شامی خاتون کی ڈائری قسط نمبر5

شامی خاتون کی ڈائری

قسط نمبر5

23 جون 2011
میں آج کو آرڈی نیشن کمیٹی کی ممبر نوجوان خواتین سے ملی۔ ہم کچھ علوی خواتین کی وڈیو بنانا چاہتی تھیں جو بشارالاسد حکومت کی باغی تھیں۔ہماری اس کوشش کا مقصد بشارالاسد حکومت کی جانب سے آزادی اور جمہوریت کی اس جدوجہد کو فرقہ واریت کا رنگ دینے کا سد باب کرنا اور معاشرے کے تمام فرقوں خاص طور پر سنی اور علوی شیعوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنا تھا۔مجھے یہ سب عجیب لگتا تھا۔ ہم سب خواتین ایک چھوٹے سے فلیٹ میں جمع ہوئیں۔ میزبان خاتون کی عمر 20 سال کے لگ بھگ تھی۔یہ کمسن لڑکی اکثر ہمارے ساتھ مظاہروں میں جایا کرتی تھی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ علویوں میں آزادی اور جمہوریت کی اہمیت ابھی تک کم نہیں ہوئی تھی اور وہ بشارالاسد حکومت کے جال میں پوری طرح نہیں آئے تھے۔ ہم نے مل کر کافی پی اور کام کے دوران خوب قہقہے لگائے ۔ پہلی مرتبہ میرا ذہنی تناؤ کم ہوا۔ میں گزشتہ ایک ماہ سے سخت ذہنی دباؤ اور کشیدگی کا شکار تھی۔ ہم نے بہت سارے پلے کارڈز لکھے۔ اس کے بعد فلم بندی شروع کی۔ کیمرے کے سامنے یہ بیان پڑھا گیا۔ ’’ہم علوی شامی خواتین یہ اعلان کرتی ہیں کہ بشارالاسد حکومت کے جرائم ناقابل معافی ہیںاور علوی شام کی آزادی کی جدوجہد کا حصہ ہیں۔ جب تک موجودہ عوام دشمن حکومت کا خاتمہ نہیں ہوگا ہم خواتین اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ قربانیاں دیتی رہیں گی‘‘۔ ہم نے فلم بندی مکمل کی جس کے بعد ہم سب انتہائی محتاط رہتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کی جانب روانہ ہوگئیں۔
جب میں اپنے گھر پہنچی تو رات ہوچکی تھی۔ اس وقت میرا دل مسرت سے معمور تھا۔آج اس نوعیت کے چار اجلاس ہوئے تھے اور ایک دن میں چار اجلاس کرنا بڑی کامیابی تھی۔علوی خواتین نے ان میں بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اس طرح یہ ثابت ہوگیا کہ یہ جدوجہد جسے شامی حکومت علویوں اور سنیوں کے درمیان فرقہ ورانہ فساد کی شکل دینے کی کوشش کررہی تھی آگے بڑھ رہی تھی اور علوی بھی اس کا اسی طرح حصہ تھے جس طرح سنی اس تحریک میں شریک تھے۔ میں اس وقت ان عورتوں اور بچوں کے بارے میں سوچ رہی تھی جو اکثر رات کو بھوکا سونے پر مجبور تھے۔ ان کے گھر ان سے چھن گئے تھے اور خوف و دہشت ان پر مسلط کردی گئی تھی۔ میں ان قیدیوں کے بارے میں سوچ رہی تھی جن کو شامی فورسز روزانہ تشدد کا نشانہ بناتی تھیں۔ ان کو پوچھ گچھ کے بہانے گھروں سے اٹھایا جاتا اور بری طرح ٹارچر کیا جاتا۔انہیں پوچھ گچھ کے بہانے اٹھایا جاتا لیکن کسی عدالت سے منظوری لینے کے بجائے جیلوں میں ٹھونس دیا جاتا۔ بعض اوقات ان کو غائب کردیا جاتا اور کچھ عرصہ بعد ان کی لاش کسی گلی سے ملتی۔خود مجھ کو تیسری بار پوچھ گچھ کے لئے گرفتار کیا گیا تو ان کے پاس کسی عدالت کا جاری کردہ وارنٹ نہیں تھا۔مجھ سے من مانے بیانات لینے اور ناکردہ جرائم کا اقرار کروانے کی کوشش کی گئی۔ اس مقصد کے لئے مجھ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور میری کھال جلائی گئی۔میں چلاتی رہی کہ میں ایک معزز خاتون مصنفہ ہوں اور علویوں کی بیٹی ہوں لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ جب وہ مجھ پر تشدد کرکر کے تھک گئے تو انہوں نے میری آنکھوں پر پٹی باندھی۔ میرے ہاتھ پیچھے کی جانب پہلے ہی بندھے ہوئے تھے اس کے بعد مجھ کو کسی اور جگہ منتقل کیا گیا۔یہاں دوسرے قیدی بھی موجود تھے جن کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ وہ تکلیف اور درد سے بری طرح چلا رہے تھے اور ان کی منت سماجت کررہے تھے۔وہ زیادہ تر سنی تھے یا ممکن ہے ان میں کوئی شیعہ یا علوی بھی رہے ہوں۔ان کی چیخ و پکار سنانے کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں تھا کہ کہ وہ مجھ کو دہشت زدہ کرنا چاہتے تھے۔ پھر میری آنکھوں کی پٹی ڈھیلی کی گئی اور میں تھوڑا بہت دیکھنے کے قابل ہوگئی۔ میں ان کے درمیان واحد عورت تھی۔ میں نے ایک بات نوٹ کی کہ قیدیوں کو ٹھوکروں سے مارنے والے فوجی بوٹ نہیں پہنے ہوئے تھے بلکہ انہوں نے عام اسپورٹس شوز پہنے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ سویلین تھے۔وہ بشار الاسد کی حامی کسی جنگجو تنظیم شاید الشبیہہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ناصرف قیدیوں کو ٹھوکریں مار رہے تھے بلکہ ان کے ہاتھوں میں چابک بھی تھے جن سے وہ قیدیوں کو اذیت پہنچارہے تھے۔ وہ اذیت دہی میں اہلکاروں سے بھی آگے تھے۔ وہ اس دوران مسلسل گالیاں بک رہے تھے۔یہ گالیاں صرف سنیوں ہی کو نہیں دی جاتی تھیں۔ ان کا ہدف اسلامی تاریخ کی بعض بزرگ شخصیات بھی ہوتیں اور اس کا مقصد ان کے ساتھ فرقہ ورانہ نفرت کو انتہا پر پہنچا دینا ہوتا۔
مجھ کو تشدد کا نشانہ بنانے والا سیکیورٹی فورسز کا کوئی افسر تھا۔ وہ میری حیثیت سے بخوبی واقف تھا۔ وہ مجھے گرفتار کرنے والی ٹیم میں بھی شامل تھا۔کیونکہ وہ اکثر میری تحریروں اور پروگراموں کا حوالہ بھی دیتا تھا۔ اس تشدد کا آغاز میرے گھر پر چھاپے کے وقت سے ہی ہوگیاتھا۔ جب وہ مجھے اٹھانے میرے گھر پہنچے تو میں نے ان سے عدالتی سمن کا مطالبہ کیا اور ان کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔ ابھی میرے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کی گونج ختم نہیں ہوئی تھی کہ میرے منہ پر ایک زور دار تھپڑ پڑا۔ میں ایک کمزور عورت تھی۔اس تھپڑ کو برداشت نہ کرسکی اور نیچے گر گئی۔ اس کی آواز پورے گھر میں گونجی اور میری بیٹی جو دوسرے کمرے میں سو رہی تھی جاگ گئی۔ نیند بھرے لہجے میں اس نے وہیں لیٹے لیٹے کہا،’’ما ما یہ کیسی آواز تھی‘‘۔ میں اگرچہ تکلیف کے سبب دہری ہوگئی تھی اور بے ہوش ہونے کے قریب تھی لیکن میرا دماغ تیزی سے کام کررہا تھا۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ مجھے میری بیٹی کے سامنے تشدد کا نشانہ بنائیں۔ اس لئے میں نے مزاحمت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے آواز قدرے بلند کرکے کہا کہ ’’کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ سوجائے۔ میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ باہر جارہی ہوں‘‘۔ اس کے بعد میں خاموشی سے ان کے ساتھ روانہ ہوگئی۔ تاہم میرے دل میں یہ خوف تھا کہ میں شام تک واپس نہیں آئی تو میری بیٹی کا کیا ہوگا؟ افسر مجھ کو میری بیٹی کا حوالہ دے کرخوف زدہ کررہا تھا اور مجھ سے کہہ رہا تھا کہ اگر میں نے تعاون نہ کیاتو میری بیٹی کو بھی اٹھالیا جائے گا۔اس نے سختی سے میری کہنی سے مجھ کو پکڑا ہوا تھا اور مجھے خوف تھا کہ میری کہنی کا جوڑ کھل جائے گا۔ میں سوچ رہی تھی کہ انہوں نے میری بیٹی کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو میں کیا کروں گی؟ میں سوچ رہی تھی کہ میں اس افسر کو ضرور قتل کردوں گی ۔ میں اس کو قتل کئے بغیر نہیں چھوڑوں گی۔ لیکن کیا میں ایسا کرنے کی طاقت رکھتی تھی۔ انسانی ذہن ہمیشہ اپنی طاقت سے زیادہ خیالات رکھتا ہے۔ میں ناصرف جسمانی طور پر کمزور تھی بلکہ روحانی طور پر بھی اتنی کمزور تھی کہ کسی چڑیا کو بھی قتل کرنے کی ہمت نہیں پاتی تھی۔خوف و ہراس کے ان لمحوں میں میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی بیٹی کی خاطر یہ ملک چھوڑ دوں گی۔
اب مجھے سب پرانی باتیں یاد آرہی تھیں جن کا تعلق بشارالاسد حکومت اور اسد کے رشتہ داروں سے تھا جو اقتدار کے مزے لوٹتے ہوئے اتنے سنگ دل ہوگئے تھے کہ ان کو محکوم عوام میں علوی یا سنی کی تفریق یا امتیاز کی پروا بھی نہیں ہوتی تھی۔ مجھے یاد آیا کہ میں جب کالج میں پڑھتی تھی تو وہ 1980 کا عشرہ تھا۔ہم لڑکیاں کالج جاتے ہوئے ہمیشہ سیاہ کاروں سے خوف زدہ ہوتی تھیں کیونکہ ان کاروں میں حکمراں خاندان کے لوگ یا الشبیہہ کے کارندے سوار ہوتے۔میرے کالج کی انتہائی خوب صورت لڑکی کو جمیل الاسد کے بیٹوں میں سے ایک نے ہراساں کیا۔اس لڑکی کو کالج سے واپس آتے ہوئے اغوا کیا گیا۔اس کی عصمت دری کی گئی اور پھر اس کی لاش ایک گلی سے ملی۔ اس واقعہ کے بعد ہم لڑکیا ں کئی دن تک گھروں سے نہیں نکلیں۔ہر وہ لڑکی جو خوبصورت اور اسمارٹ ہو ۔ خواہ وہ علوی ہی کیوں نہ ہو لیکن اسد خاندان کے لڑکوں کی پیش دستی کا جواب نہ دے تو اس کا یہی نتیجہ ہوتا تھا۔اب میں سوچ رہی تھی کہ ان لوگوں نے میری بیٹی کو ہدف بنانے کی کوشش کی تو میں کیا کروں گی؟ ایسے میں میرے دل میں صرف یہی خیال آیا کہ میں اس اہلکار کو بے دردی سے قتل کردوں گی۔اس سے پہلے کہ وہ مجھے یا میری بیٹی کی عزت لوٹنے کی کوشش کرے۔ تاہم انہوں نے آج صرف مجھ کو اٹھایا اور میری بیٹی کو آئندہ کسی وقت کے لئے چھوڑ دیا۔ وہ مجھ سے گھنٹوں پوچھ گچھ کرتے رہے اور انہوں نے مجھ پر ظلم کا ہر حربہ آزما لیا۔پھر وہ مجھے شام سے پہلے گھر چھوڑ گئے ۔ انہوں نے مجھ پر جو ظلم ڈھائے یہ ایک الگ کہانی ہے۔
گھر پہنچ کر میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اس طرح ٹی وی پر خبریں سننے لگی جیسے کسی دعوت سے واپس آئی ہوں۔ ظاہر یہ ساری باتیں میں اپنی بیٹی کو نہیں بتا سکتی تھی۔ میں نے اپنی چوٹوں کو میک اپ کی تہوں میں چھپا لیا۔میں خبریں سن رہی تھی کہ چھ سو مہاجرین کا ایک قافلہ شامی فوجی کارروائی کے خوف سے شام ترک سرحد کی جانب نقل مکانی کررہا تھا۔سرحد سے کوئی پانچ سو میٹر دور شامی فوج کی بکتر بند گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں۔شامی فوج پہلے گاؤں خیربت الجوز پر حملہ آور ہوئی اس کے بعد انہوں نے گاؤں مینبج پر حملہ کیا اور مکینوں کو اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ آج دمشق یونیورسٹی میں پانچ طلبہ کو شہیدکردیا گیا۔ان میں سے کچھ زخمی طلبہ اسپتال میں زیر علاج تھے۔حمص، حاما، درعا اور معادمیہ، دیارالزور اور لطاکیہ وغیرہ میں عام ہڑتال ہوئی۔شامی ٹی وی نے 25 شامی فوجیوں کے جنازے دکھائے۔ مجھے ان کی موت کا بہت افسوس ہوا۔کیونکہ وہ وطن کی حفاظت کرتے ہوئے نہیں مارے گئے تھے۔ وہ بشارالاسد حکومت کی حفاظت میں مارے گئے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ عوام کے ردعمل کا نشانہ بنے یا ان کو حکم نہ مانے پر الشبیہہ نے قتل کیا۔ ان میں سے کوئی بھی بات ہوسکتی تھی۔
24 جون2011 :
