شامی خاتون کی ڈائری قسط نمبر4

شامی خاتون کی ڈائری

قسط نمبر4

8 جون 2011:
مجھے اطلاع ملی کہ بہت سے شامی فوجی خودکشی کررہے ہیں۔ یہ فوجی اپنے حکام کے غیرقانونی احکامات کی وجہ سے سخت ذہنی عذاب میں مبتلا تھے۔ جسرالشغور میں ایک فوجی نے تنگ آکر خودکشی کرلی۔ شہر کے تمام مکین جاچکے تھے اور بہت کم لوگ گھروں میں موجود تھے۔ شہریوں کو جس بری طرح تشدد اور ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا تھا اس کی وجہ سے بہت سے فوجیوں اور اس کے افسروں نے اعلیٰ حکام کے ا حکامات ماننے سے انکار کردیا تھا اور بغاوت کردی تھی۔ شہریوں نے مختلف ذرائع سے ہتھیار حاصل کرنے شروع کردئے تھے۔ فوج کے بھگوڑے بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ پرامن شہریوں کی بڑی تعداد نقل مکانی کر کے پڑوسی ملک ترکی چلی گئی۔ شہر پر ہر وقت ہیلی کوپٹر منڈلاتے رہتے تھے۔ سیکورٹی فورسز ہر اس شخص کو گولی کا نشانہ بناتیں جو گھر سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا۔ جس گھرمیں نقل و حرکت محسوس ہوتی اس کے دروازے توڑ دیے جاتے۔ دیہی علاقوں میں فارموں اور زرعی زمینوں کو آگ لگادی جاتی۔ فوج نے شہر میں پانی کے ذخائر کو تباہ کردیا۔ ایسا محسوس ہوتا تھاکہ جسے یہ کوئی غیرملکی حملہ آور فوج ہے۔ میری ملاقات ایک فوجی افسر سے ہوئی جس نے حکام بالا کے احکامات ماننے سے انکار کردیا۔ علیحدگی کے بعد وہ فرار ہوگیا اور اس نے درعا کے شہریوں کے درمیان پناہ لی۔ تاہم وہ بے حد خوفزدہ تھا۔ اس کا کہنا تھا ’’شہر میں ہر شخص کو قتل کردینے کا حکم ہے‘‘۔ اس نے دوسرے فوجیوں کی کہانیاں بھی سنائیں۔ اس نے بتایا ’’چار فوجیوں کو ایک مکان کے اندر داخل ہونے لا حکم ملا۔ ان کو ہدایت تھی کہ جو بھی زندہ شخص نظر آئے اس کو گولی ماردیں اور کسی کو گرفتار نہ کریں لیکن وہ اس حکم کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ اس سے پہلے کافی خون خرابہ دیکھ چکے تھے۔ فوجی افسر بتارہا تھا کہ شہریوں کو الشبیہہ کے غنڈے فائرنگ کا نشانہ بنا رہے تھے۔ جب اس نے دیکھا کہ الشبیہہ کے جنگجو اور سیکورٹی فورسز اپنے ہی شہریوں پر حملے کررہے ہیں تو اس کی رفتار سست ہوگئی۔ اس کے کمانڈنگ آفیسر نے چلا کر کہا ’’بزدل! تیزی سے آگے بڑھو‘‘۔ یہ شامی فوجی خود اپنے شہریوں پر فائرنگ کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ان کی بیوی، بچے، ماں اور باپ سب کے سب شامی تھے وہ ان کو کیسے قتل کرسکتے تھے؟ ان سے خاص ایک مکان کے بارے میں کہا گیا کہ وہ اس مکان کے اندر داخل ہو جائیں اور جو نظر آئے اسے گولی ماردیں کیونکہ یہ ایک مسلح گینگ کا ہیڈکوارٹر ہے۔ ان میں سے ایک فوجی پاگل پن کے قریب پہنچ چکا تھا۔ اس نے اپنا ہیلمٹ اتار کر نیچے پھینک دیا اور اپنا سر دیواروں سے ٹکرانے لگا۔ وہ احکامات کو ماننے سے انکار کررہا تھا۔ پڑوس کے گھر سے عورتوں اور بچوں کے چیخنے کی آوازیں بلند ہوئیں۔ تیسرا فوجی آگے بڑھتے بڑھتے رُک گیا۔ اس کے چہرے پر دہشت پھیل گئی۔ وہ عورتوں اور بچوں کے چیخنے چلانے اور رونے کی آوازوں کو برداشت نہیں کرپا رہا تھا۔ ظاہر ہے کسی پڑوسی گھر میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جارہا تھا یا قتل کیا جارہا تھا۔ تیسرے فوجی نے ایک نظر اپنے ساتھیوں کے جانب دیکھا اس کے بعد اس نے اپنی رائفل اپنی ٹھوڑی اور گردن کے درمیان رکھی اور لبلبی دبادی۔ گولی اس کی گردن سے داخل ہوئی اور دماغ سے باہر نکل گئی۔ اس کے ساتھی تینوں فوجی فیصلہ نہیں کرپا رہے تھے کہ وہ آگے بڑھیں یا وہیں رک جائیں۔ اسی لمحے آسمان پر ایک ہیلی کاپٹر کی آواز سنائی دی۔ اس مکان کو پہلے باہر سے شدید فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ذرا دیر بعد یہ مکان مکمل طور پر تباہ ہوچکا تھا۔اسے میزائل مارا گیا تھا۔ جن چار فوجیوں کو اندر داخل ہونے کا حکم تھا ان میں سے ایک نے خودکشی کرلی۔ دوسرا شدید زخمی حالت میں تھا اور باقی دو کسی نہ کسی طرح مکان سے باہر نکل جانے میں کامیاب ہوگئے تھےْ لیکن اسی وقفے میں کسی نامعلوم سمت سے آنے والا کوئی میزائل عمارت سے ٹکرایا تھا اور پوری عمارت بھوسے کی طرح زمین پر بیٹھ گئی تھی۔ جسرالشغور پر حملہ کرنے والے شامی فوجیوں میں سے بہت سوں نے مظاہرین پر فائرنگ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اُن کو باغی قرار دے کر غیرمسلح کردیا گیا اور دوسرے فوجی ان کو اپنے ساتھ لے گئے۔ فوج کے کلینک میں خدمات انجام دینے والے ایک ڈاکٹر نے بتایا ’’میڈیکل ڈویژن نے 80 سے زیادہ شامی فوجیوں کی لاشیں دریافت کیں۔ فوج کی جانب سے یہ اعلامیہ جاری کیا گیا کہ ان کو دہشت گردوں نے ہلاک کیا ہے لیکن فوج کے اس اعلامیہ کی بہت سے دیگر عوامل سے تردید ہوتی ہے۔ اس ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اگر یہ فوجی دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے ہوتے تو ان کے جسم کے مختلف حصوں پر زخم ہوتے۔ لیکن ان میں سے ہر لاش پر صرف دو میٹر کے فاصلے سے گولی چلائی گئی تھی اورزیادہ تر گولیاں ان کے سر میں ماری گئی تھیں۔ اس کے معنی یہ تھے کہ ان فوجیوں نے ہائی کمان کے احکامات ماننے سے انکار کردیا تھا اور انہیں غیر مسلح کرنے کے بعد فائرنگ اسکواڈ کے ذریعہ قتل کردیا گیا۔ بعض لاشوں پر ٹارچر کے نشانات تھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ انہیں موت سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کی لاشیں ایسے علاقوں سے دریافت ہوئی تھیں جہاں کوئی جنگ نہیں ہورہی تھی اور اس علاقے میں نہ تو فائرنگ ہوئی اور نہ خالی کارتوس بکھرے دکھائی دیے۔ (جاری ہے)
9 جون 2011:
میں نے شامی خواتین کی تحریک شروع کرنے کے لیے عورتوں سے ملاقاتیں شروع کی ہیں۔ اس مقصد کے لیے مجھے اجتماعات میں شرکت کرنی ہے اور عورتوں کو منظم کرنا ہے۔ اس گروپ کے قیام کا مقصد مظاہرین کو ہر طرح کی امداد فراہم کرنا ہے خاص طور پر انتظامیہ کی جانب سے حملوں اور اس کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مرہم پٹی اور دیکھ بھال ہے۔ مظاہرین کی جو کوآرڈینیشن کمیٹیاں بنائی گئی تھیں سیکورٹی فورسز کی سخت کارروائیوں کے سبب پوشیدہ رہنے پر مجبور ہو گئی تھیں۔ کچھ نوجوانوں نے ایک سیکولر گروپ بھی تشکیل دیا تھا۔ یوں تونوجوانوں کے بہت سارے گروپس بن گئے تھے جو اپوزیشن میں شامل مختلف جماعتوں سے مطمئن نہیں تھے۔ ان میں سے ہر ایک الگ کام کررہا تھا۔ کچھ نوجوان دمشق کے مضافات میں کوآرڈینیشن کمیٹیوں کے ساتھ مل کر کام کررہے تھے۔ دیگر گروپس مظاہرین کو منظم کرتے تھے۔ عام طور پرخواتین کے مظاہرے الگ ہوا کرتے تھے۔ پورے ملک میں اسی طرح حکومت مخالف تحریک جاری تھی۔ یہ تحریک ناانصافی اور غربت کے خلاف تھی۔ حکام نے اس تحریک کو کچلنے کے لیے قتل و غارت گری کا سہارا لیا تھا۔ اس کے نتیجے میں مظاہرین اور نہتے شہریوں کا قتل عام روز کا معمول بن گیا تھا۔ کوئی دن نہیں جاتا تھا کہ جب حکومت کی جانب سے کوئی نہ کوئی قتل عام نہ ہوتا ہو۔ سیکورٹی فورسز،الشبیہ اور فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہورہا تھا۔ اب طیاروں کے ذریعہ شہروں اور قصبوں پر اس طرح بمباری کی جاتی تھی جیسے یہ دشمن ملک کے علاقے ہیں۔ جسرالشغور، درعا اور حمص پر طیاروں سے بمباری کی گئی۔ ایسی صورت حال میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ میں اپوزیشن کے لیڈروں کے ساتھ اکثر ملاقاتوں میں شامل رہا کرتی تھی۔ اس مسئلہ کا حل موجودہ حکومت کی برطرفی کے سوا کچھ نہ تھا۔ حکومت کسی طرح کی اصلاحات یا دوسرے حل کے لیے تیار نہیں تھی۔ حکمراں خاندان کے ساتھ مسلح گینگز کی وفاداریاں انتہائی مستحکم ہوچکی تھیں جو کرپشن اور کک بیکس کا فائدہ اٹھا رہے تھے۔ حکومت نے خود کو ناکامی سے بچانے کے لیے فرقہ وارانہ جنگ کا سہارا لیا تھا اور سنیوں اور علویوں کے درمیان فساد کی صورتحال پیدا کر کے علوی برادری کو اپنی حفاظت کی غرض سے بطور ڈھال استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔ میں نے عورتوں کو منظم کرنے کے لیے جو دورے کیے اور ان سے جو ملاقاتیں کیں ان کا کوئی خاص نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ روزبروز نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا۔ جسرالشغور کی آبادی فوج کی جانب سے محاصرے اور اس کے بعد قتل عام کے خوف سے شہر خالی کر کے فرار ہورہی تھی۔ شام اور ترکی کی سرحد پر ترک علاقوں میں مہاجرین کی کثیر تعداد پہنچ رہی تھی جن کو خیموں کے شہر میں آباد کیا جارہا تھا۔ ٹلکالاخ پر شامی فوج کے حملے اور بمباری کے بعد شہریوں کی بہت بڑی تعداد سرحد عبور کر کے لبنان میں داخل ہوئی۔ لیکن لبنان میں بھی شامی بہت بڑی تعداد میں موجود تھے۔ لبنانی حکومت شامی حکومت سے تعاون کررہی تھی۔ چنانچہ لبنانی سیکورٹی فورسز نے دو شامی مہاجرین کو گرفتار کر کے شامی حکومت کے حوالے کردیا۔ اس کے نتیجے میں شامی مہاجرین میں افراتفری پھیل گئی۔ چنانچہ یہ ظاہر ہوا کہ لبنان کی جانب نقل مکانی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ عملی طور پر یہاں بھی شامی فوج کی حکمرانی تھی۔ دوسری جانب ترکی نے اعلان کیا کہ وہ شامی حکومت کے ظلم و ستم اور بربریت کی سخت مذمت کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں شامی شہری اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو کر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ آخر کس طرح کوئی حکومت اپنے ہی لوگوں کو ہلاک کرسکتی ہے؟ آخر کیوں شامی طیارے اپنے شامی شہریوں کے گھروں پر بمباری کررہے ہیں۔لیکن یہ بمباری اور قتل عام روز کا معمول تھا۔ شہروں کو اسی طرح صفحہ ہستی سے مٹایا جارہا تھا اور ساری دنیا شامی حکومت پر سخت تنقید کررہی تھی۔ اس کے بعد فوج کےاندر بغاوتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ بہت سے فوجی اپنے شہریوں پر گولی چلانے سے انکار کرنے لگے۔ شامی فوج کا ایک لیفٹیننٹ کرنل سیٹلائیٹ نیٹ ورک پر پیش ہوا اور اس نے اعلان کیا وہ شامی فوج سے علیحدہ ہوچکا ہے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اُس نے شہریوں کو قتل کرنے والے کئی سیکورٹی ایجنٹوں کو ہلاک کیا۔ اُس نے فوجی ہائی کمان کے احکامات کو ماننے سے انکار کردیا کیونکہ یہ ہائی کمان معصوم لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دے رہی تھی۔
