شامی خاتون کی ڈائری قسط نمبر3

شامی خاتون کی ڈائری

قسط نمبر3

یہ کیسی عجیب صبح تھی۔ میں نیند سے بیدار ہوئی اور میں نے اپنی جلد کو چھوکر دیکھا۔ خوف، امید، اور واہموں کے ہجوم نے میری فکروں پر غلبہ کررکھا تھا۔ مسلسل اندیشوں مجھ سے میری ساری توانیاں چھین لی تھیں۔ میں بمشکل زندہ رہنے کے کچھ کھالیتی تھی لیکن مجھے نہ خوراک کا ذائقہ محسوس ہوتا تھا اور نہ میری زندگی میں لذت کی کوئی اشتہا رہ گئی تھی۔مسلسل فاقہ کشی نے تمام بوٹیاں اور چربی گھلادی تھی اور میری جلد ہڈیوں سے چمٹی ہوئی تھی۔میں نے اپنی جلد کو چھوا۔ میں کیا سے کیا بن گئی تھی؟ میں جو اپنے وقت کی مقبول ٹی وی میزبان اور رپورٹر تھی۔ لیکن اب میں کسی المیہ ناول کا ایک کردار تھی۔ میں نے چسکیوں میں کافی پی کہ شاید اس کی گرمی میرے اندر زندگی کی جوت جگادے۔ میں نے ایک دفعہ کسی عورت کے بارے میں ایک ناول لکھنا شروع کیا تھا اور اب خود کو اس کا ایک کردار محسوس کررہی تھی۔ایک ایسا حقائق پر مبنی ناول جو شاید میں اس سے پہلے کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
گزشتہ روز شام کو میری کچھ دوست لڑکیاں اور لڑکے الحمرا اسٹریٹ کے قریب ہونے والے مظاہرے کی کوریج کے لئے گئے تھے جبکہ میں وہاں وعدے کے مطابق پہنچ نہ سکی، ان سب کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ میرے جو سنی دوست مجھ کو مختلف مظاہروں کے بارے میں اطلاع دیتے تھے اب مجھ سے خوف زدہ تھے کیونکہ ایسا کئی بار ہوا تھا کہ میرے دوست پکڑے گئے اور میں بچ گئی۔ انہیں شبہ تھا کہ شاید میں اب ان کا حصہ نہیں رہی تھی اور وہ مجھ سے رابطے توڑ رہے تھے۔لیکن میرے پاس کوئی آپشن نہیں تھا۔شاید کچھ ایسے بھی تھے جو اب بھی مجھ سے امید لگائے تھے ۔ خواتین کا آخری مظاہرہ میرے گھر کے قریب سے گزرا۔میں ایمبولینسوں کی آوازیں سن سکتی تھی لیکن میں نے اپنے فلیٹ کی گیلری میں جانے سے خود کو روکے رکھا۔ پھر میں
نے مظاہرین پر پولس تشدد اور فائرنگ کی آوازیں بھی سنیں۔ اس مظاہرے کی رپورٹ میری ایک دوست مصنفہ نے دی جو خود اس مظاہرے میں شریک تھی اس نے مجھے اس کی تفصیلات بتائیں:
’’ہم آرنس اسکوائر پر جمع ہوئے۔ میرا ارادہ تھا کہ میں سڑکوں پر نہیں نکلوں گی کیونکہ پولیس انٹیلیجنس ہم پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ خود کو حتی الامکان گرفتاری سے بچایا جائے کیونکہ مظاہرے میں شرکت کا مطلب ان کی نظر میں آجانا تھا اور وہ مجھے کسی بھیڑ کی طرح گھیر کر پکڑ لیتے۔ لیکن میرا خیال تھا کہ ہمارا اسکوائرز پر ہونے والے مظاہروں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا ضروری تھا بجائے اس کے کہ ہم کسی مسجد کے اندر بیٹھے رہتے۔ چنانچہ میں اپنی ایک ساتھی لڑکی کے ساتھ باہر نکلی۔ ہم نے دیکھا کہ چاروں طرف شامی سیکورٹی فورسز پھیلی ہوئی تھیں۔ ہم اسکوائر کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے اور ہم نے ایک قومی نغمہ گانا شروع کردیا۔ ہمیں دیکھ کر نوجوان وہاں جمع ہوگئے اور ہمارے ساتھ مل کر شام کے قومی نغمے گانے لگے۔ اس وقت وہاں مظاہرین کی تعداد 150 کے لگ بھگتھی جن میں عورت و مرد سب شامل تھے۔ ہم نے اس کی ویڈیو بنائی۔ پھر ہم نے شام کا قومی ترانہ گانا شروع کیا۔’’ اے اقلیم کے سرپرستو! تم کو سلام ہو‘‘ اس کے بعد ہم نے اپنے بینرز کھولے اور انہیں لہرانا شروع کیا جن پر لکھا تھا ’’گھیراؤ مردہ باد، تشدد مردہ باد، ہم شہری جمہوری ریاست چاہتے ہیں‘‘۔ اس کے بعد ہم سب نے الساحیلیہ کی جانب مارچ کرنا شروع کردیا۔ تمام مظاہرین قومی ترانہ گا رہے تھے اور بینر اٹھائے ہوئے تھے۔ جب ہم الساحیلیہ کے وسط میں پہنچے تو مارکیٹ کھلی ہوئی تھی۔ لوگ سڑکوں کے دونوں جانب جمع ہوگئے۔ ان میں سے کچھ ہمیں خوف اور کچھ ہمدردی کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔ ہم وہاں کھڑے ہو کر 17 منٹ تک قومی ترانہ گاتے رہے۔ اس کے بعد سیکورٹی فورسز نے ہم کو چاروں طرف سے گھیرلیا اور ہم پر اس طرح حملہ کردیا جیسے ہم اس ملک کے شہری نہیں بلکہ دشمن فوج ہیں۔ وہ انتہائی بیدردی سے ہم کو مار رہے تھے۔ بھگدڑ میں عورتیں اور لڑکیاں زمین پر گر رہی تھیں۔ میری ساتھی لڑکی بھی زمین پر گرگئی۔ ایک شخص آگے بڑھا اور اس کو ٹھوکریں ماریں۔ میں نے آگے بڑھ کر اسے بچانے کی کوشش کی اور اسے کسی نہ کسی طرح اپنے پیروں پر کھڑا کیا۔اس دوران دوسرے مظاہرین بھی ہماری مدد کو آئے اور انہوں نے چاروں طرف سے ہمیں گھیر لیا تاکہ نامعلوم افراد سے ہماری جان بچاسکیں۔ الساحیلیہ کے دکاندار بھی ہماری مدد کو آئے۔ انہوں نے ہم دونوں کو اٹھایا اور اپنی دکانوں کے اندر لے گئے اور دکانیں بند کردیں۔ لیکن سیکورٹی فورسز کے سادے لباس والے غنڈے آئے اور انہوں نے دکانوں کے دروازے توڑنا شروع کردیے۔ دکانداروں نے انہیں حتی الامکان روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران دکانداروں نے ہمیں دکانوں کے پیچھے کی جانب سے باہر نکال دیا۔ مظاہروں کے دوران ایک نوجوان لڑکی اپنے موبائل فون کے ذریعہ سیکورٹی فورسز کے تشدد کی فلم بنا رہی تھی۔ سیکورٹی فورسز نے اس پر حملہ کیا اسے مارا پیٹا اور اس کا فون چھین لیا۔ ایک نوجوان لڑکی کو گرفتار کرلیا گیا۔ انہوں نے دکانوں کے دروازے توڑ دیے اور اندر چھپے ہوئے چند مظاہرین کو باہر نکالا۔ اس کے بعد وہ انہیں دھکیلتے ہوئے آگے کھڑی ہوئی ایک بس تک لے گئے اور انہیں اندر دھکیل دیا۔مقامی دکاندار بس کے اردگرد جمع ہوگئے تو سیکورٹی فورسز والے کہنے لگے کہ یہ نوجوان چور ہیں اور دکانوں میں چوری کرنے کے لیے گھس گئے تھے۔ اس دوران وہ دکانوں میں پناہ لینے والے مزید نوجوانوں کو مارتے پیٹتے یہاں لائے اور بس کے اندر پھینکتے رہے۔ میں نے دیکھا کہ سیکورٹی فورسز والے ایک نوجوان کو بری طرح پیٹ رہے تھے اور اس کے سر پر ڈنڈے مار رہے تھے۔ انہوں نے بس کے اندر بھی تشدد جاری رکھا۔ ہم نے جو وڈیو بنائی تھی اس میں یہ سب کچھ موجود ہے۔ وہاں جن مظاہرین کو گرفتار کیا گیا تھا ان کو ابھی تک رہا نہیں کیا گیا۔ ہر طرف پولیس پھیلی ہوئی ہے۔ حکومت نے پورے شہر کو غنڈوں کے حوالے کردیا ہے جنہیں تشدد کرنے کی پوری آزادی ہے۔ وہ سادے لباس میں مختلف جگہوں پر کھڑے رہتے ہیں اور لوگوں کی نقل و حرکت اور ریلیوں کی مخبری کرتے ہیں۔ جو لوگ پولیس سے تعاون نہیں کرتے ان کو ان کی ملازمتوں سے نکال دینے کی دھمکی دی جاتی ہے‘‘۔
یہ میری دوست رپورٹر کا بیان ہے۔ اس نے اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا وہ اس میں بیان کردیا ہے۔ میں یہ تصور کر کے خوفزدہ ہوگئی کہ میری اپنی جان کو کتنے خطرات لاحق ہیں۔ ہر طرف دھماکہ خیز صورت حال تھی۔ میں نے اپنی زندگی میں پاگل پن کا ایسا مظاہرہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں ابھی تک ذہنی طور پر شام کو ایک جمہوری ریاست میں بدلنے کی جدوجہد میں ایسا فریق نہیں بن سکی تھی کہ ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور ہو جاؤں۔ مجھ کو جہاں جو چیز غلط نظر آتی میں اس کو غلط کہتی خواہ وہ غلط کام کرنے والے افراد میرے عزیز رشتہ دار اور میرے اپنے علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی کیوں نہ ہوتے۔ اگر شامی سیکورٹی سروسز کو یہ معلوم ہوتا کہ میرا اُسامہ بن لادن سے تعلق ہے تو وہ میرے بارے میں دوسری طرح کی کہانیاں گھڑ کر پھیلاتے اور اس تعلق کو میرے خلاف استعمال کرتے حالانکہ میرا اسامہ کی جہادی تحریک سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ اسامہ بن لادن کی پہلی بیوی ایک شامی خاتون تھی اور وہ اس کے بیٹوں کی ماں بھی تھی۔ میں نجوۃ کو اس وقت سے جانتی تھی جب میں ایک چھوٹی بچی تھی۔ اُسامہ بن لادن کے والد نے ایک شامی خاتون عالیہ غنیم سے شادی کی۔ عالیہ غنیم کے بھائی نے میری والدہ کی عم زاد بہن نبیہہ سے شادی کی تھی جس سے دو بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئے۔ ان میں سب سے بڑی بیٹی کا نام نجوۃ تھا۔ نجوۃ کی شادی کمسن اُسامہبن لادن سے ہوئی جو بعد میں جدید سیاسی تاریخ میں ایک بڑی شخصیت بن کر اُبھرا۔ میں نے اپنے بچپن کا کچھ وقت نجوۃ کے خاندانی گھر میں گزارا تھا۔ وہاں میں نے اس کے بچوں کو بھی دیکھا تھا۔ میں اپنی خالہ کے ساتھ لطاکیہ گئی تھی جہاں یہ خاندان رہتا تھا۔ اس وقت میں ایک چھوٹی سی لڑکی تھی لیکن مجھے وہ زمانہ تھوڑا تھوڑا یاد ہے۔ ہم سب لڑکیاں لطاکیہ کی گلیوں میں آنکھ مچولی کھیلا کرتے تھے۔ اس زمانے میں وہاں کسی قسم کی کشیدگی نہیں تھی اور شامی سیکورٹی نظام تمام شہریوں کی حفاظت کرتا تھا لیکن آج میں جس گھر میں رہتی ہوں اور جو الحمرا اسٹریٹ کے سامنے بالائی آخری منزل پر واقع ہے یہاں میں اور میری بیٹی ہر طرح کے خطرات سے گھرے ہوئے ہیں۔ وہی شامیں فورسز جنہوں نے لطاکیہ میں رہنے والی اُسامہ بن لادن کی پہلی بیوی اور اس کے بچوں کی حفاظت کی تھی آج میرے خون کی پیاسی ہے۔
میرے خاندان نے مجھ کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ علوی خاندان سے تعلق ہونے کے باوجود وہ مجھ کو سازشی قرار دیتے ہیں۔ میرے خاندان نے فیس بک پر باقاعدہ اعلان کیا کہ انہیں میری حرکتوں پر انتہائی افسوس ہے اور وہ شرمندہ ہیں اور یہ کہ اب میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگرچہ مجھے اپنے قبیلے اور خاندان کا باغی قرار دیدیا گیا لیکن میں نے اپنے ماں باپ اور بھائی بہنوں سے تعلق نہیں توڑا۔ مجھے اپنی ماں کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو آج بھی یاد ہیں۔ میرا حلقہ احباب بکھر چکا ہے۔ میں اب اپنے پرانے دوستوں سے مل نہیں سکتی۔ ان کے لیے میں ایک مردہ عورت ہوں۔ میں صرف اپنی بیٹی کی وجہ سے زندہ رہنے کی کوشش کررہی ہوں۔ ایک ہفتہ پہلے میں نے اپنے فیس بک کے صفحے پر لکھا ’’ہمارے دادا عزیز بیک ھواش تھے۔ وہ اپنے قبیلے کے لیڈر تھے جنہوں نے فرانس کی جانب سے قائم کی جانے والی مقامی ریاست کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔ میرے نانا عثمان اس خطے میں عثمانی فوجوں کے خلاف مزاحمت کرتے رہے اور انہوں نے پہاڑوں اور سمندر میں ترک فوجوں کے خلاف جنگ لڑی۔ میرے ایک دادا ابراہیم صالح یاز بیک نے اپنا سارا مال و متاع اور زمینیں کسانوں میں تقسیم کردیں۔ میں ان عظیم لوگوں کی پوتی اور نواسی ہوں۔ جب شام میں یہ جدوجہد شروع ہوئی اور شامی حکومت نے مجھ کو سازشی قرار دیا تو تھوڑے ہی عرصے کے بعد میرے خاندان کے بہت سارے لوگ میرے خلاف حکومت کی حمایت کرنے لگے۔ ان میں سے کچھ حکومت سے مراعات اور فوائد لے رہے تھے۔ کچھ سرکاری ملازم تھے اور کچھ خوف و ہراس کے سبب ایسا کررہے تھے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ جب انہوں نے مجھ کو سچا علوی تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اس وقت میں نے ان کو اپنے خط میں لکھا ’’سچا علوی کیا ہوتا ہے؟‘‘ میں نے ان کے سامنے حضرت امام علیؓ بن ابو طالب کی مثال پیش کی جن سے ہمارا سلسلہ نسب ملتا ہے۔ اس کے بعد میں نے بعث پارٹی کے علویوں کو پیغامات بھیجنے شروع کیے۔ میں نے بہت سارے ہینڈبلز لکھے۔ اس کے جواب میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے میرے خلاف جبلہ اور اس کے نواحی دیہات میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے جن میں لوگوں کو اُکسایا گیا تھا کہ میں علویوں کو بدنام کررہی ہوں اور موقع پاتے ہی مجھ سے نجات حاصل کرلی جائے یعنی وہ لوگ مجھ کو قتل کردیں۔ اس دوران میں خود بھی بہت سے علوی علمائے کرام سے ملتی رہی اور اپنی صفائیاں پیش کرتی رہی۔ لیکن صورتحال خراب ہوتی چلی گئی۔ پھر اچانک مجھے دو افراد نے میرے گھر سے اٹھا لیا۔مجھے ایک کار میں جبراً بٹھایا گیا اور میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔ میں اس سے پہلے بھی یہ سوچتی رہی تھی کہ میں کبھی نہ کبھی پکڑی جاؤں گی لیکن یہ میری پہلی گرفتاری تھی۔ مجھے ایک عجیب و غریب جگہ لے جایا گیا اس جگہ کا نام المزاہ تھا۔ جب میری آنکھوں سے پٹی کھولی گئی تو میں ایک بڑے دفتر میں تھی جہاں ایک سینئر افسر میرے سامنے بیٹھا تھا۔ اس کا رویہ انتہائی تحقیر آمیز تھا۔ اس نے میرے چہرے پر تھپڑ مارنے شروع کیے۔ اس نے مجھے مار مار کر زمین پر گرادیا۔ اس نے اپنی سگریٹ سے میری کھال کو جلایا اور میرے ہاتھ زخمی کردیے۔ پھر اس نے مجھ پر تھوکا۔ میں نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں اور خاموشی سے اس تشدد کو برداشت کررہی تھی۔ لیکن اس کی زبان سے ہر طرح کی گالم گلوج جاری تھی اور مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں ذہنی توازن کھو دوں گی۔ میں زمین پر پڑی ہوئی تھی اور اس کے گھونسوں اور لاتوں سے خود کو بچانے کی کوشش کررہی تھی۔ اس نے مجھے اٹھ کر کھڑے ہونے کو کہا۔ لیکن میں اٹھ کر بیٹھنے کے قابل بھی نہیں تھی۔ وہ بار بار چلا رہا تھا۔ ’’کھڑی ہو جاؤ‘‘۔ لیکن میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میں ایک حد تک اس کی زیادتی اور ظلم برداشت کروں گی۔میں نے اپنی برا میں چھپائے ہوئے پرس میں ایک چھوٹا سا سوئچ بلیڈ چاقو چھپایا ہوا تھا۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ اگر اس نے یا کسی اور نے میری عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو میں یہ چاقو اس کے دل میں اتار دوں گی۔ اس وقت میرا خیال تھا کہ میں طویل عرصے تک ان کی قید میں رہوں گی۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ مجھ سے انتہا سے زیادہ ناراض ہیں۔ میں نے کچھ قدموں کی آواز سنی پھر محسوس کیا کہ اس نے اپنے ہاتھوں سے مجھ کو پکڑ کر کھڑا کردیا۔ مجھے ٹھیک طرح سے یاد نہیں کہ اس نے مجھ کو کس طرح کرسی پر بٹھایا لیکن میری گردن ڈھلکی ہوئی تھی۔ جب میں نے اپنے سر کو حرکت دینے کی کوشش کی تو میری چیخیں نکل گئیں۔ میری حالت دیکھ کر اس نے ایک قہقہہ لگایا پھر بولا ’’واہ واہ تم کیسی ہیرو ہو؟ تم تو چند تھپڑ بھی برداشت نہیں کرسکیں‘‘۔ میں نے اپنی آنکھیں کھولیں۔ میں رو نہیں رہی تھی لیکن رونا چاہتی تھی۔ تاہم میں نے انتہائی ضبط کیا کیونکہ میں ان کو اپنے آنسو نہیں دکھانا چاہتی تھی۔ ان کا تھپڑ میرے لیے انتہائی توہین آمیز تھا۔ میں جذبات سے عاری آنکھوں سے اس کو دیکھتی رہی۔ اس کے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ تھی۔ اس نے انگلیوں سے میرے گالوں کو چھوا پھر بولا ’’فرشتوں جیسے اس چہرے پر جب تھپڑ پڑتا ہے تو کتنا عجیب لگتا ہے؟‘‘ اس نے دوسری مرتبہ میرے چہرے پر تھپڑ مارا اس کے بعد میرے پورے خاندان کے بارے میں مغلظات بکنے لگا۔ میں اب بھی خالی آنکھوں سے اس کو تک رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اس کے تھپڑ کے نشانات میرے گالوں پر بن چکے ہوں گے جو آئندہ ایک یا دو دن میں نیلے پڑ جائیں گے۔ وہ کہہ رہا تھا ’’تم بولتی کیوں نہیں کیا تمہاری زبان کٹ گئی ہے؟‘‘ اس کے بعد اس نے میرے چہرے پر ایک تھپڑ اور مارا۔ اس نے کہا ’’میں تمہاری لمبی زبان باہر کھینچ لوں گا‘‘۔ اس کے بعد اس نے پھر مجھے تھپڑ مارا۔ میں بجلی کی سی تیزی سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔ اور پھر میرا چاقو میرے ہاتھ میں تھا۔ میں اسے اس کے چہرے کے سامنے لے گئی اور بولی ’’اگر تم نے یہ مارپیٹ بند نہ کی تو میں یہ چاقو اپنے دل میں اُتار لوں گی لیکن اپنی مزید بے عزتی برداشت نہیں کروں گی۔ وہ خوفزدہ ہو کر اُٹھ کھڑا ہوگیا اور میرے ہاتھ میں سیاہ چاقو دیکھ کر چند قدم پیچھے ہٹا۔ میں نے اپنے اس چاقو کا بٹن دبایا اور اس میں سے اس کا دھاردار حصہ تیزی سے باہر نکلا۔ میں نے اس کی نوک اپنے دل پر رکھی وہ ابھی تک حیران نظروں سے مجھ کو تک رہا تھا۔شاید اسے مجھ سے اس حرکت کی امید نہیں تھی۔ کمرے میں بھاری خاموشی تھی۔ چند لمحے کے بعد وہ میری جانب بڑھا۔ میں نے اس سے کہا،’’خبردار! میری جانب مت آنا‘‘ میری وارننگ سن کر وہ اسی جگہ رک گیا۔ وہ حیران نظروں سے مجھ کو تک رہا تھا۔ میری جرات واپس آچکی تھی۔ میں نے پوری طاقت سے چیخ کر کہا ’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ اُس کا لہجہ تبدیل ہوگیا تھا۔ وہ نرم لہجے میں کہہ رہا تھا ’’ہم تمہارے بارے میں بہت پریشان تھے۔ ہمیں پتہ چلا تھا کہ تم سلافی اسلام پسندوں میں شامل ہوگئی ہو اور وہ تم کو مختلف منشیات دے کر اپنے ساتھ رہنے پر مجبور کررہے ہیں‘‘۔ میں نے جواب میں کہا