آج جمعہ تھا اور ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں درجنوں عام شہری ہلاک ہوئے۔صرف دمشق کے نواح میں 15 افراد کے ہلاک ہونے کی خبر تھی۔شامی انقلاب کی رابطہ کمیٹیوں کی یونین نے اعلان کیا کہ برزہ، القسوہ،حمص اور حاما میں فورسز نے مظاہرین کو نشانہ بنایا۔الیپو، دیارالزور، دمشق، لقمیشلی اور درعا میں مظاہرے ہوئے جن میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ٹی وی پر الزبادانی کے ایک مظاہرے کا بینر دکھایا گیا جس پر لکھا تھا،’’دنیا بھر کے کیڑو! مکوڑو! اور چوہو! شام کے ڈکٹیٹر کے خلاف متحد ہوجاؤ‘‘ ۔ یہ دراصل بشار الاسد کا مذاق اڑایا گیا جس نے مظاہرین کو چوہے اور کیڑے مکوڑے کہا تھا۔ کئی نئے شہروں میں مظاہرے ہوئے۔تحریک تیزی سے دوسرے شہروں کی جانب پھیل رہی تھی۔ایک جگہ ہونے والے مظاہرے میں بینروں پر لکھا تھا،’’عوام کےقاتلوں کو ہم حکمراں نہیں مانتے‘‘۔ ’’قاتلوں کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی‘‘۔دیار الزور میں مظاہرین آزادی کے نعرے لگا رہے تھے،وہ طربیہ نغمے گا رہے تھے۔ احتجاجی تحریک کسی بخار کی مانند پھیل رہی تھی۔میں سوچ رہی تھی کہ شامی فورسز اب دیار الزور پر حملہ کریں گی کیونکہ اس سے پہلے درعا اور بنیاس میں بھی یہی ہوا تھا۔میں ان شہروں کو بچپن سے جانتی تھی۔دریائے فرات کے کنارے ’الطبقہ‘ میں میرا خاندان آباد تھا۔میں الرقہ اور دیار الزور سے بہت اچھی طرح واقف تھی۔ دریائے فرات شہر کے درمیان سے بہتا تھا اور اس میں کئی موڑ آتے تھے۔ یہاں پل بنے ہوئے تھے۔ لیکن لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطے سے روکنے کے لئے یہ پل بند کردئے گئے تھے۔ مجھے یار الزور سے بہت محبت تھی۔ میں خوف زدہ تھی کہ سیکیورٹی فورسز اس شہر کوکھنڈر کردیں گی۔
یورپی یونین کی جانب سے شام پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں جن کو 101 دن گزر چکے تھے۔لیکن حکمراں ٹس سے مس نہیں ہورہے تھے۔یورپی یونین نے شام کی مختلف کمپنیوں کی مصنوعات پر پابندی لگادی تھی۔ یہ کمپنیاں زیادہ تر بشار الاسد کے رشتہ داروں کی تھیں۔شامی حکومت کا کہنا تھا کہ وہ اپوزیشن سے بات چیت کرنے کو تیار ہے لیکن مسلح گروہوں سے بات نہیں ہوگی۔حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی تھی کہ ساری کارستانی مسلح گروہوں کی ہے ورنہ عوام تو بشار الاسد کی حمایت کرتے ہیں۔یہ سب دھوکہ بازی پر مبنی سیاسی کھیل تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ حکومت کو امن و امان کے قیام میں کوئی دلچسپی نہیں۔ حالات کے بگاڑ کی حکومت خود ذمہ دار تھی۔جعلسازی، دھوکہ دہی اور وعدہ خلافی نام نہاد سیکولر بعث پارٹی اور اس کی حکومت کا وطیرہ تھا۔میں حالات سے سخت مایوس تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ سیاسی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی کیونکہ حکمراں جمہوریت اور آزادی رائے پر یقین نہیں رکھتے۔
25 جون 2011 :
آج سے مجھ کو ٹیلی فون پر ملنے والی دھمکیاں دوبارہ شروع ہوگئیں۔میں یہ جان کر خوفزدہ تھی کہ درمیان میں کچھ عرصے کی خاموشی سے وہ بالکل متاثر نہیں ہوئے۔ خود کو پوشیدہ رکھنے سب کوششیں ناکام رہیں۔وہ میری ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ میں جہاں جہاں اور جن جن میٹنگز شریک ہوئی ان کو اس کی پوری خبر تھی۔ وہ ان میں شریک کارکنوں سے واقف تھے بلکہ بہت سے نئے کارکنوں کا پتہ بھی ان کو مل گیا اور میں خود اس کی ذمہ دار تھی۔اس طرح میں نے بہت سے دوسرے کارکنوں کی جانیں خطرے میں ڈال دیں۔میرے فیس بک اکاؤنٹ پر ان کی نظر تھی۔ایک دن میں نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ میں بتایا کہ حکمرانوں کے اتحادی مخلوف خاندان نے شام کا فری ٹریڈ زون کویتی سرمایہ کاروں کو فروخت کردیا اور اس کے بدلے انہوں نے خطیر رقم وصول کی۔ یہ گویا میں نے بھڑوں کے چھتے پر پتھر مار دیا۔پندرہ منٹ کے اندر مجھے ایک فون کال وصول ہوئی جس میں مجھے دھمکی دی گئی کہ ’’اپنا فیس بک اکاؤنٹ فوراً بند کردو ورنہ تمہاری بلڈنگ پر توپ خانے سے گولہ باری کی جائے گی اور اس طرح تم کو صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے گا لیکن اس کے نتیجہ میں مرنے والے دیگر افراد کی موت کی ذمہ داری بھی تم ہی پر ہوگی‘‘۔ میں جانتی تھی کہ وہ جو کہتے ہیں وہ کرسکتے ہیں۔وہ بے رحم قاتل تھے۔ میں اپنے ساتھ دیگر لوگوں کی جانیں خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی اس لئے میں نے اپنا فیس بک اکاؤنٹ ختم کرنے کا اعلان کردیا تاکہ وہ مطمئن ہو جائیں۔اب میں سوچ رہی تھی کہ کیا کروں؟ کیا خاموشی سے لوگوں کو اسی طرح مرتے دیکھتی رہوں اور اس جدوجہد سے الگ ہوجاؤں۔جس طرح لوگوں کو ٹارچر کیا جاتا تھا اور اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور پھر ان کی لاشیں ملتی تھیں۔ یہ سب کام سرکاری اہلکار کرتے تھے لیکن ان کے اقدام کو شام کی کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔کیونکہ جج آزاد نہیں تھے۔ ایسے حالات میں کوئی باضمیر کس طرح خاموش تماشائی رہ سکتا تھا۔میں نے اپنے دوستوں کی جانوں کی حفاظت کے لئے ان سے ملنا جلنا چھوڑ دیا۔
آج میں ایک علوی نوجوان کا انٹرویو کررہی تھی جو جبلہ کے باہر ایک گاؤں کا رہنے والا تھا۔وہ علوی تھا اور اپنی شناخت اور قبیلے کا نام پوشیدہ رکھنا چاہتا تھا۔انٹرویو شروع ہونے سے پہلے اس نے مجھ سے ایک سوال کیا،’’کیا آپ کو یقین ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے سے سب حالات ٹھیک ہوجائیں گے اور آپ معمول کی زندگی گزار سکیں گی۔ بشار الاسد کی حکومت نے جو زہر لوگوںکے دماغ میں بھر دیا ہے اس کے بعد ہر علوی یہ سمجھتا ہے کہ آپ علویوں کی غدار اور سازشی ہیں‘‘۔ اس کے الفاظ نے مجھے خوفزدہ کردیا۔میرا اپنا فرقہ اور خاندان میرا مخالف ہوچکا تھا کیونکہ پورا قبیلہ اپنا سارا وزن بشار الاسد کے پلڑے میں ڈال چکا تھا۔ اب بہت کم علوی ایسے تھے جو بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتے تھے۔ اس کی وجہ وہ رد عمل تھا جو سنیوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کے مظالم اور علوی ملیشیا ’الشبیہہ‘ کے زیادتیوں کے سبب سامنے آیا۔ علوی سوچتے تھے کہ سیکیورٹی فورسز نے کتنے ہی مظالم کئے ہوں لیکن سنی ان مظالم کا بدلہ علویوں ہی سے لیں گے۔ اور اب علویوں کے پاس بشار الاسد حکومت کی حمایت کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ان کے ایک جانب گڑھا تو دوسری جانب کھائی تھی۔ یہ ایک عالمی سازش تھی اور اتنی مکمل تھی کہ اس سے بچنا ناممکن تھا۔ ان سازشیوں نے فوراً انتہا پسند سنی مجاہدین کو شام بھیج دیا جن کا تعلق الگ الگ سنی فرقوں سے تھا۔ وہ نہ چاہنے کے باوجود ان حکومتوں یا ایجنسیوں کے ایجنڈے پر کاربند تھے جو انہیں ہتھیار اور فنڈز فراہم کررہی تھیں۔ یہ ایجنڈا عالمی سازش کا حصہ تھا۔
نوجوان علوی کی داستان:
’’ہم جبلہ کے قریب ایک گاؤں میں رہتے ہیں۔جب مظاہرے شروع ہوئے تو بعث پارٹی نے سیاسی سرگرمیاں شروع کیں۔ گورنر مظاہرین سے ملنے آیا لیکن لوگوں کے حکومت مخالف جذبات اتنے شدید تھے کہ انہوں نے ملنے سے انکار کردیا اور گورنر کی کار پر پتھراؤ کیا۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ یہ بھی ایک سازش تھی ۔ پتھراؤ کرنے والے اس گاؤں کے نہیں تھے ۔ کیونکہ ہم ایک ایک شخص کو جانتے تھے۔25 مارچ 2011 کو جبلہ میں قتل عام ہوا۔اس سے پہلے جبلہ سے لے کر نواحی دیہات تک ہر جگہ امن و امان تھا۔ سوا چار بجے ہم نے اپنے گاؤں کے باہر بھاری فائرنگ کی آوازیں سنیں۔ میں یہ دیکھنے باہر نکلا کہ فائرنگ کرنے والے کون ہیں؟ میں نے دیکھاکہ کچھ مسلح لوگ فائرنگ کررہے ہیں۔ہم لوگ واپس اپنے گھروں کی جانب بھاگے تاکہ اپنے ہتھیار اٹھا سکیں۔ پھر ہم نے گاؤں کے قریب سے گزرنے والی بین الاقوامی سڑک بند کردی۔میں نے دیکھا کہ گاؤں میں بعث پارٹی کے اہلکار افواہیں پھیلا رہے تھے کہ جبلہ کے سنی قتل عام کا بدلہ لینے کے لئے علویوں کے دیہات پر حملہ کرنے والے ہیں۔اور ہمیں اپنے دفاع کے لئے ہتھیار اٹھانے پڑیں گے۔ گاؤں کے لوگ خوف زدہ ہوگئے۔ اس دوران وقفے وقفے سے فائرنگ جاری رہی۔ہر تھوڑی دیر کے بعد ایک کار گاؤں کے قریب آتی اور ہوائی فائرنگ کرتی گزر جاتی۔ یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ یہ سنی ہیں جو گاؤں پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ ابھی تک صرف ہوائی فائرنگ ہورہی تھی۔ اس دوران گاؤں کاایک مکین زخمی ہوگیا۔ اسی رات ہمارے پہرہ داروں نے ایک اجنبی شخص کو گاؤں میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑ لیا۔ہم سمجھتے تھے کہ یہ شخص سنی ہوگا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ سنی نہیں علوی تھا۔ اس کا کام ہتھیار فروخت کرنا تھا۔ ظاہر ہے کہ گاؤں والوں کو سنیوں کے حملے سے خوفزدہ دیکھ کر وہ موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا اور ہتھیار فروخت کرنا چاہتا تھا۔ اگلے دن بعث پارٹی کے عہدہ داروں اور انٹیلیجنس کی جانب سے اشتہار تقسیم کے گئے جن میں علویوں کو سنی حملے کے خطرے سے آگاہ کیا گیا اور ان علوی غداروں کی مذمت کی گئی تھی جو ابھی تک سنی علوی بھائی بھائی کی مہم چلا ہے تھے۔ ان اشتہاروں میں علوی غداروں کے نام درج تھے اور ان کے بارے میں کہا گیا تھا کہ علوی جہاں بھی ان غداروں کو دیکھیں انہیں قتل کردیں۔ ان غداروں میں ثمر یاز بیگ یعنی میرا نام سر فہرست تھا‘‘۔ نوجوان کی بات سن کر میری ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ نوجوان کی نظریں میرے چہرے پر جمی تھیں اور وہ اپنی بات کا ردعمل تلاش کررہا تھا۔ میں اس کے سامنے اپنا خوف ظاہر نہ کرنا چاہتی تھی اس لئے خاموش رہی۔ خوف سے میری انگلیاں کانپ رہی تھیں اور میں نے اپنے ہاتھوں کو ایک کتاب کے نیچے چھپا لیا تھا۔
اس نے دوبارہ بولنا شروع کیا۔’’ اگلے دن جبلہ سے بڑی تعداد میں ہتھیار برآمد ہونے کی خبر آئی۔ یہ افواہ مسلسل گردش کررہی تھی کہ سنی علوی دیہات پر حملے کرنے کے لئے ہتھیار جمع کررہے ہیں۔ جبلہ میں فوج طلب کرلی گئی جس نے جگہ جگہ فوجی کارروائی کی اور بہت سے لوگ اس دوران مارے گئے۔ جبلہ میں علویوں کے داخلے پر پابندی لگادی گئی جبکہ جبلہ کے سنی اپنے گھروں تک محدود تھے۔ اس دوران جبلہ کے مختلف نواحی دیہات کے باہر ہوائی فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ (بعد میں اس ہوائی فائرنگ کا مقصد میری سمجھ میں آیا ۔ فائرنگ کا مقصد علوی اور سنی دونوں فرقوں کوخوف زدہ کرنا اور کشیدگی بڑھاناتھا۔اس کے نتیجہ میں علویوں نے بڑی تعداد میں ہتھیار خریدنا شروع کردئے۔ ظاہر ہے ہتھیار بیچنے والوں کی چاندی ہورہی تھی جو سب علوی تھے)۔ جبلہ میں لوگوں نے مظاہرے شروع کردئے تھے۔ مظاہرین میں سنی اور علوی دونوں شامل تھے۔دوسری جانب بعث پارٹی کی جانب سے یہ افواہیں پھیلائی جارہی تھیں کہ یہ مظاہرے صرف سنی کررہے ہیں اور ان کے رہنما اپنی تقریروں میں شیعہ اور علوی اکابرین خاص طور پر حضرت علیؓ کو گالیاں دے رہے ہیں(سنیوں پر یہ الزام اس لئے عائد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ حضرت علیؓ کو خلافت راشدہ سے تعلق رکھنے والے چار خلفا میں سے ایک خلیفہ اور صحابی رسول مانتے ہیں اور صحابہ پر تبرا بھیجنا ان کے عقیدے میں شامل نہیں ہے)۔کچھ علوی اور سنی علما آگے آئے اور انہوں نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی۔دونوں برادریوں کے علما نے فرقہ واریت کے خلاف تقریریں کیں جس کو بشار الاسد کی حکومت فروغ دے رہی تھی۔