارنس آف عربیہ برطانوی انٹیلیجنس ایجنٹ تھا جس کا باغیوں سے رابطہ تھا اور جس نے خلافت عثمانیہ کی شکست اور عرب قوم پرستی کو فروغ دے کر پوری عرب دنیا کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیاتاکہ ان پرکنٹرول کرنا آسان ہوجائے۔(اسی زمانے میں عرب دنیا کو آئندہ صدی کے دوران قابو میں رکھنے کی ایسی بے داغ منصوبہ بندی کی گئی کہ جس پر آج تک عمل جاری ہے۔ شام میں فرانس نے جنگ کے بعد واپس جاتے ہوئے اقتدار سنیوں کے بجائے علویوں کے سپرد کیا اور انہیں اتنا مضبوط بنا دیا کہ انہوں نے آسانی سے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ اس طرح مشرق وسطی میں شیعہ سنی فساد کا بیج بو دیا جس کا درخت اب اتنا تناور ہوچکا ہے کہ پوری عرب اسلامی دنیا فرقہ پرستی کی بنیاد پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ عراق سے خدشہ تھا کہ وہ اسرائیل کے لئے مسئلہ بن سکتا ہے اس لئے اس کے تین حصے کرنے کی منصوبہ بندی سو سال پہلے ہی کرلی گئی تھی۔ اب عراق تین حصوں میں تقسیم ہونے والا ہے جو سنی، شیعہ اور کرد ہیں۔ ترکی میں اسلامی نشاۃ ثانیہ کی حامی اے کے پی کا سدباب کرنے کے لئے کردوں کو اس کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بہت جلد مشرق وسطی کے وسط میں ایک سکولر کرد ریاست وجود میں آنے والی ہے جس کو مغرب کی مکمل حمایت حاصل ہوگی ۔ یہ کرد ریاست ایران، ترکی، شام اور عراق کے کرد علاقوں پر مشتمل ہوگی۔ شام میں شیعہ سنی مسئلہ شدید ہوچکا ہے اور ایران شیعہ اسلام کا سرپرست بن کر میدان میں آچکا ہے۔ اسرائیل کی فلسطیہنیوں کو لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی اب تک کامیاب رہی لیکن حماس اس کے قابو نہیں آرہی تھی۔اب حماس اور الفتح کے درمیان مفاہمت نے اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو سخت تشویش میں مبتلا کردیاہے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے اور حماس کو صفحہ ہستی سے مٹادینے کی کوشش اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے لیکن نہتی فلسطینی عورتوں اور بچوں کے قتل عام کے باوجود اسرائیل کو کوئی قابل ذکر کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ غزہ کی آدھی آبادی زیر زمین رہتی ہے اور حماس نے غزہ میں سرنگوں کا جال بچھا رکھا ہے۔آنے والا وقت بتائے گا کہ حماس کا عزم کامیاب ہوتا ہے یا اسرائیل کی جدید تیکنالوجی کامیاب ہوتی ہے ، مترجم)
پانچواں باب
حرفتی اداروں کا قیام اور ترقی:
اقتصادی اداروں کے درمیان امتیاز نے ہر دور میں اقتصادی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ہم نے اوپر محتوی اداروں کا تذکرہ کیا جو معاشروں کی اندرونی سیاسی تقسیم کی بنیاد پر کام کرتے تھے۔ اس کے مقابلے میں حرفتی اداروں کی بنیاد ایسے سیاسی اقتصادی اداروں پر تھی جو جبر اور سختی کے ذریعہ محصولات کی وصولی کرتے تھے۔ تمام اقتصادی و کاروباری سرگرمیاں سخت جابرانہ نظام کے تحت ہوتی تھیں۔ منطقی طور پر حرفتی اداروں کو زر کی تخلیق کے عمل میں حصہ لینا چاہیئے تھا۔ حکمراں سیاسی قوت پر اپنی اجارہ داری قائم کرکے اور مرکزی نظام حکومت کا کنٹرول سنبھال کر قانون سازی کرسکتا تھا جس کے تحت تمام اقتصادی سرگرمی عمل میں آتی۔ لیکن ترقیاتی اور پیداواری عمل محتوی اداروں سے مختلف تھا جہاں لوگوں کو اقتصادی عمل میں حصہ لینے کے لئے ترغیبات دی جاتی تھیں۔ جبکہ حرفتی اداروں میں یہ ترغیبات مفقود تھیں۔ سوویت یونین ا سکی بہترین مثال ہے جہاں انقلاب کے بعد تمام زمینیں اور ادارے قومیالئے گئے۔ کسی کو ذاتی املاک رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو لوگ کام کرتے تھے ان کو کھانے کو روٹی اور رہنے کو جگہ حکومت دیتی تھی لیکن اچھی کارکردگی پر کوئی صلہ نہ ملتا تھا۔ اس کے نتیجہ میں کارکنوں نے زیادہ کام کرنا چھوڑ دیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ وہ زیادہ محنت کریں گے تو ان کو زیادہ نہیں ملے گا اور کم محنت کریں گے تو بھی اتنا ہی ملے گا۔ چنانچہ زیادہ محنت پر انعام اور زیادہ معاوضہ ملنے کی ترغیب نہیں تھی۔ اس کا نتیجہ بدترین قحط سالی کی شکل میں نکلا۔خوراک کی شدید قلت ہوگئی۔ کارخانوں کی پیداوار آدھی رہ گئی۔ لوگوں کو کام پر مجبور کرنے کا ہر حربہ ناکام ہوگیا۔
1917 میں بالشویک انقلاب کے بعد انگلستان، فرانس اور امریکہ نے ایک مشن روس بھیجا تاکہ نئی روسی حکومت کے تحت روس میں اقتصادی فوائد اور امکانات کا جائزہ لیا جاسکے۔ اس وفد کے ایک رکن لنکن اسٹیفنز نے خود نوشت سوانح میں لکھا کہ سوویت روس میں ایک انقلابی حکومت ہے جس کا منصوبہ انقلابی ہے۔لیکن اس انقلاب کا مقصد برائیوں کا خاتمہ نہیں، نہ ہی یہ انقلاب غربت ، بے روزگاری،بدعنوانی ، ظلم و تشدد اور ایک طبقے کی مراعات کے خاتمہ کے لئے برپا کیا گیا ہے۔ انقلابیوں کا کہنا ہے کہ وہ برائیوں کا خاتمہ نہیں اس کی وجوہ کا سد باب کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بدترین آمریت قائم کی ہے جس کو صرف اقلیت کی حمایت حاصل ہے۔ یہ اقلیت اقتصادی قوتوں کو کنٹرول کرکے ترقی کے عمل کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔ انقلابیوں کے خیال میں اس سے اقتصادی جمہوریت کو فروغ ہوگا لیکن انقلابی سیاسی جمہوریت بحال نہیں کرنا چاہتے۔بدترین پرولتاری آمریت کا فروغ اس انقلاب کا اولیں مقصد ہے۔