’’میں کسی پر اعتبار نہیں کرتی۔ میں شہر کی گلیوں میں گھومتی پھرتی رہی ہوں اور میں نے یہاں ایک بھی سلافی نہیں دیکھا۔ لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ تم لوگ کس طرح عام شہریوں کو قتل کرتے ہو انہیں گرفتار کرتے ہو اور انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہو‘‘۔
’’نہیں‘‘۔ وہ بولا ’’یہ سب حرکتیں سلافیوں کی ہیں‘‘۔
میں نے کہا ’’کیوں جھوٹ بول رہے ہو؟ یہاں سلافیوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔ میں اور تم ہم دونوں اچھی طرح جانتے ہیں‘‘۔
وہ بولا ’’اگر تم نے ہمارے خلاف لکھنا بند نہیں کیا تو میں تم کو اس کرہ ارض سے حرف غلط کی طرح مٹا دوں گا‘‘۔
میں نے کہا ’’جو تمہارا دل چاہے وہ کرو‘‘۔
وہ بولا ’’صرف تم کو نہیں بلکہ تمہاری بیٹی کو بھی‘‘۔
اس کی بات سن کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میرے دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا ہے۔ وہ اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔ پھر بولا ’’یہ چاقو زمین پر ڈال دو پاگل عورت۔ ہم باعزت لوگ ہیں۔ ہم خود اپنے ہم نسلوں کے خون کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ ہم تمہاری طرح سازشی بھی نہیں ہیں۔ تم تمام علویوں کے چہرے پر کلنک کا ٹیکہ ہو‘‘۔
میں نے کہا ’’مجھے تم جیسے علویوں سے تعلق رکھنے کا کوئی شوق نہیں ہے‘‘۔

اس نے کہا ’’اچھا تو اب تم کیا کرو گی؟‘‘
میں نے اس کو فوری جواب نہیں دیا۔ اس نے کہا ’’جاؤ شامی ٹی وی پر آکر ہمارے خلاف تقریریں کرو۔ جاؤ تمہیں سب کچھ کرنے کی آزادی ہے‘‘۔ لیکن اس اس کا جملہ پورا ہوتا اس سے پہلے میں چیخ پڑی ’’نہیں۔ میں ایسا نہیں کروں گی اور نہ میں تم لوگوں کی حمایت کروں گی۔ اس کے بعد چاہے تم مجھے قتل کروادو‘‘۔
میں اس کی آنکھوں میں براہ راست دیکھ رہی تھی۔ میرا تیز لہجہ اس کے غصے میں اضافہ کررہا تھا۔ میں نے کہا ’’میں وہ نہیں کروں گی جو تم چاہتے ہو لیکن مجھ کو میرے حال پر چھوڑ دو‘‘۔
وہ بولا ’’تم ہمارے بارے میں لکھنا چھوڑ دو‘‘۔
میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش رہی۔ تھوڑی دیر چپ رہنے کے بعد اس نے کہا ’’تم نے القدس العربی، فیس بک، مختلف ویب سائیٹس، بلاگس پر ہمارے خلاف بہت سارے مضامین لکھے ہیں۔ تم ہمارے مخالفین کی سرگرمیوں اور مظاہروں کی رپورٹیں دیتی رہی ہو‘‘۔
میں نے کہا ’’میں سچ لکھنے پر مجبور ہوں‘‘۔ اس نے میری بات سن کر قہقہہ لگایا اور قابل رحم نظروں سے مجھے دیکھا۔ میں نے اپنا چاقو پیچھے ہٹالیا۔ میں جانتی تھی کہ وہ مجھے اب نقصان نہیں پہنچائے گا۔ کم از کم اس وقت وہ مجھ کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ اس کا ٹیلی فون اچانک بج اٹھا۔ وہ فون لے کر کمرے سے باہر چلا گیا تاکہ میں اس کی گفتگو نہ سن سکوں۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس آیا۔ میں دہشت زدہ اور خوفزدہ تھی۔
اس نے کہا ’’یہ ہماری جانب سے تم کو آخری وارننگ ہے۔ اگر تم نے دشمن کا ساتھ نہیں چھوڑا تو ہم تمہارا بہت برا حشر کریں گے‘‘۔
میں نے جواب میں کہا ’’میں کسی کے ساتھ فریق نہیں ہوں۔ میں صرف سچ بیان کررہی ہوں‘‘۔
وہ تھوڑاسا ہنسا پھر بولا ’’اﷲ کی قسم میں چاہتا ہوں کہ لوگ سڑکوں پر تمہارے اوپر تھوکیں۔ میں چاہوں گا کہ اپوزیشن میں تمہارے دوست احباب تمہاری بے عزتی کریں۔ میں تمہیں گرفتار کرنے سے پہلے پورا موقع دوں گا۔ یہاں سے نکل جاؤ‘‘۔ اُس نے کسی کو آواز دی۔ دو افراد سویلین کپڑوں میں کمرے میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک دائیں اور دوسرا بائیں جانب کھڑا ہوگیا۔ سینئر افسر نے میری جانب اشارہ کیا۔ انہوں نے مجھے کندھے سے پکڑ کر اٹھالیا۔ میں نے مزاحمت نہیں کی۔ میں اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ میں سوچ رہی تھی کہ کیا وہ مجھے باقاعدہ گرفتار کر کے جیل میں ڈالیں گے؟ دونوں آدمیوں نے میری آنکھوں پر پٹی باندھی۔ اس کے بعد انہوں مجھے ایک جانب دھکیلنا شروع کیا۔ کچھ دور چلنے کے بعد میں رک گئی اور حلق پھاڑ کر چلائی ’’تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟‘‘ ان میں سے ایک پرسکون لہجے میں بولا ’’ایک چھوٹے سے دورے پر تاکہ تم پہلے سے بہتر انداز میں لکھ سکو‘‘۔
مجھے یقین ہوگیا کہ وہ مجھے گرفتار کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ لیکن میں خوفزدہ نہیں تھی یہ ان کی جانب سے مجھے اپوزیشن میں ہونے کو تسلیم کرنا ہوتا اور مجھے اس طرح شاید اس ٹارچر سے نجات مل جاتی جن کا میں کئی دن سے نشانہ تھی۔ انہوں مجھے آگے کی جانب دھکیلا۔ اس کے بعد میں تیزی سے نیچے گرنے لگی۔ تاہم ان لوگوں نے مجھے زمین پر گرنے نہیں دیا اور پکڑ کر اٹھالیا۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ یہ سیڑھیاں تھیں۔ میری آنکھوں پر اتنی سختی سے پٹی بندھی تھی کہ مجھے سانس لینے میں بھی دقت ہورہی تھی۔ میں جس جگہ سے گزر رہی تھی وہاں عجیب و غریب قسم کی بدبو پھیلی ہوئی تھی۔ کسی جگہ ہمارا سفر ختم ہوا تو میری کمر میں شدید تکلیف اُبھری۔ اس تکلیف کی شدت سے میں کانپ کر رہی گئی۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ میرا جسم کس قدر کمزور اور نازک تھا جو تھوڑاسا تشدد بھی برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ ایک ہاتھ نے میری آنکھوں پر سے پٹی کھول دی۔ یہ ایک طویل راہداری تھی۔ جس کے دونوں جانب قیدیوں کے کمرے بنے ہوئے تھے۔ اس راہداری میں اس قدر اندھیرا تھا کہ کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ میرے سامنے کھڑے ہوئے ایک شخص نے ایک دروازہ کھولا۔ اندر تین افرادنظر آئے۔ لیکن تین افراد نہیں تین لاشیں تھیں۔ کہیں سے روشنی کی ایک کرن ان پر پڑ رہی تھی۔ ان کے جسم تقریباً برہنہ تھے۔ ان کی عمریں 20 سال سے زیادہ نہیں تھیں۔ ان کے پورے جسم خون میں نہائے ہوئے تھے۔ ان کے ہاتھوں کو لوہے کی تاروں سے باندھا ہوا تھا۔ انکے پیر بمشکل زمین تک پہنچ رہے تھے اور ان کے جسموں سے بہنے والا خون زمین پر پھیلا ہوا تھا۔ تازہ سرخ خون جو خشک ہونا شروع ہوچکا تھا۔ ان کے جسم پر زخموں کے نشانات اس طرح پھیلے ہوئے تھے جیسے وہ کسی ایبسٹریکٹ پینٹر کے برش کی تخلیق ہوں۔ ان کی گردنیں ایک جانب ڈھلکی ہوئی تھیں۔ میں نے خوفزدگی کے عالم میں پیچھے ہٹنے کی کوشش کی لیکن میرے ساتھ والے شخص نے مجھے آگے کی جانب دھکیلا۔ کمرے میں حرکت محسوس کر کے ان میں سے ایک نوجوان نے اپنے سر کو ہلایا۔ اس وقت مجھے پتہ چلا کہ یہ شخص جسے اُلٹا لٹکایا گیا تھا ابھی تک زندہ تھا۔ لیکن اس کا چہرہ کسی طرح بھی ایک زندہ شخص کا چہرہ نہیں لگتا تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ اس کی ناک کی جگہ صرف ایک گہرا سراخ تھا۔ اس کے ہونٹوں کو کسی تیز دھار چیز سے کاٹ دیا گیا تھا۔ اس کا چہرہ سرخ رنگ کے ایک ایسے بورڈ جیسا تھا جس پر کوئی چہرہ بنانے والی لائنیں نہیں تھیں۔ بس سرخ لکیریں سیاہ لکیروں کو کاٹ رہی تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر میرے حوش و ہواس جاتے رہے اور میں بیہوش ہو کر زمین پر گرگئی۔ لیکن ان دونوں نے مجھے ایک مرتبہ پھر بازوؤں سے تھام لیا۔ میں کچھ دیر اسی طرح ان کے ہاتھوں میں لٹکی رہی یہاں تک کہ میرے پیر زمین سے ٹکرائے۔ میں نے ان میں سے ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا ’’چلو وہ ایک ہی تھپڑ برداشت نہیں کرسکی۔ اگر ہم نے اس کو زیادہ منظر دکھائے تو اس کی جان نکل جائے گی‘‘۔ یہاں عجیب و غریب بدبو پھیلی ہوئی تھی۔ خون، پیشاب اور گندگی کی بو۔ زنگ آلود دھاتوں کی بو۔ قید خانوں کی بو اور یہ قید خانہ ہی تھا۔ انہوں نے مجھے اس کوٹھری سے باہر نکالا اور دوسری کوٹھری کا دروازہ کھولا۔ کہیں دور سے چیخنے چلانے، فریاد کرنے کی آوازیں آرہی تھیں اور کسی کو ٹارچر کیا جارہا تھا۔ میں خوف سے کانپنے لگی۔ میں نے اذیت اور درد سے بھری ایسی آوازیں اپنی زندگی میں کبھی نہیں سنیں تھیں۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی ایک برچھا میرے دل میں اُتار رہا ہے۔ یہ آوازیں اس وقت تک میرا تعاقب کرتی رہیں جب تک ہم اس راہداری سے نکل نہیں گئے۔ اس کے بعد ایک اور کوٹھری کا دروازہ کھلا اندر ایک نوجوان آدمی تھا جس کی پیٹھ کسی عجیب و غریب خون آلود خاکے کی طرح تھی۔ وہ نیم بیہوش معلوم دیتا تھا۔ اس کی پیٹھ پر اس طرح نشانات بنے ہوئے تھے جیسے کسی نے چاقو سے جغرافیائی حد بندیاں بنانے کی کوشش کی ہو۔ انہوں نے اس کوٹھری کا دروازہ بند کردیا اور مجھے آگے لے چلے۔ وہ ہر کوٹھری کا دروازہ کھولتے اور مجھے اندر کا منظر دکھاتے۔ جہاں یا تو لاشیں بکھری ہوئی ہوتیں یا موت کے قریب سسکتے انسانی جسم ہوتے۔ یہ جگہ صحیح معنوں میں جہنم تھی۔ یہاں ایسا لگتا تھا جیسے انسان گوشت کے محض لوتھڑے ہیں جن کو قتل کرتے ہوئے انتہائی اعلیٰ مہارت کا مظاہرہ کیا گیا ہے جو ٹارچر کی نمائش کررہے ہیں۔ بے شمار لاشیں بغیر سر کے تھیں۔ چہرے بگاڑ دیے گئے تھے۔ بے شمار منظر دکھانے کے بعد انہوں نے میری آنکھوں پر پٹی ایک مرتبہ پھر کس دی۔ میں نے ان میں سے ایک شخص سے پوچھا ’’کیا یہ سب وہ نوجوان تھے جن کو مظاہرے کرنے کے جرم میں جیل لایا گیا تھا؟‘‘ اس شخص نے جواب میں کہا ’’ہاں یہ وہی سازشی تھے جو شہروں میں مظاہرے کررہے تھے‘‘۔ اس کا لہجہ انتہائی سخت تھا اور وہ میرے اس سوال سے اشتعال میں آگیا تھا۔ اس نے میری کہنی کو اتنی سختی سے بھینچا کہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ اس کی ہڈی ٹوٹ جائے گی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ ان کے ذہنوں میں کیا تھا؟ لیکن میرے دل کی آگ پھیل رہی تھی۔ اس شخص نے مجھے اتنی زور سے آگے دھکیلا کہ میں آگے کی جانب زمین پر گرنے لگی۔ اس نے مجھے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ میرے گرنے کے بعد اس نے مجھے خودبخود اٹھنے کا موقع نہیں دیا بلکہ میں اب اس کے پیچھے سیڑھیوں پر گھسٹ رہی تھی اور وہ مجھے پکڑ کر آگے کی جانب گھسیٹ رہے تھے۔ میری ایڑھیاں قدمچوں سے رگڑ کھا رہی تھیں اور تکلیف کی سخت لہریں ایڑھیوں سے لے کر اوپر کی جانب پھیل رہی تھیں۔ اس حصے میں اتنی شدید بدبو تھی، گوشت کے سڑنے کی بو کہ میرا سب کھایا پیا میرے منہ میں آنے لگا۔ جب وہ رکے تو انہوں نے میری آنکھوں پر سے پٹی اُتاردی۔ میں نے ایک صاف ستھرا دفتر دیکھا۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ مجھے جو کچھ دکھایا گیا تھا وہ ایک دہشتناک خواب تھا۔ وہ افسر جس کے تھپڑوں کا مجھے سامنا کرنا پڑا تھا کرسی پر بیٹھا تھا۔ مجھے دیکھ کر مسکرایا اور بولا ’’اب تم کیا کہتی ہو؟ تم نے اپنے سازشی دوستوں کا حشر دیکھا‘‘۔ اس لمحے مجھے اپنے معدے میں شدید تکلیف محسوس ہوئی اور مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں اپنی کھال سے باہر نکلنے کی کوشش کررہی ہوں۔ میں تکلیف سے دُہری ہوگئی اور گھٹنوں کے بل گرگئی اور میرا کھایا پیا باہر آگیا۔ افسر اپنی جگہ سے اُٹھ کرکھڑا ہوگیا۔ اس کے دفتر کا خوب صورت فرنیچر تباہ و برباد ہورہا تھا کیونکہ میں اس پر اُلٹی کررہی تھی۔ میری آنکھیں گیلی ہوگئیں لیکن یہ آنسو نہیں تھے۔ آنسو تو ہمیشہ قطروں کی شکل میں گرتے ہیں۔ جو کچھ میری آنکھوں سے نکل رہا تھا وہ شاید کچھ اور تھا۔ میں سوچ رہی تھی جو بھی شخص سڑکوں پر ہونے والے ان مظاہروں میں شرکت کے لیے گھر سے باہر نکلتا ہے یا تو گولی کانشانہ بن جاتا ہے یا اس کی باقی زندگی بھاگتے دوڑتے اور چھپتے گزرتی ہے۔ اگر وہ پکڑا جاتا ہے تو اس کو اسی طرح ٹارچر کا نشانہ بننا پڑتا ہے جس کا مظاہرہ میں نے ابھی دیکھا تھا۔ اس سب کا مقابلہ کرنے کے لیے انتہائی جرات کی ضرورت تھی۔ میرے حلق سے نکلنے والی آواز انتہائی کمزور اور دھیمی تھی لیکن میں نے خود کو کہتے سنا ’’سازشی تو تم خود ہو‘‘۔ میں جانتی تھی کہ اس نے میری بات سن لی تھی۔ کیونکہ وہ آگے کی طرف جھکا اور اس نے مجھے انتہائی زور سے تھپڑ مارا۔ میں ایک مرتبہ پھر فرش پر گرگئی۔ ہوش و ہواس سے بیگانہ ہونے سے پہلے میں نے محسوس کیا کہ میرا منہ کھل گیا تھا اور گرم خون باہر گر رہا تھا۔ اس لمحے میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی جسے شاید وہ نہ سمجھ سکا ۔ لیکن میں یہ کہہ رہی تھی کہ ’’اﷲ کی قسم میں تم کو خون تھوکنے پر مجبور کردوں گی‘‘۔
اس کے بعد انہوں نے مجھے وہاں سے نکالا اور باہر ایک سڑک پر پھینک دیا۔ میں جیسے تیسے کر کے اُٹھی اور اپنے گھر روانہ ہوئی۔ اب میں وہ شخصیت نہیں تھی جو یہاں لائی گئی تھی۔ میں اب ایک ایسی عورت تھی جو زندگی اور موت کے درمیان لٹکی ہوئی تھی۔ جب میں اپنے گھر میں داخل ہورہی تھی تو میں نے ایک ٹارچر سیل میں ایک عورت کا تصور کیا جس کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی تھی اور جسے ایک ایسے قید خانے میں پھینک دیا گیا تھا جہاں چاروں طرف ٹارچر زدہ لاشے پھیلے ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے دو دن کے بعد ایک ویب سائیٹ پر میرے بارے میں رپورٹ شائع ہوئی جس میں مجھے ایک سازشی اور غیرملکی ایجنٹ قرار دیا گیا تھا۔ چند دن اور گزر گئے اور اس کے بعد جبلہ میں ہینڈبلز تقسیم ہوئے جن میں مجھے غیرملکی ایجنٹ اور سازشی لکھا گیا تھا اور لوگوں کو اُکسایا گیا تھا کہ وہ مجھے دیکھتے ہی قتل کردیں۔ میں سوچ رہی تھی کہ اب وہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔
میں پہلے ہی اپنے گھر سے فرار ہوچکی تھی اور ایک خفیہ جگہ رہ رہی تھی۔ باہر آنے کے بعد میں نے کوئی مضمون اشاعت کے لیے نہیں دیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ میری سرگرمیوں سے کس حد تک واقف تھے۔ لیکن میں اپنی بیٹی کے بارے میں سچ مچ خوفزدہ تھی۔ کچھ عرصے گمنامی میں رہنے کے بعد میں نے تصور کیا کہ وہ مجھے بھول چکے ہوں گے لیکن ایسا نہیں تھا۔ ایک دن میرے ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب وہی افسر تھا۔ اس نے سخت آواز میں مجھے ایک دو گالیاں دیں اور کہا ’’اگر تم دنیا کے آخری سرے پر بھی چلی جاؤ تو ہم تمہارا پتہ چلالیں گے‘‘۔ میں نے جواب میں کہا ’’لیکن میں نے تو کچھ نہیں کیا‘‘۔ اس نے میری بات سنی اَن سنی کردی اور بولا ’’یہ تمہارے لیے آخری وارننگ ہے‘‘۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میں غصے سے پھٹ پڑوں گی۔ لیکن میں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں اس سے زیادہ بات نہیں کروں گی۔ میں نے اپنا فیس بک کا صفحہ بھی بند کردیا تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے میں کسی ناول کا حقیقی کردار تھی۔ مجھے خود کو ایک مضبوط کردار کا حامل ثابت کرنا تھا۔ بہادر اور جری لیکن میں اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکی تھی۔ لیکن میری تحریریں مجھے زندگی کی سختیوں کا سامناکرنے کے قابل بناتی تھیں۔ بطور ایک ناول نگار میں زیادہ بہتر کام کرسکتی تھی۔ میں نے لکھنا شروع کردیا۔ میری ساری توجہ ان دس دنوں پر مرکوز ہوگئی جب وہ پہلی مرتبہ میرے گھر آئے تھے۔ تین یا چار آدمی اور انہوں نے میری آنکھوں پر پٹی باندھی تھی اور مجھے اپنے ساتھ اُس افسر کے کمرے میں لے گئے تھے۔ مجھے یاد نہیں تھا کہ یہ کون سا علاقہ تھا شاید دمشق کے نواح میں الجسرالابیض یا کفرسوشہ۔ فاصلے میرے لیے بے معنی تھے۔ کار بہت سارے موڑ مڑنے کے بعد اپنی منزل پر پہنچی تھی۔انہوں نے میری بہت توہین کی اور میری عزت نفس کو مجروح کرنے کے بہت سے جتن کئے لیکن میں پتھر کی بن گئی۔تنگ آکر انہوں نے مجھے رہا کردیا۔ وہ مجھے بہت آسانی سے قتل کرسکتے تھے لیکن میرا علوی ہونا رکاوٹ تھا۔اگر میں سنی ہوتی تو شاید وہ مجھے قتل کرنے میں دیر نہ لگاتے اور قتل کرنے سے پہلے مجھے عبرت کا نشان بنادیتے۔آخر کار وہ مجھے رہا کرنے پر مجبور ہوگئے۔اس کے بعد اگرچہ میں گرفتاری سے بچنے کے لئے اپنی جگہیں بدلتی رہی لیکن ان کی نظروں سے چھپی نہ رہ سکی۔ جب چوتھی مرتبہ مجھے گرفتار کیا گیا تو انہوں مجھے ایک مرتبہ پھر ان ٹارچر سیلز کی سیر کرائی لیکن انہوں نے اس وقت بھی مجھے وہاں مستقلاً بند نہیں کیا اور مجھے رہا کردیا۔ اس کانتیجہ یہ نکلا کہ ایک دن میں جہنم کے ان سفروں کے بارے میں کہانی لکھ رہی تھی۔ میں یاد کرنے کی کوشش کررہی تھی کہ وہاں میں نے کیا کیا واقعات دیکھے۔ (جاری ہے)
11 مئی 2011 :
شامی ٹینکوں نے حمص میں بابا امر کی آبادی پر گولہ باری کی۔ سیکورٹی فورسز نے آبادی پر حملہ کیا۔ وہ مکانوں میں گھس گئے اور لوٹ مار کی۔ یہ گولہ باری کئی گھنٹے جاری رہی اور اس دوران 19 شامی شہری شہید ہوئے۔ حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ وہ ایک کمیٹی بنا رہی ہے جو نئے انتخابی قوانین وضع کرے گی۔ دمشق میں اس وقت خاموشی ہے لیکن اس کا سبب سیکورٹی فورسز کی ایک سازش ہے۔ شامی حکومت پر بین الاقوامی دباؤ اپنی انتہائی کو پہنچ چکا ہے اور وہ اس مرحلے پر یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی کہ عوام اب اس کا نمائندہ حکومت تصور نہیں کرتے اور اس کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔ حکومت کو پتہ ہے کہ دمشق میں موجود سیکڑوں غیر ملکی صحافی ملکی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔کیتھرین ایشٹن کا کہنا ہے کہ شامی حکومت اپنا اعتبار کھوچکی ہے۔ اقوام متحد کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شامی صدر سے اپیل کی کہ وہ مظاہرین کے ساتھ بات چیت کریں۔ انہوں نے اس امر پر سخت مایوسی کا اظہار کیا کہ حکومت خود اپنے شہریوں پر ظلم و ستم توڑ رہی ہے۔ بنیاس کو بجلی پانی اور ٹیلیفون کی سہولتیں بحال ہوگئی ہیں۔ 300 قیدیوں کو رہا کردیا گیا ہے لیکن 11000 قیدی ابھی تک جیل میں ہیں۔
میری صبح حمص میں بمباری اور قتل و غارت گری کی خبروں سے ہوئی۔ میں نے بمشکل اپنی آنکھیں کھولیں۔ اپنے لیے کافی بنائی اور خبریں سننے کے لیے ٹیلی ویژن کھولا۔ ایک تفتیش کنندہ بابا امر کے بارے میں بتا رہا تھا جس پر شامی ٹینک گولہ باری کررہے تھے۔ میں سوچ رہی تھی کہ یہ ٹینک اپنے شہریوں کے گھروں پر کیوں گولہ باری کررہے ہیں؟ یہاں تو غریب کاشتکاروں کے علاوہ کوئی نہیں رہتا۔ ایک مرتبہ پھر قاتلوں کو کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے۔ گزشتہ رات میں ایک صحافی کے ایک بیان کو ٹرانسکرائب کرتے کرتے سو گئی تھی جس نے گھیراؤ کے دوران درعا کے شہر کا حال بیان کیا تھا۔ میری آنکھ کھلی تو اس وقت بھی آنسو میرے گالوں پر موجود تھے اور میری آنکھیں جل رہی تھیں۔ مجھے وقفے وقفے سے رونے کے دورے پڑتے تھے۔ لیکن میں اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کرسکتی تھی۔ کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا کہ جیسے میں اب مرجانا چاہتی ہوں۔ کیونکہ میں زخم خوردہ لوگوں سے ملنا نہیں چھوڑوں گی۔ مجھے معلوم تھا کہ میرے لیے سب سے بڑا مسئلہ میری اپنی بیٹی ہے جس کی زندگی میری وجہ سے ہر وقت خطرے میں رہتی ہے۔ میں سوچ رہی تھی کہ مجھے اپنی بیٹی کو اس کے باپ کے پاس چھوڑ دینا چاہیئے اور خود کہیں پوشیدہ ہو جانا چاہیئے۔ ہر طرف خون ہی خون پھیلا ہوا تھا اور اس خون کی سرخی مجھے پاگل کیے دے رہی تھی۔ اگرچہ میں تسکین کے لیے مسلسل زینکس کھاتی تھی لیکن میرے دورے کم نہیں ہوتے تھے۔ گزشتہ نصف رات کو مجھے ایک اور دھمکی آمیز فون کال موصول ہوئی۔ وہ ایک نوجوان لڑکا تھا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس کی عمر کتنی تھی؟ اس سے دو دن پہلے مجھے آخری دھمکی موصول ہوئی تھی۔ میں نے خفیہ طور پر جبلہ جانے کی منصوبہ بندی شروع کردی جو میرا آبائی شہر تھا اور جہاں میری ایک دوست لڑکی رہتی تھی۔ میرے لیے اس شہر میں قدم رکھنا ناممکن تھا کیونکہ سیکورٹی فورسز اور بعث پارٹی کے کارندے اس کے چپے چپے کی نگرانی کررہے تھے۔ میرا آبائی شہر ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ مجھ کو پہچانتے تھے اور میری شناخت ہی میری جان کی دشمن تھی۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے ایک دوست کی کار میں جائیں گے۔ میں اپنی شناخت کو مکمل طور پر چھپا کر رکھوں گی اس مقصد کے لیے مجھے اپنے سر پر حجاب لینا تھا۔ سیاہ شیشوں کی عینک لگانی تھی اور طویل لباس پہننا تھا۔ مجھے الزریبہ جانے کی ضرورت تھی۔ جس کو سیکورٹی فورسز نے علوی دشمن علاقہ قرار دیدیا تھا۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ اسی علاقے میں مظاہرے ہورہے تھے۔ میرا مسئلہ یہ تھا کہ میں علوی تھی لیکن علوی مجھے قتل کرنے کے لیے بھوکے بھیڑیوں کی طرح تلاش کررہے تھے۔ دوسری جانب کچھ سنی بنیاد پرست ایسے تھے جو مجھ کو قتل کرنے کی کوشش کرسکتے تھے کیونکہ ان کے خاندان کے کسی نہ کسی فرد کو علویوں نے قتل کیا تھا۔ وہ ان اموات کا انتقام لینے کے لیے کسی بھی علوی کو گولی کا نشانہ بنا سکتے تھے۔ مجھے یاد آیا کہ جب بنیاس میں یہ بحران شروع ہوا تو کچھ انتہاپسند علوی شیخ عبود کا مکان تباہ کردینا چاہتے تھے حالانکہ وہ اس شہر کا سب سے پرانے رہنے والے تھے۔ ان کو یہ سزا صرف اس لیے دی جارہی تھی کہ ان کا بیٹا مظاہرین کے ساتھ مل گیاتھا۔ ان کے بیٹے کو سیکورٹی فورسز نے گرفتار کرلیا اور تین دن تک جیل میں ڈالے رکھا۔ لیکن ان کو یہ سزا کافی نہیں تھی۔ سلافی ازم صرف سنیوں کا مسئلہ نہیں تھا اب تو علویوں کا سلافی ازم بھی پیدا ہوگیا تھا۔ جب ہم بابا امر پہنچے تو میری ساتھی لڑکی دہشت زدہ ہوگئی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اس طرح اپنی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔ ہم دیکھ رہے تھے کہ ہر طرف سیکورٹی فورسز پھیلی ہوئی تھی۔ سخت ترین کوششوں کے باوجود دمشق سے جبلہ تک ہمارا سفر ناکام رہا تھا۔ جس نوجوان کو ہم سے ملنے کے لیے آنا تھا وہ نہیں آیا۔ میری دوست نے کار واپس گھمائی اور ہم تیزی سے واپسی کے راستے پر ہولیے۔ ہمیں ایک پرانی مارکیٹ کے دروازے کے سامنے رکنا پڑا کیونکہ سیکورٹی فورسز کے کئی اہلکار ہماری جانب بڑھ رہے تھے۔ میری دوست نے کہا کہ وہ ہر ایک کی شناخت چیک کررہے ہیں۔ اگر انہوں نے تم کو پہچان لیا تو وہ تم پر قطعی رحم نہیں کریں گے۔ میں نے اس وقت تک جبلہ کی جانب واپسی ملتوی کردی تھی جب تک میری بیٹی کے امتحانات ختم نہیں ہوجاتے۔ اس میں ابھی دو ہفتے باقی تھے۔ انٹرنیٹ کنکشن کام نہیں کر رہا تھا۔ مجھے اپنے نقل و حرکت انتہائی محدود رکھنی تھی۔ مجھے اس وقت تک خاموش اور سکون سے رہنا چاہیئے تھا جب تک سیکورٹی فورسزوالے میرے بارے میں سب کچھ بھول نہ جاتے۔ لیکن کیا خاموش رہنے کے باوجود میں محفوظ تھی؟ میرے دوستوں کا کہنا تھا ک مجھے فوراً اپنے ملک سے نکل جانا چاہیئے۔ وہ مجھے ٹیلیفون کر کے میری جان کی حفاظت کے بارے میں تشویش ظاہر کرتے رہتے تھے اور میری خوشامد کرتے رہتے تھے کہ میں ملک چھوڑ دوں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتی تھی۔ لیکن مجھے اب یہ بھی سوچنا تھا کہ میرے پاس اب کتنی رقم محفوظ ہے۔ میں جس اپارٹمنٹ میں رہتی تھی وہ کافی مہنگا تھا۔ میں سوچ رہی تھی کہ جب اس اپارٹمنٹ کی تین ماہ کی لیز ختم ہوجائے گی تو میں اور میری بیٹی کہاں جائیں گے؟ میری دلی خواہش تھی کہ کاش ایک صبح مجھ کو ایسی مل سکتی جب خون خرابہ نہ ہو۔ میں نے درعا کے محاصرے کے بارے میں ایک شامی صحافی ایم آئی کے انٹرویو کو ٹرانسکرائب کرنا شروع کیا۔
ایم آئی کا بیان:
’’ایک سابق فوجی مجھ کو درعا لے کر گیا۔ میں وہاں بطور ایک صحافی داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ شہر کے ہر چوراہے پر فوج کھڑی ہوئی تھی۔ جابجا فوجی چیک پوائنٹس اور سیکورٹی فورسز کی چوکیاں تھیں۔ ہمیں ہر قدم پر روکا جاتا اور ہماری تلاشی لی جاتی۔ کم فاصلے کے باوجود یہ ایک طویل سفر تھا۔ فوج کے پاس ان ناموں کی فہرست موجود تھی جن کی خاص طور پر تلاش تھی۔ تلاشی کا مرحلہ گزرنے کے بعد ہم شہر میں داخل ہوسکے۔ جب میں نے ڈاکٹر کے ساتھ اپنی گفتگو مکمل کرلی تو ہم شہر میں گھومنے نکلے اور اس کے بعد العمری مسجد چلے گئے۔ وہاں ایک مظاہرہ ہونے والا تھا۔ وہاں میں نے ایک پرانے دوست کو دیکھا اور اس کو ہیلو کہا۔ اس وقت بہت بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز کے اہلکار موجود تھے جو مظاہرین پر حملہ کرنے والے تھے۔ حالانکہ اس سے قبل سیاسی رہنماؤں اور فورسز کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوچکا تھا۔ مظاہرین کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ تھی۔ ہم کچھ معززین کے گھر گئے جنہوں نے ہمیں بتایا کہ کیا واقعہ ہوا؟ یہ کہانی ہر ایک کو معلوم تھی کہ درعا شہر میں کس طرح بچوں کو گھروں سے نکالا گیا اور انہیں حراست میں رکھ کر بری طرح ٹارچر کیا گیا۔ حد یہ ہے کہ ان کی انگلیوں کے ناخن تک کھینچے گئے۔بشار الاسد کے وفادارعاطف نجیب نے کہا ’’اپنے بچوں کو لے جاؤ اور اپنی بیویوں سے کہو کہ نئے بچے پیدا کریں‘‘۔ ان بچوں پر ہونے والے اس ظلم و ستم کے خلاف قبائلی شیوخ نے فیصلہ کیا کہ وہ مظاہرے کریں گے اور ان لوگوں کو سزا دیں گے جنہوں نے ان کے بچوں کو ٹارچر کا نشانہ بنایا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ تمام ایمرجنسی قوانین ختم کیے جائیں اور کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔ یہاں مظاہرین کے خلاف فورسز کی جانب سے آنسو گیس استعمال نہیں کی گئی۔ اس کے بجائے جو گیس استعمال کی گئی وہ اعصاب پر اثر انداز ہوتی تھی اور اس کا استعمال بین الاقوامی قوانین کے تحت ممنوع تھا، یہ نرو گیس تھی۔ معزز شخصیت بتا رہی تھی کہ مظاہرین مسلح نہیں تھے اور نہ ان کے پاس کوئی ہتھیار تھے۔ یہ معزز شخصیت 1960 کے عشرے میں قوم پرستی کی تحریک کا حصہ رہی تھی۔ جب میں اس شخصیت سے گفتگو کررہا تھا کہ اچانک ایک شخص چلاتا ہوا آیا اور اس نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز مظاہرین پر حملہ کررہی ہیں۔ میں نے اپنا کیمرہ سنبھالا اور گھر سے باہر نکلا۔ اب جو کچھ میں بتاؤں گا اس کی تصدیق کے لیے میرے پاس تصویریں موجود ہیں جو میں نے خود کھینچی ہیں۔ یہاں فرانس 24، اور بی بی سی کے نمائندے موجود تھے لیکن انہیں سیکورٹی فورسزنے شناخت کرکے مظاہرین کی تصویریں بنانے سے روک دیا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ میں جس معزز شخصیت کے ساتھ تھا اس نے کہا کہ یہ میرے ساتھ ہے۔ یہ ایک پاس ورڈ تھا اور اس طرح انہوں نے مجھے تحفظ فراہم کیا۔ میں نے معزز شخصیت سے کہا کہ وہ مجھے آزاد چھوڑ دیں۔ مجھے کسی قسم کا تحفظ نہیں چاہیئے۔ میں ان سے الگ ہوگیا اور مظاہرین میں گھل مل گیا۔ میں نے ان سے انٹرویوز کیے۔ مظاہرین اپنی سخت تکالیف کا اظہار کررہے تھے۔ وہ حکومت جو شہریوں کی جانوں کی تحفظ کی ذمہ دار تھی ان کو گولیوں کا نشانہ بنا رہی تھی۔ درعا میں قتل و غارتگری کے بعد وہ ایک قریبی آبادی سوئدہ گیا۔ وہاں بھی مظاہرے ہورہے تھے۔ مظاہرین میں سے ایک شخص نے ہمیں بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے نہیں بلکہ ہم نے بشارالاسد کی حفاظت کی۔ ایک اور شخص نے کہا کہ ’’شہریوں پر گولیاں چلانے والے نشانچیوں کا تعلق حزب اﷲ(لبنانی شیعہ تنظیم) سے تھا‘‘۔ جب ہم شیعہ سنی مسائل پر گفتگو کررہے تھے تو ایک مذہبی شخصیت نے گفتگو میں حصہ لینا چاہا۔ لیکن مظاہرین نے انہیں بولنے سے روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس فورم پر کسی شیعہ سنی مسئلہ کو زیربحث لانا نہیں چاہتے۔ ہماری گفتگو صرف سیکورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی زیادتیوں کے بارے میں ہے۔ مظاہرے سے قبل مسجد میں مردوں کے علاوہ عورتوں کا بڑا اجتماع تھا۔ ایک شیخ نے مجھ کو بہت ساری خفیہ باتیں بتائیں لیکن ساتھ ہی یہ وعدہ بھی لیا کہ میں ان باتوں کو ابھی شائع نہ کروں۔ کیونکہ اس کا بیٹا فورسز کی قید میں ہے اور اس کی جان خطرے میں ہے۔ اب اس میں سے کچھ چیزیں شائع کررہا ہوں کیونکہ اس شخصیت کے بیٹے کو فورسز نے جیل میں قتل کردیا ہے اور وہ شخصیت خود گرفتار ہوچکی ہے۔ جن بچوں کو گرفتار کیا گیا تھا ان کے ایک چچا نے مجھے بتایا کہ ’وہ ان بچوں کو صرف اس لیے گرفتار کر کے لے گئے کہ وہ دیواروں پر نعرے لکھ رہے تھے۔ ان بچوں کو بری طرح ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔ سیکورٹی فورسز نے ٹارچر کے ان طریقوں کو اسپیشل ٹریٹمنٹ کا نام دیا تھا۔ ان بچوں میں سے بعض کی عصمت دری کی گئی۔ ہم جس گھر میں گفتگو کررہے تھے وہاں دیواروں پر حافظ الاسد، بشارالاسد اور جمال عبدالناصر کی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ سیکورٹی فورسز لوگوں کے گھروں کے دروازے توڑ رہی تھیں اور اندر داخل ہو کر ان کے کیمرے اور موبائل ٹیلی فون ضبط کررہی تھیں۔ ساڑھے بارہ اور ایک بجے کے درمیان کسی نے العمری مسجد کے اندر جھانک کر کہا ’ہم یہاں بیٹھ کر کس کا انتظار کررہے ہیں؟ باہر قتل عام ہورہا ہے۔‘ باہر جن لوگوں کو زخمی کیا جارہا تھا انہیں اٹھا کر مسجد کے اندر لایا جاتا تھا ان کی مرہم پٹی کی جاتی تھی بہت سے لاشیں بھی مسجد میں لائی گئیں اس طرح یہ مسجد ایک فیلڈ ہسپتال بن گئی۔ مارچ کے مہینے میں جمعرات یا جمعہ کو سیٹلائیٹ ٹیلیویژن پر ایک مشہور کلپ چلایا گیا۔ جس میں کہا گیا تھا ’کیا کوئی شخص ایسا ہے کہ خود اپنے لوگوں کو قتل کرسکے؟ آپ سب ہمارے بھائی ہیں‘۔ اس وقت سیکورٹی فورسز درعا کے ہر محلے میں پہنچ چکی تھیں اور اپنے شہریوں کا قتل عام کررہی تھیں۔ وہ صرف بشار الاسد کی وفادار تھیں اور انہیں شام کے اتحاد و یگانگت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے خود دیکھا ہے۔سادے لباس میں مسلح افراد کاروں میں سوار تھے اور آزادی کے ساتھ پورے شہرمیں گھوم گھوم کر عام شہریوں کو گولی کا نشانہ بنا رہے تھے۔ سیکورٹی فورسز نے مسجد کو بھی گھیررکھا تھا۔ اس طرح کوئی دوسرا گروپ مسجد میں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ یہ سوال ہماری زبان پر تھا کہ مظاہرین پر کس نے گولی چلائی؟ اور کس نے مسجد پر حملہ کیا؟ درحقیقت شامی فوج نے کہیں گولی نہیں چلائی لیکن فوج نے کاروں میں سوار غنڈوں کو گولیاں چلانے اور روکنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ مظاہرین پر گولیاں چلانے والے پولیس، سیکورٹی فورسز اور سادے لباس والے غنڈے تھے۔ اس پورے واقعے کی وڈیو موجود ہے۔ میں نے درعا میں ایک ماں کی کہانی سنی جس کا 12 سالہ بیٹا سیکورٹی فورسز کو مطلوب تھا۔ وہ اس کا واحد بچہ تھا اور وہ اس کی زندگی بچانے کے لیے اسے چھپائے پھرتی تھی اور کسی بھوت کی طرح ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل ہوتی رہتی تھی۔ سیکورٹی فورسز ابھی تک اس کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھیں۔ اس کے بعد پتہ چلا کہ ایک دن فورسز نے ایک گھر پر حملہ کیا جہاں وہ اور اس کا بچہ کچھ دیر پہلے تک ٹھہرے ہوئے تھے۔ سخت محاصرے کے باوجود وہ اپنے بچے کو کسی نہ کسی طرح بچا کر نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔ یہ بے حد غیرمعمولی بات تھی۔ لیکن بہت سے عجیب واقعات ہوئے۔ میں نے ان میں سے کچھ واقعات کو اپنے ٹیپ پر ریکارڈ کیا ہے۔ مظاہروں کے بعد فوج کے ایک ڈٹینشن سینٹر کو زعما کے محاصرے کے دوران آگ لگادی گئیسیکورٹی فورسز نے ایک جنازے کے جلوس پر حملہ کیا اور جنازہ لیجانے والوں پر فائرنگ کی۔ ان میں سے تین افراد شدید زخمی ہوئے۔ لوگ جنازہ وہیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ زبردست فائرنگ میں میں نے ایک چھوٹے سے بچے کو دیکھا جس کی عمر دس سال سے زیادہ نہیں تھی اورجو اپنے باپ کے ساتھ کھڑا تھا۔ میں نے بچے سے پوچھا ’’تم یہاں کیا کرنے آئے ہو؟ ننھے بچے گھر کیوں نہیں جانتے؟‘‘ اس کے باپ نے میری طرف دیکھا اور بولا ’’وہ اپنے باپ سے زیادہ قدروقیمت نہیں رکھتا‘‘۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ درست کہہ رہے ہیں۔ میں بھی اپنے بیٹے کو اس میدان جنگ میں لاؤں گا‘۔ یہ سب کہانیاں خون کو جما دینے والے تھیں۔ زعما سے ایک اور کہانی گردش کررہی تھی۔ اس شہر کے لوگ مذہبی طور پر قدامت پسند ہیں۔ ایک دفعہ میں ایک مظاہرے کو دیکھ رہا تھا۔ مظاہرین ایک جانب اور سیکورٹی فورسز دوسری جانب تھیں۔ ایک چھوٹی سی لڑکی سڑک کو پار کرنا چاہتی تھی۔ میں نے اپنا کیمرہ اٹھایا اور اس کی فلم بنانا شروع کی۔ میرا خیال تھا کہ وہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے سڑک کو پار کرے گی اور مرد مظاہرین سے بچنے کی کوشش کرے گی۔ لیکن وہ سیکورٹی فورسز سے اتنی خوفزدہ تھی کہ اس نے مظاہرین کے درمیان سے گزرنے کو ترجیح دی۔ میں نے اپنے قریب کھڑے ہوئے ایک شخص سے پوچھا کہ یہ بات کتنی عجیب ہے کہ یہ لڑکی ان مردوں کے درمیان سے گزر رہی ہے؟ اس نے جواب میں کہا کہ ہم اپنی عورتوں کی بہت عزت کرتے ہیں۔ تم نے دیکھا کہ اس اتنے بڑے مجمع میں کسی نے اس بچی کو چھونے یا اسے حراساں کرنے کی کوشش کی؟ اگرچہ امن و عامہ کی صورتحال خراب ہوچکی ہے لیکن ہم ابھی تک باضمیر لوگ ہیں۔ الرستان سے بھی اسی طرح کی کہانیاں سننے کو ملیں۔ میں نے خود دیکھا کہ مظاہرین نے حافظ الاسد کے ایک مجسمے کو توڑ کر نیچے گرادیا کیونکہ وہ اسے کئی عشروں سے ناانصافی اور بدمعاشی کا ذمہ دار تصور کرتے تھے۔ الراستان کے ایک شہری نے مجھے بتایا کہ یہاں کے لوگ جب کسی کو خراج عقیدت پیش کرتے تھے یا کسی کا غم مناتے تھے تو اپنی موٹرسائیکلوں پر گشت کرتے تھے لیکن اس مرتبہ ان کی موٹر سائیکلیں چوری کرلی گئیں تاکہ وہ نقل و حرکت سے محروم ہوجائیں۔ ان کی موٹر سائیکلیں چور کرنے والے سا دے لباس والے غنڈے تھے جن کو پولیس کا تحفظ حاصل تھا۔لیکن اس دن حصے پر ان کا پولیس کے ساتھ کوئی تنازع تھا اس لئے ایک پولیس کانسٹبل نے ان چوروں کے بارے میں شہریوں کو بتادیا جنہوں نے چوروں کو پکڑ لیا ۔ اس طرح ان کی موٹر سائیکلیں واپس مل گئیں‘‘۔
الدرعا میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بارے میں یہ رپورٹ میرے ایک صحافی دوست نے مکمل کی تھی جس نے خود اس شہر کا دورہ کیا اور موقع پر تصویریں بھی بنائیں ۔ جب میں اس کی رپورٹ کو ٹرانسکرئب کررہی تھی تو زار و قطار رورہی تھی۔ لیکن تھوڑی دیر میں مجھے اس گھٹن سے نجات مل گئی جس کا مجھے اپنے غم کو دبانے اور ضبط کرنے کی وجہ سے سامنا تھا۔ رونے سے میرا دل ہلکا ہوگیا تھا اور میں اپنے جسم میں نئی توانائی محسوس کرنے لگی۔(جاری ہے)
15مئی 2011:
میں جمعہ کوبھی اپنا لکھنے کا کام شروع نہ کرسکی۔میں پوری کوشش کرتی رہی کہ اپنے خیالات کو یکجا کرسکوں لیکن میں نہ لکھ سکی۔ میری طبیعت ہفتہ کو بھی موزوں نہ ہوسکی۔ اس دوران کئی بڑے بڑے واقعات ہوچکے تھے جن کے بارے میں میں لکھ سکتی تھی۔ لیکن اصل مسئلہ یہ تھا کہ میری ذہنی حالت درست نہیں تھی اورمیرا دماغ میرا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ منتشر خیالی نے میرے ذہن کو جکڑ رکھا تھا۔ میرے پاس نیند کی گولیوں کا ذخیرہ ختم ہوچکا تھا جن کے بغیر بھرپور نیند لینا اور ذہنی تھکن اتارنا میرے لیے ناممکن تھا۔ میں جمعرات کے بعد دو دن تک مسلسل جاگتی رہی اور سو نہ سکی۔ تیسرے دن مجھے بمشکل دو گھنٹے کے لیے نیند آئی جس کے بعد میں اس قابل ہوگئی کہ لکھنے کے لیے اپنی توجہ مرکوز کرسکوں۔ جمعرات کو میں اور میری بیٹی ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے اور مسلسل خبریں سن رہے تھے یہ خبریں قتل و غارتگری کے واقعات کے بارے میں تھیں۔ یہ خبریں سن کر میری بیٹی پر بیچینی اور اضطراب کا دورہ پڑگیا۔ میں نے اس کو پرسکون کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن ناکام رہی۔اس دوران ایک شخص میرے گھر آیا اور اس نے کہا کہ ’’اس کے پاس انتہائی مصدقہ اور پختہ اطلاعات ہیں کہ میری زندگی سخت خطرے میں ہے‘‘ اس نے بتایا کہ بہت سی علوی شخصیات کی جان خطرے میں ہے جن میں میں بھی شامل ہوں کیونکہ ان پر الزامات ہیں کہ وہ سلافیوں سے تعاون کررہے ہیں۔ اتفاق سے اس شخص نے یہ ساری باتیں میری بیٹی کے سامنے کہیں۔ مجھےیقین تھا کہ جو کچھ وہ کہہ رہا ہے وہ سچ ہے لیکن اس وقت مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ میں نے اپنی بیٹی کو اپنے کمرے سے باہر نہیں بھیجا اور اسے یہ سب کچھ سننے کا موقع مل گیا۔ وہ یہ خوفناک باتیں سن کر پیلی پڑگئی اور خوفزدہ ہو کر بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اور دروازہ بند کرلیا۔ وہ شخص تو یہ خوفناک خبریں سناکر وہاں سے چلا گیا لیکن میں خوف اور دہشت کے عالم میں تنہا بیٹھی رہ گئی۔ میرے بہت سارے دوست جو اکثر اس نوعیت کی خبریں مجھے دیا کرتے تھے وہ مجھے یہ سمجھانے کی کوشش کرتے تھے کہ مجھے فوری طور پر یہ ملک چھوڑ دینا چاہیئے۔ اس موقع پر میں اپنی بیٹی کو سمجھانے کی کوشش کرتی تھی کہ اب حالات بہتر ہورہے ہیں۔حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ فوج واپس بلالے گی اور اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرے گی۔ حقیقی صورتحال یہ تھی کہ تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا۔ میری نقل و حرکت اور سرگرمیوں میں سب سے بڑا مسئلہ میری اپنی بیٹی تھی۔ میں اس کے بغیر ملک سے باہر نہیں جاسکتی تھی اور اس نے ملک چھوڑنے سے سختی سے انکار کردیا تھا۔ میں اس وقت تک ایسا کوئی قدم نہیں اٹھاسکتی تھی جب تک میں اپنی بیٹی کو راضی نہ کرلیتی خواہ اس کے لیے خود میری اپنی جان خطرے میں پڑ جاتی۔ میری بیٹی مجھ سے اس قدر ناراض تھی کہ اس نے مجھ سے بات چیت بند کردی۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے مطالبہ شروع کیا کہ میں سرکاری ٹیلی ویژن پر آکر صدر بشارالاسد کے ساتھ وفاداری کا اعلان کروں تاکہ حکومت کی جانب سے ہمارے خلاف دشمنی کی کارروائیاں بند ہوں اور ہماری زندگی معمول پر آجائے۔ میں اس کے مطالبے پر حیران اور پریشان کھڑی تھی۔ میں نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی کہ میری جانب سے اس قسم کا اعلان خودکشی کے سوا کچھ نہیں۔ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس جدوجہد میں اب تک جتنے لوگوں نے اپنی جانیں دی ہیں میرا یہ رویہ ان کے خون سے غداری ہوگا۔ لیکن میری بیٹی نے میری کوئی بات سننے سے انکار کردیا۔ میں نے بھی اسے صاف صاف کہہ دیا کہ میں اس کی بات پر عمل نہیں کرسکتی۔ اس کے جواب میں وہ بولی کہ میں آپ کے ساتھ ملک سے باہر نہیں جاؤں گی۔ ہم جس گھر میں ٹھہرے ہوئے تھے وہ سرکاری ایجنٹوں کی نظر میں آچکا تھا اس لیے ہمیں اپنا گھر تبدیل کرنا پڑا۔ جو نیا گھر ہم نے لیا وہ بے حد عجیب و غریب تھا۔ اس کے دو بیڈ روم ایک لونگ روم میں کھلتے تھے اور ان کے درمیان سلائیڈنگ دروازے تھے۔ جس وقت میری بیٹی پر اضطراب کا دورہ پڑتا تو میں اسے روتے، چیختے چلاتے اور چیزیں توڑتے سن سکتی تھی۔ آخر کار میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ مجھے اب اس ملک سے نکل جانا چاہیئے۔ اس زمانے میں میری اپنے ایک دوست سے ملاقات ہوئی اس کا تعلق حزب اﷲ سے تھا لیکن میں اس پر اعتبار کرسکتی تھی کیونکہ وہ بدعنوان نہیں تھا۔ وہ اگرچہ حکومت کی حمایت کرتا تھا لیکن حکومت سے کوئی معاوضہ نہیں لیتا تھا۔ جس زمانے میں سرکاری ویب سائیٹ مخابرات پر میرا نام ڈالا گیا تو وہ بے حد پریشان ہوا۔ اس نے مجھے ٹیلی فون کیا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔ وہ دمشق آیا اور میری اس سے ملاقات ہوئی۔ میں خود بھی بے حد پریشان تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ حکومت میں بہت سارے لوگ ایسے ہیں کہ جو میرے بارے میں کہانیاں بنا رہے ہیں اور جھوٹی افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ اس نے بتایا کہ اس کا رابطہ ان لوگوں سے ہے جو میڈیا کے ذریعہ نفسیاتی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسے میری زندگی کے بارے میں تشویش تھی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میں پرسکون ہونے کی کوشش کروں۔ جب اسے پتہ چلا کہ گزشتہ چند دنوں میں کس طرح مجھ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور میرے ساتھ کیا کیا ہوتا رہا ہے تو وہ سخت پریشان ہوا اور اس نے وعدہ کیا کہ وہ میرے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس نے کہا کہ یہ کام اتنا سادہ اور آسان نہیں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس کام میں کیا رکاوٹ ہے؟ اس نے مجھ سے کہا ’’سڑکوں پر جو کچھ ہورہا ہے تمہارے لیے اس کے خلاف لکھنا آسان تو نہیں ہے۔ تمہیں اپنا رویہ بدلنا ہوگا، خود کو بدلنا ہوگا‘‘۔ چند لمحے تک میں اس کی بات نہ سمجھ پائی پھر میری سمجھ میں آیا کہ وہ کیا کہنے کی کوشش کررہا ہے؟ پھر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کسی نے میرے جسم کو اٹھا کر دیوار پر پٹخ دیا۔ میں جانتی تھی کہ میں بار بار کے صدموں سے پاگل پن کے قریب پہنچ چکی ہوں۔ وہ لوگ میرے بارے میں کہانیاں پھیلا رہے تھے تاکہ میں اپنا ملک چھوڑ کر بھاگ جاؤں۔ وہ مجھے بری طرح دہشت زدہ کررہے تھے۔ وہ میرے بارے میں جھوٹ پھیلا رہے تھے اور پورے شام میں علویوں کو اُکسایا جارہا تھا کہ وہ مجھے جہاں پائیں قتل کردیں۔ جب میرے دوست نے مجھ سے یہ کہا کہ میں موجودہ حکومت کی حمایت میں مضامین لکھنا شروع کردوںتو میں اس کے چہرے کے سامنے غصے کے مارے پھٹ پڑی۔ میں موجودہ حکومت اور بشارالاسد کی حمایت میں کوئی مضمون کیسے لکھ سکتی تھی؟ اس نے کہا ’’وہ تم کو مسلسل نظروں میں رکھے ہوئے ہیں اور دن رات تمہاری نگرانی کررہے ہیں۔ تمہاری لکھی ہوئی کہانیاں اعلیٰ سطح پر زیربحث آتی ہیں۔ ان میں سے ایک گروپ کہتا ہے کہ وہ تم کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ کیونکہ تم علوی ہو اور انہی میں سے ایک ہو لیکن دوسرے کا خیال ہے کہ تم کو سخت سزا دی جانی چاہیئے اور تم کو ساری زندگی کے لیے جیل میں ڈال دیا جائے۔ جہاں سے تم پھر زندہ نہ نکل سکو۔ وہ سب تم سے سخت ناراض ہیں۔ یوں سمجھ لو کہ اس ملک کے سب سے طاقتور لوگ تمہارے دشمن ہوگئے ہیں‘‘۔ اس نے پھر کہا کہ مجھے ہر حال میں اس ملک سے نکل جانا ہوگا۔ میں نے جواب میں کہا کہ میں نے صرف وہ سب لکھا ہے جو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے میں نے کوئی ایسی بات نہیں لکھی جو جھوٹ ہو۔ اس نے میری بات کا جواب نہیں دیا لیکن وہ مسلسل میری خوشامد کرتا رہا کہ میں شام چھوڑ کر چلی جاؤں۔ اس نے کہا کہ میری زندگی حقیقی معنوں میں خطرے میں ہے۔ وہ مجھ کو سازشی اور غدار تصور کرتے ہیں۔ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ میں زیادہ سے زیادہ یہ کرسکتی ہوں کہ لکھنا چھوڑدوں اور خاموش ہوجاؤں، کیا ان کو مطمئن کرنے کے لیے اتنا کافی نہیں ہوگا؟ اس نے جواب میں کہا کہ’’ نہیں! تمہیں کچھ نہ کچھ ایسی باتیں لکھنا ہوں گی کہ وہ تم سے مطمئن ہوکر تمہارا پیچھا چھوڑدیں‘‘۔ میں نے چلا کر کہا کہ میں ایسا نہیں کرسکتی۔ اتنا ظلم اور ناانصافی دیکھنے کے بعد میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں پنے ضمیر کے خلاف بات کروں۔ یہاں ہماری گفتگو ختم ہوگئی۔ اس نے مجھے انتہائی دکھ کے ساتھ اﷲ حافظ کہا۔ اس نے کئی مرتبہ مجھے ٹیلی فون کیا اور پوچھا کہ کیا مجھے کسی قسم کی کوئی مدد کی ضرورت ہے لیکن ہر مرتبہ وہ مجھ سے یہ کہتا رہا کہ میں فوری طور پر شام سے نکل جاؤں۔ اس کے جانے کے بعد میں سیدھی اپنی بالکنی پر چلی گئی اور نیچے کی جانب دیکھا۔ وہاں دو افراد کھڑے ہوئے تھے جن کو میں روزانہ اپنا پیچھا کرتے ہوئے دیکھتی تھی۔ وہ تقریباً 24 گھنٹے میرا پیچھا کرتے رہتے تھے۔
