صنعت کار صاحبِ کتاب

صنعت کار صاحبِ کتاب

خلیل احمد نینی تال والا۔ عوامی کالم نویس ہیں۔ کتابوں کے سرپرست بھی ہیں اور خود بھی 8 کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی ہر کتاب کی رونمائی کی تقریب ہمیشہ شاندار اور سامعین سے بھرپور ہوتی ہے۔ ان کے اپنے شادی ہال میں۔ اس لیے کسی فائیو اسٹار ہوٹل کا زیر بار نہیں ہونا پڑتا۔ پرتکلف عشایئے کا اہتمام ہوتا ہے۔ ابھی ان کی آٹھویں کتاب ’میرے سیاسی تجزیے‘ بڑے سلیقے سے شائع ہوئی تو اس میں ہمیں بھی مقرر کی حیثیت سے مدعو کیا گیا۔ وہاں جو چند سطور پڑھیں۔ وہ نذرِ قارئین ہیں۔ یہاں جنرل (ر) معین الدین حیدر بھی مقررین میں تھے اور جسٹس (ر) حاذق الخیری بھی۔ اقبال یوسف بھی۔تقریب حسبِ معمول بہت پُر ہجوم۔

میں خلیل صاحب کا شکر گزار ہوں کہ اپنی ہر کتاب کی رونمائی میں شرکت اور خطاب کی دعوت دیتے ہیں۔ بڑے اخباری گروپ سے الگ ہونے کے بعد اکثر مصنفوں۔ انجمنوں نے بلانا چھوڑ دیا ہے۔ مگر خلیل صاحب کی نظر کرم اسی طرح ہے۔ خلیل صاحب سے ہماری یاداللہ برسوں پرانی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور کی۔ منفی بنیادوں پر قائم ہونے والا یہ تعلق اب برس ہا برس سے مثبت خطوط پر استوار ہے۔ ہم نے انہیں ایک صنعت کار سے سیاست دان بنتے دیکھا۔ سیاسی پارٹیوں پر انہوں نے بہت سرمایہ کاری کی۔ کئی کئی سو مہمانوں کی میزبانی کرتے تھے۔ مگر یہ سرمایہ کاری کسی کام نہ آئی۔ یہ سیاست سے بے زار ہوتے چلے گئے۔ اچھا ہی ہوا۔ ورنہ آج خواتین کے ایس ایم ایس میں ان کا نام بھی آرہا ہوتا۔ انہوں نے سیاست اس زمانے میں کی جب صرف لینڈ لائنز ہوتی تھیں۔
’میرے سیاسی تجزیے‘ ان کی آٹھویں تصنیف ہے۔ پہلی خوش آئند بات تو یہ ہے کہ ایک امیر کبیر صاحب ثروت۔ اب بھی کتاب کے عشق میں مبتلا ہے۔ اپنے اظہار کے لیے کتاب کو اہم وسیلہ خیال کرتا ہے۔ کالم نویسوں کے تو آج کل جمعہ بازار۔ اتوار بازار لگے ہوتے ہیں۔ سب کسی نہ کسی کے لیے لکھتے ہیں۔ کوئی تخت لاہور کے لیے قلم اٹھاتا ہے۔ کچھ جی ایچ کیو کے اشارے پر لکھتے ہیں۔ کچھ زرداری ہاؤس اسلام آباد کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں۔ کچھ بنی گالا سے روحانی فیض حاصل کرتے ہیں۔ کچھ لسانی اور نسلی کشید کرتے ہیں۔ کچھ کو منبر و محراب سے آسودگی میسر آتی ہے۔ لیکن خلیل احمد نینی تال والا کے کالم عوامی کالم ہوتے ہیں۔ عوام کے مسائل پر۔ عوام کے پڑھنے کے لیے۔ اس لیے ان کے موضوعات میں بہت تنوع اور بہت وسعتیں ہوتی ہیں۔ صرف وزیر اعظم ہاؤس۔ قومی اسمبلی۔

