قابلِ قدر قومی ادارے

قابلِ قدر قومی ادارے

ایک طرف کراچی پریس کلب ۔ دوسری طرف گورنر ہاؤس کے راستے پر ایک گلابی رنگ کی عمارت میں گزشتہ 70سال سے تحقیق ہورہی ہے ۔ اس کی لائبریری پاکستان کے چند سلیقے کے کتب خانوں میں سے ہے۔ مسرور حسن صاحب کی قائم کردہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کراچی ایک قابلِ قدر۔ اور وقیع ادارہ ہے۔ مارشل لاء میں یہاں بھی ایک ایڈمنسٹریٹر بٹھا دیے گئے تھے۔ جو موجودہ گورنر سندھ کے والد محترم جنرل(ر) عمر تھے۔ پھر یہ بڑی مشکل سے واگزار کروائی گئی۔ بائیں بازو کے معزز رہنما مزدور کسان پارٹی کے صدر جناب فتحیاب علی خان نے اس کی عنان سنبھالی۔ ان کی رحلت کے بعد ڈاکٹر معصومہ حسن اس کی سربراہ ہیں۔ جو فتحیاب علی خان مرحوم کی رفیقہ حیات اور مسرور حسن صاحب کی صاحبزادی ہیں۔ سابق بیورو کریٹ ہیں۔ بہت اچھی مقرّر۔ اور مصنّف ۔ یہ انسٹی ٹیوٹ اپنے 70سال ایک بین الاقوامی سیمینار کی صورت میں منارہی ہے۔ ایسے قومی ادارے قابلِ قدر ہیں جو تسلسل سے قومی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اس سال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز،کراچی جو پاکستان کا قدیم ترین تھنک ٹینک ہے اپنے قیام کی 70 ویں سالگرہ منارہا ہے۔اس ادارے کا قیام ایک آزاد، غیر سیاسی اور غیر منافع بخش ادارے کے طور پر 1947 میں عمل میں آیا

جو بین الاقوامی تعلقات، اقتصادیات اور فلسفہ قانون کے میدان میں تحقیق و مطالعہ کے لیے وقف ہے۔اپنی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام 15-16 نومبر 2017 کو ’’جنوبی ایشیا میں امن: مواقع اور چیلنجز‘‘ کے موضوع پر ایک علاقائی کانفرنس منعقد کی جارہی ہے۔ممتاز تھنک ٹینکس، ماہرین تعلیم اور سفارت کاروں کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
جنوبی ایشیا بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، مالدیپ، نیپال، پاکستان،سری لنکا اور افغانستان پر مشتمل ہے جو دنیا کا انتہائی گنجان آباد خطہ ہے۔اس کی آبادی ایک ارب 80 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے جو دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی اور ایشیا کی آبادی کا لگ بھگ 40 فی صد ہے۔دنیا کی دو عالمی جوہری طاقتیں یعنی پاکستان اور بھارت جنوبی ایشیا میں واقع ہیں اور اس خطے کے عسکری اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے۔اس خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔کیونکہ بین الریاستی جھگڑے، دہشت گرد،غیر سیاسی اداکار، پانی کی تقسیم

اور شراکت پر تنازعات، موسمیاتی تبدیلیاں، ماحولیاتی خرابیاں، مہاجرین کی نقل مکانی، غیر قانونی ہتھیار، انسانی اور منشیات کی اسمگلنگ اس کا سبب ہیں۔اس خطے کے سماجی اشارات/ انڈیکیٹرز کے مطابق آبادی کا بہت بڑا حصہ غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرتا ہے۔
دوسری جانب جنوبی ایشیا، دریافت شدہ اور غیر دریافت شدہ قدرتی وسائل کے اعتبار سے انتہائی دولت مند ہے۔یہ تنوع کے اعتبار سے بھی انتہائی متمول خطہ ہے اور بہت سے مذاہب کا مسکن ہے۔ یہاں سیکڑوں زبانیں اور بولیاں بولی جاتی ہیں اور بے شمار کلچرز پائے جاتے ہیں۔یہاں دنیا کے چار سب سے بڑے شہر کراچی، ممبئی، ڈھاکا اور دہلی ہیں۔ آبادی میں نوجوانوں کا غیر معمولی زیادہ تناسب ترقی کے لیے بہت بڑا اثاثہ ہے۔جنوبی ایشیا میں اکیسویں صدی میں کروڑوں افراد کی زندگی کے لیے امن کی آج جتنی سخت ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔اکیسویں صدی کو بلاشبہ ایشیائی صدی کہا جاتا ہے۔
کانفرنس کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
1 ۔ مواقع: طبعی، اقتصادی، تکنیکی باہمی ربط، تجارتی لنکس اور راہداریاں، لوگوں کے لوگوں کے ساتھ رابطے، غیر رسمی سفارت کاری،ثقافتی مبادلے، معاشرتی اور خواتین کے مسائل پر نیٹ ورکنگ۔
2 ۔ چیلنجز: علاقائی کشیدگی اور تناؤ کم کرنا، ملکوں کے درمیان تنازعات کو حل کرنا، جوہری سلامتی کا حصول، دہشت گردی کے خلاف جنگ، پانی سے متعلق مسائل حل کرنا، موسمیاتی تبدیلیوں سے لاحق خطرات کا مقابلہ۔
علمیت، اسکالر شپ اور باہم بات چیت یعنی ڈائیلاگ سے جنوبی ایشیا میں تنازعات کو طے کرنے اور امن کی بحالی میں یقیناً مدد مل سکتی ہے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

1 × 1 =