سنی اور علوی علما الامارہ میں مسجد الحسن پہنچے۔ سنی علما کا ایک وفد زاما اور متور کے دیہات میں گیا اور علویوں کو یقین دہانی کرائی کہ سنی ان پر حملہ کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کررہے اور امن سے رہنا چاہتے ہیں۔ سنی مسجد کے پیش امام اور خطیب علویوں کی تعزیتی مجلسوں میں شریک ہوئے۔ سنی اور علوی علما نے فرقہ ورانہ نفرت کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششیں کیں اور افواہوں کا سدباب کرنے کی پوری کوشش کی جو فساد کو فروغ دینے کے لئے پھیلائی جارہی تھیں اور پوری سرکاری مشینری اس کے پیچھے تھی۔سنی علما نے ان افواہوں کی بھی تردید کی کہ سنیوں نے علوی لڑکیوں پر مجرمانہ حملے کئے۔کوئی نہین جانتا تھا کہ یہ افواہیں پھیلانے والے کون تھے کیونکہ یہ لوگ افواہ پھیلا کر بھوتوں کی طرح غائب ہوجاتے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ لوگ سرکاری مشینری سے تعلق رکھتے تھے اور بعث پارٹی اس کا لازمی حصہ تھی۔ لوگوں کے لئے خبروں کا واحد ذریعہ ٹی وی تھا۔ انٹر نیٹ مکمل طور پر بند تھا۔الدنیا اور سرکاری ٹی وی کی نشریات جاری تھیں لیکن ٹی وی چینل انتشار پھیلانے کے سوا کچھ نہیں کرتے تھے۔ جب جبلہ میں قتل عام ہوا تو علویوں کا یہ یقین پختہ ہوگیا کہ علویوں کی حفاظت صرف شامی فوج کرسکتی ہے۔ جبلہ میں اسد حکومت کے حامی اور بعث پارٹی کے عہدہ دار باقاعدگی سے مختلف علاقوں کے دورے کرتے تھے۔ ہم یہ افواہیں سن رہے تھے کہ مظاہرین شامی فوج پر چھوٹے ہتھیاروں اور ڈائنا مائیٹ سے حملے کررہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں کشیدگی میں اضافہ ہورہا تھا۔دیہات میں اشتہارات تقسیم کئے جارہے تھے کہ جن میں ان لوگوں کے نام شائع کئے گئے جو حکومت کو مطلوب تھے۔ اشتہاروں میں دعوی کیا گیا کہ یہ لوگ مسلح حملہ آوروں کے لیڈر ہیں۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اسرائیلی ایجنٹ ان کے درمیان کام کررہے ہیں۔اس دوران ایک اور افواہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلی کہ دس سنی جنگجو بھاری ہتھیاروں کے ساتھ داخل ہوئے ہیں اور علوی دیہات کی جانب جاتے دیکھے گئے ہیں۔حملے کے خوف سے دکانداروں نے اپنی دکانیں بند کردیں اور اپنے گھروں کو چلے گئے۔ خانہ جنگی کے خوف سے سنیوں کی دکانیں بھی بند تھیں۔ علویوں کے ایک گروپ نے سنیوں کے کاروبار کا بائیکاٹ شروع کردیا ۔ علوی سنیوں کی دکانوں سے خریداری کرتے ہوئے ڈرنے لگے کیونکہ ایک طبقہ علویوں کو سنیوں کے بائیکاٹ پر اکسا رہا تھا اور نہ ماننے والوں کو دھمکیاں دے رہا تھا‘‘۔
میں جبلہ کے علاقے سے واقف تھی۔ سنیوں کی اکثریت کے علاقے بھی میرے دیکھے بھالے تھے۔ہم نے کبھی سنی اور علوی کی تفریق کی بنیاد پر سوچا نہیں تھا۔لیکن اب حکومت کی سازش کامیاب ہوتی نظر آرہی تھی۔دیہات کے لوگ شہروں میں دکانوں سے خریداری کرتے تھے۔سنی اور علوی اتحاد تاجر برادری کے اپنے مفاد میں تھا۔میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ سنی اور علوی کبھی اس طرح ایک دوسرے کے دشمن ہوسکتے ہیں۔
علوی نوجوان نے اپنا بیان پھر شروع کیا۔’’ان واقعات کے بعد علویوں کے مسلح گروہوں میں اضافہ ہونے لگا۔دیہات میں ہتھیاروں کی آمد و رفت شروع ہوگئی۔سیکیورٹی فورسز کو علویوں کے پاس ہتھیاروں کی موجودگی پر کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن سنی علاقے میں ہتھیار برآمد کرنے کے لئے چھاپے مارے جاتے تھے۔وہ سنیوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کردینا چاہتے تھے۔سیکیورٹی فورسز ایسے علوی کارکنوں اور مخلص رہنماؤں سے واقف ہو چکی تھیں جو غیر جانبدار ہوکر اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ان میں ڈاکٹر اور نرسیں شامل تھیں۔ الشبیہہ کی جانب سے جو ہینڈ بلز اور اشتہار تقسیم کئے جارہے تھے ان میں سنی امدادی کارکنوں کو مجرم بناکر پیش کیا جاتا تھا۔جس کے نتیجہ میںسنی علوی اختلافات بڑھ رہے تھے۔ایک بات میں بتانا بھول گیا کہ قتل عام سے پہلے اسد خاندان کا ایک فرد بستان الباشا کے گاؤں میں آیا اور اس نے علویوں میں مفت ہتھیار تقسیم کئے۔لطاکیہ کے نواح میں ڈسرکھو کے گاؤں میں بھی اسی طرح ہتھیار تقسیم کئے گئے‘‘۔نوجوان بولتے تھک گیا تھا اس لئے دم لینے کے لئے رک گیا۔
مجھے کوآرڈی نیشن کمیٹیوں کے لئے فنڈز کی فراہمی ممکن بنانے کی ذمہ داری دی گئی۔ بعض لوگ ان کمیٹیوں کے بارے میں متضاد رائے رکھتے تھے اور ان کو مطمئن کرنا ضروری تھا۔ میں نے مردوں اور عورتوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جس کا کام فنڈز کے استعمال کی نگرانی کرنا تھا۔قیدیوں اور ان کے اہل عیال کی امداد کے لئے فنڈز کی سخت ضرورت تھی۔ ہم فنڈز کی فراہمی میں کمی برداشت نہیں کرسکتے تھے۔حکومت کے اہلکار جن لوگوں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیتے تھے ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آجاتی تھی۔کمیٹی بنانے کے بعد میں نے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ دن بھر کی مشقت نے مجھے تھکا دیا تھا۔میں اس مکان سے باہر نکلی تو سورج ڈوب رہا تھا لیکن اس کی کرنوں میں ابھی تک اتنی حدت تھی کہ میری کھال جلائے دے رہی تھی۔میں گھر جاکر نیم گرم پانی غسل کرنا چاہتی تھی تاکہ میرے کشیدہ جوڑ نرم پڑ سکیں۔ مجھے معلوم تھا کہ گھر جاتے ہی مجھے اپنی بیٹی کی ناراضگی کا سامنا کرنا ہوگا۔کیونکہ میں سارا دن غائب رہی تھی۔
26 جون 2011 :
مجھے کوآرڈی نیشن کمیٹی کے ایک ممبر سے ملنا تھا تاکہ ایک بیان کو حتمی شکل دی جاسکے جو ہوٹل سیمی رعمیسس میں ایک مذاکراتی اجلاس میں پڑھا جانا تھا۔ وہ اعلان کرنا چاہتے تھے کہ اس اجلاس سے اتفاق نہیں کرتے۔میرے رائے ان سے مختلف تھی۔ اگرچہ میرا ذاتی خیال یہ تھا کہ یہ نوجوان درست سوچ رہے ہیں۔ اس نوجوان کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی بیان کرنے کے بجائے ابھی دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اختیار کرنی چاہیئے۔ میرا خیال تھا کہ ہم ایک نئے دور کا آغاز کررہے ہیں۔افواہیں پھیلی ہوئی تھیں کہ سیکیورٹی فورسز مجھے اٹھانے والی ہیں اور اس مرتبہ وہ مجھے رہا نہیں کریں گے بلکہ لمبی مدت کے لئے اندر کردیں گے۔میرے بہت سے دوستوں کاکہنا تھا کہ مجھے زیر زمین چلے جانا چاہیئے اور گرفتاری نہیں دینی چاہیئے۔ میرا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اپنی بیٹی کی موجودگی میں میرے لئے زیر زمین جانا ناممکن تھا کیونکہ وہ مجھ سے تعاون کرنے کو تیار نہیں تھی اور نہ میرے ساتھ ملک سے باہر جانے کو آمادہ تھی۔دوسری جانب حکومت نے نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک امن کانفرنس کے انعقاد کی اجازت دے دی۔میں حکومت سے مطمئن نہیں تھی لیکن میں نے اپنی تشویش کا اظہار نہیں کیا۔
27جون 2011 :
وزارت انصاف کے دفتر میں میں جج کی آمد کی منتظر تھی۔ میں اپنی بیٹی کے بیرون ملک سفر کے لئے اجازت لینا چاہتی تھی۔شام میں عجیب و غریب قوانین تھے۔کوئی ماں اپنی بیٹی کو اس کے باپ کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر نہیں لے جاسکتی تھی اگر بیٹی کی عمر 18 سال سے کم ہو۔میری بیٹی شروع ہی سے میرے ساتھ رہی کیونکہ اس کے باپ نے سرپرستی کرنے سے انکار کردیا اور نہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔اس کے باوجود مجھے اس کے اجازت نامے کی ضرورت تھی۔دلچسپ بات یہ تھی کہ شامی شریعت کورٹ کے جج نے مجھ سے کہا کہ مجھے ہر حال میں لڑکی کے باپ سے تحریری اجازت لیناہوگی۔کیونکہ پرانے اجازت نامے کی مدت ختم ہوچکی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مجھے پانچویں مرتبہ عدالت میں آنا پڑے گا۔اور نئی کاغذی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔ جب میں عدالت میں جج کے سامنے پیش ہوئی تو میں نے جج سے کہا کہ میں بچی کی حقیقی ماں ہوں اس لئے مجھ پر پابندیاں نہیں ہونی چاہیءں۔جج نے کہا کہ محترمہ! یہ قانون ہے کوئی کھیل کود نہیں ہے۔اس کے بعد جج مجھ سے پیچھے کھڑی عورت کی طرف متوجہ ہوگیا جس کے معنی تھے کہ وہ میری کوئی بات نہیں سننا چاہتا۔مجبورا مجھے واپس جانا پڑا اور میرا آدھا دن ضائع ہوگیا۔
میرا سب سے بڑا مسئلہ رقم کی فراہمی تھا۔ میں اپنے ایک ناول کا معاوضہ ملنے کا انتظار کررہی تھی جو اطالوی زبان میں ترجمہ ہوکر شائع ہوا تھا۔اپنی مایوسی دور کرنے کے لئے میں ان لوگوں کے بارے میں سوچنے لگی جو اس جدوجہد کے دوران ہلاک ہورہے تھے۔سرکاری اہلکار ان میں سے بہت سوں کو اغوا کرکے غائب کردیتے تھے اور ان کے پسماندگان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ذہنی عذابمیں مبتلا ہوجاتے۔جو شخص مرجاتا اس کی لاش دیکھ کر اس کے پیاروں کو صبر آجاتا تھا۔ لیکن جو اغوا ہوجاتے اور جن کی لاش بھی نہ ملتی ان کے پسماندگان روز جیتے روز مرتے تھے۔میں نے اپنی مایوسی دور کرنے اور خود کو اطمینان دلانے کے لئے سوچا کہ میرے کسی کام میں رکاوٹ کی اس کے مقابلے میں کیا اہمیت ہے جہاں لوگ روز مررہے ہوں۔
میری بیٹی گھر پر میرا انتظار کررہی تھی۔میں گھر پہنچی اور آن لائن یہ پتہ لگانے کی کوشش کرنے لگی کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈائیلاگ کی کیاصورت حال تھی؟ حکومت ان مذاکرات کو اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتی تھی۔وہ کسی قسم کی بات چیت یا قیام امن میں سنجیدہ نہیں تھی۔پہلی مرتبہ امن کانفرنس کی تفصیلات سرکاری ٹیلی ویژن سے پیش کی گئیں، اس کا مقصد اپوزیشن کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں تھا۔سرکاری مشینری اپوزیشن اراکین کو رشوتیں دے کر توڑ نے کی کوشش کررہی تھی۔انہیں ایک دوسرے کے خلاف اکسایا جارہا تھا ۔میں جب اپوزیشن لیڈروں سے ملی تو انہیں بشار الاسد کا کھیل سمجھانے کی کوشش کی(جاری ہے)
28 جون2011 :
کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں مجھے پتہ چلا کہ ایک نوجوان خاتون کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔اگرچہ وہ ایک سیاسی قیدی ہے لیکن جیل میں اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔میں ایک نوجوان کے ساتھ اس سے ملاقات کے لئے جیل گئی تاکہ موقع ملے تو اس کے حالات کی رپورٹ مرتب کرسکوں۔ وہ مکمل حجاب میں تھی۔ میں اسے دیکھ کر حیران رہ گئی۔ ایک پردہ دار خاتون جو اعلی تعلیم یافتہ بھی تھی اور اس کے پاس انجینیئرنگ کی ڈگری تھی۔میں ایک پردہ دار خاتون سے اتنی بہادری کی امید نہیں کرسکتی تھی۔ہماری یہ ملاقات مختصر تھی کیونکہ بظاہر ہم اسے قانونی امداد فراہم کرنے گئے تھے لیکن اصل مقصد اس کے حالات کا پتہ لگانا تھا۔ ہم نے طے کیا کہ ہم بہت جلد دوبارہ ملیں گے۔ میں نے اپنا گھر ایک مرتبہ پھر تبدیل کیا تھا اور میرا خیال تھا کہ سرکاری جاسوس میرا سراغ کھو چکے ہیں۔یہ اور بات تھی کہ یہ سب میری خام خیالی تھی۔ میں نے اپنا پرانا گھر کچھ عرصہ برقرار رکھا تاکہ وہ اس کی نگرانی کرتے رہیں۔ اس دوران میری ملاقات ایک اور نوجوان سے ہوئی جو دو مرتبہ گرفتار ہوا تھا اور مظاہرے شروع ہونے سے پہلے اس تحریک میں شامل ہوچکا تھا۔ اس طرح وہ اس کے بانیوں میں سے تھا۔ میں نے اس کا انٹرویو اپنے نئے گھر پر کیا جسے میں محفوظ تصور کرتی تھی۔نوجوان نے بتانا شروع کیا:
’’عرب دنیا میں جمہوریت اور آزادی کی تحریک(یعنی عرب بہار) شروع ہونے سے پہلے میں مختلف تعلیمی اور سماجی و ترقیاتی پروجیکٹس کا حصہ تھا۔جب تیونس میں عرب بہار کی تحریک شروع ہوئی تو بن علی کی فوجی آمریت کے خاتمے سے پہلے ہم توقع کررہے تھے کہ بہت جلدشام میں بھی یہ تحریک شروع ہوگی۔ اس زمانے میں ہم تیونس میں جمہوریت کا مطالبہ کرنے والوں کی حمایت میں تیونسی سفارتخانے پر مظاہرے کیا کرتے تھے۔شامی فورسز ہمیں جمع ہونے کا موقع نہیں دیتی تھیں اور اکثر ہم کو منتشر کردیتی تھیں۔ہمیں میڈیا میں بہت کم کوریج ملتا تھا۔اس وقت تک بین الاقوامی میڈیا شام کی جانب متوجہ نہیں تھا۔جب مصر میں حسنی مبارک کی فوجی آمریت کے خلاف تحریک شروع ہوئی تو ہمیں یہ امید ہو چلی کہ شاید اب یہ تحریک شام پہنچ جائے گی۔لیکن شامی سوئے ہوئے تھے یا خوف زدہ تھے کیونکہ اس سے پہلے اسد خاندان کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بن کر کچل دیا گیا تھا اور ان میں کوئی پچاس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس وقت بھی ملک کے باہر سے کوئی شامی عوام کی مدد کو نہیں آیا۔ مغربی میڈیا نے ان تحریکوں کو بہت کم کوریج دیا۔ اس تحریک کے بھیانک نتائج کے باوجود ہم نے تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ہم نے شام کی دو ٹیلی کام کمپنیوں ’’سیریا ٹیل‘‘ اور ’’ایم ٹی این‘‘ کے دفاتر کے سامنے دھرنا دینے اور ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ریلی درحقیقت تیونس اور مصر کے سیاسی کارکنوں سے یک جہتی کے لئے نکالی جانی تھی۔ جب مقررہ تاریخ کو سیاسی کارکن وہاں پہنچنا شروع ہوئے تو دیکھا کہ وہاں واقع الروادہ کیفے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سے بھرا ہوا ہے۔کیفے کے باہر بھی بہت بڑی تعداد میں اہلکار موجود تھے۔ ان کے مقابلے میں ریلی کے شرکا کی تعداد بہت کم تھی۔جوں ہی ہم نے مظاہرہ شروع کیا سیکیورٹی اہلکار ہم جھپٹے ۔ ایک ایک کارکن کے مقابلے میں چار چار اہلکار تھے۔ انہوں نے ہمیں پہلے خوب کوٹا پھر ڈنڈا ڈولی کرکے پولیس کی گاڑیوں میں پھینکنا شروع کیا۔ہم میں سے بہت کم بچ کرفرار ہوسکے۔ ہم کو وارننگ دے کر دو دن کے بعد رہا کردیا گیا۔ جب ہم واپس آئے تو ہم نے اپنی ریلی کی ناکامی کا تجزیہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہماری ناکامی کا سبب یہ تھا کہ ہماری تعداد بہت کم تھی۔ہم نے فیصلہ کیا کہ آئندہ ہم پہلے سے زیادہ تیاری کے ساتھ اور زیادہ تعداد میں مظاہرہ کریں گے۔
مصر میں حسنی مبارک کی آمریت کا زوال ہوا اور لیبیا میں بھی تبدیلی آگئی تو شام میں نوجوانوں نے عالم عرب کے حالات میں دلچسپی لینا شروع کی۔ہر ایک کی توجہ عرب بہار کی تحریک کی طرف تھی جو جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہی تھی۔ ہر ایک کو اس کا انتظار تھا کہ شام میں بشار الاسد کے خلاف تحریک کب اور کیسے شروع ہوگی؟ 14 فروری کو ہم دس بارہ نوجوان جمع ہوئے۔ ہم میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل تھے۔ہمارا تعلق مختلف مذہبی برادریوں اور قبیلوں سے تھا اور ہم میں سے نصف سے زیادہ کارکن سیکولر تھے۔سیکولر ہونے کا مطلب یہ تھا کہ ہم اپنی شناخت علوی یا سنی ظاہر نہیں کرتے تھے۔ہم میں بہت سے نوجوان سنی یا علوی تھے لیکن وہ ایک دوسرے سے اس بنیاد پر نفرت نہیں کرتے تھے۔ہمارے درمیان فیصلہ ہوا کہ 15 مارچ کو ایک بڑا مظاہرہ کیا جائے۔ہمیں اصل پریشانی یہ تھی کہ کیا شامی عوام اپنے گھروں سے باہر نکلیں گے؟ ہم نے فیس بک کے صفحات کو استعمال کرنا شروع کیا تاکہ نوجوانوں میں بیداری کی لہر پیدا کی جاسکے۔ فیس بک کے ایک صفحے کا نعرہ یہ تھا کہ ہم سب مصر کے خالد سعید ہیں۔ان صفحات پر شام کے عوام کو احساس دلایا جارہا تھا کہ وہ نصف صدی سے اسد خاندان اور اس کی آمریت کے بوجھ تلے کچلے جارہے ہیں۔ان کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔تمام عہدوں پر اسد خاندان اور نام نہاد سکولر بعث پارٹی کا قبضہ ہے۔ ان ہی کی ترقیاں ہوتی ہیں۔انہی کے کاروبار فروغ پاتے ہیں۔ ہر ذریعہ پر ان کا مکمل کنٹرول ہے۔ عوام پسماندگی کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔یونیورسٹیوں میں تمام عہدوں پر بعث پارٹی کا قبضہ ہے۔ ملازمتیں میرٹ پر نہیں بلکہ بعث پارٹی اور رشتہ داری کے تعلق سے ملتی ہیں۔کرپشن عام ہے اور اسد خاندان اور بعث پارٹی کا ہر اہلکار بدعنوان ہے۔ نوجوانوں سے کہا جارہا تھا کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کس طرح سیکولرزم کے نام پر ان کا استحصال کیا جا رہا ہے؟ ان کے ساتھ کیا ناانصافی ہورہی ہے؟ اور ان کی اقتصادی بدحالی کا ذمہ دار کون ہے؟
15 مارچ کو دمشق کی مسجد امیہ جو اموی مسجد بھی کہلاتی ہے ہزاروں نوجوان جمع ہوئے اور پھر جوق در جوق ریلی کے لئے باہر نکلنا شروع ہوئے۔یہ پہلا بڑا مظاہرہ تھا۔شامی نوجوانوں نے ہماری پکار پر لبیک کہا۔ مظاہرہ کامیاب رہا۔ اور اس نے دنیا بھر کے میڈیا کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔18 مارچ کو درعا میں بچوں پر ظلم و ستم ڈھانے کا واقعہ ہوا۔ اس کے ردعمل میں شام کے مختلف شہروں میں مظاہرے شروع ہوگئے۔اس کے بعد ہم نے درعا کے مظلوم نوجوانوں اور بچوں کی حمایت میں دمشق میں دھرنا دیا۔ ملک میں قاہرہ کے تحریر اسکوائر کی طرز پر دھرنے اور مظاہرے شروع ہوئے۔پورا ملک بے چینی سے ہم پر نظر رکھے ہوئے تھا۔16 مارچ کو وزارت داخلہ کے سامنے مظاہرہ ہوا۔19 مارچ کو درعا میں کئی لوگ سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہوئے۔20 مارچ کو البرامکہ میں حکومت کے خلاف مظاہرہ ہوا۔اب ہم نے بڑے مظاہروں کی منصوبہ بندی شروع کردی۔ اس تحریک کے لئے مصر کا ماڈل ہمارے سامنے تھا جہاں مظاہروں کا آغاز مسجدوں سے ہوا لیکن بعد میں تحریر اسکوائر مرکز بن گیا۔ ہم نے بھی مسجدوں ہی کو مرکز بنایا۔ اصل مسئلہ یہی تھا کہ پولیس مظاہرین کو کہیں جمع ہونے کا موقع ہی نہیں دیتی تھی اور شروع ہی میں ان پر دھاوا بول کر یا اس مقام کی ناکہ بندی کرکے انہیں گرفتار کرنا شروع کردیتی تھی۔ ہماری تحریک میں شامل سیکولر عناصر نے سڑکوں پر جمع ہونے اور ریلیاں نکالنے کی بڑی کوشش کی لیکن سیکورٹی فورسز اتنی بڑی تعداد میں ہوتی تھیں کہ وہ مظاہرین کو کہیں بھی ٹکنے نہیں دیتی تھیں۔چنانچہ سکولر عناصربھی ناکام ہوکر مسجدوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوگئے۔ ہمارے لئے مسجدوں کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں تھی۔ 26 مارچ کو مختلف مسجدوں سے الگ الگ ریلیاں نکلنا شروع ہوئیں۔اس طرح ہم نے فورسز کی نفری کو بھی ایک جگہ جمع ہونے سے روک دیا اور خود بھی تحریک کو پھیلانے میں کامیاب رہے۔سب سے زیادہ ریلیاں مسجد امیہ سے نکلیں جو المرجہ، البرامکہ اور المیزہ کی جانب گئیں۔اس طرح ہم نے شہر کے بڑے حصے کا احاطہ کرلیا۔شروع میں تو سیکیورٹی فورسز ہماری حکمت عملی سے پریشان ہوئیں لیکن بعد میں انہوں نے مظاہرین کو کچلنے کی پالیسی اختیار کرلی ۔انہوں نے ریلیوں اور جلوسوںکے شرکا کو سختی سے کچلنا شروع کیا اور سڑکوں پر سیاسی کارکنوں کا خون بہنا شروع ہوگیا۔ دمشق میں ریلیوں کو اس بری طرح کچلا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ مظاہرین جان بچانے کے لئے دیہی علاقوں کی جانب پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے۔اگلے دن سیکیورٹی فورسز نے اموی مسجد کی ناکہ بندی کردی اور مسجد میں داخل ہونے والے ہر شخص سے شناختی کارڈ طلب کیا جانے لگا۔اس کے جواب میں ہم نے اپنے اجتماع کا مقام تبدیل کرنا شروع کیا اور ہر مرتبہ نئی مسجد کا رخ کرنے لگے۔ بعد میں سیکیورٹی فورسز ہمارے تعاقب میں وہاں بھی پہنچ جاتی تھیں اور یہ آنکھ مچولی دیر تک جاری رہتی تھی ۔
اس دوران ہم نے فیس بک کا استعمال جاری رکھا۔فیس بک پر شامی انقلاب کا صفحہ لوگوں کی توجہ کا خاص مرکز تھا اور اسے سبسکرائب کرنے والوں کی تعداد ہزاروں سے بڑھ کر اب لاکھوں تک پہنچنا شروع ہوگئی تھی۔ کچھ عرصہ بعد جمعہ کا دن مظاہروں کے لئے وقف کردیا گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ لوگ جمعہ کی نماز کے لئے بڑی تعداد میں مسجدوں کا رخ کرتے تھے۔ اور ان میں ہمارے کارکن بھی ہوتے تھے۔اگرچہ سکولر نوجوانوں نے جمعہ کے دن کی مخالفت کی لیکن بعد میں وہ بھی جمعہ کو مسجدوں میں داخل ہونے پر مجبور ہوگئے۔
ہماری ایک غلطی یہ تھی کہ ہم شروع میں تحریک کو گروپس کی شکل میں لے کر چلے۔ ان گروپس کا کسی مرکز سے ربط نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت تک کو آرڈینیشن کمیٹیاں بننا شروع نہیں ہوئی تھیں۔ہم نے جو دھرنے، ریلیاں اور مظاہرے شروع کئے تھے ان میں نواحی علاقوں سے بڑی تعداد میں نوجوان شریک ہوتے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے باہر سے آنے والے نوجوانوں کو روکنے کے لئے چیک پوسٹیں بنانا شروع کردیں۔اسی دوران ایک مظاہرے پر فائرنگ میں 9 مظاہرین شہید ہوگئے۔ حکومت کی جانب سے مظاہروں اور ریلیوں کو جتنا زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا گیااتنا ہی زیادہ تحریک پھیلتی چلی گئی۔اب ہم نے تحریک کو مربوط کرنے کے لئے کو آرڈی نیشن کمیٹیاں بنانا شروع کردیں۔
سیاست، میڈیا، تنظیم اور طبی امداد کے لئے الگ الگ کمیٹیاں بنائی گئیں۔اس دوران شامی سیکیورٹی فورسز نے درعا، دوما، حمص اور بنیاس کو خون میں نہلا دیا۔لیکن تحریک بڑھتی گئی۔نوجوانوں نے سیکڑوں ویب سائیٹس اور صفحات انٹر نیٹ پر بنائے جن میں شامی فورسز کے ظلم کا شکار ہونے والوں کی تصویریں اور فلمیں وغیرہ دی جاتی تھیں۔اس وقت اس تحریک میں اسلام پسند بھی شامل تھے اور دہریہ اور سوشلسٹ بھی۔ لیکن ان کے درمیان اسد حکومت کے خاتمے اور جمہوری نظام کی بحالی پر اتفاق تھا۔ ہم نے میڈیا سے گہرا تعلق قائم کیا اور کئی ترجمان مقرر کئے۔ ان میں عمر ایڈلبی، ریمی نخلہ، اے کے اے مولد، عمران محمد العبداللہ، اور ہوزان ابراہم شامل تھے۔ ان کا کام بیرون ملک میڈیا سے رابطے رکھنا اور انہیں خبریں فراہم کرنا تھا۔ وہ سٹیلائیٹ چینلوں اور نیوز ایجنسیوں کو خبریں اور تصویریں فراہم کرتے تھے‘‘۔
اس نوجوان کا بیان مکمل کرکے میں نے اسے ٹرانسکرائب کیا اور چھپنے کے لئے بھیج دیا۔
29 جون2011 :
