شامی خاتون کی ڈائری قسط نمبر2

شامی خاتون کی ڈائری

قسط نمبر2

30 اپریل 2011
شام کے تمام شہر محصور اور گھیراؤ کی حالت میں تھے۔ تمام شہروں میں پانی اور بجلی کی فراہمی جانبوجھ کر بند کردی گئی اور ایک زبردست انسانی المیہ واقع ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ لوگ فاقہ کشی کا شکار تھے اور بچے بھوک سے بلک رہے تھے۔ دنیا بھر کو مدد کی اپیلیں کی جانے لگی تھیں۔ جو لوگ حکومت سے خوراک کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ان کا استقبال گولیوں سے کیا جاتا۔ صبح کے وقت میں اپنے ایک دوست سے ملنے بنیاس گئی۔ مجھے امید تھی کہ اس سے مجھے صحیح بات معلوم ہوسکے گی۔ وہ کہیں باہر گیا تھا اور اپنے گھر پر نہیں تھا لیکن اس کی بیوی نے بتایا کہ وہ تھوڑی دیر میں آجائے گا۔ بنیاس میں ایک پرامن مظاہرہ جاری تھا جس میں علوی اور سنی دونوں شریک تھے۔ میرا یہ دوست المیزہ میں ایک چھوٹے سے گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ خود وکیل تھا لیکن اس کی بیوی سرکاری ملازم تھی۔ وہ میرا ایک بہت پرانا دوست تھا۔ وہ بھی اسی طرح اپنی برادری کی جانب سے شدید دباؤ کا شکار تھا جیسے دباؤ کا شکار میں خود تھی۔ وہ خود علوی تھا اور بنیاس کے علوی میری طرح اس کو بھی سازشی تصور کرتے تھے۔ جب میں میزاہ میں داخل ہوئی تو خوف سے میری حالت بری تھی۔ میں جانتی تھی کہ یہاں کے رہنے والے زیادہ تر علوی ہیں۔ یہاں صدر حافظ الاسد کے بھائی رفعت کا کنٹرول تھا جس نے ڈیفنس بریگیڈ بنایا تھا۔ اس بریگیڈ نے حامہ اور تذمر میں قتل عام کیا تھا۔ میں نے اپنی سہیلی سے کہا جو کار ڈرائیو کر رہی تھی کہ اگر انہیں پتہ چل جائے کہ میں کون ہوں؟ تو وہ ابھی میری تکا بوٹی کردیں۔ اس نے جواب میں کہا کہ تم ڈرو مت کیونکہ یہاں علویوں کے ساتھ ساتھ کرد بھی رہتے ہیں اور یہ کسی کو معلوم نہیں ہوگا کہ تم کون ہو؟ میں اتنی خوف زدہ تھی کہ خود کو اندر سے کمزور محسوس کررہی تھی۔ آج 50 عورتوں نے شامی پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرہ کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ درعا کا محاصرہ ختم کیا جائے۔ لیکن شامی سیکورٹی فورسز ان پر ٹوٹ پڑیں، انہیں مارا پیٹا اور بہت بڑی تعداد میں انہیں گرفتار کرلیا۔ درعا سے ابھی تک قتل و غارت گری کی خبریں آرہی تھیں۔ شہر پر فوج گولہ باری کر رہی تھی۔ چھ نئے افراد کو شہید کردیا گیا تھا اور ایک ریفریجریٹر سے ایک عورت اور اس کے بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ یہ تصویریں انٹرنیٹ پر جاری کردی گئی تھیں۔ان کے قاتل الشبہہ ملیشیا سے تعلق رکھتے تھے۔ ایسی ہر خبر مجھے دہلا کر رکھ دیتی تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ اس حکومت کے گرنے سے پہلے آخر کتنے ہزار افراد کا خون بہے گا؟ فیس بک پر میرے صفحے کو ہیک کرلیا گیا تھا اور میری تمام رپورٹیں انہوں نے ڈیلیٹ کردی تھیں۔ صفحے پر یہ ریمارکس لکھ دیے گئے تھے کہ وہ میری بیٹی کو قتل کردیں گے کیونکہ وہ ایک غدار کی بیٹی ہے۔خوف سے میری حالت خراب ہونے لگی۔
میرے لئے مظاہروں تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہوگیا تھا۔ میں خود کو انتہائی کمزور محسوس کرتی تھی۔ بنیاس میں جو کچھ ہوا اسے تحریر کرنے کے لیے مجھے اپنی طبیعت پر بہت جبر کرنا پڑا۔ میرا ایک صحافی دوست جو درعا میں محصور تھا کسی نہ کسی طرح وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس نے مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ وہاں کے تمام حالات سے مجھے آگاہ کرے گا اور وہاں جس طرح قتل عام کیا گیا تھا اس کی رپورٹیں بھی مجھ کو دے گا۔ آج آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور موسم بہت اچھا تھا جو میرے موڈ کو درست کرنے کے لیے بہت کافی تھا لیکن مجھے ہر وقت خطرہ تھا کہ وہ اچانک میرے گھر میں گھس جائیں گے اور انہوں نے میری ویب سائٹ کو ہیک کرنے کے بعد میری بیٹی کے بارے میں جو دھمکیاں لکھی ہیں اس پر عمل درآمد کرنا چاہیں گے۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے دوست سے ملاقات میں زیادہ وقت نہیں لوں گی۔ آج دوپہر ہوتے ہوتے دمشق کا ماحول انتہائی کشیدہ ہوگیا۔ سڑکوں پر سیکورٹی کورسز کا راج تھا۔ فوج نے جگہ جگہ چیک پوائنٹ بنائے ہوئے تھے۔ تمام عمارتوں کی چھتوں پر نشانچی بیٹھے تھے۔ لوگ گھروں سے باہر نکلتے ہوئے خوف محسوس کرتے تھے۔ جو لوگ سخت مجبوری میں باہر نکل جاتے انہیں گھر واپسی کی جلدی ہوتی۔ مجھے اطلاع ملی کہ شہر میں مسلح افراد کچھ کاروں میں گھوم پھر رہے ہیں اور مختلف جگہوں پر فائرنگ کر کے لوگوں کو ہلاک اور زخمی کردیتے ہیں۔ وہ لوگوں کو شناخت کرنے کے بعد گولیاں نہیں مارتے بلکہ کوئی بھی شخص ان کی گولی کانشانہ بن سکتا ہے۔ ان کا مقصد صرف دہشت پھیلانا ہے۔ میں اپنے دوست سے ملنے اس کے گھر گئی جو ایک کمرے کے اپارٹمنٹ پر مشتمل تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں اس سے بہت زیادہ باتیں نہیں کرسکتی۔ لیکن وہ بنیاس کے واقعات کے بارے میں تمام بنیادی معلومات مجھے فراہم کرے۔ اس نے مجھے بتایا کہ مظاہرین بنیاس کی الرحمن مسجد میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ 8 مارچ کو جمعہ کی نماز کے بعد ان سے کہا گیا کہ وہ باہر نکلیں اور آزادی کے حق میںمظاہرہ کریں۔ مسجد سے 200 سے 300 کے درمیان افراد باہر نکلے۔ ان میں سے تین افراد کو پولیس نے فوراً ہی گرفتار کرلیا۔ انہیں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ مظاہرین ان کی رہائی کے لیے ان کے پیچھے بھاگے۔ اس دوران گلیوں سے غنڈوں کا ایک گروہ نکلا اور اس نے علویوں کی بسوں کو توڑنا پھوڑنا اور دکانوں کو لوٹنا شروع کردیا۔ مظاہرین نے انہیں غنڈہ گردی سے روکنے کی کوشش کی لیکن اس میں ناکام رہے۔ یہ غنڈے زیادہ تر سنی تھے اور ان کا کام ہی لوٹ مار کرنا تھا۔ ان کی لوٹ مار کی وجہ سے مظاہرے رک گئے۔ اس دوران علوی سیکورٹی فورسز نے شیعوں اور سنیوں کے درمیان نفرت پھیلانی شروع کردی۔ حکومت کی سرپرستی میں علوی غنڈوں کے گروہ اور شبیہہ ملیشیا کے جنگجو جو نفرت پھیلانے میں مہارت رکھتے تھے باہر نکلے اور انہوں نے ان سنی غنڈوں کے خلاف شورغل کرنا شروع کیا جنہوں نے علویوں کی دکانوں اور بسوں کو آگ لگائی تھی اور لوٹ مار کی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے علویوں اور سنیوں کے درمیان فساد پھیلتا چلا گیا۔ اگلے دن علویوں کی ایک تنظیم وائس آف الوائیٹس کی جانب سے سنیوں کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔ اس دوران سیکورٹی فورسز نے کچھ سنی لیڈروں کو گرفتار کرلیا تاکہ بحران پیدا کیا جاسکے۔ علویوں کو شہر کے میئر کی حمایت حاصل تھی۔ جس نے یہ عہدہ لاکھوں لیرا ادا کر کے حاصل کیا تھا۔ جب دونوں فرقوں کے لوگ آگے آئے اور انہوں نے فرقہ وارانہ امن قائم کرنے کے لیے بات چیت شروع کی تو کوئی دوسرے پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھا۔ تاہم ایک سنی عالم شیخ اے آئی کو عوام کو اعتماد حاصل تھا کیونکہ وہ ایک صوفی بزرگ تھا اور اسے ونر علوی دونوں پسند کرتے تھے۔ بنیاس کے لوگوں نے ایک تحریری خط شیخ اے کو دیا تاکہ وہ یہ خط حکومت کو پہنچا دے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا تھاکہ “تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ ایمرجنسی قوانین ختم کیے جائیں۔ نقاب پہننے والی خواتین کو ملازمت کرنے کی اجازت دی جائے۔ جہاں جہاں شریعہ اسکولوں کو بند کردیا گیا ہے انہیں کھولا جائے۔ عورتوں اور مردوں کے مخلوط اجتماعات پر پابندی لگائی جائے۔ عوام کو سیاسی آزادی دی جائے۔ بنیاس کی بندرگاہ کے سربراہ کو تبدیل کیا جائے کیونکہ اس نے غریب ماہی گیروں پر نئے ٹیکسز عائد کیے ہیں جن کا اسے اختیار نہیں تھا”۔
جس وقت میرادوست بنیاس کے حالات کے بارے میں بتا رہا تھا تو اسے دمشق سے نئی قتل و غارت گری کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ فوج کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ تفاس کے گاؤں سے 42 شہریوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ تفاس کا گاؤں در عا شہر کے نواح میں واقع ہے۔ ان لوگوں کو فوج کے پانچویں ڈویژن کے رہائشی بلاک کے قریب قتل کیا گیا۔ یہ لاشیں تشرین کے فوجی اسپتال پہنچائی گئیں۔ ان لاشوں کے سر اور سینے پر گولی کے نشانات تھے۔ ان میں سے بعض لوگ نشانچیوں کی گولی کا نشانہ بنے تھے لیکن زیادہ تر کو الشبیہہ کے غنڈوں نے اغوا کرکے قتل کیا تھا۔ مرنے والے زیادہ تر سنی تھے۔ یہ اتنی دہشت ناک خبر تھی کہ میرا دوست اور اس کی بیوی خاموش ہوگئے اور کچھ دیر چپ رہے۔ میری زبان بھی بند تھی۔ چند منٹ کے بعد ہم نے دوبارہ گفتگو شروع کی۔ ہماری بات چیت جاری تھی کہ میری بیٹی کاٹیلی فون آنے لگا۔ وہ بے حد خوفزدہ تھی۔ میں نے اس سے کہا کہ میں بہت جلد گھر واپس آجاؤں گی اور وہ دروازہ اندر سے بند کرلے اور کسی کے لیے دروازہ نہ کھولے۔ پھر میں نے اپنے دوست سے کہا کہ وہ اپنی کہانی جلد ختم کرے۔ اس نے بتانا شروع کیا کہ فوج کی جانب سے علویوں کے درمیان یہ خبریں پھیلائی جارہی ہیں کہ مظاہرہ کرنے والے سنی فرقہ پرست اور اسلامی بنیاد پرست ہیں۔ ثبوت کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ سنیوں کی عورتیں نقاب پہنتی ہیں(کیونکہ علوی آزاد خیال ہیں اور ان کی عورتیں نقاب نہیں پہنتیں)۔ سنی عورتوں کا تعلق زیادہ تر شریعہ کے کالجوں سے ہوتا ہے اور وہ مردوں کے ساتھ گھلنا ملنا پسند نہیں کرتیں۔ اس کے مقابلے میں علوی بہت زیادہ لبرل ہیں۔ اس نے بتایا کہ اگلے جمعہ کو ایک مظاہرہ ہوا جس میں ایک ہزار افراد شریک تھے۔ اگرچہ اس مظاہرے میں سنیوں کی اکثریت تھی لیکن علویوں کا ایک گروپ بھی شریک ہوا۔ ایک نوجوان علوی خاتون نے کھڑے ہوکر مظاہرین سے خطاب کیا اور اس نے کہا کہ وہ فرقہ پرستی کی مذمت کریں اور موجودہ حکومت سے آزادی کی حمایت کریں۔اس نے کہا کہ ہر قیمت پر موجودہ حکومت سے نجات پانے کے لیے سنیوں اور علویوں کو متحد ہو جانا چاہیئے۔ یہ پہلا موقع تھا جب بشارالاسد کی حکومت سے نجات کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ مطالبہ 15 مارچ کو کیا گیا۔ میرے دوست نے بتایا کہ “سرکاری ٹیلی ویژن کا دعویٰ ہے کہ البائدہ میں لوگوں کا قتلعام نہیں ہوا لیکن میں خود اس کا عینی شاہد ہوں”۔ اس کے چہرے پر مایوسی کے گہرے آثار تھے۔ اس نے کہا کہ ” ہم اس کہانی کو کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں”۔
’’پہلے میں البائدہ کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں۔‘‘ میں نے کہا۔ “سرکاری ٹیلی ویژن کا دعویٰ ہے کہ وہاں کوئی قتل عام نہیں ہوا”۔
۔ ’’وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔‘‘ اس نے کہا،” میں نے ناصرف اس کے آثار دیکھے بلکہ اس کی ایک وڈیو بھی میرے پاس ہے۔ انہوں نے البائدہ پر قبضہ کرنے کے بعد لوگوں کا قتل عام کیا، انہیں گرفتار کیا اور ان کی توہین کی۔ میرا خیال ہے کہ اس وڈیو میں جو کچھ دکھایا گیا ہے وہ اصل واقعہ کا بہت تھوڑا حصہ ہے”۔
’’تم اس بارے میں کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘، میں نے پوچھا۔ وہ بول،ا ’’ہر شخص جو فرقہ پرست نہیں ہے اس پر سازشی ہونے کا الزام لگادیا جاتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ بنیاس کے سنی علاقوں میں چار گھنٹے تک مسلسل گولہ باری کی گئی۔ جبکہ امدادی سامان مسجدوں میں جمع کیا گیا اور یہ دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ فائرنگ کرنے والے کون تھے؟ حالانکہ فائرنگ کرنے والے لوگ نشانچی تھے”۔
