شامی خاتون کی ڈائری قسط نمبر1

شامی خاتون کی ڈائری

قسط نمبر1

پیش لفظ

کبھی کبھی حقیقت ایک تخیلاتی کہانی کے مقابلے میں زیادہ دلچسپ ہوتی ہے۔ایک ذہین فلم ساز ایک اچھے کیمرا مین کی مدد سے ایک واقعہ کو غیر معمولی فلم میں تبدیل کردیتا ہے جو بہت سی فلموں سے زیادہ اثر انگیز ہوتی ہے۔ ایک غیر افسانوی بیانیہ اگرچہ شاعرانہ ہوتا ہے لیکن حقیقت بیان کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے کیونکہ مصنف کا واحد سہارا اس کے الفاظ ہوتے ہیں۔ بہت کم قلم کاروں میں یہ وصف پایا جاتا ہے اور سمر یزبک ان میں سے ایک ہیں۔ اس شامی مصنفہ اور دستاویزی فلم ساز نے ایک سو دن تک مسلسل اپنے وطن میں گزرنے والے اس خونی انقلاب کی دستاویز بندی کی۔ وہ خود اس بھیانک تجربے سے گزری۔جب بھی اسے موقع ملا اس نے ان گھنٹوں اور دنوں کا بیان اپنی طاقتور زبان میں قلم بند کیا اور اپنے جذبات اس تحریر میں سمودئے۔اس نے معصوم لوگوں کو اپنے اردگرد قتل ہوتے، شدید زخمی ہوکر سسکتے اور مرتے دیکھا ۔ حالانکہ وہ خوف کا شکار تھی کہ وہ خود اور اس کی پیاری بیٹی کی زندگی خطرے میں ہے اور وہ اگلے دن کا سورج دیکھ بھی سکے گی یا نہیں۔اسے بار بار شامی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے تفتیش اور پوچھ گچھ سے واسطہ پڑا۔ اس نے یہ سب شاعرانہ انداز میں لکھا دیا۔ اس شاعرانہ تحریر میں قارئین سمر یزبک کے ساتھ چلنے والی انتفادہ کے سچے تجربے سے گزارے اور انہوں نے اس تحریر کو اسی طرح محسوس کیا جس طرح یہ واقعات اپنی دہشت ناکی کے ساتھ رونما ہوئے۔
سمر یزبک اس انقلاب کی عینی شاہد ہے۔ اس نے اپنی زندگی کو داؤ پر لگاتے ہوئے زخمی مظاہرین کی مرہم پٹی اور تیمار داری کی اور ان بچوں کی دیکھ بھال کی جن کے والدین کو سیکیورٹی اہلکار اٹھا کر لے گئے تھے۔ سب سے زیادہ حیرت انگیز اس کا خود اپنے قبیلے یعنی علویوں کے ساتھ طرز عمل تھا جس کا مظاہرہ انتہائی جرات کے ساتھ اس نے کیا۔ علوی اقلیت شام کی حکمراں تھی۔ اس نے علویوں کے خلاف آواز بلند کرکے اپنی زندگی خطرے میں ڈالی۔اپنے خاندانی گاؤں میں اسے علویوں نے سازشی کا لقب دیا اور حکمرانوں کی تنظیم شبیہہ کے ٹھگ علوی ہر وقت اسے نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف رہتے تھے۔علوی ملیشیا الشبیھہ کے ہرکارے پیشہ ور قاتل، مجرم اور کرائے کے فوجی تھے جو معمولی معاوضہ پر حکمرانوں کے لئے ہر برا کام کرنے کو تیا ررہتے تھے۔وہ بچے بوڑھے اور عورت ہر ایک کو ذرہ برابر رحم کھائے بغیر قتل کردیتے تھے۔سمر کو یوں لگتا تھا کہ جیسے اپنے گاؤں کی گلیوں میں اور سڑکوں پر اٹھنے والا اس کا ہر قدم آخری ہے۔آخر اس غیر معمولی عورت نے ایک کھاتے پیتے متمول علوی خاندان کی آسائشوں کو چھوڑ دینے کا حوصلہ کیسے پیدا ہوا؟ یہ سب اس ڈائری میں بیان کیا گیا ہے۔ اس نے شام کے مظلوموں کے حق میں آواز اٹھائی جو زیادہ تر غیر علوی تھے۔
سمر یزبک 1970 میں جبلہ کے ممتاز علوی خاندان میں پیدا ہوئی۔یہی وہ سال تھا جب بشار الاسد کے باپ حافظ الاسد نے حکومت کا تختہ الٹ کر ایک بدترین آمریت قائم کی جس کی بنیاد اپنے قبیلے اور فرقے پر تھی۔ شام جو کبھی ایک متحرک اور زندہ ملک تھا اسد خاندان کے باڑے میں تبدیل ہوگیا۔سمر یزبک نے شروع میں مختصر کہانیاں اور ٹی وی ڈرامے تحریر کئے جن میں سے کچھ سرکاری ٹی وی پر نشر ہوئے۔ اس نے دستاویزی فلمیں بنائیں ۔ اس نے اپنے ناولوں کی وجہ سے شہرت حاصل کی جن میں وہ ان حدود سے تجاوز کرگئی جو حکمرانوں نے مقرر کی تھیں اورعلویوں کی منافقت، اور کرپشن کا پردہ چاک کیا۔اس کے ناولوں پر سرکاری دانش وروں نے سخت تنقید کی لیکن خود اس کا تعلق بھی علویوں سے تھا س لئے اسے کوئی سخت سزا نہ مل سکی۔سمر یزبیک نے خواتین کے حقوق کے لئے بھی آواز اٹھائی۔ 15 مارچ 2011 کو شامی انقلاب کا آغاز ہوا لیکن اس سےبہت پہلے وہ علویوں کی آمریت کے خلاف بغاوت کرچکی تھی۔کمزوروں اور مظلوموں کے ساتھ ا سکی ہمدردی اور یک جہتی بشارالاسد کے ساتھ براہ راست تصادم کا سبب بنی۔جوں ہی انقلاب کا آغاز ہوا وہ اس کا حصہ بن گئی اور احتجاجی تحریک میں شامل ہوگئی۔
علوی صدر حافظ الاسد ہو یا بیٹابشار الاسد ان کا مذہب سے تعلق ان کی منافقت کا شاہکار تھا۔ وہ جب دمشق کی جامع مسجد میں سنی مفتی کی اقتدا میں نماز پڑھتے تو یہ منافقت اپنی انتہا پر ہوتی۔کیونکہ مذہبی طور پر علوی سنیوں خاص کر امویوں کو اپنا بدترین دشمن تصور کرتے تھے اور شام کے سنی مفتی اموی تھے۔جب کوئی سنی علویوں کی مخالفت کرتا تو اسے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جاتا اور اگر وہ علوی ہوتا تو اسے شروع میں چپکے چپکے دھمکیاں دے کرباز رکھنے کی کوشش کی جاتی۔ یہی سب سمر یازبک کے ساتھ ہوا۔اسے تمام مراعات سے محروم کردیا گیا اور اس پر سازشی اور غدار کا لیبل چسپاں کردیا گیا۔
سمر یازبیک کی پوزیشن کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اسد آمریت کا جائزہ لیا جائے۔اسد نے دو کروڑ شامیوں کو قید خانوں میں ڈال رکھا تھا اور بشار الاسد خود اس نظام کا قیدی تھا۔وہ جب بھی اصلاحات کی بات کرتا تو جھوٹ بولتا کیونکہ وہ کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ شاہراہوں اور گلیوں میں انصاف لانے کے لئے ضروری تھا کہ وہ ان 15 جاسوسی اداروں کو ختم کرتا ، ایک لاکھ سیاسی قیدیوں کا رہا کرتا اور 4,000 معصوم لوگوں کے قاتلوں کو سزا دیتا۔اس کے بغیر تنخواہوں میں اضافہ یا صحت کی سہولتوں کی فراہمی بیکار تھی۔وہ گیارہ سال سے مسلسل اصلاحات کا نعرہ لگاتا رہا لیکن اس کے والد نے نا انصافی پر مبنی جو نظام بنایا تھا اسے درست کرنا ناممکن تھا۔ عرب آمروں کو یہ خیال رہتا ہے کہ وہ پیدائشی ہیرو ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ حکومت کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ اور اگر وہ مریں گے تو ایک شہید کی موت مریں گے خواہ انہیں بستر پر موت آئے یا اقتدار اور دولت کے حصول کی جنگ میں مارے جائیں ۔شہادت کا سرٹیفکیٹ تو ان کے لئے پکا ہے ہی۔حافظ الاسد ، صدام حسین، قذافی اور علی صالح ان سب نے غربت میں آنکھ کھولی لیکن ان پر قسمت کی دیوی مہربان ہوگئی اور انہیں اقتدار مل گیا۔اقتدار میں آنے کے لئے انہوں نے شیطان کے ساتھ معاہدہ کیا۔انہوں نے مملکت کو تباہ کرکے مافیا کی قسم کے ادارے کی بنیاد رکھی جس کی مدد سے وہ حکومت کرتے رہے۔ایوان اقتدار کے تمام عہدے ان کے بھائیوں، بیٹوں اور دیگر عزیزوں میں تقسیم تھے۔ جب عزیزوں کو عہدے مل گئے تو دیگر اقربا کی باری آئی اور انہیں بھی نوازا گیا۔ اس طرح اقتدار کا اہرام تعمیر ہوا۔جو حکومت جتنا زیادہ عرصہ اقتدار میں رہی اتنا ہی زیادہ عوام پر ظلم کرنے میں کامیاب رہی۔حافظ الاسد کا اقتدار 40 سال تک قائم رہا۔ بشار الاسد کا باپ زیادہ ذہین تھا اور جانتا تھا کہ علوی اقلیت تن تنہا حکومت نہیں کرسکتی۔ ا س لئے اس نے کچھ سنی لیڈروں کو بھی مال بنانے کے مواقع دئے لیکن سیاسی اقتدار میں حصہ نہیں دیا۔ اس لئے اسلام پسندوں کی جنگ صرف علویوں سے نہیں تھی۔یہ نظام ایسا تھا جس میں مراعات یافتہ سنی یا عیسائی جنرل ہمیشہ ایک علوی کارپورل کے تحت کام کرتے تھے۔یہ فوج کا قاعدہ نہیں تھا لیکن مافیا کا طرز یہی تھا۔ اس نظام میں آگے بڑھنے کی شرط وفاداری تھی۔اس لئے اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں تھی کہ صرف “یس مین” ہی ترقی کرسکتے تھے۔کیونکہ صدر صرف ایسے لوگ چاہتا تھا جو اس کی پالیسیوں کی تائید کریں۔صدر کی تصویریں بڑی سے بڑی ہوتی جارہی تھیں۔دریائے فرات پر آبی ذخیرہ اور قومی لائبریری کو صدر کے نام سے منسوب کردیا گیا تھا۔کتابوں میں اسے ایک ہیروکے طور پر پیش کیا جارہا تھا۔اس کی تعریف میں شاعر نظمیں لکھ رہے تھے۔میڈیا اس کے سامنے حالت رکوع میں تھا اور اسے ایک عظیم قومی شخصیت بناکر پیش کررہا تھا۔قذافی، صدام، اور اسد کو کس طرح اپنی ذہانت کے بارے میں کوئی شبہ ہوسکتا تھا۔تمام عرب ڈکٹیٹروں کے درمیان ایک قدر مشرک تھی۔الجزائر کے بن علی سے لے اسد تک ہر ڈکٹیٹر اپنے اہرام میں بلند ترین مقام پر تھا اور عوام کے جذبات سے قطعی ناواقف تھا۔ وہ کبھی تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ یہ کیڑے موڑے اور چوہے(یعنی عوام) کبھی ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔بشار الاسد کو یہ تصور ہی نہیں تھا کہ کوئی انقلاب پرامن بھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے ان مظاہروں کے لئے وہ مغرب کو ذمہ دارتصور کرتا تھا۔اس طرح اس نے اپنے استعماری ذہن کی جھلکیاں دکھائیں۔ مجھے 15 مارچ 2011 تک یہ اندازہ نہیں تھا کہ عوام کے اندر اس ظالمانہ اقتدار کے خلاف کیا کھچڑی پک رہی ہے۔کوئی تصور نہیں تھا کہ کچھ ہونے والاہے۔تمام سیکریٹ سروسز ، سرکاری ادارے، اپوزیشن، اور جلاوطن شامی لیڈر سب بے خبر تھے۔ اگر کوئی دعوی کرتا تھا تو وہ جھوٹ بولتا تھا۔انقلاب کا آغاز جنوب کے ایک دھول آلود غریب قصبے درعا سے ہوا۔قصبے کے معصوم نوجوانوں نے دیواروں پر یہ نعرہ لکھ دیا،” ڈاؤن ودھ کرپشن” ۔درعا کی میونسپل سیکرٹ سروس کے سربراہ عاطف نجیب نے جو صدر اسد کا عزیز تھا ان نوجوانوں کو گرفتار کرلیا اور بدترین ٹارچر کا نشانہ بنایا۔ جب بچوں کے والدین نے اپنے بچوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا۔ان کو بھی ٹارچر کیا گیا۔یہ واقعہ اونٹ کی پیٹھ پر تنکا ثابت ہوا۔اس واقعہ کے خلاف قصبے میں مظاہرے ہوئے۔ یہ مظاہرے اسد کے خلاف نہیں تھے بلکہ مظاہرین ایک سرکاری افسر کی زیادتیوں کے ؒ خلاف احتجاج کررہے تھے۔ لیکن سیکرٹ سروس نے پرامن مظاہرین پر فائر کھول دیا۔ اس کے بعد حالات مزید خراب ہوئے اور صدر نے قصبے میں فوجی دستے بھیج دئے۔جنہوں نے پرامن مظاہرین کو گولیوں کا نشانہ بنانا شروع کیا۔ لیکن اس سے مظاہرے بند نہیں ہوئے۔اب مظاہرے روز کا معمول ہوگئے۔ یہاں سے تحریک دوسرے قصبوں کی جانب پھیلنے لگی۔ان قصبوں میں لوگ روزانہ مظاہرے کرتے اور درعا کے قصبے کے شہریوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ مزاحمت کھلی بغاوت کی شکل اختیار کرگئی۔ سمر یازبیک ان واقعات کو قریب سے دیکھ رہی تھی اور ان مظاہروں میں شریک تھی۔اسد کی سیکرٹ سروسز پہلے ہی اس کے پیچھے تھیں اس لئے وہ زیر زمین جانے پر مجبور ہوگئی۔ وہ چھپ کر کارکنوں سے ملتی، ان کی کہانیاں سنتی جو ظلم و ستم کی داستانوں سے بھری ہوتی تھیں۔ اس نے ان کہانیوں کو عربی زبان میں تحریر کرنا شروع کیا جو بعد میں “ویمن ان کراس فائر” کا حصہ بنیں۔