شام میں انقلاب کے لئے تحریک پورے ملک میں جاری تھی۔ پاپولر کمیٹیاں، سول سوسائیٹی اور کو آردی نیشن کمیٹیوں کی تشکیل کررہی تھیں۔ایسی سیاسی تنظیم گزشتہ 50 سال میں شام میں دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ میں سخت مصروف تھی اور میری بیٹی میری ان مصروفیات کے حوالے سے سخت ناراض تھی۔وہ مجھ سے بات تک نہیں کرتی تھی۔دوسری جانب میرے اپنے خاندان نے میرا سماجی بائیکاٹ کررکھا تھا اس طرح میں بری طرح نفسیاتی دباؤ میں تھی۔ کبھی کبھی یہ دباؤ ناقابل برداشت ہوجاتا تھا۔ ایک جانب قتل وغارتگری کی خبریں سننے کو ملتی تھیں دوسری جانب معصوم لوگوں کے کٹے پھٹے لاشے تصویروں میں دیکھنے کو ملتے تھے جن کی وجہ سے میری زندگی کا سکون رخصت ہوگیا تھا۔میں مسلسل دباؤ اور اعصابی تناؤ میں رہتی تھی لیکن مجھے ہر طرف سے راستے بند نظر آتے تھے۔میرے اور میری بچپن کی دوستوں کے تعلقات تک ختم ہوگئے تھے۔ مجھے اس کا تصور بھی نہیں تھا کہ میں اس طرح تنہا رہ جاؤں گی۔
شام میں میرے فرقے یعنی علویوں کو پہلی مرتبہ پہلی جنگ عظیم کے زمانے میں تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری مرتبہ علویوں کوظلم کا سامنا اس وقت ہوا جب حافظ الاسد فوجی انقلاب کے ذریعہبرسراقتدار آیا۔ وہ علوی تھا لیکن مطلق العنان حکومت قائم کرنے کے لئے اس نے ہر مخالفت کو سختی سے کچل دیا۔ جس نے بھی جمہوریت کا نام لیا خواہ وہ علوی ہی کیوں نہ ہو اس کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ اس کے بعد علویوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اس نے خود کو علوی حکومت قرار دے دیا۔ حکومت نے میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ علوی اس حکومت کے محافظ ہیں ا سلئے جانی و مالی قربانیاں دینے کے لئے آگے آئیں۔ درحقیقت اسد حکومت نے علویوں کو ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔اسد حکومت نے فرقہ واریت کو فروغ دیا تاکہ علوی اور سنی اس کے خلاف جمع نہ ہونے پائیں۔اس کے بعد ایسے اقدامات کئے گئے کہ سنیوں کو ہر جگہ سختی سے کچلا گیا کیونکہ وہ اکثریت میں تھے اس لئے حکومت کرنا اپنا حق سمجھتے تھے۔ جن سنی پارٹیوں نے جن میں اخوان المسلمون سر فہرست تھے جمہوریت کے لئے مہم شروع کی تھی انہیں سختی سے کچل دیا گیا اور لوگوں کا بدترین قتل عام ہوا۔ 1982 میں ایسی ہی ایک بغاوت میں 50,000 افراد قتل ہوئے جو زیادہ تر سنی تھے جنہوں نے اس کا ذمہ دار علویوں کو تصور کیا اس طرح اسد حکومت یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی کہ وہ علوی حکومت ہے اور ہر علوی کو اس حکومت سے وفاداری کرنی چاہیئے۔پولیس اور سکورٹی فورسز کے زیادہ تر اہلکار سنی تھے اس لئے سنیوں کو یہ پیغام ملا کہ یہ سنیوں اور علویوں کی جنگ ہے حالانکہ علویوں کی بہت بڑی تعداد ایسی تھی جو اخلاص کے ساتھ ملک میں جمہوری نظام قائم کرنا چاہتے تھے۔
میں ایک نوجوان خاتون سے ملی جو انجینیئر تھی۔ اس کی عمر 30 سال کے لگ بھگ تھی۔ وہ دو مرتبہ گرفتار ہوئی۔ وہ پہلی مرتبہ 16 مارچ کو پکڑی گئی اور 16 دن جیل میں رہی۔ رہائی کے تھوڑے عرصے بعد اسے دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔اس وقت وہ درعا میں محصور شہریوں کو غذائی امداد بھجوانے کے انتظامات کررہی تھی۔ہر اس شخص کو گرفتار کرلیا جاتا تھا جو درعا میں محصور مظلوم شہریوں کی حمایت کرتا تھا۔ اس خاتون کو بھرے مجمع میں سڑک سے اٹھایا گیا۔خاتون نے شہریوں سے مدد کی اپیل کی اور جو لوگ سے بچانے کے لئے آگے بڑھے ان کو بری طرح زد وکوب کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اس کو اغوا کرنے والے سادہ لباس اہلکار تھے اور اسے کسی وارنٹ گرفتاری کے بغیر اٹھایا جا رہا تھا۔اس لئے اس نے چلا کر لوگوں کو بتایا کہ وہ کون ہے اور اس کا نام کیا ہے؟ اسے گرفتار کرکے کسی عدالت میں پیش کرنے کے بجائے شامی فورسز کے ایک عقوبت خانے میں رکھا گیا اور اسے مجبور کیا گیا کہ وہ ایک سادہ کاغذ ہر دستخط کردے تاکہ اس پر وہ من مانا بیان اس کی جانب سے بنا سکیں۔جب اس نے منع کیا تو اسے بری طرح زد و کوب کیا گیا۔لیکن وہ ایک کمزور عورت ہونے کے باوجود اس تشدد کا مقابلہ کرتی رہی اور دستخط کرنے سے انکار کرتی رہی۔ اس کے بعد اسے دھمکی دی گئی کہ وہ اس بیان پر دستخط نہیں کرے گی تو اسے مجرمانہ حملے کا نشانہ بنایا جائے گا اور اس کی عزت لوٹ لی جائے گی۔ اپنی عزت بچانے کے لئے اس نے مجبورا اس بیان پر دستخط کردئے۔ اس کے بعد فوج کے ایک لیفٹننٹ کرنل نے اس کے چہرے کا حجاب نوچنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر دوسرے فوجیوں میں سے کسی کو اس پر رحم آگیا اور اس نے اسے بچایا اور اسے قید تنہائی میں ایک کوٹھری میں پھینک دیا گیا۔ اس نے سارا دن اس طرح تشدد کا مقابلہ کیا تھا کہ وہ کوٹھری میں پہنچ کر سوگئی۔ اگلی صبح ایک خاتون محافظ نے اسے جگایا اور اس کے لئے کھانا لائی۔ اس نے کھانا کھانے سے انکار کردیا تو خاتون محافظ نے کہا کہ اگر اس نے کھانا نہ کھایا تو اس کی سزا اسے ملے گی اور کرنل اس کی کھال ادھیڑ دے گا۔مجبورا اس نے کچھ کھایا اور کچھ رکھ لیا۔ اس کے بعد اسے وہاں سے ایک دوسرے کمرے میں لے جایا گیا جہاں بہت سی عورتیں قید تھیں۔وہ سب سیاسی قیدی تھیں ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ درعا کے محصور شہریوں کو کھانا پہنچانے کی کوشش کررہی تھیں۔اس نے سب قیدیوں کو اپنا نام بتایا تاکہ وہ گمنامی میں نہ ماری جائے۔وہاں سے اسے ایک اور کمرے میں منتقل کردیا گیا۔ وہاں بھی قیدی سب عورتیں تھیں۔ اتفاق سے ا سکے ہاتھ میں سینڈ وچ کا ایک ٹکڑا تھا۔ ایک عورت اس کے قریب آئی اور اس سے سینڈ وچ مانگا۔ اس نے اس عورت کو یہ سینڈوچ دے دیا۔ اس عورت نے اس سینڈ وچ کے کئی ٹکڑے کئے اور دوسری عورتوں میں یہ ٹکڑے تقسیم کردئے۔ پتہ چلا کہ ان عورتوں کو بھوکا رکھا گیا ہے اور یہ بھی ایک طرح کی سزا تھی جو ان کو دی جارہی تھی۔خاتوں نے کہا کہ جس طرح یہ عورتیں ایک ایک نوالہ بناکر دوسری عورتوں میں تقسیم کررہی تھیں کہ یہ منظر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔یہ کیسے ظالم لوگ تھے جو اپنے شہریوں کو اوران کی ماؤں بہنوں کو صرف اس لئے بھوکا مار رہے تھے کہ وہ درعا کی محصور شہریوں کو کھانا پہنچا ناچاہتی تھیں۔ ان سے تو کردار میں یہودی اچھے تھے۔ اس جیل کے ایک کمرے میں 30 عورتوں کو رکھا گیا تھااور جگہ کم ہونے کی وجہ سے وہ لیٹ نہیں سکتی تھیں۔ ان کے نرم و نازک جسموں کو زنجیروں میں باندھ کر رکھا گیا تھا حالانکہ وہ مجرم نہیں تھیں سیاسی قیدی تھیں۔
یہ کہانی مجھے ایک ایسی خاتون نے سنائی جو تعلیم یافتہ تھی جس کے پاس یونیورسٹی کی انجینیئرنگ کی سند تھی اور جس کا تعلق کسی غریب نہیں بلکہ متمول سنی خاندان سے تھا۔وہ بے حد اسمارٹ اور سڈول جسم کی مالک تھی اور اتنے نرم اور دھیمے لہجے میں بولتی تھی کہ مجھے اس کی بات سننے کے لئے قریب ہونا پڑتا تھا۔ اس کی کہانی سن کر مجھے یقین نہیں آیا کہ اس نازک لڑکی نے اتنا تشدد برداشت کیا اور جیل میں روح فرسا مظالم کا سامنا کیا۔اس کی کہانی سن مجھے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہونے لگا اور میں مجھے خوف پیدا ہوا کہ مجھے دمہ کا دورہ پڑنے والا ہے۔ جب میں انتہائی جذباتی ہیجان کا شکار ہوتی تھی تو میرا دم گھٹنے لگتا تھا جو ایک طرح کا دورہ ہوتا تھا۔میں نے فوراً گھر واپس جانے کا فیصلہ کیا ۔ میں اپنی ایک دوست لڑکی کے ساتھ اس کی کار میں گھر کی طرف روانہ ہوئی۔راستے میں میرا دورہ اتنا شدید ہوگیا کہ میں نے کار رکوائی اور سڑک پر کھڑے ہوکر گہری سانسیں لینے لگی۔باہر دھوپ بہت تیز تھی جس کی شدت میں برداشت نہیں کرپائی اور وہیں سڑک پر گر بے ہوش ہوگئی۔ میری دوست لڑکی نے راہ گیروں کی مدد سے مجھے اٹھواکر گاڑی میں ڈالا ۔ مجھے راستے میں ہوش آیا۔
30 جون 2011 :
میری ایک لیڈی ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی جو مردہ خانے کی انچارج تھی۔اس نے مجھے ایک بھیانک قصہ سنایا۔ اس نے بتایا کہ ’’ایک نوجوان سات لاشیں لے کر مردہ خانے پر آیا اور لاشیں رکھنے کی اجازت مانگی۔میں نے اس نوجوان سے کہا کہ مردہ خانے میں صرف دو لاشیں رکھنے کی جگہ باقی بچی ہے اور باقی لاشیں اسے واپس لے جانا پڑیں گی۔اس بات پر وہ نوجوان پاگلوں کی طرح چلانے لگا اور بولا کہ شہر میں جگہ جگہ لاشیں پڑی ہیں۔ ان کو اٹھانے اور دفنانے والا کوئی نہیں۔ شہر میں گولیاں ابھی تک چل رہی ہیں اور جگہ جگہ فورسز کے نشانچی چھپے بیٹھے ہیں۔ ان کے خوف سے کوئی لاشوں کے قریب نہیں آتا۔ ویسے بھی جب تک لاشوں کی شناخت نہ ہوجائے کوئی ان کی تدفین کی ذمہ داری کیسے لے؟۔اس نے کہا کہ اس نے اپنی گلی سے یہ لاشیں اس لئے اٹھائی ہیں کہ ایک دو دن میں یہ سڑنا شروع ہوجائیں گی اور ان کی شناخت مشکل ہوجائے گی اس کے علاوہ ان کے سڑنے سے قریبی گھروں میں آباد لوگوں کا رہنا دوبھر ہوجائے گا۔ نوجوان کہہ رہا تھا کہ وہ اکیلا ان کی تدفین نہیں کرسکتا، صرف یہی کرسکتا ہے کہ کسی مردہ خانے میں انہیں پہنچا دے تاکہ ان کی شناخت کا کوئی وسیلہ نکل آئے۔ میں اس کی ہمت دیکھ کر حیران تھی کہ اس نے کتنا بڑا خطرہ مول لیا تھا۔ میں انسانی جانوں کی اس بے حرمتی اور بے توقیری پر بھی حیران تھی۔یہ کیسے لوگ تھے جو انسانی جان کی کوئی حرمت نہیں سمجھتے تھے‘‘۔
میں نے آج ایک صحافی سے بھی بات چیت کی جو کئی دن تک حاما میں چھپ کر شہر کے حالات کا جائزہ لیتا رہا تھا۔ اس نے اپنے بیان میں بتایا کہ :
’’میں جب حاما شہر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ مظاہرے میں 30,000 کے لگ بھگ لوگ ہیں۔ مظاہرے میں مردوں سے زیادہ عورتیں تھیں۔میں ایک ٹیکسی میں تھا اور ٹیکسی مظاہرین کے بالکل درمیان میں چل رہی تھی۔ ہم درمیان میں ا سلئے چل رہے تھے کہ سیکورٹی والوں کی نظر میں نہ آئیں اور وہ ہم سے پوچھ گچھ نہ کرسکیں۔ میری ایک دوست لڑکی بھی میرے ساتھ تھی۔کوئی ہمارے قریب آیا اور اس نے پوچھا کہ کیا ہم کو عربی آتی ہے؟ شاید وہ ہم کو غیر ملکی سمجھ رہا تھا۔میں نے بتایا کہ میں کوئی غیر ملکی نہیں بلکہ شامی شہری ہوں۔ وہ مجھ کو ایک سوزوکی ٹرک تک لے گیا جس میں دوسرے کیمرا مین بھی تھے ۔ یہ سوزوکی میڈیا کی مدد کے لئے تھی۔ ہم نے اس سوزوکی میں سوار ہوکر ایک گھنٹے تک اس مظاہرے کی فلم بندی کی۔اپنا اسائنمنٹ پورا کرنے کے بعد ہم ایک ٹیکسی کے ذریعہ مسجد الخطاب تک پہنچے جہاں ہمارے دوست ہمیں لینے آئے تھے‘‘۔ صحافی نے بتایا کہ اگلے دن اس کی ملاقات ایک لیڈی ڈاکٹر سے ہوئی۔ لیڈی ڈاکٹر نے اپنی گرفتاری کی کہانی سنائی۔ وہ جس اسپتال میں تعینات تھی وہاں ہر طرح کے شہریوں کا علاج کیا جاتا تھا۔زیادہ تر شہری وہ زخمی ہوتے جو فورسز کا نشانہ بنتے تھے۔ ایک دن فورسز نے اس اسپتال پر حملہ کیا۔شہریوں نے اسپتال کے گردہیومن شیلڈ بناکر اہلکاروں کو اندر جانے سے روک دیا۔ پولیس اسپتال میں زیر علاج زخمیوں سے پوچھ گچھ کرنا چاہتی تھی۔ لوگ خوف زدہ تھے کہ وہ زخمیوں کو گرفتار کرلیں گے۔ وہ زخمیوں کو ہلاک بھی کرسکتے تھے۔