اس جمعہ کو لبنان کے ایک اخبار السفیر میں ایک خاتون صحافی نے میرے بارے میں ایک مضمون لکھا تھا۔ اس مضمون کی اشاعت کے بعد مجھے بیرون ملک سے ہی ایک ٹیلی فون کال آئی جس میں مجھ کو دھمکی دی گئی تھی کہ یہ ان کی جانب سے آخری وارننگ ہے۔ میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں خاموش رہوں گی لیکن میں نے اپنا وعدہ توڑ دیا۔ میرا خیال یہ تھا کہ جو شخص بھی مجھے یہ دھمکیا ں دے رہا ہے اس کا حکومت سے تعلق نہیں ہے۔ ہوسکتاہے کہ دھمکیاں دینے والا شخص کوئی عام علوی ہو اور مجھے اور میری بیٹی کو دھمکیاں دے رہا ہو۔ لیکن جب سے دو افراد میرے نئے گھر کے سامنے دکھائی دینا شروع ہوئے میں بے حد خوفزدہ ہوگئی۔ میں حیران تھی کہ انہوں نے میرانیا گھر اتنی جلدی کیسے دریافت کرلیاتھا؟ ان کو کیسے پتہ چل جاتا تھا کہ میں نئے گھر میں منتقل ہوگئی ہوں؟ ان کے غصے اور اشتعال کو روکنے کا صرف ایک ہی طریقہ تھا کہ میں خاموش ہو جاؤں اور لکھنا چھوڑ دوں۔ لبنانی اخبار میں جو مضمون چھپا تھا وہ میرے بارے میں تھا۔ اخبار کا ایڈیٹر اس مضمون کی دو آخری لائینوں کو حذف کردینا چاہتا تھا جو یہ تھیں ’’اصل سوال یہ ہے کہ دونوں جانب کے لوگوں کو قتل کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ کون فوجی افسروں اور سویلین مظاہرین دونوں کو قتل کررہا ہے؟ اخبار کے ایڈیٹر نے ان لائینوں کو مجھے بچانے کے لیے کاٹ دیا۔ جب یہ مضمون شائع ہوا تو میرے پاس ایک شخص کا ٹیلی فون آیا۔ اس نے سخت غصہ بھری آواز میں کہا ’’سمریاز بک اگر تم خود اس ملک سے غائب نہیں ہوئیں تو میں تم کو کرہ ارض سے غائب کردوں گا۔
16 مئی 2011:
اس تاریک صبح میرے سینے میں درد کی لہریں اُٹھنی شروع ہوئیں۔ میرے کانوں میں گھنٹیوں کی مسلسل آواز آنے لگی۔ مجھے اب اس کا احساس ہونے لگا تھا کہ میری زندگی واقعی خطرے میں ہے۔ بہت ساری علامات مجھے اپنے دوستوں کی ان اپیلوں پر غور کرنے پر مجبور کررہی تھی کہ میں کسی نہ کسی طرح خود اپنے ذاتی مفاد میں بالکل خاموش ہو جاؤں اور دنیا کی نظروں سے خود کو چھپالوں۔ ایک ڈاکٹر نے مجھ سے کہا تھا کہ میں جو کچھ کررہی ہوں وہ خودکشی ہے اور مجھے اب کسی قسم کی سرگرمی میں حصہ نہیں لینا چاہیئے۔ ہر دوست مجھ سے کہہ رہا تھا کہ میں مظاہرین اور لوگوں سے ملنا ترک کردوں۔ میں خود کو تمام سرگرمیوں سے الگ کر کے اور خاموش تماشائی بن کر رہ سکتی تھی۔ میرے ساتھ حال ہی میں جو واقعات ہوئے ان کی دہشتناک یاد مجھے چپ رہنے پر مجبور کررہیتھی۔ اب مجھے یہ احساس ہونا شروع ہوا کہ میں عملی طور پر اس گھر میں نظربند ہوں۔ میرے فون ٹیپ کیے جارہے ہیں۔ میری ہر حرکت کی نگرانی ہورہی ہے۔ حد یہ کہ وہ میری سرگوشیوں تک کو سن لینے پر قادر ہیں۔ میں ابھی تک کسی فیصلے پر پہنچ نہیں سکی تھی اور ایک رات کو زینکس کی گولیاں کھا کر گہری نیند میں سورہی تھی کہ ایک چیخ کی آواز سن کر بیدار ہوئی۔ میں بستر سے کود کر نیچے اُتری اور اُس لمحے مجھے صرف یہ خیال آیا کہ شاید میری بیٹی کو اغوا کرلیا گیا ہے۔ میں دہشت کے عالم میں چیختے ہوئے ایک پاگل عورت کی طرح کمرے میں اِدھر اُدھر بھاگ رہی تھی۔ جب میں نے اپنی بیٹی کے بستر سے اس کا کمبل کھینچا تو وہ خالی تھا۔ میں ایک مرتبہ پھر چلائی۔ اُس لمحے خوف اور دہشت کی لہریں میرے پورے جسم پر چھاگئیں۔ میرے منہ سے چیخوں کے سوا اور کوئی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ مجھے یقین ہوگیا تھا کہ میری بیٹی کو اغوا کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے میری بیٹی کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی تھی اور شاید اب ایسا ہی ہوا تھا۔ اسی لمحے اچانک بالکنی کا دروازہ کھلا اور میری بیٹی سراسیمگی کے عالم میں بھاگتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ شاید بالکنی سے باہر جھانک رہی تھی۔ اس کو زندہ پا کر میری چیخیں رک گئیں اور سانسیں بحال ہونے لگیں۔ میری دوست لڑکی اس کے پاس کھڑی تھی جو میری چیخیں سن کر بیدار ہوئی تھی۔ وہ دونوں حیران و پریشان ہو کر مجھے دیکھ رہی تھیں۔ تم کہاں تھیں؟ میں نے چیخ کر پوچھا۔ ’’ہم برآمدے میں تھے‘‘۔ اس نے کہا۔ میرا جسم ابھی تک خوف سے کانپ رہا تھا۔ میرا پورا جسمانی نظام ہل کر رہا گیا تھا۔ میں مردہ قدموں سے اپنے کمر ے میں داخل ہوئی اور بستر پر بیٹھ گئی۔ وہ دونوں خاموشی سے مجھے دیکھتی رہیں۔ میں نے بستر پر لیٹ کر سونے کی کوشش شروع کردی لیکن نیند کی دیوی کے مہربان ہونے میں ایک گھنٹے سے زیادہ عرصہ لگ گیا۔ میری ذہنی حالت اچھی نہیں تھی اور اس کی دوسری علامت پہلے واقعے کے دو دن بعد ظاہر ہوئی۔ میں علی ا لصبح ساڑھے چار بجے اپنی بالکنی سے باہر ماؤنٹ کاسیون کا نظارہ کررہی تھی جس کے دامن میں المہاجرین کی آبادی تھی۔ اگرچہ یخ ہوا مجھے ٹھٹھرائے دے رہی تھی لیکن میں اس منظر کا لطف اٹھاتی رہی۔ میں اس منظر سے لطف اندوز ہونے کے بعد کمرے میں واپس آئی اور اپنے لیے کافی بنائی۔ تھوڑی دیر کے بعد میں ٹہلتی ہوئی باتھ روم میں داخل ہوئی اور اپنا منہ دھونے لگی۔ ایک جانب کھڑکی کھلی ہوئی تھی جس سے قدیم دمشق کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ دور دور تک پرانی عمارتیں تھیں جن کی چھتیں ٹوٹی پھوٹی تھیں۔ انہیں دیکھ کر کوئی اچھا احساس نہیں ہوتا تھا۔ مجھے ان عمارتوں کا یہ منظر اچھا نہیں لگا اور میں نے اپنا سر کھڑکی سے دور کرلیا۔ منہ دھونے کے بعد میں نے تولیہ اٹھالیا اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر منہ خشک کرنے لگی۔ میں آئینے میں خود کو واضح طور پر دیکھ سکتی تھی۔ میں آئینے میں ایک خوفزدہ تھکی ہوئی عورت دکھائی دے رہی تھی۔ مجھے ایسا لگتا تھا کہ جیسے آئینے میں دکھائی دینے والی عورت میں نہیں ہوں۔ میں خود اپنی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خود کو سمجھنے کی کوشش کرتی رہی۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس آئینے میں میں خود کو دیکھ رہی ہوں۔ میں خود کو پہچان نہیں پارہی تھی۔ خوف اور دہشت میری طبیعت پر غالب آنے لگی۔ میں نے خود کو دیکھنا ترک کردیا اور تقریباً بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اپنی ذہنی حالت کے بارے میں تیسری علامت بھی بہت جلد سامنے آگئی۔ میں بہت سارے پیغامات دیکھ کر سخت پریشان تھی۔ بہت سے پیغامات اپوزیشن کے لوگوں کی جانب سے تھے جو میری خاموشی پر سخت مایوسی کا اظہار کررہے تھے حالانکہ میں اب بھی خاموش نہیں تھی۔اپوزیشن کے لوگوں کو میری تکلیفوں کا تصور نہیں تھا۔ انہیں صرف اس بات سے دلچسپی تھی کہ میں اپنا کردار جاری رکھوں اور آخر کار اس جنگ میں ماری جاؤں۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے بھیجے جانے والے یہ پیغامات عجیب و غریب تھے۔ کچھ پیغامات علویوں کی جانب سے بھی بھیجے گئے تھے جو مجھ پر غداری کے الزامات لگا رہے تھے۔ شامی حکومت کے حامیوں کی جانب سے مجھ کو قتل کردینے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ ایسے ہی ایک خط میں مجھے لکھا گیا تھا کہ ’’پیاری پوشیدہ کافرہ! شامی انقلاب کو اپنی صفوں میں تم جیسی کافرہ کی موجودگی قطعی پسند نہیں‘‘۔ یہ خطوط مختلف جگہوں سے بھیجے گئے تھے۔ گویا میں دو طرفہ فائرنگ کا نشانہ بن رہی تھی۔ ان سب خطوط کو پڑھ کر مجھ پر نیم دیوانگی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ میں نے ایک مرتبہ پھر آئینے میں اپنی شکل دیکھی اور مجھے پھر شدت سے یہ احساس ہوا کہ یہ میرا چہرہ نہیں ہے۔ اُس لمحے مجھے اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا۔ پھر میں نے ایک اجنبی عورت کو دیکھا جس کا چہرہ سخت نفرت سے بگڑا ہوا تھا۔ اُس کے ہاتھ میں کوئی خنجر تھا اور وہ اُسے میرے سینے میں گھونپنے کیکوشش کررہی تھی اور میں نے اپنے دل کو دونوں ہاتھوں سے چھپالیا کہ جیسے میرے ہاتھ اس خنجر کو میرے دل تک پہنچنے سے روک سکیں گے۔ مجھے یہ منظر نیم خوابی کے عالم میں دکھائی دیا اور پھر غائب ہوگیا۔ میں نے گھبرا کر اپنی آنکھیں بند کرلیں اور یہ منظر اور مجھ پر حملہ کرنے والی عورت غائب ہوگئی۔ کیا یہ سب ایک خواب تھا اور اگر یہ خواب تھا تو کیا میں اسے جاگتے میں دیکھ رہی تھی یا آئینے میں خود کو دیکھتے دیکھتے اچانک مجھ پر کشف کی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔
شام کی خانہ جنگی آج لبنان تک پہنچ گئی۔ میڈیا اور اخبارات نے ایک عورت کی تصویر شائع کی جس کی میت پر اُس کا بچہ آنسو بہارہا تھا۔ فائرنگ کے اس واقعہ میں دوسری عورت زخمی ہوئی۔ یہ گولیاں شام کی سرحد کی جانب سے چلائی گئیں اور ایک لبنانی فوجی بھی ان گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہوگیا۔ شام اور لبنان کے درمیان اس سرحد پر شام کے جنگ و جدال سے بچ کر لبنان جانے والے مہاجروں کے بہت سے قافلے جو زیادہ تر عورتوں اور بچوں پر مشتمل تھے سرحد عبور کررہے تھے۔ ان کا مختصر مال و متاع ان کے سروں پر تھا۔ ریڈ کراس کی جانب سے سرحد پر امدادی کیمپ قائم کیے گئے تھے۔ مہاجرین شام سے دورے ملکوں کا رخ کررہے تھے لیکن انہیں پتہ نہیں تھا کہ ان کو وہاں کیسے حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ شام کے شہروں میں ٹینکوں سے گولہ باری جاری تھی اگر ایک شہر سے ٹینکوں کو ہٹالیا جاتا تو دوسرے شہر کو بھیج دیا جاتا۔ صدر بشارالاسد ٹیلی ویژن کیمروں کے سامنے مسلسل کہہ رہے تھے ’’اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کا آغاز ہونے والا ہے‘‘۔ دوسری جانب اپوزیشن کا کہنا تھا کہ شہروں کے گھیراؤں اور شہریوں کے قتل عام کو روکے بغیر کیا کسی قسم کی بات چیت ہوسکتی ہے؟ بات چیت شروع ہونے سے پہلے شہریوں کا قتل عام بند کرنا ہوگا۔ یہ بات چیت صرف اس صورت میں مفید ہوسکتی ہے کہ معصوم لوگوں کو فوری طور پر رہا کردیا جائے اور قتل عام بند کردیا جائے۔ مصدقہ اطلاعات یہ تھیں کہ صدر بشارالاسد نے اس ماہ کی 15 تاریخ تک شہروں کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی ہدایت کی تھی۔ گزشتہ روز سرکاری ٹیلی ویژن نے اعلان کیا کہ ’’شامی فوج نے مسلح حملہ آوروں کو شکست دی ہے‘‘۔ کیا صدر کو اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے لیے کوئی ڈائیلاگ کمیٹی نہیں بنانی چاہیئے؟ میں اچھی طرح جانتی تھی کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مزاکرات میں مخلص نہیں ہے۔ اس کا طرزعمل کسی سانپ کی طرح ہے اور یہ سانپ اپنی کنڈلی تیزی سے پھیلارہا تھا تاکہ شامی شہروں اور قصبات میں جاری تحریک کو کچلا جاسکے۔ مظاہرین کی جانب سے حقیقی اصلاحات کا مطالبہ کیا جارہاتھا تاہم ان کا مطالبہ صرف ایک تھا کہ موجودہ حکومت ختم کر کے ایک غیرجانبدار حکومت قائم کی جائے۔ حکومت کی یہ تبدیلی صرف اس صورت میں پرامن ہوتی کہ ملک میں آزادانہ انتخابات ہوسکتے۔ لیکن مجھے یقین نہیں تھا کہ وہ طبقہ جو اس ملک پر آہنی ہاتھوں کے ساتھ حکومت کرتا رہا تھا وہ لوٹ کے اس مال کو اتنی آسانی سے چھوڑنے کو تیار ہو جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ حکمرانوں نے شام کو شہریوں کی ایک بہت بڑی اجتماعی قبر میں تبدیل کردینے کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔ نو بجے صبح میں نے سائرنوں کے بجنے کی آوازیں سنیں۔ یہ سائرن ہارنس اسکوائر، الروضہ، الشالان، الحمرہ اور الساحلیہ کے علاقوں میں بج رہے تھے۔ میں یہ دیکھنے کے لیے بالکنی پر نکلی کہ سائرنوں کی یہ آوازیں ایمبولینسوں کی ہوں گی لیکن یہ سائرن ایمبولینسوں سے بلند نہیں ہورہے تھے۔ یہ پیلی ٹیکسیاں تھیں جن میں گنتی کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ شہریوں کو بلا ضرورت گولیوں کا نشانہ بنانے والے سادہ لباس قاتل انہی ٹیکسیوں پر بیٹھ کر آتے تھے۔ ٹیکسیوں کو دیکھتے ہی لوگ خوفزدہ ہوگئے اور انہوں نے ادھر ادھر بھاگنا شروع کردیا۔ یہ سائرن ان ٹیکسیوں سے بجائے جارہے تھے۔ لوگ ان ٹیکسیوں کو دیکھتے ہی ادھر ادھر بھاگنا شروع ہوگئے تھے۔ دمشق میں تمام ٹیکسیوں کو سیکورٹی فورسز نے حاصل کرلیا تھا۔ ان ٹیکسیوں کو شہریوں کے مجمعوں مظاہرین وغیرہ پر فائرنگ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا یا پھر سڑکوں سے وہ جس کو چاہتے اغوا کرلیتے۔ مظاہروں کے دوران ایسے واقعات میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ لوگ خوف اور دہشت سے چیخ رہے تھے اور ہر چیخ اس کی علامت تھی کہ شام ایک مرتبہ پھر اپنی آزادیوں سے محروم ہورہا ہے۔ (جاری ہے)
19مئی 2011:
آج تلکلخ پر بمباری ہوئی۔ قتل عام میں سیکڑوں معصوم شہری شہید ہوئے۔ لوگ امن و امان کی تلاش میں اپنے بسے بسائے گھر چھوڑ کر نقل مکانی کرنے لگے۔الشبیہہ کا غنڈوں نے موقع پاکر انگھروں کے تالے توڑے اور لوٹ مارشروع کردی۔ لبنان کی جانب نقل مکانی کرنے والے لٹے پٹے قافلوں میں شامل عورتوں اور بچوں کے خوفزدہ چہروں نے مجھے ساری رات جگائے رکھا۔ جو لوگ اس کاروائی کا حصہ تھے ان کی کہانیاں سن سن کر میرے اعصاب کشیدہ ہوگئے۔ میں بمشکل خود کو ٹھنڈا رکھ سکی۔ میں نے ہر طرح پرسکون رہنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔ میری اعصابی تکلیفیں ابھر آئیں جن کا واحد علاج گہری نیند تھی جس کے لیے میں نیند کی گولیاں لینے پر مجبور تھی۔ میرا حال ایک بدروح کی طرح تھا جو تاریک راتوں میں پرانے کھنڈروں میں ادھر ادھر گھومتی رہتی ہے اور اگر کوئی اسے دیکھ لے تو دہشت زدہ ہو جائے۔ جب شام کے ساڑھے پانچ بج گئے تو میں بالکونی پر آئی۔ میں نے گلی میں دیکھنے کی کوشش کی کہ دونوں سیکرٹ ایجنٹ اپنی جگہ موجود ہیں یا نہیں جو میری نگرانی پر مامور تھے۔ مجھے نیچے گلی میں کوئی نظر نہیں آیا۔شااید وہ بھی میری نگرانی کر کر کے تنگ آچکے تھے۔ میں دو دن سے گھر سے باہر نہیں نکلی تھی اور آج تیسرا دن تھا۔ میں ان سیکرٹ ایجنٹوں کے بارے میں سوچنے لگی جو میری نگرانی پر مامور تھے۔ مجھے کچھ اس طرح گھیر کر رکھا گیا تھا کہ ان کی نظروں سے بچ کر کہیں نکلنا مشکل تھا۔