دوسرے کارکنوں کی طرح سمر بھی گرفتار ہوئی، اسے ٹارچر کیا گیا اور اس پر بدترین ظلم اور تشدد کیا گیا۔ اس کے خلاف ہینڈ بلز نکالے گئے۔ سمر بہت جلد میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی اور عالمی سطح پر اس کا نام لیا جانے لگا۔ سرکاری میڈیا سے اس کے کردار پر کیچڑ اچھالی جانے لگی۔ جب سمر نے محسوس کیا کہ اس کی اور اس کی بیٹی کی جان خطرے میں ہے تو اس نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی سب سے قیمتی چیز ڈائری تھی جو اس کتاب کی شکل میں شائع ہوئی اور جس میں انقلاب کی جدو جہد کو بیان کیا گیا تھا۔سمر نے انقلاب کی ایک ایک تفصیل بیان کی کہ کس طرح شامی سیکرٹ سروس ان لوگوں کو تلاش کرتی رہتی ہے جو مزاحمت کے اصل ہیرو ہیں۔
رفیق شامی، بہار، 2012
25 مارچ 2011
یہ سچ نہیں ہے کہ موت جب آتی ہے تو وہ آپ کی بصیرت چھین لیتی ہے۔ یہ بھی سچ نہیں کہ محبت کی تمنا موت کی خواہش کے مماثل نہیں۔ شاید ان کا تقابل ان کے خالی پن میں کیا جاسکے اگرچہ دونوں تغافل میں گم ہیں۔ محبت میں دوسرے شخص سے رابطہ رہتا ہے اور موت میں خود اس سے۔انسان ہمیشہ یہ سمجھتا رہا ہے کہ موت میں زندگی سے زیادہ عزت ہے۔حد یہ ہے کہ وہ لوگ بھی جو چند لمحے پہلے ہمارے ساتھ تھے جب مر کر غائب ہوتے ہیں تو تاریکی کا حصہ بن جاتے ہیں۔
میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ میں اس وقت سکون سے ہوں لیکن میں خاموش ہوں۔میرا دل اس طرح دھڑک رہا ہے جیسے کہیں دور سے توپوں کی دھمک سنائی دے جو فائرنگ کی آواز سے زیادہ ہم آہنگ ہوتی ہے۔جو دہشت سے چلانے والے بچوں اور بین کرتی عورتوں سے زیادہ واضح ہوتی ہے۔میری ماں کی طرح جو چلا چلا کر مجھے گلیوں میں جانے سے منع کیا کرتی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ :
ہر طرف قاتل ہیں۔
ہر طرف موت ہے۔
گاؤں میں۔ شہر میں۔
ساحل پر۔
ہر طرف قاتل پھیلے ہوئے، وہ پڑوسیوں کے گھروں کاکھیراؤ کرچکے ہیں اور انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں کہ انہیں کس طرح ذبحہ کریں گے۔ ا سکے بعد ہمارا نمبر ہے۔ وہ ہمارے ساتھ بھی یہی سلوک کریں گے۔ وہ ہم سب کو قتل کردیں گے۔
میں اس کی عادی نہیں۔ میں تو اس طرح کی زندگی کی عادی بھی نہیں۔ میں اس ماحول سے تعلقنہیں رکھتی۔میں ایک آزاد جنگلی وحشی جانور کی طرح فرار کے راستے ڈھونڈ رہی ہوں، یہاں کچھ نہیں سوائے میرے وجود کہ جو مجھے اپنی موجودگی کا احساس دلارہا ہے۔ جب انقلاب شروع ہوا تو میں اپنے گھر کی کھڑکی سے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ میری آواز گُھٹ کر رہ گئی تھی۔میں بس یہ چاہتی تھی کہ جبر کا یہ لمحہ جلدی سے گزر جائے۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ ماحول میرے اعصاب کو اس قدر کمزور کردے گا کہ میں ٹوٹ جاؤں گی۔ میں جو خوود کو بہت بہادر سمجھتی تھی خوف کے عالم میں زندگی سے چمٹ جاؤں گی۔ خوف ! کیسا خوف ! کس کا خوف؟لوگ یہاں اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ خوف جو سانسوں میں بس گیا ہے۔ہر طرف خوف ہی خوف ہے۔ اندر بھی باہر بھی۔جب میں اور میری بیٹی پندرہ سال پہلے دمشق میں آئے تھے تو میرے بیگ میں ایک چاقو تھا جسے میں نے کبھی بیگ سے باہر نہیں نکالا۔لیکن یہ ہمیشہ میرے ساتھ ہی رہتا تھا۔ اس کا پھل چھوٹا لیکن تیز دھار والا تھا۔یہ میں نے خود حفاظتی اقدام کے لئے رکھا تھا۔ میں کہا کرتی تھی کہ کسی نے مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو میں اس کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گی۔ میں نے اس چاقو کو بہت کم استعمال کیا لیکن جب ضرورت پڑی تو اپنے دشمنوں کےء چہرے کے سامنے لہرایا۔ لیکن پھر میں یہ سوچنے لگی کہ اگر کسی نے میری عصمت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو اس سے پہلے میں یہ چاقو اپنے دل میں اتار لوں گی۔
جب میں اپنے دوستوں کے ساتھ مظاہروں میں جاتی تھی تو ہر وقت خدشہ رہتا تھا کہ سرکاری نشانچی ہمیں گولیوں سے اڑا دیں گے۔یہ وہی فوج تھی جس نے اپنے ہی ملک کے شہریوں کی گردنوں میں طویل عرصے سے غلامی کے طوق ڈالے ہوئے تھے۔ اپنے وطن کی عورتوں کی عزت نہیں کرتے تھے اور انہیں طوائفیں کہہ کر پکارتے تھے۔ جو اپنے ہی شہریوں کو سازشی قرار دے کر ان کے خون سے وطن کی زمین سرخ کردیتے تھے۔ میں سوچتی تھی کس طرح ایک انسان قتل کرنے والی مشین میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ آخر ان کے بال، آنکھیں اور دماغ سب کچھ ہمارے ہی تو جیسا ہے لیکن وہ قاتل کیوں بن گئے ۔پلک جھپکتے میں حقیقت خواب بن جاتی ہے لیکن حقیقت تلخ ہوتی ہے۔ ناول لکھنے کے لئے تصور ات کی کی ایک دنیا بسانی پڑتی ہے۔ لیکن تصورات اور خیالات سے حقیقت زیادہ تلخ ہوتی ہے۔
جب بثینہ شعبان ٹی وی اسکرین پر آتی تھی تو میری ماں سب بچوں کو چپ کردیتی تھی اور کہتی تھی کہ خاموشی سے سنو وہ کیا کہہ رہی ہے۔ وہ ہمیشہ سازشیوں اور فرقہ پرستوں کا تذکرہ کرتی۔ یہ سب سن کر میری ماں خوف زدہ ہوجاتی اور چلا کر کہتی ،”کھڑکیاں بند کردو!” ۔ اب میں ظلم کا شکار ہونے والے بچوں کے لاشے دیکھتی ہوں۔مجھے اس بچے کا چھوٹا سا چہرہ یاد ہے جس نے المرجہ اسکوائر میں مظاہرے کے دوران اپنے خاندان کے لوگوں کو فوج اور پولیس کے ہاتھوں پٹتے دیکھ کر مداخلت کی اور ا سکے نرم و نازک جسم کو فوجیوں نے ادھیڑ کر رکھ دیا۔میں نے ٹی وی پر ایک شخص کو کہتے سنا کہ درعا کے شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ میں ان شہیدوں کے خون پر شرمندہ ہوگئی۔کیا اپنے شہریوں کو خون سے نہلانے والے شہید تھے؟ میں بے چین ہوکر بالکنی پر نکل گئی۔ لیموں کے پودوں سے اٹھنے والی خوشبو نے مجھے پھر زندگی سے معمور کردیا۔ سکون کی لہر میرے رگ و پے میں دوڑ گئی۔بظاہر شہر میں سکون تھا لیکن سکون کا سینہ وقفے وقفے سے گولیوں کی تڑ تڑاہٹ سے چھلنی ہوتا رہتا تھا۔سادہ لباس والے سرکاری جاسوس سڑکوں پر ہر وقت رہتے تھے اور وہ جس گھر کی طرف اشارہ کردیتے سیکیورٹی فورسز اس گھر کے دروازے توڑ کر اندر گھس جاتیں۔ لوگوں کو محض شبے کی بنیاد پر سڑکوں پر گھسیٹا جارہا ہوتا۔بچے اپنے بڑوں کا یہ حال دیکھ دہشت سے چلا رہے ہوتے۔سڑکوں پر لوگوں کواس طرح بھونا جاتا جیسے وہ انسان نہیں جانور ہیں۔اب لوگوں نے اپنے گھر بار سمیٹ کر یہاں سے بھاگنا شروع کردیا تھا۔ہر طرف خوف کی فضا تھی۔ اچانک سادہ لباس لوگوں کے گروہ نمودار ہوتے اور خالی گھروں کے تالے توڑ کر لوٹ مار شروع کردیتے ۔ پولیس اور فوج ان کی طرف سے پیٹھ پھیر لیتی کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جو حکومت سے تعاون کررہے تھے۔ اس تعاون کے بدلے میں انہیں لوٹ مار کی آزادی دی گئی تھی۔مجھے شہر سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا۔ حد یہ ہے کہ میں ہوائی جہاز یا سمندر کے راستے بھی نہیں جا سکتی تھی۔میں جب بھی باہر نکلتی مجھے یوں لگتا کہ جیسے ہر ایک مجھے گھور رہا ہے۔ مجھے ہر طرف سے نظروں کے تیر چھلنی کئے ڈالتے۔ میں سب فریقوں کو جانتی تھی۔دمشق ایک مہربان شہر نہیں ایک جنگل بن گیا تھا۔

میں سوچتی کہ میں اس شہر میں کیوں ہوں؟ کیا میں مرنے کا انتظار کررہی ہوں؟ مجھ پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں تھا۔ نہ سنی نہ علوی۔ میرے خاندان کے لوگ مجھ کو شک کی نظر سے دیکھتے تھے۔ میں خود اپنے خاندان میں غیر تھی۔میں خون آلود گوشت کا ایک لوتھڑا تھی جس پر کمبل ڈال دیا گیا تھا۔میں بیک وقت گولیوں اور دعاؤں کی بلند آوازیں سنتی۔ قتل و غارتگری پر اکساتی نفرتیں اور نعرے ایک حقیقت تھے، موت بے حقیقت تھی۔ موت اب دو ٹانگوں پر چلنے والی مخلوق بن چکی تھی۔میں اپنے معاشرے، اپنے قبیلے، اپنے فرقے کی باغی تھی اس لئے وہ میری جان لینا چاہتے تھے لیکن میں تین مرتبہ ان کے چنگل میں پھنس کر بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔میں ان سے خوف زدہ نہیں تھی ا س لئے نہیں کہ میں بہت بہادر تھی۔ اس لئے کہ میں اب عادی ہوگئی تھی اور میں نے خوف و دہشت سے سمجھوتہ کرلیا تھا۔
آج جمعہ کا مبارک دن ہے۔ شام کے شہروں میں ہزاروں لاکھوں لوگ اس ظلم و جبر کے خلاف احتجاج کرنے باہر نکلے ہیں۔ صرف درعہ میں دولاکھ افراد اپنے شہیدوں کا غم منا رہے ہیں۔پورا قصبہ قریبی قبرستان کی جانب جاتا ہے ۔ان پر فائرنگ ہوتی ہے اور 15 افراد مزید شہید کردئے جاتے ہیں۔حمص میں تین افراد کو گولی ماردی گئی۔درجنوں لطاکیہ میں ہلاک اور زخمی ہوئے۔دمشق کے المیدان ضلع میں مظاہرین پر فائرنگ ہوئی درجنوں ہلاک اور زخمی ہوئے۔ فوج ہر اس شے پر فائر کررہی ہے جو حرکت کرتی نظر آتی ہے۔السمانیان میں فوج نے قتل عام کیا اور 20شہری مار ڈالے۔ میں اب موت سے خوف زدہ نہیں۔ ہم موت کے درمیان سانس لے رہے ہیں۔میں کافی پیتے ہوئے موت کا انتظار کررہی ہوں۔ اگرچہ مجھے پتہ ہے کہ میں خود اپنی قبر پر پھول نہیں ڈال سکوں گی۔
5 اپریل 2011
میں قاتلوں کے خوابوں میں گئی اور ان سے پوچھا،” جب گولیاں جیتے جاگتے انسانوں کے سینوں کے پار ہوتی ہیں تو کیا تم نے کبھی مرنے والوں کی آنکھوں میں جھانکا؟تم نے کبھی گولیوں سے بننے والے سوراخوں پر غور کیا؟ دمشق میں قاتل جلدی سوجاتے ہیں لیکن ہم بے چینی میں جاگتے رہتے ہیں۔موت کوئی سوال نہیں ہے۔ موت ایک کھڑکی ہے جو ہمارے سوالوں کے جواب دینے کے لئے کھلتی ہے۔ہمیں جواب چاہیئے تو اندر جاسکتے ہیں واپس نہیں آسکتے۔
میں اپنے گھر سے باہر کھلنے والی کھڑکی سے دور تک دیکھ سکتی ہوں۔ یہاں سے دور تک تمام اسکوائرز اور مسجدیں نظر آتی ہیں۔ یہ دوپہر کا وقت ہے اور سڑکوں پر سیکورٹی فورسز کے سوا کوئی نہیں ۔ لوگ اپنے گھروں میں خوف سے دبکے بیٹھے ہیں۔کہیں عام لوگ ہیں بھی لیکن کوئی یہ تمیز نہیں کرسکتا کہ یہ سادہ لباس والے سرکاری جاسوس ہیں یا عام شہری۔ لیکن میں سرکاری جاسوسوں کو بڑی حد تک پہچان لیتی ہوں۔ ان کی آنکھوں سے، ان کی چال ڈھال سے، ان کے جوتوں سے۔سوق الحمیدیہ اور باب توما کے قریب فوج کا گشت جاری ہے۔ میں جلدی جلدی ان کے قریب سے گزر جاتی ہوں۔مسجد امیہ کے قریب فوجیوں کا ہجوم ہے۔ اچانک مجھے کچھ اجنبی چہرے دکھائی دیتے ہیں۔وہ لمبے تڑنگے ہیں اور ان کے کسرتی جسم اور بازوؤں کے عضلات ٹیٹوؤں سے رنگے ہوئے ہیں۔وہ ہر طرف نظر رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن میں ان کو شناخت نہیں کرسکی۔ کیا وہ کسی غیر ملکی ایجنسی کے لوگ ہیں۔ نہیں نہیں! یہ شامی ہی ہیں کیونکہ وہ صدر بشار الاسد کے تصویروں والے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں۔