اس انقلاب کے بارے میں مغرب میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ کہ یہ نظام کام کرے گا۔ لیکن بعد میں یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ لینن 1924 میں مرا۔ اس کے جانشین جوزف اسٹالن نے 1927 میں سوویت روس پر اپنی آہنی گرفت مضبوط کرلی۔ اس نے مخالفین کو کچل دیا اور ملک کو صنعتی اعتبار سے ترقی کے راستے پر گامزن کیا۔ یہ کام اس نے ایک ریاستی منصوبہ بندی کمیٹی گوسپلان کے ذریعہ کیا جو 1921 میں قائم ہوئی تھی۔گوسپلان نے پہلا پنجسالہ منصوبہ بنایا اور اس پر عمل کیا۔ اسٹالن کا طریقہ سادہ تھا۔ اس نے صنعت کو ترقی دینے کے لئے تمام قومی وسائل جمع کئے اور زراعت پر انتہائی بلند شرح سے محصولات لگائے۔ چونکہ اس کمیونسٹ ریاست کا ٹیکس نظام زیادہ موثر نہیں تھا اس لئے اسٹالن نے اجتماعی زراعت کا نظام قائم کیا۔ عام لوگوں اور زمین داروں سے تمام زمین چھین لی گئی۔ لوگوں سے ذاتی زمین رکھنے کا حق سلب کرلیا گیا۔ ان اجتماعی فارموں کو کمیونسٹ پارٹی چلاتی تھی۔ تمام خوراک اور اجناس حکومت کے قبضے میں ہوتی تھی اور کارخانوں میں کام کرنے والوں کی غذائی ذمہ داری پوری کرنا حکومت کے لئے آسان تھا۔ اس کا نتیجہ دیہات کی زراعت پیشہ آبادی کی بدحالی کی شکل میں نکلا۔چنانچہ زرعی پیداوار کم ہوتی چلی گئی اور غذائی اجنا س کی قلت ہوگئی۔ لوگ فاقوں سے مرنے لگے۔ قحط پڑ گیا جس سے 60,00,000 افراد ہلاک ہوئے۔جن لوگوں نے اس نظام کی مزاحمت کی انہیں ہزاروں کی تعداد میں قتل کردیا گیا۔لاکھوں کو گرفتار کرکے سائبیریا کے کیمپوں میں پھینک دیا دیاگیا جس سے لاکھوں اموات ہوئیں۔ اس نظام کے تحت نہ تو اجتماعی زراعت کا تجربہ کامیاب ہوا اور نہ قومی ملکیت میں صنعت کاری کامیاب ہوسکی۔
1928 سے پہلے زیادہ تر روسی دیہات میں رہتے تھے۔ جب صنعت کاری کا عمل شروع ہوا اور دیہات میں کام کرنے کے مواقع کم ہونا شروع ہوئے تو لوگوں نے شہروں کا رخ کرنا شروع کیا تاکہ کارخانوں میں ملازمتیں کرسکیں۔ شہر بے روزگاروں سے بھر گئے۔ اسٹالن اور اس کے بعد خروشچیف کے دور حکومت میں وسائل کا استعمال درست انداز میں نہیں ہوسکا۔ اس کا نتیجہ نکلا کہ 1928 سے 1960 کے دوران سالانہ شرح نمو کبھی 6 فیصد سے زیادہ نہ بڑھ سکی۔ اسٹالن کے دور میں وسائل کا انتہائی احمقانہ انداز میں استعمال کیا گیا۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود یہ اقتصادی ترقی محدود تھی۔
اس کے باوجود سوویت لیڈروں کا خیال تھا کہ ان کے ملک کی اقتصادی ترقی کی رفتار مغرب سے زیادہ ہے۔ چنانچہ 1956 میں خروشچیف نے مغربی سفارتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمہیں اپنی صنعتی پیداوار کے ڈھیر میں دفن کردیں گے۔ 1977 میں ایک برطانوی ماہر اقتصادیات نے اپنی کتاب میں لکھا کہ روس میں اقتصادی ترقی کی رفتار یورپ اور امریکہ سے زیادہ ہے مغرب کو صرف سیاسی آزادیوں کی وجہ سے سبقت حاصل ہے۔ حد یہ ہے کہ نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات پال سیموئیل سن نے 1961 میں پیشنگوئی کی کہ 1997 تک سوویت یونین ترقی کے میدان میں امریکہ سے آگے نکل جائے گا۔ اگرچہ اسٹالن اور اس کے بعد کے سوویت لیڈروں کے زمانے میں پیداواریت کے اعتبار سے روس نے کافی ترقی کی لیکن ترقی کا یہ عمل ہمیشہ یکساں نہیں رہا۔1977 کے عشرے میں اقتصادی ترقی کی رفتار گھٹنا شروع ہوگئی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ کام کرنے والوں کے لئے ترغیبات کی عدم موجودگی اور اشرافیہ کی جانب سے مزاحمت تھی۔ لوگوں کو کام کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے بونس اسکیمیں بھی جاری کی گئیں لیکن اس سے زیادہ فرق نہیں پڑا۔ اور روسیوں نے صرف دفاع اور خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کی یکساں رفتار برقرار رکھی۔ دیگر میدانوں میں وہ ناکام رہے۔
غیر مستحکم جابرانہ حرفتی ادارے:
جنوبی وسطی امریکہ میں مایا تہذیب نے کامیاب حرفتی ادارے قائم کئے جن کے تحت بڑے پیمانے پر اقتصادی ترقی کی مثالیں سامنے آئیں۔ مایا تہذیب جنوبی میکسیکو، بیلز، گوئٹے مالا، اور مغربی ہنڈوراس میں پھیلی ہوئی تھی۔ ہر شہر میں الگ حکومت تھی۔ جہاں بڑے زمین دار بڑے بڑے قطعات اراضی پر فصلیں بوتے تھے ۔ ان کے کارندے زیادہ تر غلام یا نیم غلام ہوتے تھے جن سے جبر کے ذریعہ یہ کام لیاجاتا تھا۔مایا تہذیب کا آغاز 50 سال قبل مسیح میں ہوا۔ ابتدائی کوششیں ناکام ہوئیں لیکن مایا تہذیب نے اصل ترقی 250 عیسوی سے 900 عیسوی کے درمیان کی۔ اس عرصے میں مایا کلچر اور تہذیب کو بھرپور فروغ ہوا۔اس کے بعد مایا کا تہذیبی زوال شروع ہوا جو چھ سو سال میں مکمل ہوگیا۔16ویں صدی عیسوی میں اسپینی حملہ آور آئے اور انہوں نے اس تہذیب کو مٹاڈالا۔ پورا علاقہ جنگل میں تبدیل ہوگیا اور انیسویں صدی میں دوبارہ دریافت ہوا۔مایا کبھی بھی ایک سلطنت کی شکل میں متحد نہیں رہے۔ اگرچہ کچھ شہر دوسرے شہروں کے غلبے میں رہے۔ اسی طرح ان کی کوئی مشترکہ زبان نہیں تھی وہ کوئی 31کے لگ بھگ بولیاں بولتے تھے۔ ان بولیوں کے درمیان معمولی فرق تھا۔ مایا ماہر فن معمار تھے۔ انہوں مضبوط اور بلند عمارتیں بنائیں جن میں سے بہت سی ابھی تک موجود ہیں جن کی دیواروں پر ان کی تاریخ لکھی ہوئی ہے۔
مایا تہذیب کی تباہی کا سبب ان کے شہروں کے درمیان خانہ جنگی تھی۔ لیکن ہزار ڈیڑھ ہزار سال تک ان پر کسی بڑی غیر ملکی فوج نے حملہ نہیں کیا ورنہ ان کی تہذیب بہت پہلے مٹ جاتی۔ جب اسپینی فوج نے ان پر حملہ کیا تو وہ ا س کا مقابلہ نہ کرسکے۔ ان کا پورا اقتصادی نظام حرفتی تھا۔ بڑے بڑے قطعات اراضی کے مالک سردار، زمین دار اور بادشاہ جابرانہ نظام کے تحت غلاموں سے کام لیتے تھے جن کو بمشکل زندہ رہنے کے لئے معاوضے کی ادائیگی کی جاتی تھی۔اس نظام کی جھلکیاں جدید زمانے میں بھی نظر آتی ہیں کیونکہ اسپینی حملہ آوروں نے لوٹ کھسوٹ کا زیادہ جدید نظام رائج کیا۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

one × 1 =