مجھے گزرے ہوئے دو دنوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنی تھیں اور پھر ان واقعات پر پوری توجہ مرکوز کرنی تھی تاکہ میں اپنی رپورٹ تیار کرسکوں۔ ہر طرف سے بے شمار خبریں آرہی تھیں لیکن یو ٹیوب پر لوگ ذاتی طور پر جو وڈیو کلپس ڈالتے تھے وہ بعض اوقات اتنے خوفناک ہوتے کہ میں انہیں برداشت نہیں کرپاتی۔ مختلف عینی شاہدین سے میری جو ملاقاتیں طے پائی تھیں انہیں میں نے اس خوف سے منسوخ کردیا تھا کہ میرے ذریعہ حکومت کے سیکرٹ ایجنٹس ان تک رسائی حاصل کرنے اور ان کے لیے خطرناک نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔ میرے وہ دوست جنہوں نے ان ملاقاتوں کا اہتمام کیا تھا میں نے ان کو بھی منع کردیا۔ اس کے باوجود ہر طرف سے میرے پاس شدید نفرت پر مبنی میلز آرہی تھیں۔ آج مجھے ایک میل وصول ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ ’’میں وہاں واپس چلی جاؤں جہاں سے آئی ہوں اور شام کے شہریوں کو تنہا چھوڑ دوں‘‘۔ لکھنے والے کا خیال تھا کہ میرا تعلق فری سیرین آرمی سے ہے حالانکہ میں خود شامی شہری تھی اور میرا تعلق کسی جماعت سے نہیں تھا اور نہ میں غیر ملکی تھی۔ میں ایسے خطوں کا کوئی جواب نہیں دے سکتی تھی ورنہ کم از کم اتنا ضرور بتاتی کہ میں بمشکل زندہ رہنے کی کوشش کررہی ہوں۔ ایسے بہت سے خطوط میں اکثر مجھ سے مطالبہ کیا جاتا تھا کہ میں حکومت کی حمایت میں مضامین لکھنا شروع کروں اور سرکاری ٹیلی ویژن چینل پر آکر حکومت سے اپنی وفاداری کا اعلان کروں۔ میں ان کو کیسے بتاتی کہ مجھ کو موت کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ خود میرے شہر کے لوگ جو علوی ہیں میری بوٹیاں نوچنے کو تیار ہیں۔ خط لکھنے والے مجھ سے کہہ رہے تھے کہ میں اسلام کے سچے راستے پر چلوں۔ میں ان سے کیسے پوچھتی کہ حکومت کے کارندے جو کچھ کررہے ہیں کیا یہ اسلام کا سچا راستہ ہے؟ علویوں کی اکثریت اب جو کچھ کررہی ہے کیا یہ اسلام کا سچا راستہ ہے؟ میں نے کسی میل کا جواب نہیں دیا اور اپنا میل باکس بند کردیا۔ اس کے بعد میں نے انستھیسا کے ایک ڈاکٹر کے بیان کو ٹرانسکرائب شروع کیا جو اس نے درعا میں پیش آنے والے واقعات کے متعلق دیا تھا۔ ڈاکٹر ہونے کے باوجود وہ شخص اتنا متاثر ہوا تھا کہ مجھ کو بمشکل معلومات فراہم کرسکا۔ اس تک پہنچنا بھی کوئی آسان کام نہیں تھا۔ مجھے احتیاطی طور پر تین ٹیکسیاں تبدیل کرنی پڑیں۔ جب میں کسی ایک ضلع میں پہنچتی تو وہاں ٹیکسی چھوڑ دیتی اور کسی علاقے سے نئی ٹیکسی پکڑنے کی کوشش کرتی تاکہ حکومت کے ایجنٹ میرا تعاقب جاری نہ رکھ سکیں۔ سب سے زیادہ بڑا مسئلہ یہ تھا کہ میری وجہ سے کوئی شخص گرفتار نہ ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو میں خود کو کبھی معاف نہ کرسکتی۔ جب میں نے آخری ٹیکسی چھوڑی تو ایک نوجوان دوست مجھ کو ڈاکٹر کے گھر تک لے گیا۔
ہر صبح جب میری آنکھ کھلتی تو شدید اعصابی دباؤ کے سبب مجھے ایسا لگتا کہ جیسے میرا دل بند ہو جائے گا۔ مجھے ایسا لگتا کہ میں پاگل پن کے قریب پہنچ گئی ہوں۔ میرے سر میں درد کی اتنی شدید لہریں دوڑ رہی ہوتیں کہ جن کا علاج مسکن دواؤں کے سوا کچھ نہ تھا۔ میں جس علاقے میں گئی بظاہر وہاں امن و امان دکھائی دیتا تھا۔ دمشق اور اس کے قرب و جوار میں ایسے بہت سے علاقے تھے جہاں اس طرح نارمل حالات دکھائی دیتے تھے جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو لیکن یہ طوفان سے پہلے والی خاموشی تھی جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا تھا۔ اس صبح میری ملاقات ایک مصنف سے ہوئی جس کا تعلق سویداکے گاؤں سے تھا اور اس پورے گاؤں کو اجتماعی سزا کا سامنا تھا۔ ان لوگوں پر الزام تھا کہ وہ ایک حکومت مخالف مظاہرے میں شریک ہوئے تھے۔ اس مصنف کی ایک پڑوسن نے دھمکی دی تھی کہ وہ اس کو سیکورٹی فورسز کے حوالے کردے گی۔ اس کے بعد اس مصنف نے اپنا گھر چھوڑ دیا اور اس اجتماعی سزا سے بچنے کے لیے دمشق چلا گیا۔ اس نے بتایا کہ اب وہ اپنے ساتھ پیش آنے والے تمام واقعات لکھ رہا ہے تاکہ یہ سب چیزیں ریکارڈ میں آجائیں۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنی تحریریں بیرون ملک رہنے والے اپنے دوستوں کو بھیج رہا ہے تاکہ اس کی موت یا گرفتاری کی صورت میں یہ تمام چیزیں شائع ہوسکیں۔ اس کا واسطہ بالکل میرے جیسے حالات سے تھا۔ اس کے بعد میں نے درعا سے آنے والے ڈاکٹر کے انٹرویو کو سننا شروع کیا اور اسے ٹائپ کرنے لگی۔ ڈاکٹر نے بتانا شروع کیا ’’ہم نے زخمیوں کے علاج کے لیے ایک خفیہ میڈیکل سینٹر قائم کیا تھا۔ ہم نے دمشق میں بھی ایسا ہی ایک سینٹر بنایا ہے۔ بوسرا کے قصبے میں بھی ایک مکمل ہسپتال بنایا گیا ہے جس کو تحریک کے کارکنان چلا رہے ہیں۔ یہ میڈیکل سینٹر تحریک شروع ہونے کے پہلے ہی ہفتے میں 21 مارچ کو بنایا گیا۔ شروع میں میں ہفتے میں تین مرتبہ میڈیکل سینٹر جایا کرتا تھا اور انستھیسیا دینے والے ڈاکٹر کے طور پر کام کرتا تھا‘‘۔
میں نے اس سے پوچھا کہ میڈیکل سینٹر میں آپ کیا کیا خدمات فراہم کرتے تھے؟‘‘ میری بات سن کر وہ کچھ دیر خاموش رہا اور پھر اس نے گہرا سانس لیا۔ اس کی جذباتی حالت کچھ اچھی نہیں تھی۔ اس نے بتایا ’’درعا میں شہریوں کے ساتھ جس قسم کا ظلم و ستم کیا گیا ایسا اسرائیلیوں نے کبھی مسراتہ یا غزہ میں نہیں کیا ۔ ان لوگوں نے مسراتہ میں فاسفورس چھڑک کر آبادیوں کو آگ لگادی۔ مسراتہ اور درعا میں فرق یہ تھا کہ درعا میں لوگوں کو براہ راست گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ہم نے قتل کے بہت سے واقعات دیکھے لیکن درعا میں شہریوں کی جو لاشیں لائی گئیں ان کے سر یا سینے پر براہ راست گولی ماری گئی تھی۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ میں جب چیک پوائنٹس سے گزرا تو میں نے سیکورٹی اہلکاروں کو کیا گفتگو کرتے ہوئے سنا۔ وہ کہہ رہے تھے ’’ہم درعا میں لوگوں کے ساتھ وہ سلوک کریں گے جس سے پورے شام میں پھیلے ہوئے باغیوں کو سبق مل جائے‘‘۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے درعا میں بدترین قتل و غارت گری کی اور پوری پوری آبادیوں کو قتل کر کے اجتماعی سزا دی۔ میں نے حال ہی میں ابوزید کے خاندان کی اجتماعی قبر دیکھی۔اس نے پوچھا کہ ’’ کیا آپ کو خبر ہے کہ ان کی کہانی کیا ہے؟‘‘
میں نے اس سے کہا کہ وہ پورا واقعہ تفصیل سے بتائے۔ اس نے بولنا شروع کیا ’’یہ خاندان ایک خوبصورت مکان میں رہتا تھا۔ سیکورٹی فورسز نے یہ مکان اس سے چھیننے کی کوشش کی۔ اس نے مزاحمت کی اور مکان ان کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ فورسز نے اسے اور اس کے بچوں کو گولیاں مار کر قتل کردیا اور ناصرف اس مکان پر قبضہ کرلیا بلکہ درعا میں اس طرح بہت سے مکانوں پر قبضہ کیا گیا‘‘۔ درعا کا ہر محلہ دوسرے محلے سے کاٹ دیا گیا تھا اور ہر چوک پر ٹینک کھڑے تھے اور جابجا چیک پوائنٹس بنے ہوئے تھے۔ ایک فلسطینی عورت اپنے کیمپ سے دوائیں اور خوراک لے کر آئی اور یہاں محصور لوگوں کی مدد کرتی رہی۔ لوگ اسی طرح ایک دوسرے کی مدد کررہے تھے‘‘۔ میں نے اس سے اگلا سوال کیا ’’آپ اس سینٹر میں روزانہ کتنے مریضوں کو دیکھتے تھے؟‘‘ اس نے بتایا ’’اس سینٹر کے علاوہ دوسرے علاقوں میں بھی ہم نے میڈیکل سینٹرز کھولے تھے۔ یہاں بہت سے نوجوان طبی خدمات فراہم کررہے تھے۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر قتل عام کے باوجود بہت سے عورتیں زندہ تھیں اور 50 سال سے زیادہ عمر کے مردوں کو زندہ چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس سے کم عمر کے ہر شخص کو گولی ماردی گئی۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہر شخص یا تو فورسز کی حراست میں تھا اور اگر وہ جان بچا کر بھاگ نہیں گیا تھا تو مرچکا تھا۔ 15 دن تک یہ صورتحال تھی کہ جو شخص کھڑکی سے باہر سر نکالتا اس کو گولی ماردی جاتی۔ انہوں نے پورے درعا کو ایک بہت بڑا قید خانہ بنا دیا تھا۔ دن کے 24 گھنٹوں میں سے 20 گھنٹے بجلی، پانی اور ٹیلی فون لائنیں بند تھیں۔ میں نے دیکھا کہ مرنے والوں کی لاشوں کو تدفین کی اجازت نہیں دی گئی اور لوگ انہیں سڑھنے سے بچانے کے لیے سبزیوں کو محفوظ رکھنے والا ایک وسیع ریفریجریٹر استعمال کررہے تھے۔ کرفیو کی پابندیاں انتہائی سخت تھیں‘‘۔ میں نے اس سے پوچھا کہ ’’لاشوں کو چھپانے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ اس نے بتایا ’’لاشیں اس لیے چھپائی جاتی تھیں کہ فورسز ان کو چوری نہ کرلیں اور وہ تدفین سے نہرہ جائیں‘‘۔ اس نے بتایا ’’ہمارے سینٹر میں 80 لاشیں اور 250 شدید زخمی تھے۔ ہم نے اس نوعیت کے چار سینٹرز قائم کیے تھے۔ میں نے اس سے پوچھا ’’تم لوگ سیکورٹی فورسز کے اس محاصرے سے کس طرح نکلتے تھے؟‘‘
اس نے بتایا ’’ہم رات کی تاریکی میں بوسرا کے راستے باہر جایا کرتے تھے‘‘۔ میں نے اس سے پوچھا ’’کیا لاشوں اور زخمیوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے؟‘‘ اس نے بتایا کہ ’’سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مرنے والے 90 فیصد نوجوان تھے۔ ان کی عمریں 15، 16 سال تھیں۔ وہ انتہائی کمسن تھے اور ان معصوموں کو سر یا سینے میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا‘‘۔ وہ بولتے بولتے خاموش ہوگیا۔ درعا میں شامی سیکورٹی فورسز نے جس طرح معصوم بچوں کاقتل عام کیا اس طرح تو فلسطین میں بھی اسرائیلیوں نے نہیں کیا۔ میں ظلم کی یہ ساری داستان سن کر بمشکل اپنے جذبات کو قابو میں کررہی تھی۔ میرے لیے خود پر کنٹرول رکھنا بے حد مشکل ہوگیا تھا۔ مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہورہا تھا۔ جس طرح ان کہانیوں میں دوسرے قتل ہورہے تھے اسی طرح کسی دن میں بھی قتل ہونے والی تھی۔ وہ خالی نظروں سے مجھے تک رہا تھا اور اس کا سارا بدن کانپ رہا تھا۔ میں تصور کررہی تھی کہ کمسن لڑکوں کو اس طرح گولیاں مار کر زمین پر پھینکا جارہا ہے آخر میں بھی تو ایک بچی کی ماں تھی۔ جب یہ سب میری برداشت سے باہر ہوگیا تو میں نے اس سے جانے کی اجازت لی۔ مجھے اس کے گھر سے نکل جانے کی جلدی تھی تاکہ میرے آنسو اس کے سامنے نہ بہیں اور میں باہر جا کر روسکوں۔ جب میں ٹیکسی میں پچھلی نشستوں پر بیٹھی تو میری آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوگئے۔ میں ان شامی لڑکوں کا تصور کررہی تھی جن کو شامیوں ہی نے قتل کیا تھا۔ وہ شامی اہلکار شہریوں کی جانوں کی حفاظت جن کی ذمہ داری تھی لیکن اس کے بجائے وہ حکمرانوں کے محلوں کی حفاظت کے لیے شہریوں کا قتل عام کررہے تھے۔ ٹیکسی میں بیٹھ کر واپسی کے سفر میں میں مسلسل روتی رہی۔ جب میں گھر پہنچی تو میری آنکھیں سرخ ہوچکی تھیں۔ میری بیٹی نے میری متورم آنکھیں دیکھیں اور بولی ’’آپ قتل و غارتگری کی کہانیاں سن کر آرہی ہیں‘‘۔ وہ میرے لیے پانی کا گلاس لائی اور مجھے پلایا۔ پھر بولی ’’ماما! آپ سمجھتی کیوں نہیں ہیں؟ آپ کیوں یہ سب کر رہی ہیں؟‘‘ میں نے اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگایا اور رونے لگی۔ وہ میری بات کو سمجھے بغیر میرے بالوں پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔وہ بہت دیر تک مجھے اسی طرح تھامے رہی پھر میرے لیے چائے بنانے چلی گئی۔
ڈاکٹر نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ درعا تک پہنچنا آسان کام نہیں تھا۔ سیکورٹی فورسز نے اس طرح محاصرہ کیا تھا کہ کوئی چھڑی ابھی اڑ کر اندر نہیں جاسکتی تھی۔ لیکن ہم نے درعا تک پہنچنے کے لیے بوسرا کا راستہ اختیار کیا جو بہت لمبا تھا۔ ایک گاؤں سے ایک شخص نے اپنا پک اَپ ٹرک فراہم کیا جس میں ہم خوراک اور دوائیں لے گئے۔ میں دواؤں کی نگرانی کا ذمہ دار تھا۔ اپنے سینٹر میں ہم لالٹین کی روشنی میں آپریشن کرتے اور زخموں پر ٹانکیں لگاتے کیونکہ بجلی ہر وقت بند رہتی تھی۔ لوگ غیرمعمولی طور پر ایک دوسرے کی مدد کررہے تھے۔ ایک صبح ہم سرجری میں مصروف تھے کہ دو نوجوان آئے اور انہوں نے دوائیں طلب کیں۔ ہمارے فارمیسی انچارج نے ان کے سامنے دواؤں کا ذخیرہ کھول دیا تاکہ وہ ضرورت کے مطابق دوا لے سکیں۔ درعا کے نواح میں ایک علاقہ صلخد تھا جہاں سیکورٹی فورسز کا مستقل پہرہ نہیں تھا لیکن الشبیہہ کے جنگجو پورے علاقے میں پھیلے ہوئے تھے اور وہ فوجیوں سے زیادہ وحشی تھے۔ وہ سویدا کے ہر تاجر سے دو ہزار لیرا تک رشوت کے طور پر لیتے تھے۔ جب میں جنوبی علاقے میں داخل ہوا تو وہاں چیک پوائنٹس بنے ہوئے تھے اور جگہ جگہ ٹینک کھڑے تھے۔ یہاں روسی ساختہ بی ایم بی ٹینک تعینات تھے جو 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتے تھے۔ اس کے علاوہ یہاں ٹی۔82 ٹینک بھی تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس پورے علاقے میں کوئی جنگ ہورہی ہو۔ پورے درعا کو سینکڑوں ٹینکوں نے گھیرا ہوا تھا۔ ہر طرف ٹینک، سیکورٹی فورسز اور ان کے کتے دکھائی دے رہے تھے۔