میں المرجیہ اسکوائر پہنچتی ہوں جہاں بہت کم عام لوگ ہیں ۔ ہر طرف فوجی پھیلے ہوئے ہیں۔16 مارچ کو یہاں لوگ سرکاری جیلوں میں قید اپنے پیاروں کی تصویریں لے کر کھڑے تھے۔ وہ یہ نعرے بھی نہیں لگارہے تھے کہ ان کے پیاروں کو رہا کیا جائے۔ یہ ایک خاموش مظاہرہ تھا جس میں مایوسی، اور غم کے ملے جلے جذبات غالب تھے۔ انہیں کوئی نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ سب کو معلوم تھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ میں بھی ان کے ساتھ کھڑی ہوگئی، میرے قریب ایک شخص اور اس کے دو بیٹے اپنی ماں کی تصویریں لئے کھڑے تھے جو سرکاری جیل میں تھی۔ اچانک ایک گلی سے کسرتی جسم اور سادے لباس والے افرا دکا ایک گروپ نمودار ہوا۔ انہوں نے صدر کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں انہوں نے اس چھوٹے سے مجمع پر مشتمل مظاہرین کو پیٹنا شروع کردیا۔مظاہرین اپنا دفاع نہیں کررہے تھے ۔ وہ خاموشی سے مار کھا رہے تھے۔ وہ ان لمبے تڑنگےسادہ لباس والوں سے ویسے بھی نہیں لڑ سکتے تھے۔ایک شخص نے ایک دکان کا شٹر اٹھایا اور مظاہرہ کرنے والی عورتوں کو ایک ایک کرکے اندر پھینکا اور باہر سے شٹر بند کردیا۔ْفوج اور پولیس خاموشی سے شہریوں کو ان غنڈوں کے ہاتھوں مار کھاتے دیکھ رہی تھی۔ میرے ساتھ کھڑے ہوئے شخص اور اس کے دس سالہ بیٹے کو بھی ان لوگوں نے مارنا شروع کیا ۔ میں نے چار سالہ بچے کو اپنی گود میں بھینچ لیا تاکہ اسے کوئی لاٹھی نہ لگ جائے۔وہ اپنے باپ اور بھائی کو مار کھاتے دیکھ کر رونے کے قریب تھا۔ دس سالہ لڑکے نے ان کے چنگل سے نکلنے کی کوشش کی تو اس کے سر پر ایک بٹ مارا گیا اور وہ بے ہوش ہوکر نیچے گر گیا۔ دو مضبوط بازؤں نے اسے اور اس کے باپ کو قریب کھڑی ایک بس کے اندر ٹھونس دیا۔ میں نے چار سالہ بچے کے بازو کو مضبوطی سے پکڑا اور گلی سے آگے کی جانب بھاگنے لگی۔ بچہ اپنے باپ اور بھائی کو مارنیو الوں سے لڑنا چاہتا تھا لیکن میں نے اسے روکے رکھا اور کہا کہ تم ابھی بہت چھوٹے ہو۔ اس نے پوچھا کہ کیا ا سکے باپ اور بھائی کو بھی جیل میں ڈال دیا جائے گا جہاں اس کی ماں بھی قید ہے۔ میں ا سکی بات کا کوئی جواب نہ دے سکی اور خاموش رہی۔میں اپنی امی جان کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ بچہ بولا۔ وہ خود صر ف اس لئے جیل جانا چاہتا تھا کہ اس کی ماں جیل میں تھی۔ میں نے بمشکل اپنے آنسوؤں کو بہہ نکلنے سے روکا اور بولی تم ابھی بہت چھوٹے ہو۔ تمہاری امی جیل سے رہا ہوکر جلدی آئے گی اور تمہیں ساتھ لے جائے گی۔ تم میرے ساتھ رہو ورنہ وہ تم کو ڈنڈوں سے ماریں گے۔ بچہ یہ سن کر ڈر گیا اور اس نے میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔
درحقیقت وردی والی پولیس اور فوج مظاہرین کو نہیں مار رہی تھی۔ ان کی جگہ سادہ لباس والے لائے گئے تھے جو اس طرح صدر کی تصویریں اٹھائے ہوئے تھے جیسے وہ صدر کی حامی کسی سیاسی جماعت کے کارکن ہیں۔ لیکن حقیقت میں وہ سادے لباس میں سرکاری اہلکار تھے جنہوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور ا سکے بعد انہیں سرکاری گاڑیوں میں بھر کے جیل بھیج دیا۔ شام کو سرکاری ٹیلی ویژن سے خبروں میں بتایا گیا کہ وزارت داخلہ کے دفتر کے قریب کچھ لوگوں نے مظاہر ہ کیا ۔جب عوام کا ایک گروپ صدر کی حمایت میں مظاہرہ کرنے وہاں پہنچا تو دونوں گروپوں میں تصادم ہوگیا۔ خبروں میں یہ بھی بتایا گیا کہ نقص امن کے اندیشے کے پیش نظر دونوں گروپوں کے کچھ لوگ حراست میں لئے گئے اور انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ انہیں جلد پراسیکیوٹر کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ میں سوچ رہی تھی کہ جدید دور میں پروپیگنڈا مشینری کو کس قدر مہارت سے استعمال کیا جاتا ہے۔ جو گروپ صدر کے جھنڈے لئے وہاں پہنچا اس کا عام شہریوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ سب خاص چال ڈھال کے لوگ تھے اور سادے لباس میں ہونے کے باوجود ان کی بدن بولی ثابت کررہی تھی کہ وہ سرکاری ایجنسیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے پرامن مظاہرین پر حملہ کیا، ان کے بینر اور کتبے چھین لئے ۔ان کو زد و کوب کیا اور انہیں گاڑیوں میں بھر کر جیل لے گئے۔ ان میں اس سے پہلے پکڑے جانے والے مظاہرین کے بچے ، بھائی بہن، والدین، اور دیگر عزیز و اقارب شامل تھے اور اس نام نہاد جمہوریہ میں ان کو اس کی اجازت بھی نہیں تھی کہ وہ اپنے پیاروں کی رہائی کا مطالبہ کرسکیں۔ ان کو جن عدالتوں میں پیش کیا جاتا تھا وہ سمری سماعت کی فوجی عدالتوں سے بدتر تھیں جو قیدیوں کو وکیل کی سہولت دئے بغیر سزائیں سناتی تھیں۔ میں سوچتی رہی اور کڑھتی رہی۔ کیا یہ سب ٹھیک ہوسکتا ہے؟ کیا مغرب میں انسانی حقوق کے محافظ ہونے کا دعوی کرنے والوں کو شام میں ہونے والی ان بہیمانہ کارروائیوں میں کوئی دلچسپی ہے؟ ان کا انصاف کا تصور اس قدر رنگدار کیوں ہے؟ جو جمہوریت کو صرف اپنے معاشروں کے لئے پسند کرتے ہیں لیکن تیسری دنیا کے ملکوں میں ہمیشہ فوجی آمروں اور بادشاہوں کی سرپرستی کیوں کرتے ہیں؟ کیا شام کی سڑکوں پر بہنے والا خون انسانوں کا نہیں؟ میں سوچتی رہی اور جلتی کڑھتی رہی۔ مجھے جلد یہ محسوس ہونے لگا جیسے میرا دماغ پتھر کا ہوگیا ہے۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے جامع مسجدامیہ کا گھیراؤ کیا ہوا تھا۔ میں یہ دیکھنے گھر سے نکلی کہ وہاں کیا ہورہا ہے؟ مسجد کی طرف جانے والے سب راستے بند تھے۔ ہر طرف یا تو فوجی، پولیس والے اور ملیشیا والے اپنے ہتھیاروں کے ساتھ پھیلے ہوئے تھے یا پھر سادے لباس والے تھے جن کے ہاتھوں میں صدر کی تصویریں اور بینر تھے جن پر صدر بشار الاسد کی حمایت میں نعرے درج تھے۔وہاں پہنچنے کے لئے میں نے ایک ٹیکسی لی کیونکہ سب راستے بند مل رہے تھے۔ ٹیکسی نےقریب ترین جگہ پر مجھے اتار دیا۔اس پورے مجمع میں میں واحد عورت تھی اورمجھ کو سب نے نظر میں رکھ لیا تھا۔ ان کی نظریں تیروں کی طرح میرے جسم میں پیوست ہورہی تھیں اور مجھے ایسا لگ رہا تھاکہ جیسے میں برہنہ ہوں۔انٹیلیجنس کے لوگ میرے بارے میں سوچ رہے تھے کہ شاید میرا تعلق میڈیا سے ہے۔اسی وجہ سے کوئی مجھے مسجد کے قریب پہنچنے نہیں دے رہا تھا۔ کچھ سادے لباس والے لوگ ایک عمارت پر چڑھے ہوئے تھے اور کھسر پھسر کررہے تھے۔ میں ان کی بات سمجھنے کے لئے رک گئی۔ ان میں سے ایک کہہ رہا تھا ۔” اس کا خیال رکھنا کہ کوئی کیمرا حد یہ کہ موبائیل والا کیمرا بھی کسی کے پاس نہ رہ جائے۔ ورنہ یہ تصویریں بین الاقوامی میڈیا میں پہنچ جائیں گی۔ یہاں صرف سرکاری ٹی وی کو رسائی کی اجازت تھی۔کوئی غیر ملکی رپورٹر بھی یہاں پہنچنے کی ہمت نہیں کرسکتا تھا۔ مجھے لوگوں کی گفتگو سے معلوم ہوا کہ کچھ مظاہرین نے مسجد میں پناہ لے رکھی ہے۔ مسجد کے امام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان مذاکرات ہورہے ہیں کہ ان لوگوں کو پرامن طور پر گھروں تک جانے کا راستہ دے دیا جائے ۔فورسز کا کہنا تھا کہ وہ صرف سازشی عناصر کی تلاش میں ہیں۔ جو یہاں دہشت گردی کرنا چاہتے ہیں۔ امام کا کہنا تھا کہ یہاں موجود لوگ نمازی ہیں اور انہیں گھر جانے دیا جائے۔ بعد میں جو نمازی مسجد سے باہر نکلے ان میں سے بیشتر کو سیکیورٹی فورسز نے گھر جانے کے بجائے جیل کا راستہ دکھایا۔مجھے اب شدید خطرے کا احساس ہورہا تھا۔ میں اس پورے مجمع میں واحد عورت تھی اس لئے سب سے الگ نظر آرہی تھی۔مجھ پر لوگوں کی نظریں گڑنا فطری بات تھی۔صدر کی تصویر اٹھائے ایک شخص میری طرف بڑھا۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ کچھ ہونے والا ہے۔میں تیزی سے ٹیکسی کی طرف بڑھی اور دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔
” بہن” ٹیکسی ڈرائیور نے کہا” آپ یہاں کیا کررہی ہیں۔ان لوگوں سے بچ کر رہیں تو اچھا ہے۔ یہ لوگ عورتوں کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کرتے” ۔ میں خاموش رہی۔ میں خوف سے لرز رہی تھی۔ ہر طرف خوفناک چہرے والے لوگ نظر آرہے تھے۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ مجھے کچھ دیر پہلے پتہ چلا تھا کہ دوما میں فائرنگ ہوئی ہے اور درجنوں لوگ ہلاک اور زخمی ہیں۔ میں نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ مجھے دوما لے چلے۔ ڈرائیور اپنی سیٹ سے تقریبا اچھل پڑا اور بولا،” بی بی آپ ادھر نہیں جاسکتیں۔ وہاں تو قتل عام ہوا ہے۔ سب راستے بند ہیں۔ وہاں جانا موت کو دعوت دینا ہے” ۔
“کیا دوما محاصرے کی حالت میں ہے” میں نے پوچھا۔
” اس طرح بات نہ کریں، بہن۔ آپ اپنے ساتھ مجھے بھی مروائیں گی” ۔ ڈرائیور بولا
” تم سے کس نے کہا کہ وہاں کوئی نہیں جا سکتا” میں بولی۔
” وہاں فوج لگی ہوئی ہے اور شدید فائرنگ ہورہی ہے” ۔ اس نے کہا۔
” لوگ مررہے ہیں اور کسی کو پروا نہیں” ۔ میں بولی۔
” سب کو ایک دن مرنا ہے چاہے جس طرح بھی مرے” ۔ڈرائیور نے کہا۔ وہ مجھے اپنے انداز سے تبلیغی آدمی محسوس ہوتا تھا۔
” اگر اس طرح مرنے والوں میں تمہارے بچے بھی شامل ہوں تو تمہارا رویہ کیا ہوگا” ۔ میں نے کہا
وہ اچانک چپ ہوگیا اور کچھ سوچنے لگا۔ پھر بولا ” اللہ میاں کی دنیا بہت وسیع ہے۔ یہاں میرے بچوں کی جان کو خطرہ ہوگا تو میں یہاں سے کہیں اور چلا جاؤں گا” ۔
” میں نے سناہے کہ انہوں نے ایک زندہ نوجوان کو پکڑ کر ایک فریزر میں ڈال دیا اور باہر سے لاک کردیا۔ بعدمیں اس نوجوان کی لاش فریزر سے نکلی۔ اس نے فریز میں لکھا تھا” یہاں بہت سردی ہے اور میراخون تیزی سے جم رہا ہے۔ میں زندہ نہیں بچوں گا ۔ میری ماں کو میرا سلام پہنچادینا” ۔میں نے اس کو بتایا۔
ڈرائیور نے اس کہانی کو سن کر کہا کہ ایسے واقعات عام ہیں۔
آج دمشق یونیورسٹی میں طلبہ کا مظاہرہ ہوا۔ انہوں نے طلبہ کو بری طرح مارا۔ تلبیسہ کا محاصرہ ابھی تک جاری ہے۔ موبائیل سروس اور فون بند ہیں۔ شامی سیکیورٹی فورسز لوگوں کے بچوں کی لاشیں اس طرح گھروں میں تقسیم کررہی ہیں جیسے کرسمس کے تحفے بانٹ رہی ہوں۔المعدامیہ میں شہریوں نے صدر بشار الاسد کی تمام تصویریں پھاڑ ڈالیں۔تصویریں پھاڑنے والے ایک نوجوانکو فورسز نے گولی