ہماری ملاقات ایک عورت سے ہوئی جس کے شوہر اور اس کے بیٹے کو اس کے گھر کے سامنے 1982 کی بغاوت کے دوران گولی مار کر ہلاک کردیا گیاتھا۔ وہ اپنے گھر میں اپنی دو کمسن بیٹیوں اور ایک چھوٹے بیٹے کے ساتھ دو ہفتے چھپی رہی۔ اب حاما میں ایک مرتبہ پھر وہی تاریخ دہرائی جارہی تھی۔ لوگ گھروں کے اندر چھپے ہوئے تھے۔ اسد کی سیکیورٹی فورسز اور الشبیہہ کے غنڈے گھروں کے دروازے توڑ کر اندر گھنس جاتے تھے۔ اگر مکین موجود ہوتے تو انہیں ناکردہ گناہوں کی پاداش میں پکڑ لیتے ورنہ گھر کا سامان لوٹ لیتے۔شہر کی مکمل ناکہ بندی کردی گئی۔ پانی، بجلی کے کنکشن کاٹ دئے گئے۔ باہر سے خوراک پہنچانے پر پابندی لگادی گئی۔ایک وقت ایسا آیا کہ لوگ بھوکے مرنے لگے۔ان کو یہ سزا بشار الاسد کے خلاف مظاہرے کرنے اور عظیم الشان ریلی نکالنے کے جرم میں دی گئی۔1982 میں حاما میں تیس چالیس ہزار لوگوں کو قتل کیا گیا تھا۔ اب بھی ایسا لگتا ہے کہ ہلاکتیں اس سے بھی بڑھ جائیں گی۔ اسی بنا پر لوگوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع کردی ہے‘‘۔
صحافی کی کہانی پر مجھے یاد آیا کہ شامی انٹیلیجنس کے افسروں نے تعاون نہ کرنے پر میری بیٹی کی عزت لوٹنے کی دھمکی دی تھی حالانکہ میں علوی تھی اور یہ افسر بھی علوی تھے۔یہی وہ لوگ تھے جو فرقہ واریت پھیلا رہے تھے۔ وہ علویوں اور سنیوں دونوں کو قتل کرتے تھے اور قتل کا الزام ایک دوسرے پر لگا دیتے تھے اور یہ تاثر دیتے تھے کہ یہ قتل فرقہ ورانہ ہیں۔ اس کے بعد علوی اور سنی شیخوں کو بلایا جاتا تھا جو اتحاد اور یگانگت کے حق میں تقریریں کرتے تھے۔
3 جولائی 2011 :
اپنے حالات دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے سابقہ گھر چلی جاؤں جہاں کم از کم میری بیٹی محفوظ رہ سکتی تھی۔میرے پاس کوئی وجہ نہیں تھی کہ میں کرائے کے اپارٹمنٹ میں رہتی جس کا کرایہ میری آدھی ماہانہ آمدنی کے برابر تھا۔میں نے محسوس کیا کہ مجھے چھپنے سے کوئی فائدہ نہیں تھا۔ مجھے کافی عرصے سے اٹھایا نہیں گیا تھا اور میں سمجھنے لگی تھی کہ وہ بہت زیادہ مصروف ہیں اور مجھے گرفتار کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ مجھے ہراساں کرنے کے سارے نسخے استعمال کرچکے تھے۔ہوسکتا ہے کہ اب ان کو یقین ہوگیا ہو کہ میں خوف زدہ ہونے والی چیز نہیں ہوں۔ میں تو صرف اپنی بیٹی کی وجہ سے خوف زدہ رہتی تھی۔ وہ جب بھی مجھے گرفتار کرتے تھے تو مجھے مختلف عقوبت خانوں کی سیر کراتے تھے۔ میں اسے جہنم کی سیر قرار دیتی تھی۔لیکن اس طرح وہ مجھے خوف زدہ نہیں کرسکے۔اس کے نتیجہ میں میرے دل میں ان کے خلاف نفرت اور زیادہ بھڑک اٹھی۔
میرا یہ خیال جلد ہی باطل ہوگیا کہ شاید اب وہ مجھے نہیں اٹھائیں گے۔ اگلی مرتبہ وہ مجھے اٹھانے آئے تو تین کے بجائے دو تھے۔وہ آئے تو اس وقت میں اپنی کوئی رپورٹ لکھ رہی تھی۔ میں نے لکھنا بند کردیا اور لاپرواہی سے کاغذات کو ترتیب دینے لگی۔وہ مجھ سے انتہائی نرم اور مہذبانہ لہجے میں مخاطب ہوئے۔ وہ کسی طرح بھی انٹیلیجنس یا الشبیہہ کے غنڈے نہیں لگتے تھے۔انہوں نے نرمی سے مجھ سے کہا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا باس مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔اس لئے میں کپڑے تبدیل کرلوں اور ان کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوجاؤں۔میں نے ان سے کہا کہ اگر وہ مجھے گرفتار کرنا چاہتے ہیں تو کسی عدالت کا وارنٹ لائیں۔ورنہ میں ان کے ساتھ نہیں جاؤں گی۔ ان میں سے ایک نے باہر کی طرف اشارہ کیا اور بولا ،’’مادام ! ہم باہر کھڑے ہوکر آپ کا انتظار کررہے ہیں‘‘۔ اس کا لہجہ استہزائیہ تھا۔اس نے جان بوجھ کر اپنی کمر میں ٹھنسے ہوئے پستول کو مجھے دکھایا۔ خوف کی ایک لہر میرے جسم میں دوڑ گئی۔اس کے پستول کی جھلک میں الفاظ کے مقابلے میں زیادہ تاثیر تھی۔میں جانتی تھی کہ آگے کیا ہونے والا ہے؟ لیکن نیم تاریک کمروں میں قائم عقوبت خانوں میں سسکتے ہوئے قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور تڑے مڑے جسموں کا تصور ہی لرزادینے والا تھا۔میری خواہش تھی کہ وہ مجھے ان عقوبت خانوں کی سیر کرانے کے بجائے کسی تاریک کوٹھری میں قید کردیں۔ لیکن وہ تو تھوڑے تھوڑے دن کے بعد میری قوت برداشت کو آزماتے تھے اور پھر چھوڑ دیتے تھے۔وہ جب چاہتے مجھے قتل کردیتے لیکنوہ مجھے مارڈالنا نہیں چاہتے تھے۔ کیونکہ وہ کبھی اس خبر کو پسند نہیں کرتے کہ سنی اپوزیشن کے لیڈروں کے ساتھ ایک ممتاز علوی صحافی خاتون بھی قید ہے۔یہ بات واضح تھی کہ انٹیلیجنس کے کچھ افسروں کو مجھ سے ذاتی دشمنی ہوگئی تھی کیونکہ میں نے ان کے آگے جھکنے سے انکار کردیا تھا۔یہ نحیف و نزار عورت ان کے قابو نہیں آئی اور نہ وہ اسے ڈرانے میں کامیاب ہوسکے۔ میں نے حافظ الاسد کے ایک عزیز سے سنا تھا کہ حافظ الاسد جب فوجی انقلاب کے ذریعہ برسر اقتدار آیا تو اس نے سیکورٹی فورسز اور انٹیلیجنس کی تربیت کے لئے جرمن افسروں کی خدمات حاصل کیں جو ٹارچر کرنے کے ماہر تھے۔یہ افسر بھی جرمنوں کا تربیت یافتہ تھا جو لوگوں کو اذیت دے کر اور ٹارچر کرکے خوش ہوتا تھا اور اسے سکون ملتا تھا۔چنانچہ اسد حکومت نے قاتلوں کی ایک پوری فوج تیار کی تھی جو اس کے سیکیورٹی نظام کا حصہ تھی۔
جب میں ان سیکیورٹی ایجنٹوں کے ساتھ ان کی گاڑی میں الرودہ اسٹریٹ سے باہر نکلی تو انہوں نے میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور میرے ہاتھ پیچھے باندھ دئے گئے۔میں یہ جاننے کی کوشش کررہی تھی کہ یہ کار کہاں جارہی ہے؟ لیکن انہوں نے دیر تک اس کار کو سڑکوں پر بے مقصد گھمایا اور اتنے موڑ مڑے کہ جگہ کا کوئی اندازہ نہیں رہ گیا کہ یہ کار کہاں جارہی ہے؟ تاہم میں صحافی تھی اور مجھے اندازہ تھا کہ وہ مجھے کہاں کہاں لے جا سکتے ہیں؟ الجسر الابیض میں انٹیلیجنس کا ایک خفیہ اڈہ تھا جس کے ساتھ جیل بھی تھی جہاں قیدیوں کو ٹارچر کیا جاتا تھا۔اس سے ذرا آگے کفر سوساہ میں انٹیلیجنس کے کئی اڈے تھے۔ جب مجھے کسی دفتر میں پہنچادیا گیا تو میری آنکھوں سے پٹی کھول دی گئی۔ میں نے کمرے کا جائزہ لیا اور اس نتیجہ پر پہنچی کہ میں یہاں پہلی بار لائی گئی ہوں۔وہاں مجھ سے پوچھ گچھ کرنے والا افسر بھی اجنبی تھا۔لیکن اس کی آنکھوں میں درندوں جیسے بے رحمی تھی۔اتنا عرصہ سیکیورٹی فورسز سے ڈیل کرکے مجھے اندازہ ہوا تھا کہ جو افسر جتنا چھوٹے رینک کا ہوتا وہ اتنا ہی درشت مزاج ثابت ہوتا۔ اس کے مقابلے میں اعلٰی افسرتہذیب اور نرمی سے بات کرتا۔ میں نے سوچا کہ جو کچھ تجربہ میں نے حاصل کیا ہے کہ اسے میں کسی ناول میں بیان کروں گی۔ جب میں اس افسر کے سامنے کھڑی تھی تو دروازہ کھلا اور تین اہلکار کھلے چاقوؤں کے ساتھ اندر داخل ہوئے اور میرے اردگرد کھڑے ہوگئے جیسے میری تکہ بوٹی کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ ان کے پیچھے ایک نوجوان کو لایا گیا۔ جو اتنا زخمی تھا کہ چلنے کے بجائے گھسٹ رہا تھا۔ اس کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں تھا جس پر زخم اور خون نہ ہو۔وہ اتنا زخمی تھا کہ اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہوسکا اور نیچے گر پڑا۔وہ صرف زیر جامہ پہنے تھا۔افسر نے زخمی کی طرف اشارہ کیا اور مجھ سے بولا کہ یہ نوجوان کہتا ہے کہ آپ نے مختلف مظاہرے کروانے میں اس کی مدد کی تھی۔ میں نے غور سے نوجوان کو دیکھا اور پرسکون لہجے میں بولی، ’’یہ صریح جھوٹ ہے۔ میں اس نوجوان سے پہلے کبھی نہیں ملی۔یوں بھی مظاہرے کرنے کے لئے کسی منتظم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لوگ احتجاج کے لئے کسی منصوبہ بندی کے بغیر نکلتے ہیں‘‘۔
میری بات سن کر افسر کے چہرے پر درشتی کے آثار نمودار ہوئے۔ وہ میرے قریب آیا اور براہ راست میری آنکھوں میں جھانکا۔ میں بھی پلکیں جھپکائے بغیر اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔افسر کو میری بات پسند نہیں آئی۔ اس نے مجھے ایک گالی دی پھر بولا،’’میں تمہاری ہڈیوں سے کھال اتاردوں گا، کتیا‘‘۔ پھر اس نے دوسرے اہلکاروں کو اشارہ کیا۔ وہ آگے بڑھے اور انہوں نے اپنے تیز چاقوؤں کی مدد سے میرے بالائی لباس کے چیتھڑے کردئے۔ وہ چاقو چلانے میں ایسی مہارت رکھتے تھے کہ جیکٹ کٹ کٹ کر نیچے گرگئی لیکن شرٹ سلامت رہی۔ افسر بولا،’’مادام آپ کیا چاہتی ہیں؟ کیا ہم آپ کے کپڑے اتارنا شروع کریں‘‘۔ میں نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی۔بظاہر میں جرات کا مظاہرہ کررہی تھی لیکن اندر سے میرا جسم کانپ رہا تھا۔ میری کم ہمتی کا عالم یہ تھا کہ میں نے زخمی نوجوان پر دوبارہ نظر ڈالنے کی ہمت نہیں کی جس کے جسم پر چاقو سے فنکاری کا مظاہرہ کیا گیا اور نقش و نگار بنائے گئے تھے۔ افسر نے کہا کہ ’’یہ نوجوان کہتا ہے کہ وہ آپ کا بوائے فرینڈ ہے‘‘۔ میں خاموش رہی اور افسر کو اسی طرح سخت نظروں سے دیکھتی رہی۔ اچانک افسر نے اپنے تیز دھار چھرے سے میرا بالائی لباس ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور میں اپنی برہنگی چھپانے کے لئے دوہری ہوگئی۔ میرا نصف جسم اب مکمل برہنہ تھا۔ تین اہلکار میری طرف بڑھے اور میرے دہرے جسم کو اس طرح نچوڑنے لگے جیسے دھوبی کپڑا نچوڑتا ہےتکلیف سے میری چیخیں نکل گئیں۔ان میں سے کسی نے میرے سر پر چاقو کا دستہ مارا۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے میرا سر دو ٹکڑے ہوگیا ہو۔میری چیخوں سے کمرا گونج رہا تھا۔ افسر کے اشارے پر اہلکار وں نے مجھے چھوڑ دیا۔ اور میں زمیں پر گر پڑی۔ میرا جسم اس نوجوان کے جسم پر گرا جو پہلے ہی شدید زخمی تھا۔ ا سکے منہ سے چند سسکیوں کے سوا کچھ نہ نکل سکا۔میرے ہوش و حواس گم ہوگئے اور میں بے ہوش ہوگئی۔ جب میں ہوش میں آئی تو ایک کوچ پر پڑی ہوئی تھی لیکن مجھے دوسرا لباس پہنا دیا گیا تھا۔لیکن میں اس خون کی بو سونگھ سکتی تھی جو اس کمرے میں پھیلا ہوا تھا اور جو میرے ہاتھوں اور چہرے پر بھی لگا ہوا تھا۔ یہ میرا خون نہیں تھا بلکہ اس نوجوان کا تھا جو شدید زخمی تھا۔ مجھے پہلے عقوبت خانوں کی سیر کرائی گئی اور ایسے دہشت ناک مناظر مجھے دکھائے گئے۔ ا سکے بعد مجھے گھر پہنچا دیا گیا۔ لیکن میں کئی دن تک سو نہ سکی۔ یہ خوفناک مناظر میرے دماغ میں جم کر رہ گئے۔اب مجھ پر دورے پڑنا شروع ہوئے۔ میں خوابوں میں بھی یہی مناظر دیکھنے لگی۔ میں راتوں کو چیخ مار کر اٹھ جاتی تھی۔میں خواب میں ادھڑے ہوئے جسم، شدید زخمی لوگ، اور مردوں کے لاشے دیکھتی۔میں دیکھتی کہ میری بیٹی کا گلا کاٹ دیا گیا ہے۔اور اس کا منہ ایک کان سے دوسرے کان تک ادھیڑ دیا گیا ہے۔میری بیٹی کے لئے یہ سب ناقابل برداشت تھا۔میں اس سے پہلے اتنے برے حال میں گھر نہیں پہنچی تھی کیونکہ مجھے اس طرح ٹارچر نہیں کیا گیا تھا۔مجھے سنبھلنے میں کئی دن لگ گئے۔ اب مجھے اصل خوف اپنی بیٹی کی سلامتی کا تھا۔میں نے اس سے کہا کہ وہ مجھے یہاں سے کہیں اور لے جائے۔ جہاں میری دیکھ بھال ہوسکتی ہو۔ وہ مجھے اپنے دادا کے گھر نہیں لے جا سکتی تھی۔علوی غداروں سے بہت برا سلوک کرتے تھے ۔ وہ مجھے سازشی اور غدار تصور کرتے۔بنیاس میں میری بیٹی کا باپ رہتا تھا۔لیکن وہاں کی صورت حال زیادہ خراب تھی۔شامی فورسز اپنی ویب سائیٹس پر علویوں سے اپیل کرتی رہی تھیں کہ اس عورت کو دیکھتے ہی گولی ماردی جائے کیونکہ یہ غیر ملکی ایجنٹ اور غدار ہے۔مجھ پر یہ بھی الزام تھا کہ میں نے لوگوں کو فوجی نشانچیوں کو قتل کرنے کے لئے اکسایا تھا۔چنانچہ میں اپنی بیٹی سے کچھ بھی نہ کہہ سکی کہ میری ہر بات پر اس کا غصہ بڑھتا۔میرے جسم پر جابجا زخم اور خراشیں تھیں۔آخر کار میں نے اپنی ماں کے پاس جانے کا فیصلہ کیا جو بیمار تھی۔میں نے اپنا فون بند کردیا تاکہ مجھے تلاش نہ کیا جاسکے۔میں نے اپنے تمام کنکشنز کاٹ دئے اور کچھ عرصے کے لئے گمنامی میں جانے کا فیصلہ کرلیا۔میں کہیں بھی چھپ سکتی تھی لیکن میری بیٹی کی موجودگی میں یہ ناممکن تھا۔میں اس کو چھوڑ بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ پھر اس کی دیکھ بھال کون کرتا۔میں ملک سے باہر جا سکتی تھی لیکن اب تک میری بیٹی نے میری بات ماننے سے انکار کیا تھا۔ اب حالات اتنے خراب ہوگئے تھے کہ میرے لئے دمشق سے باہر نکلنا بھی آسان نہیں رہ گیا تھا۔(جاری ہے)