صوبائی اسمبلیوں کا طواف نہیں کرتے ہیں اس ہفتے جو بھی مسئلہ خلق خدا کو سب سے زیادہ پریشان کررہا ہوتا ہے۔ اس پر ان کا قلم اٹھتا ہے۔ وہ پیٹرول کی قیمت بھی ہوسکتی ہے۔ عام چیزوں کی مہنگائی بھی۔ الیکشن بھی۔ کرکٹ بھی۔ عدلیہ بھی۔ تعلیم بھی۔ بنگلہ دیش میں محصور پاکستانی۔ نئے صوبے۔ حج اور عمرے کی تکالیف بھی۔
اس لیے ان کے کالم بڑے جید اور جفادری کالم نویسوں کی تحریروں سے زیادہ مقبول ہوتے ہیں۔ عام لوگوں کی زبان عام گھروں میں بولے جانے والے محاورے۔
کالم نویسوں کی منزل آج کل اینکر پرسن بننا ہے یا تجزیہ کار یا پھر کسی وزیراعظم کے مشیر۔ الحمدللہ خلیل صاحب ان آلائشوں سے پاک ہیں۔ ٹی وی چینلوں پر بھی کم نظر آتے ہیں۔ یہی ان کی صحت کا راز بھی ہے۔ اچھا کھاتے ہیں، اچھا پہنتے ہیں، جوان رہنا چاہتے ہیں، جوان نظر آتے ہیں۔
موضوعات بہت بکھرے ہوئے ہیں۔ گوادر سے لاہور تک۔ پاکستان سے امریکہ کینیڈا تک کہیں بھی کوئی موضوع انہیں دعوت کلام دیتا ہے۔ یہ لکھنے بیٹھے جاتے ہیں۔ سفر بہت کرچکے ہیں۔ ہوائی، زمینی، بحری، 100 سے زیادہ شہر دیکھ چکے ہیں۔ اس لیے ان کی خواہش رہتی ہے کہ کراچی بھی دنیا کے ترقی یافتہ شہروں کی طرح خوبصورت ہو۔ شہریوں کے لیے زیادہ سے زیادہ آسانیاں ہوں۔
صنعت کار ہیں۔ پیسے والے ہیں۔ ملک میں بھی پیسہ ہوگا۔ بیرون ملک بھی۔ انہیں ڈالر کے مہنگا ہونے پر خوش ہونا چاہیے۔ مگر یہ پاکستانی روپے کی بے قدری میں بہت گھلتے رہتے ہیں۔ ڈالر کی فکر میں بہت زیادہ کالم لکھے ہیں۔ ڈاکٹر مبشر حسن کے دور میں ڈالر 6 سے 9 روپے کا ہونے سے لے کر 106 روپے کا ہونے تک ان کے کالموں میں بار بار آتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے ایک دوست کی بیگم کی جائے نماز پر ڈالر 100 کا ہونے کی دعاؤں کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ ڈالر کو روپے کے برابر لانا چاہتے ہیں۔ اس کے پس منظر میں ان کی پاکستانیت تو ہوسکتی ہے صنعت یا تجارت نہیں۔ ڈالر کو اگر اپنے وطن کی کرنسی کے برابر لانا ہے تو صرف دعاؤں سے کام نہیں چلے گا۔ بہت محنت کرنا پڑے گی۔ اس کے لیے ہم ترکی کے عظیم رہنما طیب اردگان سے سبق حاصل کرسکتے ہیں کہ کبھی ایک ڈالر کے ہزاروں ترکش لیرے ملتے تھے۔ اب ایک ڈالر صرف تین لیرے کا ہے۔
میں خلیل صاحب کو ان کی آٹھویں کتاب پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ان کے اکثر تجزیے۔ پیشگوئیاں صحیح ثابت ہوتی ہیں۔ کیونکہ لکھنے والے کی انگلیاں حالات کی نبض پر ہوں تو اس کی تشخیص درست ہوتی ہے لکھنے والے کی نظریں رائے ونڈ، بلاول ہاؤس یا منصوبے یا جی ایچ کیو پر ہوں تو اندازے اکثر غلط نکلتے ہیں۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

five × five =