ماردی۔ لطاکیہ کی مرکزی جیل میں قید آٹھ قیدیوں کو جلا کر ہلاک کردیا گیا۔ ٹیکسی میرے گھر کے قریب تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ خوں ریزی مزید خوں ریزی کا سبب بنتی ہے۔(جاری ہے)
8 اپریل2011
یہ دمشق ہے۔ ہم یہ جملہ ریڈیو دمشق سے اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ شامیوں نے اپنے دیہات اور قصبوں سے دمشق کی جانب نقل مکانی شروع کی تو دمشق نے اپنے بازو کھول دئے لیکن ایسی عورت کی طرح جو اپنے شوہر کے لئے کھانا پکاتی ہے لیکن اس میں اس کی محبت شامل نہیں ہوتی۔ آج جمعہ ہے۔ باہر ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی جس نے لوگوں کو باہر نکلنے اور چوراہوں پر اور مسجدوں کے سامنے جمع ہوکر مظاہرے کرنے سے روک رکھا تھا۔ لوگ یہ بھولے ہوئے تھے کہ ہر مظاہرہ کسی نہ کسی کی جان لے لیتا ہے۔ موت کا یہ کھیل ایسا ہے جس کا کوئی اصول متعین نہیں۔میں روز غیر مسلح شہریوں کو موت کا سامنا کرنے کے لئے باہر نکلتے دیکھتی ہوں۔ میں سوچتی ہوں کہ کس طرح اپنے بچوں کی محبت میں دیوانی مائیں انہیں باہر جانے دیتی ہیں؟کس طرح ان کے قاتلوں کو معاف کرتی ہیں؟ لیکن نا انصافی کے اس نظام کے خلاف ہمارے بچے کب تک سینہ سپر رہیں گے؟ کب تک خون دیتے رہیں گے؟ کب تک ذاتی آرام و آسائش اور اقتدار کے بھوکے اور انا کے پنجروں میں بند حکمراں ہمارے بچوں کی جانیں لیتے رہیں گے؟ اور اپنے قبیلے اور مذہب کا نام لے کر عوام کو دھوکہ دیتے رہیں گے۔آخر کب تک لوگ دھوکہ کھاتے رہیں گے؟
بارش تھوڑی دیر کے لئے رکی تو لوگ گھروں سے نکلنا شروع ہوگئے۔میں بھی باہر نکلی اور میں نے ایک ٹیکسی پکڑ لی۔میں دوما جانا چاہتی تھی جہاں ایک مظاہرہ تھا۔ میں سوچ رہی تھی کہ حکومت اس مظاہرے کو روکنے کے لئے کیا حربہ استعمال کرے گی۔ اچانک بے رحم قارتلوں کے چہرے میری نظروں کے سامنے گھومنے لگے۔ میری رگوں میں خوف سرایت کرنے لگا۔کیا وہ پرامن مظاہرین کو خون میں نہلا دیں گے؟ خوف سے میری رگوں میں بہنے والا خون جمنے لگا۔ مجھے اپنے گھٹنے کمزور محسوس ہونے لگے۔ میری ٹیکسی کا ڈرائیور ایک نوجوان آدمی تھا۔اس کی عمر 20-30 کے درمیان رہی ہوگی۔ اس کا مجھے بعد میں اندازہ ہوا کہ وہ بہادر بھی تھا۔ کچھ دور پہنچ کر ہمیں کاروں کی طویل قطار نظر آئی۔ آگے جانے والاراستہ بند تھا۔عام دنوں میں یہاں کبھی ٹریفک جام نہیں ہوتا تھا۔ سڑک کے دونوں جانب ہرے رنگ کی سرکاری بسیں کھڑی ہوئی تھیں جن میں فوجی یونیفارم میں ملبوس نوجوان بھرے ہوئے تھے۔ میں نے سوچا کہ شاید ان بسوں کی وجہ سے ٹریفک میں رکاوٹ ہے۔ لیکن یہ اتنا سادہ معاملہ نہیں تھا۔ کچھ آگے یہی فوجی ہر کار میں جھانک کر پوچھ گچھ کررہے تھے۔ ان کے چہرے خشونت بھرے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کہیں باہر سے آئے ہیں۔ ان کے لہجے میں عام لوگوں سے لئے شدید حقارت اور غصہ تھا ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کسی دشمن ملک نے حملہ کرکے یہاں قبضہ کرلیا ہے۔” یہاں کیا ہورہا ہے؟” ۔ میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا۔ پتہ نہیں ! اس نے مختصر جواب دیا۔ ہر طرف نیلے اور ہرے یونیفارم میں فوجی نظر آرہے تھے۔ ” یہاں کیا ہورہا ہے؟” ۔ میں نے کار کا دروازہ کھول کر قریب کھڑے ایک فوجی سے پوچھا۔ اس نے مجھ پر خشونت بھری نظر ڈالی لیکن کوئی جواب نہیں دیا۔
” بہن!” ڈرائیور نے فکر مندانہ لہجے میں مجھے پکارا،” آپ اندر بیٹھ جائیں” ۔ کاریں چیونٹی کی رفتار سے رینگ رہی تھیں۔ آگے ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ تھا۔ سادہ لباس میں کئی لوگ ہر کار کے پاس جاتے اور سخت لہجے میں پوچھ گچھ شروع کردیتے۔ دو افراد میرے قریب آئے اور انہوں نے سخت لہجے میں مجھ سے پوچھا،” کہاں جارہی ہو؟” میں نے اسے کہا کہ میں کسی سے ملنے جارہی ہوں۔ ” کار سے باہر آؤ” اس نے سخت لہجے میں کہا۔ میں ٹیکسی سے باہر نکلی۔ ” کارڈ” ۔ اس نے کہا۔ میں نے اپنے کاغذات اسے دکھائے۔اس نے کاغذات دیکھ کر واپس کردئے اور بولا،” میڈم! آگے آپ کا واسطہ ٹھگوں سے پڑ سکتا ہے اس لئے آگے مت جائیں” ۔
” مجھے سیمسٹریس میں کسی سے ملنا ہے۔ اس میں صرف دس منٹ لگیں گے” میں بولی۔ اس نے کار کا دروازہ کھول کر مجھے بیٹھنے کو کہا اور ڈرائیور سے بولا،” آگے بڑھو” ۔ سیٹ پر بیٹھ کر میں نے لمبی سانس لی۔ ٹیکسی آگے بڑھ گئی۔ ” آگے آخر کیا ہورہا ہے؟” ۔میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے سوال کیا۔” کچھ بھی نہیں ہورہا” ۔ ڈرائیور فکر مند لہجے میں بولا۔ مجھے یاد آیا کہ مجھے اپنا کردار خاموش رہکر ادا کرنا ہے۔زیادہ بولنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ کچھ دور ایک اور چیک پوائنٹ تھا جہاں فوجیوں کا بڑا مجمع لگا ہوا تھا۔راستہ بند تھا۔ ” کیا ہم گلیوں ہوکر آگے نہیں بڑھ سکتے” ۔میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا۔” میرا خیال ہے کہ ہمیں یہیں سے واپس لوٹ جانا چاہیئے۔ مجھے اب آپ کی سلامتی کی جانب سے فکر ہونے لگی ہے” ۔اس نے جواب میں کہا۔ فوجی ہر طرف پھیلے ہوئے تھے۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میں فلسطین کے کسی مقبوضہ قصبے میں ہوں ۔ اور یہ آس پاس پھیلے ہوئے فوجی شامی نہیں بلکہ اسرائیلی ہیں جنہیں ہم سے کوئی ہمدردی نہیں۔
ایک فوجی افسر میرے قریب آیا اور سخت لہجے میں بولا۔” باہر نکلو!” ۔ میں باہر نکلی۔ اس نے میرے کاغذات چیک کئے۔ پھر مشتبہ نظروں سے مجھے دیکھا۔ میں اس کے لہجے سے اس کو پہچان گئی کہ اس کا تعلق ساحل سمندر کے علاقے جزیرہ ریجن سے ہے، میرے کاغذات بھی اسی علاقے کے تھے اور اسی وجہ سے وہ مجھے مشتبہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ ایک شخص جو سادہ لباس میں تھا میرے قریب آیا اور مجھے غور سے دیکھنے لگا پھر بولا ،” کیا تم صحافی ہو” ۔ میں نے انکار میں سر ہلایا۔ وہ آگے بڑھا اور اس نے مجھے کندھوں سے پکڑ کر مجھے کھینچا اور بولا،” تم یہاں کیا کررہی ہو؟” ۔ میں نے کہا کہ مجھے کسی سے ملنے جانا ہے۔ سادے لباس والا اچانک اپنی جگہ سے اچھل پڑا اور بولا ” شاید میں نے تم کو پہلے بھی دیکھا ہے۔ تم کسی ٹی وی پروگرام آتی تھیں” ۔مجھ سے پوچھ گچھ ہوتے دیکھ کر مجمع جمع ہونے لگا تھا اور میری سراسیمگی بڑھ رہی تھی۔ لیکن میں نے اپنے اوسان خطا نہیں ہونے دئے ۔ایک نظر وہاں جمع ہونے والی بھیڑ پر ڈالی جن میں عام شہری بھی تھے۔ مجھے یقین تھا کہ اتنے عام لوگوں کی موجودگی میں وہ شاید مجھ سے بدسلوکی نہ کریں۔ میری آواز بلند ہو گئی۔ میں نے کہا کہ “آپ لوگوں کو ایک خاتون کو اس طرح تنگ نہیں کرنا چاہیئے۔ آخر یہاں کیا ہورہا ہے؟”۔انٹیلیجنس والا میری بلند آواز سے ذرا متاثر نہیں ہوا اور بولا،”تم ایک ٹاک شو میں میزبان ہوا کرتی تھیں”۔
” میں چند مرتبہ ایک ٹی وی ٹاک شو میں آئی تھی، لیکن میں صحافی نہیں ہوں” ۔ میں نے بے چارگی سے کہا۔ سادے لباس والا بولا”اس پروگرام کا نام لیڈیز فرسٹ تھا۔یہ عورتوں کا پروگرام تھا اور میری بیوی بھی یہ پروگرام بڑے شوق سے دیکھتی تھی” ۔
انٹیلیجنس والے نے اپنے وردی والے ساتھی سے کہا کہ ” اس خاتون کا تعلق اورینٹ ٹی وی چینل سے ہے”۔
“نہیں! میں اورینٹ کی ملازم نہیں ہوں”۔ میں نے سخت لہجے میں کہا۔”میں ایک مصنف ہوں۔برائے مہربانی مجھے جانے دیں”۔
“سر! یہ اورینٹ والوں کو یہاں کی رپورٹ تو نہیں دے گی”۔ انٹیلیجنس والے نے کہا۔پھر مجھے دوبارہ کندھوں سے پکڑ کر کھینچا۔
“آپ کو ایک خاتون کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرنا چاہیئے” میں بولی”آپ کا تو فرض ہے کہ آپ شہریوں کی حفاظت کریں نہ کہ انہیں ہراساں کریں۔ آپ کم از کم مجھے یہ تو بتائیں کہ یہاں کیا ہورہا ہے” ۔
“یہاں کچھ نہیں ہورہا۔ تم جلد از جلد یہاں سے اپنا منحوس چہرہ لے کر نکل جاؤ”۔ ایک وقفے کے بعد وہ پھر بولا،”اگر میں نے تم کو یہاں دوبارہ دیکھا تو میں تمہاری کھال اترواکر ڈھول بنواؤں گا جسے دوسروں کو خبردار کرنے کے لئے بجایا جائے گا”۔
میں دوبارہ ٹیکسی میں بیٹھی اور اس نے گاڑی چلادی۔میں نڈھال ہوکر سیٹ پر گر گئی اور اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے چھپالیا۔ اپنی پوری زندگی میں میری اتنی بے عزتی نہیں ہوئی تھی جو اس جاہل فوجی افسر اور اس انٹیلیجنس والے نے کی تھی۔میرے ٹی وی پروگرام جن میں میں بطور میزبان آتی تھی بے حد مقبول تھے اور ملک بھر میں لاکھوں عورتیں اور مرد انہیں دیکھ کر پسند کرتے تھے۔ ائر پورٹ اور ریلوے اسٹیشنوں پر لوگ مجھے پہچان کر آٹو گراف لینے کے لئے مجھ پر ٹوٹ پڑتے۔لیکن آج یہ وہی دمشق تھا جس کی سڑکیں جو کبھی میری شناخت تھیں اور مجھ سے محبت کرتی تھیں میری دشمن ہوگئی تھیں بلکہ میری شناخت کی وجہ سے میری جان کے لالے پڑ گئے تھے۔ٹیکسی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ ہر تھوڑے وقفے کے بعد ہمیں روکا جاتا اور ہمیں سخت پوچھ گچھ کا سامنا ہوتا۔میں نے اپنی دوست کو موبائل پر کال کرنے کی کوشش کی تاکہ اسے بتاسکوں کہ میں دومامیں ہوں لیکن رابطہ نہ ہوسکا شاید انہوں نے موبائل سروس معطل کردی تھی۔تھوڑی دیر میں ہم اس قصبے میں پہنچ گئے۔ تاہم اندر داخلے کے سب راستے بند تھے اور فوج نے قصبے کی مکمل ناکہ بندی کردی تھی۔ہم نے اب گلیوں میں گھنسنے کی کوشش شروع کردی تاکہ کسی طرح میونسپل اسکوائر پہنچ سکیں جہاں آج مظاہرہ تھا۔یہیں جامع مسجد بھی تھی۔ہم زیتون کے باغات میں سے راستہ بناتے ہوئے آگے بڑھے تو ایک دس سالہ لڑکے نے جو سائیکل پر سوار تھا ہماری رہنمائی کی ۔ ہم میونسپل اسکوائر کے قریب پہنچ گئے۔ یہاں میں نے ٹیکسی چھوڑدی اور اسے انتظار کرنے کو کہا ۔ پھر آگے بڑھی۔یہاں کافی عورتیں بھی نظر آرہی تھیں لیکن سب حجاب اور کالی چادروں میں تھیں اور انہوں نے اپنے چہرے چھپائے ہوئے تھے۔ میں واحد عورت تھی جو بغیر حجاب کے تھی اس لئے یقینی طور پر انٹیلیجنس والوں نے مجھ کو نظر میں رکھا ہوا ہوگا۔ یہاں زیادہ تر مردوں کی لمبی داڑھیاں تھیں۔ لوگ گلیوں کے سامنے طویل قطاروں میں کھڑے تھے۔وہ خاموش تھے۔ لیکن انہوں نے کتبے اٹھائے ہوئے تھے جن پر نعرے درج تھے۔ایک کتبے پر نعرہ درج تھا،”اللہ، شام ، آزادی۔ یہی ہمارا مقصد ہے۔ کوئی سنی نہیں، کوئی علوی نہیں، کوئی دروزی نہیں، کوئی اسماعیلی نہیں۔ ہم سب شام ہیں”۔ کچھ لوگ زیتون کی شاخیں پکڑے ہوئے تھے جو علامتی طور پر امن کی جانب اشارہ تھا۔میں نے مظاہرین کے قریب ہونے کی کوشش کی۔ تین افراد میرے قریب آئے۔ انہوں نے میرا راستہ روک لیا اور کہا۔ “تم کہاں جارہی ہو؟”۔ انہوں نے پوچھا۔