میں نے پوچھا کہ” کیا تم ان نشانچیوں کو جانتے تھے؟‘‘ وہ بولا، ’’ہر ایک کو معلوم ہے کہ ان نشانچیوں کا تعلق شبیہہ ملیشیا سے ہے۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے کچھ سنیوں نے بھی ہتھیار اٹھا لیے ہیں لیکن وہ کسی نہتے علوی پر کبھی فائر نہیں کرتے۔سنیوں نے ہمیشہ اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار اٹھائے۔ ہمیں اپنے یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ شام میں فرقہ واریت کی بدترین صورت حال بنیاس میں ہے۔ یہاں صورتحال انتہائی خطرناک ہے اس کے باوجود یہاں سنیوں اور علویوں کے درمیان ابھی تک کوئی فساد نہیں ہوا ہے۔ بنیاس میں رہنے والے سنیوں کا کہنا ہے کہ یہاں پر کوئی سنی سلافی نہیں رہتا۔ بنیاس کے لوگ کبھی فوج کے خلاف نہیں لڑے۔ یہ شبیہہ ملیشیا اور شامی فوج تھی جو علوی دیہات میں پہنچی اور ان میں ہتھیار تقسیم کیے”۔
میں نے پوچھا کہ “کس نے بسوں کے عملے اور فوجیوں پر گولی چلائی اور کس نے بسوں کو دھماکے سے اڑایا”۔
اس نے کہا، ’’ان کا کہنا ہے کہ بسوں کو دھماکے سے اڑانے والے دہشت گرد تھے لیکن یہ بسیں فوجیوں کو منتقل کر رہی تھیں۔ یہ بسیں انتہائی عجیب اور پراسرار حالات میں چلائی جارہی تھیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس جگہ پر یہ بسیں کیوں پہنچیں؟ کس نے ان بسوں کو وہاں سے گزرنے کا حکم دیا؟ ان بسوں نے اپنا راستہ کیوں تبدیل کیا؟ ظاہر ہے فوج کے اعلیٰ عہدیدار ان بسوں کو اس راستے پر لانے کے ذمہ دار تھے اور انہیں میں سے کسی نے فوجی عملے کو بسوں سے اترنے کا حکم دیا کیونکہ تمام فوجی ہتھیاروں سے مسلح تھے اور وہ یقیناًاپنے کسی افسر کے حکم کی تعمیل کر رہے تھے لیکن جب وہ بسوں سے اترگئے تو ان پر چاروں طرف سے فائرنگ کی گئی۔ کیا تمہیں پتہ ہے کہ بنیاس میں اس واقعے کی انٹلیجنس کے پانچ کارندوں نے تفتیش کی۔ انہوں نے فوج کے 23 ویں بریگیڈ کے فوجیوں اور افسروں سے پوچھ گچھ کی جو فضائیہ سے تعلق رکھتے تھے اور بنیادی طور پر انہیں بنیاس میں آئل ریفائنری اور بجلی گھر کی حفاظت کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ ان میں سے کچھ کا کہنا تھا کہ اس پورے معاملے میں ماہرالاسد کا کردار مشتبہ رہا ہے جو اسی فوجی ڈویژن سے وابستہ ہے۔ عام فوجیوں کا کہنا تھا کہ اسی نے فوجیوں کو اس راستے پر جانے کا حکم دیا۔ اور یہ شبیہہ کے جنگجو تھے جنہوں نے ان کو گھیر کر ان کا قتل عام کیا۔ بظاہر اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ علویوں کو یہ تاثر دیا جائے کہ سنیوں نے علویوں کی حفاظت کرنے والی فوج کا قتل عام کیا اور اس لیے ہر علوی سنیوں کے خلاف ہتھیار اٹھالے‘‘۔
مجھے دیر ہورہی تھی اور مجھے جلد سے جلد گھر پہنچنا تھا اس کے علاوہ گزشتہ دو دن کے واقعات کی رپورٹس تیار کرنا تھیں۔ آج کی اطلاعات یہ تھیں کہ سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ الزبندانی کا محاصرہ جاری تھا۔ درعا ابھی تک محصور تھا۔ گزشتہ دو دن میں شام کے شہروں میں مظاہرے ہوئے جن میں دمشق، دیار الزور، حمص، حاما، لطاکیہ، قمشلی، عمودہ، دریا اور الیپو شامل تھے۔ کچھ سرکاری اداروں کی ویب سائیٹس کو ہیک کرلیا گیا تھا۔ ان میں پیپلز اسمبلی اور ایک سرکاری اخبار تشرین کی ویب سائٹ شامل تھی۔ ان ویب سائیٹس پر ایک پیغام چھوڑ دیا گیا تھا جو یہ تھا ’’بعثیوں کے جرائمکھل کر سامنے آگئے”۔ اس کے بعد ان صفحات پر مظاہروں کی تصویریں اپ لوڈ کی گئی تھیں۔ دمشق کو آنے اور جانے والے تمام راستے بند تھے اور جگہ جگہ چیک پوائنٹس تھے۔ درعا میں ایک تصادم میں چار شامی فوجی ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد سیکورٹی فورسز نے ایک نجی کلینک پر چھاپہ مارا جہاں پر کئی زخمی نازک حالت میں داخل تھے۔ لطاکیہ کے نواحی علاقوں القلعہ اور علوینیہ میں صورتحال بہت خراب تھی۔ درجنوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا تھا۔ فوج نے لوگوں پر براہ راست فائرنگ کی۔ جس سے درجنوں لوگ ہلاک ہوئے۔ ایک گھر کی کھڑکی میں کھڑی ایک چھوٹی سی بچی کو بھی فوج کی چلائی ہوئی ایک گولی لگی۔ التال کے قصبے میں خواتین کی بڑی تعداد نے اپنے بچوں کی رہائی کے لیے مظاہرہ کیا۔ الزبندانی میں شہر کے گھیراؤ کے باوجود ہزاروں افراد احتجاج کرنے کے لیے گھروں سے باہر نکلے۔ شہر کو پانی، بجلی کی فراہمی معطل تھی اور ٹیلی فون لائنیں بھی کاٹ دی گئی تھیں۔ جبلہ میں گھیراؤ کے باوجود مظاہرے جاری تھے۔ الزریبہ اور الصلیبہ میں مسلسل فائرنگ کی گئی۔ سلامیہ میں سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کا حلقہ توڑنے کے لیے برقی پروڈز استعمال کیے۔ الرستان میں فوج کی فائرنگ سے تین افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ بنیاس کے شہریوں نے پھولوں کے گلدستے اٹھا کر مظاہرہ کیا۔ الرستان میں شہید ہونے والا شخص ایک نوجوان تھا جو اپنے والد کے شہید ہونے کے بعد اپنی ماں اور بہنوں کا واحد کفیل تھا۔ وہ اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے صبح سے رات تک کام کرتا تھا اور سب کو معلوم تھا کہ وہ دہشت گرد یا سلافی نہیں تھا۔ دوسرا شہید ایک ٹھیلے پر سبزیاں بیچا کرتا تھا جبکہ تیسرا شہید بھی ایک دکاندار تھا۔ وہ تینوں غریب لوگ تھے اور محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالا کرتے تھے۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ سنی تھے۔ فائرنگ پورے ملک میں جاری تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد لوگوں کی ہلاکتوں کی خبریں آتی تھیں۔ سیڈان کے پل پر دس نوجوانوں کو شہید کیا گیا جو پرامن مظاہرہ کر رہے تھے۔ حاما میں مظاہرین میں سیکورٹی کے دو اہلکار چھپے ہوئے تھے جو مسلح تھے اور انہوں نے اچانک مظاہرین پر فائرنگ شروع کردی۔ مظاہرین نے ان سے ہتھیار چھین لیے اور ان کو مارنا پیٹنا شروع کردیا لیکن تھوڑی ہی دیر میں شامی فوج ان کی مدد کو آگئی۔ درعا میں شامی فوج نے گولہ باری کر کے درجنوں مکانات کو تباہ کردیا۔ اس کے نتیجے میں ان گھروں کی مکین عورتوں اور بچوں سمیت 83 افراد شہید ہوئے۔
میں تھوڑی دیر میں گھر پہنچ گئی جہاں میری بیٹی پریشان بیٹھی تھی اس کو پریشان اور خوفزدہ پاکر خود مجھے بھی پریشانی ہونے لگی۔ میرا حال ایک چلتی پھرتی لاش کی طرح تھا۔ میری آنکھوں سے مسلسل آنسو گرتے رہتے تھے۔ میرے منہ کا ذائقہ کڑوے زنگ جیسا ہوگیا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ مجھے اگلے دن ایک صحافی سے ملنا تھا جو درعا کا محاصرہ توڑ کر بچ نکلنے میں کامیاب ہوا تھا۔ سخت دکھ اور پریشانی کے عالم میں میں نے خود کو سمیٹا اور چند گھنٹے کی نیند لینے کے لیے زمین پر پڑگئی۔ لیکن میری آنکھ آدھی رات گزرنے کے بعد لگی۔
4 مئی 2011
آج میرے دن کا آغاز اس اخباری سرخی سے ہوا، ’’ایک اسپتال سے تعلق رکھنے والے باخبر ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے درعا سے 182 شہریوں کی لاشیں ہفتے کو دمشق میں تشرین اسپتال منتقل کیں۔ اتوار کواسی اسپتال میں مزید 62 لاشیں منتقل کی گئیں۔ اس طرح لاشوں کی مجموعی تعداد 242 ہوگئی۔ اسی اسپتال میں 81 فوجیوں کی لاشیں بھی منتقل کی گئیں جن کو زیادہ تر سر کے پیچھے گولی مار کر قتل کیا گیا تھا”۔
یہ خبریں عجیب و غریب تھیں۔ سیکورٹی فورسز ہر جگہ شہریوں کے قتل عام میں ملوث تھیں۔ لیکن اتنے سارے فوجیوں کو کس نے قتل کیا؟ ظاہر ہے ان فوجیوں کو قتل کرنے والے لوگ وہ تھے جن پر فوجی اعتبار کرتے تھے اور اسی وجہ سے ان کو قریب آنے کی اجازت دی۔ ان خبروں سے ہر طرف غیریقینی صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔ کسی کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے؟ ان فوجیوں کے قاتل کون تھے؟ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ عام شہری نہتے تھے اور وہ اس طرح شامی فوجیوں کو قتل نہیں کرسکتے تھے۔ میں نے ایک فوجی سے جب یہ سوال کیا جس کے بہت سے ساتھی ہلاک ہوئے تھے تو اس نے بتایا اس کے ساتھیوں کو کسی نشانچی نے گولی کا نشانہ بنایا تھا۔ اس مقصد کے لیے اسنائیپر رائفل استعمال کی گئی تھی۔ میں نے اس فوجی سے جواب میں کہا کہ ایک نہایک دن تم کو معلوم ہو جائے گا کہ تم کو گولی کا نشانہ بنانے والے کون لوگ تھے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ تمہارے ایسے دوست ہوں جن کے بارے میں تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ میری اطلاعات کے مطابق بہت سے ایسے فوجی ڈویژنوں کو سزا دی جارہی تھی جو شہریوں پر گولی چلانے سے انکار کردیتے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ فوجی دستہ بھی ایسے ہی فوجیوں پر مشتمل ہو جنہوں نے کسی وقت حکمراں خاندان کے احکاما ت کی خلاف ورزی کی ہو اور شہریوں کا قتل عام کرنے سے انکار کردیا ہو۔ میں اس فوجی سے مزید سوالات کرنا چاہتی تھی لیکن میں نے محسوس کیا کہ وہ میرے سوالوں سے پریشان ہوگیا ہے۔ میں نے اس سے مزید سوال کرنے کا ارادہ ترک کردیا۔
یہ صبح کا وقت تھا اور سورج کی کرنیں گہرے سبز درختوں سے چھنتی ہوئی زمین پر پہنچ رہی تھیں۔ اچانک ایک سفید رنگ کی سوزوکی میرے قریب آئی جس میں چہرے پر نقاب چڑھائے تین افراد سوار تھے۔ ان میں سے دو کے ہاتھوں میں مشین گنیں تھیں۔ انہوں نے اچانک ایک جانب فائرنگ شروع کردی۔ سڑک کے دوسری جانب میں نے دو افراد کو زخمی ہو کر گرتے دیکھا۔ کار سوار یہ دیکھنے کے لیے نہیں رکے کہ ان کی فائرنگ سے کتنے لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے؟ سوزوکی تیزی سے آگے بڑھ گئی۔ ظاہر ہے ان لوگوں کا مقصد صرف دہشت پھیلانا تھا۔ آج کچھ قانونی ماہرین نے ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق روزانہ اوسطاً 500 افراد کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ دمشق میں ایک بزنس اسکول کے باہر مظاہرہ کرنے والے بہت سے طلبہ کو گرفتار کیا گیا۔ التال کے شہر میں سیکورٹی فورسز نے 800 افراد کو گرفتار کیا۔ یعفور ریجن میں 30 ٹینک اور چھ فوجی قافلے ادمشق کی جانب جاتے ہوئے دیکھے گئے۔ دریا میں گھروں پر چھاپے اور گرفتاریاں جاری رہیں۔ بنیاس میں ہزاروں مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ’’درعا کے شہر کا فوجی محاصرہ ختم کیا جائے‘‘۔(جاری ہے)
5 مئی 2011
یہ دہشت ناک ایام اسی طرح جاری رہے۔ میری دوستوں کا کہنا تھا کہ میں کسی کارٹون کردار کی طرح گلیوں میں آوارہ گھومتی دکھائی دیتی تھی اور میرا حلیہ بھوتوں والا ہوتا۔ میں سڑکوں پر پریشان حال، بدحواس اور خوفزدہ اپنی انگلیوں کو دانتوں سے دبائے چلتی پھرتی رہتی ۔ میں لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھتی اور سوچتی کہ یہاں موت کتنی ارزاں ہے اور زندگی کتنی سستی ہے۔ میرا حال کسی جنگلی پہاڑی ڈھلان پر جھکے ہوئے پودوں کی طرح تھا۔ میری کمر اب پہلے سے بھی زیادہ جھکی رہتی اور مزیدکچھ دنوں تک میں اسی طرح چلتی پھرتی تو شاید میری کمر پر کوب بھی نکل آتا۔ مجھے اپنے حوصلوں کی کمزوری پر دکھ محسوس ہوتا اور میں ہر وقت شرمسار رہتی۔ میں یہ سوچتی کہ گولیاں جب جرات مند اور بہادر لوگوں کے سینوں سے گزرتی ہیں تو اس لمحے ان کے چہروں کی چمک نہیں جاتی۔ لیکن خود میرا حال یہ تھا کہ جب میں آنکھیں بند کرتی تو مجھے مردوں کے چہرے دکھائی دیتے، خون آلود لاشیں ناچتی دکھائی دیتیں اور ہر گزرنے والا لمحہ مجھے خوف اور دہشت کی گہرائیوں میں دھکیل رہا ہوتا۔ مجھے بار بار اپنے سونے کی جگہیں تبدیل کرنی پڑتی تھیں کیونکہ شامی انٹیلی جنس کے کارندے اور الشبیہہ کے غنڈے ہر وقت میری تلاش میں رہتے تھے۔ ایسے لوگ بہت کم تھے جن کے ضمیر زندہ تھے اور جنہوں نے اس جدوجہد میں حصہ لینے کے لیے اپنے گھروں کو چھوڑ دیا تھا۔ پھر بھی مجھے معلوم تھا کہ میرے بہت سے دوست مردوں اور خواتین نے شامی جیلوں میں طویل عرصہ گزارا تھا اور وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اب وہ دوبارہ گرفتاری سے بچنے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگتے پھرتے رہتے تھے کیونکہ وہ شامی حکومت کے وحشیانہ نظام انصاف پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ میرے لیے زیادہ مسائل اس لیے پیدا ہوئے کہ مجھے ایک جانب اپنی رہائش گاہوں پر حملوں، چھاپوں اور اپنی گرفتاری سے بچاؤ کی کوششیں کرنی تھیں اور دوسری جانب اپنی بیٹی کی حفاظت بھی کرنی تھی جس کو سرکاری اہلکار مسلسل تنگ کرتے رہتے تھے۔ اُن کی کوشش ہوتی تھی کہ اُنہیں اُس کے ذریعے میرا پتہ مل جائے۔ وہ مجھے کھل کر سازشی اور جاسوس کہا کرتے تھے۔ میں چاہتی تھی کہ میں گاؤں میں گزارے ہوئے اُن سیاہ ایام سے نجات پاسکوں۔ جب میں نے اپنی بیٹی کو اپنے گھر میں بالکل تنہا چھوڑ دیا تھا کیونکہ مجھے خدشہ تھا کہ شامی انٹیلی جنس میرے ساتھ اس کو بھی گرفتار کرلے گی۔ ہم خوف اور دہشت کے ماحول میں زندگی گزار رہے تھے۔ میں اپنی بیٹی کے مستقبل سے خوفزدہ تھی اور میں نے اُس کو اور اُس کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ میری سرگرمیوں کی وجہ سے میرے خاندان کے ساتھ جو کچھ ہورہا تھا انہوں نے انسب تکلیفوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا تھا۔ خاص طور پر میرے بھائی کو اس قدر تنگ کیا گیا اور دھمکیاں دی گئیں کہ ایک ایسا وقت آگیا جب وہ سنجیدگی سے خودکشی کے بارے میں سوچنے لگا کیونکہ گاؤں کے لوگ اور خود ہمارے اپنے عقیدے سے تعلق رکھنے والے افراد اُس کی بہن کو اپنے فرقے کا باغی اور سازشی قرار دیتے تھے۔ جب بھی مجھے اُس کا خیال آتا تو میرا دل دھڑکنا بھول جاتا۔ اُسے میری وجہ سے تکلیفیں برداشت کرنی پڑ رہی تھیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں اُن لوگوں کو کس طرح تحفظ فراہم کروں؟ تمام علوی اب یہ تصور کررہے تھے کہ اگر سنی کامیاب ہوگئے تو وہ علویوں کا قتل عام کریں گے اور بشارالاسد اور اُس کے سرکاری کارندوں نے آمریت کے خلاف اس جدوجہد کو کتنی آسانی سے فرقہ وارانہ جنگ میں تبدیل کردیا تھا۔ میں اس قدر پریشان تھی کہ مجھے اپنی ڈائری لکھنے کے لیے وقت نہیں ملتا تھا اور جب میں قلم اُٹھاتی تھی تو میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کیا لکھوں اور کیا چھوڑ دوں۔ لیکن تھوڑے ہی عرصے میں مجھے یہ احساس ہونے لگا کہ میری یہ ڈائریاں زندہ رہنے میں میری مدد کررہی ہیں۔ وہ میرے لیے ایک سہارا ثابت ہورہی ہیں۔ مجھے اپنے حوصلوں کو بلند رکھنا تھا۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ میں لکھتی رہوں۔ مجھے اپنا گھر چھوڑ کر بہت تکلیف ہوئی تھی اور میں پوشیدہ رہنے کے لیے شہر کے نواح میں ایک نامعلوم مقام پر ٹوٹے پھوٹے گھر میں منتقل ہوگئی تھی۔ مجھے اس کا یقین تھا کہ وہ مجھے گرفتار کرنا نہیں چاہتے لیکن میری اچھی شہرت کو داغدار کردینا چاہتے ہیں۔ اُن کا مقصد لوگوں کو یہ یقین کرنے پر آمادہ کرنا ہے کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے اور اس حکومت کے خلاف جو رپورٹیں بھیج رہی ہیں وہ سب جھوٹ ہے۔ مظاہروں میں جس طرح گولیاں چلائی جاتی ہیں اور نہتے افراد کو قتل و غارتگری کا نشانہ بنایا جاتا ہے اُس بارے میں میری بھیجی ہوئی رپورٹیں دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ اور الیکٹرونک میڈیا نشر کررہے تھے لیکن وہ خود میرے لوگوں پر یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ میں کسی غیرملکی سازش کا حصہ ہوں اور مجھے یہ سب لکھنے کے لیے خطیر رقم ادا کی جاتی ہے۔ حکومت کے حامی مبصرین ریاستی ٹیلی ویژن پر میرے بارے میں ان ہی خیالات کا اظہار کیا کرتے تھے۔ لیکن میں اُن کی باتوں کو کیسے قبول کرسکتی تھی جب میں نے خود اپنی آنکھوں سے معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کے لاشے گرتے دیکھے تھے۔ جب میں نے خود بشارالاسد کی حامی علوی ملیشیا ’الشبیہہ‘ کے قاتلوں کو قتل و غارت گری کرتے دیکھا تھا۔ میں نے خود ان مسلح گروہوں کو دیکھا تھا جن کا کام ہی قتل عام کرنا تھا۔ میں بیشتر مظاہروں میں خود گئی اور میں نے دیکھا کہ ان میں پرامن مظاہرین شریک ہوتے تھے اور کسی کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہوتا تھا لیکن ریاستی ٹیلی ویژن مسلسل ان کے بارے میں یہ جھوٹا پروپیگنڈا کرتا رہتا تھا کہ یہ غیرملکی ہیں جو مظاہرے کررہے ہیں۔ تھوڑے عرصے کے بعد میرے لیے یہ مشکل ہوگیا کہ میں اپنی بیٹی کو گھر میں بند کر کے مختلف مظاہروں میں شرکت کے لیے جاسکوں کیونکہ وہ مجھے باہر جانے سے روکتی تھی اور مسلسل رونا دھونا مچائے رکھتی تھی۔ سیکورٹی سروسز کے اہلکار مجھے بہت اچھی طرح پہچانتے تھے کیونکہ میں ٹیلی ویژن کے مختلف پروگراموں میں میزبانی کرتی رہی تھی۔ تھوڑے ہی عرصے میں مجھے اندازہ ہوگیا کہ جب میں کسی مظاہرے میں کھلم کھلا شریک ہوں گی تو مجھے وہاں سے اٹھا کر براہ راست جیل بھیج دیا جائے گا۔ سچی بات یہ تھی کہ میں جیل جانے سے ہر ممکن طور پر بچنے کی کوشش کرتی تھی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ میں اپنی بیٹی کے کیریئر کو ہر حال میں بچانا چاہتی تھی۔ اس کے علاوہ میرے قید ہو جانے کا اس تحریک آزادی کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ تاہم میں اپنے خاندان کے لوگوں سے بالکل کٹ چکی تھی۔ میں نے اُن سے ملنا جلنا چھوڑ دیا تھا۔ میں جانتی تھی کہ ان پر میرے سلسلے میں کس قدر دباؤ ڈالا جارہا ہے اور میں اُن سے مل کر اُن کو زیادہ نقصان پہنچنے کا سبب بنتی۔ لیکن میں نے اس فرقہ وارانہ بلیک میل کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے اور پوری مضبوطی سے ہر ظلم اور ہر دھمکی کا مقابلہ کرتی رہی۔ میرے سامنے دو ہی راستے تھے کہ میں تمام خطروں کے باوجود اپنا کام جاری رکھتی یا کسی نہ کسی طرح شام سے فرار ہو جاتی۔ میرے لیے گھر سے بھاگ جانا کوئی نئی بات نہیں تھی۔ میرے شوہر نے مجھے جب طلاق دی تھی تو اُس وقت میری عمر صرف 16 سال تھی جبکہ میری بیٹی دو سال کی تھی اور میں اپنے گاؤں سے فرار ہو کر دمشق چلی گئی تھی۔ میں کسی خاص سیاسی گروہ یا سیاسی جماعت کی کبھی حمایت نہیں کرتی تھی۔ میں صرف اپنی آزادی پر یقین رکھتی تھی۔ میں پوری غیرجانبداری سے سوچتی اور لکھتی تھی لیکن اس چھوٹی سی دنیا میں ایک عورت کے لیے زندہ رہنا بہت مشکل تھا جسے اپنے ساتھ اپنی بیٹی کی بھی حفاظت کرنی ہو۔مجھے یہ دنیا اتنی چھوٹی لگتی تھی کہ میں اس سے باہر ہاتھ نکال کر آسمان کو چھو سکتی تھی۔ درحقیقت میری جیسی عورت ہمیشہ زندگی کو مشکل بنا دیتی ہے۔ میں نے چند دن پہلے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم میری پوری کوشش رہی کہ میں مظاہروں کو دور سے دیکھوں۔ میں خواتین کے مظاہرے میں شریک ہوئی جو الصالیحیہ ضلع کے وسط میں آرنس اسکوائر پر ہوا جس میں کوئی 500 عورتیں شریک تھیں۔ اس مظاہرے میں بشارالاسد کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ قتل و غارتگری بند کردے اور درعا کا محاصرہ ختم کردے۔ یہ بے حد اہم مظاہرہ تھا کیونکہ اس مظاہرے کا اہتمام شامی عورتوں نے کیا تھا۔ مجھے اس مظاہرے میں لازمی طور پر شریک ہونا چاہیئے تھا۔ میری دوستوں میں سے ایک لڑکی نے مجھے اس مظاہرے میں تنہا جانے سے روک دیا۔ اگرچہ کہ وہ شامی حکومت کے خلاف ان مظاہروں میں غیرجانبدار تھی۔ لیکن صرف میری خاطر وہ اس مظاہرے تک آئی۔ ہم ڈھائی بجے دوپہر الصالیحیہ کے شاپنگ سینٹر میں پہنچے۔ مارکیٹ میں غیرمعمولی بھیڑ تھی اور زیادہ تر خریدار خواتین تھیں۔ اُس وقت ملک میں اقتصادی حالات بگڑنا شروع ہوچکے تھے۔ تاجر اور دکاندار سیاسی ہنگاموں سے سخت پریشان تھے۔ ایک دکاندار نے مجھ سے کہا کہ اگر یہ حالات جاری رہے تو اُن کا کاروبار تباہ ہو جائے گا اور وہ دیوالیہ ہو جائیں گے۔ میں اور میری دوست بازار میں گھوم رہے تھے یہاں دکانیں کھلیں ہوئیں تھیں لیکن ہماری کوشش تھی کہ کسی طرح ہمیں یہ پتہ چل سکے کہ سیکورٹی فورسز کس جگہ ہیں؟ کیا اُنہیں اس مظاہرے کے بارے میں علم تھا یا ان مظاہروں کو پوشیدہ رکھا گیا تھا؟ حکومت کی جانب سے مظاہروں کے خلاف سخت کارروائی کے واقعات کے بعد اب مظاہروں کے منتظمین یہ اعلان نہیں کرتے تھے کہ وہ کہاں جمع ہورہے ہیں اور کس جگہ مظاہرہ کریں گے؟ جگہ کا فیصلہ آخری وقتوں میں کیا جاتا تھا تاکہ سیکورٹی فورسز کو مظاہرین کو منتشر کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ جب ہم بازار میں گھوم رہے تھے تو ہر ایک اُس مظاہرے کے لیے الگ الگ جگہوں کی نشاندہی کررہا تھا۔ اب تک یہاں کوئی پولیس یا فوج نظر نہیں آتی تھی۔ کافی دیر بازار میں گزارنے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ یہ مظاہرہ آرنس اسکوائر پر تھا۔ خواتین کے بڑے بڑے گروپ اس اسکوائر کی جانب جارہے تھے۔ اُن کی حفاظت کے لیے بہت سے نوجوان بھی وہاں منڈلا رہے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم مظاہرین کے درمیان پہنچ گئے۔ اُس وقت تک یہاں بہت زیادہ خواتین جمع نہیں ہوسکی تھیں اور ان کی تعداد بمشکل 60 ہوگی۔ تاہم خواتین کے جتھے مختلف گلیوں سے اس چوک کی جانب آرہے تھے۔ ان خواتین میں ہر عمر اور ہر قسم کی عورتیں شامل تھیں اور اُن کی زیادہ تعداد بے پردہ خواتین پر مشتمل تھی۔ آج سے دو دن پہلے یہاں برقع پوش خواتین کا بھی ایک مظاہرہ ہوا تھا لیکن یہ مظاہرہ اُن سے مختلف تھا۔ اس مظاہرے میں شریک خواتین مختلف بینر اُٹھائے ہوئے تھیں جن پر نعرے لکھے ہوئے تھے۔ قتل و غارتگری بند کرو، درعا کی ناکابندی ختم کرو، لوگوں کو زندہ رہنے دو، قتل مت کرو۔ خواتین کی یہ ریلی آگے کی جانب بڑھ رہی تھی اور آہستہ آہستہ مظاہرہ کرنے والی عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا۔۔ کچھ دیر کے بعد میں نے محسوس کیا کہ مظاہرین میں سنسنی اور افراتفری پھیل رہی ہے۔ میں خطرے کی بو سونگھ رہی تھی۔ میں مظاہرین کے درمیان تھی۔اچانک میں نے دیکھا کہ سادے لباس میں ایک شخص میری جانب اشارہ کررہا تھا۔ میں فوراً کئی مظاہرین کے پیچھے ہوگئی اور مجھے احساس ہوا کہ مجھے پہچان لیا گیا ہے۔ میں نے تیزی سے پیچھے کی جانب بھاگنا شروع کیا۔ سیکورٹی فورسز کے سادہ لباس والے کارندے خواتین کو مارپیٹ کر ایک جانب ہٹاتے ہوئے مجھ تک پہنچنے کی کوشش کررہے تھے۔ وہ مجھے پکڑنے کی کوشش کررہے تھے۔ میری نظروں کے سامنے انہوں نے ایک لڑکی اُنگلیاں توڑ دیں اور دوسری عورت کو گرفتار کرنے سے پہلے اُس کے چہرے پر کئی تھپڑ مارے۔ مارپیٹ اور گرفتاری سے بچنے کے لیے عورتیں اِدھر اُدھر بھاگنے لگیں۔ سادہ لباس میں یہ لوگ ہم پر اس طرح حملے کررہے تھے جیسے ہم شامی نہیں بلکہ اسرائیلی ہیں اور شامی فوجیں اپنے وطن کا دفاع کررہی ہیں۔ میں حیران تھی کہ اُن کو اس مظاہرے کی خبر اتنی جلدی کیسے ہوگئی تھی؟ کیا شام کی آدھی آبادی سیکورٹی فورسز کا حصہ تھی۔ کیا شامی انٹلیجنس کے لوگ کتوں کی طرح ہر گلی میں سونگھتے پھرتے تھے۔ شام کے لوگ خوب جانتے تھے کہ یہ کون لوگ تھے؟ سادے لباس میں جو لوگ گرفتاریاں کررہے تھے وہ کسی کو بھی قتل کرسکتے تھے یا اغوا کر کے ٹارچر کرسکتے تھے۔ اس کا نہ تو کوئی مقدمہ درج ہوتا نہ کسی پر فردجرم عائد ہوتی بس کچھ لوگ اُٹھالیے جاتے اور پھر کبھی واپس نہ آتے۔ اس دوران بھاگتے بھاگتے اپنی ایک دوستلڑکی اور اس کے ایک ساتھی کو دیکھا جو خود بھی سادہ لباس والوں سے بچنے کے لیے ایک جانب دوڑ رہے تھے۔ انہوں نے دور سے مجھے دیکھا اور بھاگتے ہوئے میرے قریب پہنچے۔ پھر انہوں نے مجھے بازوؤں سے پکڑا اور تیزی سے گلی میں گھس گئے۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ سادہ لباس والے مجھے اُٹھانے کے لیے بھاگ رہے تھے۔ اُنہوں نے مجھے ایک تاریک گلی میں چھوڑ دیا اور پھر یہ دیکھنے کے لیے واپس لوٹے کہ دیگر مظاہرین کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے؟ میں نے خود کو مسجد الحمراء کے سامنے پایا۔ وہاں کچھ اور لوگ بھی موجود تھے جو مجھ سے ملتجیانہ لہجے میں کہہ رہے تھے کہ میں جلد از جلد اس علاقے سے نکل جاؤں کیونکہ قریب کی گلیوں میں سیکورٹی فورسز موجود ہیں جو لوگوں کو زدوکوب کررہی ہیں اور اُنہیں گرفتار کررہی ہیں۔ میں نے یہاں ایک ٹیکسی پکڑلی اور ڈرائیور سے کہا کہ آرنس اسکوائر کے قریب لے جائے۔ میں اپنی آنکھوں سے خود دیکھنا چاہتی تھی کہ دوسری عورتوں کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے؟ اس دوران سیکورٹی فورسز نے مظاہرے کو توڑ دیا تھا۔ مظاہرین مارکیٹ کیعلاقے سے دور بھاگ گئے تھے یا پھر گرفتار ہوگئے تھے۔ میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے یہاں رکنے کو کہا اور اپنے مو بائل سے اپنی ایک دوست کو ٹیلی فون کیا کہ میں اس حصے میں کھڑی ہوئی ٹیکسی میں بیٹھی ہوں اور اگر انہیں وہاں سے بھاگنے کی ضرورت پیش آئے تو وہ یہاں آجائیں۔ اُس نے مجھے بتایا کہ وہ ایک محفوظ جگہ پر ہے اور وہاں سے مظاہرین کو دیکھ سکتی ہے۔ میں نے فون بند کردیا تو میری نظر اُس گوشے کی جانب پڑی جہاں سیکورٹی فورسز موجود تھیں۔ ایک عورت گلی کا جانب بھاگ رہی تھی۔ اچانک اس گلی سے تین سادے لباس والے ایجنٹ نمودار ہوئے۔ انہوں نے ایک نوجوان کو پکڑا ہوا تھا اور اسے بری طرح زدوکوب کررہے تھے۔ وہ اس کے چہرے پر مسلسل ضربیں لگا رہے تھے۔ اُس کے چہرے پر تھپڑوں کی بارش کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ اُس کی جی بھر کر بے عزتی کی جائے کیونکہ ہر شحص صرف اپنے چہرے ہی سے پہچانا جاتا ہے۔ چہرہ اس کی شناخت ہوتا ہے۔ چہرے پر مارنے کا مطلب اُس کی شناخت کو مٹانے کے سوا کچھ نہیں۔ وہ اسے اس کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ رہے تھے وہ کبھی اسے ٹھوکریں مارتے اور کبھی گالیاں دیتے۔ کچھ فاصلے پر لوگ کھڑے ہو کر یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے لیکن وہ خوفزدہ تھے اور اُسے بچانے کے لیے آگے آنے کی ہمت نہیں پاتے تھے۔ یہ سارا منظر ٹیکسی ڈرائیور بھی دیکھ رہا تھا۔ اُس نے بڑبڑاتے ہوئے کہا ’کیااس لڑکے کو مارنے لوگ سرکاری اہلکار ہیں؟‘ میں نے جواب میں کہا کہ مجھے نہیں معلوم لیکن اگر وہ اس ٹیکسی کو تھوڑا سا قریب لے جائے تو شاید ہمیں اس سوال کا جواب مل جائے۔ لیکن ٹیکسی ڈرائیور نے ٹیکسی کو آگے نہیں بڑھایا وہ خوفزدہ تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ’ اگر تھوڑا قریب جاؤ گے تو میں تم کو دُگنا کرایہ دونگی۔‘ تھوڑے فاصلے پر سیکورٹی فورسز کے اہلکار ایک سفید رنگ کی وین میں بیٹھے دکھائی دے رہے تھے۔ وہ اس نوجوان کو خاموشی سے پٹتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ سادے لباس والوں نے نوجوان کو پیٹتے ہوئے وین میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ کیونکہ نوجوان کافی مضبوط جسم کا مالک تھا۔ وہ اُسے بری طرح پیٹتے رہے اور اُس کا سروین کے کناروں سے ٹکراتے تھے۔ بالآخر وہ اس کو وین کے اندر دھکیلنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ دیکھ کر میرے حلق سے چیخ نکل گئی۔ ایک سیکورٹی اہلکار نے میری جانب دیکھا۔ میں نے اُس سے نظریں ملالیں۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ ایک قاتل کی آنکھیں تھیں جن سے خون ٹپک رہا تھا۔ میں نے اس سے پہلے اس طرح کے لوگ دمشق میں کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اپنی جانب اُسے متوجہ پا کر دہشت کی ایک لہر میرے رگ و پے میں دوڑ گئی اور میں نے ڈرائیور سے کہا کہ ’یہاں سے فوراً نکل چلو۔‘ ہماری ٹیکسی چلنا شروع ہوئی تو اُس وقت بھی اس کی قاتل نظریں ہم پر جمی ہوئی تھیں۔ اگر مجھے چند لمحے دیر ہو جاتی تو شاید وہ دوڑ کر اپنے دونوں ہاتھوں سے میری گردن دبوچ لیتا۔ تاہم ٹیکسی ڈرائیور نے بروقت گاڑی چلادی تھی اور ہم بچ کر نکل گئے تھے۔ دہشت سے میرا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ کچھ یہی حال میری دوست لڑکی کا بھی تھا۔ ٹیکسی جب اس گلی سے باہر نکلی تو میں نے ڈرائیور سے اپنے ایک دوست کے دفتر کا پتہ بتایا۔ میرا خیال تھا کہ ہم اُس کے دفتر میں کچھ دیر چھپ کر رہ سکتے تھے اس درمیان میں حالات معمول پر آجاتے۔ اس چوک پر میں نے دیکھا تھا کہ پولیس اہلکار اور سیکورٹی والے عورتوں کو اس طرح زدوکوب کررہے تھے اور انہیں ٹھوکروں کا نشانہ بنا رہے تھے جیسے وہ کوئی جانور ہوں۔ کچھ خواتین سیکورٹی فورسز کے جال سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھیں لیکن کچھ کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ گرفتاری سے پہلے اُن کو بریطرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت دمشق میں ہر طرف مظاہرے ہورہے تھے۔ ہر جگہ ملٹری چیک پوائنٹس بنے ہوئے تھے۔ جگہ جگہ ٹینک کھڑے کر کے رکاوٹیں بنائی گئی تھیں۔ ہر طرف سیکورٹی فورسز کے اہلکار وردیوں میں اور بغیر وردی میں گھومتے پھرتے رہتے تھے۔ ان میں سے جو سادے لباس میں ہوتے تو اُن میں اور ٹھگوں اور قاتلوں میں کوئی فرق نہ ہوتا۔ لوگ گھروں تک محدود ہوگئے تھے۔ جو لوگ اشد ضرورت میں گھروں سے باہر نکلتے تو ان کا واسطہ ان ٹھگوں سے پڑتا۔ ایسے حالات میں جب میں گھر واپس پہنچی تو میری طبیعت پر سخت دکھ اور غم کا غلبہ تھا۔ جب بھی میں آنکھیں بند کرتی مجھے وہ مناظر دکھائی دینے لگتے جن میں کمزور عورتوں پر مضبوط جسم والے اہلکار تشدد کرتے دکھائی دیتے۔ میں آج گرفتار ہونے سے بال بال بچی تھی اور اب خود کو ذہنی طور پر کسی نئی جگہ منتقل کرنے کے لیے تیار کررہی تھی۔ کیونکہ مجھے خوف تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی نے ہماری ٹیکسی کا تعاقب کرلیا ہو اور انہیں میرے اس ٹھکانے کا پتہ مل جائے۔ اگلا دن جمعہ کا تھا اور یہ جمعہ اس احتجاجی تحریک کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوا۔
7 مئی 2011
میں آج ایک اور قتل عام کے بارے میں لکھنے کے لیے بیٹھی ہوں۔ ٹینکوں نے ایک مرتبہ پھر بنیاس (Baniyas) کی ناکابندی کر رکھی ہے۔ انہوں نے البائدہ اور القمسیہ پر گولا باری کی۔ بنیاس بھوتوں کا شہر دکھائی دیتا ہے۔ فوج اور سیکورٹی فورسز اس شہر میں خالص فرقہ وارانہ بنیادوں پر گولا باری کررہی ہیں اور صرف سنی علاقوں کو بمباری کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میں نے ایک ٹیلی فون کال کرنے کی کوشش کی لیکن ٹیلی فون کی لائنیں کٹی ہوئی ہیں اسی طرح انٹرنیٹ بھی بند ہے۔ شہر کے ایک اسکوائر پر لوگوں کو چاروں جانب سے گھیر کر رکھا گیا ہے۔ یہ شہر چار کلومیٹر سے زیادہ لمبا اور چوڑا نہیں ہے۔ آخر وہاں کیا ہورہا ہے؟ حکومت شہروں پر قبضے کرنے کے لیے فوجی کارروائی کررہی ہے۔ وہ دن کی روشنی میں خود اپنے عوام کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لطاکیہ کو چار حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ شہروں کے درمیان ہر طرح کے رابطے منقطع کردیے ہیں ہم حالت جنگ میں ہیں۔ مجھے اپنا خون کھولتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔ میرے اعصاب جواب دے رہے ہیں۔ میں اپنے ذہن کو صاف کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ ایک ناکابندی ختم ہوتی ہے کہ فوراً دوسری شروع ہو جاتی ہے۔ سرکاری اہلکاروں نے عورتوں کو ہدف بنانا شروع کیا ہوا ہے۔ بنیاس سے باہر المغرب میں تین عورتوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔ میرا انٹرنیٹ بند ہے اور مجھے اپنی رپورٹیں باہر بھیجنے کے لیے کسی انٹرنیٹ کیفے کا سہارا لینا پڑے گا لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سیکورٹی فورسز ان کی نگرانی کر رہی ہیں اور نیٹ کیفے میں جانے والے لڑکے اور لڑکیوں کو گرفتار کررہی ہیں۔ میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ میں گھر ہی میں بیٹھی رہوں۔ اس جمعہ کو مجموعی طور پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے مختلف شامی شہروں میں مظاہرین پر جو فائرنگ کی گئی اُس سے تیس افراد ہلاک ہوئے۔ سیکورٹی فورسز اور فوج شام کے ہر شہر اور ہر قصبے میں شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ یہ خود اپنے شہریوں کے خلاف اعلان جنگ کی پالیسی ہے۔ وہ شہریوں کو اس طرح قتل کر کے دہشت پھیلا دینا چاہتے ہیں تاکہ لوگ گھروں سے باہر نہ نکلیں، مظاہروں میں شریک نہ ہوں اور اُس تحریک کا حصہ نہ بنیں جو شام کی آزادی کی تحریک ہے۔ دوسری جانب شامی انٹلیجنس نے آزادی کی اس جنگ کو فرقہ وارانہ خانہ جنگی میں تبدیل کردیا ہے۔ اب گلیوں اور محلوں میں لوگوں کو صرف اس لیے قتل کیا جارہا ہے کہ وہ کسی خاص فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اب تک مجھے تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں کیونکہ میں اپنی جگہیں بدلتی رہتی ہوں لیکن اُن کو میرا ٹیلی فون نمبر پتہ ہے اور وہ ٹیلی فون پر مجھے دھمکیاں بھی دیتے رہتے ہیں۔ میں مسلسل اِدھر سے اُدھر بھاگتی رہتی ہوں۔ میری صبح ایک جگہ ہوتی ہے اور شام دوسری جگہ ہوتی ہے جبکہ میں رات تیسری جگہ گزارتی ہوں۔ میں نے اپنے خاندان سے اپنے تعلقات منقطع کرلیے ہیں۔ میں خاموشی سے لکھتی رہتی ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہوں کہ میں اس علاقے میں موجود ہوں۔ لیکن میں اب تک ان سے بچنے میں کامیاب رہی ہوں۔ سیکورٹی فورسز ٹیلی فون لائنوں کی نگرانی کررہی ہیں اور اہم لوگوں کے ٹیلی فون سنے جاتے ہیں۔ مجھے اپنی ایک صحافی دوست سے ملنا تھا لیکن وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنے گھر سے فرار ہوگئی۔ خود مجھے اگلے دو دن ایک خفیہ جگہ پر گزارنے پڑے۔ سڑکوں پر جو کچھ ہورہا تھا اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھنا میری خواہش تھیلیکن اب یہ خبریں مجھے اپنے دوستوں اور احباب کے ذریعے پہنچ رہی تھیں۔ لیکن میری خواہش تھی کہ میں یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھے بغیر کسی رپورٹ میں شامل نہ کروں۔ میں سمجھنے سے قاصر تھی کہ بشارالاسد کی حکومت نے شامی عوام کے خلاف یہ جابرانہ اور ظالمانہ پالیسیاں کیوں اختیار کی تھیں۔ درعا میں جو خوفناک واقعہ ہوا وہ کس طرح شروع ہوا جس میں کئی کمسن لڑکے اہلکاروں کے تشدد کا نشانہ بنے تھے۔ عاطف نجیب نے اُن کے ساتھ کیا کیا؟ یہاں ایک افواہ پھیلی ہوئی تھی کہ ماہرالاسد نے نائب صدر فاروق الشراہ پر گولیاں چلائی تھیں۔ مجھے ان تمام واقعات کی تفصیلات بھی جمع کرنا تھیں۔ اس فائل کو مکمل کرنے سے پہلے میری خواہش تھی کہ میں بنیاس میں لوگوں سے رابطہ کرسکوں۔ ٹیلی فون لائنیں ابھی تک کٹی ہوئی تھیں لیکن میں سمندر کے قریب رہنے والے کچھ دوستوں کی مدد سے بنیاس میں بذریعہ ٹیلی فون رابطہ کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ تاہم انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ اُن کے اس جواب سے میں نے خیال کیا کہ وہ حکومت کے ادارۂ مخابرات سے خوفزدہ تھے جن کا کام ٹیلی فون سننا اور جاسوسی کرنا تھا۔ ہمیں یہ پتہ چلا تھا کہ سیکورٹی فورسز ہمارے موبائل ٹیلی فونوں کے ذریعے یہ پتہ لگا لیتی تھی کہ ہم اس وقت کہاں ہیں؟ اس کے بعد سے ہم نے اپنے سیل ٹیلی فونوں کو دس میٹر دور رکھنا شروع کردیا۔ آخر یہ کس قسم کی ناکابندی تھی؟ ہم فضا میں سیکورٹی فورسز کی خوشبو سونگھ لیتے تھے۔ یہ سچ نہیں تھا کہ ہم دہشت محسوس نہیں کرتے تھے۔ جب بھی کوئی ناقابل فہم آواز سنائی دیتی تو میں خوف سے کانپنے لگتی تھی کیونکہ وہ تصدیق کے بغیر بھی لوگوں کو نشانہ بنانے کے عادی تھے۔ اس تمام خوف و دہشت کے باوجود میرے حوصلے بلند تھے۔ یہی وجہ تھی کہ تمام دہشت کے باوجود میں رات کو گہری نیند سو گئی حالانکہ یہ کوئی عام پرامن رات نہیں تھی۔ باہر تیز ہوائیں چل رہی تھیں جن کے ٹکرانے سے مکانوں کی چھتیں، دروازے اور کھڑکیاں بج رہی تھیں۔ اس دوران میں بار بار محسوس کرتی کہ شاید کوئی آرہا ہے۔ مجھے جونیئر افسروں نے دھمکی دی تھی کہ وہ مجھے اس طرح تشدد کا نشانہ بنائیں گے کہ میں مچھلی کی طرح تڑپوں گی اور کچھ نہیں کرسکوں گی۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ کسی شخص کو عدالت میں پیش نہیں کرتے تھے اور انہیں یہ سب کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ وہ خود ہی عدالت تھے۔ وہ خود لوگوں کے فیصلے کرتے تھے۔ وہ لوگوں کو گرفتار کرنے سے پہلے اس طرح ٹارچر کرتے کہ آس پڑوس کے لوگ اس سے عبرت پکڑیں۔ انہوں نے بنیاس میں بھی وہی کیا جو انہوں نے درعا کی ناکابندی کے دوران کیا تھا۔ انہوں نے لوگوں کو گرفتار کرنے سے پہلے سڑکوں پر گھسیٹا اور اس طرح تشدد کا نشانہ بنایا کہ ان میں سے بہت سے جیل جانے کے بجائے قبرستان پہنچ گئے۔ مجھے سب سے زیادہ تشویش یہ تھی کہ بنیاس فرقہ ورانہ کشیدگی کا مرکز تھا۔ یہ کشیدگی بشارالاسد کی حکومت نے خود پیدا کی تھی۔ میں جانتی تھی کہ بنیاس کے لوگ ہمیشہ خاموش نہیں رہیں گے۔ لیکن سب کو خبر تھی کہ فرقہ وارانہ خانہ جنگی اُفق پر منڈلا رہی تھی۔ بمباری اور دہشت گردی کے ساتھ حکومت نے علویوں کو بطور انسانی شیلڈ استعمال کرنا شروع کردیا تھا تاکہ وہ فرقہ واریت کو زیادہ سے زیادہ پھیلاسکیں۔ مجھے ایک دوست نے ٹیلی فون کر کے الملقب کے گاؤں میں ہونے والے واقعہ کی اطلاع دی جہاں کئی خواتین کو تشدد کر کے ہلاک کردیا گیا تھا۔ الملقب بنیاس کا ایک نواحی گاؤں تھا۔ یہاں تین خواتین کو قتل کیا گیا جن میں 25 سالہ احلام حوری سیکیہ اور لیلیٰ طحہٰ ساہیونی اور حمنہ طحہ ساہیونی شامل تھیں۔ ساہیونی خواتین کی عمریں چالیس سال کے لگ بھگ تھیں۔ 15 عورتیں اس واقعہ میں زخمی ہوئیں۔عورتوں کے سڑکوں پر آنے سے پہلے فوج الملقب کے گاؤں میں داخل ہوئی اور درجنوں لوگوں کو جن میں نوجوان اور بچے شامل تھے گرفتار کر کے لے گئی۔ اس کے بعد عورتیں گھروں سے باہر نکلیں اور انہوں نے اپنے بچوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ سیکورٹی فورسز اور الشبیہہ ملیشیا نے مظاہرہ کرنے والی عورتوں کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا۔ اُن پر ناصرف ٹینکوں سے گولے برسائے گئے بلکہ فائرنگ بھی کی گئی۔ تین عورتیں اس کے نتیجے میں ہلاک ہوگئیں۔ جبلہ کے شہر میں بھی بالکل یہی واقعہ ہوا۔ اس قصبے کے تمام نوجوان اور بوڑھے جیلوں میں ڈال دئے گئے۔عورتیں ان کی رہائی کا مطالبہ کرنے گھروں سے باہر نکلیں تو ان کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں سڑکوں پر بے دردی سے گھسیٹنے والے الشبیہ کا ٹھک اور سادہ لباس والے تھے۔
میں امید کررہی تھی کہ تشدد کے ان واقعات میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہوگا۔ دن میں سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے چھ نہتے مظاہرین ہلاک ہوئے۔ رات ہوتے ہوتے ان کی تعداد دگنیہوگئی۔ اگلی صبح یکم مئی تھی اور شہیدون کی تعداد بارہ ہوچکی تھی۔ اس تحریک کا آغاز پرامن انداز میں فروری میں ہوا۔ اگر بشار الاسد کو ان امور کی حساسیت کا ذرا بھی اندازہ ہوتا تو وہ ان مظاہرین سے یہ سلوک نہ کرتا لیکن وہ تو خود اس نظام کا قیدی تھا۔ اس عرصے میں 800 شہری ہلاک ہوچکے تھے۔بعض علاقوں میں شہریوں نے حفاظت خود اختیاری کے لئے ہتھیار اٹھا نا شروع کردئے تھے اور وہ خاص طور پر الشبیہ کے جنگ جوؤں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ لیکن اس سے آزادی کیی تحریک کو کوئی مدد نہیں مل رہی تھی کیونکہ بشار الاسد کی انتظامیہ یہی چاہتی تھی۔ انہوں نے آسانی کے ساتھ ایک جمہوری تحریک کو فرقہ واریت کا رنگ دے دیا تھا۔اب یہ جمہوریت اور آزادی کی جنگ نہیں بلکہ فرقے کے تحفظ کی جنگ تھی۔(جاری ہے)
8 مئی 2011
میں فجر کی اذانوں کے ساتھ اٹھنے کی عادی تھی لیکن آج اتنی تھکی ہوئی تھی کہ میری آنکھ نہ کھل سکی۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ میں زیادہ تر تناؤ کی کیفیت میں رہتی تھی اور مجھے رات کو سونے کے لیے زینکس استعمال کرنی پڑتی تھی۔ اس کے نتیجے میں مجھے بہت گہری نیند آتی تھی اور فجر کے وقت میری آنکھ نہیں کھلتی تھی۔ جب مری آنکھ کھلی تو 9 بج چکے تھے۔ میں اٹھی اور پہلے اس عمارت کی بالکنی پر گئی جہاں سے آدھا شہر نظر آتا تھا۔ یہ پانچویں منزل کی بالکنی تھی۔ یہ عمارت آر نس اسکوائر کہلاتی تھی اور الحمرا اسٹریٹ پر واقع تھی۔ یہاں سے میں ہر جانب دیکھ سکتی تھی اور میرا یہ فلیٹ ہر اعتبار سے محفوظ تھا۔ آج مجھے ارتکاز توجہ کی زیادہ ضرورت تھی کیونکہ اطلاعات کے مطابق حمص کا گھیراؤ جاری تھا۔ بعض علاقوں میں بجلی منقطع کردی گئی تھی۔ سیکورٹی فورسز نے پورے شہر کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور بھاری فائرنگ کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ سب سے زیادہ جس چیز نے مجھے پریشان کیا وہ یہ تھی کہ انٹرنیٹ کا کنکشن منقطع کردیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اب میں مظاہروں کے بارے میں خبریں حاصل کرنے کے قابل نہیں تھی۔ بنیاس کا محاصرہ جاری تھا۔ پانی، بجلی اور ٹیلی فون کی لائینیں منقطع تھیں لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہاں کتنے لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ لوگوں کی گرفتاریاں جاری تھیں۔
میں سخت ڈپریشن کا شکار تھی۔ میں لاشیں دیکھ دیکھ کر تنگ آچکی تھی۔ میرے اعصاب مزید خوں خرابہ دیکھنے کی ہمت نہیں پاتے تھے۔ میرے اعصاب پر اتنا بوجھ تھا کہ جب میں اپنے قلم سے کچھ لکھنے کی کوشش کرتی تو انگلیاں کانپنے لگتیں۔ یہ میری بدقسمتی تھی کہ صبح کے وقت ٹیلی ویژن پر جو سب سے پہلا منظر میں نے دیکھا وہ خالی سڑکوں پر بھاگتے ہوئے نوجوانوں کے اوپر نشانچیوں کی فائرنگ کے متعلق تھا۔ اس سڑک کے دونوں جانب درخت لگے ہوئے تھے۔ میں نے ٹیلی ویژن اسکرین پر اس نوجوان کو اچانک کاغذ کے ایک پرزے کی طرح زمین پر گرتے دیکھا۔ اس کو پیچھے سے گولی ماری گئی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ نوجوان کوئی دہشت گرد نہیں بلکہ ایک شامی شہری تھا جس کو کسی دوسرے شامی نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔ اس ملک میں خون کتنا ارزاں ہوگیا تھا۔ اس ملک کی سیکورٹی فورسز اپنے عوام کے ساتھ یہ وحشیانہ سلوک کیوں کررہی تھیں؟
ابتدائی مظاہروں کی یادیں لوٹنے لگیں۔ میں اس زمانے میں زیادہ آسانی سے نقل و حرکت کرسکتی تھی۔ لیکن اب گھروں سے نکلنا مشکل ہوگیا تھا میں اس تشدد کو برداشت نہیں کرپا رہی تھی۔ تشدد وہ لوگ کررہے تھے جو مجھ پر سازشی اور باغی ہونے کا الزام لگاتے تھے۔ مجھے اس کبھی تصور نہیں تھا کہ شامی شہروں میں سڑکوں پر اس طرح قاتلوں کا راج ہوگا۔ بنیاس کا شہر چاروں طرف سے ٹینکوں کے حصار میں تھا اور سڑکوں پر گولیاں اس طرح برس رہی تھیں جیسے ژالہ باری ہورہی ہو۔ بنیاس انتہائی حسین و جمیل شہر تھا۔ میں اس کی ایک ایک گلی، ایک ایک درخت اور ہر مکان سے واقف تھی۔ میں اکثر المرقد کے قلعے سے ساحل سمندر تک ٹہلا کرتی تھی اور کوئی مجھے روکنے والا نہیں ہوتا تھا۔ یہ انتہائی حسین منظر کا حامل تھا۔ میں اس شہر کی خوبصورتی اور حسن پر بغیر تھکے ہوئے سالوں تک ناول لکھ سکتی تھی۔ لیکن اب بنیاس کا سارا حسن مٹی میں مل گیا تھا۔ جگہ جگہ فوجی چیک پوانٹس بنے ہوئے تھے جو مختلف محلوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتے تھے۔ پورا شہر الگ الگ سنی اور علوی علاقوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔ فوج اور سیکورٹی فورسز لوگوں کو گرفتار کرتی اور کسی عدالت میں پیش کرنے کے بجائے اکثر ان کو وہیں گولی مار دیتی۔ اب یہ پورا شہر فوجیوں اور قاتلوں کے نرغے میں تھا۔ حد یہ ہے کہ یہاں عورتوں اور بچوں کو بھی اسی بے دردی سے زدوکوب کیا جاتا تھا جیسے مردوں کو پیٹاجاتاتھا۔ انہیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ ان کا ہدف کوئی عورت ہے بچہ یا بوڑھا آدمی ہے۔ شام کے تمام شہر ایک کے بعد ایک محاصروں میں آتے چلے جارہے تھے۔ یہ سلسلہ درعا سے شروع ہوا اس کے بعد بنیاس اور پھر حمص کا نمبر آیا۔
گھر سے باہر نکلنے سے پہلے میں نے اپنی ایک خاتون صحافی دوست کو ٹیلی فون کیا۔ میں نے اس کا نمبر ملایا لیکن دوسری جانب سے کوئی جواب نہیں آرہا تھا۔ کچھ دیر کے بعد میرے ایک دوست نے فون کر کے مجھے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے میری اس صحافی خاتون دوست کو گرفتار کرلیا ہے اور اب مجھے پہلے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ الحمرا اسٹریٹ پر چلتے ہوئے میرے قدموں میں لڑکھڑاہٹ پیدا ہوگئی اور میں سوچنے لگی کہ میری اس سے چند دن پہلے ہی ملاقات ہوئی تھی اور ہم بہت دیر تک ملکی حالات پر گفتگو کرتے رہے تھے۔ وہ میرے بارے میں ایک مضمون لکھنا چاہتی تھی جو کسی غیر ملکی اخبار میں شائع ہوتا۔ وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہوں گے یہ تصور کر کے مجھے جھرجھری آگئی۔ الحمرا اسٹریٹ پر دکانیں کھلی ہوئی تھیں لیکن ان کے مالکان دکانوں کے باہر بیٹھے تھے۔ چینی مصنوعات بیٹھنے والے اپنا سستا سامان گلیوں میں بیچتے دکھائی دے رہے تھے۔ ہر شخص سستی چینی اشیا کی خریداری کے لیے دوڑ رہا تھا۔ فروخت کرنے والوں میں کئی چینی عورتیں دکھائی دے رہی تھیں جو گاہکوں سے ٹوٹی پھوٹی عربی میں باتیں کررہی تھیں۔ میری صحافی دوست خاتون جیل پہنچ چکی تھی اور مجھے یہ جان کر خوشی ہورہی تھی کہ اسے میرے گھر کا پتہ نہیں معلوم تھا۔ اس کی گرفتاری یقینی طور پر میری وجہ سے عمل میں آئی تھی۔ وہ اس کے ذریعے مجھ تک پہنچنا چاہتے تھے۔ اکثر یہ ہوتا تھا کہ جو صحافی میرے ساتھ دیکھا جاتا اگلے دن اسے گرفتار کرلیا جاتا۔ کیسی عجیب بات تھی کہ میں ہر مرتبہ گرفتاری سے بال بال بچتی تھی یا شاید میری قسمت اچھی تھی کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کرپاتے تھے۔ میں نے اپنی ایک اور دوست کو ٹیلی فون کیا۔ اس نے فوراً رسیور اٹھالیا اور ہم کچھ دیر گفتگو کرتے رہے۔ اس سے گفتگو کر کے مجھے دلی خوشی محسوس ہوئی۔ اس شہر میں خوف اور موت کے معنی بدل گئے تھے۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ہماری زندگی کے معنی بھی تبدیل ہورہے تھے۔ میری پوری توجہ اب اس پر تھی کہ میں انٹرنیٹ کے بغیر کیا کرسکتی ہوں؟ ہمارے تمام رابطے کاٹ کر ایسا لگتا تھا جیسے وہ ہمیں اعضا سے محروم کررہے ہوں جب کہ ہم ابھی تک زندہ تھے۔ بازار میں گھومتے ہوئے مجھے یہ خبر ملی کہ شامی فوج نے ٹینکوں کے ساتھ درعا کے قریب کپاس کے قصبے پر حملہ کردیا ہے اور 12 شہری اب تک ہلاک ہوچکے ہیں۔ جمعہ کو حمص پر فوج کے حملے میں 19 شہری شہید ہوئے تھے۔ ان شہروں میں اموات اور جنازے اب روز کا معمول ہوگئے تھے۔ ہر مرتبہ جب شامی ایک شہید کی نماز جنازہ کا اہتمام کررہے ہوتے تو کوئی دوسرا شہید ہو جاتا۔ کچھ دیر کے بعد مجھے اپنی ایک براڈکاسٹر دوست کا ٹیلی فون وصول ہوا۔ وہ ایک خاتون صحافی تھی اور میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ہماری ملاقات ممکن ہے؟ حکمرانوں کی شقوت اور سنگدلی کی کوئی حد نہیں تھی۔
حکومت کے کارندے عام لوگوں میں خود اپنے دشمن سونگھتے پھرتے تھے اور جس کو چاہتے اسے باغی قرار دے کر اٹھا لیتے اور اگر دوسری جانب سے مزاحمت ہوتی تو وہیں گولی مار کر قصہ چکا دیتے۔ سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ اتنا خون خرابہ دیکھ کر اب لوگوں کے دلوں سے انسانیت کا درد ختم ہوتا جارہا تھا اور وہ پتھر دل ہوتے جارہے تھے۔ سرکاری ٹیلی ویژن چینل لوگوں میں بیچینی پھیلا رہے تھے اور انہیں خوف و ہراس میں مبتلا کررہے تھے جبکہ الدنیا چینل لوگوں کے درمیان نفرتوں کو فروغ دے رہا تھا۔ اس چینل سے جھوٹی خبریں سنائی جاتی تھیں اور متضاد نقطہ ہائے نظر پیش کیے جاتے تھے۔ میرا تعلق علویوں سے تھا اور اس بنا پر ہر جگہ علویوں سے میرے خاندانی روابط تھے۔ میں ایک عورت تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ افواہوں اور میری کردار شکنی سے مجھ کو توڑا جاسکتا ہے۔ ٹیلی ویژن چینلوں میں میرے تمام دوست جن کو درعا میں تشدد کا نشانہ بننے والے بچوں سے ہمدردی تھی اور جو اس شہر کا محاصرہ ختم کرنے کی اپیل کررہے تھے ان کو کردار شکنی کا نشانہ بنایا جارہا تھا اور انہیں کھل کر سازشی کہا جارہا تھا۔ ان میں سے بہت سے مختلف چینلوں پر پیش ہو کر اپنی صفائیاں بھی پیش کررہے تھے۔ جو دوست شہدا کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ان کو ٹیلی ویژن چینلوں پر میزبانوں کی جانب سے توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا جاتا اور بعض اوقات انہیں سازشی کہا جاتا۔ اس کے علاوہ ان پر غیرملکی جاسوس ہونے کا الزام بھی لگایاجاتا۔ تھوڑے ہی عرصے میں لوگ اس سلوک پر اتنے خوفزدہ ہوگئے کہ اب انہوں نے ایک دوسرے سے ہمدردی کرنا بھی چھوڑدی تھی۔ اس طرح کے ذہنی تشدد کے ذریعے اب وہ انسانی فطرت کو نکال پھینکنے کی کوشش میں تھے۔ لوگوں کو اس انداز میں قتل کیا جاتا تھا کہ دیکھنے والے اسے طویل عرصے یاد رکھیں اور ان کی روحیں تک چھلنی ہو جائیں۔ میں نے اپنی ایک صحافی دوست کا انٹرویو ریکارڈ کیا جو شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کے لیے کام کیا کرتی تھی۔ یہ غریب لڑکی تشدد دیکھ دیکھ کر اب دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔ اس کی شخصیت دو ٹکڑوں میں بٹ گئی تھی۔ وہ صرف اس شرط پر انٹرویو دینے کو تیار ہوئی کہ میں اس کا نام نہیں لوں گی۔ اس نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ شام کا سرکاری میڈیا شامی عوام کو دو کیمپوں میں تقسیم کررہا ہے یعنی حکومت کے حامی اور مخالف۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر آپ کسی حکومت مخالف مظاہرے میں شریک ہیں تو لازمی طور پر آپ کا تعلق کسی مسلح گروہ یا عسکریت پسندوں سے ہے۔ جمہوری جدوجہد تو اب بھولی بسری کہانی تھی۔جن قوتوں نے عرب بہار کی نام نہاد جمہوری تحریک شروع کروائی اب وہ خاموشی سے کٹا چھنی اور قتل و غارتگری کا تماشادیکھ رہے تھے۔ یہ ثابت ہوچکا تھا کہ ان پراسرار قوتوں کو جمہوریت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