’’اس علاقے میں کچھ دوسری طرح کے واقعات بھی ہوئے۔ آپ کو پتہ ہے کہ نوا اور جسیم کی صورتحال درعا سے مختلف تھی۔ نوا میں ایک معجزہ ہوا۔ نوجوان اپنی قمیضیں اتار کر گھروں سے باہر نکلے اور ٹینکوں اور نشانچیوں کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ موت کے ہرکاروں کے سامنے یہ ایک بہت بڑا مظاہرہ تھا۔دوسری جانب درعا میں ہر اس شخص کو گولی ماردی گئی جو مظاہرے میں شرکت کے لیے گھر سے باہر نکلا۔ درعا کے لوگوں نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے فرقہواریت کی بنیاد پر کہیں بھی تعصب کا مظاہرہ نہیں کیا۔ شہری، قبیلے اور فرقے سے قطع نظر وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے۔ بوڑھی عورتیں ٹینکوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئیں جو ان کے سامنے کھڑی ہوگئیں۔ ایک بوڑھی عورت حاجّہ ایک کلینک کے باہر کھڑی ہوگئی۔ اسے خوف تھا کہ فورسز کو اس خفیہ کلینک کا پتہ چل جائے گا۔ وہ باہر نکلی اور ٹینکوں کے آگے کھڑے ہوکر انہیں پیچھے دھکیلنے لگی۔ ٹینکوں میں بیٹھے ہوئے فوجیوں نے اس کو کچل دینے کی دھمکی دی۔ ٹینکوں میں بیٹھے ہوئے سپاہیوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ بوڑھی خاتون نے زمین سے پتھر اٹھائے اور ٹینکوں کو مارنے لگی۔ اس وقت دور دور تک کوئی تماشائی نہیں تھا لوگ چھپ کر دم سادھے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ ٹینکوں کے ساتھ الشبیہہ کے غنڈے بھی تھے۔ جب انہوں نے اس علاقے میں ایک بوڑھی عورت کے سوا اور کسی کو نہیں پایا تو وہیں سے واپس لوٹ گئے۔ اس طرح اس بوڑھی عورت نے اس کلینک کو ان کا نشانہ بننے سے بچالیا۔ آپ کو خبر ہے کہ کس چیز نے کام کے دوران مجھے سب سے زیادہ خوشی دی؟ میں انٹیوبیشن کا عمل کررہا تھا جو ایک طرح کا آپریشن ہوتا ہے جس میں ہم ایک شخص کے پھیپھڑوں میں ٹیوب ڈالتے ہیں تاکہ وہ سانس لے سکے اگر اس کا دل کام کرنا بند کردے۔ چنانچہ بظاہر مردہ لوگ جب دوبارہ سانس لینا شروع کرتے تھے تو یہ میری زندگی کے سب سے زیادہ خوش کن لمحات ہوتے تھے۔ آپ کو پتہ ہے کہ میں اب بری طرح تھک چکا ہوں۔ اس قسم کی گفتگو کرنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔ لیکن میں آپ کو ایک بات اور بتانا چاہتا ہوں یہاں دمشق میں ہر ہسپتال کے باہر ایک سیکورٹی اہلکار کھڑا ہے۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر کوئی مریض یا زخمی اندر نہ جاسکے۔ وہ کلیئرنس دیتا ہے تو مریض اندر جاسکتے ہیں۔ ابن النفیس اسپتال پر بھی ایسی ہی سیکورٹی لگی ہوئی ہے‘‘۔
20مئی 2011 :
گزشتہ بہت سے دنوں سے زیادہ اس جمعہ کو میں نے خود کو آزاد محسوس کیا کیونکہ میری نگرانی کرنے والے سیکرٹ ایجنٹس موجود نہیں تھے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ہر سیکرٹ ایجنٹ مظاہروں کی نگرانی کے لئے ڈیوٹی پر تھا۔ مظاہرین نے آج کے دن کو یوم آزادی قرار دیا تھا۔ درحقیقت یوم آزادی کرد اور فارسی زبان کا لفظ تھا اور کرد بھی اس جدوجہد میں شریک ہوگئے تھے۔بشار الاسد کی حکومت نے کردوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے انہیں شام کی قومیت دینے کا اعلان کیا لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔کرد بہت بڑی تعداد میں ان حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کے لئے گھروں سے نکل پڑے۔قمیشلی اور عمودہ میں ہونے والے مظاہروں میں کرد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔اس دوران فیس بک پر میرے بارے میں سیکڑوں ریمارکس دئے گئے جو زیادہ تر علویوں اور حکومت کے نام نہاد حامیوں نے دئے تھے۔ ظاہر ہے کہ حکومت کی جانب سے محکمہ اطلاعات کا کوئی پورا شعبہ اس کام کے لئے مامور کردیا گیا تھا جو پروپیگنڈے کے کام میں مصروف تھا۔عام لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ طویل خطوط اور مضامین بشار الاسد کے مخالفین کے خلاف شائع کرائیں۔ فیس بک پر میرے خلاف گالیوں اور مخالفا نہ مواد پر مشتمل مضامین کی بھرمار تھی۔ تنگ آکر میں نے ان کا جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اپنے فیس بک کے صفحے پر لکھا:
’’اگر مجھے سچ بولنے کی قیمت اپنی جان دے کر اداکرنی پڑے تو میں اس کے لئے تیار ہوں۔ میں نہیں کہتی کہ مجھ پر تنقید نہ کی جائے لیکن جب تنقید گالیوں کے زمرے میں داخل ہونے لگے تو اسے تنقید نہیں ہرزہ سرائی کہتے ہیں۔ شام میں جو خون بہہ رہا ہے اور حکمراں اس دوران جو کردار ادا کررہے ہیں اور اسے جو رنگ دے رہے ہیں اسے کسی نہ کسی کو غیر جانبداری اور انصاف کے ساتھ سب کے سامنے لانا چاہیئے۔ حکومت جمہوری تحریک کو فرقہ واریت کا رنگ دے رہی ہے اور مذہبی جذبات کو بھڑکا کر تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش کررہی ہے۔پوری پوری آبادیوں کو جمہوری اختلاف رائے کرنے پر سازشی قرار دے کر اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ خاص طور پر جو علوی جمہوری تحریک کی حمایت کررہے ہیں جن میں میں بھی شامل ہوں ان کو سیاسی مخالفت کی وجہ سے غدار قرار دینا جمہوری طرز عمل نہیں۔ لوگوں کے مذہبی جذبات کو ابھار کر تحریک کا رخ موڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ آگ بھڑکنے کے بعد کبھی ٹھنڈی نہیں ہوسکے گی اور حق اور سچ کی حمایت کرنے والے تو اپنی جانیں دے ہی رہے ہیں لیکن ناحق کی حمایت کرنے والوں کے گھر بھی اس آگ سے محفوظ نہیں رہیں گے‘‘۔

گزشتہ دنوں ایک انتہائی خوفناک واقعہ میرے علم میں آیا۔میرا ایک قریبی دوست اس کا عینی شاہد تھا۔ اس کا کہنا تھا:’’تشرین ملٹری ہسپتال میں لاشیں آرہی تھیں۔ ان کے ساتھ معمولی اور زیادہ شدید زخمی بھی یہاں لائے جاتے تھے۔ ایک معمولی زخمی نوجوان ایک بستر پر زیر علاج تھا۔ میں اس کے برابر والے بستر پر کھڑا تھا کہ ایک شامی فوجی افسر سادہ لباس میں وہاں آیا۔ اس نے زخمی نوجوان کو جگایا اور اس سے بات چیت کرنے لگا۔ پہلے میں سمجھ نہ پایا کہ کیا بات ہورہی ہے؟ لیکن جب فوجی افسر نے اس سے دریافت کیا کہ تم کو کس نے گولی مار کر زخمی کیا تو میں اس جانب متوجہ ہوا۔نوجوان نے اس بات کا جواب دینے کے بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔اس کے خاموش رہنے پر فوجی افسر بولا،’’ تم کو گولی کا نشانہ بنانے والے مسلح گینگ تھے‘‘۔ نوجوان نے اثبات میں سر نہیں ہلایا اور خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ فوجی افسر نے زخمی نوجوان پر زور دیا کہ سرکاری ٹیلیویژن کا رپورٹر اور کیمرا مین ابھی آئیں گے اور وہ ان کو بتائے گا کہ اسے گولی مار کر زخمی کرنے والے مسلح گینگسٹرز سے تعلق رکھتے تھے۔ نوجوان نے براہ راست فوجی افسر کی آنکھوں میں دیکھا اور بولا ،’’ نہیں! مجھے زخمی کرنے والے شامی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے‘‘۔ فوجی افسر نے سخت لہجے میں اپنا بیان دہرایا اور بولا ،’’نہیں! تم کو یہ بتانا ہے کہ تم پر حملہ کرنے والے کوئی مسلح گینگسٹرز تھے‘‘۔ نوجوان نے دوبارہ کہا کہ اسے شامی سیکیورٹی فورسز نے گولی کا نشانہ بنایا تھا۔ نوجوان نے یہ بات مسلسل تین مرتبہ کہی جبکہ فوجی افسر اس پر مسلسل زور دیتا رہا کہ اپنا بیان دے کہ اسے شامی سیکیورٹی فورسز نے نہیں بلکہ کسی مسلح گینگ نے گولی ماری۔ نوجوان کے مسلسل انکار پر فوجی افسر کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ وہ اچانک اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہوا، اپنے ہولسٹر سے پستول نکالا اور اس کی نال نوجوان کی پیشانی پر رکھ دی اور بولا،’’کس نے تم کو گولی کا نشانہ بنایا؟‘‘۔ نوجوان نے خوفزدہ ہوئے بغیر کہا،’’سیکیورٹی فورسز نے‘‘۔ فوجی افسر نے پستول کی لبلبی دبا دی، فائر ہوا۔ نوجوان اپنے خون میں نہایا ہوا بستر پر گر گیا۔ فوجی افسر نے پستول واپس ہولسٹر میں رکھا اور اطمینان سے کمرے سے باہر نکل گیا‘‘۔(جاری ہے)
7 جون 2011
گزشتہ چند دنوں سے میں زندگی اور موت کے درمیان معلق تھی۔ میرے اعصاب ٹوٹ کر بکھر رہے تھے۔ مجھے لگتا تھا کہ کس وقت بھی میرا نروس بریک ڈاؤن ہوجائے گا۔ میں خوعاب آور گولیوں کے بغیر سو نہیں سکتی تھی لیکن ان گولیوں کے مسلسل استعمال سے دوسرے مسدائل پیدا ہورہے تھے اس لئے میں نے نیند لانے والی گولیوں کے استعمال کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔گزشتہ چند دنوں میں میں بہت سے گروپس سے ملی جن میں نوجوان، بوڑھے، عورتیں اور لڑکیاں سب ہی شامل تھے۔ ان میں سے کوئی بھی خاموش تماشائی رہنا نہیں چاہتا تھا اور اس تحریک کا حصہ بننے کا خواہش مند تھا۔۔ ہر ایک کو اپنی ذمہ داری کا سخت احساس تھا لیکن کسی سیاسی کارروائی کے لیے کوئی طریقہ عمل موجود نہیں تھا۔ وہ تمام لوگ جو ایک جمہوری سیاسی تحریک کو منظم کرنا چاہتے تھے بدترین حالات سے دوچار تھے۔ لوگ شام کے شہروں میں مکھیوں کی طرح مررہے تھے اور ہم ایک ایسی تحریک منظم کرنے کی کوشش کررہے تھے جس کے ذریعہ اس قتل عام کے خلاف آواز بلند کی جاسکے لیکن اب کوئی دن نہیں گزرتا تھاجب قتل و غارت گری کی خبریں نہ آتی ہوں۔ میں آج ایک نوجوان کا انٹرویو ٹرانسکرائب کرنے کے لیے بیٹھی۔ اس کا تعلق درعا کے اے زیڈ خاندان سے تھا۔( خاندان کے افراد کی جانوں کی حفاظت کی غرض سے میں ان کے نام نہیں لکھ رہی)۔ میں اس نوجوان سے صرف ایک مرتبہ ملی۔ مجھے اس کے بعد اس سے مزید ملاقاتیں کرنے کی ضرورت تھی۔ لیکن درعا میں حالات اس طرح بگڑ گئے کہ میرا اس سے دوبارہ ملنا ناممکن ہوگیا۔ پہلی ملاقات میں اس نے مجھے بتایا کہ بنیاس میں احتجاجی تحریک کا آغاز کس طرح ہوا؟ اور اس تحریک کو کس طرح کچل دیا گیا؟ آج سے دو دن پہلے مجھے خبر ملی کہ اے زیڈ خاندان کے اس نوجوان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ لیکن اس کی گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی اور اس کے معنی اس کے سوا کچھ نہیں تھے کہ اب اس کی زندگی محفوظ نہیں تھی اور شاید میں اس سے دوبارہ کبھی نہ مل سکوں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہزاروں گمشدہ افراد میں شامل ہوگیا ہو جن کو سرکاری اہلکاروں یا الشبیہہ کے غنڈوں نے اغوا کر کے غائب کردیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ مجھے خاص طور پر درعا کے حالات سے دلچسپی تھی۔ اسی وجہ سے میں نے درعا سے تعلق رکھنے والے بہت سارے افراد کے انٹرویو کیے تھے۔ یہوہ خطہ تھا جہاں سے انقلاب کی چنگاری نے جنم لیا تھا اور شعلہ بن گئی تھی۔ یہ نوجوان 20 سے زیادہ عمر کا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس پر ’’عسکری مخابرات‘‘ کی جانب سے اپوزیشن سے تعلق رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یہ شامی انٹیلیجنس کا ادارہ تھا۔ اس نوجوان کو کئی مرتبہ اغوا کیا گیا۔ اس کی سخت توہین کی گئی اور مارا پیٹا گیا۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ کیا وہ تمام واقعات تفصیل سے بتاسکتا ہے؟۔ دکھ اور غم اس کے لہجے پر غالب تھا لیکن اس کے باوجود وہ بے حد پرسکون تھا۔ اس نے بتانا شروع کیا، ’’18 مارچ 2011 کو بہت سے لوگ عاطف نجیب کے پاس اپنے بچوں کی رہائی کا مطالبہ لے کر گئے۔ اس نے جواب میں کہا، ’اپنے بچوں کو بھول جاؤ۔ اپنی بیویوں کے پاس جاؤ اور نئے بچے پیدا کرو۔ اس کے بعد انہیں میرے پاس لاؤ تو میں ان کا وہی حشر کروں گا جو میں نے پچھلے بچوں کا کیا تھا‘۔ لوگ مایوس ہو کر واپس آگئے۔ درعا کے شہریوں میں یہ خبر تیزی سے پھیل گئی۔ ان کے درمیان اتفاق رائے ہوا کہ وہ 18 مارچ کو العمری مسجد اور کچھ دوسری مسجدوں کے سامنے سے اپنے مظاہروں کا آغاز کریں گے۔ وہ مسجدوں کے سامنے آزادی آزادی کے نعرے لگاتے جمع ہوئے۔ یہ مظاہرے جاری تھے کہ نیو الاسد سٹی کے نئے میونسپل اسٹیڈیم میں 16 ہیلی کاپٹرز اترے۔ عاطف مجید نے ان ہیلی کاپٹروں سے اترنے والے شامی فوجیوں سے کہا کہ درعا میں بغاوت ہوگئی ہے۔ ان اہلکاروں کا تعلق انسداد دہشت گردی یونٹ سے تھا۔ یہ اہلکار پورے درعا میں پھیل گئے۔ ان کے ساتھ بلتاجیہ (Baltajiyyeh) بھی تھے۔ ان کی تعداد ہزاروں تھی۔ جب مظاہرین وادی سے گزر رہے تھے تو ان پر پہلے واٹر کیننز کے ذریعہ پانی مارا گیا اور اس کے بعد فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ ہلاک شدگان میں دو معززین محمود جوابرا اور حسام عیاش بھی شامل تھے۔ اس جمعہ کو کوئی گرفتاریاں نہیں ہوئیں۔ اگلے دن 19 مارچ کو چھ بجے صبح لوگ دوبارہ باہر نکلے۔ وہ جنازے پڑھنے کے لیے مسجدوں میں جمع ہوئے۔ جنازے کے بعد ہزاروں افراد قبرستانوں تک ساتھ گئے۔ تدفین کے بعد شیخ احمد السیاسینہ نے مائیکروفون کے ذریعہ لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں پرسکون رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے بتایا کہ حکام نے آئندہ 24 گھنٹوں میں تمام بچوں کو رہا کردینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس دوران ایک نوجوان اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے چیخ کر کہا ’شہیدوں کا خون تمہارے سروں پر ہے‘۔ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے عاطف مجید کے خلاف نعرے لگائے اور گورنر کے استعفی کا مطالبہ کیا۔ یہاں سے نوجوانوں کا بہت بڑا مجمع العمری مسجد گیا لیکن وہاں انسداد دہشت گردی، پولیس اور بلتاجیہ (ٹھگوں) نے راستہ روک رکھا تھا۔ وہ ہم سے صرف 100 میٹر دور تھے۔ یہاں بھی شیخ محمد ابو زید نے لوگوں کو پرسکون رہنے کی تلقین کی۔ لیکن مجمع کچھ سننے کو تیار نہیں تھا۔ ہم وہاں بہت دیر تک کھڑے رہے۔ کافی دیر کے بعد حکومت کا حامی ایک معزز شخص ایمن الزوبی آیا۔ اس کا تعلق درعا کے اشرافیہ سے تھا۔ نوجوانوں نے جو سخت غصے میں تھے اس کو مارنا پیٹنا شروع کردیا۔ اس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کے گولے ہم پر برسانا شروع کردئے۔ مجمع سخت اشتعال میں تھا۔ اس کے فوراً بعد فائرنگ شروع ہوگئی۔ عاطف نجیب اور گورنر بھی وہاں موجود تھے۔ لیکن مجمع کا غصہ دیکھ کر وہ ایک موٹر سائیکل پر بیٹھ کر فرار ہوگئے۔ جب سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ میں شدت آئی تو ہم سب ہائے الکرک کی جانب پسپا ہونے لگے ۔ آنسو گیس کے گولے بھی مسلسل گر رہے تھے۔ ہم نے سیکیورٹی فورسز کا راستہ روکنے کے لیے سڑک پر ٹائر جمع کیے اور انہیں آگ لگادی۔ ہم رات کے آٹھ بجے تک وہاں رکے رہے۔ اس کے بعد سیکیورٹی فورسزکی جانب سے زبردست فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں پورا مجمع تتر بتر ہوگیا۔ 20 مارچ کو درعا البلاد کے لوگ باہر آئے اور انہوں نے دوسرے شہریوں پر سخت تنقید کی کہ وہ ان کے ساتھ باہر نہیں نکلے۔ اس دن بھی مظاہرین کا استقبال آنسو گیس اور فائرنگ سے کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو چاروں طرف سے گھیرلیا تھا۔ مظاہرین نے سیکیورٹی فورسز پر زبردست پتھراؤ کیا اور وہ پیچھے ہٹ گئی۔ اس دوران کچھ لوگوں نے سیریا ٹیل سینٹر کو آگ لگادی اور لوٹ مار کی۔ انہوں نے پوری عمارت کو نذر آتش نہیں کیا بلکہ صرف ’’رامی مخلوف‘‘ کو آگ لگائی۔ انہوں نے آلات باہر نکالے اور انہیں جلا دیا۔ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجمع نے اس عمارت کو آگ نہیں لگائی۔ اس عمارت کو آگ لگانے والے سیکورٹی فورسز کے لوگ تھے۔ آگ بجھانے والا عملہ وہاں نہیں آیا۔ آگ لگانا ایک خاص مقصد کے تحت تھا۔ سیکورٹی فورسز گورنر کے محل میں جمع تھیں۔درعا حالت جنگ میں تھا۔ ان جھڑپوں میں درجنوں لوگ زخمی ہوئے۔ اس دوران سیکورٹی فورسز نے ایک ہسپتال پر قبضہ کرلیا۔ جو زخمی وہاں لایا جاتا اس کو یا تو گرفتار کرلیا جاتا یا اس کو گولی ماردی جاتی۔ خون کے عطیات دینے پر پابندی تھی۔ ایک فلسطینی خون کا عطیہ دینے وہاں پہنچا تو سیکورٹی فورسز نے اسے موقع ہی پر گولی مارکر ہلاک کردیا‘‘۔ یہ ساری کہانی سن کر میری انگلیاں کانپنا شروع ہوگئیں۔ میں اپنی اس حالت کے بارے میں اچھی طرح جانتی تھی۔ ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا تھا کہ میں ایسے کسی انٹرویو کی ریکارڈنگ کو بغیر روئے یا لرزے مکمل کرسکوں۔ ایسے موقع پر میں اکثر یہ سوچنے لگتی تھی کہ کاش میں ایک عام سی عورت ہوتی۔ میں اس نوجوان کا انٹرویو کررہی تھی جس کا تعلق اس شہر سے تھا جہاں سے انقلاب کا آغاز ہوا تھا اور اس نوجوان کو بعد میں سیکورٹی فورسز نے غائب کردیا تھا۔ اس کے ہر ہر لفظ سے خون ٹپک رہا تھا۔ نوجوان نے اپنی بات جاری رکھی۔ ’’ہم 21 مارچ کی صبح بیدار ہوئے تو ہمیں پتہ چلا کہ سیرائل کو آگ لگادی گئی ہے۔ ہم فوجی چیک پوائنٹ اور ریت کی بوریوں سے بنی ہوئی رکاوٹیں دیکھ کر حیران ہوئے۔ پورے علاقے میں سیکورٹی فورسز پھیلی ہوئی تھیں۔ شہر کے ہر حصے سے لوگ نکل کر العمری مسجد پہنچ رہے تھے۔ انہوں نے مسجد کے باہر خیمے لگادیے۔ ہر طرف بینر ہی بینر نظر آرہے تھے جن پر قیدیوں اور بچوں کی رہائی کے مطالبات تحریر تھے۔ اس کے ساتھ ہی آئین کے آرٹیکل آٹھ کی تنسیخ کا مطالبہ بھی کیا جارہا تھا۔ لوگ مطالبہ کررہے تھے کہ تمام قیدی خواتین کو رہا کیا جائے اور قاتلوں کو گرفتار کر کے سزا دی جائے۔ بدھ 23 مارچ کو اس شہر میں بڑے پیمانے پر قتل عام ہوا۔ سیکیورٹی فورسز اور فوج العمری مسجد کے اندر داخل ہوگئی اور فائرنگ کی۔ سات افراد شہید ہوئے۔ سیکورٹی فورسز نے تمام خیمے اکھاڑ دیے اور باہر لگی ہوئی شہیدوں کی تصویریں پھاڑ دیں۔ جو شہری باہر نکلتا اسے گولی ماردی جاتی۔ ایک جگہ کچھ نوجوان جمع ہوئے تو سیکورٹی فورسز نے انہیں گھیرلیا اور ان کو چن چن کر ہلاک کرنا شروع کیا۔ ان میں سے بہت سوں کو گردن پر گولی ماری گئی۔ ان تمام واقعات کے بعد کسی کی ہمت نہیں تھی کہ وہ گھروں سے باہر نکلتا۔ قرب و جوار کے دیہاتوں میں یہ خبر پہنچی کہ شہر میں کیا ہوا ہے؟ وہ شہریوں کی مدد کے لیے گھروں سے نکل پڑے۔ ان کا تعلق مشرقی دیہات سے تھا۔ وہ درعا کے مغرب میں پوسٹ آفس کے قریب ریلوے اسٹیشن پر جمع ہوئے۔ یہاں بعث پارٹی کا دفتر بھی تھا۔ جب وہ آگے بڑھے تو ان پر فائرنگ شروع ہوگئی۔ ایک خبر کے مطابق اس کے نتیجے میں 70 افراد ہلاک ہوئے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد 200 سے کم نہیں تھی۔ چاروں طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں جن میں سے بہت سے ناقابل شناخت تھیں۔ ہم بعد میں بھی اس علاقے میں جاتے رہے جہاں مرنے والوں کے خالی جوتے دور دور تک پھیلے ہوئے تھے اور زمین ان کے خون سے سرخ تھی۔ یہ درست معنوں میں شہریوں کا قتل عام تھا۔ جمعرات 24 مارچ کو نوجوان ایک مرتبہ پھر گھروں سے باہر نکل آئے۔ انہوں نے شہیدوں کی لاشیں جمع کیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی شروع کی۔ مسجد میں اس وقت تمام شہری جمع تھے۔ وہ سخت صدمے کی حالت میں تھے۔ ان کی اپنی فوج اور پولیس نے ان کے ساتھ جو کچھ کیا تھا اس کا ان کو ابھی تک یقین نہیں آتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے کسی بیرونی حملہ آور نے ان شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد کوئی ایک لاکھ نوجوان مسجد سے باہر نکلے۔ وہ ننگے پیر تھے اور انہوں نے احتجاجاً اپنی قمیضیں اتار رکھی تھیں۔ سیکورٹی فورسز نے ان پر فائرنگ شروع کردی۔ نوجوانوں نے جو بالکل نہتے تھے قرب و جوار کے گھروں میں پناہ لی۔ اس دوران سیکورٹی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں درجنوں افراد لاپتہ ہوگئے۔ اب تک ان کے بارے میں یہ پتہ نہیں چل سکا کہ وہ زندہ تھے یا مرچکے تھے۔ موت کے اس گرم بازار اور لوگوں کی گرفتاریوں کے باوجود لوگ انتہائی بہادری کا مظاہرہ کررہے تھے۔ اس موقع پر میرے والد نے کہا کہ ’میں اپنے سب بیٹوں کو اس جہاد میں شہید دیکھنے کا خواہشمند ہوں‘‘۔ اس کے بعد بوسینا شعبان نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں پرسکون رہنے کی تلقین کی۔ وہاں ایک شادی کی تقریب تھی۔ اس تقریب میں لوگوں نے صدر کی تصویریں اٹھائی ہوئی تھیں۔ اس تقریب میں بعث پارٹی کے ممبران صدر کی حمایت میں نعرے بلند کررہے تھے۔ دوسری جانب عام شہری اپنے بچوں کا غم منا رہے تھے۔ جب مسجد سے سیکورٹی فورسز کے افراد باہر نکلے تو ہر چیز تباہ ہوچکی تھی۔ مسجد کے اندر دیواروں پر فارسی میں نعرے درج کیے گئے تھے۔ میں نے اس قسم کی داڑھیوں والے لوگ شام میں نہیں دیکھے تھے۔ یہ سب لوگ چہروں سےغیرملکی لگتے تھے۔ بعد میں لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے دو نشانچیوں میں سے ایک کو زندہ پکڑلیا۔ جب اس سے پوچھ گچھ کی گئی تو پتہ چلا کہ وہ غیرملکی تھا اور اسے عربی زبان نہیں آتی تھی۔ اس شخص کا تعلق ایک پڑوسی ملک سے تھا۔
25 مارچ کو لوگ بہت بڑی تعداد میں شہدا کی نماز جنازہ کے لیے العمری مسجد پر جمع ہوئے۔ کم از کم دو لاکھ افراد شہیدوں کی نماز جنازہ پڑھنے آئے تھے۔ لوگ چاہتے تھے کہ وہ گورنر ہاؤس کے سامنے جمع ہو کر مظاہرہ کریں۔ سکورٹی فورسز اور فوج کے ذمہ داران نے وعدہ کیا کہ شہریوں کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ بوسینا شعبان نے خود کہا کہ وہ مظاہرین پر فائرنگ نہیں کریں گے۔ لوگوں کا مجمع ایک آواز ہو کر نعرے لگا رہا تھا ’’ہم اس حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں‘‘۔ جمع نعرے لگا رہا تھا ’’تم اتنے بہادر ہو تو اپنے لوگوں کو جنگ لڑنے کے لیے گولان کیوں نہیں بھیجتے؟ نہتے شہریوں پر گولیاں کیوں چلاتے ہو؟‘‘ مظاہرے کے دوران ہم کو خبر ملی کہ السنامیان میں قتل عام ہوا ہے اور 20 افراد کو شہید کردیا گیا ہے۔ جب اس خبر کی تصدیق ہوئی تو لوگ غصے سے پاگل ہوگئے۔ انہوں نے صدر بشارالاسد کی تصویریں پھاڑنا شروع کردیں۔ انہوں نے صدر کا ایک مجسمہ توڑ کر گرادیا۔ اس کے بعد گورنر کے محل سے بھاری فائرنگ شروع ہوگئی۔ وہاں کئی نشانچی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ مظاہرے میں شریک تھیں۔ جب فائرنگ ہوئی تو لوگ اسی جگہ منجمد ہوکر رہ گئے جہاں کھڑے تھے۔ تاہم اس دوران مجمع نے صدر بشارالاسد کے مجسمے کو گرا کر آگ لگادی۔ فائرنگ دو گھنٹے تک جاری رہی۔ لوگوں نے گورنر ہاؤس پر حملہ کیا تاکہ ان نشانچیوں پکڑیں جو مظاہرین کو گولیاں کا نشانہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے گورنر ہاؤس کو بھی آگ لگادی۔ یہ آگ کئی گھنٹے تک بھڑکتی رہی۔ لوگ جانتے تھے کہ حکومت کی جانب سے ان کے خلاف سخت کارروائی ہونے والی ہے لیکن وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں گئے اور انہوں نے گورنر ہاؤس کے چاروں طرف ٹائر پھیلاکر آگ لگادی۔ جمعرات 31 مارچ کو مقامی نمائندگان نے درعا کے لوگوں سے بات چیت کی اور انہیں صدر سے گفتگو کرنے پر آمادہ کیا۔ ہشام بختیار نے 15 افراد کا انتخاب کیا جبکہ لوگوں کے دس نمائندے وفد کے لیے منتخب کیے گئے۔ جب یہ وفد صدر سے بات چیت کے لیے جارہا تھا تو خواتین نے حکومت کے حامیوں سے کہا ’’معصوم شہریوں کا خون تمہارے ہاتھوں پر بھی ہے‘‘۔ یہ وفد صدر سے جاکر ملا اور دوپہر کے بعد واپس آیا۔ جب ڈاکٹر ہشام المحیمد صدر سے ملے تو انہوں نے کہا ’’آپ کے حکم پر میرے بھائی کو گولی مار کر شہید کیا گیا ہے۔ آپ کی سیکورٹی فورسز شہریوں کا قتل عام کررہی ہے‘‘۔ صدر بشار نے اس ملاقات میں نہایت ہمدردانہ اور نرم رویہ اختیار کیا۔ سیکورٹی فورسز نے اس علاقے میں جو تباہی اور بربادی پھیلائی تھی اور جس طرح شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا اس کی ویڈیوز اور تصویریں اس وفد کے پاس تھیں۔ وفد نے یہ تمام تصویریں صدر بشارالاسد کو دکھائیں۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ ’’مجھے ایسا کوئی تصور نہیں کہ اس علاقے میں یہ سب کچھ ہوتا رہا ہے اور سیکورٹی فورسز شہریوں کے ساتھ انتہائی بدسلوکی کرتی رہی ہیں‘‘۔صدرنے وفد سے وعدہ کیا کہ وہ بہت جلد فوج اور پولیس کو واپس بلالیں گے۔ وعدے کے مطابق حکومت نے فوج کو واپس بلالیا۔ تمام بچوں اور قیدیوں کو رہا کردیا گیا لیکن یہ سب ایک نیا جال تھا جو پھیلایا گیا تھا کیونکہ ہمیں بعد میں یہ پتہ چلا کہ یہ صدر ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے شہریوں پر گولی چلانے کا حکم جاری کیا تھا‘‘۔ نوجوان اچانک چپ ہوگیا لیکن اس کی آنکھیں بدستور میری نوٹ بک پر جمی ہوئی تھیں۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے دوبارہ بولنا شروع کیا:
’’جمعہ یکم اپریل کو ہمیں ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے ہم نے اپنی جدوجہد میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ قرب و جوار کے دیہاتوں سے لوگ جوق در جوق درعا پہنچ رہے تھے۔ حد یہ ہے کہ دمشق سے بھی بڑی تعداد میں لوگ درعا آئے۔ اس وقت شہر میں ایک بھی سیکورٹی ایجنٹ نظر نہیں آتا تھا۔ شہریوں کا مجمع سات لاکھ سے زیادہ تجاوز کرچکا تھا۔ اگرچہ اس دن انتہائی سخت گرمی تھی۔ لوگ سرکاری عمارتوں کی حفاظت کررہے تھے تاکہ ان کو توڑ پھوڑ کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ شہر میں ٹریفک پولیس بھی موجود نہیں تھی۔ لوگ امداد باہمی کے تحت شہر کی گلیاں صاف کررہے تھے اور کچرا اٹھا رہے تھے۔ اگرچہ شہر میں سیکورٹی فورسز موجود نہیں تھیں لیکن مکمل امن و امان تھا۔ لیکن جب لوگ جمعہ کی نماز کے لیے العمری مسجد میں جمع ہوئے اور نماز کی ادائیگی کے بعد باہر نکلے تو ان پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ فائرنگکرنے والے ٹھگ الشبیہہ کے غنڈے تھے۔ تحریک کے ایک لیڈر موسیٰ جمال ابو زید ٹانگ میں گولی لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے۔ لوگ انہیں العمری مسجد لے گئے جہاں زخمیوں کے علاج کے لیے کلینک قائم تھا۔ ابو زید ناصرف گولی لگنے سے زخمی تھے بلکہ آنسو گیس نے بھی ان کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ ان کی طبیعت اتنی زیادہ خراب تھی کہ کلینک میں موجود ڈاکٹروں نے کہا ’’ان کو کسی دوسرے ہسپتال لے جایا جائے جہاں مطلوبہ دوائیں اور علاج موجود ہو‘‘۔ موسیٰ جمال ابو زید نے کسی اور ہسپتال جانے سے انکار کردیا جس کے لیے شہر سے باہر نکلنا پڑتا۔ وہ ہر حال میں مظاہروں میں شریک رہنا چاہتے تھے۔ کچھ نامعلوم نشانچیوں نے ایک مرتبہ پھر مظاہرین پر فائرنگ کی۔ ایک گولی ابو زید کی گردن پر لگی اور وہ وہیں شہید ہوگئے۔ شہر میں اس طرح فائرنگ کی جارہی تھی کہ جگہ جگہ لوگ زخمی ہو کر گر رہے تھے اور ہلاک ہورہے تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ فائرنگ کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ الشبیہہ اورسیکورٹی فورسز کے لوگ تھے۔ اس جمعہ کو 20 سے زیادہ افراد شہید ہوئے۔زخمیوں کی تعداد شیکڑوں میں تھی۔ میرا ایک دوست بھی اس فائرنگ کا نشانہ بنا۔ سیکورٹی فورسز انتہائی شقاوت کا مظاہرہ کر رہی تھیں۔ جو گلیوں اور سڑکوں پر نظر آتا اسے گولی کا نشانہ بنایا جاتا۔ محمد احمد الرازی کالج میں لائبریری سائنس کا طالب علم تھا۔ جب وہ اپنے گھر سے نکلا تو اس نے دیکھا کہ سڑکوں پر جگہ جگہ لوگ زخمی پڑے ہیں۔ وہ زخمیوں کی دیکھ بھال کرنے لگا اور اس نے ان کی تصویریں بھی بنائیں۔ اس دوران اس کے پیٹ میں گولی لگی۔ وہ نیچے گر گیا اور اگر اسے بروقت ہسپتال پہنچادیا جاتا تو اس کی زندگی بچ جاتی لیکن سیکورٹی فورسز نے اسے ہسپتال نہیں پہنچنے دیا۔ بعد میں انہوں نے اس کا سر بھی قلم کردیا تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔25 اپریل کو شامی فوج نے درعا پر باقاعدہ حملہ شروع کیا۔ یہ حملہ رات کے وقت ہوا۔ شہر میں پہلے سے یہ افواہ پھیلی ہوئی تھی کہ سیکورٹی فورسز حملہ کرنے والی ہیں۔ لوگوں نے جگہ جگہ چیک پوائنٹس قائم کرنے شروع کردیے تھے اور حفاظت کے لیے کمیٹیاں بنادی تھیں۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ سیکورٹی فورسز ٹینکوں کے ساتھ شہر میں داخل ہوں گی۔ فوج آٹھ ٹینکوں کے ساتھ شہر میں داخل ہوئی۔ بجلی، ٹیلیفون اور موبائل فون کی تمام لائنیں کاٹ دی گئیں۔ انہوں نے شہر پر 17 گھنٹے گولہ باری کی۔ مزارب سے شہر کو پانی منتقل کرنے والے پمپنگ اسٹیشن کو تباہ کردیا گیا اور واٹر اسٹوریج ٹینکوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اب درعا میں 75 ہزار سپاہی تھے جبکہ پوری شامی فوج کی تعداد دو لاکھ تھی گویا ایک تہائی شامی فوج کو اس شہر میں بلالیا گیا۔ فوج اور سیکورٹی فورسز نے جب درعا پر حملہ کیا تو انہیں سادے لباس میں جنگجوؤں کی مدد بھی حاصل تھی۔ان جنگ جوؤں کا تعلق الشبیہہ سے تھا۔ انہوں نے گھروں کے دروازے توڑ دیے اور 15 سال سے 40 سال عمر کے تمام جوانوں کو گرفتار کر کے لے گئے۔ ان تمام لوگوں کو خاص طور پر گرفتار کیا گیا جنہوں نے اپنے گھروں کی چھتوں پر نشانچیوں کو چڑھنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ چنانچہ درعا میں گرفتار کیے جانے والے شہریوں کی تعداد دس ہزار سے زیادہ تھی۔ حکومت کی جانب سے مطلوب افراد کی ایک فہرست جاری کی گئی جن پر مظاہرے کرنے اور حکومت کے خلاف نعرے لگانے کے الزامات تھے۔ درعا میں کوئی گھر ایسا نہیں تھا جس پر گولیوں کے نشانات نہ ہوں۔ آٹھ دن میں پورا شہر کھنڈر بن کے رہ گیا تھا۔ لوگ شہر چھوڑ کر بھاگ رہے تھے کیونکہ تمام گھروں کی چھتوں پر نشانچیوں کا قبضہ تھا جو گلی میں نکلنے والے ہر شخص کو نشانہ بناتے تھے۔ یہ گھیراؤ اتنا سخت تھا کہ لوگوں کے لیے لاشوں کی تدفین مشکل ہوگئی اور لاشیں سڑنا شروع ہوگئیں۔ شہر میں صرف دو مردہ خانے تھے جن میں سے ایک المنشیہ میں اور دوسرا النببتا اسکوائر پر تھا اور دونوں مردہ خانے لاشوں سے بھرے ہوئے تھے۔ انتہا یہ ہے کہ لوگ ان مردہ خانوں کی حفاظت کے لیے بھی ہتھیار رکھنے پر مجبور ہوگئے تھے کیونکہ سیکورٹی فورسز مردہ خانوں سے لاشیں اٹھا کر لے جارہی تھیں۔ جب سیکورٹی فورسز تھوڑا پیچھے ہٹیں تو ٹینک آگے آئے جنہوں نے گولہ باری شروع کردی‘‘۔ نوجوان کا بیان یہاں مکمل ہوگیا تھا۔ میں امید کررہی تھی کہ اس سے میری دوبارہ ملاقات ہوگی کیونکہ میں یہ جاننا چاہتی تھی کہ اس بدترین محاصرے سے لوگ کس طرح بچنے میں کامیاب ہوئے اور بعد میں کیا کیا واقعات ہوئے لیکن یہ نوجوان دوبارہ نہ مل سکا۔ میں نے اس کے بارے میں لوگوں سے دریافت کرنا شروع کیا تو مجھے پتہ چلا کہ وہ سخت بیمار ہے۔ جب وہ جیل سے رہا ہو کر گھر آیا تو اس کی حالت انتہائی خراب تھی۔ اسے بدترین ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

5 × two =