“میں راستہ بھول گئی ہوں۔ یہاں کیا ہورہا ہے؟ “۔ میں نے کہا۔
“یہاں کچھ نہیں ہورہا۔ فوراً یہاں سے چلی جاؤ”۔ ایک آدمی نے سخت لہجے میں کہا۔ سادے لباس میں یہ لوگ یقیناًانٹیلیجنس والے تھے۔میں خاموشی سے واپس جانے کے لئے مڑ گئی۔ راستے میں میں نے دیکھا ۔لوگ خوف زدہ اور غم گین تھے۔ ایک آدمی نے بتایا کہ پرامن مظاہرین پر نشانچیوں نے فائرنگ کی ہے جو قریبی عمارتوں کی چھتوں پر چھپے ہوئے تھے۔ کئی لوگ شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ شہیدوں کی لاشیں اٹھانے اور زخمیوں کو اسپتال بھجوانے کے بعد مظاہرین دوبارہ جمع ہوجاتے ہیں۔گویا وہ جان دینے آئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کی کسی ٹیم کو یہاں تک نہیں پہنچنے دیا گیا۔ ہوسکتاہے کہ کچھ لوگ میری طرح یہاں پہنچے ہوں لیکن وہ کوئی فوٹیج باہر بھیجنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔دنیا کو کیسے پتہ چلے گا کہ شامی شہری کس طرح آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔میں جن لوگوں سے بات کررہی تھی ان کی نظریں جھکی ہوئی تھیں اور وہ میرے چہرے کی طرف دیکھنے سے گریز کررہے تھے۔ میں سوچ رہی تھی کہ ایک بے پردہ عورت کو دیکھ کر وہ میرے بارے میں کیا خیال کررہے ہوں گے۔میں نے ان سے واپسی کا راستہ دریافت کیا۔ کیونکہ میں اب واقعی راستہ بھول گئی تھی۔میرے پاس سوائے کچھ نوٹس کے اور کچھ نہیں تھا۔مجھے معلوم تھا کہ میرے پاس اگر کیمرا ہوتا تو میں بہت سی قیمتی تصویریں بنالیتی لیکن وہ کیمرا تو دور کی بات ہے کیمرے والا موبائل بھی نہیں چھوڑ رہے تھے اور ہر چیز چیک کررہے تھے۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ ملک کے دوسرے حصوں میں کتنے لوگ شہید ہوئے تھے۔ لیکن جمعہ کو ہونے والے یہ مظاہرے شام کی تاریخ میں ایک سنگ میل بن چکے تھے۔کیونکہ پہلے لوگ مسجدوں میں نماز کے لئے جمع ہوتے اس کے بعد مظاہرے کرتے۔ فوج اور پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے اب لاٹھی چارج یا آنسو گیس نہیں استعمال کرتی تھی۔یہ تو جمہوری ملکوں کا کلچر ہے۔ شام میں بلند پوشیدہ مقامات پر فوجی نشانچی چھپادئے جاتے جو مظاہرین کو ایک ایک کرکے گولی کا نشانہ بناتے۔ بالکل اس طرح جیسے یہ لوگ کوئی انسان نہیں بلکہ جنگلی سور ہیں جن کا شکار کھیلا جارہا ہے۔ تھوڑی دیر میں مجھے ٹیکسی کھڑی ہوئی مل گئی اور میں اس سے واپس روانہ ہوگئی۔ راستے میں ہراستہ کا قصبہ پڑا جہاں ہمیں بہت زیادہ چیکنگ سے واسطہ پڑا تھا۔ جب ہم اس قصبے سے گزر رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ وہاں کھڑی ہوئی سرکاری بسوں سے فوجی اہلکار اتر کر شہریوں کو پیٹ رہے ہیں۔حملہ آوروں کی آنکھوں سے ایسالگتا تھا کہ جیسے خون ٹپک رہا ہو۔ میں یہ دیکھنے کے لئے ٹیکسی سے اتری کہ کیا ہورہا ہے۔بہت سی خوف زدہ نظریں مجھ پر مرکوز ہوگئیں۔مجھے اپنے سر کے بالکل قریب ایک دھماکہ محسوس ہوا اور میں نیچے گر گئی۔ چھت پر چھپے ہوئے کسی نشانچی نے مجھے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن میں بال بال بچی تھی۔ ایک شخص چھپتے چھپتے میرے قریب آیا اور بولا،”بہن !آ پ فوراً یہاں سے چلی جائیں، وہ اوپر سے فائرنگ کررہے ہیں اور کسی کو نہیں بخش رہے”۔ میں نے ایک جانب دوڑلگادی اور گلیوں میں پناہ لینے والے مجمع سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی۔کیونکہ زیادہ تر فائرنگ ا سی جانب ہورہی تھی۔ ایک جگہ ایک شہید کی لاش پڑی تھی لیکن اس کے گرد کھڑے ہوئے شہری نہیں بلکہ قاتل تھے۔میں نے ایک نظر اسے دیکھا پھر آگے کی جانب دوڑنے لگی۔ کہاں سے فائر آرہا ہے ؟ کاش میں دیکھ سکتی؟ میری رفتار خود بخود کم ہونے لگی۔ لیکن نشانچی مسلسل فائر کررہا تھا اور جو بھی گلی سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا اسے نشانہ بناتا۔ ایک نوجوان زور سے چلایا اور بولا،”میں نے اسے دیکھ لیا ہے۔ لیکن اب وہ اس دوڑنے والی خاتون کو نشانہ بنا رہا ہے۔ شاید اس کی بندوق کی نال کا رخ میری طرف ہورہا تھا کہ مجمع سے ایک نوجوان نے مجھے وارننگ دی۔گلی کے ایک سرے پر دو طاقتور ہاتھوں نے مجھے اندر کھینچ لیا۔فائر ہوا اور ڈھیروں مٹی زمین سے اڑکر میرے نتھنوں میں گھس گئی۔
“بہن! جلد از جلد یہاں سے نکل جائیں۔ نوجوان نے مجھ سے ہمدردی اور احترام کے ساتھ کہا”۔ یہاں ہر شخص مجھے بہن کہہ کر مخاطب کررہا تھا۔ میں حیران تھی کہ شامی فوجی جواپنے ملک کے شہریوں کو اس بے حسی سے نشانہ بنا رہے تھے، کیوں اتنے شقی القلب ہوگئے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد میں اپنی ٹیکسی کے سامنے کھڑی تھی۔ میں حیران تھی کہ یہ ٹیکسی ڈرائیور کیسا آدمی تھا جو گولیوں کی بوچھار میں اب بھی میرا انتظار کررہا تھا۔ میں کار کی پچھلی نشستوں پر گر گئی اور ٹیکسی میرے گھر کی طرف روانہ ہوگئی۔دفعتاً میں نے سسکیاں بھرنے کی آواز سنی۔ میں نے سر اوپر اٹھایا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ ٹیکسی ڈرائیور سسکیاں لے کر رو رہا تھا۔ آخر نوجوان شہیدوں کے لاشے اس نے بھی دیکھے تھے اور وہ ہر جگہ میرے قریب ہی رہا تھا۔ ہم ایک ہی کشتی کے سوار تھے۔ یہ کشتی جو شام کی آزادی کی جنگ میں خون خوار موجوں کا سامنا کررہی تھی۔
15 اپریل 2011
مجھے پہلی مرتبہ یہ اندازہ ہوا کہ دنیا وسیع نہیں بلکہ تنگ ہے۔ میں نے آج اپنا نیا سفر شروع کیا تاکہ ان خبروں کی تصدیق کرسکوں جو افواہوں کی طرح پھیل رہی تھیں۔ ایک نجی ٹیلیویژن کے اسکرین پر آج ان لوگوں کے چہرے دکھائے گئے جن کو البائدہ کے گاؤں میں اپنے گھروں سے مکال دیا گیا۔یہ گاؤں ابھی تک فوج اور پولیس کے گھیرے میں تھا۔جو لوگ مظاہرے کے لئے چوک پر جمع ہوئے ان کو سیکیورٹی فورسز نے پکڑ کر اوندھا زمین پر گرا دیا۔ ان کے ہاتھ پیچھے باندھ دئے گئے اور ان کے چہرے مٹی میں تھے۔ انہیں سر اٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ جو سر اٹھانے کی کوشش کرتا تھا اس کو فوجی بوٹوں سے مارا جاتا تھا۔کچھ دیر کے بعد ان کو فوجی ٹرکوں میں لے جایا گیا جس کے بعد ان کو غائب کردیا گیا۔سرکاری ٹیلیویژن نے ان کے بارے میں خبریں جاری کیں کہ وہ سب سازشی اور غدار تھے۔کیونکہ ان کے قبضے سے ہتھیار نکلے تھے۔ لیکن جب ایک غیر جانبدار ذریعہ سے یہ وڈیو جاری ہوئی تو پتہ چلا کہ یہ عام دیہاتی تھے جو پرامن مظاہرے کررہے تھے۔ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھے۔ ایک میری دوست نے بتایا کہ جب بانیاس میں مظاہرہ شروع ہوا تو اچانک نہتے پرامن مظاہرین پر فائرنگ شروع ہوگئی۔درجنوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ باقی مظاہرین کو سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کرلیا۔
میں آج یہ دیکھنے کے لئے نکلی کہ بانیاس میں کیا ہورہا ہے؟میں نے بہت سی سڑکوں سے بانیاس کی جانب جانے کی کوشش کی لیکن ہر راستہ بند ملا۔ فوجی ٹرکوں نے ٹریفک کا راستہ روک رکھا تھا اور لوگوں سے واپس جانے کے لئے کہہ رہے تھے۔ میں نے ایک فوجی افسر سے دریافت کیا کہ حقیقت میں بانیاس میں کیا ہورہا ہے؟ وہ مجھے سخت پریشان اور مایوس نظر آتا تھا۔ اس نے مجھے کوئی تشفی بخش جواب نہیں دیا۔ تھوڑی دیر میں ایک اور شخص قریب آیا تو میں نے اس کو روکنے کی کوشش کی۔ وہ رک گیا ۔ اس نے پولیس یونیفارم پہنا ہوا تھا۔ میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ “یہاں کچھ مسلح گروپ سرگرم ہیں جو عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ جب بھی کوئی مظاہرہ ہوتا ہے تو ان پر کچھ نشانچی فائر کرتے ہیں جو قریبی عمارتوں میں چھپ جاتے ہیں۔یہ لوگوں کی دی ہوئی خبریں ہیں”۔ میں نے جواب میں کہا کہ” البائدہ کے لوگوں کے پاس ہتھیار نہیں ہیں۔ لیکن ان نہتے لوگوں کو ہلاک کیا جارہا ہے اور ان کے گھروں کو لوٹا جارہا ہے جبکہ فوج اور پولیس ان کی حفاظت کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔یہ کیساظلم ہے کہ بعد میں فوج یا پولیس انہی لوگوں کو گرفتار کرکے سرکاری ٹی وی پر پیش کرتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس سے ہتھیار ملے تھے”۔ پولیس افسرنے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا ناور کندھے جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔ مایوسی اس کے چہرے سے بھی عیاں تھی۔ کار اس کے ساتھ ہی آگے رینگ رہی تھی۔ اس نے کار کو اپنے قریب دیکھا تو رک گیا اور کار کا دروازہ کھولا اور مجھے سے بولا،”میڈم! خدا کے لئے آپ اس علاقے سے نکل جائیں۔ آپ یہاں محفوظ نہیں ہیں”۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا ۔ جو کچھ اس نے زبان سے نہیں کہا تھا وہ سب اس کے چہرے پر لکھا تھا۔ ایک اور شخص نے بتایا کہ اس پولیس افسر کا بھائی ایک بس میں سفر کررہا تھا جب اس بس پر فائرنگ کی گئی۔ جس کے نتیجہ میں اس سمیت بہت سے لوگ ہلاک ہوگئے۔ اس بس پر حملہ کرنے والے نامعلوم گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ میں نے اس سے کہا کہ” البائدہ کے لوگوں کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے کچھ لوگ بھی قانون شکن گروہوں کی طرح حملے کررہے ہیں”۔ وہ اس بات پر چونک گیا اور بولا یہ کس نے کہا؟ میں نے جواب میں کہا کہ میں نے یہ بات کسی اخبار میں پڑھی تھی۔ وہ بولا،” سب لوگ جانتے ہیں کہ یہ قانون شکن گروہ کن لوگوں کا ہے لیکن کوئی اس کا نام نہیں لے سکتا، لوگ ان سے خوف زدہ ہیں کیونکہ وہ انتہائی ظالم لوگ ہیں”۔
میں نے کہا کہ” لوگ ان سے کیوں خوف زدہ ہیں”۔ اس نے کہا کہ” یہ گروہ سنیوں کے گھروں پر حملے کرکے انہیں لوٹ رہا ہے اورانہیں قتل کررہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز ان کو ہاتھ نہیں لگاتیں۔ پولیس افسر ان سے ڈرتے ہیں۔”