جمہوریت کا مطالبہ کرنے والوں کو ظلم اور جبر کا نشانہ بنا کر شہید کیا جارہا تھا اور ان کے بارے میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی تھی کہ ان کا تعلق اسرائیل سے ہے۔ میں نے الدنیا نیٹ ورک پر دیکھا کہ ایک نوجوان کو خود اپنے والد کو قبول کرنے سے انکار کرنے پر مجبور کیا گیا کیونکہ ان کا تعلق اپوزیشن سے تھا۔ ان چینلوں سے ان فوجیوں کی لاشوں کی دہشت ناک تصویریں دکھائی جاتی تھیں لیکن ان مردہ شہریوں کی لاشوں کی تصویریں پیش نہیں کی جاتی تھیں جو روزانہ فورسز کے ظلم و ستم اور فائرنگ کا نشانہ بنتے تھے۔ اس طرح لوگوں کو لوگوں کے خلاف نفرت میں مبتلا کیا جارہا تھا۔ اب یہ شقی القلب لوگ ٹیلی ویژن پر مظلوم عوام کے بارے میں یہ تک کہتے دکھائی دیتے تھے کہ ان کو اﷲ کبھی معاف نہیں کرے گا کیونکہ یہ قوم کے غدار اور سازشی ہیں۔ اس طرح اللہ کا نام لے کر جھوٹ بولتے ہوئے ان لوگوں کی زبانیں نہیں تھرتھراتی تھیں۔ سرکاری میڈیا اپنا تمام تر فن لوگوں کے جذبات کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے کے لیے استعمال کررہا تھا۔ سرکاری ٹیلی ویژن سے حب الوطنی کے نغمے سنائے جاتے تھے اور وطن سے محبت کی باتیں کی جاتی تھیں۔ ایک دفعہ ایک بچی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک پروگرام میں ایک نظم سنائی جس میں صدر کی تعریف کی گئی تھی۔ پروگرام کے بعد میں نے اس بچی سے پوچھا ’سوئٹی تم اپنے صدر سے کیوں محبت کرتی ہو؟ ‘ بچی میرے سوال کا کوئی جواب نہ دے سکی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شامی میڈیا زیادہ سے زیادہ نظریاتی اور آمرانہ طرز اختیار کرتا گیا۔ ہم اپنے پرگراموں میں کسی قسم کی اصلاحات کی بات نہیں کرسکتے تھے۔ سب سے پہلے جو خبریں نشر ہوتیں وہ صدر کی مختلف شہریوں اور حکام سے ملاقات کے بارے میں ہوتیں۔ اس کے بعد پیش کی جانے والی خبریں مختلف مسلح گروہوں کے بارے میں ہوتیں یہ خبریں وزارت داخلہ سے تیار حالت میں بیٹھی جاتیں اور انہیں ایڈٹ کیے بغیر نشر کرنا ضروری ہوتا۔ شام میں اب ایسے حالات پیدا ہوچکے تھے کہ فلسطین کا مسئلہ پس منظر میں چلا گیا تھا۔ جب ہم صحافی اپنی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے تو ہمیں سیکورٹی فورسز کے ساتھ سڑکوں پر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ ہم مظاہرین سے مل سکیں اور سچ جان سکیں۔ لیکن ہمیں اس کی اجازت کبھی نہیں دی گئی۔ شام کے اندر تمام غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں پر پابندی تھی۔ تمام خبریں سرکاری نیوز ایجنسی ایس اے ایم اے سے جاری ہوتیں۔ تمام احکامات ٹیلی فون پر آتے کیونکہ ہر ایک خوف زدہ تھا۔ ایک دفعہ ایک لبنانی ترجمان نے شامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن اسٹیشن کا دورہ کیا۔ وہاں ایک سیاسی مذاکرے میں گفتگو کرتے ہوئے اس نے دریافت کیا کہ یہاں پر مخالفین کو بولنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی؟ سرکاری میڈیا سے ہمیشہ یکطرفہ موقف پیش کیا جاتا تھا اور دوسرا نقطہ نظر کبھی پیش نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کسی ٹیلی ویژن چینل پر کسی صحافی کو اس وقت تک بطور براڈ کاسٹر یا میزبان ملازمت نہیں مل سکتی تھی جب تک اسے بعث پارٹی کی علاقائی کمان کی سفارش حاصل نہ ہو۔ شام کا میڈیا حقیقی صحافت کی عکاسی نہیں کرتا تھا۔ سرکاری نیوز ایجنسی یا سرکاری اداروں سے پریس ریلیز کی شکل میں جو خبریں آتیں انہیں بغیر ایڈٹ کیے اسی شکل میں جاری کردیا جاتا۔ خبروں سے لے کر مہمانوں کے انتخاب تک ہر چیز پر سینسر شپ عائد تھی۔
مندرجہ بالا صورتحال سرکاری ٹیلی ویژن کی ملازم اس خاتون صحافی نے انٹرویو میں مجھے بتائی تھی۔ آج میں جاننا چاہتی تھی کہ مختلف شہروں میں کیا واقعات ہوئے ہیں۔ سقبا کے شہر میں بڑے پیمانےپر فوجی نقل و حرکت دیکھنے میں آئی۔ درعا میں شامی ٹینک پہلے ہی موجود تھے۔ مختلف عمارتوں کی چھتوں پر فوج نے اپنے نشانچی بٹھا رکھے تھے۔ گلیوں میں نکلنے والوں کو یہ نشانچی جب چاہتے گولی کا نشانہ بنا دیتے۔ قتل و غارتگری پوری شدت کے ساتھ جاری تھی۔
9 مئی 2011
میں بالآخر یہ جاننے میں کامیاب ہوگئی کہ مظاہروں کی تحریک کیوں شروع ہوئی؟ پہلے مرحلے میں مظاہرین صرف ایک مطالبہ لے کر سڑکوں پر آئے کہ ان کو ان کے بنیادی حقوق دیے جائیں۔ شام میں خواتین کی عزت کی جائے۔ سیکورٹی فورسز کے لوگ عوام کے ساتھ ذلت اور ناانصافی کا سلوک نہ کریں۔ ملک میں جمہوری ادارے قائم کیے جائیں اور عوام کو اس کی اجازت دی جائے کہ وہ اپنے نمائندوں کے انتخاب کے ذریعے حکومت تبدیل کرسکیں۔ یہی ایک جمہوری معاشرے کا تقاضہ ہے۔ ہر شہر میں اسی نوعیت کے مطالبات پیش ہوئے اور جب سیکورٹی فورسز اور سرکاری ٹھگوں کی تنظیم شبیہہ نے لوگوں کو اٹھانا اور قتل کرنا شروع کیا تو پرامن جمہوری تحریک کا رنگ بدلنے لگا۔ آخر میں تمام شامی مظاہرین کا واحد مطالبہ یہ تھا کہ حکومت کا خاتمہ کیا جائے۔ میں لوگوں سے مسلسل ملتی رہی اور یہ دیکھتی رہی کہ ہر شامی شہری کا مطالبہ بالکل واضح اور نمایاں تھا۔ آج میں بنیاس جارہی تھی۔ اس شہر میں جو نوجوان جمہوری تحریک کے روح رواں تھے ان میں سے ایک مجھ سے ملاقات کرنے میرے ایک وکیل دوست کے ساتھ آیا۔ ان کا تعلق بنیاس سے تھا۔ اگرچہ یہ بتانا بے حد خطرناک تھا کہ میں کہاں رہائش پذیر ہوں۔ لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ میرے دوست نے مجھے یقین دلایا کہ یہ نوجوان قابل اعتبار ہے۔ اگرچہ اب کسی کا قابل اعتبار ہونا کوئی حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ قید اور ٹارچر ہر شخص کو توڑ کر رکھ دیتا تھا۔
یہ نوجوان 20 سال سے زیادہ عمر کا تھا۔ اس نے مجھ سے ہاتھ نہیں ملایا کیونکہ میں ایک خاتون تھی اوریہ نوجوان مذہبی طبیعت رکھتا تھا۔ وہ شدت پسند نہیں تھا اور وہ بے حد نرم لہجے میں بات کرنے والا تھا اور ایک ایک لفظ توڑ کر بولتا تھا۔ اس کے بارے میں میری رائے یہ تھی کہ وہ ایک بنیاد پرست مسلمان ہے جو عورتوں کے بارے میں خاص نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ اس کا نام عابد تھا۔ میرے تعارف کے بغیر میں نے اس سے کہا کہ بنیاس میں جو کچھ ہوا اس کے بارے میں وہ تفصیل بیان کرے۔ اس نے کہنا شروع کیا :’میں اپنے دادا کے گھر میں تھا۔ ہمارے گھر سے کچھ دور ابن خلدون بلڈنگ میں 50 فوجی ٹھہرے ہوئے تھے۔ مکانوں کی چھتوں پر فوجی بیٹھے تھے اور بنیاس کے لوگوں نے ان کی خوب مہمان داری کی۔ فوج بھی ان سے تعاون کررہی تھی۔ المرقب میں فوج نے کچھ گھروں کی تلاشیاں لیں اور اس کے بعد واپس چلے گئے۔ اس وقت تک فوج کسی قتل و غارت گری میں ملوث نہیں ہوئی تھی لیکن تمام قتل و غارتگری پولیس اور الشبیہہ کر رہی تھیں۔ میں نے خود اپنے آنکھوں سے ایک اتوار کو انہیں عوام پر فائرنگ کرتے دیکھا۔ جب فوج نے انٹرنیشنل روڈ سے پیش قدمی شروع کی تو میں ایک چھت پر اپنی دوربین کے ساتھ کھڑا تھا۔ فوجی یونٹوں نے سڑک کی جانب سے بڑھنا شروع کیا۔ یہ عجیب و غریب صورت حال تھی۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کبھی فوجی اتنے غیر پیشہ ور انداز میں کارروائی کرتے ہیں۔ شاید ان کو یہی بتایا گیا تھا کہ آگے عسکریت پسند چھپے ہوئے ہیں۔ اس وقت فوجی بھی قاتلوں کی طرح حملہ کررہے تھے۔ فوج نے شہریوں کے گھروں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ انہوں نے پانی کی ٹنکیاں تباہ کردیں اور راس النبا پل کو دھماکے سے اڑا دیا۔ میں نے دیکھا کہ گولیاں بارش کے قطروں کی طرح برس رہی تھیں۔ اس دوپہر تک فوج کسی مزاحمت کے بغیر شہر میں داخل ہوگئی اور اس نے ایک کے بعد ایک مکان کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ دوربین سے دیکھنے کے باوجود میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ کیا واقعہ رونما ہوا؟ لیکن فوج کو کہیں بھی کسی مزاحمت کا سامنا نہیں تھا۔ اس لئے کہ وہاں صرف شہری تھے اور انہیں فوج سے لڑنے کی کوئی ضرورت نہین تھی۔ کچھ لوگوں نے بعد میں مجھے بتایا کہ اس وقت پولیس اور الشبیہہ کے کارندے عام شہریوں کو زدوکوب کررہے تھے اور گولیوں کا نشانہ بنا رہے تھے۔ اگلے دن صبح میں اپنے محلے کی مسجد کے مینار پر چڑھ گیا۔ وہاں سے میں نے دیکھا کہ مکانوں کی چھتوں پر پولیس قابض ہوچکی تھی جب انہوں نے مجھے مینار پر چڑھے ہوئے دیکھا تو مجھے نیچے اترنے کا حکم دیا۔ فوج الکوض پل سے آگے بڑھی اور ہم مسجد سے باہر نکل آئے تو اس کے بعد پولیس اور شبیہہ کے منظر سے باہر ہوگئے۔ شہریوں نے فوجی کمانڈروں سے نہتے شہریوں پر الشبیہیہ اور اس کی سہولتکار پولیس کے ظلم کی شکایتیں کیں۔ شہریوں اور فوج کے درمیان یہ معاہدہ ہوا کہ الشبیہہ اور پولیس کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن فوج شہر میں داخل ہوسکے گی۔ شام کے وقت ہم لوگ فوجیوں کے ساتھ گھل مل گئے۔ ان میں سے ایک فوجی نے ہمیں بتایا کہ فوج کو کسی دشمن عسکریت پسند گروہ سے لڑنے کے لیے طلب کیا گیا ہے لیکن جب فوج کو یہاں صرف عام شہری اور مسجد کے موذن نظر آئے تو انہیں احساس ہوا کہ ان کا واسطہ غیرمسلح شہریوں سے ہے۔ بنیاس کے لوگوں نے فوج کوبتایا کہ ہم لوگ یہاں کے شہری ہیں۔ کچھ فوجیوں نے بتایا کہ ان کے ساتھیوں کو اچانک حملہ کر کے ہلاک اور زخمی کیا گیا ہے۔ ان پر یا تو پیچھے سے حملہ کیا گیا یا ان کے سر میں براہ راست گولیاں ماری گئیں۔ میں نے اس فوجی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے عین البائدہ میں فوجیوں کی لاشوں پر کچھ لوگوں کو ناچتے ہوئے دیکھا۔ اس نے غمگین لہجے میں کہا کہ یہ سب حقیقت ہے لیکن ان تصویروں سے زیادہ مایوس کن بات یہ ہے کہ یہ حملے فوج پر شہریوں کی جانب سے نہیں کیے گئے۔ فوجیوں پر پیچھے سے حملہ کیا گیا تو اس وقت اس حملے کی فلم بندی کی جارہی تھی اور فلم بندی کرنے والے پولیس اور شبیہہ کے لوگ تھے۔اس سے پتہ چلا کہ فوج ابھی تک پوری طرح استعمال ہونے کے لئے تیار نہیں تھی لیکن اس پر حملے کرکے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ حملہ آور عسکریت پسند ہیں۔