7 جولائی 2011 :
قتل و غارتگری میں روز بروز اضافہ ہورہا تھا۔ لوگ غائب ہورہے تھے۔ انہیں اغوا کرلیا جاتا تھا اور پھر ان کی لاش بھی نہیں ملتی تھی۔معصوم بچوں تک کو ٹارچر کیا جاتا تھا۔قیدیوں پر ظلم و ستم کی د استانیں عام تھیں۔میں ہر روز کسی نہ کسی نوجوان کا انٹرویو لکھتی تھی۔ عام طور پر یہ انٹرویوز عربی کے مقامی لب و لہجے میں ہوتے تھے اور میں نے ایک عرب صحافی خاتون کی خدمات حاصل کی تھیں جو انہیں جدید عربی میں منتقل کرتی تھی۔
پہلاانٹرویو: ’’ جب میں بہت چھوٹا تھا تو میں نے پہلی مرتبہ بعث پارٹی کا نام سنا۔ میں اسکول میں پڑھتا تھا۔ وہ میرے پاس ایک فائل لائے اور مجھے بتایا کہ وہ مجھ کو بعث پارٹی کا ممبر بنا رہے ہیں۔ میں اتنا چھوٹا تھا کہ یہ سب سمجھ ہی نہیں سکتا تھا۔ جب میں نے بعث پارٹی کے بارے میں سوالات شروع کئے تو انہوں نے مجھے مارنا شروع کردیا۔ یہ پہلا سبق تھا جو مجھے بچپن ہی میں مل گیا۔ مجھ سے کہا گیا کہ مجھے حکومت اور بعث پارٹی کے بارے میں کچھ پوچھنے کی اجازت نہیں۔ آپ حکومت سے کسی بات کی شکایت نہیں کرسکتے۔ شکایت کرنا گناہ کبیرہ ہے۔حالانکہ بعث پارٹی سیکولر تھی جہاں گناہ اور ثواب کا کوئی تصور نہیں تھا۔ جب میں بڑا ہوا تو مجھے فوج میں بھرتی کرلیا گیا۔مجھے فوج کی بارودی سرنگیں بچھانے والی کور میں تعیناتی ملی۔میں نے حکام کی ہدایت پر مختلف علاقوں میں بارودی سرنگیں بچھائیں۔ میں بارودی سرنگوں کی تباہ کاریوں کو جانتا تھا اس لئے میں نے اپنے دوست احباب کو ڈرانا شروع کیا کہ وہ فلاں علاقے میں نہ جائیں کیونکہ وہاں بارودی سرنگیںبچھائی گئی ہیں۔لیکن میں کس کس کو منع کرتا؟ جو لوگ نادانستگی میں ان علاقوں میں چلے جاتے وہ ہلاک ہوجاتے۔ تھوڑے عرصے میں حکام کو یہ بھی خبر ہوگئی کہ میں لوگوں کو ان علاقوں میں جانے سے منع کرتا ہوں۔ میرے کمانڈنگ افسر نے مجھے بلاکر کہا کہ میرے دل میں عوام کے لئے جو ہمدردی ہے وہ ہم مارمار کر باہر نکال دیں گے۔ میری سمجھ میں ان کا رویہ نہیں آتا تھا۔ لیکن کچھ عرصہ میں مجھے یہ بات سمجھ میں آگئی کہ میں فوج کی ملازمت کرکے قومی خدمت نہیں کررہا ہوں۔ میں وطن کا نہیں بلکہ ایک شخص کاذاتی غلام ہوں۔ مجھے ا سکے علاوہ کسی سے محبت کرنے یا ہمدردی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مجھے اپنی فوجی ملازمت سے نفرت ہونے لگی۔ لیکن میں کوئی دوسرا کام نہیں جانتا تھا۔ یہ میرا روزگار تھا اور میں اسے چھوڑ نہیں سکتا تھا۔
میں فوج کی ملازمت میں تھا تو میری کور کو ایک مرتبہ صدارتی قافلے کا راستہ صاف کرنے کی ڈیوٹی دی گئی۔ ہمیں کہا گیا کہ صدر یہاں سے گزرے گا اور ہمیں اس کے لئے راستہ صاف کرنا ہے اور عام لوگوں کو راستے سے ہٹانا ہے۔ایک بوڑھی عورت سڑک پار کررہی تھی۔ میں نے نرمی سے اس سے کہا کہ ’’آنٹی! مہربانی کرکے راستے سے ہٹ جائیں‘‘۔ ضعیفی کی وجہ سے وہ عورت بہت آہستہ چل رہی تھی۔ ایک فوجی افسر بھی یہ سب دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنی گاڑی سے نیچے اترا اور اس نے بوڑھی عورت کو چھڑی سے مارنا شروع کردیا۔میں نے مداخلت کی اور اس سے کہا،’’پلیز! یہ بہت بوڑھی ہے۔ آپ اس پر رحم کھائیں‘‘۔ وہ غصے میں میری جانب مڑا اور بولا،’’احمق گیدڑ! اپنے کام سے کام رکھو‘‘۔ میں نے جواب میں کہا،’’سر! ہمیں بوڑھوں کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرنا چاہیئے۔صدر مملکت یہ پسند نہیں کریں گے‘‘۔ افسر کا غصہ بڑھ گیا۔ اس نے دو تین چھڑیاں مجھے بھی ماریں اور فوری طور پر مجھے معطل کردیا۔ مجھے اسی وقت گرفتار کرلیا گیا۔ جن فوجیوں نے مجھے گرفتار کیا تھا انہوں نے افسر کے حکم پر مجھ کو وہیں مارنا شروع کردیا اور اسی حالت میں مارتے مارتے سیکیورٹی آفس لے گئے۔ وہاں مجھے برہنہ کردیا گیا اور ایک کرسی پر بٹھاکر باندھ دیا گیا۔ مجھے اس بری طرح زد و کوب کیا گیا کہ شاید امریکی فوجیوں نے گوانٹا نامو بے کی امریکی جیل میں بھی کبھی کسی قیدی کو اتنا نہ مارا ہوگا۔ ان میں سے ایک نے سگرٹ سے میرے جسم کو جلانا شروع کیا۔ جب سگرٹ بجھ جاتا تو وہ اسے دوبارہ جلالیتا۔وہاں ایک اور فوجی کو سزا دی جارہی تھی۔ شاید اس سے بھی میری طرح عوام سے ہمدردی کی غلطی سرزد ہوئی تھی۔اس پر الزام تھا کہ اس نے صدر کو گالیاں دی تھیں۔ اس کی سزا مجھ سے زیادہ بھیانک تھی۔ اس کو بھی برہنہ کردیا گیا تھا اور لکڑی کی ایک کھردری خار دار ٹہنی نیچے سے اس کے جسم میں دخل کی جاتی اور باہر نکالی جاتی تو اس کے ساتھ گوشت اور خون بھی باہر آتا۔تکلیف کی شدت سے وہ کسی پاگل کتے کی طرح چلا رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں اس کا حال یہ ہوگیا کہ وہ ایک قدم چلنے کے قابل نہیں رہ گیا۔ ایذا کاروں نے جو شکلوں ہی سے ذہنی مریض لگتے تھے اس کے جسم کی کئی ہڈیاں توڑ دیں۔ وہ قیدیوں کو نئی نئی تکلیفیں دے کر مزا لیتے تھے۔ انہوں نے میری ٹانگوں پر 235 کوڑے مارے۔ میرے جسم پر 250 زخم تھے۔ جب میری حالت غیر ہوگئی تو مجھے فوجی اسپتال لے جایا گیا۔ میرا حال یہ ہوگیا تھا کہ میں ایک قدم چل نہیں سکتا تھا ۔ میں ایک ماہ تک بستر پر پڑا رہا۔جب میری صحت کچھ بہتر ہوئی تو مجھے رہا کردیا گیا۔
مجھے دوسری مرتبہ صرف یہ پوچھنے پر گرفتار کیا گیا کہ ممتاز گلوکار ’’عماد مغنیہ‘‘ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ افسر نے مجھے جیل بھجوادیا۔یہاں ظلم و تشدد کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ میں دس دن یہاں رہا۔ مجھے ایک بھی دن سونے نہیں دیا گیا۔مجھے نہ لیٹنے کی اجازت تھی اور نہ چلنے پھرنے کی آزادی تھی۔وہاں قیدیوں کو مادر زاد برہنہ رکھا جاتا تھا۔مجھ کو ایذا دینے کے ایسے ایسے طریقے آزمائے گئے کہ شاید اسرائیلی بھی فلسطینی قیدیوں سے ایسا سلوک نہ کرتے ہوں۔ جب مجھے رہائی ملی تو میں نے شامی فوج کی ملازمت چھوڑ دی۔
میں جب تیسری مرتبہ گرفتار ہوا تو فوج کا ملازم نہیں بلکہ ایک طالب علم تھا۔ میں دمشق یونیورسٹی سے اقتصادیات میں ماسٹرز کررہا تھا۔ان دنوں مشرق وسطی میں ’’عرب بہار کی تحریک‘‘ چل رہی تھی اور ہم طلبہ اکثر یہ سوچا کرتے تھے کہ آخر یہ تحریک کب شام تک پہنچے گی۔ یونیورسٹی کے کلیہ اقتصادیات میں عرب بہار کی حمایت میں مظاہرے ہورہے تھے۔ میں بھی ان مظاہروں میں شریک ہوتا تھا۔ایک دن شامی سیکیورٹی فورس اور پولیس نے طلبہ پر لاٹھی چارج کیا۔لاٹھی چارج شروع ہوتے ہی طلبہ نے بھاگنا شروع کردیا۔مجھے ان کی بزدلی دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی اور میں نےانہیں آوازیں دے کر روکنے کی کوشش کی۔ پولیس اہلکاروں نے مجھے دیکھا اور پھر گھیر کر مارنا شروع کردیا۔ اس کے ساتھ فائرنگ بھی شروع ہوگئی۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گولیاں کھا کر گر رہے تھے ۔ زمین ان کے خون سے سرخ ہورہی تھی۔وہ مجھے اپنے پانچ دوستوں سمیت مارتے ہوئے جیل لے گئے۔ میرے ایک ساتھی کو اس قدر مارا گیا کہ وہ اپنے حواس کھو بیٹھا۔ وہ میڈیکل کا طالب علم تھا۔ جوں ہی اسے رہائی ملی وہ ملک سے باہر چلا گیا اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔ ہمیں جیل میں نت نئے مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ہمیں بجلی کے جھٹکے دئے۔وہ ہمیں سنی اور انتہا پسند کہہ کر گالیوں سے نوازتے تھے اور کبھی ہمارا تعلق القاعدہ سے جوڑتے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں نہ تو سنی ہوں اور نہ القاعدہ سے میرا تعلق ہے۔ میں دروزی ہوں اور سیکولر ہوں۔دروزی ہمیشہ سے شام میں علویوں کی حکومت کی حمایت کرتے رہے ہیں۔انہوں نے میری کوئی بات نہیں سنی کیونکہ میرا گناہ یہ تھا کہ میں جمہوریت کا مطالبہ کررہا تھا۔ مجھ پر ٹارچر کی حد ہوگئی تو مجھے اور میرے ساتھیوں کو وزارت انصاف لایا گیا۔ہمارے خلاف مقدمات بنائے گئے جس کے بعد ہمیں رہا کردیا گیا‘‘۔
دوسرا انٹرویو: ’’جب درعا میں شامی سیکیورٹی فوسز نے قتل عام کیا تو نوجوانوں میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف شدید نفرت پھیل گئی۔میرے تمام دوست انسانی حقوق کی تنظیموں کے ممبر تھے۔ہم نے درعا کے واقعہ کے بعد نوجوانوں کو منظم کرنا شروع کردیا۔ ہم کوئی مذہبی لوگ نہیں تھے بلکہ سیکولر تھے۔ہم نے فیس بک پر صفحات بنائے اور لکھنا شروع کیا۔مختلف علاقوں میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے۔سیکولر ہوں یا اخوان المسلمون سب کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ جمہوریت بحال کرو۔اخوان سے تعلق رکھنے والے نوجوان مسجدوں کو مرکز بناتے تھے بلکہ ان کی پوری تحریک کی بنیاد ہی مسجدیں تھیں لیکن سیکولر ہونے کی وجہ سے ہم مسجدوں کو اپنا مرکز نہیں بنانا چاہتے تھے۔میں نے اس سے پہلے کبھی مسجد میں قدم نہیں رکھا تھا۔لیکن تمام تر کوشش کے باوجود ہم مسجدوں کے باہر منظم نہیں ہوپائے۔ ہم جہاں بھی جمع ہونے کی کوشش کرتے سرکاری اہلکار پہنچ جاتے اور ہم کو منتشر کردیا جاتا۔ مجبوراً ہم نے بھی مسجدوں کا رخ کرنا شروع کیا۔دمشق میں’’ مسجد امیہ‘‘ بشارالاسد کے خلاف تحریک کا مرکز بن گئی۔جمعہ کے دن لوگ مسجد میں جمع تھے اور امام کا خطبہ سن رہے تھے۔جبکہ مسجد کو باہر سے سیکورٹی فورسز نے گھیر رکھا تھا۔ تاہم ہم نے دیکھا کہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعداد کم تھی جبکہ الشبیہہ کے غنڈوں کی تعداد ان سے زیادہ تھی۔ الشبیہہ کے غنڈے کلاشنکوفوں، پستولوں اور دوسرے ہتھیاروں سے مسلح تھے۔مسجد کے اندر بھی بڑی تعداد میں الشبیہہ کے غنڈے موجود تھے۔ وہ سادے لباس میں تھے لیکن ان کے کرخت اور درشت چہرے الگ پہچانے جاسکتے تھے۔ان کے ہاتھوں میں موبائل تھے اور وہ لمحے لمحے کی خبریں باہر پہنچا رہے تھے اور باہر ہی سے ان کو ہدایات مل رہی تھیں۔ دوسری جانب ہم بہت سے احتجاجی بینر لکھ کر مسجد میں لائے تھے۔