میں نے کہا کہ” پولیس ان سے کیوں ڈرتی ہیں؟”، اس نے میری بات کا جواب نہیں دیا ا ور بات بدل دی۔ ا س نے کہا کہ” اس کا گھر علویوں کی ایک بستی میں ہے۔علویوں میں یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ سنی ان کے گھروں پر حملہ کریں گے اور انہیں لوٹ کر قتل کردیں گے۔ اس وجہ سے حالات کسی بھی دن قابو سے باہر ہوجائیں گے۔کیونکہ کوئی نامعلوم قوت سنیوں اور علویوں کو باہم لڑانے کی پوری کوشش کررہی ہے”۔
میں کہا کہ” آپ درست کہہ رہے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ قوت اپنے مقصد میں کامیاب ہوتی نظر آتی ہے” ۔ اس نے علویوں میں سے کچھ لوگوں کے نام لئے اور بتایا کہ انہوں نے ہتھیار اٹھالئے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کے لئے مجبور کررہے ہیںیہ لوگ صدر بشار الاسد کے کسی رشتہ دار کے لئے کام کرتے ہیں جو ایک اعلی عہدہ دار بھی ہے”۔
وہ جس بہادری اور جرات سے یہ سب انکشافات کررہا تھا اس کی وجہ جلدی میری سمجھ میں آگئی۔ وہ یہ ملک چھوڑنے کا فیصلہ کرچکا تھا اس نے
اپنے بچوں کو پہلے ہی ملک سے باہر بھیج دیا تھا۔ اس نے کہا کہ” آپ کو لوگ زیادہ کھل کر سچ نہیں بتائیں گے کیونکہ وہ خوف زدہ ہیں”۔ اس نے اپنے بارے میں بتایا کہ” وہ عربی کا ٹیچر ہے اور بانیاس سے یونان جارہا ہے”۔
“انٹر نیٹ پر یہ سب کہانیاں موجود ہیں”۔ میں نے کہا ۔ وہ ہنسا اور بولا،” کتنے لوگوں کے پاس انٹر نیٹ ہے”۔ اس نے اپنا رخ پھیر لیا اور مجمع میں غائب ہوگیا۔ میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا کہ” ہمیں کوئی راستہ تلاش کرنا پڑے گا جس سے ہم قصبے کے وسط میں ہونے والے مظاہرے تک پہنچ سکیں”۔ ڈرائیور نے کہا کہ” وہ زیادہ آگے نہیں جائے گا کیونکہ وہاں نشانچی ہوسکتے ہیں جو شہریوں کو گولی کا نشانہ بناتے ہیں”۔
کچھ آگے ایک اور پولیس افسر کھڑا تھا جو لوگوں کو تیزی سے گزرنے کا اشارہ دے رہا تھا۔ میں نے ٹیکسی اس کے قریب رکوائی اور اس سے کچھ پوچھنا چاہا۔ اس نے تیز آواز میں کہا کہ جلدی کرو۔ اس علاقے سے جلدی نکلو۔
“تم اتنے خوف زدہ کیوں ہو؟” میں نے کہا۔
“اس لئے کہ نامعلوم سمت سے آنے والی کوئی بھی گولی آپ کو لگ سکتی ہے۔ وہ لوگ صرف شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ فوج اور پولیس کے افسران کو بھی نشانہ بناتے ہیں”۔ اس نے کہا۔
یہ کون لوگ ہیں؟” میں نے دریافت کیا۔
وہ میرے اس سوال پر مزید ناراض ہوگیا اور بولا، ” مجھے نہیں معلوم”۔
“کیا ان نشانچیوں کا تعلق الشبیہہ سے نہیں ہے؟”۔ میں نے پوچھا۔
“کون الشبیھہہ؟” وہ بولا۔الشبیہہ کے بارے میں کون نہیں جانتا؟” میں نے کہا اور ڈرائیور کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔ ڈرائیور نے تیزی سے کار چلادی۔ تھوڑی دیر میں بانیاس پیچھے رہ گیا تھا اور ہم جبلہ کے قریب پہنچ رہے تھے۔ یہاں سے آگے ایک بین الاقوامی سڑک تھی جہاں سے بیرون ملک جانے والی گاڑیاں گزرتی تھیں۔ ہم پہاڑی راستوں سے سفر کرکے دوبارہ بانیاس کے قریب پہنچ رہے تھے۔یہاں بھی شہر میں داخل ہونے والا راستہ بند تھا اور پولیس تعینات تھی۔پولیس چیک پوائنٹ پر پولیس افسر نے کہا کہ بین الاقوامی سڑک سے بانیاس جانا بے حد خطرناک ہے کیونکہ راستے میں مرقب کا قلعہ ہے جس پر نشانچی بیٹھے ہیں جو گزرنے والوں کو نشانہ بناتے ہین۔ لوگوں کی حفاظت کے لئے فوج بلائی گئی ہے۔
“یہ اچھی بات ہے کہ فوج شہریوں کی حفاظت کررہی ہے۔ لیکن فوج نے قلعہ ان نشانچیوں سے خالی کیوں نہیں کرایا”، میں نے سوال کیا۔ وہ میرے سوال سے پریشان ہوگیا اور غصے میں بولا،”آپ یہاں سے دمشق واپس چلی جائیٰں۔ ورنہ آپ کو ان پہاڑوں کے اوپر سے جانا پڑے گا”۔ میں نے پہاڑوں کے اوپر جانے والی سڑک پر سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ٹیکسی روانہ ہوئی۔ پہاڑوں کے پچھلی طرف کا منظر انتہائی حسین تھا اور میری اس سفر کی ساری کلفت دورہوگئی۔ یہ ایک انتہائی حسین و جمیل سر سبز و شاداب وادی تھی۔ ڈھلانوں پر پھل دار درخت تھے اور خودرو جنگلی جھاڑیوں میں حسین و جمیل پھول کھلے ہوئے تھے۔ ٰیوں لگتا تھا جیسے سبز کمخواب میں سرخ موتی ٹنکے ہوئے ہیں۔دور تک یہی منظر تھا۔ یہاں شروع میں کچھ گاؤں عیسائیوں اور علویوں کے تھے اور اس کے بعد سنیوں کے گاؤں تھے۔ یہ سلسلہ سمندر تک چلا گیا تھا۔ جب ہم ظاہر صفرہ اور قرقاطوی سے گزرے تو ہمیں نیچے البائدہ نظر آیا۔ایک کمسن لڑکا ایک چٹان کے پیچھے سے نمودار ہوا اور اس نے ہم کو اس طرح روکا جیسے وہ پہرہ دے رہا ہو۔ اس کا چہرہ سرخ و سفید تھا اور ہونٹوں پر معصوم مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ وہ کسی مصور کی بنائی ہوئی پینٹنگز کی طرح نظر آتا تھا۔ اس نے مجھ سے میرا شناختی کارڈ مانگا جو میں نے اس کو دیا۔اس نے ہم سے پوچھا کہ ہم کہاں جانا چاہتے ہیں۔ ہم نے اسے اپنی منزل کے بارے میں بتایا۔ اس نے کارڈ مجھے واپس کردیا اور ہمیں آگے جانے کا اشارہ دیا۔
“تم کس کے ساتھ ہو؟”۔ میں نے اس سے پوچھا۔
“میں آپ کے ساتھ ہوں”۔ اس نے سادگی سے کہا۔ کئی دن میں پہلی مرتبہ مجھے ہنسی آئی اور میں نے زور دار آواز کے ساتھ قہقہہ لگایا۔ڈھلان اور تنگ سڑک کی وجہ سے ہمارا سفر بہت سست تھا۔ ہم ایک گاؤں میں داخل ہوئے۔ یہاں پرسرار قسم کی خاموشی تھی۔چیک پوائنٹ یہاں بھی تھے لیکن ان پر صرف مقامی پولیس تھی۔ یہاں رہنے والے لوگ سادہ دل دیہاتی تھے۔ بظاہر سب ٹھیک لگتا تھا لیکن جب میں نے ایک دیہاتی سے پوچھا تو خوف کی لہر اس کے چہرے پر دوڑ گئی۔ اس نے بتایا کہ پہاڑوں کی بلندی سے ان پر فائرنگ ہوتی ہے۔یہ نامعلوم لوگوں کے مسلح گروہ ہیں۔
“شاید اسی وجہ سے فوج کو بلایا گیا ہے تاکہ وہ تم لوگوں کی حفاظت کرسکے”۔ میں نے کہا۔
“آپ سمجھ نہیں رہیں” دیہاتی نے کہا” وہ لوگ ہمیں قتل کرکے ہمارے گھروں کو لوٹنا چاہتے ہیں”۔
“کیا آپ لوگ اپنے گھروں کی خود حفاظت نہیں کرسکتے”۔ میں بولی۔
وہ چند لمحے خاموش رہا پھر بولا،”وہ ہماری لاشوں پر ہی گزر کر ہمارے گھروں تک پہنچ سکیں گے”، اس نے کہا۔
“میں نے سنا ہے کہ یہ شبیہہ کے جنگ جو ہیں جو لوگوں کو قتل کررہے ہیں”۔ میں نے کہا۔
وہ تھوڑا سا رکا پھر بولا ،”وہ کوئی بھی ہوں ہم اپنی حفاظت کریں گے، اب ہمارے گھروں میں عورتوں کے سوا کوئی نہیں”۔
چیک پوائنٹس پر سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے علاوہ مقامی امن رضاکار بھی پہرہ دے رہے تھے، ہم ایک چیک پوائنٹ پر کھڑے تھے کہ پیچھے سے ایک کار آئی۔ میں نے دیکھا کہ اس کار میں مسلح نوجوان بیٹھے تھے۔ میں اس وقت پولیس افسر سے پوچھ رہی تھی کہ ہم لوگوں کو اس قدر تلاشی کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔ پولیس افسر نے میرے پیچھے والی کار کو دیکھا اور مجھے اپنی ٹیکسی کنارے کرنے کا اشارہ دیا۔ اس کے بعد میرے پیچھے والی کار کو رکنے کا اشارہ دیا۔ اگر میری ٹیکسی آگے نہ ہوتی تو شاید وہ بغیر رکے نکل جاتے، لیکن راستہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں رکنا پڑا۔ پولیس افسر نےان سے کاغذات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایک کاغذ دکھایا جو یقینی طور پر ایک سرکاری اجازت نامہ تھا۔ پولیس افسر نے ان کی کار کی تلاشی نہیں لی اور انہیں جانے کا اشارہ دیا۔ وہ تیزی سے آگے نکل گئے۔ ان کے چہرے قاتلوں والے اور سپاٹ تھے۔میں ایسے چہرے دمشق اور کئی دوسری جگہوں پر دیکھ چکی تھی۔ ان کی آنکھوں میں مروت، رحم، احسان نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ جب پولیس افسر نے انہیں جانے کی اجازت دی تو میں حیران رہ گئی۔ میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ یہ چاروں قاتل ہیں اور الشبیہہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے پولیس افسر سے پوچھا کہ “تم نے ان لوگوں کو جانے کی اجازت کیوں دی؟ ان کے پاس ہتھیار تھے اور وہ شکل ہی سے مجرم لگ رہے تھے”۔ پولیس افسر نے سکون کے ساتھ میرا سوال سنا لیکن کوئی جواب نہیں دیا۔
“تم نے میرے لیپ ٹاپ کی تلاشی بھی لی جیسے میں نے اس میں کوئی مشین گن چھپا رکھی ہے، لیکن تم نے انہیں بغیر تلاشی کے جانے دیا”۔میں نے چلا کر کہا۔
“ان کے پاس وزارت داخلہ کا اجازت نامہ تھا، وہ کسی سیکیورٹی اسائنمنٹ پر تھے”، پولیس افسر پرسکون لہجے میں بولا” میڈم! اب آپ یہاں فوراً چلی جائیں”۔
مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ میں نے ایک مرتبہ پھر چلا کر کہا،”وہ لوگ مجرم تھے، ان کے ہاتھوں میں ہتھیار تھے”۔
پولیس افسر نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور میری طرف سے پیٹھ کرلی۔ اس کے نائب پولیس کانسٹبل اس صورت حال پر بہت پریشان نظر آرہے تھے۔ ان میں سے ایک میرے قریب آیا اور بولا ،”بہن ! پرسکون ہوجائیں۔ ہم اس قسم کے معاملات میں کچھ بھی نہیں کر سکتے۔
البائدہ پہنچ کر صورت حال واضح ہوگئی۔یہ چیز اب تاریخ کا حصہ بن چکی ہے کہ کس طرح لوگوں کو جانوروں کی طرح گاڑیوں میں بھر کر لے جایا گیا۔جب عورتیں باہر آئیں تو ان کے ساتھ بدسلوکی کی انتہا کردی گئی۔ چھوٹے بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔بائیدہ کی گلیاں اور سڑکیں معصوم شہریوں کے خون سے سرخ کردی گئیں۔ شہیدوں کی لاشیں کئی دن سڑکوں پر پڑی رہیں لیکن انہیں دفنانے والا کوئی نہیں تھا۔
علویوں کی آبادیوں میں افواہوں کا بازار گرم تھا لیکن اس کی تصدیق کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا ۔ لیکن انہیں سرکاری پروپیگنڈے کے ذریعہ اس قدر خوفزدہ کیا گیا کہ وہ سنیوں کو اپنا دشمن تصور کرنے لگے۔باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعہ علویوں اور سنیوں کے درمیان فسادات پھیلانے کی سازش کی گئی جس میں حکمراں ملوث تھے۔جب سنیوں کی بستیاں جلائی گئیں تو ان کی جانب سے جوابی حملے کئے گئے اور اس طرح فساد پھیلانے کی حکومت کی منصوبہ بندی کامیاب رہی۔ بہت کم علوی اس فساد سے الگ رہے۔ جب اسلام پسند سنی آبادیوں کی حفاظت اور مدد کے لئے نمودار ہوئے تو انہوں نے نہتے علویوں پر حملے نہیں کئے۔ انہوں نے عام شہریوں کو محض اس بنا پر تشدد کا نشانہ نہیں بنایا کہ وہ علوی ہیں۔