میں ان حالات کو دیکھ کر سخت مایوس تھی۔ شہروں سے قتل و غارت گری کی خبریں روزانہ آتی تھیں اور میں یہ خبریں سن سن کر تھک چکی تھی۔ میرے حواس معطل تھے اور مجھے ایسا لگتا تھا جیسے میرے دماغ میں کوئی پتھر رکھا ہوا ہو۔ گزشتہ رات میں نے کچھ ضروری چیزوں کی خریداری کے لیے گھر سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے چند گھنٹوں کے لیے باہر جانے کا ارادہ کیا تھا۔ اس طرح میری طبیعت بھی بہل جاتی اور میرے ذہن پر جو بوجھ تھا وہ تھوڑاسا ہلکا ہوجاتا۔ میں خریداری کے لیے الشالان کے علاقے میں گئی۔ جب میں مسالوں کی مارکیٹ میں پہنچی تو میں نے نوجوان خواتین کو ادھر ادھر بھاگتے ہوئے دیکھا۔ لوگ ہر طرف بھاگ رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں مجھے معلوم ہوا کہ وہاں ایک مظاہرہ ہونے والا تھا۔ لوگوں کی آنکھوں میں خوف دیکھا جاسکتا تھا۔ میں بھاگ کر آگے بڑھی تو دیکھا کہ کھلی جگہ پر سینکڑوں نوجوان مرد و عورتیں جمع تھے جو آزادی کے لیے نعرے لگا رہے تھے۔ وہ شام کا قومی ترانہ گا رہے تھے اور نعرے لگا رہے تھے ’’قتل و غارت گری بند کرو۔ تشدد بند کرو‘‘۔ اچانک میں نے دیکھا کہ گلیوں سے سادے لباسوں میں ملبوس قبیح اور سخت چہروں والے درجنوں افراد نکلے اور مظاہرین پر ٹوٹ پڑے۔ وہ غیرمسلح لوگوں کو بری طرح زدوکوب کررہے تھے۔ وہ گلی میں نظر آنے والے ہر شخص کو پیٹ رہے تھے۔ ایک جگہ ایک نوجوان شخص ان کا نشانہ بنا ہوا تھا اور دس سے زیادہ افراد اس تنہا لڑکے کو گھونسوں اور لاتوں سے مار رہے تھے۔ میں نے دیکھا ایک خاتون زمین پر گری ہوئی تھی اور الشبیہہ کے کارندے اس کو زدوکوب کرنے کے ساتھ فحش گالیاں دے رہے تھے۔ جب مظاہرین میں سے ایک شخص نے اس خاتون کو بچانے کی کوشش کی تو سیکورٹی فورسز نے اس کو بھی پیٹنا شروع کردیا۔ اس کے بعد دونوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ میں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ میں مظاہرین سے اب بھی تھوڑے فاصلے پر تھی لیکن میں نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش نہیں کی۔ دکاندار اپنی دکانوں کے شٹر گرا رہے تھے کیونکہ الشبیہہ اور فورسز کے تشدد سے خوفزدہ مظاہرین ان کی دکانوں میں پناہ لے رہے تھے۔ اب سیکورٹی فورسز نے دکانداروں کو نشانہ بنانا شروع کیا اور دکانوں کو توڑنے پھوڑنے لگی۔ ہر طرف لوگوں کو بری طرح مارا پیٹا جارہا تھا۔ فورسز نوجوانوں کو اٹھا کر پولیس گاڑیوں میں پھینک رہی تھی۔ شاید الشالان کے لوگوں کو اس قسم کے حالات سے پہلی مرتبہ واسطہ پڑا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک گلی سے نوجوانوں کا ایک گروپ نکلا۔ انہوں نے صدر کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں اور ابو حافظ کے نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے سفید ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں جن پر صدر بشارالاسد کی تصویریں چھپی ہوئی تھیں۔ اب سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو زدوکوب کرنا چھوڑ دیا اور حکومت کے حامی مظاہرین کی حفاظت کے لیے قطار بندی شروع کردی۔ سیکورٹی فورسز کا تحفظ حاصل ہونے کے بعد ان نوجوانوں نے سڑکوں پر مارچ شروع کیا۔ ان کے ساتھ ساتھ پولیس اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار تھے اور کوئی ان کو روکنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ ان کی حفاظت کرنے والوں میں الشبیہہ کے غنڈے بھی شامل تھے۔ انہوں نے اپنی کلائیوں پر سنہری زنجیریں پہن رکھی تھیں۔ ان کے ہاتھوں میں قیمتی گھڑیاں تھیں اور ان کی شرٹس پر مختلف کارٹون کردار بنے ہوئے تھے۔ میں نے شبیہہ کے کارندوں کے چہرے پر سب سے زیادہ بھیانک شے ان کی آنکھیں پائیں۔ رحم سے خالی سخت ظالمانہ آنکھیں۔ یہ لوگ نہتے لوگوں کو اس طرح زدوکوب کرتے تھے کہ رحم کی رمق بھی ان کے چہرے پر ظاہر نہیں ہوتی تھی۔ اس دن مجھے اپنا روزمرہ کا باورچی خانے کا سامان خریدنے کا موقع ہی نہ ملا اور مجھے خالی ہاتھ واپس گھر آنا پڑا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن پر اس خطے میں ہونے والی قتل و غارت گری کی خبریں دیکھ رہی تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ یہ سب ظلم و ستم دیکھ کر شام کی دانشور کیوں خاموش ہیں؟ جب اس احتجاجی تحریک کا آغاز ہوا تو مجھے خاموش رہنے والوں سے ہمدردی تھی۔ میں سمجھتی تھی کہ انسانی کمزوری لوگوں کو خاموش رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ لیکن اب ہزاروں لوگوں کی ہلاکت کے بعد میں سوچنے لگی تھی کہ جو لوگ اس قتل و غارت گری کوخاموشی سے برداشت کررہے ہیں وہ ان جرائم میں خود بھی شریک ہیں۔ لطاکیہ اور دمشق میں مظاہرے جاری تھے۔ الیپو میں یونیورسٹی سٹی کا سیکورٹی فورسز نے محاصرہ کیا۔ یہاں ایک مظاہرہ ہوا تھا 24 گھنٹے کے اندر اس علاقے سے ترکی میں داخل ہونے والے مہاجرین کی تعداد 2400 تھی۔ آج میں نے ایک طاقتور وڈیو کلپ دیکھی جو دمشق کے علاقے القبون کے بارے میں تھی۔ یہ وڈیو زیادہ صاف نہیں تھی کیونکہ کسی شخص نے اپنے موبائل کی مدد سے بنائی تھی۔ اس وڈیو میں لوگوں کو بشارالاسد کی تصویریں جلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ لوگ اس حکومت سے کس قدر نفرت کرتے تھے۔ تاہم اس وڈیو کے اجرا کے فوراً بعد الشبیہہ اور سیکورٹی فورسز نے القابون پر حملہ کیا۔ انہوں نے گھروں کے دروازے توڑ دیے اور مکینوں کو باہر نکال کر مارنا پیٹنا اور ہلاک کرنا شروع کیا۔ کثیر تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے اور بہت سے لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
10 جون 2011:
آج کا دن کچھ مختلف تھا۔ ایک باغی لیفٹیننٹ کرنل نے بتایا کہ فوج لوگوں کو کس طرح انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل نے بتایا ’’سیکورٹی فورسز نے مختلف مجرموں کے گروپس تشکیل دیے ہیں جنہیں قتل و غارت گری کے لیے استعمال کیا جارہا ہے‘‘۔ یہ لیفٹیننٹ کرنل ایک ٹیلی ویژن چینل پر آیا تھا اور صاف آواز میں بتا رہا تھا کہ شہریوں کی قتل و غارتگری کرنے والے لوگوں کا تعلق حکومت سے ہے۔ اس لیفٹیننٹ کرنل نے شامی فوج کا ساتھ چھوڑنے اور شام کی آزادی کی تحریک میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ اس نے بتایا کہ کس طرح شامی فوج نے اس کے گاؤں جبل الزاویہ پر حملہ کیا۔ اس کے عزیز رشتے داروں کو گرفتار کرلیا گیا تاکہ خود اس پر دباؤ ڈالا جاسکے۔ اس نے بتایا ’’اب شامی فوج لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اﷲ اور ایرانی فوج کی مدد حاصل کررہی ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل حسین ہارموش کہہ رہا تھا کہ میڈیا پر سیکورٹی فورسز کا کنٹرول ہے۔ اس نے شامی شہریوں اور شامی فوج کے آزاد افسروں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور آزادی کی تحریک کا ساتھ دیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ اس تحریک میں اب واضح بنیادی تبدیلی آرہی تھی۔ اس سے پہلے شامی انقلاب کے لیے بنائی جانے والی کو آرڈی نیشن کمیٹیوں میں لوگ اپنے ناموں کو پوشیدہ رکھتے تھے۔ لیکن فرائیڈے آف ٹرائبس کے موقع پر اب لوگوں نے کھلم کھلا ان کمیٹیوں میں شمولیت اختیار کرنا شروع کردی۔ فوج سے بغاوت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ اس کے ساتھ ہی تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی۔ دمشق میں صورتحال پرسکون تھی۔ المیدان میں ایک بڑا مظاہرہ ہوا۔ دمشق میں میرے گھر کے باہر کرفیو لگا ہوا تھا۔ کوئی شخص گلیوں میں نظر نہیں آرہا تھا۔ گزشتہ جمعہ کو بچوں کی آزادی کا جمعہ قرار دیا گیا تھا۔ اس جمعہ کو حامہ میں 60 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعہ نے سابق صدر حافظ الاسد کے دور حکومت میں 1980 میں ہونے والے قتل عام کی یاد تازہ کردی۔ جب اس شہر میں سیکورٹی فورسز نے 30000 افراد کا قتل عام کیا تھا۔ یہ اتفاق تھا کہ آج حافظ الاسد کی برسی تھی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ حافظ الاسد کی برسی پر پورے ملک میں کوئی تقریب نہ ہوسکی۔ 90 سے ملک بھر کے شہروں میں موت کا بازار گرم تھا۔ ہر آنے والا دن پچھلے گزرنے والے دن سے زیادہ دہشتناک ہوتا تھا۔ شام میں چلنے والی تحریک مصر، لیبیا اور تیونس سے بالکل مختلف تھی۔ شام میں بری طرح خون بہہ رہا تھا۔ آج فرائیڈے آف دی ٹرائبس تھا۔ 39 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ شام کے مختلف شہروں میں 185 مقامات پر مظاہرے ہوئے۔ الیپو، دمشق، حمص، حامہ، ایڈلپ، الحصاکہ ، دریائے فرات کے علاقے، ساحلی علاقے اور ہورن میں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے۔ احتجاجی تحریک شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ آج میں نے نصف رات کو ڈیڑھ بجے فائرنگ کی بھاری آوازیں سنیں۔ یہ آوازیں دمشق کے وسط میں الروئدا کے علاقے سے آرہی تھیں۔ یہ بات اس اعتبار سے نئی تھی کہ یہ علاقہ ابوسمانہ اور الشالان اور الحمرا اور الساحلیہ کے اتصال پر واقع تھا۔ اس طرح یہ دمشق کا قلب تھا۔ اس کے معنی یہ تھے کہ خطرہ ہر طرف ہوسکتا تھا کیونکہ یہ علاقے پوش تصور کیے جاتے تھے۔ میں اٹھ کر بالکنی پر گئی۔ یہ رات کا تیسرا پہر تھا اور گلیوں میں تاریکی اور خاموشی تھی۔ آرنس اسکوائر اور الحمرا اسٹریٹ بالکل خالی تھی۔ کچھ دیر کے بعد بھاری فائرنگ کی آوازیں آنا بند ہوگئیں۔ یہ وہ علاقے تھے جنہیں انتہائی خوبصورت تصور کیا جاتا تھا لیکناب ان سڑکوں پر قاتلوں کی حکمرانی تھی جو روزبروز پہلے سے زیادہ وحشی ہوتے جارہے تھے۔
12 جون 2011:
میرے اس دن کا آغاز فوج کے ایک اور ممتاز افسر کی علیحدگی کی خبر سے ہوا۔ فوج نے المعارت النعمان پر بمباری کی۔ یہاں مقامی ملٹری سیکورٹی برانچ کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا جس نے بغاوت کردی تھی۔ باغی فوجیوں پر قابو پانے کے لیے چھاتہ فوج اتاری گئی۔ جبکہ زمین پر شبیہہ کے کارندوں نے حملہ کیا۔ اس علاقے میں کوئی ڈیڑھ لاکھ افراد نے حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے چھ مظاہرین ہلاک ہوئے۔ علاقے میں بجلی کی فراہمی کاٹ دی گئی۔ دیگر علاقوں سے بھی قتل و غارتگری کی خبریں آرہی تھیں۔ میں نے ان کی تصویریں اسکین کر کے روانہ کیں۔ جسرالشغور میں 1980 میں حافظ الاسد کی حکومت نے قتل عام کیا تھا اور اب 2011 میں حافظ الاسد کے بیٹے نے دوسرے قتل عام کا حکم دیا تھا۔ اس شہر میں حافظ الاسد کے زمانے میں 97 شہری شہید ہوئے تھے۔ جب لوگوں نے جمہوریت کا مطالبہ کیا تھا تو ان کا استقبال گولیوں سے کیا گیا تھا۔ اب صرف ایک رات میں سیکورٹی فورسز نے 70 افراد کو گولی مارکر ہلاک کردیا تھا۔ اس کے نتیجے میں فوج سے بغاوت کرنے والے افسروں اور سپاہیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ جسرالشغور کا محاصرہ کرلیا گیا۔ ہیلی کاپٹر گن شپس شہر کی فضاؤں پر منڈلا رہے تھے۔ زیر محاصرہ شہر سے متضاد خبریں آرہی تھیں۔ صرف ایک دن میں 4300 مہاجرین سرحد عبور کر کے ترکی میں داخل ہوئے۔ محاصرہ اتنا سخت تھا کہ لوگوں کی نقل مکانی بڑھ گئی اور تھوڑے ہی عرصے میں ہجرت کرنے والوں کی تعداد 10000 تک پہنچ گئی۔ ان کی وڈیو کلپس ٹیلی ویژن اور یوٹیوب پر دکھائی جارہی تھی۔ ان تصویروں کو دیکھ کر مجھے اپنا دل بیٹھتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ شامی مہاجرین کی تصویریں ایسی ہی تھی جیسی ہم اس سے پہلے فلسطینی مہاجرین کی تصویریں دیکھا کرتے تھے جو اسرائیلیوں کے ظلم و ستم کا شکار تھے۔ میں سوچ رہی تھی کیا وہ فلسطینی بچوں کا قتل عام کرنے والے یہودیوں اور شامی بچوں پر ظلم ڈھانے والے عرب قوم پرست حکمرانوں میں کیا فرق ہے؟ بشارالاسد کے ظلم و ستم کا شکار شامی بچے جن کو ان کے گھروں سے محروم کردیا گیا تھا صحرا کی کڑی دھوپ میں لگے ہوئے خیموں میں رہ رہے تھے۔ انہیں نہ خوراک مل رہی تھی نہ ان کے پاس پہننے کو کپڑے تھے۔ وہ جنگلات میں یا پہاڑوں پر سخت موسم کا کھلی فضا میں مقابلہ کرنے پر مجبور تھے۔ جب ان کے دیہات پر حملہ ہوا تو شامی فوج سیکورٹی فورسز اور الشبیہہ کے غنڈوں نے انہیں اس کی اجازت بھی نہیں دی کہ وہ اپنے مویشیوں کو ساتھ لے جا سکیں یا اپنی فصلیں کاٹ سکیں۔ ان کے گھروں اور املاک کو آگ لگادی گئی۔ حد یہ ہے کہ بچوں سے ان کا دودھ بھی چھین لیا گیا اور انہیں شام سے ترکی کی سرحد کے اندر دھکیل دیا گیا۔ اس جدید زمانے میں اس طرح کی ظلم و ستم اور زیادتی کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جہاں لوگوں کی زبانیں جمہوریت کا راگ الاپتے ہوئے نہیں تھکتی تھیں وہاں حکومت خود اپنے عوام کو قتل کررہی تھی۔ اس ملک کا صدر لوگوں کی موت کے وارنٹ پر خود دستخط کررہا تھا۔ وہ بڑی بڑی آبادیوں کو صرف سیاسی بنیادوں پر مخالفت کے سبب بے گھر کر کے پڑوسی ملک میں دھکیل رہا تھا۔ جب اس علاقے کو شہریوں سے خالی کرالیا گیا تو فوج نے جسرالشغور پر حملہ کیا۔ پورے شہر کو آگ لگادی۔ قریب کے دیہات کو بھی جلادیا گیا۔ کھڑی ہوئی فصلوں کو آگ لگائی گئی اور مویشیوں کو ماردیا گیا۔ حمص میں ملتی جلتی صورتحال تھی۔ لطاکیہ میں فوج کے تازہ ترین دستے پہنچ چکے تھے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ سے فوجی بھگوڑوں کے بارے میں خبریں جاری ہورہی تھیں۔ حکومت اعلان کررہی تھی کہ فوجی بغاوت کرنے والوں کو سخت سزادی جائے گی۔ اس دوران خبروں کی ترسیل روک دی گئی۔ حد یہ ہے کہ انٹرنیٹ کی ترسیل کو بھی بلاک کردیا گیا اب ہم ہر جانب سے اندھیرے میں تھے۔ اس دوران میں نے ایک نوجوان خاتون اور اس کے دوست لڑکے سے لیے گئے لڑکے کے انٹرویو کو ٹرانسکرائب کیا۔ وہ سوق الحامدیہ کے مظاہرے میں شریک تھے۔ لطاکیہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 16 ہوچکی تھی۔ سرکاری ذرائع ابلاغ مسلسل جھوٹا پروپیگنڈا کررہے تھے کہ شہروں پر حملے میں مسلح باغی گروپ ملوث تھے لیکن جو مہاجرین شام سے نکل کر ترکی کی حدود میں داخل ہورہے تھے وہ الگ کہانیاں سناتے تھے۔ ایک فوجی طحہٰ الوش نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں پہلے اپنی فوجی شناخت بتائی پھر بتایا کہ جو شامی فوجی شہریوں پر فائرنگ کی تعمیل سے انکار کرتے تھے ان کو موقع ہی پر فائرنگ اسکوائڈ کے حوالے کردیا جاتا تھاالرستان میں بھی چار بھگوڑے شامی فوجیوں نے ایسی ہی کہانی سنائی۔ انہوں نے فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کو تفصیل سے انٹرویو دیا۔ طحہٰ الوش نے اس فوجی آپریشن کے بارے میں بتایا جس میں حمص کے 50 ہزار آبادی کے شہر الرستان پر حملے کی کہانی بیان کی گئی تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ حملے کے تین دن کے بعد فوج سے فرار ہوا تھا۔ اُس نے کہا کہ جب اسے اور اس کے ساتھیوں کو اس آپریشن کے لیے بھیجا گیا تو ان کا خیال تھا کہ انہیں مسلح گینگز کا مقابلہ کرنے کے لیے بھیجا جارہا ہے۔ لیکن یہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ انہیں غیرمسلح شہریوں پر حملہ کرنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ ایک سپاہی محمد مروان خلاف ایڈلب میں ایک فوجی یونٹ کے ساتھ تھا۔ وہ عام شہریوں پر فائرنگ کے واقعات دیکھ کر ابھی تک دہشت زدہ تھا۔ اس نے ایک فرانسیسی اخبار کو انٹرویو میں بتایا کہ ’’جب اسے عام شہریوں پر فائرنگ کا حکم ملا تو اس نے اپنی رائفل اٹھا کر پھینک دی اور وہاں سے بھاگ نکلا‘‘۔ اس نے بتایا کہ 7 جون کو فوج نے 20 سے 25 افراد کا قتل عام کیا تھا۔ اس نے کہا کہ اس نے اور اس کے ساتھیوں نے پہلے بغاوت کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن انہیں احساس ہوا کہ وہ باغی فوجیوں کو موقع پر گولی سے اڑا دیتے ہیں۔ شہر میں بلند مقامات پر ان کے نشانچی چھپے ہوئے ہیں اس لیے وہ وہاں سے فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ سادہ لباس میں پولیس والے اور الشبیہہ کے کارندے ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ جو فوجی مظاہرین پر فائرنگ کرنے سے انکار کردیتے ہیں انہیں یہ لوگ فوراً ہلاک کردیتے ہیں۔ ایک اور سپاہی ولید خلاف نے بتایا کہ فوجی حکام کے احکامات نہ ماننے والوں کو فوری سزا دی جاتی ہے۔ ہمارے سامنے ایسے چھ فوجیوں کو گولی ماردی گئی جو مظاہرین پر گولی چلانے سے انکار کررہے تھے۔ اس کے بعد وہ اور دیگر 15 فوجیوں نے وہاں سے بھاگ نکلنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے بتایا کہ انہیں حمص شہر میں فوجی کارروائی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اگر وہ شہر میں داخل ہوتے تو درجنوں شہری ان کی گولیوں کا نشانہ بنتے۔ اس انٹرویو کو فرانسیسی نیوز ایجنسی اور العربیہ نیوز چینل نے بھی جاری کیا۔ اس وقت ترکی کے شہر الادی میں سینکڑوں مہاجرین پہنچ چکے تھے۔ میں خود بھی ان مہاجرین کی تصویریں دیکھ رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ مسلم علما مہاجرین سے خطاب کررہے تھے اور شامی حکومت سے مطالبہ کررہے تھے کہ وہ اپنے شہریوں کا قتل عام بند کرے۔ انہی میں سے ایک سنی بنیاد پرست عالم شیخ الرعور نے ایک سیٹلاٹ نیٹ ورک سے خطاب کیا۔ ان کی گفتگو فرقہ واریت سے بھری ہوئی تھی۔ ان کی اس تقریر سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا اور جو کچھ وہ کہہ رہے تھے اس میں حیرت کی بات کوئی نہیں تھی۔ لیکن اصل بات یہ تھی کہ ان سنی بنیاد پرست علما کی تقریروں سے حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہورہے تھے اور جو اعتدال پسند علوی شامی حکومت کی مخالفت میں چلنے والی تحریک میں شامل تھے علیحدہ ہونے پر مجبور ہونے لگے۔ اس طرح ان تقریروں کی وجہ سے شامی حکومت کے وہ مقاصد پورے ہوگئے جو اس نے آزادی کی اس تحریک کو شیعہ سنی یا شیعہ علوی فرقہ وارانہ فساد کا رنگ دینے کی کوشش کی تھی۔ ان سنی علما کا سامنے آنا اس تحریک کے لیے کسی بھی اعتبار سے فائدہ مند نہیں تھا اور وہ مفید ہونے کے بجائے نقصان دہ تھے۔ میں تین دن سے مسلسل گھر میں بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں خواتین کی تحریک کے سلسلے میں باہر نکلوں اور کو آرڈی نیشن کمیٹیوں کے کارکنوں سے ملاقات کروں۔ میں نے یہ ملاقاتیں کیں۔ اس تحریک کے تحت مختلف ڈاکٹروں کو تیار کیا گیا کہ وہ زخمیوں کے علاج کے انتظامات کریں اور وقت دیں۔ ایمبولینسوں کا انتظام بھی کیا گیا۔ نرسوں نے مجھے بتایا کہ وہ زخمیوں کو علاج کے لیے ہسپتالوں میں نہیں لے کر جاتیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہسپتالوں پر سرکاری فوجیوں نے قبضہ کر رکھا ہے اور جو زخمی ہسپتالوں میں لائے جاتے ہیں ان کو یہ فوجی پوچھ گچھ کرنے کے بعد گولی ماردیتے ہیں۔ بہت سارے زخمی صرف اس وجہ سے ہسپتالوں کے باہر زیادہ خون بہہ جانے سے ہلاک ہوگئے کہ سیکورٹی فورسز نے انہیں ہسپتالوں کے اندر لے جانے اور طبی امداد فراہم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ معارت النعمان کے مشرق میں وادی الضعیف میں شامی فوج کے ہیلی کوپٹر مسلسل بمباری کررہے تھے۔ جبکہ شامی فوج نے ٹینکوں کی مدد سے اس علاقے کا گھیراؤ کر رکھا تھا۔ شہر میں محصور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے کھیتوں کے راستے فرار ہورہے تھے اور شامی فوج ان کو فائرنگ کر کے ہلاک کررہی تھی۔ یہ ساری اطلاعات اُن خاندانوں سے مل رہی تھی جو دو حصوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔ عام طور پر خاندانوں میں عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لیے کسی ایک نوجوان کو ساتھ روانہ کیا جاتا تھا جبکہ کچھ نوجوان اپنے گھر کی حفاظت کےلیے پیچھے رہ جاتے تھے۔ اُس وقت یہ عورتیں اور بچے سخت خوف اور دہشت کا شکار ہوتے۔ مہاجرین کے کیمپوں میں زیادہ بڑی تعداد ایسی دہشت زدہ خواتین اور بچوں کی تھی۔ ان کیمپوں میں موجود مرد زیادہ تر بوڑھے، ضعیف اور کمزور لوگ ہوتے۔ ان تمام لوگوں نے جو بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے سختی سے ان خبروں کی تردید کی کہ شہری مسلح تھے اور انہوں نے فوج یا سیکورٹی فورسز کے خلاف ہتھیار اٹھالیے تھے۔ درحقیقت سیکورٹی فورسز نے جب بھی شہروں میں کاروائی کی تو کوئی پیشگی وارننگ جاری نہیں کی اور انہوں نے تمام گھروں کو بلا امتیاز نشانہ بنایا۔ شام اور ترکی کی سرحد کے قریب آباد دیہات تیزی سے خالی ہوئے اور مہاجرین کی بہت بڑی تعداد جان بچا کر ترکی کی سرحدوں میں داخل ہوگئی۔ ترک حکومت نے یہاں شامی مہاجرین کے لیے کیمپ بنائے تھے جہاں مقیم مہاجرین کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہورہا تھا۔ شامی فوج نے جب جسرالشغور کا کنٹرول سنبھالا تو انہیں شہر میں ایک بہت بڑی اجتماعی قبر ملی۔ شہر میں ہر چیز کو جلا دیا گیا تھا۔ سیکورٹی ہیڈ کوارٹرز، کمیونیکیشنز ٹاور، دکانیں اور تجارتی مراکز ہر شئے جلی ہوئی تھی۔ شہر انسانوں سے مکمل طور پر خالی ہوچکا تھا۔
13 جون 2011:
گزشتہ دو دن سے ایک گھنٹے کے لیے بھی امن قائم نہ ہوسکا۔ گھر سے باہر بہت زیادہ شورغل کی آوازیں آرہی تھیں۔ میرے گھر کے قریب آرنس اسکوائر کے وسط میں حکومت کے حامیوں کے ایک مظاہرے کی تیاریاں جاری تھیں۔ پورے اسکوائر کو صدر کی تصویروں سے سجایا گیا تھا۔ ہر طرف جھنڈے لہرا رہے تھے۔ الحمرا، الشالان اور الروئدہ میں عورتیں اور مرد مارچ کررہے تھے۔ وہ حکومت کی حمایت میں گیت گارہے تھے۔ نعرے لگا رہے تھے لیکن ان کی مخالفت میں آوازیں بلند کرنے والا کوئی نہ تھا کیونکہ ان کی حفاظت سیکورٹی فورسز کررہی تھیں۔ صدر کی حمایت اور مخالفت میں ہونے والے مظاہروں کے درمیان جو واضح فرق تھا اس نے مجھے سخت اشتعال دلایا۔ کیونکہ جب حکومت کی مخالفت میں مظاہرے ہوتے تو حکومت انہیں چند لمحے کے لیے بھی برداشت نہ کرتی اور انہیں سختی سے کچل دیا جاتا۔ ان پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ان کی کوئی تصویر شامی میڈیا اور اخبارات کے ذریعہ سامنے نہیں آنے دی جاتی۔ جہاں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکتیں ہوتیں تو یہ تاثر دیا جاتا کہ جیسے ان شامی شہریوں کو ہلاک کرنے والے سرکاری اہلکار نہیں بلکہ نامعلوم افراد تھے۔ ہر بلیٹن میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کا تذکرہ ہوتا۔ سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں خبریں دی جاتیں کہ وہ نامعلوم افراد کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ ان مظاہروں کو دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا تھا کہ شہریوں کی اکثریت بشارالاسد کی حکومت سے نجات چاہتی تھی۔ ایک معمولی سی اقلیت حکومت کی حمایت کررہی تھی۔ لیکن میڈیا پر حکومت کا مکمل کنٹرول تھا۔ ہم اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں تھے۔ ہر چیز تبدیل ہوچکی تھی۔ سڑکوں پر ہر وقت گولیاں چلتی رہتی تھیں۔ حکومت کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں میں لاؤڈ اسپیکروں کا کھلم کھلا استعمال ہوتا۔ وہ صدر کی حمایت میں نغمے انتہائی تیز آواز میں سنا رہے ہوتے۔ لیکن کسی کی یہ ہمت نہیں تھی کہ ان سے کہہ سکتا کہ لوگ گھروں میں سونا چاہتے ہیں اور تم ان کی نیندیں خراب کررہے ہو۔ جب میرے ایک پڑوسی نے ان سے یہ کہنے کی جرات کی کہ وہ اپنے لاؤڈ اسپیکر کی آواز ہلکی کردیں تو انہوں نے اس کو ٹھوکروں پر رکھ لیا اور کئی لوگ مل کر اس کو مارنے پیٹنے لگے۔ دوسرے پڑوسیوں نے اس کو مزید مار کھانے سے بچایا۔ یہ جھگڑا اس وقت ختم ہوا جب پولیس وہاں پہنچی۔ پولیس اسے اپنے ساتھ لے گئی اور میں نہیں کہہ سکتی تھی کہ اس کہانی کا اختتام کیا ہوا ہوگا۔ میں سخت بیماری کا شکار تھی۔ میرے پھیپھڑے زخمی تھے۔ میری کھال سکڑ کر خشکی سے پھٹ رہی تھی اور اس میں سے خون رس رہا تھا۔ ہر طرف سے قتل و غارتگری کی خبریں آرہی تھیں۔ میں نے ان خبروں کی تصدیق کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن ہر تھوڑے فاصلے پر ٹینک میرا راستہ روک لیتے تھے۔ میں یہ جاننے کی کوشش کررہی تھی کہ محاصروں میں رہنے والے شہریوں کی زندگی کیسی گزر رہی ہے؟ مجھے خبر ملی کہ ایک باغی لیفٹیننٹ کرنل کی قیادت میں کوئی 200 شامی فوجیوں کا ایک دستہ باغی ہوگیا ہے۔ اپوزیشن ٹی وی سے آنے والی اس خبر کے مطابق اس دستے کے کوئی چار افسر شہریوں کو تحفظ فراہم کررہے تھے اور انہیں حفاظت کے ساتھ سرحد پار کرنے کا موقع فراہم کررہے تھے۔ میں نے ایسے ہی ایک فوجی سے ملاقات کی۔ اس نے بتایا ’’ہم اس کے سوا اور کچھ نہیںکرسکتے کہ شامی فوج کی کمک یہاں آنے سے پہلے لوگوں کی زندگی کی حفاظت کریں اور انہیں محفوظ طور پر نقل مکانی کا موقع فراہم کریں۔ ایک اور خبر یہ آئی کہ مظاہرین پر کچھ دستی بم پھینکے گئے جس کے نتیجے میں ایک شخص اپنے چہرے کے سامنے بم پھٹنے سے نابینا ہوگیا۔ کچھ لوگ ایک جنازے میں شریک تھے کہ ان پر حملہ ہوا۔ وہ شدید زخمی ہوئے۔ ان میں سے ایک شدید زخمی حالت میں ترکی کی سرحد کی جانب روانہ ہوا اور سرحد عبور کرتے ہی انتقال کرگیا۔ اس کی کیسی بدقسمتی تھی کہ اسے اپنے وطن میں دفن ہونے کو جگہ بھی نہیں ملی۔ اس کے اپنے وطن نے اسے بے گھر کردیا۔ گزشتہ مرتبہ میں نے خواتین کے ایک مظاہرے تک پہنچنے کی کوشش کی تو سیکورٹی فورسز نے مجھ پر فائرنگ شروع کردی۔ اب صورت حال یہ تھی کہ میں بالکل تنہا رہ گئی تھی۔ میری بیٹی مجھ سے بہت دور کسی مکان میں تھی۔ میری ماں مجھ سے دور تھی۔ مجھے خود اپنے گاؤں جانے سے روک دیا گیا تھا۔ اگر میں وہاں پہنچنے کی کوشش کرتی تو مجھے کہیں بھی گولی ماری جاسکتی تھی۔ اب میں صرف ایک ہی کام کرسکتی تھی کہ میں ظلم و ستم کے مارے مظلوم لوگوں کی کہانیاں بیان کروں۔ ان کے انٹرویوز لوں۔ قتل عام اور جیلوں سے بچ نکلنے والوں سے ان کے حالات پوچھوں اور ان رپورٹوں کو میڈیا کے ذریعہ دنیا بھر کے سامنے لانے کی کوشش کروں۔