بنیاس کا قصبہ ابھی تک حکومت کے کنٹرول میں نہیں تھا شہر میں کوئی پولیس فورس یا جنگجو نظر نہیں آتے تھے۔ شہر میں امن و امان کا سارا کام مقامی رضاکار انجام دے رہے تھے۔ جب ضرورت ہوتی ہوٹل اور دکانیں کھول دی جاتیں۔ اس وقت تک شہر میں غنڈہ گردی کا ایک بھی واقعہ نہیں ہوا نہ کسی دکان کو شٹر توڑ کر اسے لوٹا گیا اور نہ کسی شخص کو گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ سچی بات یہ ہے کہ جب فوج پہلی مرتبہ شہر میں داخل ہوئی تو ہمارا اصرار تھا کہ فوج ہماری حفاظت کے لیے یہاں موجود رہے۔لیکن ہم پولیس اور الشبیہہ پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ لوگوں کے درمیان کچھ ایسے بھی تھے جو پولیس اور الشبیہہ کے ایجنٹ تھے۔ وہ لوگوں میں مایوسی پھیلا رہے تھے۔ کچھ عرصے تک فوج اس شہر میں حفاظتی فرائض انجام دیتی رہی لیکن تھوڑے ہی عرصے کے بعد فوج کو واپس بلالیا گیا اور ان کی جگہ پولیس بھیج دی گئی۔ جس نے چند ہی دنوں میں چار خواتین کو گولی مار کر شہید کردیا اس کے علاوہ درجنوں دوسرے لوگ زخمی ہوئے۔ دو دن کے بعد فوج کے نئے دستے شہر میں داخل ہوئے لیکن یہ پہلے والے فوجی دستے نہیں تھے۔ انہوں نے آتے ہی شہر میں آپریشن شروع کیا۔ وہ پورے پورے خاندانوں کو گرفتار کر کے لے گئے۔ اس کارروائی کا مقصد پورے شہر کی آبادی کو گھٹنوں پر جھکنے پر مجبور کرنا تھا۔ کیونکہ یہ شہر حکومت کے کنٹرول سے باہر تھا اور یہاں حکومت مخالف مظاہرے ہورہے تھے لیکن اس دوران امن و امان قائم رہتا تھا اور تشدد کا کوئی واقعہ نہیں ہوتا تھا۔ حکومت کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ تمام مظاہرے بند کردیے جائیں لیکن لوگوں نے انکار کردیا۔ ان خواتین کو گولیاں مارنے والے لوگ شبیہہ کے غنڈے تھے جبکہ الشبیہہ کے ان غنڈوں کی حفاظت پولیس کررہی تھی۔
میں نے اس سے پوچھا کہ بنیاس میں اس دوران سماجی صورت حال کیسی تھی؟
اس نے بتایا کہ،’’ہم ہر وقت الرٹ رہتے تھے اور راتوں کو شفٹوں میں پہرہ دیتے تھے تاکہ اپنے لوگوں کی حفاظت کرسکیں۔جب ہماری ٹیلیفون لائنیں منقطع کردی گئیں تو ہماری عورتوں نے جنگ کی تیاری شروع کردی۔ ہم فوج سے خوف زدہ نہیں تھے ہم کو اصل خوف الشبیہہ اور پولیس سے تھا۔شہریوں نے فوج کا خیرمقدم کیا کیونکہ فوج شہریوں کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہیں تھی۔ لیکن پولیس، انٹیلیجنس اور الشبیہہ ملیشیا صرف بشار الاسد وفادار تھے۔وہ شام کے وفادار نہیں تھے۔انہوں نے جمہوریت کی پرامن جدوجہد کو فرقہ واریت میں تبدیل کردیا۔بنیاس میں بہت کم لوگ فرقہ واریت میں یقین رکھتے ہیں لیکن پولیس، انٹیلیجنس اور الشبیہہ ملیشیا نے ان جذبات کو فروغ دیا۔ فوج کے جو دستے دیانتداری سے امن قائم کرنے کوشش کررہے تھے ان کو دھوکہ دے کر الشبیہہ ملیشیا نے نشانہ بنایا اور یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ جیسے کچھ غیر ملکی عسکریت پسند شام پر حملہ آور ہیں۔ اس دوران سنیوں اور علویوں میں سے کسی کی مساجد میں فرقہ ورانہ تقریریں نہیں ہوئیں۔ ہمارے مظاہروں میں ایک علوی پروفیسر بھی شریک ہوتا تھا۔ اسی طرح بہت علویوں کے گاؤں ہمارے مظاہروں میں شریک ہوتے تھے‘‘میں نے اس سے سوال کیا کہ ندال جنود کی کہانی کیا ہے اور اسے کیوں قتل کیا گیا؟
اس نے بتایا کہ ’’ندال جنود ایک اسنائپر رائفل کے ساتھ ایک قبرستان میں چھپا ہوا تھا اور وہاں سے گزرنے والوں پر فائر نگ کررہا تھا۔ میرا خیال یہ ہے کہ اس کا کوئی عزیز مارا گیا تھا اور وہ اس کا انتقام لینا چاہتا تھا۔ لیکن یہ انتقام اور دشمنی کا انفرادی کیس تھا ۔ لوگ ابھی تک ایک دوسرے کو صرف فرقہ واریت کی بنیاد پر قتل کرنے کو تیار نہیں تھے۔ لیکن کب تک ؟ ایک وقت ایسا آسکتا ہے کہ جب بشار الاسد کی انتظامیہ اور الشبیہہ کی سازشیں کامیاب ہوجائیں گی ۔(جاری ہے)
بنیاس کا ایک نوجوان مجھے وہاں کے حالات بتارہا تھا۔’’ندال جنود کو کس نے گرفتار کیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
وہ بولا ’’ندال جنود کو کسی نے گرفتار نہیں کیا۔ یہ عام جاہل دیہاتی نوجوان تھے اور ان کا ان مظاہروں سے کوئی تعلق نہیں تھا انہوں نے ندال جنود پر حملہ کیا کیونکہ وہ اپنے جنون میں ہر گزرنے والے پر فائرنگ کررہا تھا۔ پورا شہر انارکی کا شکار تھا اور اس قسم کے تشدد اور کشیدگی میں کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ ہم نے ایک شخص کو کریمنل سیکورٹی سے پکڑا لیکن بعد میں چھوڑ دیا۔ ایک فوجی کو بھی پکڑا گیا ہم نے اس سے پوچھ گچھ کی اور اسے جانے دیا۔ ہم نہ تو تشدد کرتے تھے اور نہ ہماری سوچ فرقہ وارانہ تھی۔ ہم لوگوں کو تشدد پر اکساتے نہیں تھے حالانکہ شہر میں جیسی صورتحال تھی اس میں تشدد کے واقعات عام تھے۔ جب کچھ شہریوں نے ایک مسلح قافلے کو کنٹرول میں لیا توان کو ان کے ہتھیاروں سمیت براہ راست شامی فوج کے حوالے کردیا۔ اس گروپ کے پاس بنیاس شہر کے نقشے اور کاغذات تھے اور اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ ان کے عزائم درست نہیں تھے۔ جہاں فوجیوں کی بس پر حملہ ہوا وہ بھی بے حد عجیب واقعہ تھا۔ یہ فوجی قطعی غیر جانبدار تھے اور عام سے انداز میں بس سے باہر اترے تھے کہ اچانک ان پر فائرنگ شروع ہوگئی۔ یہ بس لطاکیہ سے آئی تھی اور اس پر مسلسل ایک گھنٹے تک فائرنگ ہوتی رہی۔ میں نے یہ پورا واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن میں یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ فائرنگ کس جگہ سے ہورہی تھی۔ کیونکہ میں سمندر کی طرف تھا۔ میں نے فوجیوں کو سکون سے اس بس سے اترتے دیکھا۔ وہ کسی حملے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کا انداز ایسا تھا کہ جیسے ان کو بس سے اترنے کا حکم ملا ہے لیکن جونہی انہوں نے بس سے باہر قدم رکھا ان پر حملہ ہوگیا۔ یہ مشین گنوں کا فائر تھا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ فائرنگ الشبیہہ کی جانب سے کی جارہی تھی۔ میں الشبیہہ کے بہت سے ایجنٹوں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور بعد میں پتہ چلا کہ یہ لوگ فوجیوں پر حملہ کرنے والوں میں شامل تھے‘‘۔
میں اس حقیقت سے واقف تھی کہ بنیاس کے شہری قاتلوں کو جانتے تھے کیونکہ وہ ان لوگوں کے ساتھ رہتے رہے تھے۔ لیکن شہری اپنی زبانیں بند رکھنے پر مجبور تھے کیونکہ فوجیوں پر یہ حملہ الشبیہہ نے صرف اس لیے کیا تھا کہ اس کا الزام جہادیوں پر عائد کیا جاسکے۔ حالانکہ بنیاس میں اس وقت ایک بھی جہادی موجود نہیں تھا۔ بعد میں بشارالاسد کے میڈیا چینلوں، اخبارات، نیوز ایجنسیوں اور ریڈیو اسٹیشنوں سے زوردار پروپیگنڈا شروع کردیا گیا کہ سنی جہادیوں کے ایک گروپ نے فوج کی بس پر اچانک شب خون مارا ہے۔ میڈیا سے بار بار یہ بات دہرائی جارہی تھی کہ فوج غیرملکی جہادیوں سے شام کی حفاظت کے لیے طلب کی گئی ہے اور فوجی شامیوں کے تحفظ کیلیے جانیں دے رہے ہیں۔ بنیاس کے شہری بزدل نہیں تھے لیکن وہ الشبیہہ کی سازشوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔ میں ان لوگوں کو اچھی طرح جانتی تھی۔ صدیوں سے سنی اور علوی ایک ساتھ رہتے آئے تھے۔ ان کی باہم رشتہ داریاں تھیں اور وہ ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھاسکتے تھے۔ ایک غریب علوی کسان کو اسی طرح زیادتی اور ظلم کا نشانہ بنایا جاتا تھا جس طرح سنی اس زیادتی کا نشانہ بنتا تھا۔ بشارالاسد کی انتظامیہ کی جانب سے جمہوری جدوجہد کو فرقہ واریت میں تبدیل کرنے کے لیے یہ تمام سازشیں کی جارہی تھیں۔ کیونکہ شروع میں شامی فوج نے عوام پر گولی چلانے سے انکار کیا تھا اس لیے فوج کو فریق بنانے کے لیے الشبیہہ کے جنگجو حملے کررہے تھے اور شامی میڈیا اس کا الزام سنیوں پر عائد کررہا تھا۔
میں نے اس سے پوچھا ’’کیا تم بتاسکتے ہو کہ یہ مظاہرے کب شروع ہوئے؟‘‘ اس نے جواب میں کہا ’’یہ مظاہرے 15 مارچ سے پہلے شروع ہوگئے تھے۔ شیخ الف (ان کا اصل نام میں نے پوشیدہ رکھا ہے۔) ایک سنی خطیب تھے اور مختلف مساجد میں خطبہ دیا کرتے تھے۔ وہ اپنے خطبوںمیں اکثر ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھاتے تھے۔ انہوں نے بنیاس ریفائنری سے پھیلنے والی آلودگی کے خلاف بھی مہم چلائی تھی۔ کیونکہ وہ عوام کے مسائل کا اپنی تقریروں میں تذکرہ کرتے تھے اس لیے ان کو سنیوں کے علاوہ علوی بھی پسند کرتے تھے۔ 18 مارچ کو نماز کے دوران ہم نے دیکھا کہ بہت ساری کاریں مسجد کے باہر آکر رکی ہیں اور ان سے بڑی تعداد میں لوگ باہر نکل رہے ہیں۔ شیخ الف نے کہا کہ میں نے کسی کو نہیں بلایا ہے اور لوگ اپنی مرضی سے میری تقریریں سننے آتے ہیں۔ نماز کے بعد مظاہرے ہونے تھے۔ ایک بڑا مظاہرہ بلدیہ کے چوراہے پر ہوا لیکن یہ اصل منصوبہ بندی کا حصہ نہیں تھا۔ بدھ کے دن العمری مسجد پر حملے اور درعا کے واقعات کے بعد لوگ اچانک اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے مختلف شہروں میں مظاہرے شروع کردیے۔ لیکن بناس میں ہماری کوشش تھی کہ لوگ پرسکون رہیں اور اپنے مطالبات کی منظوری کا انتظار کریں۔ چنانچہ شیخ نے اعلان کیا کہ کوئی شخص سڑکوں پر مظاہرے کے لیے نہیں نکلے گا۔ کیونکہ اس سے کشیدگی بڑھ جائے گی اور دشمن فائدہ اٹھائیں گے۔ شیخ نے اپنے خطبے میں کہا ’’اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے کہ حکمت سے کام لو، تدبیر اختیار کرو اور صبروتحمل کا مظاہرہ کرو۔ لیکن درعا میں جس طرح لوگوں کا قتل عام کیا گیا تھا اس کا ردعمل ہر جگہ ہورہا تھا۔ بنیاس اس سے بچ نہیں سکتا تھا۔ شیخ لوگوں کو روکتے رہے لیکن لوگ مظاہرے کرتے رہے۔ القبایت مسجد میں شیخ مصطفی ابراہیم نے اپنی تقریر میں لوگوں کو مظاہروں میں جانے سے منع کیا اور کہا کہ ان مظاہروں سے افراتفری اور انارکی پھیل رہی ہے۔ کچھ لوگ ان کے خلاف ہوگئے اور ان پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ منبر پر تھے۔ ہم مسلسل کوشش کرتے رہے کہ لوگ اشتعال میں نہ آئیں لیکن یکے بعد دیگرے ایسے واقعات ہوتے رہے کہ جن سے کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔ جو لوگ گھروں سے باہر نکلے تھے اور مظاہرے کررہے تھے ان کے پاس بھی ایسا کرنے کا جواز تھا۔ لیکن ان کا واسطہ کسی جمہوری حکومت سے نہیں تھا جس کو یہ خوف ہوتا کہ اس کی زیادتیوں کا اسے نقصان ہوگا۔ ایک آمر کو نہتے شہریوں سے کیا خطرہ ہوسکتا تھا؟‘‘۔
میں نے دریافت کیا کہ فوج نے کب پہلی مرتبہ کب تعاون کرنا شروع کیا اور پولیس اور الشبیہہ کے ساتھ رابطہ کیا؟
اس نے جواب میں کہنا شروع کیا کہ ’’میں اس بارے میں بالکل درست تاریخ نہیں بتاسکتا لیکن شاید یہ اپریل کا پہلا ہفتہ تھا۔ اس سے پہلے کہ لوگ البائدہ میں داخل ہوتے اس قصبے کے تمام مواصلاتی رابطے کاٹ دیے گئے۔ لوگ خوفزدہ ہوگئے اور باہر سے کسی حملے کی توقع کرنے لگے۔ انہوں نے تیاری شروع کردی۔ انہوں نے طلوع سحر سے پہلے ہی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ شہری خوفزدہ تھے لیکن انہیں خوف سے نجات دلانے کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔ ان کی حفاظت کے لیے پولیس بھی موجود نہیں تھی۔ عورتوں نے خوفزدہ ہو کر اپنا دفاع کرنے کے لیے لاٹھیاں اٹھالی تھیں۔ جب مسجدوں میں فجر کی جماعت ختم ہوئی اور لوگ مسجدوں سے باہر نکلنا شروع ہوئے تو میں نے باہر فائرنگ کی آوازیں سنیں۔ یہ ایک کار تھی جس سے چاروں طرف فائرنگ کی جارہی تھی۔ گولیاں بارش کی طرح برس رہی تھیں۔ کسی نے مجھے بتایا کہ ’’مسجد القبایت کے شیخ مصطفی ابراہیم شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ میں اور چار دیگر افراد ان کی مدد کے لیے بھاگے۔ ان کا جسم گولیوں سے چھلنی تھا۔ ہم ان کو مرنے سے نہ بچاسکے۔ جس کار سے فائرنگ ہوئی وہ آگے کی طرف بڑھی تو کچھ لوگ اس کے تعاقب میں اپنی گاڑیوں میں روانہ ہوئے۔ لیکن حملہ آور مسلح تھے اور یہ تعاقب خطرناک تھا۔ کچھ دور جا کر حملہ آوروں کی کار اُلٹ گئی اور اس میں سے کچھ لوگ نکل کر بھاگ گئے۔ جب تعاقب کرنے والی کار وہاں پہنچی تو حملہ آوروں نے فرار ہونے سے پہلے اس میں آگ لگادی تھی تاکہ اس کی شناخت نہ ہوسکے۔ لیکن شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھائی اور کار کا رجسٹریشن نمبر دیکھا۔ یہ کار الشبیہہ کی ملکیت تھی اور جس شخص کے نام پر رجسٹرڈ تھی وہ جانا پہچانا آدمی تھا۔ یہ لوگ ناصرف الشبیہہ سے تعلق رکھتے تھے بلکہ ان کا پولیس سے بھی تعلق تھا۔ ہم نے اس سے پہلے القوز پل پر الشبیہہ کے کارندوں کی تصویریں بنائی تھیں جو پولیس اور فوج کو بتا رہے تھے کہ کن علاقوں میں حملہ آور ہیں اور ان کو نشانہ بنایا جائے؟ حالانکہ ان علاقوں میں غیرمسلح شہری تھے‘‘۔