ان پر نعرے لکھے ہوئے تھے،’’اللہ، شام، آزادی‘‘ سب سے بڑا نعرہ تھا جس سے کسی سیکولر یا مذہبی شخص کو اختلاف نہیں تھا۔ دوسرے بینر پر لکھا تھا،’’ہمیں آزادی چاہیئے۔ ہم شامی عوام کی تذلیل نہیں ہونے دیں گے۔ شخصی آمریت مردہ باد‘‘۔ جب ہم نے مسجد سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو سب سے پہلے ہمارا واسطہ الشبیہہ کے غنڈوں سے پڑا۔ ان کے پیچھے سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے اہلکار تھے۔ اس طرح ہم دو طرف سے گھرے ہوئے تھے۔ مسجد کے اندر موجود الشبیہہ کے غنڈوں نے بھی ہتھیار نکال لئے اور ہمارے لئے یہ فرق کرنا مشکل ہوگیا کہ کون دوست ہے اور کون دشمن۔ لیکن وہ ہم کو اچھی طرح پہچانتے تھے۔ہم کو اچانک دو طرف سے گھیر کر مارنا شروع کردیا گیا۔ مسجد کے باہر کھلے میدان میں لوگ گرنا شروع ہوگئے۔ بلند جگہوں پر نشانچی بیٹھے تھے جن کے پاس دوربین لگی ہوئی بندوقیں تھیں۔ وہ تاک تاک کر نمازیوں اور مظاہرین کو نشانہ بنا رہے تھے۔ایک لاٹھی میرے سر پر پڑی اور میں خونم خون ہوکر زمین پر گر گیا۔ مجھے الشبیہہ کے غنڈوں نے گھیر لیا اور بری طرح لاٹھیاں برسانے لگے۔ انہوں نے میرے سامنے کے سب دانت توڑ دئے۔ جلد ہی ہم اپنا دفاع کرنے کے قابل نہ رہ گئے۔ الشبیہہ کے غنڈوں نے زخمیوں کو ایک ایک کرکے اٹھانا شروع کیا اور ہمیں باہر کھڑی ہوئی بسوں میں ٹھونسنا شروع کردیا۔ ہر بس میں بمشکل 30-35 سیٹیں تھیں لیکن ان میں 70-75 قیدی ٹھونسے جارہے تھے۔جو سب کے سب زخمی تھے۔ پوری بس ہمارے خون سے سرخ ہوگئی۔پولیس اسٹیشن پر لے جاکر ہمیں مزید مارا گیا۔انہوں نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ کس کا کیا فرقہ ہے؟ کچھ لوگوں کو اتنا مارا گیا کہ ان کا نروس بریک ڈاؤن ہوگیا۔ ہمارا یہ حشر سیکیورٹی فورسز یا پولیس نے نہیں بلکہ الشبیہہ کے غنڈوں نے کیا۔ پولیس یہاں الشبیہہ کی حفاظت کے لئے تھی کہ اگر مظاہرین کی مزاحمت زیادہ ہو اور وہ الشبیہہ پر بھاری پڑنے لگیں تو ان کی حمایت میں پولیس آگے آجائے۔ پولیس اسٹیشن پر عملاً الشبیہہ کا کنٹرول تھا۔اچھی طرح پٹائی ہونے کے بعد ہمارے ناموں کا اندراج کیا جانے لگا۔ جو شدید زخمی تھے ان کو اسپتال لے جایا گیا لیکن وہاں موجود ڈاکٹروں اور نرسوں کا رویہ ہمارے ساتھ بہیمانہ تھا۔ وہ ڈاکٹر سے زیادہ جلاد لگتے تھے۔میرے ساتھ ایک مسیحی عرب بھی تھا جو شدید زخمی تھا۔مارپیٹ کے دوران وہ چلاتا رہا کہ وہ مسٰیحی ہے لیکن اسے کوئی رعایت نہیں دی گئی۔ لیکن علاج کے دوران جب انہیں پتہ چلا کہ وہ مسیحی ہے تو انہوں نے اسے لگ کردیا کیونکہ خدشہ تھا کہ وہ سارے واقعات کی رپورٹ مغربی میڈیا کو کردے گا۔ نام نہاد طبی امداد کے بعد ہمیں واپس پولیس اسٹیشن لایا گیا جہاں ہم سے پوچھ گچھ شروع ہوگئی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میرا تعلق اخوان المسلمون سے ہے۔ میں ان کے الزام پر سخت تکلیف کے باوجود ہنس پڑا اور بولا کہ میں نے اس سے پہلے کبھی مسجد میں قدم نہیں رکھا میں اخوان کیسے ہوسکتا ہوں؟ میں نے ان سے کہا کہ میں دہریت کے قریب ہوں اور سیکولر ہوں۔انہوں نے اس کے جواب میں مجھے گالیوں سے نوازا۔مجھ پر سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ میں حکومت مخالف مظاہرے میں شریک تھا۔ وہ مجھے مسلسل تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔ دو دن بعد میرا ایک دوست کسی نہ کسی طرح مجھے ڈھونڈتا ہوا یہاں پہنچ گیا۔ میری حالت دیکھ کر وہ رونے لگا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کیوں رو رہا ہے؟ اس نے کہا کہ اسے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ مجھ کو زد وکوب کرنے والے اس کے کزنز تھے جو خود علوی تھے۔ اس کی کوششوں سے مجھے رہائی نصیب ہوئی‘‘۔
شامی شہریوں کا عجیب حال ہوگیا تھا۔ لوگ اس طرح تقسیم ہوگئے تھے کہ بعض اوقات دوستوں کو دوست اور عزیزوں کو انہی کے عزیز تشدد کا نشانہ بناتے دکھائی دیتے تھے۔ اس اعتبار سے بشارالاسد کی حکمت عملی کامیاب تھی۔ وہ آزادی اور جمہوریت کی تحریک کو فرقہ ورائیت میں بدلنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اب زیادہ تر علوی صرف مذہبی عصبیت کی بنا پر اسد حکومت کی پشت پر تھے۔ہر وہ علوی غدار قرار پایا جو جمہوریت کا مطالبہ کررہا تھا۔تمام شیعہ اور ان کے فرقے بشار کی حکومت کی حمایت کررہے تھے۔ہر مخالف پر سلافی ہونے کا الزام لگادینا بہت آسان تھا ۔ یہ کام خلیجی ریاستوں کی حکمت عملی نے مزید آسان کردیا تھا کیونکہ انہوں نے جو رضاکار بھیجنا شروع کئے ان کو سلافی کہنے میں کوئی مشکل نہیں تھی۔ سلافی کی گالی ہر مخالف پر استعمال ہوسکتی تھی۔
8 جولائی 2011 :
فرانسیسی سفیر حاما آیا اور اس نے ایک اسپتال کا دورہ کیا تاکہ یہ دیکھ سکے کہ تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔امریکی سفیر نے بھی حاما کا دورہ کیا۔ بعد میں شامی وزارت خارجہ نے مذمتی بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ حکومت کی مرضی کے خلاف غیر ملکوں کے سفیر اسپتالوں کا دورہ نہیں کرسکتے اور یہ سفارتی قواعد کی خلاف ورزی ہے۔شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے نشر کیا کہ امریکی اور فرانسیسی سفیروں نے شام کے دشمنوں سے ملاقات کی اور انہیں بغاوت کے لئے اکسایا۔ اس کے جواب میں امریکی سفارتخانے نے بیان جاری کیا کہ شامی حکومت کو اس دورے کے بارے میں پہلے سے مطلع کردیا گیا تھا۔مغربی ملکوں کا میڈیا شام میں قتل عام کی خبریں دے رہا تھا۔ دمشق میں ایک مظاہرے پر فائرنگ ہوئی جس میں 16 مظاہرین ہلاک ہوئے۔ امریکی سفیر دمشق کے ایک چوراہے پر پہنچا تو لوگ ہزاروں کی تعداد میں گھروں سے نکل آئے اور اسے مظالم کی داستانیں سنانے لگے۔ امریکی سفارت کار رچرڈ فورڈ مظاہرین میں گیا تو اس نے مظاہرین پر مذاکرات کے لئے زور دیا لیکن عوام کا مطالبہ تھا کہ ’’ہر قیمت پر آزادی۔ مذاکرات ایک دھوکہ۔ اسد حکومت سے مذاکرات نہیں ہوسکتے‘‘۔
میں مایوسی کی آخری حدوں میں داخل ہوچکی ہوں۔ مجھے اپنی جان بچانے کے بار بار اپنی جگہ بدلنی پڑتی ہے ۔ مجھے خوف ہے کہ وہ میری بیٹی کو ہدف بنا کر مجھے بلیک میل کرسکتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ وقت آئے مجھے اس ملک سے نکل جانا چاہیئے۔
میں نے اپنا سامان باندھنا شروع کردیا ہے۔ شام میں عوام کی جو حالت ہے اور جس طرح عورتوںاور معصوم بچوں کو ہدف بنایا جارہا ہے اس کی فوٹیج اور خبریں ٹیلیویژن اور یو ٹیوب پر بکھری ہوئی ہیں۔انہیں دیکھ کر سخت سے سخت دل شخص بھی روئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میں نے ریڈیو مونٹے کارلو اور فرانس 24 کے ایک نمائندے کی رپورٹ دیکھی۔ وہ میرا پرانا دوست ہے۔ اس نے شام اور ترکی کی سرحد پر دیگر صحافیوں کے ساتھ کیمپوں کا دورہ کیا۔شامی مہاجرین کی حالت بہت خراب ہے ۔ ترک حکام ان کی میزبانی کررہے ہیں لیکن ان کی نقل و حرکت پر بہت پابندیاں ہیں۔ کیمپوں میں صفائی کی صورت حال اچھی نہیں ہے۔ بعض اوقات خوراک کی فراہمی میں دیر ہوجاتی ہے۔ بچے بھوک سے بلکتے رہتے ہیں لیکن ماؤں کو یہ اطمینان ہے کہ یہاں ان کی جان محفوظ ہے۔
شامی فوج میں بڑے پیمانے پر بغاوت ہورہی ہے لیکن شامی حکام نے اس بغاوت کو سختی سے کچلنے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔حکم نہ ماننے والے فوجیوں کو بطور سزا قید نہیں کیا جاتا، نہ کسی روائتی کورٹ مارشل کی نوبت آتی ہے۔ انہیں چند گھنٹوں کے اندر گولی کا نشانہ بنادیا جاتا ہے اور ان کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کردیا جاتا ہے۔ اگر یہ راز افشا ہوجائے تو اس کا الزام باغیوں اور سامراجیوں پر عائد کردیا جاتا ہے۔ باغی فوجیوں نے بھی اب اپنے گروپس بنالئے ہیں ۔ ان کے پاس ہتھیار ہیں لیکن وہ براہ راست شامی فوج سے الجھنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ زیادہ تر شامی مہاجرین کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کررہے ہیں جو بڑی تعداد میں ترکی کی طرف ہجرت کررہے ہیں۔ ترکی میں قائم کیمپوں میں مہاجرین کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ جسر الشغور میں عجیب واقعہ ہوا۔ ایک شامی صحافی خاتون جس کا نام میں ظاہر نہیں کرسکتی بتایا کہ 15,000 مظاہرین شہر کے چوک پر جمع تھے۔ فوج کو ان پر گولی چلانے کا حکم دیا گیا۔فوجیوں نے گولی چلانے سے انکار کردیا۔ ان میں سے کچھ کھیتوں کی جانب بھاگ گئے جبکہ کچھ نے حکم دینے والے شامی فوجی افسروں پر فائرنگ کردی۔ بغاوت کی لہر پھیلتی گئی۔باغی فوجیوں کی تعداد 300-350 کے لگ بھگ تھی۔انہوں نے بڑے علاقے پر قبضہ کرلیا اور پولیس کے دستے فرار ہوگئے ۔ اس دوران مزید باغی فوجی ان میں شامل ہونے کے لئے آتے رہے۔ انہوں نے ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کرکے 8 پولیس والوں کو قتل کردیا اور اسٹیشن پر قبضہ کرلیا۔بغاوت جنگل کی آگ کی طرح لطاکیہ، حمص، اور حاما کی طرف پھیل رہی تھی۔ شامی سیکیورٹی فورسز کے 120 اہلکاروں کو باغی فوجیوں نے گولی کا نشانہ بنا دیا۔اس دوران باغی فوجی نقل مکانی کرنے والے شامی شہریوں کو بحفاظت ترکی کی سرحد کی جانب لے جاتے رہے۔باغی فوجیوں سے نمٹنے کے لئے شامی فضائیہ بھی آگئی اور انہوں نے جسر الشغور پر مسلسل بمباری کی۔ اس بمباری میں شہریوں کا جانی نقصان بہت زیادہ ہورہا تھا اس لئے باغی فوج نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد شہر خالی کردیں۔
9 جولائی 2011 :
ملک چھوڑنے کی میری تیاری مکمل ہوچکی ہے۔ جب میں ائر پورٹ گئی تو دوستوں کے ڈرانے کے باوجود مجھے آسانی سے نکلنے کا موقع مل گیا۔ کسی نے مجھ سے پوچھ گچھ نہ کی اور نہ مجھے روکنے کی کوشش کی گئی۔ شاید وہ میرے ملک چھوڑنے کو زیادہ بہتر تصور کرتے تھے۔ مجھے یقین تھا کہ میں جلد واپس آ جاؤں گی۔اور ہمیشہ باہر نہیں رہوں گی۔لیکن اپنی بیٹی کی جان کی حفاظت کے لئے میرا جانا ضروری تھا۔جب میرا طیارہ شام کی حدود سے باہر نکلا تو مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ گزشتہ دنوں جو کچھ میرے ساتھ ہوا وہ محض ایک بھیانک خواب تھا۔مجھے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے میں جہنم سے جنت کی جانب جارہی ہوں۔ مجھے معلوم تھا کہ باہر کی حکومتیں شامی عوام سے زیادہ ہمدردی نہیں رکھتیں۔ کوئی ہمارے لئے قربانی دینے کو تیار نہیں۔ ہمیں اپنی بقا کی جنگ خود لڑنی ہے لیکن اس عالمی کھیل کی چکی میں جس طرح نہتے غیر مسلح شہریوں کو پیسا جارہا ہے کسی کو اس کے بھیانک نتائج کا احساس نہیں۔ بشار الاسد کی جانب سے اس جنگ کو فرقہ وارئیت کا رنگ دے دیا گیا لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ فرقہ ورانہ جنگ نہیں ہے۔ یہ آزادی کے حصول کی جنگ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ آزادی ہمیں پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملے گی۔

(ختم شد)

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

seventeen − 10 =