ایک مظاہرے میں شریک جوڑے کے بیانات:
الحمیدیہ کے مظاہرے کے دوران ایک نوجوان مرد اوراس کی دوست لڑکی کو سیکورٹی فورسز نے گرفتار کرلیا۔نوجوان نے بتایا کہ ’’اس کی دوست لڑکی اس مظاہرے کی فلم بندی کررہی تھی جس میں صدر کی حمایت میں کچھ لوگ جھنڈے اور بینر اٹھائے ہوئے تھے۔ صدر کے حامی مظاہرین نے اچانک اس کو زدوکوب کرنا شروع کردیا۔ وہ اُسے ڈنڈوں سے پیٹتے رہے اور میری نظروں کے سامنے اُسے اٹھا کر لے گئے۔ ان میں سے کچھ نے مجھ کو پکڑلیا اور گھونسوں اور لاتوں سے میری مرمت کرنے لگے۔ جب یہ مظاہرین اُس لڑکی کو زدوکوب کررہے تھے تو وہ اس سے کہہ رہے تھے کہ تم آزادی چاہتی ہو۔ تم یہودی ہو‘‘۔ اس کے جواب میں لڑکی نے کہا کہ ’’وہ علوی ہے اور اس کو وہ بلاوجہ ہراساں کررہے ہیں‘‘۔ یہ کہانی وہ نوجوان اپنی دوست لڑکی کے بارے میں سنا رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ ’’سیکورٹی فورسز نے اس کی دوست لڑکی کو گرفتار کرلیا۔ لیکن مجھ کو چھوڑ دیا۔ میں نے پولیس افسر سے پوچھا کہ اسے کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ ہر اُس علوی کو سبق سکھانا چاہتے ہیں جو بشارالاسد کی مخالفت کررہا ہے۔ میں نے جب اس سے جرح کرنے کی کوشش کی تو اس نے پہلے مجھ کو ٹھوکریں ماریں پھر مجھے بھی پکڑ کر اُسی بس میں ٹھونس دیا جہاں میری دوست لڑکی کو ڈالا گیا تھا۔ اس دوران وہ مسلسل مجھ کو زدوکوب کرتے رہے۔ میں نے قیدیوں کی بھیڑ میں اُسے تلاش کیا۔ لیکن اُس تک نہ پہنچ سکا۔ جب یہ بس کفرسوسہ کی ملٹری سیکورٹی برانچ پہنچی تو سیکورٹی فورسز نے میری ساتھی لڑکی کو الگ کردیا اور ہم دونوں کو الگ کمروں میں قید کیا۔ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ اس کو قید تنہائی کی سزا دی گئی تھی۔ ہمیں جب قید خانے میں لایا گیا تھا تو یہاں دوسرے مقامات سے لائے جانے والے قیدی مظاہرین بھی موجود تھے۔ یہ مظاہرے المرجہ، البوہسہ اور الحمیدیہ میں ہوئے تھے۔ یہاں 18 سال سے کم عمر کے تین لڑکے، دو بوڑھے اور المجتہد ہسپتال کا ایک ڈاکٹر بھی موجود تھا۔ ایک قیدی بہت بری طرح کانپ رہا تھا۔ ڈاکٹر نے اُس کے بارے میں کہا کہ سر پر لگنے والی چوٹوں کی وجہ سے یہ شخص تشنج کا شکار ہوگیا ہے۔ مجھ کو صرف اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کہ میں نے اپنی دوست لڑکی کو بچانے کی کوشش کی تھی۔ میں مظاہرین میں شامل نہیں تھا۔ وہ لڑکی کسی میڈیا چینل کی ٹیم کا حصہ تھی‘‘۔
نوجوان نے بتایا،’’ انہوں نے ہمیں زمین پر پھینک دیا اور اس کے بعد مجھ سمیت تمام قیدیوں کو ٹھوکریں مارنے لگے۔ اس کے بعد ہمیں اپنے پنجوں کے بل چلنے پر مجبور کیا گیا۔ اس دوران کسی نے میری طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس نے ایک سیکورٹی ایجنٹ کو مارا تھا۔ یہ سنتے ہی انہوں نے مجھے ایک علیحدہ کمرے میں قید کردیا لیکن مجھے زدوکوب کرنے کا سلسلہ بند نہ ہوا۔ وہ یہاں بھی مجھ کو بجلی کے تاروں سے پیٹتے رہے یہاں تک کہ میں بیہوش ہوگیا۔ مجھے ہوش میں لانے کے لیے میرے سر پر پانی ڈالا گیا۔ ایک ڈاکٹر نے جو وہاں موجود تھا کہا کہ یہ شخص بات چیت کرنے کے قابل نہیں ہے لیکن وہ مجھے بولنے پر مجبور کرتے رہے۔ وہ مجھ سے ایک ناکردہ جرم کا اعتراف کرانا چاہتے تھے کہ میں اس مظاہرے میں اسرائیل کی حمایت میں نعرے لگا رہا تھا اور میں نے مظاہرےکے دوران ایریل شیرون کی ایک تصویر اٹھائی ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ کو دھمکی دی کہ اگر میں نے یہ اعتراف نہ کیا تو وہ میری دوست لڑکی کو مجرمانہ حملے کا نشانہ بنائیں گے۔ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ اس دوران میری دوست لڑکی سے اسی نوعیت کا اقبال جرم کرانے کی کوشش کی جارہی تھی۔ اس دوران ہمیں پانی بھی پینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جو فلسطینی مظاہروں میں شریک ہوتے تھے ان کو دوسروں سے بھی زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ پولیس افسر ان کی گردنوں پر اپنے بوٹ رکھتے اور ان سے مطالبہ کرتے کہ وہ ان کے تیارکردہ اقرار جرم پر دستخط کردیں۔ بہت سے نوجوانوں کو اس بری طرح مارا پیٹا گیا کہ ان کے چہروں کے خدوخال بگڑ گئے۔ انہوں نے مسلسل مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں یہ وعدہ کروں کہ سیاسی طور پر ان کی حمایت کروں گا۔ کچھ دیر زدوکوب کرنے کے بعد انہوں نے مجھے ایک سیل میں تنہا بند کردیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر آئے۔ اب ان کا لہجہ نرم تھا۔ وہ دیر تک سیاسی حالات پر بات چیت کرتے رہے اور مجھ کو یقین دلانے کی کوشش کرتے رہے کہ ملک کے خلاف سازش کی جارہی ہے۔ اگر بشارالاسد کی حکومت ختم ہوگئی تو شام پر سلافیوں کا قبضہ ہوجائے گا۔میں لبرل اور سیکولر تھا اور وہ ایسے کسی شخص سے توقع نہیں کرتے تھے کہ وہ اپوزیشن کی حمایت کرے گا‘‘۔
دوسرا بیان اُس لڑکی کا تھا جس کو الگ قید کیا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ ’’اس کے دوست لڑکے کو کوڑوں سے مارا جارہا تھا۔ جب وہ زور زور سے چیخنے لگتا تو وہ اس سے کہتے اور زور سے چیخو‘‘۔ لڑکی نے بتایا ’’اس دوران خود اس سے کہا جاتا کہ تمہارا دوست لڑکا چیخ رہا ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے تم اسے بچانے کی کوشش نہیں کر رہیں‘‘۔ لڑکی نے بتایا کہ ’’اس سے پانچ گھنٹے تک مسلسل پوچھ گچھ کی گئی اور اس دوران اسے زدوکوب بھی کیا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد دروازہ کھلا اور باہر سے کوئی شخص اندر آیا۔ اس نے بلند آواز سے کہا کہ مارپیٹ بند کی جائے۔ اس نے کہا کہ اس کا تعلق ری پبلیکن پیلس سے ہے۔ اس نے کہا کہ وہ مظاہرین کے مطالبات سننا چاہتا ہے۔ قیدیوں نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا۔ ان کے بجائے ایک سیکورٹی ایجنٹ نے چلاکر کہا ’’کتو! جواب کیوں نہیں دیتے؟‘‘ قیدی خاموش رہے۔ محافظوں میں سے ایک دوبارہ چلایا اور بولا ’حرامیو! بولتے کیوں نہیں؟‘ ایک شخص کانپتے ہوئے قدموں کے ساتھ اپنی جگہ سے اُٹھا۔ اس کے چہرے پر سر سے لے کر تھوڑی تک زخم کا نشان تھا جس سے خون ٹپک رہا تھا۔ وہ بولا ’سر! ہمیں کسی نے نہیں مارا پیٹا۔ ہم بڑے امن سے ہیں۔ ہمارے آپ سے کوئی مطالبات نہیں‘۔ یہ کہہ کر وہ اپنے جگہ دوبارہ بیٹھ گیا‘‘۔لڑکی نے اپنے بیان میں اتنا ہی بتایا۔
آج العربیہ چینل نے ایک عجیب رپورٹ جاری کی جو پوری رنگ زدہ اوربشار الاسد کی حکومت کی حمایت میں تھی۔رپورٹ کے مطابق چینل کے نمائندوں کی یہ ٹیم جسرالشغور سیکیورٹی فورسز کی مدد سے شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی۔ چینل پر کچھ مظاہرے دکھائے گئے اور یہ بھی بتایا گیا کہ کچھ مسلح افراد نے فائرنگ کر کے سیکورٹی فورسز کے کئی اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔ مجھے اس خبر سے پریشانی ہوئی کیونکہ اس چینل نے یک طرفہ رپورٹنگ کی تھی۔ اُس نے عام لوگوں کی تکلیفوں کو نظر انداز کردیا تھا اور بشارالاسد کی انتظامیہ کے موقف کو بیان کیا تھا۔ آخر وہ کونسی قوت تھی جو العربیہ کو یک طرفہ رپورٹنگ کرنے پر مجبور کررہی تھی۔ جسرالشغور میں ایک اجتماعی قبر دریافت ہونے کی اطلاع بھی جاری کی گئی تھی لیکن اس خبر میں کچھ اس طرح ظاہر کیا گیا تھا کہ جیسے انتظامیہ نہیں بلکہ کچھ نامعلوم مسلح لوگ شہریوں کے قتل عام کے ذمہ دار تھے۔ میں گزشتہ دو ماہ سے شہریوں پر شامی سیکورٹی فورسز کے مظالم کی عینی شاہد تھی۔ میں خود مظاہرین کے ساتھ رہی اور میں نے اپنی نظروں سے زمینی حالات کا مشاہدہ کیا۔ مجھے ایک قابل اعتبار سرکاری افسر نے خود بتایا کہ اس اجتماعی قبر میں ان لوگوں کو دفن کیا گیا تھا جن کو شامی سیکورٹی فورسز نے درعا میں آپریشن کے دوران گرفتار کیا تھا اور بعد میں انہیں گولی کا نشانہ بنا کر اس شہر میں اجتماعی قبروں میں دفن کردیا تھا۔ (جاری ہے)
15 جون 2011:
میں دوپہر کے بعد دمشق سے واپس گھر پہنچی۔ شہر کی سڑکیں لوگوں نے آلودہ کر رکھی تھیں۔ کوئی شہر لوگوں سے آلودہ کیسے ہوتا ہے؟ بشارالاسد کی حکومت اپنے حامیوں کے گروپس کو شہر کی سڑکوں پر لے آئی تھی۔ حکومت کی جانب سے جگہ جگہ بشارالاسد کی حمایت میں مظاہرے ہورہے تھے۔ لوگ اسپورٹس کاروں میں سوار صدر کی بڑی بڑی تصویریں اور جھنڈے لیے نعرے لگا رہے تھے۔ ہمساری رات نہیں سو سکے۔ وہ کاروں کے ہارن بجا رہے تھے اور لاؤڈ اسپیکروں سے بلند آواز میں نغمے بلند ہورہے تھے۔ گھروں میں رہنے والوں کے لیے زندگی اجیرن ہوچکی تھی۔ تمام دروازے اور کھڑکیاں بند کرنے کے باوجود اس شوروغل سے کہیں پناہ نہیں مل رہی تھی۔ یہ جدید پروپیگنڈے کا جارحانہ انداز تھا جس میں لوگوں کی تکلیفوں کی پرواہ کیے بغیر اُن پر اپنے نظریات مسلط کیے جارہے تھے۔جگہ جگہ سرکاری دفاتر سے تمام ملازمین کو باہر نکلنے پر مجبور کردیا گیا تھا اور اُن کے ہاتھوں میں زبردستی جھنڈے اور بینر تھما دیے گئے تھے۔ جس کو اپنا روزگار عزیز تھا وہ بشارالاسد کی حمایت میں جھنڈے لہرانے پر مجبور تھا ورنہ اُسے ملازمت سے نکال دیا جاتا۔ جو ان مظاہروں میں شریک ہونے سے انکار کرتا اُسے سخت سزا کا سامنا ہوتا۔ اُس پر کوئی بھی الزام لگا کر تادیبی کارروائی ہوسکتی تھی۔ میں ایک سرکاری عمارت کے سامنے سے گزری۔ اس سڑک پر ہر وقت لوگوں کی بھیڑ رہا کرتی تھی۔ یہ شدید گرمی کا موسم تھا اور سورج سوا نیزے پر محسوس ہوتا تھا۔ مجھے یہاں اپنی ایک دوست لڑکی سے ایک کیفے میں ملنا تھا۔ اُس کا شوہر گرفتار کرلیا گیا تھا اور وہ اُس کی رہائی کے لیے یہاں منتظر تھی۔ لیکن بجائے اس کے کہ اُس کے شوہر کو رہا کیا جاتا خود اُس کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ یہ سراسر پاگل پن تھا۔ اب میں اس کیفے کی ایک میز پر دو وکیلوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی جو قیدیوں کی رہائی کے لیے مقدمہ تیار کرتے تھے۔ ان وکیلوں میں سے ایک کو اس سے قبل قیدیوں کی وکالت کرنے کے جرم میں گرفتار کیا جاچکا تھا۔ وہ وکیل مجھے بتا رہا تھا کہ ’’شہریوں کے مقدمات کی تیاری اور ان کا دفاع کرنے میں کیا مشکلات ہیں؟ اور خود اُس کو سخت مالی مشکلات کا سامنا ہے‘‘۔ اچانک اس کے ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ اس نے فون رسیو کرنے کے بجائے اُسے شبہے کی نظروں سے دیکھا۔ یہ اتفاق تھا کہ یہ کیفے درجنوں وکیلوں اور ان کے موکلوں سے بھرا ہوا تھا جو سب مرد تھے۔ میں اس مجمعے میں واحد عورت تھی اور کافی لوگ میری طرف دیکھ رہے تھے۔ وکیل نے اپنے موبائل پر ایک دو گھنٹیاں اور بجنے دیں پھر بولا ’’ذرا میں یہ کال وصول کرلوں۔ اس کے بعد آپ کو ایم کی کہانی سناؤں گا‘‘۔ یہاں اصل نام پوشیدہ رکھنے کے لیے ایم کا حرف استعمال کیا گیا ہے۔ وکیل کال وصول کرنے کے لیے اُٹھ کر باہر تک گیا۔ پھر واپس آیا۔ میں اس کہانی کو سننے کے لیے سخت بے چین تھی۔ اس لیے اُس کے آتے ہی بول پڑی ’’ایم کی کہانی کیا ہے؟‘‘ وہ مسکرایا اور بولا ’’دو ماہ پہلے جب شام میں احتجاجی تحریک کا آغاز ہوا تھا ایم اپنی کار ڈرائیو کررہا تھا کہ اُس کی کار ایک چورنگی پر صدر کے مجسمے کے اردگرد بنی ہوئی دیوار سے ٹکرا گئی۔ ابھی وہ کار سے باہر نکلا ہی تھا کہ وہاں موجود سیکورٹی ایجنٹوں نے اُس کو مارنا پیٹنا شروع کردیا اور اُس کے بعد پکڑ کر ایک پولیس اسٹیشن لے گئے۔ وہاں اس کو اس قدر زدوکوب کیا گیا کہ وہ بیہوش ہوگیا۔ اُس کے سر میں اتنی چوٹیں آئیں کہ وہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگا۔ اُس کے والد نے اُسے آزاد کرانے کے لیے بہت سے وکیلوں سے رابطہ کیا اور آخرکار وہ مجھ تک پہنچ گیا۔ میں نے خوشی سے اس کا مقدمہ لینے کی ہامی بھرلی۔ جیل میں اُس کو ابھی تک تشدد کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ ہم نے اپنے مقدمے میں سیکورٹی سروس پر الزام لگایا کہ وہ اُس کو ٹارچر کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ ہم مجسٹریٹ سے اُس کی رہائی کے احکامات لینے میں کامیاب ہوگئے لیکن اس دوران اُس پر ایک نیا الزام لگادیا گیا۔ وہ الزام یہ تھا کہ اُس نے جیل کے اندر اپنے سارے کپڑے اُتارلیے تھے اور اس طرح عریانیت اور فحاشی پھیلانے کا مرتکب ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اُس نے موجودہ حکومت کے خلاف باغیانہ گفتگو کی تھی جو اخلاق کے منافی تھی‘‘۔ یہ کہانی سننے کے بعد میں نے وکیلوں کو اﷲ حافظ کہا۔ اس دوران میری دوست لڑکی بھی وہاں پہنچ گئی تھی جو اپنے شوہر کے بار میں کسی خبر کی منتظر تھی۔ اُس کا کام روزانہ یہاں آنا اور اپنے شوہر کی رہائی کے بارے میں معلومات کرنا تھا۔ اس دوران میری دوسری دوست لڑکی بھی وہاں پہنچ گئی اور اس نے بتایا کہ ’’قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں اہل خانہ کی مالی مشکلات کو دور کرنے اور وکیلوں کی فیس وغیرہ کی ادائیگی کے لیے ایک تنظیم قائم کی گئی ہے جس کا نام ’ سیرین ویمن ان سپورٹ آف دی اَپ رائزنگ ‘ ہے۔ اُن لوگوں سے ملاقات کے بعد میں اپنی جگہ سے اٹھی اور تھوڑے فاصلے پر واقع سرکاری دفتر کی عمارت کی جانب گئی جہاں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کو حکومت کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت پر مجبور کیا جارہا تھا۔ میں اب اُس تحریک آزادی کا حصہ بن چکی تھی جو شام کو ایک آمرانہ حکومت سے نجات دلانے کے لیے پورے ملک میں جاری تھی۔ میں نے اپنے لیے میدانی کام کا انتخاب کیا تھا۔ اس دوران میںانقلاب کی کو آرڈینیشن کمیٹیوں سے ملاقات کیا کرتی تھی۔ ہر عمر کی عورتیں اور لڑکیاں اس تحریک کا حصہ تھیں۔ ہماری خاص توجہ مظاہرین پر تھی۔ میں اپوزیشن کی ممتاز شخصیات کے اجتماعات میں شریک ہونے سے بچنے کی کوشش کرتی تھی کیونکہ وہاں سوائے زبانی جمع خرچ کے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ میں کارکنوں کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دیتی تھی۔ سب سے پہلے ہم نے بڑی تعداد میں ایسے رضاکار ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کیں کہ مظاہروں کے دوران لوگ شدید زخمی ہو جائیں تو اُن کو فوری طبی امداد فراہم کی جاسکے۔ اس مقصد کے لیے ہم مظاہرے سے ایک دن پہلے ہی ڈاکٹروں کو الرٹ کردیتے تھے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ کیونکہ اگر سیکورٹی سروسز کو یہ اطلاع مل جاتی کہ کوئی ڈاکٹر زخمیوں کی مرہم پٹی کررہا ہے تو وہ فوراً اُسے گرفتار کر کے تشد کا نشانہ بنانا شروع کردیتے تھے۔ ڈاکٹروں کو الرٹ کرنے کے علاوہ ہم بڑی تعداد میں ابتدائی طبی امداد کا سامان اور بینڈیجز وغیرہ فراہم کرتے تھے۔ اس سلسلے میں کچھ نوجوان ڈاکٹروں نے دمشق ڈاکٹرز کو آرڈینیشن کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کے علاوہ اس تحریک کی مالی امداد کے لیے ایک فنڈ بھی قائم کیا گیا تھا جس کا اصل مقصد قیدیوں اور اُن کے اہل خاندان کے لیے عطیات جمع کرنا تھا۔ بہت سے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں سے برطرف کردیا گیا تھا۔ کیونکہ انہوں نے حکومت کی حمایت میں کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اب سرکاری کارندے ان کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا رہے تھے اور یہ لوگ زیرزمین رہ کر کام کرنے پر مجبور تھے۔ پورا شام سخت سیاسی ابتلاء و آزمائش کا نشانہ تھا۔ جگہ جگہ لوگ منظم ہورہے تھے اور اپوزیشن کے گروپس ایک دوسرے کو سپورٹ کررہے تھے۔ تاہم ابھی تک کوئی مرکزی قیادت وجود میں نہیں آئی تھی۔ اگلے دن میں دمشق میں کو آرڈینیشن کمیٹیوں کے ممبروں سے ملاقات کے لیے نکلی۔ یہ 15 جون کی شام تھی۔ وہاں میری ملاقات ایک سیکولر یوتھ گروپ سے ہوئی ۔ اس ملاقات کے بعد میں گھر واپس آئی۔ مجھے پتہ چلا کہ میری بیٹی واپس آچکی ہے۔ میں اُس کو ہمیشہ خوفزدہ دیکھا کرتی تھی لیکن آج وہ بہت خوش تھی۔ اُس نے بتایا کہ دمشق میں وہ بہت زیادہ نروس رہتی ہے لیکن بنیاس میں اس کا وقت بہت اچھا گزرا۔ میں اس کی کہانی سنتی رہی اور بالکنی میں بیٹھ گئی۔ آج رات مکمل چاند گرہن تھا۔ آسمان گہرا نیلا دکھائی دینے لگا تھا جبکہ گرہن سُرخ ہوتے ہوتے تاریکی چھا گئی۔ اس وقت مختلف شہروں میں سیکورٹی فورسز ٹینک استعمال کررہے تھے۔ البکامل دیار الزور مراۃ النعمان کی آبادی نقل مکانی کرچکی تھی۔ کوئی 8500 شامی شہری اپنے گھر چھوڑ کر بین الاقوامی سرحد کو عبور کرچکے تھے۔ معصوم شہریوں کو اس طرح قتل و غارت گری کا نشانہ بنانے والا کون تھا۔ ظاہر ہے یہ ایک نام نہاد صدر تھا لیکن تیمور لنگ کے بعد کسی جمہوری حکومت میں معصوم شہریوں کا ایسا قتل عام گزشتہ 1000 سال میں کسی نے نہیں کیا۔ میں تاریخ کی کتابوں میں تلاش کرنے کی کوشش کررہی تھی کہ اس خطے میں کون کون سے قصائی حکمران گزرے تھے جنہوں نے معصوم شہریوں کا اس طرح قتل عام کیا تھا۔ میں اپنے ان خیالات سے چونک کر اس وقت باہر آئی جب میں نے بشارالاسد کی حمایت میں گزرنے والی ایک ریلی سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ بلند ہونے والے نعروں اور نغموں کی دماغ کو چھیل دینے والی آوازیں سنیں۔ ایک لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کیا جارہا تھا کہ ’’اے بشر ہم تیرے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ بہانے کو تیار ہیں‘‘۔ میں سوچ رہی تھی بشارالاسد کے لیے یہ لوگ اپنے خون کا نذرانہ نہیں بلکہ معصوم شہریوں کی جانیں لینے کو تیار ہیں۔ ترکی کے علاوہ اُردن کی سرحد بھی کھلی تھی اور ہزاروں شہری جان بچا کر اس جانب جارہے تھے۔ اس جمعہ کو 100 سال پہلے کے ایک رہنما شیخ صالح العلی کے نام سے منسوب کیا گیا تھا جنہوں نے اس خطے میں ایک علوی ریاست کے قیام کی فرانسیسی تجویز کو مسترد کردیا گیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ یہ امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔ شیخ صالح العلی ایک علوی رہنما تھے۔ آج ایک اور فوجی افسر کیپٹن ابراہیم منیار نے فوجی ملازمت سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم مسلمانوں کے دشمنوں سے لڑنے کے لیے ہتھیار اٹھا سکتے ہیں لیکن خود اپنے شہریوں کو گولی کا نشانہ نہیں بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بشارالاسد کی حکومت کے حکم پر فوج خود اپنے شہریوں کو گولی کا نشانہ بنا رہی ہے اور الشبیہہ کے غنڈوں کو تحفظ دے رہی ہے۔ درعا کی خواتین نے سخت محاصرے کے باوجود ایک مظاہرہ کیا اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ جو شخص خود اپنے شہریوں کو قتل کررہا ہے وہ سب سے بڑا غدار اور سازشی ہے۔ ہامہ کے شہریوں نے صدر بشارالاسد کے بہت بڑا مجسمہ نیچے گرادیا اور اسے توڑ کر رکھ دیا۔ دوسرے شہروں اور قصبوں میں بھی صدربشارالاسد کے مجسمے گرانے کی خبریں آئی ہیں۔
16جون 2011:
میں ایک مرتبہ پھر ڈراؤنے خواب دیکھنے لگی۔ میں رات بھر چین کی نیند نہ سوسکی اور جونہی میری آنکھ لگتی کوئی خوفناک خواب دیکھ کر میں چیخیں مارنے لگتی۔ میں ساری رات ان خوفناک خوابوں سے لڑتی رہتی۔ درحقیقت ملک کے مختلف حصوں سے آنے والی خوفناک خبروں نے میرے دماغ پر قبضہ کررکھا تھا۔ مجھے اس وقت سکون کی سخت ضرورت تھی ورنہ میں اپنا کام جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔ گزشتہ روز میری ملاقات ایک فلم ڈائریکٹر سے ہوئی تھی۔ جس نے جیل میں اپنے گزارے ہوئے وقت کے بارے میں انتہائی دہشتناک کہانی سنائی تھی۔ اس نے بتایا ’’جیل میں ایک بوڑھے شخص اور اس کے تین بچوں کو بدترین ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ وہ ان بچوں میں سے کسی ایک کو ٹارچر کرنے کے لیے باہر لے جاتے اور گھنٹوں اُسے تشدد کا نشانہ بناتے۔ جبکہ دیگر دو بھائی اور باپ اُس کی واپسی کا انتظار کرتے رہتے۔ جب وہ اُس واپس لے کر آئے تو وہ بیہوشی کی حالت میں تھا اُس کی جسم کے مختلف حصوں سے خون بہہ رہا تھا۔ بوڑھا شخص اور اس کے دونوں بچے سارا دن روتے رہے اور اُس کے ہوش میں آنے کا انتظار کرتے رہے۔ لیکن وہ ہوش میں نہیں آیا۔ اس نوجوان فلم ڈائریکٹر کے لیے یہ منظر انتہائی خوفناک تھا۔ اُس رات میں نے انتہائی دہشتناک خواب دیکھا۔ میں نے خود کو دیکھا کہ میں خون سے بھرے ہوئے ایک چشمے سے گزر رہی ہوں۔ یہاں بہت سی تشدد زدہ لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ اس خواب کا میری طبعیت پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ میں ساری رات سو نہ سکی۔ ہر تھوڑی دیر کے بعد جاگ جاتی تھی۔ میری نیند یونہی نیند کی گولیوں کی پابند تھی۔ اگلی صبح میں جاگی تو مجھے اطلاع ملی کہ کچھ اسلام پسند گروپس میدان میں آگئے ہیں جن کو بیرون ملک سے رضاکار اور مالی امداد مل رہی ہے۔ میں سوچ رہی تھی کہ ان لوگوں کی موجودگی حالات کے مزید بگاڑ کا سبب بنے گی اور بشارالاسد کی انتظامیہ کے لیے یہ کہنا آسان ہوجائے گا کہ بہت سے ملک دشمن عناصر اس جدوجہد میں شامل ہوچکے ہیں۔ میں سارا دن رضاکاروں کے ساتھ مل کر کام کرتی رہی اور شام کو جب گھر پہنچی تو تھکن سے میرا حال یہ تھا کہ اپنا منہ دھوئے بغیر بستر پر گر پڑی۔ آج میرے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ خبر یہ تھی کہ جبلہ میں میرے خاندان کے لوگوں کو میرا حوالہ دے دے کر تنگ کیا جارہا تھا۔ گزشتہ روز جبلہ میں ایک اسکول ٹیچر نے میری بھتیجی کو پوری کلاس کے سامنے ذلیل کیا تھا۔
17 جون 2011:
شیخ صالح العلی کا یادگاری جمعہ: جسرالشغور کے کچھ مکین اپنے گھروں کو واپس آگئے۔ جو لوگ واپس آئے ان کو دوبارہ قتل و غارتگری، مارپیٹ اور مجرمانہ حملوں کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک پورے خاندان کو فائرنگ کر کے ماردیا گیا۔ حکومت کے حامیوں نے ایک بہت بڑے جھنڈے کا افتتاح کیا تھا۔ اس کے جواب میں احتجاجی تحریک نے اپنے ایک بہت بڑے سبز ہلالی پرچم کا افتتاح کیا۔ شامی شہروں میں مظاہرے جاری رہے۔ اس جمعہ کو 29 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے آٹھ افراد اور ایک پولیس افسر حمص میں ہلاک ہوا۔ یہ چوتھا مہینہ تھا جب یہ مظاہرے جاری رہے جبکہ حکومت کی جانب سے قتل و غارتگری اور گرفتاریوں کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ دمشق اور الیپو میں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے۔ درعا کا محاصرہ اسی طرح جاری رہا۔ اگرچہ شہر میں کئی جگہ آگ لگی ہوئی تھی لیکن لوگ مظاہرے کررہے تھے۔ سرکاری میڈیا مسلسل پروپیگنڈا کررہا تھا کہ سیکورٹی فورسز دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔ شامی حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جنگ لبنان تک پہنچ گئی۔ جہاں چھ افراد ہلاک اور بہت سے زخمی ہوئے۔ ہر جمعہ کو پہلے سے زیادہ لوگ مظاہرے میں شرکت کے لیے گھروں سے باہر نکلتے تھے اور پہلے سے زیادہ خون بہتا تھا۔ نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد 10,000 سے تجاوز کرگئی۔ فوج کی کوشش تھی کہ دیہات اور شہروں سے نقل مکانی کرنے والوں کو ترکی کی سرحد کے اندر دھکیل دیا جائے۔ دوسری جانب پروپیگنڈے کے ذریعہ لوگوں کو یہ سبز باغ بھی دکھائے جارہے تھے کہ امن قائم ہوگیا ہے اور وہ اپنے گھروں کو واپس آجائیں۔ لیکن جو خاندان دھوکہ کھاکر واپس آتے تھے اُن کو قتل و غارتگری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ میں سوچ رہی تھی کہ شامی شہری آخر کہاں جائیں جہاں وہ امن سے رہ سکیں۔ جو شامی مہاجرین مختلف سیٹلائیٹ چینلوں پر آتے تھے وہ کہتے تھے کہ شام کےاندر کہیں کوئی مسلح گینگ موجود نہیں ہیں اور جو بھی قتل و غارتگری ہورہی ہے وہ حکومت کی سیکورٹی فورسز کررہی ہیں۔ یہ مہاجرین کہتے تھے کہ وہ اُس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک موجودہ حکومت کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ کچھ مہاجرین نے بین الاقوامی سرحد کو عبور کرنے کے بجائے گھنے جنگلات میں رہنے کو ترجیح دی تھی۔ لیکن ان کو بدترین صورتحال کا سامنا تھا۔ میں سوچ رہی تھی کہ ان کے بچے کھلے آسمان کے نیچے کس طرح زندگی گزارتے ہوں گے۔(جاری ہے)
19جون :2011
آج ہمیں معلوم ہوا کہ صدر اگلے دن قوم سے خطاب کریں گے۔ مجھے صدر بشارالاسد سے کسی نتیجہ خیز اعلان کی توقع نہیں تھی۔ میرے لیے اس کی حیثیت ایک قاتل سے زیادہ نہیں تھی جس کے خلاف معصوم شہریوں کے قتل عام کے الزام میں مقدمہ چلنا چاہیئے تھا۔ مجھ کو ٹیلی فون کے ذریعہ دھمکیاں ملنا دوبارہ شروع ہوگئی تھیں۔ اکثر سینئر پولس افسران میرے گھر آتے اور سمن تعمیل کراتے۔ ایک سینئر پولس افسر نے مجھے ایک سے زیادہ مرتبہ طلب کیا۔ میرا خیال تھا کہ خاموشی اختیار کر کے اور مضامین کی اشاعت روک کر میں ان کی توجہ اپنی جانب سے ہٹانے میں کامیاب ہوجاؤں گی۔ لیکن میری یہ اُمید پوری نہیں ہوئی۔ شامی انقلاب کی حمایت میں شامی خواتین کی تنظیم کے اجلاسوں میں شریک ہوتی رہی۔ میں کو آرڈی نیشن کمیٹیوں کی میٹنگز میں بھی شرکت کرتی رہی۔ ایک بات یقینی تھی۔ شامی انتظامیہ کے مخبر ہر جگہ موجود تھے۔ انہیں اچھی طرح علم تھا کہ میں کہاں جاتی ہوں اور کن لوگوں سے ملتی ہوں؟ میں ان سے کتنا ہی پوشیدہ رہنے کی کوشش کرتی وہ آسانی سے میرا کھوج لگا لیتے۔ میں جن لوگوں سے بھی ملتی وہ حکومت کی نظروں میں آجاتے اور ان کے خلاف تعذیب اور زیادتیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ میں شامی انقلاب کی حامی خواتین کی تنظیم کے ممبروں اور کو آرڈی نیشن کمیٹی سے یہ کہنے پر مجبور ہوگئی کہ میں ان کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کرسکوں گی کیونکہ شامی انٹیلی جنس ہر وقت میرے پیچھے رہتی ہے اور میری وجہ سے تحریک کی خواتین بھی انٹیلی جنس کا ہدف بننے لگی ہیں۔ لیکن مجھے ان میٹنگز کے اجلاسوں کی کارروائی سے مطلع کیا جاتا تھا۔ اب میں یہ سوچ رہی تھی کہ ان میٹنگز کے مسلسل انعقاد کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ کیوں سامنے نہیں آتا؟ ایک وقت ایسا آیا کہ میں ان تمام سرگرمیوں سے مایوس ہونے لگی۔
ایک سینئر پولس افسر خاص طور پر مجھے ہدف بنائے ہوئے تھا۔ وہ خود علوی تھا اور ان علویوں کا سخت دشمن تھا جو بشارالاسد کی حکومت کے مخالف تھے۔ ایک دفعہ اس نے مجھے بتایا کہ وہ ہر اس عورت اور مرد کو جانتا ہے جس سے میں ملی ہوں۔ اس نے کہا کہ وہ تمام کو آرڈی نیشن کمیٹیوں اور ان کے ممبروں کے بارے میں مکمل معلومات رکھتا ہے اور جب چاہے انہیں صفحہ ہستی سے مٹاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ سن کر میں اس نتیجے پر پہنچی کہ ان لوگوں سے ملاقاتوں کا حاصل اس کے سوا کچھ نہیں کہ میری وجہ سے ان کی جانیں خطرے میں پڑجائیں۔ اب میں ہر وقت سوچتی رہتی تھی کہ میں کوئی کام نہیں کرسکتی۔ یہ تصور مجھے مارے ڈال رہا تھا کہ میں اس انقلاب میں کوئی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں۔ یہ احساس جان لیوا تھا۔ میں جانتی تھی کہ میری سانسیں گنی جاچکی تھیں۔ وہ میرے ہر ہر قدم پر نظر رکھتے تھے۔ مجھے ایک جانب بشارالاسد کی جیل کا خوف تھا لیکن اس سے بڑا خوف اپنے اندر کی جیل سے تھا جس میں میں خود مقید تھی۔ وہ مجھے گرفتار نہیں کرنا چاہتے تھے۔ لیکن وہ مجھ کو پاگل کردینا چاہتے تھے۔ میں نے ایک مرتبہ سوچا تھا کہ میں زیرزمین چلی جاؤں۔ لیکن میری بیٹی ہمیشہ مجھے ایسا کرنے سے روک لیتی تھی۔ اس کو ساتھ رکھ کر زیر زمین جانا ناممکن تھا۔
آج انجیلینا جولی ٹیلی ویژن پر آئی۔ اس نے شامی مہاجرین سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ساری دنیا کے لیڈر فنکار شامی انقلاب اور شامی مہاجرین میں دلچسپی لے رہے تھے۔ ترک سیاستدان تصویروں اور فوٹیج میں شامی نوزائیدہ بچوں کو پیار کرتے ہوئے تصویر بنوا رہے تھے۔ سیاست کا گندا کھیل خطرناک شکل اختیار کرتا جارہا تھا۔میں نے خبر سنی کہ ایک نیشنل کونسل بنائی جارہی ہے تاکہ حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف تحریک چلائی جائے۔ حکومت کے خلاف یہ نیشنل کونسل خود کو اندرون و بیرون ملک شامی شہریوں کا نمائندہ کہتی ہے۔شامی فوج ترکی کی سرحد کے قریب اپنی چوکیوں کو مستحکم کررہی ہے۔ فوج نے ترکی کی سرحد پر خیربت الجوز کے گاؤں کا محاصرہ کر رکھا ہے اور ان لوگوں کو تلاش کر کے گرفتار کیا جارہا ہے جو شام سے ترکی کی جانب ہجرت کررہے ہیں۔ انمیں سے زیادہ تر کا تعلق جسرالشغور سے ہے۔ فوج میں بغاوت جاری ہے اور بڑی تعداد میں شامی فوجی افسران ہائی کمان کے احکامات ماننے سے انکار کررہے ہیں۔ شامی بحریہ کے ایک افسر محمود حبیب اور شامی فضائیہ کے مخابرات کے شعبے کے افسر سارجنٹ اسماعیل الشیخ صالح نے فوج سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ میں نے ایک نوجوان کو الجزیرہ ٹی وی پر دیکھا جو شام کے حالات بتا رہا تھا۔ اسے دیکھ کر میرے دل کو اطمینان محسوس ہوا۔ آج کے دن مجھے ایک اچھی خبر سننے کو ملی۔
20 جون 2011:
میرا دماغ زندگی سے خالی ہے۔ میرا دل بے روح ہے۔ میں کہیں دور سے آنے والی گرم ہوا سے اپنی سن ہوتی ہوئی اُنگلیوں کے سروں کو حرارت بخشنے کی کوشش کررہی ہوں۔ میں دشمن دنیا سے خود کو چھپاتے چھپاتے تنگ آگئی ہوں۔ اور چاہتی ہوں کہ گمنام رہنے کے بجائے دوبارہ باہر نکل آؤں۔ بشارالاسد کی انتظامیہ کے ظلم و ستم کا شکار شہریوں کے انٹرویوز کروں، میٹنگز میں شرکت کروں۔ میرے پاس ہر وقت فون کی گھنٹی بجتی رہے۔ میں خود کو حقائق کا سامنا کرنے کے قابل بنانا چاہتی ہوں۔ میں اپنی ساری فکریں، سب پریشانیاں دھو ڈالنا چاہتی ہوں۔ میں ایک مرتبہ ایسی گہری نیند سونا چاہتی ہوں جو میرے لیے تسکین کا سبب بن جائے۔ میں چاہتی ہوں کہ میں نے اپنے ناول کے جو کردار تخلیق کیے تھے وہ زندہ ہوجائیں، لیکن ہر طرف قتل و غارت گری کی خبروں کے اژدہام میں کیا ایسا ممکن ہے؟ ہر جانب سے مظلوموں کی آہ و فغان بلند ہورہی ہے اور قاتلوں کو زندگی چھیننے کی مکمل آزادی ہے۔ وہ سب خود کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں۔ میں سوچ رہی ہوں آخر کب اﷲ کا ہاتھ ان پر گرے گا، کب وہ اﷲ کے غضب کا شکار ہوں گے؟
علی الصبح میرے گھر کے دروازے کی گھنٹی بجنا شروع ہوگئی۔ ساڑھے پانچ بجے تھے۔ میں جس عمارت میں رہتی تھی اس میں صرف بوڑھے لوگ مقیم تھے۔ گراؤنڈ فلور پر ایک دندان ساز رہتا تھا۔ میری پڑوسی بوڑھی عورت کا شوہر معذور تھا۔ وہ دنیا میں بالکل تنہا تھے۔ ان کی واحد بیٹی گزشتہ دنوں فوت ہوگئی تھی۔ دمشق میں ان کے کوئی عزیز و اقارب نہیں تھے۔ ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ میں اٹھ کر ان کے فلیٹ تک گئی۔ معذور شوہر زمین پر گرا ہوا تھا اور نیم بے ہوش تھا۔ بوڑھی عورت چیخ چیخ کر فریاد کررہی تھی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں ان کے لیے کیا کروں؟ پھر بھی جو مجھ سے ہوسکا میں نے کیا۔ لیکن میرے اعصاب اتنے کشیدہ تھے کہ میں خود بھی رونے لگی۔ میں نے بوڑھی عورت سے کہا کہ جب بھی ضرورت ہو وہ مجھ کو آواز دے لیا کرے۔ میں اس کی بیٹی کی طرح ہوں۔ معمولی سی دل جوئی سے بوڑھی عورت کے آنسو پھوٹ پڑے۔ وہ کہہ رہی تھی کہ اس کی بیٹی کی موت نے جس طرح اس کی زندگی کو ویران کردیا ہے کوئی اس کا تصور نہیں کرسکتا۔ میں نے اس سے کہا کہ اﷲ اس کی بیٹی کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ یہ سب اﷲ کی مرضی تھی۔ پھر میں اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنے اسکارف سے اپنا چہرہ چھپالیا تاکہ وہ میرے آنسو نہ دیکھ سکے۔
میں اپنے کمرے میں پہنچی تو وہ ماحول لوٹ آیا جس سے بچ کر میں پڑوس میں چلی گئی تھی۔ زندگی میں دور دور تک کوئی خوشی نہیں تھی۔ دہشت ناک، کٹے پھٹے چہرے میرے تصور میں ناچ رہے تھے۔ شامی شہریوں کے تشدد زدہ چہرے جن کو قید کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ جن کو قتل کر کے اجتماعی قبریں بنائی جارہی تھیں۔ الجزیرہ اور دوسرے چینلوں پر شامی مہاجرین کے کیمپوں کی حالت زار دکھائی جارہی تھی۔ یہ سیدھے سادھے لوگ بتا رہے تھے کہ شامی سکورٹی فورسز نے کس طرح ان کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا۔ وہ اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی پیچھے چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ الشبیہہ اور فورسز کے اہلکاروں نے ان کے گھروں کو لوٹ کر آگ لگادی۔ وہ بتا رہے تھے کہ شامی فوج کے ٹینک ان کے تعاقب میں تھے۔ وہ ان نہتے دیہاتیوں کو ان کے مویشیوں سمیت کچل کر ہلاک کردیتے تھے اور انہیں اس طرح اذیتیں دیتے جیسے ان کا تعلق شام سے نہیں اسرائیل یا کسی دشمن ملک سے ہو۔ ہر روز ایسے سیکڑوں لوگ ٹی وی پر آتے اور اپنی دردناک کہانیاں سناتے۔ ان کہانیوں کو سن سن کر میری ذ ہنی حالت بگڑتی جارہی تھی۔ میں ان کا درد محسوس کر کے بے اختیار روپڑتی۔ میرے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی۔ میں سوچتی کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟ وہ جو کل وطن عزیز اور سکولر ازم کے گانے گاتے تھے ان کو اب کیا ہوگیا ہے؟ ان کے قلب و روح میں یہ زہر کس نے بھردیا ہے۔ یہ سب کیسا پاگل پن ہے؟