آج جمعہ ہے اور مجھے پتہ چلا ہے کہ لطاکیہ میں15 مظاہرین شہید ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو عباسین اسکوائر تک پہنچنے سے روکنے کے لئے فائرنگ کی۔الراستن میں مظاہرین نے حافظ الاسد کا مجمسہ گرادیا۔ملیشیانے مظاہرین میں گھنسنے کی مکوشش کی اور سادے لباس میں مسلح افراد کو بھیجا لیکن اب مظاہرین پہلے سے زیادہ ہوشیار ہوگئے تھے اور انہوں نے ان سادے لباس والے اہلکاروں سے ان کے ہتھیار چھین لئے۔الزمیرمیں سیکیورٹی فورسز نے پوری شہری آبادی کو یرغمال بنا رکھا تھا۔دوما ابھی تک محاصرے میں تھا۔ بانیاس خالی ہوچکا تھا۔الشبیھہ اور سیکیورٹی فورسز نے مل کر دوکانوں میں لوٹ مار کی۔سٹی ہال اور پوسٹ آفس کو آگ لگادی گئی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ بعض علاقوں میں اب پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر بھی فائرنگ شروع ہوگئی تھی۔لیکن اس کا نشانہ وہ پولیس افسر بن رہے تھے جو مظاہرین پر گولی چلانے کے احکامات نہیں مانتے تھے۔ ان پولیس افسروں میں علوی بھی تھے اور سنی بھی۔ خفیہ ہاتھ اپنا کررہا تھا اور اس کی کوشش تھی کہ سنیوں اور علویوں کے درمیان بڑے پیمانے پر فسادات ہوں تاکہ بشار الاسد کو اقتدار کی جنگ میں علویوں کی مکمل حمایت حاصل ہوسکے۔(جاری ہے)
29 اپریل 2011:
درعا کے محصور شہر پر اولے بھی اس طرح گر رہے تھے جس طرح گولیوں کی بارش ہورہی تھی۔ سیاہگھٹا کے نیچے ژالہ باری کے ساتھ شہر پر انسانوں کے ہاتھوں لائی ہوئی تباہی اور بربادی تھی۔ میدانوں اور گلیوں میں بکھرے ہوئے زخمی آہستہ آہستہ موت کا شکار ہورہے تھے۔ نوجوانوں کی مائیں بے بسی سے انہیں مرتے ہوئے دیکھ رہی تھیں۔ جن کی جان لبوں پر تھی ان کی آنکھیں بند ہونے سے پہلے مائیں ان کے گلے میں پانی کے قطرے ٹپکا رہی تھیں۔ لوگ مکانوں کی کھڑکیوں سے باہر جھانک کر چوک کے اردگرد پھیلی ہوئی لاشوں کو دیکھ رہے تھے۔ بجلی بند تھی اور سڑکوں اور گھروں میں روشنی نہیں تھی ۔ تاریکی میں مردوں کے جسموں کو تیز بارش اس طرح گر رہی تھی جیسے قدرت نے خود انہیں غسل دینے کا انتظام کیا ہو۔ شہیدوں کے جسموں سے بو پھوٹ رہی تھی۔ لوگ حسرت بھری نظروں سے اپنے پیاروں کے ان لاشوں کو تک رہے تھے جو کبھی زندگی کی خوشگوار حدت سے معمور تھیں لیکن اب مٹی اور خون میں لتھڑی ہوئی تھیں۔ میرے گھر کی کھڑکی سے باہر اولوں کا طوفان آیا ہوا تھا اور یہ رونق والا شہر آہستہ آہستہ موت کا شکار ہورہا تھا اور مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میرا دل گوشت کا لوتھڑا نہیں دھات کا کوئی ٹکڑا ہے جو دھرکنا بھول گیا ہے۔ مائیں اپنے چھوٹے بچوں کو تھپک کر سلانے کی کوشش کررہی تھیں لیکن ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور ان کے جسم درد بھرے جذبات سے لرز رہے تھے۔
میں اس وقت اپنے گھر میں نہیں تھی۔ دمشق سے تھوڑے فاصلے پر یہ جگہ بذریعہ کار ایک گھنٹے کی مسافت پر تھی۔ ہم نے اخبارات میں اس علاقے میں ہونے والی قتل و غارت گری کے بارے میں دل دہلادینے والی کہانیاں پڑھیں۔ پورے پورے خاندانوں کو ٹینکوں، فوجیوں اور نشانچیوں نے گھیر لیا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے شامی فوج اسرائیلی فوج کے خلاف کوئی آپریشن کررہی ہو لیکن اس کا نشانہ خود اپنے شہری تھے۔ عورتیں خوف سے لرزتے ہوئے اپنے گھروں میں چھپی بیٹھی تھیں اور فائرنگ کی آوازوں میں کوئی وقفہ نہیں تھا۔ جو بھی اپنے گھروں سے قدم باہر نکالنے کی ہمت کرتا شہادت اس کا مقدر ہو جاتی۔ انتہا یہ ہے کہ کوئی شخص گلیوں اور میدانوں می پھیلی ہوئی لاشوں کو دفنانے کے لیے بھی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ یہ لاشیں درعا شہر میں العمری مسجد کے باہر پھیلی ہوئی تھیں۔ جب لوگوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ مرنے والوں کو دفنانے کی اجازت دی جائے تو اس وقت بہت سے زخمی گھروں کے اندر چھپے بیٹھے تھے اور کچھ ابھی تک کسی طبی امداد کے بغیر گلیوں میں پڑے ہوئے تھے۔ میرے علم میں آیا کہ شامی فوج نے بہت سے اسپتالوں اور دواخانوں پر بھی بمباری کی اور انہیں تباہ کردیا تاکہ لوگوں کو طبی امداد نہ مل سکے۔ وہ اسپتالوں کو کیوں آگ لگا رہے تھے اس کی وجہ سمجھ میں آنے والی نہیں تھی؟ ظاہر سی بات تھی کہ لوگ اپنے زخمیوں کو علاج کے لیے وہیں لے جاتے۔ اس شہر کے بہت سے رہنے والے یہ بدترین حالات پیدا ہونے سے پہلے سرحدیں عبور کر کے لبنان یا اردن چلے گئے تھے۔ کیا ایسے حالات میں تصور کیا جاسکتا تھا کہ لوگ جمعہ کو بھی مظاہرہ کرنے باہر نکلیں گے جو تمام شامی شہروں میں ہوا کرتے تھے۔ کیا کوئی اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی ہمت کرے گا کیونکہ ہر گلی میں مکانوں کی چھتوں پر فوج یا شبیہہ ملیشیا کے نشانچی چھپے بیٹھے تھے جو بندوقوں اور مشین گنوں سے مسلح تھے۔ گلیوں کے سروں پر ٹینک کھڑے تھے جن کی توپوں کا رخ گھروں کی جانب تھا۔
گزشتہ جمعہ کو میں دمشق گئی جو بھوتوں کا شہر دکھائی دیتا تھا۔ یہ وہ خوبصورت، حسین اور جمیل دمشق نہیں تھا۔ اگرچہ تمام شامی شہروں میں لوگوں سے اپیل کی جارہی تھی کہ وہ گھروں سے باہر آئیں لیکن ہر چھوٹے بڑے شہر کے چوک پر سیکورٹی فورسز کھڑی ہوئی تھیں۔ ان فوجیوں کی تعداد ہزاروں تھی۔ میں اپنی ایک سہیلی کے ساتھ جوبار جانے والی سڑک پر آئی اور اباسین اسکوائر کی جانب جانے کی کوشش کرنے لگی۔وہ کار ڈرائیو کررہی تھی۔ یہاں دہشت ناک خاموشی تھی۔ کوئی شخص سڑکوں پر نہیں تھا۔ جب ہم چوک پر پہنچے تو ہم نے بڑی تعداد میں فوجیوں کو وہاں پھیلتے ہوئے دیکھا۔ ابھی مظاہرہ شروع ہونے کا وقت نہیں آیا تھا۔ میری سہیلی ڈرائیونگ کر رہی تھی اور ہم دمشق کی سڑکوں پر زندگی کی علامات ڈھونڈ رہے تھے۔ مجھے ایسا لگتا تھا کہ جیسے میری آنکھیں مجھے دھوکا دے رہی ہیں۔ اس خالی شہر میں سوائے موت کی چیخوں کے اور کچھ نہیں تھا اورہر چوک پر قاتل آنکھیں جمع ہورہی تھیں۔ یہ فوجی سرکاری بسوں سے اتر رہے تھے ان کے ہاتھوں میں بندوقیں، زنجیریں اور دوسرے ہتھیار تھے۔ میں نے اپنی زندگی کے 40 سال شام میں گزارے لیکن میں نے ابھی تک ایسے بے روح چہرے نہیں دیکھے تھے جن کی آنکھوں سے نفرت جھلکتی ہو اورجن کے جسم گوشت پوست کے بجائے لکڑی سے بنے محسوس ہوں۔ آخر ان 40 سالوں نے قاتلوں کی یہ دہشت زدہ کرنے والی نسل کب پیدا کی؟
دوپہر کے بعد اسی اباسین اسکوائر پر صورت حال بالکل بدل گئی۔ سیکورٹی فورسز کی تعداد میں بہت اضافہ ہوگیا۔ گلیوں سے کسی کو چوک پر آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ جگہ جگہ فوجی چیک پوائنٹ بنے ہوئے تھے۔ جوبار روڈ کی جانب جانے والے تمام راستے بند کردیے گئے تھے۔ لوگ مظاہرے کے لئے آہستہ آہستہ جمع ہونا شروع ہی ہوئے تھے کہ گولیاں چلنے لگیں۔ الغب لتانی اباسین اسکوائر سے زیادہ دور نہیں تھا۔ میری سہیلی نے مجھے بتایا کہ الغب لتانی پر کچھ عیسائیوں نے مظاہرہ کیا۔ ان کی تعداد ایک درجن سے زیادہ نہیں تھی۔ ان میں سے ایک نے اپنی قمیض اتار کر پھینک دی اور سیکورٹی فورسز سے کہا کہ میرے سینے پر گولی مارو۔ وہ بمشکل ایک منٹ کھڑا رہا ہوگا کہ گولی چلنے کی آواز آئی اور نوجوان زمین پر گر گیا۔ اس کے بعد فوجیوں کی جانب سے کہا گیا کہ تمام مظاہرین یہاں سے بھاگ جائیں ورنہ ان کا بھی یہی حشر ہوگا۔ اس دوران 5 نہتے نوجوان شامی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن چکے تھے۔ لیکن سرکاری ٹیلی ویژن نے جو رپورٹ جاری کی اس کے مطابق شامی سیکورٹی فورسز نے 5 باغیوں کو پکڑا جو مسلح تصادم میں مارے گئے۔ میں یہ سوچ کر حیران تھی کہ وہ نوجوان جس کے پاس کوئی ہتھیار نہیں اور وہ شامی فوج کے ظلم کے خلاف احتجاج کر رہا تھا۔ اس نے احتجاج کرتے ہوئے اپنی سینہ گولیوں کے سامنے پیش کردیا تھا اس نے کیسے سمجھ لیا تھا کہ شامی فوجی اس پر گولی نہیں چلائیں گے جو علوی تھے اور صرف بشار الاسد کے وفادار تھے ۔ میں مزید سوالوں کا جواب حاصل کرنے کے لیے برزہ کی جانب شام کے وقت گئی۔ یہاں ایک چیک پوائنٹ تھا۔ جب ہماری کار چیک پوائنٹ کے قریب پہنچی تو کئی مسلح افراد نے ہمیں گھیر لیا ان کا تعلق شبیہہ ملیشیا سے تھا۔ ان میں ایک جوان کی عمر 25 سال سے زیادہ نہیں تھی۔ اس کی مشین گن کی نال کا رخ سیدھا ہماری جانب تھا اور اس کی آنکھوں سے خون ٹپک رہا تھا۔ میری سہیلی نے بتایا کہ ہم خود علوی ہیں۔لیکن یہ کہنے کا اس پر کوئی ا ثر نہیں ہوا۔شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ابھی تک حکومت بشار الاسد کے خلاف آزادی کی جدوجہد کو فرقہ ورانہ رنگ دینے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی اور سنی اکثریت کے ساتھ بڑی تعداد میں علوی بھی جدوجہد میں شامل تھے۔ چیک پوائنٹ سے آگے گولیاں چلنے کی آواز آرہی تھی۔ اس کا مطلب یہی تھا کہ وہاں قتل و غارتگری جاری تھی۔ انہوں نے ہمیں برزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ گزشتہ جمعہ کو جب میں اپنی ڈائری لکھنا چاہتی تھی تو مجھ پر شدید جذبات کا حملہ ہوا اور میں کوشش کے باوجود ایک بھی سطر نہیں لکھ سکی۔ تحریر پر توجہ مرکوز کرنا ناممکن تھا۔ جب میں لکھنے لگتی تو سڑکوں پر پھیلے ہوئے لاشے میری نظروں کے سامنے ناچنے لگتے۔ جب میں لکھنے میں ناکام ہوگئی تو گھر سے نکل کر اپنی دوست کے گھر کی جانب روانہ ہوئی۔ میں اپنے گھر میں بہت کم وقت گزارتی تھی کیونکہ مجھے پکڑے جانے کا خطرہ تھا۔ شامی جاسوس اور انٹلیجنس کے لوگ ہر وقت میری تلاش میں رہتے تھے۔ میرے لیے شہر میں نقل و حرکت مشکل ہوگئی تھی۔ میں علوی تھی اور خود میرے فرقے کے لوگ مجھے سازشی اور غدار تصور کرتے تھے۔ کیونکہ میں ان لوگوں کے خلاف مسلسل لکھتی رہتی تھی۔ چنانچہ یہ لوگ مخابراتی ویب سائیٹ پر میرے بارے میں لکھا کرتے تھے کہ میں امریکی ایجنٹ ہوں اور اس وجہ سے بشارالاسد کی حکومت کی مخالفت کرتی ہوں۔ میرے ہاتھ میری بیٹی اور میرے خاندان کی وجہ سے بندھے ہوئے تھے کیونکہ میرے ہاتھ نہ آنے کی وجہ سے اب ان کو دباؤ کا نشانہ تھا۔ میں خود اپنے گاؤں میں نہیں جاسکتی تھی کیونکہ مجھے اپنے فرقے اور ملک کا غدار قرار دیدیا گیا تھا۔ مجھ پر لکھنے اور چھاپنے کی پابندی لگادی گئی تھی۔ سارے قتل و غارت گری کے واقعات میرے اردگرد ہورہے تھے اور میں ان کا پورا علم رکھتی تھی اور ان کی رپورٹیں میڈیا کو بھیجا کرتی تھیں۔ ایک دن مجھے اطلاع ملی کے میرے کئی دوستوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اس کے بعد درعا کے شہر کا گھیراؤ کرلیا گیا۔ یہ گھیراؤ ابھی تک جاری تھا۔ جمعہ کی صبح کو میری آنکھ کھلی تو آسمان پر گھٹا چھائی ہوئی تھی اور سخت بارش جاری تھی۔ آسمان سے گرنے والے اولے گولیوں کی طرح میری کھڑکی سے ٹکرا رہے تھے۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے خدشے کے باوجود اس دن میں اپنے گھر واپس آئی۔ میں صرف یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ میری بیٹی خیریت سے ہے یا نہیں؟ وہ بے حد خوف زدہ تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کو موبائیل پر دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اس سب کے باوجود میں نے پہلے سے زیادہ فعالہونے کا فیصلہ کیا۔ میں ان لوگوں کے ساتھ شامل ہوگئی جو زیر زمین چلے گئے تھے اور انقلاب کے لیے کام کر رہے تھے۔ کسی اخبار میں کوئی خبر حکومت کی مرضی کے بغیر شائع نہیں ہوسکتی تھی کوئی چینل سچی بات نشر نہیں کرسکتا تھا۔ صرف غیرملکی چینل واحد سہارا تھے۔ لیکن جو نوجوان کسی چینل کے لیے رپورٹنگ کرتے تھے ان کو گرفتار کرلیا جاتا تھا۔ اس جمعہ کو اردن کے ساتھ شامی سرحد کو بند ہوئے پانچ دن ہوچکے تھے۔ درعا میں صرف ایک ہفتے میں50 افراد کو شہید کیا گیا تھا۔ درعا اور الرمسا کے درمیان سرحد بند ہو جانے سے اشیائے ضرورت کی آمدورفت بند ہوگئی۔ اب درعا کے شہری تاریکی میں زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے پاس کھانے کو بھی کچھ نہیں تھا۔بازار کئی ہفتے سے بند تھے۔ گھروں میں پینے کا پانی بھی نہیں تھا۔ سپلائی بند ہونے کی وجہ سے بچوں کے دودھ کی شدید قلت تھی جبکہ گلیوں میں شامی فوجی اور شبیہہ ملیشیا کے درندے منتظر بیٹھے تھے۔ دو دن پہلے شامی اسمبلی کے ایک ممبر کا بیٹا چینل پر آیا اور اس نے اپنی آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے سوال کیا کہ درعا میں کچھ بھی ہوا ہو لیکن پانی اور بجلی کیوں بند کردیاگیا ہے؟ لوگوں کو فاقے کرنے پر کیوں مجبور کیا جارہا ہے؟ انہیں اپنے پیاروں کو جو گولیوں کا نشانہ بنے ہیں ان کی لاشیں دفن کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟ جو زخمی ہیں ان کو طبی امداد کیوں فراہم نہیں کی جارہی؟ درحقیقت بشارالاسد کی حکومت درعا کے شہریوں کو سبق پڑھانا چاہتی تھی، خواہ اس دوران شہر کا ہر شخص ماردیا جائے۔ یہ جمہوریت اور آزادی کا مطالبہ کرنے کی سزا تھی۔ دمشق میں فوج گشت کر رہی تھی۔ درعا کا رابطہ باہر سے ٹوٹ چکا تھا اور شہر کو بجلی کی فراہمی کاٹ دی گئی تھی۔ لوگ نشانچیوں کے خوف سے گھروں میں چھپے بیٹھے تھے۔ لبنان اور اردن کی سرحد پر بھی شامی فوج تعینات کردی گئی تھی۔ عمودہ اور لطاکیہ میں حکومت مخالف مظاہرے ہوئے اور ہمیشہ کی طرح فوج نے فائرنگ کر کے مظاہرین کو خاک و خون میں نہلادیا۔
میں کئی دن ایک گاؤں میں چھپے رہنے کے بعد اپنے گھر واپس آئی اور اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھ کر اس کا حوصلہ بڑھانے لگی۔ اس نے اپنی آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے مجھے سے کہا کہ ” وہ آپ کو قتل کردیں گے۔ وہ ہر ایک سے کہہ رہے ہیں کہ وہ قتل کرنے کے لیے آپ کو تلاش کر رہے ہی؟ ہر ایک آپ کا مذاق اڑا رہا ہے، آپ کی توہین کر رہا ہے اور آپ کو غدار کہہ رہا ہے۔ جبکہ یہاں ہینڈبل بانٹے گئے ہیں جن میں آپ پر غداری کا الزام لگایا گیا ہے”۔
میری بیٹی بے حد خوفزدہ تھی۔ میں نے اس کو یقین دلایا کہ میں اس کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔ پھر میں نے انٹرنیٹ پر آن لائن جا کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ شامی شہروں میں کیا ہورہا ہے؟ لیکن میری بیٹی نے مجھے کمپیوٹر کے سامنے سے ہٹا دیا اور کہا کہ میں انٹر نیٹ پر نہ بیٹھوں، صرف اس کے سامنے بیٹھی رہوں۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ مجھ پر الزام لگا رہی تھی کہ میں بار بار اسے تنہا چھوڑ کر چلی جاتی ہوں۔ میں اسے بتا رہی تھی کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ سیکورٹی فورسز میری تلاش میں ہیں اور وہ میرے اپنے فرقے کو اکسا رہے ہیں کہ مجھے قتل کردیں۔ میری بیٹی کا کہنا تھا کہ میرے سوا اس کا کوئی نہیں ہے اور اگر میں قتل ہوگئی یا شامی فوجی مجھے پکڑ کر لے گئے تو وہ تنہا کیا کرے گی؟ مجھے معلوم تھا کہ وہ کس کیفیت سے گزر رہی ہے۔ میں نے اس کو تھپک کر سلانے کی کوشش کی۔ جب وہ سوگئی تو میں اپنے کمرے میں جا کر بیٹھ گئی اور رو کر اپنا دل ہلکا کرنے لگی۔ کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ میرے آنسو دیکھے۔
شامی فوج نے تمام شامی شہروں میں چوکوں پر لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی لگا دی تھی۔ جگہ جگہ کرفیو لگادیا گیا تھا۔ دمشق کے ضلع المیدان میں شہری جمعہ کی نماز کے بعد باہر جمع ہوئے اور انہوں نے حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد شامی فوج اور سیکورٹی اداروں کے ایجنٹ اور الشبیہہ کے رضاکار 10 بسوں میں بھر کر وہاں پہنچے اور انہوں نے مظاہرین کو زدوکوب کرنا شروع کردیا۔ مظاہرین کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ تھی۔ درجنوں کی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ تمام مظاہرین غیرمسلح تھے۔ جب فوج ان پر لاٹھی چارج کرتی یا آنسو گیس کے شعلے پھینکتی تو وہ منتشر ہو جاتے لیکن دوبارہ جمع ہو کر آزادی کے نعرے لگانے لگتے۔ یہ اتفاق تھا کہ اس دن کوئی گولی نہیں چلی لیکن سیکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کر کے لے جایا گیا جنہیں کبھی رہائی نصیب نہیں ہوئی۔ میں خونریزی دیکھ دیکھ کر تنگ آچکی تھی۔ ہر جمعہ کو مجھے دل دہلادینے والی خبریں ملتیں۔ میں ہر وقت اس طرح تناؤ کی حالت میں رہتی کہ میری رات کی نیند جاتی رہتی۔ میں نیند کیگولیاں کھائے بغیر سو نہیں سکتی تھی۔ درعا میں مظاہرین کا استقبال بھاری فائرنگ سے ہوا۔ چھتوں پر نشانچی بیٹھے ہوئے تھے۔ جو شخص گھر سے باہر نکلتا اسے وہ گولی مار دیتے۔ بجلی اور پانی بند تھا۔ کوئی دکان کھولنے کی اجازت نہیں تھی اور گھروں میں بچے بھوک سے بلک رہے تھے۔ دمشق کے نواحی علاقے سقبا میں بھی مظاہرے ہوئے جن کو سختی سے کچل دیا گیا۔ تھوڑی دیر بعد مجھے خبر ملی کہ اردن کی فوج نے شام اردن سرحد پر پوزیشن سنبھال لی ہے۔ میرا دل اچھل کر منہ تک آگیا۔ میں خوف زدہ ہوگئی کہ وہاں اردنی فوج کیوں تعینات کی گئی؟ اس وقت شام اردن سرحد پر بہت بڑی تعداد میں شام سے نقل مکانی کرنے والے مہاجرین کے قافلے نظر آرہے تھے۔ یقینی طور پر یہ فوج ان کو روکنے کے لیے تعینات نہیں کی گئی تھی۔ لیکن میں اس معاملے میں کچھ نہیں کہہ سکتی تھی۔ میں پاگل عورت کی طرح پورے گھر میں گھوم رہی تھی۔ میں گلی میں نہیں نکل سکتی تھی۔ باقی دنیا سے میرا آن لائن رابطہ بھی منقطع ہوگیا تھا اور میں انٹرنیٹ بھی نہیں لگا سکتی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد مجھے اپنے بچپن کے ایک دوست کا ایس ایم ایس ملا۔ اس نے لکھا تھا ’’سازشی عورت، اﷲ صدر بشارالاسد کے ساتھ ہے اور تم راستہ بھول گئی ہو۔‘‘ میں نے اس کے ایس ایم ایس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ رات گئے انٹرنیٹ رابطہ بحال ہوا۔ جس سے پتہ چلا شام کے تمام بڑے شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دمشق کا جنوبی راستہ فوج نے بند کردیا تھا اور المعدمیہ میں فوج لگادی گئی تھی۔ حمص کے لوگ ابھی تک زیتون کی شاخ لیے کھڑے تھے۔ رپورٹس کے مطابق سخت بارش اور طوفان کے باوجود لوگ گھروں سے باہر نکلے اور انہوں نے مظاہرے کیے۔ میں بے حد پریشان تھی اگرچہ ابھی تک قتل و غارت گری کی کوئی خبر نہیں آئی تھی۔ تاہم لطاکیہ کے نواح میں الصریبہ میں بھاری فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ابھی تک یہ نہیں پتہ چل سکا تھا کہ کتنے لوگوں کا خون بہا۔ پہلی مرتبہ پورا دمشق گھروں سے باہر نکل آیا تھا۔ سیکورٹی فورسز نے ان کو منتشر کرنے کے لیے ہر ذریعہ اختیار کیا لیکن لوگ واپس جانے کو تیار نہیں تھے۔ مظاہروں کا خاتمہ خونریزی کے بغیر نہیں ہوسکا۔ جبلہ سے آنے والا اطلاعات کے مطابق سینکڑوں مظاہرین جن میں عورتیں بھی شامل تھیں باہر نکلے۔ ان کے سامنے شامی فوج کا چوتھا ڈویژن موجود تھا۔ میں شہر کی گلیوں میں پلی بڑھی تھی اور مجھے یہ جان کر سخت تکلیف ہورہی تھی کہ شبیہہ کے غنڈے اور سرکاری لوگ علویوں کو سنیوں کے خلاف بھڑکا رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ’’سنی علویوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔‘‘ اگرچہ سنیوں کے علاقوں میں علویوں پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن حکومت کی پوری کوشش تھی کہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے آزادی کی اس جنگ کو علوی سنی جنگ میں تبدیل کردے۔ الیپو (Alleppo) کے شہر میں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے۔ حکومت ان مظاہروں سے خوف زدہ تھی کیونکہ یہ شام کا دوسرا سب سے بڑا شہر تھا اور بنیادی طور پر یہاں سب سے بڑی مزاحمتی تحریک تھی۔ 1980 کے عشرے میں جب حافظ الاسد کی حکومت کے خلاف یہاں سے تحریک اٹھی تو شامی فوج نے بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کی اور ہزاروں لوگوں کو قتل کر کے اس تحریک کو کچل دیا۔ شہر پر مظاہرین کا قبضہ تھا جب کہ فوج اور الشبیہہ ملیشیا شہر سے باہر مورچہ زن تھی۔ میں خود اپنے گھر میں محصور تھی۔ میں گھر سے باہر نکلنا چاہتی تھی لیکن میری بیٹی کے آنسوؤں نے مجھے روک رکھا تھا۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ خود کو غیرمحفوظ تصور کرے۔ لیکن یہاں جس قسم کا ماحول تھا اس میں کسی کو محفوظ رہنے کی یقین دہانی کیسے کرائی جاسکتی تھی؟ میں سوچ رہی تھی کہ مجھے یہاں طویل عرصے تک ٹھہرنا نہیں چاہیئے۔ کیونکہ وہ میری تلاش میں کسی بھی وقت یہاں چھاپہ مارسکتے تھے۔ دو دن کے بعد میں گھر سے نکل کر دمشق کے وسط کی جانب جارہی تھی۔ عرب اور غیر عرب چینل لندن میں شہزادہ ولیم اور کیٹ کی شادی کی خبریں نشر کر رہے تھے۔ میں نے اپنی بیٹی سے کہا تھا کہ میں کھانے کا کچھ سامان لینے جارہی ہوں اور جلد واپس آجاؤں گی۔ اس دوران میں وہ مسلسل روتی اور چلاتی رہی اور کہتی رہی آپ کہاں جارہی ہیں؟ آپ باہر نہ جائیں! آپ باہر نہ جائیں! اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات جاری تھی اور میں اس کو یقین دلانے کی کوشش کررہی تھی کہ میں ضرور واپس آؤں گی۔ میں شام کو گھر سے باہر اس وقت نکلی جب مجھے پتہ چلا کہ فوج کی فائرنگ سے 62 مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

9 + two =