میں نے اس سے پوچھا ’’فوج پر فائرنگ کہاں سے کی گئی تھی؟‘‘ اس نے جواب میں کہا ’’فوج پرفائرنگ پیچھے سے کی گئی۔ اس حملے میں جتنے فوجی ہلاک ہوئے ان کی پشت پر گولیاں لگی تھیں۔ یہفائرنگ ایک مشہور شخص ایف ایچ کے گھر سے کی گئی جو الشبیہہ سے تعلق رکھتا تھا۔ بنیاس کا شہر ایک ماہ تک بند رہا۔ اتنے بڑے پیمانے پر ناانصافی اور خون خرابہ ہوچکا تھا کہ اب ہر شخص لڑنے مرنے کو تیار تھا۔ لوگوں کے گھروں کے دروازے اس لیے توڑ دیے جاتے تھے کہ ہتھیار تلاش کیے جائیں لیکن شہریوں کے پاس ہتھیار کہاں تھے۔ البائدہ میں تلاشی کی مہم کے دوران ایک شخص حاتم کو گولی ماردی گئی۔ حالانکہ وہ ایک عیسائی تھا اور ان مظاہروں میں فریق نہیں تھا۔ سرکاری میڈیا پروپیگنڈا کررہا تھا کہ سنی علاقوں میں سلافیوں کا کنٹرول ہے۔ حالانکہ ان علاقوں میں کوئی بھی سلافی نہیں تھا۔ ایک ساٹھ سالہ عورت کے گھر پر حملہ ہوا۔ سرکاری میڈیا نے یہ ظاہر کیا کہ اس کا تعلق سلافیوں سے تھا حالانکہ وہ بھی عیسائی تھی۔ میں نے اس کے گھر کی فلمیں بنائیں اور بعد میں ان فلموں کو انٹرنیٹ سے جاری کیا۔ اس کے گھر میں گولیوں کے ہزاروں نشانات تھے۔ میں نے ایک اور فلم ایک معذور شخص کی جاری کی جو وہیل چیئر میں بیٹھا تھا۔ الشبیہہ کو اس معذور شخص پر بھی رحم نہیں آیا۔ انہوں نے اس کی کرسی توڑ دی۔ اس کی بیساکھیاں توڑ کر پھینک دیں اور اس کے پاس جو رقم تھی وہ چھین لی۔ یہ تصویر بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ عوام کے ساتھ یہ تمام ظلم کرنے والے لوگ فوج سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ ان کا تعلق الشبیہہ اور پولیس سے تھا جو پوری طرح بشارالاسد کی وفادار تھی۔ میں نے تین چھوٹی بچیوں کی فوٹیج بھی تیار کی اور نیٹ پر جاری کردی۔ ان بچیوں کی عمریں 12، 13 اور 14 سال تھیں۔ انہیں بری طرح ٹارچر کیا گیا۔ ان معصوم بچیوں نے بشارالاسد یا الشبیہہ کا کیا بگاڑا تھا؟ الشبیہہ نے ایک 19 سالہ لڑکی کو بھی ٹارچر کیا۔ اس کے سر پر بوٹوں سے ٹھوکریں ماری گئیں۔ ان کے سر کو فرش پر ٹکرایا گیا۔ اس بچی کا تعلق کسی مظاہرے یا سیاسی تحریک سے نہیں تھا۔ بنیاس سے ایک اور کہانی یہاں گردش کررہی تھی۔ حلب سے تین افراد بنیاس آئے تھے۔ انہیں کہیں اور جانا تھا۔ پولیس نے ان کو پکڑ لیا اور مارنا شروع کیا۔ ان کے سر پر ٹھوکریں ماری گئیں اور پولیس اہلکار ان کی گردن پر بوٹ رکھ کر کھڑے ہوگئے۔ ان کے چہرے کو اس بری طرح مارا گیا کہ وہ پہچانے نہیں جاتے تھے۔ ان میں سے ایک پہلے ہلاک ہوگیا۔ دوسرا جب دمشق پہنچا تو وہ ناقابل شناخت تھا۔ اس کی ناک ٹوٹ گئی تھی اور آنکھیں نکال دی گئی تھیں۔ بنیاس میں جو شخص ان کا میزبان تھا اس کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوگیا۔ مسجد القبایت کے جس شیخ کو الشبیہہ نے قتل کیا تھا وہ لوگوں کو تشدد سے روک رہے تھے لیکن ان کو اس وجہ سے نشانہ بنایا گیا کہ وہ سمجھ دار لوگوں میں سے ایک تھے اور سنی اور علوی فرقہ واریت کے خلاف تھے۔ اگر وہ زندہ رہ جاتے تو فرقہ واریت کو پھیلانے کی بشارالاسد کی کوششیں متاثر ہوسکتی تھیں۔ صرف انہی کو ہلاک نہیں کیا گیا بلکہ بعد میں ان کے کئی عزیزوں کو نشانہ بنایا گیا۔ الشبیہہ کے ظلم و ستم اور ٹارچر کی تصویریں جب انٹرنیٹ پر جاری ہوئیں تو سرکاری میڈیا کی جانب سے کہا گیا کہ یہ تصویریں جعلی ہیں۔ ہماری کوشش تھی کہ فرقہ ورانہ جذبات ٹھنڈے ہو جائیں اور نفرت کا راستہ روکاجاسکے لیکن الدنیا چینل اور شام کا سرکاری ٹیلی ویژن مسلسل نفرتوں کو فروغ دے رہے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ کچھ نہ ہونے کے باوجود اب سنی اور علوی ایک دوسرے کو مشتبہ نظروں سے دیکھنے لگے تھے اور خوفزدہ تھے۔ ہم نے حکام کو سمجھانے کی کوشش کی کہ الدنیا اور سرکاری ٹی وی دونوں نفرتوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ ہماری کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ عبدالحلیم خدام پر پابندی لگادی گئی جو ایک سازشی تھا۔ اس وقت مختلف مظاہروں میں ایک نعرہ بے حد مقبول تھا جو یہ تھا ’’لاسلافیہ لاسلافیہ، لاخدام‘‘۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم نہ تو سلافیوں کو پسند کرتے ہیں اور نہ ہمیں خدام پسند ہے۔ حکومت کی جانب سے میڈیا کے ذریعہ بار بار اپیل کی جارہی تھی کہ لوگ اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے کردیں۔ دوسری جانب پولیس اور شبیہہ مسلسل لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہی تھیں۔ حقیقت یہ تھی کہ شہریوں کے پاس ہتھیار تھے ہی نہیں۔ جہاں ان کو اپنا دفاع کرنا پڑتا وہ چھری چاقو اور ڈنڈوں سے بڑا ہتھیار نہیں رکھتے تھے۔ انتہا یہ ہے کہ جب ندال جنود راہ گیروں پر فائرنگ کررہا تھا اور جس نے کئی لوگوں کو گولی ماردی تھی اس کو بھی چاقوؤں کے حملوں میں قتل کیا گیا۔ دوسری جانب سرکاری میڈیا یہ خبریں پھیلا رہا تھا کہ لوگ ڈائنامائٹ استعمال کررہے ہیں‘‘۔
میں نے سوال کیا ’’فوج کس طرح گھروں کی تلاشی لے رہی تھی؟‘‘ اس نے جواب میں بتایا کہ ’’فوج 12 اپریل کو البائدہ میں داخل ہوئی اور انہوں نے ایک ایک گھر کی تلاشی لی لیکن انہیں کسی گھر سے کوئی ہتھیار نہیں ملا‘‘۔میں نے سوال کیا کہ ’’سرکاری میڈیا کے ذریعہ یہ خبر پھیلائی گئی تھی کہ بہت سے مظاہرین کارتوسوں کی پیٹیاں پہنے ہوئے تھے‘‘۔اس نے جواب میں کہا کہ ’’بہت سے لوگ ذلت پر موت کو ترجیح دے رہے تھے۔ لیکن بنیاس میں عام شہریوں نے کسی مظاہرے میں ہتھیاروں کی نمائش نہیں کی‘‘۔
میں نے کہا ’’بنیاس سنی اور علوی آبادیوں میں تقسیم تھا۔ کیا علویوں کو سنیوں سے ہمدردی نہیں تھی؟‘‘ اس نے کہا ’’ہاں جب جمہوری تحریک شروع ہوئی تو اس میں سنی اور علوی دونوں شامل تھے اور جب صرف سنیوں کو نشانہ بنانا شروع کیا گیا تو علوی اس وقت بے حد خوفزدہ تھے۔ لیکن اس کے بعد ہوا یہ کہ ایک علوی نوجوان ہمارے ساتھ مظاہروں میں شریک ہوا۔ پولیس اور الشبیہہ نے اس کو دھمکی دی کہ وہ اگر مظاہروں میں دکھائی دیا تو اس کے گھر کو مسمار کردیا جائے گا اور اس کے پورے خاندان کو ہلاک کردیا جائے گا‘‘۔
میں نے سوال کیا ’’بنیاس میں علویوں اور سنیوں کے درمیان شادیوں کا کس قدر رواج تھا؟‘‘ اس نے کہا ’’دونوں کے درمیان بہت کم شادیاں ہوتی تھیں۔ بنیاس جغرافیائی طور پر تقسیم تھا۔ اس شہر میں عراقی بعث پارٹی کے سابق قیدی، اخوان المسلمون، بہت سے جلاوطن اور دوسرے ملکوں میں چلنے والی تحریکوں کے مفرور اور باغی افراد بڑی تعداد میں رہتے تھے۔ تاریخی طور پر بنیاس کا شہر ہمیشہ سے بشارالاسد کی انتظامیہ کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا لیکن اس کا سبب فرقہ واریت نہیں تھی۔ بنیاس میں جو کچھ ہوا وہ علوی فرقے کے خلاف نہیں تھا۔ یہ شامی حکومت کے خلاف تھا۔ شامی حکومت نے فرقہ واریت کو فروغ دیا۔ بنیاس کے اردگرد علویوں کے بہت سے گاؤں تھے جو اسی طرح ناانصافی کا شکار تھے۔ فرقہ واریت اس وقت پھیلی جب شامی حکومت نے منصوبہ بندی کے ساتھ اس کو فروغ دینا شروع کیا۔ 18 اپریل کو میں نے نوجوانوں کا ایک اجتماع دیکھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ’وہ کہاں جارہے ہیں؟‘ مجھے ان سے پتہ چلا کہ ان کا تعلق القصور سے ہے اور وہ سنی آبادیوں پر حملے کرنے جارہے ہیں۔ اصل بات یہ تھی کہ الشبییہہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے علویوں سے کہا تھا کہ ’’لطاکیہ سے سلافیوں کی بڑی تعداد بنیاس پہنچی ہے تاکہ یہاں آباد سلافی خاندانوں کا دفاع کرسکے۔ ان سے یہ بھی کہا گیا کہ
یہ لوگ سیول ریستوران میں چھپے ہوئے ہیں اور وہ علویوں کو قتل کریں گے۔ جب میں نے محسوس کیا کہ یہاں فرقہ واریت کی بنیاد پر قتل عام ہونے والا ہے تو میں نے اپنی اسکوٹر سنبھالی اور القصور کی جانب روانہ ہوا جو علوی محلہ تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ اندر جانے کے سب راستوں پر پہرہ ہے لیکن مجھے یہاں کوئی خاص سرگرمی دکھائی نہیں دی۔ میں نے کسی شخص سے پوچھا کہ یہاں کیا ہورہا ہے؟ اس نے بتایا یہاں امن و امان ہے۔ اس کے بعد میں واپس آیا اور میں نے اپنی مسجد کے شیخ کو بتایا کہ علوی محلے میں کسی قسم کی کشیدگی نہیں ہے۔ یہ سن کر شیخ نے سنیوں سے کہا کہ وہ اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ لیکن سنی اتنے خوفزدہ تھے کہ وہ گھروں سے باہر رہے۔ ہزاروں لوگ سڑکوں پر ٹہلتے دکھائی دے رہے تھے تاہم ان میں سے کوئی شخص نہ تو علویوں پر حملہ کرنا چاہتا تھا اور نہ فرقہ واریت کی حمایت کرتا تھا۔ لوگ ان سازشوں سے خوب واقف تھے۔ ایک شخص نے مجھے بتایا کہ ’’علویوں کے ایک گاؤں برمایہ میں اسی طرح علویوں کو جھوٹی خبروں سے دہشت زدہ کیا گیا تھا۔ ان کے معززین نے علوی نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ کیونکہ اگر وہ اس طرح سڑکوں پر جمع ہوں گے تو یہ خبر سنیوں کو پہنچے گی اور وہ خوفزدہ ہو جائیں گے جس سے کشیدگی پھیلنے کا امکان ہے‘‘۔
میں نے سوال کیا ’’المرقب ایک ایسا علاقہ ہے جو ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے لیے مشہور ہے۔ کیا وہاں کے لوگ کسی قسم کے تشدد میں ملوث تھے؟‘‘ اس نے جواب میں کہا ’’سب کچھ ممکن ہے۔ تشدد سے تشدد ہی پیدا ہوتا ہے۔ بنیاس میں راس النبا کے لوگ لڑنے مرنے کو تیار ہوگئے تھے لیکن المرقب کے لوگ گھروں سے باہر نہیں نکلے اور نہ انہوں نے ہتھیار اٹھائے حالانکہ المرقب کی آدھی آبادی کا تعلق بنیاس سے تھا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کئی مقامات پر فوج طلب کی گئی تھی اور وہ گھروں کی تلاشی لے رہی تھی اس دوران الشبیہہ کے لوگ شامی فوج پر فائرنگ کرتے دیکھے گئے۔ فوج فائرنگ کرنے والوں کی جانب بڑھی۔ اس دوران لوگوں کا مظاہرہ شروع ہوگیا۔ فوج آگے بڑھی اور اس نے اعلان کیا کہ وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی۔ لوگ اپنے گھروں کو چلے جائیں اور ہتھیار تلاش کرنے کے لیے گھروں کی تلاشی دیں۔ فوج نے گھروں کی تلاشی لی اور اس دوراندوسو سے تین سو کے درمیان لوگوں کو گرفتار کرلیا۔ تھوڑی دیر کے بعد نوجوانوں کی مائیں گھروں سے نکل آئیں اور انہوں نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ وہاں موجود پولیس نے ان پر فائرنگ کردی۔ کچھ لوگ ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے۔ فوج کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی گولی نہیں چلائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف جگہوں پر نشانچی چھپے ہوئے تھے جو عام شہریوں پر گولیاں چلا رہے تھے تاکہ فوج اور شہریوں کے درمیان تصادم ہو جائے۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں چار خواتین ہلاک ہوئیں۔ پولیس اور الشبیہہ کی پوری کوشش تھی کہ وہ ایک جانب یہ تاثر دیں کہ سنی پوری طرح مسلح ہیں اور شامی فوج پر حملے کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ حملے کچھ نشانچی کر رہے تھے جن کا ہدف ایک جانب شہری اور دوسری جانب شامی فوج تھی اور اس پوری سازش کا مقصد فوج کو شہریوں کے خلاف کرنا اور شہریوں کو فوج سے لڑنے پر مجبور کرنا تھا۔ نوجوان بولتے بولتے اچانک چپ ہوگیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس نے کیا محسوس کیا جو میں نے محسوس نہیں کیا۔ میں نے اسے بولنے پر مجبور نہیں کیا۔ میں چاہتی تھی کہ وہ خود ہی بولے اور جو کہنا چاہے کہہ دے۔ میں اس کے بولنے کا انتظار کرتی رہی۔ چند منٹ خاموش رہنے کے بعد وہ اچانک اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور بولا،’’ مجھے جانا ہے۔ میرا جانا ضروری ہے۔ ہم باقی باتیں بعد میں کریں گے، انشاللہ‘‘۔ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر چلا گیا لیکن اس نے اب بھی نظر نیچے رکھی اور میرے چہرے کو دیکھنے سے اجتناب کیا کیونکہ وہ غیر محرم عورتوں کو دیکھنا گناہ سمجھتا تھا۔ (جاری ہے)

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

2 × 4 =