آج بشارالاسد نے قومی ٹیلی ویژن سے قوم سے خطاب کیا۔ اس تقریر کو سن کر مجھے سخت صدمہ ہوا۔ گزشتہ دو تقریروں کی نسبت یہ تقریر زیادہ دہشت ناک تھی۔ صاف ظاہر ہوتا تھا کہ بشارالاسد ایوان صدر کا قیدی ہے۔ اس کو حالات کا علم ہی نہیں۔ اسے جو یک طرفہ کہانیاں سنائی جاتی ہیں وہ ان پر آنکھیں بند کر کے یقین کرلیتا ہے۔ جوں ہی صدر کی تقریر نشر ہوئی پورے شام میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک آگ لگ گئی۔ لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے حکومت کے خلاف مظاہرے شروع کردیے۔ بشارالاسد مسلسل اپنی تقریر میں ملک و قوم کے خلاف کسی سازش کی کہانی سنا رہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ شامی فوج اور سکورٹی فورسز شہریوں کی جان اور املاک بچانے کی کارروائی کررہی ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ دشمن ملکوں کے ایجنٹ گروپس اور نامعلوم افراد پورے ملک میں قتل و غارت گری کررہے ہیں۔ بشارالاسد کو اس کا کوئی تصور نہیں تھا کہ خود اس کی وفاداری کا دعویٰ کرنے والی الشبیہہ کیا کررہی ہے؟ کس طرح اس کی اپنی انتظامیہ نے جمہوریت اور حقوق کی جنگ کو مذہبی جنگ میں بدل دیا ہے؟ اس تقریر کا ردعمل سخت تھا۔ حمص، حاما، ایڈلب، الیپو اور دوسرے بڑے بڑے شہریوں میں مظاہرے ہوئے۔ بشارالاسد نے شامی شہریوں کے خون کا مذاق اڑایا اور کہا کہ شامی فوج اور سکورٹی فورسز سختی سے دشمنوں کو کچل دیں گی۔ دشمنوں کو چن چن کر ہلاک کیا جائے گا۔ اپوزیشن سے کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ صدر کی تقریر کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن پر اعلان کیا گیا کہ جسرالشغور میں ایک اور اجتماعی قبر دریافت کی گئی ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا تھا کہ اس میں سکورٹی فورسز اور شامی فوج کے اہل کاروں کو قتل کر کے دفن کیا گیا تھا۔ جسرالشغور میں باغی فوجی افسروں اور شہریوں نے الجزیرہ اور دوسرے چینلوں کو انٹرویو میں بتایا کہ یہ تیسری اجتماعی قبر تھی جو دریافت کی گئی۔ اس میں ان فوجی افسروں اور سپاہیوں کو گولی مار کر اجتماعی طور پر دفن کیا گیا جنہوں نے فوجی ہائی کمان کے احکامات ماننے سے انکار کیا۔ انہیں موقع پر سزا دی گئی۔ سرکاری ٹیلی ویژن کے پروپیگنڈے کا مقصد شامی فوج پر قتل و عارت گری کے الزامات کے اثرات کو دور کرنا تھا۔ پاگل پن کا مظاہرہ قتل و غارت گری کی شکل میں جاری تھا۔ میں سکولر ہونے کے باوجود معجزوں کا انتظار کررہی تھی۔ لیکن کوئی معجزے رونما نہیں ہونے تھے۔ ہر جگہ معصوم اور بے ضرر شہری قتل ہورہے تھے۔ ظالموں کے ہاتھ کاٹنے والا کوئی نہیں تھا۔ اقتدار چھن جانے کے خوف نے اہل اقتدار کو بھیڑیا بنا دیا تھا۔
21 جون 2011:
صدر بشارالاسد کی حمایت میں آج ایک بہت بڑے مظاہرے کا اہتمام کیا گیا۔ تمام سرکاری ملازمین کو ہدایت تھی کہ وہ مظاہرے میں شریک ہوں ورنہ ان کو برطرف کردیا جائے گا۔ میں نے سڑکوں پر اس مظاہرے میں شریک لوگوں کے چہرے دیکھے۔ ستے ہوئے بے جان، بے رونق چہرے۔ یہ وہ سرکاری ملازمین تھے جو صدر کی حمایت میں ہونے والے اس مظاہرے میں شرکت سے انکار کردیتے تو ان کو ملازمت سے نکال دیا جاتا اور ان کے گھروں میں فاقے ہو جاتے۔ لیکن اس مظاہرے میں شریک دوسرا گروہ حکمراں طبقے کا تھا جو کسی قیمت پر اقتدار سے محروم نہیں ہونا چاہتے تھے۔ اگر انہیں اقتدار سے محروم کرنے کی کوشش کی جاتی تو وہ پورے ملک کو آگ لگادیتے۔ یہ کوئی مذہبی لوگ نہیں تھے۔ میری طرح سکولر تھے۔ یہ نوجوان قیمتی اور مہنگی نئے ماڈلوں کی اسپورٹس کاروں میں سوار تھے۔ انہوں نے زندگی میں کبھی کسی تکلیف کا کوئی تصور نہیں کیا۔ یہ لڑکے اور لڑکیاں بعث پارٹی کے جھنڈے اور صدر کی تصویریں اٹھائے ہوئے تھے۔ لڑکیوں نے گہرے میک اپ کیے ہوئے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ جیسے وہ کسی پارٹی میں آئی ہیں۔ انہوں نے فیشن کے مطابق کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ میں انتہائی دکھ کے ساتھ ان بے فکر لڑکوں اور لڑکیوں پر مشتمل ریلی کو دیکھتی رہی۔ وہاں سے میں گھر واپس نہیں گئی کیونکہ مجھے جبلہ جانا تھا۔ جبلہ کے بارے میں تشویش ناک خبریں مل رہی تھیں۔ جبلہ میرا آبائی شہر تھا۔ میں وہاں پیدا ہوئی تھی لیکن اب اس شہر کے دروازے مجھ پر بند کردیے گئے تھے۔
جبلہ کی کہانی:
میری سہیلی میری خاطر رضاکارانہ طور پر جبلہ جاتی رہتی تھی۔ وہ جب بھی جبلہ سے واپس آتی تو اس کے پاس نت نئی کہانیاں ہوتیں۔ بدقسمتی سے میں اس کو علویوں کے دیہات اور محلوں میں نہیں بھیج سکتی تھی کیونکہ وہ سنی تھی۔ ہمارے درمیان اتفاق تھا کہ ہم ہمیشہ سچ لکھیں گے۔ اس مرتبہ اس نےجبلہ میں دس دن گزارے۔ واپس آکر اس نے مجھے بتایا کہ علوی میری جان کے دشمن ہورہے ہیں۔ اس سے بڑی بات اور کیا ہوسکتی تھی کہ میری جیسی مشہور علوی مصنفہ علوی حکمرانوں کے خلاف لکھ رہی تھی۔ وہ مجھے سازشی اور غدار تصور کرتے تھے۔ اس کے مقابلے میں عام شہری مجھے پسند کرتے تھے اور مجھ سے ہمدردی رکھتے تھے۔ یہ کیسا المیہ تھا۔ سچ لکھنے پر میرے علوی عزیز و اقارب میرے دشمن ہوگئے تھے۔ یہ کیسا انصاف تھا؟ یہ کیسا سچ تھا۔ ایک نوجوان نے جس کا جبلہ سے تعلق تھا اپنی کہانی مجھے سنائی:۔
’’جب بوسنیا شعبان نے مختلف سیاسی وعدوں پر مبنی اپنی تقریر کی تو اس زمانے میں جبلہ میں روزانہ مظاہرے ہورہے تھے۔ ہم یہ سمجھنے لگے تھے کہ شاید شام میں انقلاب آنے والا ہے۔ ہم کو نہیں معلوم تھا کہ یہاں کوئی انقلاب نہیں آنا کیونکہ اس سازش کی بنیاد 100 سال پہلے رکھی گئی تھی۔ اب جو کچھ ہورہا تھا اس ایجنڈے کے مطابق تھا۔حکومت مخالف مظاہروں کے جواب میں حکومت کی ایجنسیاں حرکت میں آئیں اور انہوں نے حکومت کی حمایت میں مظاہرے کرانے شروع کیے۔ ہم سے حکومت کی حمایت میں ہونے والے مظاہرے، ریلیاں اور ان میں بلند ہونے والے نعرے اور جھوٹے وعدے اور دعوے برداشت نہیں ہوتے تھے لیکن ہم کچھ نہیں کرسکتے تھے۔(جاری ہے)
’’ہم نے درعا کے قتل عام کے بعد جمعہ کو جبلہ میں ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا۔ ہم ابوبکر صدیق مسجد سے جوق در جوق باہر نکلے۔ باہر سکورٹی فورسز ہماری منتظر تھیں۔ ان کے ساتھ آگ بجھانے والے فائر ٹینڈر بھی تھے۔ ایک نوجوان نے مسجد سے باہر نکل کر حکومت کے جاسوسوں کی موجودگی کے خلاف نعرے لگائے۔ سکورٹی فورسز نے اسے زدوکوب کرنا شروع کردیا جو بھی اس کو بچانے کی کوشش کرتا وہ اسے بھی تشدد کا نشانہ بناتے۔ ہمارا پہلے دن کا مظاہرہ مجموعی طور پر خاموش احتجاج پر مبنی تھا۔ تاہم مظاہرے کے لیے جو مسجد سے باہر نکلتا سکورٹی فورسز اسے اندر دھکیل دیتیں یا وہیں زد وکوب کرنا شروع کردیتیں۔ اگلے جمعہ کو ہم مسجد سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے اور آزادی چوک تک پہنچے۔ اس جگہ حکومت کے خلاف اتنے مظاہرے ہوئے تھے کہ اس کا نام ہی ’’فریڈم اسکوائر ‘‘ یا آزاد چوک پڑگیا تھا۔ یہاں کامیاب مظاہروں کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہمارے لیے یہ محفوظ ترین علاقہ تھا۔ ہم نے یہاں بڑے بڑے بورڈ آویزاں کیے جن پر نعرے درج تھے۔ ہمارے نعروں میں آزادی کا مطالبہ سرفہرست تھا اور درعا اور دوما کے شہریوں کی جدوجہد کی حمایت کی گئی تھی۔ ہمارے نعروں میں سنیوں اور علویوں کے درمیان اتحاد اور یگانگت کی اپیل کی جاتی تھی۔ ہماری یہ اپیل تھی کہ دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے شہری خون اور تصادم کی زبان کو مسترد کردیں اور محبت کے پیغام کو عام کریں۔ مغرب کی نماز کے بعد ہمارے اجتماعات روزانہ ہوتے اور ان اجتماعات میں لوگوں کی شمولیت روزانہ بڑھ رہی تھی۔ ان میں ڈاکٹر، انجینئر، طلبہ، اساتذہ سب شامل تھے۔ قریبی دیہات سے لوگوں کی بڑی تعداد ان اجتماعات میں شرکت کرتی تھی۔ حد یہ ہے کہ پردہ دار خواتین بھی ان اجتماعات میں شریک ہوتی تھیں۔ ابھی تک ہمارے نعروں میں صرف اصلاحات کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ کرپشن کے خاتمے، مکمل جمہوریت اور آمریت سے آزادی ہمارا مطالبہ تھا‘‘۔
نوجوان جو اپنی کہانی بیان کررہا تھا دم لینے کے لیے رکا۔ میں یہاں مزید تفصیلات بیان کرنے سے پہلے یاد کررہی ہوں کہ میں جبلہ سے پلی بڑھی تھی۔ کرپشن کا کرتا دھرتا زیادہ تر میرے فرقے کے لوگ یعنی علوی افسر اور تاجر تھے۔ جنہوں نے شہر کو کنٹرول کر رکھا تھا۔ وہ شہریوں کو کچلنے کے لیے ایسے حربے استعمال کرتے تھے کہ کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ میں اس شہر کی گلیوں میں پلی بڑھی اور ایک چھوٹی سی معصوم بچی سے ایک مکمل عورت میں تبدیل ہوئی۔ میرا اسکول سنیوں کے علاقے میں تھا۔ لیکن اس زمانے میں علویوں اور سنیوں کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ میرے بچپن کے زیادہ تر دوست اور سہیلیاں سنی تھیں۔ میں تو بچپن میں یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ سنی اور شیعہ یا علوی کے کیا معنی ہیں اور ان میں کیا فرق ہے۔ جب میرا داخلہ ہائی اسکول میں ہوا اور میں کچھ بڑی ہوگئی تو مجھ پر یہ فرق واضح ہوا۔
نوجوان نے اپنی گفتگو کا دوبارہ آغاز کیا۔ ’’ہم آئندہ دو ہفتے تک مظاہروں کے لیے باہر نکلتے رہے لیکن سکورٹی فورسز یا الشبیہہ نے ہمارا راستہ روکنے کی کوشش نہیں کی۔ ان مظاہروں میں لوگوں کو بلا امتیاز روزگار کی سہولتیں فراہم کرنے اور جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔ گزشتہ 41 سالسے شام میں ایک پارٹی کی حکومت تھی۔ سکولرزم اور جمہوریت صرف نمائشی تھی ورنہ حقیقت میں یہاں بدترین آمریت تھی۔جبلہ میں بدعنوان افسروں کی کثرت تھی جن کا تعلق سکولر بعث پارٹی سے تھا۔ یہ لوگ سکولر ازم کا نام لے کر عوام کو دھوکہ دیتے تھے۔ ان کے کام صرف اپنے مفادات کا تحفظ تھا۔ شہر میں بڑے بڑے بنگلوں اور کاروبار کے وہ مالک تھے۔ جبکہ شہریوں اور دیہاتیوں کی حالت زار کو بہتر بنانا حکمرانوں کی ترجیح نہیں تھی۔ دیہات میں بجلی نہیں تھی۔ پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں تھا۔ بچوں کے لیے اسکول نہیں تھے۔ جبلہ میں کرپشن اس حد کو پہنچ چکا تھا کہ عملی طور پر یہ شہر بعث پارٹی کے ایک یا دو لیڈروں کی ذاتی ملکیت میں تبدیل ہوچکا تھا۔ 22 اپریل 2011 کو ’’فرائیڈے آف ڈگنٹی‘‘ کا نام دیا گیا۔ یعنی ’’جمعۂ عزت ‘‘۔ اس دن حبلہ میں اتنا بڑا حکومت مخالفت مظاہرہ ہوا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اس مظاہرے میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل تھی۔ ایک خاتون کی ماں اس مظاہرے میں آئی۔ یہ خاتون اس وقت جیل میں تھی۔ اس کی ماں کو لوگوں نے اوپر اٹھالیا اور وہ نعرے لگانے لگی۔ ’’اے جبلہ اے جبلہ! تیرے نوجوان کہاں ہیں؟ کیا وہ سورہے ہیں؟‘‘ لوگ جواب میں کہتے ’’نہیں نہیں۔ وہ بیدار ہیں‘‘۔ وہ نعرے لگا رہی تھی ’’سنی اور علوی ایک ہیں‘‘۔ وہ نعرے لگا رہی تھی ’’جبلہ کے شہریو! آزادی کی جنگ کے لیے گھروں سے باہر نکلو‘‘۔ ہمارے تمام نعروں میں علویوں کی اس جدوجہد میں شمولیت کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ بہت سے علوی نوجوان، خواتین اور مرد ہمیں بتاتے تھے کہ اپنی کمیونٹی میں ان پر کس قدر دباؤ ہے اور ان کو اس جدوجہد میں شرکت سے روکنے سے کس طرح روکا جارہا ہے؟ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے نعرے واضح ہوتے گئے اور ہم کھل کر موجودہ حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کرنے لگے۔ ہم نے جمعہ کو بہت بڑی ریلی نکالی۔ یہ ریلی عاطف نجیب کے خاندانی گھر تک پہنچی۔ ہم نعرے لگا رہے تھے کہ درعا میں بہنے والے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔ ہم مطالبہ کررہے تھے کہ نہتے شہریوں کا قتل عام کرنے والے عاطف نجیب کو انصاف کی دہلیز پر لایا جائے۔ یہاں ہماری ملاقات پہلی مرتبہ ان علویوں سے ہوئی جو حکومت کی حمایت کرتے تھے۔ انہوں نے ہماری ریلی کا راستہ روک دیا۔ وہ ڈنڈوں، لاٹھیوں اور چاقوؤں سے مسلح تھے۔ اس موقع پر ایک مقامی شیخ آگے بڑھے۔ انہوں نے ریلی کے نوجوانوں سے خطاب کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں، تاکہ دونوں فرقوں میں تصادم نہ ہو اور آزادی کی جنگ فرقہ وارانہ جنگ میں تبدیل نہ ہو۔حکومت کی خواہش تھی کہ اس جدوجہد کو فرقہ ورائیت کا رنگ دیا جائے۔ نوجوان واپس لوٹنے پر آمادہ ہوگئے۔ انہوں نے واپس ہونے سے پہلے جبلہ ٹاؤن ہال کے سامنے مغرب کی نماز پڑھی۔ نماز کے بعد ریلی کے شرکاء میں سے ایک گروپ اپنے گھروں کو چلاگیا لیکن دوسرے گروپ نے مظاہرہ جاری رکھا۔ وہ العمارہ چوک تک گئے اور اس دوران آزادی اور شہادت کے نعرے لگاتے رہے۔ جب انہوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو ایک مرتبہ پھر علویوں نے ان کا راستہ روک لیا۔ علویوں نے مظاہرین پر پتھراؤ کیا۔ ان مظاہرین کی اکثریت سنیوں پر مشتمل تھی لیکن ان میں علوی اور دوسری قومیتیں بھی شامل تھیں۔ جب مظاہرین منتشر نہیں ہوئے تو فائر بریگیڈ کے 5 ٹرک لائے گئے جن سے مظاہرین پر انتہائی دباؤ کے ساتھ پانی پھینکا گیا جس سے بہت سے مظاہرین زخمی ہوئے۔ العمرہ کے ایک علوی نے مظاہرین کو خوف زدہ کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔ حالانکہ جب حکومت کے حامی مظاہرین ہمارے علاقوں میں آئے تو ہم نے کبھی ان کو روکنے کی کوشش نہیں کی اور ان کے حق رائے کا احترام کیا۔ ہم نے ان کو اختلاف رائے کا پورا حق دیا۔ لیکن انہوں نے ہمارے اس حق کا کبھی احترام نہیں کیا۔ یہ ہمارے حقوق کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ چنانچہ اس جمعہ کے مظاہروں کا اختتام علویوں اور سنیوں کے درمیان سخت تناؤ اور کشیدگی کے ساتھ ہوا۔ یہی بشارالاسد کی انتظامیہ چاہتی تھی اور وہ آخرکار علوی سنی فساد کی شکل دینے میں کامیاب ہوگئی۔ اگلے دن حکومت کی حمایت میں ایک بہت بڑی ریلی نکالی گئی۔ جو سیکڑوں کاروں اور موٹر سا ئیکلوں پر مشتمل تھی۔ ریلی میں سب سے آگے ایک ہنڈائی ٹسکن ٹرک تھا جس پر ایک بڑی مشین گن نصب تھی۔ جب یہ ریلی کارنش پہنچی تو کچھ سنی نوجوان جمع ہوگئے اور انہوں نے ریلی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کردیں۔ علاقے کے سنی نوجوان بارہ بور والی شکاری بندوقوں اور لاٹھیوں سے مسلح تھے۔ سنیوں اور علویوں میں تصادم اس وقت شروع ہوا جب ہنڈائی ٹسکن ٹرک سے مشینگن نے سنیوں پر فائرنگ کی اور علویوں نے رکاوٹوں کو توڑنا شروع کیا۔ جس کے نتیجہ میں دونوں فرقوں میں تصادم شروع ہوگیا۔ اس علاقے میں علویوں کے کئی گھرانے تھے لیکن سنی نوجوانوں نے ان کو اپنی حفاظت میں لے کر محفوظ علاقے میں پہنچایا۔ تصادم کے فوراً بعد جبلہ کی معزز شخصیات نے کشیدگی دور کرنے کے لیے ایک دوسرے سے رابطہ کیا ان میں سنی اور علوی دونوں شامل تھے۔ کشیدگی اور تصادم روکنے کی یہ کوشش سرکاری سطح پر نہیں کی گئی۔ سنیوں اور علویوں کے درمیان کشیدگی دور کرنے کے لیے سنی اور علوی قائدین آگے آئے۔ انہوں نے مشترکہ ریلیاں نکالیں جن میں سنی اور علوی اتحاد کے نعرے لگائے گئے۔ لیکن حکومت نے اس کوشش کو کبھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا۔ حکومت کی پوری کوشش تھی کہ فرقہ واریت کو فروغ ہو ۔ مشترکہ چیک پوائنٹس قائم کیے گئے تاکہ سنی اور علوی ایک دوسرے کے گھروں کی حفاظت کریں۔ حکومت کی جانب سے مسلسل علوی محلوں میں یہ افواہیں پھیلائی جاتی رہیں کہ سنی گروپس ان کے قتل عام کے لیے آرہے ہیں۔ یہ افواہیں جبلہ اور اس کے گردونواح میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلیں۔ یہ افواہیں پھیلانے والے سرکاری لوگ تھے۔ بشارالاسد کی حکومت علوی فرقے کو قربانی کا بکرا بنا رہی تھی اور اس کے پیچھے پناہ حاصل کررہی تھی۔ ان افواہوں میں اتنی شدت تھی کہ سنی اور علوی ایک دوسرے کو شک و شبہ کی نظروں سے دیکھنے لگے۔ دونوں فرقوں کے درمیان کشیدگی اتنی بڑھی کہ ہم نے مسجد ابوبکر الصدیق کے سامنے چوک کو خالی کرنے کا فیصلہ کیا جو ہماری جدوجہد کا مرکز تھا۔ کیونکہ یہ خطرہ پیدا ہورہا تھا کہ یہاں دونوں فرقوں کے درمیان تصادم ہو جائے گا۔ حکومت کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح سنی اور علوی ایک دوسرے سے لڑجائیں۔ بشارالاسد اقتدار میں رہنے کے لیے علوی فرقے کے پیچھے پناہ لے رہا تھا۔
’’اگلے ہفتے، اتوار کی شام لطاکیہ کا نیا گورنر جبلہ کے نمائندوں سے ملاقات کے لیے آزادی چوک پر واقع مسجد ابوبکر الصدیق آیا۔ یہ اجلاس اس وقت ختم ہوگیا جب نوجوانوں نے اعلان کیا کہ وہ موجودہ حکومت کی برطرفی سے کم پر تیار نہیں ہیں۔ اس پر گورنر کا ردعمل سخت تھا۔ اس نے ناراضگی کے عالم میں کہا ’’میں تم لوگوں کو یہ دکھاؤں گا کہ حکومت کی طاقت کیا ہے؟‘‘۔ اسی دن گورنر کے حکم پر جبلہ میں ناصرف فوج اور سکورٹی فورسز کے کئی دستے داخل ہوئے بلکہ سویلین لباس میں جنگ جو تنظیم الشبیہہ کے درجنوں اہلکار بھی تعینات کردیے گئے جو جدید ہتھیاروں سے مسلح تھے۔ دو گھنٹے کے بعد جبلہ میں سکورٹی کے نظام کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ یہ تقسیم فرقہ ورانہ تھی یعنی علوی اور سنی محلوں کے لیے الگ الگ سکورٹی نظام بنایا گیا تھا۔ سنیوں کے علاقوں کو گندگی، مٹی اور ریت کے ڈھیروں کے درمیان گھیر دیا گیا۔ گندی مٹی کے یہ ڈھیر ٹیچرز یونین کے دفتر کی عمارت سے شروع ہوئے اور جبلہ اسٹیڈیم تک پھیلے ہوئے تھے۔ یہ مٹی اور ریت بڑے بڑے ٹرکوں کے ذریعہ یہاں منتقل کی گئی۔ بعض علاقوں مثلاً العزیٰ، الزریبہ، الجرکس، السلیبہ اور الغیض میں سرکاری عمارتوں پر نشانچی تعینات کردیے گئے۔ اس دوران یہاں تمام درخت کاٹ ڈالے گئے۔ حد یہ ہے کہ جبلہ کے قدیم قبرستان میں اُگے ہوئے مشہور سرسبز درختوں کو بھی نہیں بخشا گیا اور مکمل طور پر کاٹ دیا گیا۔ کوئی ڈھائی گھنٹے کے بعد بغیر کسی پیشگی وارننگ کے نہتے شہریوں پر حملہ شروع ہوگیا۔ جبلہ کا چھوٹاسا شہر بھاری فائرنگ سے گونج اٹھا۔ اس فائرنگ کا ہدف شہر کی سڑکیں اور گلیاں تھیں۔ شہری اپنی جان بچانے کے لیے گھروں، دکانوں میں گھس گئے جو شہری باہر نکلنے کی کوشش کرتا تو گولیوں سے اس کا استقبال ہوتا۔ جبلہ کے شہریوں کا جس طرح قتل عام کیا گیا جدید تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ جبلہ کی گلیوں میں سیکڑوں نوجوان ان گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک اور زخمی ہوئے۔ جب زخمیوں کو اسپتالوں تک پہنچانے کے لیے ایمبولینسیں آئیں تو ان کو واپس کردیا گیا۔ جن ایمبولینسوں نے شہریوں کی مدد کرنے کی کوشش کی ان پر براہ راست فائرنگ کی گئی۔ اس دوران بہت سے لوگوں نے شکایت کی کہ جو زخمی الشبیہہ کے ہاتھ لگ جاتے ہیں ان کے اعضا چوری کرلیے جاتے ہیں۔ مثلاً ان کے گردے اور دوسرے اعضا نکال لیے جاتے ہیں۔ یہ درندگی کی انتہا تھی۔ یہ واقعات ایک نیشنل ہاسپٹل میں ہوئے۔ ایک نوجوان کے پیر میں گولی لگی۔ جب اس زخمی کو اسپتال پہنچایا گیا تو اس کی گردن پر چھری پھیردی گئی۔ زخم کا کٹاؤ گردن سے لے کر پیٹ تک پھیلا ہوا تھا۔ ہم زخمیوں کے علاج کے لیے ان ڈاکٹروں پر انحصار کرنے پر مجبور تھے جو الشبیہہ کے کنٹرول میں آنے سے بچ سکے تھے۔ ورنہ زیادہ تر ڈاکٹروں کو اغوا کرلیا گیا تھا۔ الشبیہہ ایسےجدید ہتھیار استعمال کررہی تھی جن سے لوگ یا تو ہلاک ہو جاتے تھے یا مکمل طور پر معذور ہو جاتے تھے۔ ہم نے ایک شخص کو دیکھا جس کو کسی نشانچی نے گولی ماری تھی۔ کافی فاصلے سے فائر کیے جانے کے باوجود اس کا بھیجا باہر نکل آیا تھا۔ ہم نے اس کے بھیجے کو دماغ کے اندر روکے رکھنے کے لیے مسجد کے پیش امام کی ٹوپی استعمال کی۔ میں یہ منظر کبھی نہیں بھول سکتی۔ ہم نے زیادہ تر شہیدوں کی خفیہ تدفین کی۔ جب کوئی زخمی علاج کے لیے اسپتال پہنچتا تھا یا اس کی لاش وہاں آتی تھی تو سکورٹی کا عملہ ایک فارم بھرواتا تھا جس پر یہ اقرار کیا جاتا تھا کہ یہ شخص نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے ہلاک یا زخمی ہوا ہے۔ اگر کوئی زخمی سکورٹی فورسز یا الشبیہہ پر الزام لگاتا تو اس کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔ ’’قتل عام کے بعد جبلہ بھوتوں کا شہر بن کر رہ گیا۔ کوئی شخص نشانچیوں کی فائرنگ کا نشانہ بننے کے خوف سے اپنے گھر سے باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ مسلسل فائرنگ سے گھروں کے بیرونی دروازے تباہ ہوگئے اور بہت سے گھروں کے بیرونی دروازوں پر اب پردے کے لیے چادریں لٹکانی پڑیں۔ جن گھروں کے مکینوں کے لیے ممکن تھا وہ اب اپنے گھروں کے بیرونی دروازے تبدیل کررہے تھے اور لکڑی کی جگہ لوہے کے گیٹ لگوا رہے تھے کیونکہ دوسرے قتل عام کا خدشہ تھا۔ شہریوں میں اب اتنا خوف و ہراس تھا کہ وہ کسی دوسرے پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ایک جانب معصوم شہریوں کو گرفتار کیا جارہا تھا اور دوسری جانب پیشہ ور قاتلوں اور مجرموں کو جیلوں سے رہا کیا جارہا تھا۔ جبلہ میں افواہ پھیلی ہوئی تھی کہ دوسرا قتل عام ہونے والا ہے۔ ہم نے اپنے دفاع کے لیے کچھ بے ضرر ہتھیار تیار کیے جن سے کوئی ہلاک نہیں ہوتا تھا لیکن بہت بڑا دھماکہ ہوتا اور دھواں اٹھتا کہ حملہ آور خوف زدہ ہوجائیں۔ الدرسہ کے لوگوں نے اپنی عورتوں اور بچوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کرنا شروع کردیا۔ ان تمام حالات کے باوجود مظاہرے جاری تھے اور لوگ ان میں بڑی تعداد میں شرکت کرتے تھے‘‘۔ پہلے دن بہت سے گھروں سے اﷲ اکبر کے نعرے بلند ہوئے۔ جن گھروں سے یہ نعرے بلند کیے گئے ان کو الشبیہہ نے نشانہ بنالیا۔ اس چھوٹے سے شہر میں ساری رات دھماکے ہوتے رہتے تھے اور فائرنگ جاری رہتی تھی۔
جبلہ پر دوسرا حملہ 5 جون 2011 کو ہوا۔ شہر کی ایک معزز شخصیت کو جو جبلہ کا شہزادہ کہلاتی تھی گرفتار کرلیا گیا۔ اس کی بہادری اور جرات کی وجہ سے لوگ اس کی عزت کرتے تھے لیکن اسی وجہ سے الشبیہہ اس کی دشمن تھی۔ جب اس کی گرفتاری کی خبر عام ہوئی تو اس کے خاندان کے کوئی دس افراد شکاری بندوقوں کے ساتھ باہر نکلے۔ ان کا شریعہ اسکول کے سامنے سکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم ہوا۔ فورسز نے اس اسکول کی عمارت میں اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا تھا۔ اس تصادم میں تین افراد ہلاک ہوئے جو سب کے سب سویلین تھے۔ الشبیہہ کے غنڈے جیپوں اور مرسیڈیز گاڑیوں پر سوار ہو کر شہر میں پھیل گئے اور ہر طرف فائرنگ کی۔ شہر بیرونی دنیا سے کٹ گیا۔ اس شہر میں غربت بہت زیادہ تھی۔ تعلیم کی کمی تھی۔ سرکاری افسروں اور سکولر حکمراں جماعت بعث پارٹی کے اہل کاروں نے جائیدادیں بنالی تھیں۔ اب شہر میں الشبیہہ اور عوام کے درمیان چوہے بلی کا کھیل شروع ہوگیا۔ غنڈے شہریوں کو نماز جمعہ پڑھنے کے لیے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ جبلہ کی کہانی یہاں ختم ہوتی ہے۔(جاری ہے)

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

8 + 16 =